Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 25)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 25)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
ہم یہاں کیوں آئے ہیں مسٹر ۔۔
سویٹ ہارٹ یہاں اس رومینٹک موسم میں سب کیا کرتے ہیں بتاؤ زرا۔۔
وہ شوخ ہو کر بولا۔۔
جہاں تک مجھے یاد ہے تم یہاں سیمینار کیلئے آئے تھے جو کہ ہو چکا ہے اب ہم تینوں یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔
دیکھو سیمینار تو کل میں نے اٹینڈ کرلیا ہے اب بچے 5 دن اس میں ہم گھومیں گے ویسے بھی ہم ہنی مون پر نہیں گئے تھے تو ایسا سوچ لو کہ ہم ہنی مون پر ہیں۔۔
اچھا جی 3 سال کے بچے کے ساتھ ہم ہنی مون پر آئے ہیں واہ یو امیز می ۔۔
دیکھا میں ہوں ہی کمال میرے جیسا کوئی نہیں ہے۔۔
سنو مسٹر یہ کوئی ہنی مون نہیں ہے ہم یہاں تمہارے کام سے آئے تھے جو کہ ہوگیا اب ہمیں اپنے ملک واپس جانا چاہئے۔۔
دیکھو سویٹی شادی کے وقت تم بھپری شیرنی بنی ہوئی تھی میرے ارمان بہت تھے ہنی مون پر جانے کے مگر اس وقت میں نے تم اسپیس دیا
اب اگر میں چاہتا ہوں کہ ہم یہاں انجوائے کریں تو تمہیں مسئلہ کیا ہے۔۔
پہلی بات شادی کے وقت جو بھی ہوا اس میں تمہاری غلطی تھی تم نے میری شادی روکی تھی
بہت ہیرو بن کے آئے تھے کہ یہ شادی نہیں ہوسکتی وغیرہ وغیرہ
اس سب کے بعد تم کیا اکسپیکٹ کر رہے تھے کہ ہم کوئی نارمل کپل ہوتے ۔۔
ہاں ہاں جانتا ہوں زبردستی شادی کی تھی تم سے مگر اپنے دل سے پوچھ کے بتاؤ کیا مجھ سے زیادہ محبت کرسکتا ہے کوئی تم سے۔۔
وہ جو فل جھگڑے کے موڈ میں تھی اب ریان کی بات پر ایک دم ٹھنڈی ہوگئی
وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا پریہا ریان سکندر کو ریان سکندر سے زیادہ اس دنیا میں کوئی نہیں چاہ سکتا۔۔
عالیان اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے تین سال کا ہوگیا ہے اور سمجھدار بھی کتنا ہے اس کے سامنے یہ رومینس وغیرہ نہ کیا کرو
بچے بہت جلدی ہر بات پک کرتے ہیں۔۔
پریہا ہار مانتے ہوئے بولی کیونکہ وہ آج تک ریان سے جیتی جو نہیں تھی۔۔
پری جانم تم ناراض تو نہ ہو یار ٹھیک ہے عالیان کے سامنے تم سے تھوڑا ۔۔ مطلب تھوڑا سا دور رہونگا۔۔
ریان کے ہاتھ کے اشارے دیکھ پریہا مسکرا دی۔۔
ریان سکندر شیخ ایک بیٹے کے باپ بن گئے ہو مگر اپنا بچپنا چھوڑ نہیں رہے تم۔۔
کیا کریں پری دل تو بچا ہے جی۔۔
ریان پریہا کا ہاتھ تھام کے بولا۔۔
اچھا چلو عالیان وہیں کیفے میں بیٹھا ہے انتظار کر رہا ہوگا ہمارا۔۔
ہاں چلو مین نے کب منع کیا ہے تم ہی آگئی تھی باہر۔۔
میں آئی تھی تم کیوں آئے میرے پیچھے
پریہا نے ریان کو آنکھیں دکھائی۔۔
میں بھلا اپنی جانم کے بغیر 1 منٹ بھی رہ سکتا ہوں کیا۔۔
تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔ ریان کو ایک بار پھر پلڑی سے اترتا دیکھ پریہا سر نفی میں ہلاتے ہوئے کیفے کے اندر گئی جہاں انکا بیٹا کسی بچی کے ساتھ کھیل میں مصروف تھا۔۔













میں تمہیں کیا بلاؤ ۔۔ مطلب مجھے تو تمہارا پیار سے کوئی نام رکھنا چاہئے نہ جیسے سب شوہر اپنی بیویوں کو پیار سے بلاتے ہیں۔۔
وجاہت ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہانیہ کو ایک نظر دیکھ کے بولا۔۔
ہیں ۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اچھا بھلا میرا نام ہے اس سے ہی مجھے مخاطب کریں یہ ہانیہ نہیں تو ہانی بول لیا کریں۔۔
ہانیہ نے سنجیدگی سے جواب دیا
حور شیشے کے پار پیرس کے مناظر دیکھنے میں مصروف تھی۔۔
نہیں ان ناموں سے تو تمہیں ہر کوئی مخاطب کرتا ہے مجھے کوئی الگ نام چاہئے تم خود بتادو ورنہ میں کوئی بھی نام رکھ لونگا۔۔
وجاہت نے موڑ کاٹتے ہوئے کہا۔۔
اچھا سوچ کے بتاتی ہوں۔۔
ہانیہ سوچتے وقت پر ہونٹوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے ٹیپ کرنے لگی۔۔
وجاہت اسکے یہ سوچنے کے طریقے پر ہنس دیا۔۔
آئیسکریم۔۔
ہیں ۔۔ کیا۔۔ میں تمہیں آئسکریم کہہ کر بلاؤ۔۔
وجاہت نے نظریں روڈ پر مرکوز کئے بولا۔۔
ارے نہیں مجھے آئسکریم کھانی ہے ابھی ایک کیفے گیا ہے روکیں گاڑی۔۔
روڈ پر تھوڑا رش ہونے کے باعث وجاہت پہلے ہی گاڑی آہستہ چلا رہا تھا۔۔
اب ہانیہ کے کہنے پر سائڈ مرر میں کیفے دیکھنے لگا۔۔
تمہیں تو آئفل ٹاور دیکھنا تھا اور اب آئسکریم۔۔
وجاہت نے گاڑی پارک کرنے کیلئے پارکنگ ایریا کی طرف موڑ لی۔۔
وہ ہم بعد میں دیکھیں گے پہلے آئسکریم ۔۔ کیوں حور آئسکریم کھاؤگی نہ آپ۔۔
ہانیہ چہک کر کہتے ہوئے حور کا منہ اپنی طرف کرکے بولی تو حور اس کے اس طرح بولنے پر کھلکھلانے لگی ۔۔
بابا کو بولو آئسکریم کھلائیں۔۔
ہانیہ کے بولنے کی دیر تھی حور وجاہت کو بولنے لگی۔۔
با ۔۔۔ اے اے اے۔۔ با۔۔ ماما۔۔ او۔۔
حور کے اس طرح بولنے پر وجاہت حیرت سے حور کو پھر ہانیہ کو دیکھنے لگا۔۔
یار یہ ایک سال کی بھی نہیں ہوئی اور اشارے دینے لگی ہے۔۔
وجاہت نے گاڑی پارک کرکے ہانیہ سے کہا۔۔
ہاں تو آپ کو کیا لگا میری بیٹی کچھ کہہ نہیں سکتی دیکھنا وقت آنے پر آپ کو بھی ڈانٹا کرے گی۔۔
وہ وقت آچکا ہے کل کی بات بھولا نہیں ہوں میں کیسے تمہارے گالوں پر ہاتھ رکھ کے مجھے گھورتے ہوئے بولی تھی کہ۔۔ ماما۔۔
جیسے جتا رہی ہو ماما اس کی ہے۔۔
وجاہت آپ اپنی بیٹی سے جیلس ہورہے ہیں۔۔
ہانیہ نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
جیلس نہیں ہورہا میں بس یہ بہت شارپ ہے یہ کہہ رہا ہوں اور کیوں نہ ہو بیٹی کس کی ہے آخر۔۔
وجاہت نے فرضی کالر جھاڑے۔۔
ہانیہ وجاہت عالم کی۔۔
ہانیہ اس کے بولنے سے پہلے ہی بول گئی۔۔
کیفے تک کا راستہ انہوں نے پیدل طے کیا کیفے کے باہر پارکنگ کرنا آلاؤ نہیں تھا تو وجاہت کو تھوڑی دور پارک کرنی پڑی اپنی کار۔۔
کیفے پہنچ کر وجاہت نے ہانیہ کے لئے دروازہ کھولا جو کہ حور کو گود میں لئے اندر داخل ہوئی اور دل میں وجاہت سے بولی۔۔
میرے ہینڈسم جینٹل مین۔۔
اب وہ دونوں ٹیبل پر پیٹھ گئے وجاہت نے ویٹر کو بلایا ۔۔
تو بیگم کونسا فلیور کھاؤگی۔۔
ہانیہ نے بٹر اسکوچ فلیور منگوایا جبکہ وجاہت نے ٹوٹی فروٹی اور حور کیلئے اسٹرابری فلیور منگوایا۔۔
تو میں تمہیں آج سے آئسکریم کہہ کر بلاؤ ۔۔ ویسے نام اتنا برا بھی نہیں ہے۔۔
وجاہت نے شرارت سے کہنی ٹیبل پر رکھے سر اپنا ہاتھ پر رکھ کے بولا۔۔
جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میں نے ائسکریم اس لئے بولا کیونکہ مجھے کھانی تھی
ہانیہ مصنوعی غصے سے بولی۔۔
جیسے ہی آئسکریم آئی وجاہت نے ایک بائٹ لے کر ہانیہ کو دیکھا جو کہ پہلے حور کو کھلا رہی تھی پھر خود کھا رہی تھی۔۔
میں تمہیں سن شائن بلاؤنگا ۔۔
وجاہت کے ہانیہ کو انوکھا نام دینے پر ہانیہ نے اسے دیکھا جو کے اب مزے سے آئسکریم کھا رہا تھا۔۔
اس انوکھے نام کی وجہ جان سکتی ہوں میں۔۔
ہاں کیونکہ تم ایک سن شائن ہی تو ہو جو میری زندگی میں خوشیوں بھری روشنی لے آئی ۔۔
اور تمہارا کامپلیکشن بھی تو ایسا ہی جیسے سورج ہی ٹھنڈی دھوپ جسے دیکھو تو سکون ملتا ہے ۔۔
مسٹر اکڑو آپ مسٹر رومینٹک نہیں ہوتے جارہے یہاں آکر۔۔
ہانیہ نے آئسکریم کا بائٹ لے کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔
کیا کریں آپ کے عشق کا اثر ہے۔۔
وجاہت نے ہانیہ کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کے کہا تو حور نے فوراً ہانیہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا
اور وجاہت کو گھورنے لگی۔۔
یہ دیکھو اپنی باڈی گارڈ کو کیسے گھور رہی ہے مجھے۔۔
سن شائن میں تو سوچتا ہوں یہ جب پراپر سب کچھ بولنے لگے گی تو مجھے تو تمہیں دیکھنے بھی نہیں دے گی۔۔
جہاں تمہیں ٹچ کرونگا وہیں چلائے گی۔۔
وجاہت حور کو اٹھا کر اپنی گود میں لے کر بولا حور ہانیہ کی طرف جانے لگی تو وجاہت نے اسے اپنے پیر پر بٹھا کے اسکی آئسکریم اسے کھلائی تو حور اب خاموشی سے آئسکریم کھانے لگی۔۔
ہانیہ صرف ہنستی ہی رہی آپ کیوں اپنی ہی بیٹی سے گھبراتے ہیں
وہ بس مجھ سے پیار کرتی ہے اسی لئے ایسا کرتی ہے چھوٹی ہے بڑی ہوگی تو سمجھدار ہوجائے گی۔۔
ہانیہ نے اسے پیار سے سمجھانا چاہا۔۔
مجھے تو خیر ایسے کوئی آثار نہیں دکھائی دے رہے۔۔
وجاہت چئیر سے ٹیک لگا کے بولا تو ایک 3 یا 4 سال کا خوبصورت بچا ان سے پاس آکر حور کو دیکھنے لگا۔۔
یہ بے بی آپکی ہے۔۔
وہ بہت خوبصورت بچا تھا شکل و صورت میں کوئی انگریز لگ رہا تھا مگر بات اردو میں کررہا تھا۔۔
گری شرٹ اور بلیک جینز پر وہ بلیک جیکٹ پہنے چھوٹا سا راک اسٹار لگ رہا تھا۔۔
جی بیٹا یہ ہماری بے بی آپ کہاں سے آئے ہو۔۔
وجاہت کو وہ بچہ بہت پیارا لگا تو اس سے اتنے ہی پیار سے بولا۔۔
ہیلو بے بی میں عالیان ہوں آپ کا نام کیا ہے۔۔
عالیان معصومیت سے اپنی ہلکی سی توتلی زبان میں بولا۔۔
اسکا بولنے کا طریقی اتنا پیارا تھا کہ ہانیہ اور وجاہت کو ہنسی آگئی اور بیک وقت پیار بھی۔۔
حور اسے دیکھ کے ہنسنے لگی اور ہنستے ہوئے اپنے 4 دانت سب کو دکھانے لگی۔۔
انکل میں بے بی کو لو کیا۔۔
عالیان نے پیار سے وجاہت کو کہا۔۔
چندا آپ بہت چھوٹے ہو بے بی گر جائے گی نہ۔۔
ہانیہ نے عالیان کو پیار کرتے ہوئے کہا۔۔
اتنے میں ہی کیفے میں دو لوگ داخل ہوئے اور عالیان کو بلانے لگے۔۔
مما دیکھو بے بی۔۔
عالیان نے زور سے پریہا کو اپنے پاس بلایا تو پریہا اور ریان اس کے پاس گئے۔۔
ائیم رئیلی سوری انہوں نے آپ لوگوں کو تنگ تو نہیں کیا۔۔
ریان نے نرم لہجے میں وجاہت اور ہانیہ سے سوال کیا۔۔
ارے نہیں یہ تو بہت پیارا بچہ ہے ۔۔ ہانیہ نے مسکرا کے کہا تو وجاہت کے چہرے پر سخت تاثرات آگئے۔۔
وجاہت نے اس آدمی کو گھور کے دیکھا۔۔
سرخ و سفید رنگت کا لئے اپنی لمبے قد کاٹھ اور کسرتی جسم میں وہ بلاشبہ ایک بہت خوبصورت آدمی تھا
وجاہت نے اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو کلین شیو میں اسکا چہرا اچھا لگ رہا تھا۔۔
دیکھنے میں وہ انگریز ہی لگ رہا تھا مگر اردو بہت صاف بول رہا تھا۔۔
وجاہت کو بھی وہ اب اچھا لگا کیونکہ اس نے صرف ایک ہی نظر ہانیہ کو دیکھا اور اب وہ پوری طرح سے وجاہت اور اپنی وائف کے طرف متوجہ تھا۔۔
سوری وہ ہم زرا بات کرنے باہر گئے تھے اور یہ آپ کے پاس آگئے۔۔
پریہا نے عالیان کا ہاتھ پکڑ کے کہا۔۔
کوئی بات نہیں آپکا بیٹا بہت پیارا ہے۔ ہانیہ نے پریہا سے کہا۔۔
مما بے بی آپ لو نہ۔۔
عالیان نے پریہا کا ہاتھ تھام کے بولا کہ وہ بے بی کو لے۔۔
نہیں چندا بے بی روئے گی۔۔
حور تو نہیں مگر پریہا کے منع کرنے پر عالیان ضرور روگیا۔۔
پکا تمہارا ہی بیٹا ہے نوٹنکی دیکھو زرا ایک آنسو بھی نہیں ہے آنکھوں میں۔۔
پریہا نے ریان کو دھیمی آواز میں کہا مگر آواز اتنی بھی ہلکی نہیں تھی کہ وجاہت اور ہانیہ سن نہ سکتے تھے۔۔
آپ لوگ ہمارے ساتھ بیٹھ جائیں ورنہ یہ چپ نہیں ہونگے۔۔
ہانیہ نے پریہا کو بیٹھنے کا کہا تو پریہا نے ریان کو دیکھا
جب ریان نے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ عالیان کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔
عالیان تو فوراً ہی اپنی جگہ سے اٹھ کے وجاہت کے پاس گیا اور حور کے ساتھ کھیلنے لگا۔۔
حور بھی اسے دیکھ کے تالیاں بجا رہی تھی۔۔
چاروں ہی انہیں دیکھ کے ہنس دئیے۔۔
سوری تعارف تو ہوا نہیں ۔۔
میں ریان سکند شیخ اور یہ میری وائف پریہا ہیں ۔۔
ریان نے ہاتھ بڑھا کے وجاہت سے ہاتھ ملایا
ریان کو یہ دیکھ کے خوشی ہوئی کہ وجاہت نے ایک بار بھی پریہا کو نہیں دیکھا تھا شاید وہ بھی اسی کی طرح اپنی بیوی کو بہت چاہتا تھا اور اسکے علاوہ کسی لڑکی کو نہیں دیکھتا تھا۔۔
میں وجاہت عالم اور یہ میری وائف ہانیہ۔۔
وجاہت نے بھی گرم جوشی سے ریان کا ہاتھ تھام کے بولا۔۔
پھر دونوں نے ہی کچھ یاد کرکے ایک ساتھ بولے۔۔
آپ عالم انٹرپرائزز کے اونر ہیں ۔۔ ریان کے بولنے پر وجاہت مسکرا دیا۔۔
اور آپ شاید علی سکندر شیخ کے بھائی ہیں میں جانتا ہوں انہیں ان کے منہ سے نام سنا ہے آپکا۔۔
اب وجاہت نے اپنا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے بولا۔۔
جی ہاں آپکی کمپنی کے ساتھ کافی پراجیکٹ کئے ہیں بھائی نے وہ اصل میں میں نے 3 سال پہلے ہی کام شروع کیا ہے۔۔
ریان خوشدلی سے بولا۔۔
جانتا ہوں میرا خیال ہے آپ ہادی کے دوست بھی ہیں شاید ۔۔
وجاہت نے ایک بار پھر ریان کو مخاطب کیا۔۔
جی ہاں ہادی میرا بہت اچھا دوست ہے بہت مزیدار انسان ہے ہنسا ہنسا کے پیٹ میں درد کر دیتا ہے۔۔
ایسے ہی وہ دونوں اپنے بزنس کے بارے میں بات کرنے لگے
دوسری طرف ہانیہ اور پریہا اپنے اپنے شوہروں کو دیکھتی ہی رہی ۔۔
تنگ آکر پریہا نے ہانیہ کو مخاطب کیا۔۔
مجھے نہیں لگتا ان لوگوں کی آدھے گھنٹے سے پہلے بات ختم ہوگی۔۔
پریہا کی بات پر ہانیہ مسکرا دی۔۔
دونوں نے پہلے اپنے پچوں کو دیکھا جو کہ عالیان بہت آرام سے اور دیہان سے حور کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے آئسکریم کھلا رہا تھا۔۔
میرے بیٹے کو چھوٹے بچے بہت پسند ہیں۔۔
پریہا نے پیار سے حور اور عالیان کو دیکھ کے کہا۔۔
میں پریہا ہوں سب مجھے پری کہتے ہیں ۔۔ پریہا نے ہانیہ سے بات کی۔۔
میرا نام ہانیہ سب مجھے ہانی کہتے ہیں۔۔
ہم لڑکیوں کے کتنے نام ہوتے ہیں نہ سب نام بگاڑتے ہیں۔۔
پریہا نے مسکرا کے ہانیہ کو کہا تو وہ بھی مسکرا دی۔۔
یہ تو ہے۔۔ ویسے پیرس کیسے آنا ہوا۔۔
ہانیہ نے وجاہت کو دیکھا جو کہ ریان کو لے کر باہر کی طرف بڑھا۔۔
ریان نے ہانیہ کو بس ایک نظر ہی دیکھا تھا اس کے بعد نظر اٹھا کے بھی نہ دیکھا اس کی خود کی بیوی اتنی خوبصورت تھی وہ بھلا کسی اور کو کیوں دیکھے گا۔۔
مگر وجاہت کو کون سمجھائے۔۔
اصل میں ہماری شادی کو 6 ماہ ہوگئے ہیں مگر ہم کہیں باہر نہیں گئے تو بس یہ مجھے پیرس لے آئے۔۔
ہانیہ نے کہہ تو دیا مگر اب بول کے پچھتائی کیونکہ پریہا اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھی مگر بولی کچھ نہیں
ہانیہ اسکی نظروں کا مطلب سمجھ کے مسکرا کے بولی۔۔
حور وجاہت اور انکی فرسٹ وائف کی بیٹی ہے۔۔
نور کی ڈیتھ حور کو ڈیلیور کرتے ہوگئی تھی پھر انہوں نے حور کیلئے ہی مجھ سے شادی کی۔۔
ہانیہ نے نظریں نیچی کئے بولا اسے لگا کسی اجنبی کے سامنے اسے یہ سب نہیں بولنا چاہئے تھا۔۔
خیر جو قسمت میں ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے
ویسے آپ کے ہسبینڈ کو دیکھ کے ایسا لگتا نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی کیلئے آپ سے شادی کی ہے۔۔
پریہا کے بولنے پر ہانیہ نے اسے چونک کے پوچھا۔۔
بھلا وہ کیسے۔۔
کیونکہ جس طرح سے وہ میرے ہسبینڈ کو یہاں سے بہانہ کرکے لے گئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے وہ آپ کے بارے میں کتنے پوسیور ہیں۔۔
پریہا نے مسکرا کے کہا تو ہانیہ بھی مسکرا دی۔۔
ایسے تھے نہیں ہوگئے ہیں مسٹر اکڑو پتہ نہیں کیا ہوتا جارہا ہے انہیں ۔۔
ہانیہ کو ہنستا دیکھ پریہا بولی۔۔
عشق۔۔ یہ سب عشق کروا دیتا ہے ۔۔۔ ریان کی بھی یہی حرکتیں تھیں مگر پھر میں نے ٹوک ٹوک کے اسکی یہ عادت چھڑوائی ۔۔
پوزیسو ہے وہ مگر تمہارے ہسبینڈ جیسے نہیں۔۔
ہانیہ ایک نظر حور اور عالیان کو دیکھ کے پریہا کو دیکھ کے مسکرا دی۔۔
پریہا نے ہانیہ کو غور سے دیکھا۔۔
سنہری چمکتی ہوئی رنگت پر گلابی گال کالی بڑی بڑی آنکھیں معصوم سا چہرا۔۔
تم بہت پیاری ہو جبھی تمہارے ہسبینڈ بہت محبت کرتے ہیں تم سے اور پھر کسی اور کی اولاد کو ماں بن کے پالنا ان کی نظر میں اور دل میں تم بہت اونچے مقام پر ہونگی۔۔
ہانیہ نے پریہا کو دیکھا جو اسے ہی غور سے دیکھ رہی تھی۔۔
میں اتنی بھی پیاری نہیں ہوں آپ کو کاش دکھا سکتی وجاہت کی پہلی وائف نور بہت زیادہ حسین تھی اور پھر انکی بچپن کی دوست بھی تھی۔۔
مگر پتہ نہیں کیوں انہیں مجھ جیسی عام سی شکل و صورت والی لڑکی سے اتنی محبت ہوگئی۔۔
پریہا ہانیہ کی بات پر ہلکے سے ہنس دی۔۔
ایسا نہیں ہے تم پیاری ہو بہت اور معصوم بھی میں تم سے پہلی بار ملی ہوں اور تم مجھ سے اپنے دل کی بات کرنے لگی ۔۔
یہ تمہاری سادگی ظاہر کرتی ہے۔۔
خیر تم کوئی عام نہیں ہو اپنے شوہر کی نظروں سے دیکھا کرو خود کو اور چاہو تو دنیا سے پوچھلو
ایسی سنہری چمکتی ہوئی رنگت پر میں نے کبھی اتنے پیارے سے گلابی گال نہیں دیکھے۔۔
پریہا نے بہت پیار سے کہا۔۔
آپ اتنی سمجھداری کی بات کیسے کر لیتی ہو عمر میں تو میرے ساتھ کی ہی لگ رہی ہو۔۔
ہانیہ کے سادگی سے بولنے پر پریہا نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔۔
میری عمر کو چھوڑو میں نے پہلے اپنے پاپا کو سنبھالا ہے اور پھر ریان کو میچورٹی تو آنی ہی تھی نہ مجھ میں۔۔۔
پریہا نے عالیان کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔۔
چلو عالیان چندا بے بی کو اتنی آئسکریم مت کھلاؤ۔۔
مما بس تھولی ہی تھلائی ہے بے بی ٹھیک ہے۔۔
عالیان کے لہجے پر ہانیہ کو اس پر ڈھیروں پیار آیا۔۔
چندا بے بی بیمار ہوجائے گی آپ نے کھلا تو دی ہے۔۔
ہانیہ نے عالیان کے گال پر پیار کرکے کہا اور حور کو اب بے بی سیٹ سے اٹھا کر گود میں لے لیا۔۔
جو کہ وجاہت جاتے ہوئے اسے بٹھا کے گیا تھا اور عالیان اسکے ساتھ والی چئیر پر ہی بیٹھ گیا۔۔
میں بے بی کی ساتھ تھیلونگا۔۔
عالیاں نے پریہا کا ہاتھ پکڑ کے کہا۔۔
نہیں جان وہ چھوٹی ہے آپ کے ساتھ نہیں کھیل سکتی۔۔
پریہا نے اسے سمجھانا چاہا مگر عالیان کہا کسی کی سننے والا تھا فوراً ہانیہ کے پاس گیا
انٹی میں بے بی کے ساتھ تھیل لوں۔۔
ہانیہ نے پریہا کو دیکھا پھر ان دونوں نے ہی وجاہت اور ریان کو آتے ہوئے دیکھا۔۔
چلیں جی یہ لوگ اب آتے ہی جانے کا کہیں گے۔۔
پریہا نے ہانیہ کو دیکھ کے کہا۔۔
چلیں سن شائن۔۔ وجاہت نے آتے ہی ہانیہ کو چلنے کا کہا۔۔
ہانیہ وجاہت کی بات پر پریہا کو دیکھ کے مسکرانے لگی۔۔
جی چلیں ۔۔ تو ٹھیک ہے پری انشاء اللہ پھر ملنا ہوگا بہت خوشی ہوئی تم سے مل کر۔۔
ہانیہ پریہا سے ملی تو پریہا نے بھی پیار سے اس سے ہاتھ ملا کے کہا۔۔
مجھے بھی ایک نئی دوست بنا کے بہت اچھا لگا۔۔
وجاہت ہانیہ کا کھلا ہوا چہرا دیکھنے لگا جو کہ ریان کی وائف سے بات کرتے ہوئے بہت خوش لگ رہی تھی۔۔
چلو بڈی پھر ملیں گے انشاء اللہ۔۔
کل پروگرام بنائیں کہیں جانے کا۔۔
ہانیہ کو خوش دیکھ وجاہت نے شاید زندگی میں پہلی بار کسی جو خود سے کہیں ساتھ چلنے کا کہا۔۔
ہاں بلکل کیوں نہیں تمہارے پاس میرا نمبر ہے جہاں بھی جانا ہو مجھے صبح تک بتا دینا۔۔
ریان وجاہت سے بغلگیر ہو کر بولا پھر عالیان کا ہاتھ پکڑ کے کہا۔۔
چلو یانو بے بی کو بائے بولو۔۔
عالیان نے فوراً بے بی کو بائے بائے کیا اور وہ لوگ کیفے سے چلے گئے۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو دیکھا جو پیار سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو سن شائن۔۔
یہی کہ جو انسان کسی غیر سے ہنس کے بات نہیں کرتا اس نے میری خوشی کیلئے کل ان لوگوں کو ملنے کیلئے کہا۔۔
وجاہت ہانیہ کی بات پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔۔
جاننے لگی ہو تم مجھے۔۔ تم خوش دکھائی دے رہی تھی ریان کی وائف کے ساتھ ریان بھی اچھا انسان ہے ہم انکی فیملی کو جانتے ہیں کافی اچھے سے بس ریان لندن میں رہتا تھا شروع سے تو اسے نہیں جانتا تھا میں۔۔
یہ ہادی کا بہت اچھا دوست ہے نام بہت بار سنا ہے میں نے اور بلکل ہادی کی طرح ہی ہے بہت بولتا ہے مگر مجھے اچھا لگا۔۔
وجاہت حور کو ہانیہ کی گود سے لے کر بولتے ہوئے آگے بڑھا۔۔
ہانیہ بھی ہنستے ہوئے وجاہت کے پیچھے پیچھے چل دی۔۔
تھوڑا جلدی چل لو بیگم تمہارا آئفل ٹاور تمہارا انتظار کررہا ہوگا۔۔
وجاہت نے مڑ کے دیکھا تو ہانیہ ہلکے ہلکے چل رہی تھی تو بولے بغیر نہ رہا۔۔
ہانیہ اسکی بات پر تیزی سے قدم بڑھانے لگی پھر وہ تینوں گاڑی میں بیٹھ کے پھر سے اپنے سفر پر روانہ ہوئے۔۔
جاری ہے۔۔
