Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 38)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

اپنے کمرے کے اسٹڈی روم میں بیٹھا وجاہت اپنے لیپ ٹاپ پر آفس کا کچھ کام کر رہا تھا۔۔

ہانیہ کو وہ دوا کھلا کر سلا چکا تھا حور بھی سکون سے اپنے کمرے میں سورہی تھی

کام کرنا بھی ضروری تھا پچھلے مہینوں میں اسنے کام پر سے مانو توجہ ہٹا ہی دی تھی۔۔

یہ تو اسکے ڈیڈ اور ہادی کی مہربانی تھی کہ انہوں نے اسکی غیر موجودگی میں سب کچھ بہت اچھے سے سنبھالا۔۔

اب جلد ہی ہادی اور نیلم کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوجائے گی تو وجاہت کو اصولاً ہادی کو بھی وقت دینا چاہئے شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی

اس سب کے دوران اسے ہانیہ کا بھی اچھے سے خیال رکھنا ہے۔۔

وہ وجاہت عالم تھا اتنے سارے کام ایک وقت میں سنبھالنا اسکے کیلئے کوئی بڑی بات نہیں تھی

مگر وجاہت عالم کا جو دل ہے وہ اسکی سن شائن کے پاس سے ہلنے تک کو تیار نہیں رہتا

ابھی بھی کام کے دوران وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہانیہ اور حور پر ایک نظر ڈال لیتا تھا۔۔

ایک نئے پروجیکٹ کیلئے پریزینٹیشن ریڈی کر کے وہ وہیں اپنے اسٹڈی ٹیبل کے ساتھ رکھی ریوالونگ چئیر پر ٹیک لگا کے بیٹھ گیا۔۔

اسکا سگریٹ پینے کا دل کر رہا تھا مگر ہانیہ کی موجودگی میں اسنے آج تک سگریٹ نہیں پی تھی

مگر پھر وہ ٹیرس پر آیا اور ٹیرس کا دروازہ بند کردیا شیشے کے پار اسکی نظریں ہانیہ پر ہی تھیں

دو انگلیوں میں سگریٹ پکڑے وہ کسی سوچ میں گم تھا

نظریں ہانیہ کے چہرے پر اٹکی تھی جہاں صرف سکون ہی سکون تھا۔۔

ہانیہ کے ایکس ہسبینڈ نے ایسا کیوں کیا اس نے ہانیہ کی جھوٹی ریپورٹس کیوں بنوائی۔۔

شاید اپنی اس محبت کیلئے جس کے بارے میں ہانیہ نے وجاہت کو بتایا تھا یا پھر کچھ اور بات تھی۔۔

وہ خوش تھا مگر یہ بات اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ہانیہ نے اس آدمی کی بات پر اتنی آسانی سے یقین کیسے کرلیا۔۔

مگر اگر ایسا نہ ہوتا تو ہانیہ اسکی زندگی میں کیسے آتی۔۔

افف۔۔ کیوں سوچ رہا ہوں میں یہ سب

مگر یہ تو طے ہے کہ اس معظم نامی شخص سے ایک بار ملنا تو ہوگا۔۔

وجاہت نے دیکھا ہانیہ نے چہرے کے تاثرات زرا بدلے پھر وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔

وجاہت نے سگریٹ پھینک کر اسے جلدی سے اپنے جوتے سے مسل کے بجھایا اور ٹیرس کا دروازہ کھول کے اندر گیا تب تک ہانیہ اٹھ کے حور کے کمرے میں جاچکی تھی۔۔

ارے یار تم کیوں اٹھ گئی میں جاگ تو رہا تھا۔۔

وجاہت نے ہانیہ کے ہاتھ سے حور کی فیڈر بوٹل لی اور اسے زرا ہٹا کر فیڈر بناتے ہوئے بولنے لگا۔۔

مجھے لگا آپ شاید بزی ہونگے حور کے رونے کی آواز آئی تو میں جاگ گئی۔۔

ہانیہ نے اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے کہا وہ ویسے تو دوا کے اثر سے گہری گیند سورہی تھی مگر حسیات اسکی حور کی طرف ہی تھی۔۔

ماں تھی کیسے نہ جاگتی اپنی بیٹی کی آواز پر ۔

وجاہت نے حور کو گود میں لے کر پہلے چپ کروایا پھر اسے دوبارہ لٹا کر اسے فیڈر دیا جسے حور کے خود ہی پکڑ لیا۔۔

ہانیہ حور کے بے بی کاٹ کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی تھی۔۔

میری وجہ سے آپکا کام بڑھ گیا ہے نہ۔۔

ہانیہ نے وجاہت کی نیند سے بھری آنکھوں کو دیکھ کے کہا۔

نہیں ایسا بلکل نہیں ہے اور خبردار جو تم نے ایسا سوچا بھی تو۔۔

وجاہت نے حور سے فیڈر لی اسنے ٹھوڑا ہی پیا تھا وجاہت جان چکا تھا کہ وہ نیند میں چونک کر اٹھ جاتی ہے اور زرا سی فیڈر پی لینے کے بعد پھر سے سوجاتی ہے تو وہ بناتا ہی تھوڑا تھا۔۔

حور کو سوتا پاکر وہ ہانیہ کو لئے بیڈ تک گیا اسے لٹا کر اسکے ساتھ ہی لیٹ گیا

نیند تو ہانیہ کی اب اڑ چکی تھی تو وہ اٹھ کے بیٹھ گئی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے۔۔

وقت ابھی صبح کے 4 کا تھا ۔۔

ہانیہ نے سوچا وجاہت کو سلا کر وہ تہجد ہی پڑھ لے خدا نے اتنی بڑی خوشی دی ہے تو شکریہ ادا تو بنتا تھا

وجاہت نے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے وہ فرزانہ اور حرا کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔

وہ ہی تھی مال میں مگر پھر کیا انہوں نے بھی اسے پہچان لیا تھا

ہاں پہچان تو لیا ہوگا تین سال پہلے کی ہی تو بات تھی یہ۔۔

تم سوجاؤ سن شائن مجھے نیند آرہی ہے میں خود ہی سوجاؤں گا۔۔

وجاہت نے اسکا بالوں میں انگلیاں چلاتا ہاتھ روک کے کہا۔۔

آپ سوجائیں میں نماز پڑھو گی ویسے بھی رات میں جلدی سوئی تھی تو اب نیند نہیں آنے والے۔۔

وجاہت نے اسے ایک نظر دیکھا پھر سر اثبات میں ہلا کر تنبیہ کرتا سوگیا کہ کسی کام کو ہاتھ مت لگانا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

تم سے کہا تھا نہ کہ تم جاب نہیں کر سکتی تو کیا ہے یہ سب۔۔

معظم حرا پر چلا رہا تھا جو مال جانے کیلئے ریڈی ہوکر ناشتہ کر رہی۔۔

بھائی بحث نہ کریں مہرو کی شادی سر پر ہے آپ کے پاس جاب نہیں ہے ہماری شادیوں کی جو سیونگ ابو کر کے گئے تھے وہ آپ نے اس سو کالڈ سونیا پر لٹا دی مگر شادی اس نے پھر بھی آپ سے نہیں کی

میری شادی ٹوٹی ٹھیک ہے مگر میں مہرو کی شادی ٹوٹنے نہیں دونگی۔۔

حرا بھی اب باقائدہ چلا کر معظم سے بات کر رہی تھی

فرزانہ اسے بتا چکی تھیں کہ کیسے معظم نے ہانیہ کی جھوٹی ریپورٹس بنوا کر اسے طلاق دی۔۔

حرا کو ہانیہ بہت پسند تھی مگر اس وقت وہ پڑھائی کر رہی تھی تو ہانیہ سے اتنا میل جول نہیں رکھتی تھی ہاں البتہ شادی کے ایک سال کے بعد اس نے مہرو اور اپنی ماں کے منہ سے ہانیہ کی برائی سنی تو وہ پھر ہانیہ سے تھوڑا اور کھچ سی گئی مگر بری وہ اسے پھر بھی نہیں لگی تھی۔۔

اور اب اپنے بھائی کے کارنامے سن کر اسے ہانیہ کیلئے بہت برا لگ رہا تھا کہ بے قصور ہوتے ہوئے بھی اس نے اتنا کچھ سہا مگر دیکھو اللّٰہ نے اسے اسکے صبر کا پھل بھی دیا۔۔

مگر اسکے بھائی کا کیا اس کے سامنے آیا مگر لگتا یہی تھا کہ معظم کو اس بات سے زرا بھی فرق نہیں پڑا تھا وہ پھر بھی سونیا کا دیوانہ بنا رہا اور پھر جب معظم کی جاب چلی گئی تو سونیا نے فوراً ہی اس سے تمام تعلقات ختم کرلئے اور کچھ وقت بعد معظم کو پتہ چلا تھا کہ سونیا نے ایک بہت ہی امیر مگر اپنے سے کئی سال بڑے بزنس مین سے شادی کرلی تھی۔۔

جس دن میں مر جاؤ اس دن تم گھر سے باہر نکل کر نوکری کر لینا۔۔

معظم کا ایک آنکھ نہیں بھایا حرا کو مال کے یونیفارم میں مال جانا۔۔

بلیک پینٹ کے ساتھ وائٹ ٹی شرٹ اور اوپر بلیک کوٹ پہنے حرا گھر سے جانے لگی۔۔

جس دن آپکی کوئی اچھی جاب لگی میں یہ جاب چھوڑ دونگی مگر بھائی اس سے پہلے آپ کچھ نہیں کہیں گے مجھے۔۔

حرا نے ضبط کر کے نارمل لہجے میں کہا اور بغیر معظم کی بات سنے ہی گھر سے نکل گئی۔۔

دیکھ رہیں ہیں آپ امی کیسے زبان چلا رہی تھی یہ مجھ سے۔۔

فرزانہ نے ایک نظر معظم کو دیکھا

اب کسی کو تو گھر چلانا ہے نہ کرنے دو اسے جاب جب تک تمہاری نوکری نہیں لگتی ۔۔

برتن سمیٹتے ہوئے انہوں نے اب کے بغیر معظم کی طرف دیکھے کہا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

اگلے دن ایک کے بعد ایک دادو کا حکم صادر ہونے لگا جسے سر جھکائے وجاہت ہادی اور شان صاحب سن رہے تھے پھر اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہے تھے۔۔

دادو نے کہا کہ گھر میں خوشیاں آئی ہے تو صدقہ دیا جائے

پھر غریبوں میں کپڑے اور نقد امداد بانٹی گئی

مٹھائیاں بٹیں۔۔

کیونکہ جمشید صاحب بھی پاکستان پہنچ چکے تھے اور ہادی اور نیلم کی شادی کی ڈیٹ اگلے مہینے کی ہی رکھی گئی تھی

گھر میں دو دو خوشیاں ایک ساتھ آئیں تھیں۔۔

سبھی گھر والے بہت خوش تھے۔۔

وجاہت نے واقعی کام گھر اور ہانیہ کو اچھے سے سنبھالا ہوا تھا وہ اپنے کام کے ساتھ ساتھ ہانیہ اور گھر والوں کو اچھے سے وقت بھی دے رہا تھا۔۔

جبکہ ہادی اور نیلم کی اب شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھیں۔۔

عالیہ بیگم نے شادی کی ڈیٹ فکس کرنے سے پہلے وجاہت سے بات کی تھی کہ اگر ہانیہ کی طبیعت کی وجہ سے نیلم کی شادی کی ڈیٹ آگے بڑھائی جائے کیا مگر وجاہت نے انہیں منع کردیا

پہلے ہی وہ ان کی انگیجمنٹ لیٹ کروا چکا تھا اب اگر شادی لیٹ کرواتا ہے تو ہادی نے اسے بخشنا نہیں ہے۔۔

اور شادی کے ماحول میں ہانیہ بھی بہتر محسوس کرے گی

کام تو ویسے بھی کوئی اسے کچھ نہیں کرنے دیگا

تو بہتر ہے وہ یہ ایوینٹ انجوائے کرے۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

آج حور کا برتھ ڈے کا سیلیبریشن تھا۔۔

آج وجاہت اور ہانیہ کی پری ایک سال کی ہوچکی ہے۔۔

پارٹی گھر کے بجائے ایک بڑے سے ہوٹل میں رکھی گئی تھی وجاہت نہیں چاہتا تھا کہ گھر میں کوئی پھیلاوا ہو۔۔

اسی لئے اس نے تمام انتظامات ہوٹل میں کروائے۔۔

ہانیہ اور حور کی سیم شاکنگ پنک کلر کے پرنسس گاؤن تھے جو کہ نیلم اور ہانیہ نے سیلیکٹ کئے تھے۔۔

نیلم کا بھی تقریباً ویسا ہی تھا مگر کلر وہ ہمیشہ ہادی سے میل کھاتا ہی پہنتی تھی

ابھی بھی وہ گرے رنگ کے گاؤن میں پارٹی میں جانے کیلئے اپنے کمرے سے نکلی۔۔

لائٹ مگر گلیمرس میک کئے بالوں کو میسی بن میں مقید کیا ہوا تھا جسکی کچھ لٹیں نیلم کے چہرے پر تھی۔۔

گلابی لبوں پر گلابی ہی لپ گلوز لگائے وہ ہادی کی سچ مچ کی پرنسس ہی لگ رہی تھی۔۔

ہادی بھی گرے کلر سے سوٹ میں بالوں کو جیل سے سیٹ کئے کلین شیو میں وہ بھی ہانیہ کا پرنس ہی لگ رہا تھا۔۔

چلیں پرنسس ہادی جو کب سے نیلم کے دروازے کے باہر کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا اب اسے بہت غور سے دیکھنے کے بجائے چلنے کا کہا تو نیلم اسے گھورنے لگی۔

اتنی محنت سے اور دل سے تیار ہوئی تھی وہ مگر مجال ہے ہادی نے اسکی تعریف میں ایک جملہ تو دور ایک لفظ بھی کہا ہو۔۔

کیا ہوا کہاں کھو گئی۔۔

ہادی نے اسکے چہرے کے آگے چٹکی بجائی تو نیلم نیلم منہ بنا کر ہادی کے آگے چلنے لگی۔۔

ہادی اسکا نروٹھا سا انداز دیکھ کے مسکرا دیا۔۔

اپنی پرنسس کو منانا اسے بہت اچھے سے آتا تھا

خوبصورت تو وہ ہادی کو بہت لگی مگر اس نے ابھی نیلم کیلئے کچھ اسپیشل پلان کیا تھا انکی شادی کی ڈیٹ فکس ہونے کی خوشی میں تو ابھی اسے اسکا زرا موڈ بگاڑنہ تھا تاکہ سرپرائز کا مزا دوبالا ہو۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

یار سن شائن تم کر کیا رہی ہو مجھے تمہاری فکر ہورہی ہے۔۔

وجاہت حور کو لئے یہ کوئی تیسری بار ڈریسنگ روم کا دروازہ بجا رہا تھا جہاں ہانیہ پچھلے ایک گھنٹے سے تیار ہونے گئی ہوئی تھی۔۔

حور کو وہ تیار کر چکی تھی شاکنگ پنک کلر کی فراک پہنے سر پر اسنے حور کے لئے آرڈر پر پرینسس کراؤن جیسا ہی ایک ہئیر کیچ بنوایا تھا

اب کراؤن تو وہ ٹکنے نہیں دیتی ہاں ہئیر کیچ پہننے کی اسے عادت تھی

اب خود وہ ڈریسنگ روم میں تیار ہورہی تھی دروازہ اسنے اس لئے بند کیا تھا تاکہ وجاہت اسے تیار ہونے پر ٹوک نہ سکے

کہ یہ نہ لگاؤ بلش تھوڑا ہلکا کرو آئی شیڈو صاف کرو ہائی لائیٹر اتنا کون لگاتا ہے اور لپ اسٹک کے معاملے میں تو وہ ہانیہ کو بہت ٹوکتا تھا۔۔

اب تو ہانیہ کو اسکے ڈائیلاگ تک یاد ہوگئے تھے۔۔

اسی لئے آج کچھ بھی سننے سے پہلے ہی اس نے ڈریسنگ روم سے وجاہت کو نکال باہر کیا تھا ۔۔

اب اپنی اس حالت کا وہ تھوڑا تو فائدہ اٹھا سکتی تھی کیونکہ ایسے میں وجاہت اسے غصے بھری نظر سے دیکھے گا بھی نہیں۔۔

اور وجاہت کو رہ رہ کر ہانیہ کی فکر ہورہی تھی جو کہ ایک گھنٹے سے کمرے میں بند تھی

وجاہت کے کہنے پر ہر گھنٹے ہانیہ کو جوس پینا تھا مگر ڈیڑھ گھنٹا ہونے کو تھا جوس تو چھوڑو پانی تک نہیں پیا تھا اسنے۔۔

آخر کار ہانیہ نے دروازے کا لاک کھولا تو وجاہت بغیر کچھ کہے ڈریسنگ روم میں تیزی سے داخل ہوا مگر اگلے ہی لمحے وہ جہاں کھڑا تھا وہیں جم سا گیا۔۔

شاکنک پنک کلر کا گاؤن پہنے بالوں میں اگے سے فرنچ اسٹائل بنائے پیچھے کے تمام بالوں کو اسنے کرل کیا ہوا تھا۔۔

میک اپ لائٹ ہی کیا تھا اسنے مگر لپ اسٹک اسنے اپنے ڈریس کے میچنگ ہی لگائی تھی۔۔

گلا چونکہ کالر اسٹائل کا تھا تو گلے میں اسنے سوائے وجاہت کی دی ہوئی چین کے کچھ نہیں پہنا تھا کان میں بھی چھوڑے چھوٹے ڈائمنڈ کے ائیرنگ پہنے تھے۔۔

اسکا ڈریس کافی کام دار تھا تو اسے باقی ایکسیسریز کی ضرورت نہیں تھی۔۔

کچھ پل تو وجاہت اسے دیکھتا رہا ہانیہ بھی مسکرا کر آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی۔۔

سن شائن تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔ کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں وجاہت نے وہ الفاظ کہے تو ہانیہ نے اسے حیرت سے مڑ کے دیکھا۔۔

حیرت اسے اس بات پہ ہوئی کہ وجاہت نے اسے کچھ نہیں کہا وہ بھی اتنا تیار ہونے پر۔۔

مگر جیسے ہی حور نے وجاہت کا ہاتھ پکڑا وجاہت فوراً ہی ٹرانس سے باہر نکلا ۔۔

یہ کیا پہن رکھا ہے تم نے۔۔ ٹرانس سے نکل کر پہلا جملا وجاہت نے یہی کہا۔۔

ہانیہ کو اس سے اسی جملے کی امید تھی۔۔

میں آج آپ کی بلکل نہیں سنوگی کیونکہ یہ پارٹی میری بیٹی کی پارٹی ہے اور اپنی خوبصورت بیٹی کی ماں ہونے کے ناطے آج مجھے تھوڑا تو اچھا لگنا تھا

ہانیہ نے وجاہت کو گھورتے ہوئے کہا ۔۔

وجاہت کچھ کہتا اس سے پہلے ہی ہانیہ نے حور کا ہاتھ تھاما اور اسے لئے روم سے باہر جانے لگی۔۔

رکو۔۔ وجاہت کی سنجیدگی بھری آواز سن کے ہانیہ کو اپنا ہلق خشک ہوتا محسوس ہوا وہ تو سمجھی تھی کہ وجاہت اسے اس حالت میں کبھی ہرٹ نہیں کرے گا

جی۔۔ ہانیہ نے غور سے وجاہت نے چہرے کو دیکھ کے کہا۔۔

تم نے جوس نہیں پیا وہ پیو پھر چلیں گے۔۔

وجاہت ٹیبل پر رکھا جوس کا گلاس اٹھا کر ہانیہ کے پاس لایا تو ہانیہ نے سکھ کا سانس لیا۔۔

وجاہت میں ہر گھنٹے یہ فروٹ جوسس پیو گی تو موٹی ہوجاؤگی۔۔

گلاس ختم کر کے اس نے وجاہت کو تھمایا تو کہنے لگی۔۔

کوئی بات نہیں ویسے بھی تمہیں تھوڑا ویٹ پروٹون کرنا ہے ڈاکٹر نے کہا تھا

وجاہت نے گلاس ٹیبل پر رکھ کے حور کو گود میں لیا اور ہانیہ کو کمر سے تھام کر گھر سے باہر چل دیا

گاڑی اسٹارٹ کرنے سے پہلے ایک بار پھر اسنے ہانیہ کو دیکھا جو محبت پاش نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔

اگر کسی غیر مرد کے منہ سے میں نے تمہارے بارے میں کچھ بھی سنا تو اسکے حشر کی ذمہ دار تم ہوگی۔۔

وجاہت نے ویسے تو عام سے لہجے میں کہا تھا مگر ہانیہ کو اسکا لہجہ تھوڑا عجیب لگا۔۔

ایسا کچھ نہیں ہوگا پارٹی میں سب جاننے والے ہی ہونگے۔۔

ہانیہ نے اسے سمجھانا چاہا مگر وجاہت نے سنجیدہ چہرا لئے گاڑی اسٹارٹ کردی ۔۔

یہ سچ تھا کہ اسنے ہانیہ کو ٹوکا نہیں تھا آج کسی بھی چیز کیلئے مگر وہ خوش بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

پارٹی میں ان لوگوں کو لاسٹ میں داخل ہونا تھا ۔۔

حور کا ہاتھ تھامے وہ لوگ پارٹی میں داخل ہوئے تو انکا بہت اچھا سا استقبال کیا گیا۔۔

کیک لایا تھا گیا تو وجاہت اور ہانیہ نے ہی حور کا ہاتھ پکڑ کے کیک کاٹا۔۔

پارٹی رواں دواں تھی جب ہانیہ کو لگا کوئی اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔۔

رخ موڑ کے ہانیہ نے اس انسان کو دیکھا تو اسے لگا وہ سانس نہیں لے پائے گی۔۔

ویٹر کی یونی فارم پہنے معظم ہانیہ کو عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا

وہ حیرت یا غصے کی نظر نہیں تھی ہانیہ کو وہ نظریں بے چین کر گئی تھیں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *