Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 20)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

وجاہت نے پیپرز ہوا میں اچھال دیئے جو ہوا کے ساتھ دور چلے گئے

ہانیہ کو ایسا لگا جیسے اسکے دل پر کوئی کیل تھی جو نکل گئی۔۔

بے یقینی سے اس نے وجاہت کو دیکھا جو اب پرسکون ہوکر بیٹھا ہوا تھا۔۔

وجاہت نے گھڑی میں ٹائم دیکھا جو کہ شام کے 7 بج رہے تھے۔۔

گھر چلیں کیا۔۔

ہانیہ کو خاموش دیکھ کے وجاہت نے ہانیہ کو مخاطب کیا۔۔

ہانیہ نے بنا آواز کے ہی سر نفی میں ہلا دیا۔۔

وجاہت ہانیہ کو نفی میں سر ہلاتا دیکھ مسکرانے لگا۔۔

ٹھیک ہے کچھ وقت اور یہی بیٹھتے ہیں میں زرا کریم سے کہہ دو (کریم وجاہت کا ملازم تھا ) وہ ہمارے لئے کھانا لے آئے گا ۔۔

وجاہت اٹھ کر جانے لگا کہ ہانیہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔

مجھے بھی آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔۔

ہانیہ نے وجاہت کی سوالیہ نظروں کے جواب میں کہا۔۔

ٹھیک ہے 5 منٹ تو رکو۔۔ وجاہت نے اپنا ہاتھ چھڑا کے باہر جانا چاہا۔۔

نہیں اگر آج نہیں بولو گی تو کبھی نہیں بول پاؤگی۔۔

ہانیہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کے وجاہت وہیں بیٹھ گیا ہانیہ کا ہاتھ اسنے اب چھوڑا نہیں۔۔

سورج غروب ہوچکا تھا ہر طرف اندھیرا چھا رہا تھا۔۔۔

سمندر کا خوبصورت نظارہ اب ایک الگ ہی انداز سے سکون بخش رہا تھا

ٹھیک ہے بولو کیا بولنا چاہتی ہو۔۔

وجاہت نے اب اسے بولنے کا کہا۔۔

میں آپ کو اپنے بارے میں سب بتانا چاہتی ہوں۔۔

اپنے پاسٹ اپنی شادی اور طلاق کے بارے میں۔۔

مگر میں جاننا نہیں چاہتا میں کوئی ایسی بات جاننا نہیں چاہتا جسے یاد کرکے تمہیں تکلیف ہو اور تمہیں تکلیف میں دیکھ کے میں تکلیف دینے والے کو ہی نہ دنیا کی تکلیفوں سے آزاد کردوں۔۔

وجاہت نے بہت سنجیدگی سے کہا۔۔

پلیز مجھے بولنے دیں اور خاص کر کے آج

میں نہیں چاہتی کہ کل کو کچھ بھی آپ میرے بارے میں کسی کے بھی منہ سے کچھ بھی سنیں۔۔

وجاہت نے ہانیہ کی بات سن کے سر اثبات میں ہلا دیا۔۔

اپنے ماں باپ کی میں بہت لاڈلی ہوں اور اس سے بھی کہیں زیادہ فاخر بھائی میرے لاڈ اٹھاتے آئے ہیں۔۔

پھر بھائی کی شادی ہوگئی تو ایشا بھابھی بھی مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں بلکل مجھے اپنی چھوٹی بہن ہی سمجھتی تھیں۔۔

مگر بھائی کی شادی کے بعد لوگوں نے باتیں کرنی شروع کردی کہ پہلے بیٹی کی شادی کرتے پھر بیٹے کو نمٹاتے مگر دیکھو زرا جوان بیٹی کو گھر میں بٹھایا ہوا ہے۔۔

ایسی کہیں باتیں ہمیں سننے کو ملی پھر جب پاپا نے کسی سے سنا کہ کہیں کوئی ان کی بیٹی میں عیب تو نہیں تو پاپا کو بہت دکھ ہوا

بھائی کی شادی کے 3 سال بعد میرے لئے پروپوزل آیا وہ ہمارے دور کے رشتے دار تھے

ماں باپ تھے ان کے گھر میں دو بہنیں اور ایک انکے بیٹے معظم۔۔

معظم ایک پرائویٹ کمپنی میں ملازمت کرتے تھے

دکھنے میں بھی کافی بھلے تھے یعنی کہ شریف لگتے تھے۔۔

ہانیہ نے جب وجاہت کے تاثرات دیکھے معظم کے ذکر پر تو فوراً شرافت والی بات بول دی۔۔

میں بیس سال کی تھی گریجویشن کرلیا تھا ماسٹرز کی تیاری کر رہی تھی کہ میرا رشتہ پکا ہوگیا ۔۔

بھائی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں شادی کرنا چاہتی ہوں کہ نہیں

میں نہ کرنا چاہتی تھی مگر پاپا کی خوشی کی خاطر ہاں کردی اور جلد ہی شادی کر کے اپنے گھر چلی گئی۔۔

معظم کے گھر والے میرے ساتھ بہت اچھے تھے سوائے معظم کے

وہ تو شادی والی رات گھر ہی نہیں آئے تھے۔۔

بعد میں مجھے پتہ چلا تھا کہ وہ اپنی یونی ورسٹی کے ٹائم سے ہی کسی لڑکی کو پسند کرتے تھے مگر وہ لڑکی معظم کی امی کو پسند نہیں تھی ۔۔

معظم نے مجھے اس لڑکی کی تصویر دکھائی تھی اور میرا ہمیشہ اس سے موازنہ کرتے تھے ۔۔

وہ واقعی بہت خوبصورت تھی۔۔

دودھ جیسی شفاف رنگت تھی اسکی جبکہ میں سانولی تھی ۔۔

وہ ہمیشہ مجھے یہی کہتے تھے کہ انہوں نے یہ شادی صرف اپنے گھر والوں کے پریشر کی وجہ سے کی ہے۔۔

میں خاموش رہتی تھی کیوں کہ ان کے گھر والے میرے ساتھ اچھے سے رہتے تھے۔۔

ایک سال جیسے تیسے گزرا تو معظم کی امی کو پھر پوتا پوتی کی فکر ستانے لگی ۔۔

اور پھر جیسے جیسے دن گزر رہے تھے باقی گھر والو کے رویے بھی بدلنے شروع ہوگئے تھے

میں اس پر بھی خاموش تھی اپنے گھر والو کو کچھ نہ بتایا کیونکہ جانتی تھی کہ امی ابو تو بعد میں بھائی مجھے ایک پل بھی وہاں رہنے نہیں دینگے۔۔

ویسے بھی مڈل کلاس کی لڑکیاں اپنی ساری زندگی منہ پر تالا لگا کے ہی گزار دیتی ہیں۔۔

بولتے وقت ہانیہ کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آگئی جسے محسوس کرکے وجاہت نے ایک پل اپنی آنکھیں بند کرلیں۔۔

پھر امی کے کہنے پر میں نے ڈاکٹر کو دکھایا خود کو کچھ ٹیسٹ بھی کروائے ساتھ میں معظم نے بھی اپنے ٹیسٹ کروائے

2 سال میں انہوں نے بھی آخر کار سمجھوتا کر ہی لیا تھا وہ اب زیادہ تر خاموش ہی رہتے تھے۔۔

پھر جیسے ہی میری رپورٹس آئیں تو پتہ چلا کہ میں تو ماں ہی نہیں بن سکتی

اس دن مجھے لگا میرے رشتے کی آخری آس بھی ٹوٹ گئی اور ساتھ میں رشتہ بھی۔۔

کیونکہ جیسے ہی معظم کی امی کو پتہ چلا انہوں نے معظم سے کہا کہ مجھے طلاق دے دے۔۔

میں نے انہیں بہت کہا کہ ایسا نہ کرے چاہیں تو دوسری شادی کرلیں مگر وہ نہیں مانے اور طلاق کے بعد مجھے گھر بھیج دیا۔۔

مجھے طلاق یافتہ کے طور پر دیکھ امی پاپا کو بہت دکھ ہوا بھائی کو بھی ہوا مگر انہوں نے کبھی مجھے یہ احساس نہیں ہونے دیا

پھر اچانک سے بھابھی کا رویہ میرے ساتھ بدل گیا کیونکہ انکا کہنا تھا کہ میں ایک بانجھ ہوں اور میرے سائے کی وجہ سے انکے ہاں دوسری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔۔

جب اپنے مجھے شادی کیلئے کہا تو اس سے پہلے میرے لئے ایک رشتہ ایا تھا جو کہ میری ممانی لائی تھیں وہ ایک 65 سال کا آدمی تھا جسکی پہلی بیوی مر چکی تھی بچے سارے شادی شدہ تھے

مگر پاپا اور بھائی نے انہیں منع کردیا کیونکہ میں 23 سال کی ہوں اور وہ 65 سال کے بزرگ۔۔

پھر آپ نے پروپوزل دیا تو میں اسی وقت قبول کر لیتی کیونکہ مجھے بس ایک نام چایئے تھا کسی کا جس کے نام کے سائے میں ہی میں اپنی ساری زندگی کاٹ لیتی۔۔

مگر منع اس لئے کیا کہ اگر ہاں کرتی تو میرے کردار پر بات آتی۔۔

لوگ جانے کیسی کیسی باتیں بناتے جب سب کو پتہ چلتا

اسی لئے آپ سے کہا کہ اپنے والدین کو میرے گھر لائیں۔۔

اور آپ لے آئے سچ مانیں بہت مشکور ہوگئی تھی میں آپکی۔۔

مانتی ہوں کہ میں نے مجبور ہو کر بھی اپکے سامنے شرائط رکھی تھی ۔۔

وہ بھی اسلئے کیونکہ سچ کہو تو یقین نہیں تھا آپ پر

مگر شادی کے فوراً بعد ہی آپ ملک سے باہر چلے گئے اور مجھے آپکی غیر موجودگی میں آپ کے گھر والوں سے گھلنے ملنے کا موقع ملا۔۔

سب ہی نے مجھے بہت پیار دیا

خاص کر حور کی وجہ سے میں بہت خوش تھی کیونکہ آپ سے شادی کر کے میں حور کی ماں بن چکی تھی جو کہ شاید میری زندگی میں نا ممکن سی بات تھی۔۔

کوئی مجھے ماں کہے یہ امید میری ٹوٹ ہی رہی تھی کہ آپنے میری گود میں اپنی بیٹی دیدی۔۔۔

شکر گزار تھی آپکی کبھی کوئی شکایت نہیں کرنا چاہتی تھی آپ سے۔۔

مگر دادو نے کہا تھا کہ اگر میں آپ کو کچھ نہیں کہو گی آپ کی نظروں میں نہیں آؤنگی تو آپ دوسری شادی کرلو گے۔۔

مجھے دوسری شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ مجھے آپ کی خوشی عزیز تھی۔۔

بس ڈر تھا کہ کہیں دوسری بیوی کے کہنے پر آپ نے مجھے چھوڑ دیا تو مجھ سے دادو مما پاپا نیلم اور سب سے خاص حور چھن جائے گی جو کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔

بس پھر دادو کے کہنے پر ہی میں نے آپ کے سامنے اپنا اسٹینڈ لینا شروع کیا۔۔

اور یقین مانے اس وقت مجھے یہ لگنے لگا تھا کہ میں دوبارہ سے زندہ ہوگئی ہوں۔۔

پھر اچانک سے آپ میں بہت سی تبدیلیاں آئیں۔۔

آپکا مجھے دیکھنا مجھ سے باتیں کرنا مجھے اچھا لگتا تھا مگر پھر اگلے ہی پل آپ ایسے ہوجاتے تھے جیسے مجھے جانتے ہی نہ ہو۔۔

نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے یہ احساس ہوا کہ مجھے آپ سے دوری ہی بنا کے رکھنی چاہئے۔۔

مگر آپ کی قربت میں میں ہمیشہ خود سے ہی کئے گئے وعدے بھول جاتی تھی اور خوش ہوجایا کرتی تھی۔۔

مگر ایک بات مجھے کبھی سمجھ نہیں آتی کہ معظم جیسے عام انسان کو مجھ میں کوئی اچھائی نہیں دکھی۔۔

تو آپ تو پھر شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والے کو مجھ سے محبت کیسے ہوگئی۔۔

نہ تو میں خوبصورت ہوں نہ ہی مجھ میں ایسی کوئی بات ہے جو مجھے اوروں سے الگ دکھتی ہے۔۔۔

تو پھر آپ نے مجھ میں کیا دیکھا۔۔

وجاہت جو اسکی ساری بات خاموشی سے سن رہا تھا کہ آخری بات پر اس نے اسکے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔۔۔

سہی کہتا ہوں میں بہت زیادہ بے وقوف ہو تم جو خود کو اتنا غیر اہم اور معمولی سمجھتی ہو۔۔

دیکھو مین نہیں جانتا کہ میں کیا واقعی شہزادوں جیسی آن بان رکھنے والا انسان ہوں مجھے ایسا لگتا تو نہیں ہے ویسے۔۔

مگر ظاہری خوبصورتی تو آج کل چند نوٹ خرچ کرنے سے بھی مل جاتی ہے لیکن تمہارا باطن خوبصورت ہے۔۔

جو کہ تمہیں سب سے منفرد بناتا ہے۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے میرے گھر والے تمہیں اتنا پسند کیوں کرتے ہیں

کیونکہ تمہارا دل خوبصورت ہے

تمہاری یہ سنہری چمکتی ہوئی رنگت کسی بھی دودھیا رنگت کو بہت آسانی سے مات دے سکتی ہے ۔

یہ کالی شفاف آنکھیں کسی کا بھی دل چرا سکتی ہیں۔۔

معصومیت ہے تمہارے چہرے پر جو ہر کسی کو لبھاتی ہے۔۔

خوبصورت دل ہے تمہارا جسے پانے کیلئے کوئی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔

خوش ہوتی ہو تو اور کھل جاتی ہو۔۔

ناراض ہوتی ہو تو چھوٹی سی بلی لگتی ہو وہ بھی سرخ بلی۔۔

وجاہت نے یہ بولتے وقت ہانیہ کے ناک دبائی۔۔

جب غصہ کرتی ہو تو ان لبوں کو اپس میں زور سے بھینچ لیتی ہو جو کہ بہت کیوٹ لگتے ہیں پھر

یہ بولتے ہوئے وجاہت نے ہانیہ کے لبوں کو چھوا انگلی سے۔۔

جب حور کے ساتھ کھیلتی ہو تو کہیں سے بھی اسکی ماں نہیں لگتی بلکہ اسی کی طرح چھوٹی بچی معلوم ہوتی ہو۔۔

مجھے کوئی فرق نہیں پڑھتا کہ تم ماں نہیں بن سکتی کیونکہ میرے لئے تم ہماری بیٹی کی ماں ہو اور اگر رب نے چاہا تو سب ممکن ہے ۔۔

ہانیہ وجاہت کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کے رو دی آج اسکے دل سے تمام میل دھل چکے تھے

سارے سوالوں کے جواب مل چکے تھے۔۔

سارے اندیشے دور ہوگئے تھے۔۔

محبت کی آغاز ہو چکی تھی

جب آغاز میں ہی اتنی شدت تھی تو آگے کا تو ہانیہ سوچ ہی نہیں سکتی تھی۔۔

وجاہت نے ہانیہ کو خود سے الگ کر اسکے آنسو صاف کئے

سچ کہو تو روتے ہوئے بھی بہت پیاری لگتی ہو۔۔

تمہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ میں تمہیں دنیا سے چھپانا چاہتا ہوں کیونکہ جب مجھ جیسے مضبوط اعصاب کے مالک کا یہ حال ہے یہ تو دنیا تو بھری پڑی ہے دل پھینک عاشقوں سے

اور اس بات میں کوئی بیر نہیں کہ تمہیں بری نظر سے دیکھنے والے کی میں آنکھیں بھی نکال سکتا ہوں اور اس دنیا سے اسے فنا بھی کر سکتا ہوں

مگر کرنا نہیں چاہتا کیونکہ خوف خدا ہے مجھ میں اسی لئے کبھی کبھی تم پر روک ٹوک کرتا ہوں کیونکہ تم پر اپنا حق رکھتا ہوں۔۔

وجاہت کی آنکھوں میں ہانیہ نے دیکھا تو اسے نمی سی محسوس ہوئی جیسے ہی نمی باہر آنے لگی ہانیہ نے اس نمی کو ہی اپنے لبوں سے چن لیا۔۔

❤️💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

نیلم ہادی کیلئے بھی سامان لائی تھی مال سے جو ملازم اسے دے گیا تھا اس کے کمرے میں ۔۔

ہادی وہ سامان دیکھ کے مسکرا دیا وہ جانتا تھا کہ یہ سب سامان کون لایا ہوگا۔۔

نیلم اچھے سے جانتی تھی کہ ہادی کو کیا پسند اور کیا نہ پسند ہے آج بھی وہ اسکے ذوق کے این مطابق ہی چیزیں لائی تھی ۔۔

ہادی نے اپنا سامان دیکھا جس میں ایک گھڑی ایک پرفیوم اور ایک شرٹ تھی جو ہادی کو بہت پسند آئی تھی مگر اس سب سامان میں شاید نیلم کے سامان کا ایک بیگ آگیا تھا

ہادی نے بیگ اٹھایا اور نیلم کو دینے اسکے کمرے میں گیا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔۔

ہادی وہ بیگ اسکی رائٹنگ ٹیبل پر رکھ دیا مگر جیسے ہی اسنے بیگ رکھا ہانیہ کا فوٹو فریم گر کیا

ہادی نے وہ فریم اٹھایا تو دیکھا کہ اس کہ وہ اس کے کانچ پر دراڑ آگئی تھی۔۔

شٹ یہ کیا ہوگیا مجھ سے۔۔

ہادی نے اس فریم کو دیکھ کے کہا۔۔

یہ وہی فریم تھا جو ہادی نے ہی اسے دیا تھا جس میں نیلم کی مسکراتی ہوئی تصویر تھی

اور اس پر خوبصورت سا پرنسس لکھا ہوا تھا۔۔

نیلم کووہ فریم بہت پسند تھا ۔۔

ہادی نے سوچا کہ وہ ابھی تصویر نکال کر یہ فریم پھینک دے گا اور ایک اس سے بھی اچھا فریم نیلم کیلئے لے ائے گا۔۔

مگر جیسے ہی اسنے فریم کی بیک کھولی اس میں نیلم کے ساتھ ایک اور تصویر تھی جو کہ ہادی کی تھی ۔۔

اس تصویر پر نیلم نے مارکر سے لکھا ہوا تھا my prince 💞💞

ہادی اپنی تصویر کو دیکھ کے چونک گیا پر جیسے ہی اسے احساس ہوا کہ کوئی کمرے کی طرف آرہا ہے اس نے جلدی سے وہ تصویریں واپس اسی فریم میں رکھ کے اسے بند کردیا۔۔

نیلم کمرے میں داخل ہوئی تو ہادی کو اپنے کمرے میں دیکھ کے چونک گئی

پھر اسکے ہاتھ میں اپنا فریم دیکھا تو اسکے چہرے کا رنگ ہی اڑ گیا۔۔

آپ یہاں ۔۔ لڑکڑھاتے لہجے سے پوچھا گیا۔۔

ہادی نے اپنے اپکو نارمل کیا پھر عام سے لہجے میں کہا۔۔

ہاں تمہارا ایک بیگ میرے پاس اگیا تھا وہی دینے آیا تھا پر تم یہاں تھی نہیں تو یہیں رکھ کے جارہا تھا

مگر مجھ سے غلطی سے یہ فریم گر گیا اور اسکا شیشہ ٹوٹ گیا ہے۔۔

نیلم نے وہ فریم ہادی کے ہاتھ سے فوراً جھپٹ لیا۔۔

کوئی بات نہیں میں شیشہ چینج کروا لونگی۔۔

نیلم نے جلدی سے کہہ کر فریم دیکھا جو کہ بند تھا نیلم نے سکھ کا سانس لیا اور ہادی نے اسکے ہر تاثر کو غور سے دیکھا۔۔

میں چینج کروا دونگا دے دو مجھے۔۔

ہادی نے اپنا ہاتھ آگے کیا فریم لینے کیلئے مگر نیلم نے اسے منع کردیا۔۔

نیلم کی ہوائیاں اڑتا دیکھ ہادی مسکرا دیا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *