Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 17,18)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

سورج کی کرن پڑھنے سے وجاہت کی آنکھ کھلی تو خود کو لان میں پایا

آنکھیں پوری کھولنے کی کوشش کی تو اسے کندھے پر کسی کا احساس ہوا جیسے ہی اسنے دیکھا ہانیہ اسکے کندھے پر سر رکھے ہوئے سورہی تھی۔۔

وجاہت کا ہاتھ اسنے اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما ہوا تھا اس نے

یہ دیکھ وجاہت کے چہرے پر تبسم پھیل گیا۔۔

اتنی خوشی یہ محبت یہ چاہت اس نے کبھی بھی محسوس نہیں کی تھی

سب کہتے تھے کہ وہ نور سے محبت کرتا تھا

مگر ہانیہ کیلئے اس کے دل میں محبت سے بڑھ کر بھی کوئی مقام بن رہا تھا۔۔

سورج کی کرن ٹھنڈی دھوپ اور یہ دلفریب ساتھی وجاہت کو مسحور کر رہی تھی

دل کیا کہ یہ وقت یہی رک جائے

مگر وقت تو رک نہیں سکتا تھا تو سوچا یہ پل ہمیشہ کیلئے قید کرلیا جائے

جیب سے وجاہت نے موبائل نکالا اور اپنی اور ہانیہ کی کئی تصویریں لی ۔۔

اور پھر جب اسے احساس ہوا کہ گھر والے انہیں ایسے نہ دیکھ لیں تو اسنے ہانیہ کو سوتے ہوئے ہی بازوؤں میں اٹھایا اور اسے اسکے کمرے میں لے گیا۔۔

سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے ہانیہ کی آنکھ کھل گئی

خود کو وجاہت کے بازوؤں میں دیکھ کے ہانیہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر وجاہت نے اسے خاموش کردیا۔۔

ششش۔۔۔ بس اتنا بول کے وجاہت نے ہانیہ کی پیشانی پر لب رکھ دیئے۔۔

ہانیہ کو تو وجاہت سمجھ ہی نہیں آرہا تھا

ہانیہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹی ہوئی تھی وجاہت نے جب اسکا چہرا دیکھا تو شرارت سے اسے آنکھ ماری

ہانیہ کے کمرے کا پیر سے دروازہ کھول کر اسنے ہانیہ کو کمرے میں بیڈ پر لٹایا

کمفرٹر اسے اچھے سے اوڑھا کر کچھ پل وہ وہیں بیٹھا رہا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ہانیہ کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا

ہانیہ کچی پکی نیند میں تھی تو جیسے ہی اسے سکون ملا وہ دوبارہ سوگئی۔۔

وجاہت نے اسے سوتے دیکھا تو ایک بار پھر اسکے ماتھے پر محبت کی چھاپ چھوڑ کر باہر جانے لگا۔۔

دروازے پر پہنچ کر اسنے مڑکر دیکھا ہانیہ سوچکی تھی

وجاہت کا اسے چھوڑ کر جانے کا بلکل دل نہیں کر رہا تھا مگر وہ اسے دل سے اپنانا چاہتا تھا۔۔

اسی لئے پہلے اپنے رشتے کو مضبوط کرنا چاہتا تھا

ہانیہ کا اس پر بھروسہ چاہتا تھا

اور سب سے بڑھ کر کچھ وہ انا بھی تھی جو اسنے سب گھر والوں کو دکھائی تھی کہ وہ نور کی جگہ کسی کو نہیں دے گا

اور ہانیہ کے ساتھ رشتے کو اسنے صرف ایک مجبوری ہی کہا تھا مگر تب اسے بلکل بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ رشتہ اسکے لئے اتنا خاص ہوجائے گا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

نیلم اور ہانیہ ٹیرس پر بیٹھی چائے کے مزے لے رہی تھی

باقی سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے جبکہ ہادی اور وجاہت آفس گئے ہوئے تھے۔۔

حور بھی اپنے کھلونوں سے کھیلنے میں لگی ہوئی تھی ۔۔

ہانیہ نیلم کی کسی بات کا جواب دے رہی تھی کہ اس کے موبائل پر میسج کی بپ ہوئی۔۔

ہانیہ نے سیل فون پر میسج چیک کیا تو میسج وجاہت کا تھا۔۔

ہانیہ نے اسے پڑھنا شروع کیا۔۔

مجھے نہیں پتہ تھا جھولے پر بیٹھ کر اتنی پرسکون نیند بھی آتی ہے کبھی

یقین کرو میں بہت ٹائم بعد اتنے سکون سے سویا

تم سے کل اپنی باتیں شئیر کر کے بہت اچھا لگا

تھینکس۔۔

وجاہت کا سادگی سے بھرپور میسج پڑھ کے ہانیہ کو بہت اچھا لگا اور اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ آگئی۔۔

نیلم اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھی تو پوچھ بیٹھی۔۔

بھابھی برو کا میسج ہے کیا۔۔

نیلم کی بات سن کے ہانیہ ایک دم چونک گئی۔۔

نہیں تو میری ایک دوست کا میسج ہے۔۔

ہانیہ کے لہجے میں بولتے ہوئے واضح لڑکھڑاہٹ تھی۔۔

اچھا جی ویسے بھابھی ایک بات پوچھو۔۔

نیلم نے ہانیہ سے ہادی کے بارے میں بات کرنے کا سوچا

اب کسی کو تو اسے اپنے دل کی بات بتانی تھی نہ۔۔

ہاں چندا بولو کیا بات ہے۔۔

ہانیہ نے اسے پیار سے مخاطب کیا۔۔

بھابھی وہ آپ کو ہادی کیسے لگتے ہیں۔۔

نیلم کے سوال پر ہانیہ نے ایک پل نیلم کو دیکھا جو بات کرتے ہوئے بلش کر رہی تھی۔۔

اچھے ہیں ہادی مگر اس بات کی کوئی وجہ۔۔

ہانیہ سمجھ رہی تھی مگر وہ حقیقت جاننا چاہتی تھی

بھابھی وہ اچھے ہیں یا بہت اچھے۔۔

نیلم نے ایک اور سوال کیا۔۔

اب اچھے ہوں یا برے تمہیں پسند ہیں کافی ہے۔۔

اب ہانیہ نے بھی شرارت سے کہا۔۔

نیلم کچھ کہتی کہ ہانیہ کے موبائل پر پھر رنگ ہوئی اب اسکے پاس ایک پکچر بھیجی گئی تھی۔۔

ہانیہ نے وہ پکچر دیکھی تو ایک بار پھر اسکے چہرے کا رنگ بدل گیا۔۔

وہ تصویر آج صبح کی ہی تھی وہ وجاہت کے کندھے پر سر رکھے سورہی تھی وہ بھی وجاہت کے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر۔۔

پھر ایک اور تصویر بھیجی وجاہت نے جس میں وہ حور کو پیار سے دیکھ رہی تھی

یہ تصویر بھی آج صبح کی ہی تھی جب وجاہت آفس جارہا تھا اس وقت وہ حور کو گود میں لی ہوئی تھی۔۔

ہانیہ نے نظر اٹھا کے دیکھا تو نیلم اسے ہی دیکھ رہی تھی

ہانیہ نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے نیلم کو بات کرنے کو کہا۔۔

بھابھی یار آپ موبائل تو رکھ دو میں اتنی سیرئیس بات کر رہی ہوں اور آپ ہو کہ موبائل دیکھ دیکھ کے ہی مسکرا رہی ہو ۔

نیلم نے نروٹھے پن سے کہا تو ہانیہ نے موبائل ٹیبل پر رکھ دیا۔۔

ٹھیک ہے بولو تم ۔۔

بھابھی مجھے ہادی بچپن سے اچھے لگتے ہیں وہ ہمیشہ میرا خیال رکھتے ہیں

نیلم نے ہانیہ سے کوئی بات نہیں چھپائی۔۔

تم صرف پسند کرتی ہو یہ پسند سے کچھ زیادہ۔۔

ہانیہ اب سنجیدگی سے نیلم کو دیکھ کے بولی۔۔

معلوم نہیں بھابھی پر جب جب ان کے ساتھ ہوتی ہوں تو اچھا لگتا ہے وہ مجھے پرنسس کہتے ہیں اور مجھے ایک پرنسس کی ہی طرح ٹریٹ کرتے ہیں۔۔

میرے منہ سے نکلی ہر خواہش کو پوری کر دیتے ہیں جو میں کہتی ہوں وہ فوراً مان جاتے ہیں۔۔

ہانیہ کے موبائل پر پھر رنگ ہوئی تھی مگر اب کی بار اس نے اگنور کیا۔۔

کیونکہ نیلم سے اس وقت بات کرنا بہت ضروری تھا۔۔

دیکھو نیلم ہادی اچھے انسان ہیں میں نے ہمیشہ سب کے منہ سے انکی تعریف ہی سنی ہے

مگر۔۔

مگر کیا بھابھی۔۔ ہانیہ کے مگر کہنے پر نیلم غور سے ہانیہ کو دیکھنے لگی۔۔

دیکھو نیلم تم میری بہن ہو میری دوست ہو اسی لئے تم سے کہو گی کہ فلحال کیلئے تم اپنے جزبات کو سمجھو۔۔

ہانیہ کا موبائل پر کسی کی کال آرہی تھی مگر اسنے پھر اگنور کیا۔۔

کسی کو پسند کرنا ایک الگ بات ہے اور کسی کو دل میں اہم مقام دینا الگ بات ہے۔۔

لیکن بھابھی میں ہادی سے بچپن سے محبت کرتی ہوں۔۔

نیلم نے ہانیہ کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔

چندا میں نے کب منع کیا ہے مگر میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ تم پہلے اپنے آپ سے سوال کرو کیا تم ہادی کے ساتھ لائف اسپینڈ کرنا چاہتی ہو

اگر ہاں تو میں گھر والوں سے اپنے طور پر بات کر سکتی ہوں۔۔

بھابھی میں سچ میں ان سے محبت کرتی ہوں

نیلم کو سمجھ میں نہیں آیا کہ ہانیہ اسے کیا سمجھانا چاہ رہی ہے۔۔

ٹھیک ہے تو میں دادو اور مما سے بات کروگی۔۔

ہانیہ نے نیلم کو جواب دیا تو نیلم چونک گئی۔۔

بھابھی کیا آپ کو اچھا نہیں لگا کہ میں ہادی سے محبت کرتی ہوں۔۔

نیلم کی بات ہانیہ سمجھ چکی تھی کہ اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے ۔۔

موبائل مسلسل رنگ کر رہا تھا مگر ہانیہ کا نیلم سے بات کرنا زیادہ ضروری تھا۔۔

نیلم چندا اچھے یا برے کی بات نہیں ہے اگر تم ہادی کو دل سے چاہتی ہو تو اس محبت کو حلال کرو کسی غیر محرم کو دل میں اتنا بڑا مقام دینا غلط ہے۔۔

مگر ہمیں یہ بھی تو جاننے کی ضرورت ہے کہ ہادی کیا چاہتے ہیں۔۔

نیلم کا اترا چہرا دیکھا تو ہانیہ نے اسکا چہرا تھام کے کہا

دیکھو میری جان کسی سے محبت کرنا بری بات نہیں ہے مگر یکطرفہ محبت تکلیف دیتی ہے ۔۔

دل میں اہم مقام ہمارے شوہر کیلئے ہوتا ہے تو ہمیں ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے کہ اس مقام پر کسی اور کو نہ لائیں۔۔

میں گھر والوں سے بات کروں گی تمہارے اور ہادی کے بارے میں بغیر انہیں تمہاری دلی کیفیت بتائے

شاید میں جو تمہیں سمجھانا چاہ رہی ہوں وہ ٹھیک سے سمجھا نہیں پارہی مگر اس بارے میں سوچنا اور فلحال کیلئے اپنی فیلینگس اپنے تک ہی رکھنا ٹھیک ہے چندا۔۔

ہانیہ کیا کہنا چاہتی تھی اب نیلم سمجھ چکی تھی تو اسکی بات سن کے نیلم نے ہانیہ کو گلے لگا لیا ۔۔

تھینک ہو بھابھی آپ دنیا کی سب سے اچھی بھابھی ہو۔۔

نیلم کو مسکراتا دیکھ ہانیہ بھی مسکرادی

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

سیل فون بج بج کے اب خاموش ہوگیا تھا نیلم اب اپنے کمرے میں چلی گئی تھی تو ہانیہ حور کے ساتھ مصروف ہوگئی۔۔۔

ہانیہ حور کو فروٹ جوس پلا رہی تھی تبھی اسنے کسی کی سخت آواز سنی۔۔

تم اتنی مصروف ہو کہ تمہیں میری کال ریسیو کرنے تک کی فرصت نہیں ہے۔۔

وجاہت کی غصے سے بھری آواز سن کے ہانیہ نے مڑ کر دیکھا تو دروازے پر کھڑا وجاہت اسے ہی غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔

بلیک پینٹ اور بلیک ہی کوٹ سے ساتھ گرے شرٹ پہنے وہ ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔

وہ پہلے نیلم یہاں بیٹھی تھی پھر حور کے ساتھ مصروف ہوگئی میرا دیہان ہی نہیں گیا سیل فون کی طرف۔۔

وجاہت جو اسے پکچرز اور میسجز بھیج کر اسکے جواب کا انتظار کر رہا تھا مگر کافی دیر بعد جب کوئی جواب نہ آیا تو وجاہت ہانیہ کو کال کرنے لگا

مگر ہانیہ نے کال بھی ریسیو نہیں کی تو وجاہت کا پارا ہائی ہوگیا۔۔

وہ خود دیکھنا چاہتا تھا کہ ایسی کونسی مصروفیت ہے جو اسے کال ریسیو بھی نہیں کرنے دے رہی۔۔

تو نیلم کے سامنے تم کال ریسیو نہیں کر سکتی کیا۔۔

وجاہت نے لہجے کو سخت رکھ کے کہا۔۔

میں اس سے ضروری بات کر رہی تھی۔۔

ہانیہ نے وجاہت کو سمجھانا چاہا۔۔

کیا مجھ سے بھی زیادہ ضروری بات تھی۔۔

وجاہت نے اب ہانیہ کا بازو پکڑ کے کہا۔۔

آپ غصہ کیوں کر رہے ہیں ایسا بھی کیا ہوگیا۔۔۔

ہانیہ کو وجاہت کا اتنی سی بات پر غصہ کرنا سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔

میں نے کل بھی کہا تھا تمہیں کہ جب مجھے تم سے بات کرنی ہوا کرے تو مجھ سے بات کیا کرو لیکن تم تو بس مجھے غصہ ہی دلاتی ہو۔۔

کیوں کرو آپ سے بات بولیں اکیلے میں آپ کو مجھ سے باتیں کرنی ہیں جب کے سب گھر والوں کے سامنے میرا نام بھی نہیں لیتے۔۔

کھانا زبردستی مجھے کھلاتے ہیں مگر گھر والوں کے سامنے میرے ساتھ بیٹھنا تک پسند نہیں کرتے۔۔

ہانیہ کو جب وجاہت کے غصے کی سمجھ نہ آئی تو وہ خود بھی بولنے لگی۔۔

یہ وہ صبح سے سوچ رہی تھی اسے وجاہت کا دھوپ چھاؤں والا رویہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔

تو تم کیا چاہتی ہو گھر والوں کے سامنے تمہیں اہمیت دوں۔۔

وجاہت کی اس بات پر ہانیہ کو بہت تپ چڑھی۔۔

تو غلط کیا ہے اس میں اکیلے میں آپ میرے اتنے قریب آتے ہیں اور سب کے سامنے ایک نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے

ہانیہ کو غصہ کرتے دیکھ وجاہت نے خود کو تھوڑا کنٹرول کرنا چاہا۔۔

دیکھو مجھے تھوڑا وقت لگ رہا ہے سب کے سامنے اس سچائی کو ماننے میں

مجھے تھوڑی جھجھک محسوس ہورہی ہے بس ۔۔

جھجھک ۔۔ کیسی جھجھک بیوی ہوں میں آپ کی اب جب مان رہے ہو تو چھپا کیوں رہے ہو ۔۔

مسٹر وجاہت عالم کہیں آپ مجھے محض ٹائم پاس تو نہیں سمجھ رہے۔۔

ہانیہ کس بات کا کیا مطلب لے رہی تھی وجاہت خود حیران تھا

تم غلط سمجھ رہی ہو ہانیہ۔۔

میں غلط سمجھ رہی ہوں کیسے۔۔

کل آپ نے سب کے سامنے مجھے اپنے ساتھ پیرس لے جانے سے منع کیا کہا کہ میری ذمیداری نہیں اٹھا سکتے اور پھر رات پھر مجھے اپنے ساتھ رکھا

کیا تھا وہ سب چاہ کیا رہے رہیں آپ ۔۔

میں تمہیں چاہ رہا ہوں بس تم نے مجھ سے بات نہیں کی تو غصہ آگیا تھا

خیر چھوڑو۔۔

ہانیہ کو ہر بات غلط طریقے سے لیتے ہوئے دیکھا وجاہت نے تو بات ہی ختم کرنے کا سوچا۔۔

مجھے آپ کی کچھ سمجھ نہیں آرہی کبھی آپ غصہ کرتے ہیں تو کبھی اتنا پیار

تنہائی میں اتنی اہمیت دیتے ہیں اور سب کے سامنے بے مول کر دیتے ہیں ۔۔

کیوں ۔۔؟؟

ہانیہ آنکھوں میں نمی لئے بولنے لگی

دیکھو میں بس یہ چاہتا ہوں کہ پہلے ہم ایک دوسرے کو سمجھیں دل سے اس رشتے کو قبول کریں ایک دوسرے کو جانے اسی لئے تم میرے ساتھ پیرس جاؤگی۔۔

جن حالات میں ہماری شادی ہوئی میں بلکل راضی نہیں تھا مگر حور کیلئے کی

مجھے نہیں آتا سب کے سامنے اپنی فیلینگ کا اظہار کرنا سب کے سامنے غصہ کر سکتا ہوں مگر پیار کا اظہار نہیں کرسکتا

میرے لئے یہ سیچیویشن بہت اوکورڈ ہورہی ہے۔۔

مگر میرا یقین کرو دل یہ اس رشتے کو اہمیت دینا چاہتا ہوں میں بس تھوڑا وقت دے دو مجھے۔۔

ہانیہ اور وجاہت ایک دوسرے کے قریب تھے بہت وجاہت نے اپنا سر اسکی پیشانی سے ٹکرا دیا وہ اب ہانیہ وجاہت کی باتوں کو سن کے تھوڑی پر سکون ہوگئی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

اپنے کیبن میں کام کرتے ہوئے وجاہت کے دماغ میں ہانیہ کے کہے گئے الفاظ گونجے جو اسنے کچھ گھنٹے پہلے کہے تھے۔۔

سوچنے پر اسے یہ احساس ہورہا تھا کہ ہانیہ غلط نہیں تھی نہ ہی اس کے کوئی اندیشے غلط تھے

غلطی پر وہ خود تھا اگر وہ اسے اپنے دل میں مقام دے چکا تھا تو اسے چاہیے تھا کہ سب کے سامنے وہ اس رشتے کو قبول کرے۔۔

کب تک وہ اس سے اس طرح ملے گا

آج صبح بھی گھر والے کیا سوچیں گے اس ڈر سے وہ سب کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اسے لان سے اس کے کمرے میں چھوڑ آیا تھا ۔۔

ٹھیک ہے میں نے غلطی کی ہے تو اسے سدھاروں گا بھی میں ہی۔۔

اخر کب تک میں اپنی ہی بیوی کو خود سے دور رکھو پیرس جب جائیں گے تب جائیں گے اس سے پہلے ہی میں سب کو یہ کہہ دونگا کہ میں ہانیہ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔۔

Episode 18

وجاہت نے خود سے کہہ تو دیا مگر وہ یہ سب کرے گا کیسے ۔۔

گھر کے پورچ میں گاڑی میں بیٹھے وجاہت نے سوچا

ایک دم سے نہ سہی مگر تھوڑا تھوڑا کر کے تو میں سب کو یہ یقین دلا ہی دونگا۔۔

افف۔۔ میں اپنی ہی بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے کیلئے اتنے جتن کررہا ہوں۔۔

گاڑی کا اسٹیئرنگ وہیل تھامے وجاہت اکتایا ہوا لگ رہا تھا۔۔

چلو خیر ہے یہ رائتہ بھی تو میں نے ہی پھیلایا ہے صاف بھی مجھے ہی کرنا پڑے گا۔۔

یہ میں کیا بول رہا ہوں رائتہ صفائی۔۔ یا اللّٰہ مجھے ہمت دینا۔۔

وجاہت خود ہی بول کر اپنے ہی الفاظوں پر حیران ہو رہا تھا۔۔

گاڑی سے اتر کر وہ گھر کے اندر داخل ہوا گھر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔۔

سب اپنے اپنے کمروں میں ہونگے وجاہت تھوڑا شکر ادا کرتا سیدھے اپنے کمرے میں گیا ۔۔۔

8 بجنے والے تھے شام میں جب وہ گھر آیا اور گیا کسی نے اسے نہیں دیکھا تھا ۔۔

اور اب اسے آنے میں کافی دیر ہوگئی تھی کھانے کا وقت ہورہا تھا تو اس نے کپڑے لئے اور واشروم میں چلا گیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

دادو مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔ بولو کیا۔۔؟؟

ہانیہ نے نیلم اور ہادی کے بارے میں بات کرنے کیلئے سوچا

گھر میں سب سے قریب وہ دادو سے ہی تھی ان سے وہ اپنے دل کی ہر بات بہت آرام سے کرلیا کرتی تھی۔۔

بولو میری جان پوچھنے کب سے لگی تم۔۔

دادو کے پیار سے بولنے پر ہانیہ بولنے ہی لگی تھی کہ ہادی دھڑام سے کمرے میں آگیا۔۔

لو جی آپ دونوں یہاں ہو ۔۔

ہادی جوش سے بولا۔۔

نہیں ہم مارس پر ویکیشن کیلئے آئے ہیں تم نے ہمیں ڈھونڈا کیسے۔۔

ہانیہ نے فوراً ہی جواب دیا۔۔

ہادی اور دادو دونوں ہانیہ کو دیکھ رہے تھے کیونکہ ہانیہ کبھی کسی کو فٹ سے جواب نہیں دیتی تھی۔۔

دونوں کی نظر خود پر دیکھ کے ہانیہ سٹپٹا گئی۔۔

سوری آپ لوگوں کو میرا یوں بولنا برا لگا کیا۔۔

ہانیہ روہانسے لہجے میں بولی۔۔

ہادی کا تو قہقہہ ہی نکل گیا۔۔

لو جی ہم یہاں حیران ہیں کہ ہانی میڈم بھی لوگوں کو چت کرنا جانتی ہیں اور آپ ہیں کہ ڈر گئی۔۔

ہادی کی بات پر دادو بھی مسکرا دیں۔۔

بیٹا ہمیں کیوں برا لگے گا بلکہ اچھا لگا ۔۔

دھیرے دھیرے ہی سہی تم اپنے خول سے باہر آرہی ہو زندگی کی طرف اور یہ تبدیلی بہت بھلی لگ رہیں ہے ہم سب کو۔۔

دادو نے پیار سے ہانیہ کے سر پر ہاتھ پھیر کے کہا۔۔

ہاں جی اور لگتا ہے یہ تبدیلی میری وجہ سے آرہی ہے۔۔

ہادی فرضی کالر اٹھا کے بولا تو ہانیہ بس مسکرا دی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ تبدیلی تو کسی اور کی وجہ سے تھی۔۔

اچھا ہانی بیٹا بولو تم کچھ بول رہی تھی۔۔

کچھ نہیں دادو ہم بعد میں بات کریں گے۔۔

ہانیہ نے دادو کو ٹال دیا ہادی کے سامنے فلحال وہ بات نہیں کر سکتی تھی۔۔

چلو پھر باہر چلیں سب مام نے بلایا ہے ڈنر کیلئے۔۔

ہادی یہ بول کے باہر چل دیا ہانیہ دادو کو لئے ڈائننگ ہال کی طرف بڑھ گئی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

گرے ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر پہنے وجاہت بہت لائٹ فیل کر رہا تھا۔۔

ڈنر کا ٹائم ہوگیا تھا تو وہ نیچے چل دیا

ڈائیننگ ٹیبل پر صرف عالیہ بیگم اور شان صاحب ہی بیٹھے تھے وجاہت نے ان دونوں کو سلام کیا اور آج بھی وہ عالیہ بیگم کے برابر میں جاکر بیٹھ گیا تاکہ ہانیہ آج بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھے۔۔

خیریت بیٹا جی بہت پیار نہیں آرہا آپ کو اپنی مام پر ۔۔

شان صاحب شرارتی انداز میں بولے۔۔

ایسا کیوں کہہ رہے ہیں آپ ڈیڈ۔۔

وجاہت حیرانی سے شان صاحب کو دیکھنے لگا۔۔

کچھ نہیں تم کبھی اپنی مام کے ساتھ بیٹھتے نہیں تھے کیونکہ کوئی تمہیں ممیز بوائے نہ کہہ دے۔۔

شان صاحب ہنسے ہوئے بولنے لگے تو وجاہت بھی مسکرا دیا ۔۔

کیا ڈیڈ آپ بھی نہ کچھ بھی ۔۔

وجاہت کو اتنے عرصے بعد مسکراتا ہوا سب دیکھ رہے تھے۔۔

ہانیہ بھی دادو کو لے کر آئی تو وجاہت کو مسکراتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔

بھوری آنکھیوں میں الگ ہی چمک تھی جو سب نے محسوس کی تھی۔۔

وہ خوبصورت تھا مگر ہنستے ہوئے وہ کسی کا بھی دل بے ایمان کر سکتا تھا ۔۔

ہانیہ نے بھی اس وقت اپنی ایک بیٹ مس کی تھی

کتنی مسحور کردینے والے مسکراہٹ تھی اس شخص کی جو مسلسل اپنے ڈیڈ سے بات کرتے ہوئے اب قہقہہ لگا رہا تھا۔۔

ہادی اور نیلم بھی ڈائیننگ ہال آگئے تھے ان دونوں کے آنے سے پہلے ہی ہانیہ وجاہت کے برابر والی چئیر پر بیٹھ گئی تھی۔۔

سب کے آنے کے بعد سب نے کھانا شروع کیا تو وجاہت نے اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالنے سے پہلے ہانیہ کو سرو کیا اور پھر اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگا۔۔

سبھی گھر والوں نے یہ تبدیلی دیکھی مگر کسی نے بھی کچھ نہیں کہا۔۔

آج کھانا سبھی نے بہت خوشگوار ماحول میں کھایا کیونکہ آج وجاہت بھی کافی خوش دکھائی دے رہا تھا اور سب سے بڑھ چڑھ کے بات کر رہا تھا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہال میں بیٹھے سب ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے موضوع حور میڈم تھی

سبھی اسکی بڑھتی ہوئی شرارتوں کے بارے میں بتا رہے تھے

حور سب کو ہنستا دیکھ خود بھی تالی بجا بجا کر سب کا دل لبھا رہی تھی ۔۔

ہانیہ نیلم سے کوئی بات کر رہی تھی اور حور اسے بلا رہی تھی ائے ائے کر کے مگر ہانیہ نے اس پر توجہ نہیں دی تو حور نے اسے مما کہہ کر بلایا۔۔

اب جب اس نے بولنا شروع کیا تو بولتی ہی گئی۔۔

مام مام۔۔ما

مام۔۔ما

ماما حور کی میٹھی سی آواز سن کے سبھی خاموشی سے اسے سننے لگے

حور نو ماہ کی ہونے والی تھی وہ یہ لفظ بھی بہت لیٹ بول رہی تھی عموماً بچے مما بابا 6 یا 7 ماہ میں بول دیتے ہیں مگر حور ایک تو پری میچیور بچی تھی اوپر سے بچپن میں بہت بیمار رہتی تھی

تو ڈاکٹر نے کہا تھا کہ یہ بولنا اور چلنا شاید لیٹ شروع کرے مگر 9 ماہ میں ہی اس نے بولا اور بولا بھی مما وہ بھی ہانیہ کو۔۔

ماما بول کے وہ ہانیہ سے لپٹ گئی ہانیہ اور وجاہت کو تو یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ انکی بچی نے بولنا شروع کیا ۔۔

وجاہت صوفے سے اتر کر نیچے گھٹنوں پر بیٹھا اور ہانیہ کی گود سے حور کو لیا۔۔

اور اسے ڈھیروں پیار کیا سبھی کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔۔

کسی کو بھی اتنی جلدی امید نہیں تھی کہ وہ بولے گی گھٹنے گھٹنے چلنا بھی اسنے 7 ماہ میں سیکھا تھا جبکہ بچے تو 5 6 ماہ میں گھٹنے چل جاتے ہیں۔۔

وجاہت نے حور کو پیار کیا اور ہانیہ کو دیکھا تو اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔

کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ وہ کیوں رورہی تھی۔۔

شاید وہ اس خوشی سے محروم تھی جو اب اسے مل رہی تھی۔۔

کسی اور کی اولاد نے اسے ماں کہا اسے ماں کا درجہ دیا۔۔

پہلے وجاہت نے اسے اپنایا پھر اب حور نے اسے ماں کہا۔۔

ہانیہ کا دل کر رہا تھا کہ وہ ابھی سجدہ ریز ہوجائے شکر ادا کرے اپنے رب کا جس نے اگر اسے دکھ دئیے تھے تو اب اسکی سوچ سے بھی بڑھ کر خوشیاں دے رہا تھا ۔۔

جس کی شاید ہی وہ قابل تھی۔۔

سب اپنی اپنی خوشی بانٹ رہے تھے اور ہانیہ تو مانو کسی گہری سوچ میں تھی وجاہت نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا تو اسکا سکتا ٹوٹا۔۔

رو کیوں رہی ہو ۔۔

وجاہت ہانیہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔۔

وہ خوشی میں یہ بات بھول ہی گیا کہ سب گھر والے وہیں موجود تھے۔۔

اور ان تینوں کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔

حور وجاہت کی دیکھا دیکھی ہانیہ کے چہرے پر ہاتھ پھیر رہی تھی جیسے وہ بھی آنسو صاف کرنا چاہتی ہو جو کہ وجاہت صافض کر چکا تھا۔۔

کچھ بھی نہیں بس ایسے ہی ۔۔

ہانیہ نے وجاہت کو اپنے سامنے گھٹنوں پر بیٹھا پایا تو سٹپٹا گئی۔۔

ہانیہ کو دیکھ کے وجاہت کو بھی اپنا احساس ہوا اور وہ وہاں سے اٹھ کر اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا۔۔

دادو نے اپنے گھر والوں کو اتنا خوش دیکھ کے اپنے انسو صاف کئے اور عالیہ بیگم سے کہا کہ سب کا منہ میٹھا کروائے۔۔

آج واقعی میں بہت عرصے بعد اس گھر میں خوشیاں آئی تھی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہانیہ حور کو گود میں لئے بیٹھی تھی اور اسے بار بار کہہ رہی تھی کہ بولو مما۔۔

اور حور بھی اسے دیکھ کے بولے جارہی تھی۔۔

تھوڑی دیر پہلے اسنے اپنی امی بابا فاخر سب کو کال کرکے بتایا تھا کہ حور نے سب سے پہلا لفظ بولا اور اسے ماما بولا۔۔

سب لوگ سن کے بہت خوش ہوئے۔۔

رات کا ایک بج رہا تھا مگر انہیں دیکھ کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ ماں بیٹی کا سونے کا کوئی ارادہ ہے۔۔

دروازہ کسی نے ناک کیا تو ہانیہ نے اسے اندر آنے کا کہا۔۔

آنے والا وجاہت تھا جو شاید پہلی بار ناک کر کے آیا تھا۔۔

آپ کب سے دروازہ ناک کرنے لگے۔۔

ہانیہ نے حیرت سے وجاہت سے سوال کیا۔۔

میں نے سوچا کہ ماں بیٹی کو ڈسٹرب نہ کردوں اسی لئے ناک کرنا بہتر سمجھا۔۔

وجاہت کے انداز پر ہانیہ مسکرا دی ۔۔

وجاہت چلتا ہوا بیڈ پر آکر ایک کروٹ لیٹ گیا سر ہاتھوں پر ٹکائے نظریں ہانیہ کے چہرے پر مرکوز کئے۔۔

ایک بات پوچھوں۔۔

وجاہت نے کچھ سوچ کے کہا۔۔

ہمم۔۔

تم باہر سکتے میں کیوں بیٹھی تھی ۔۔

وجاہت نے اسکے ہمم کہنے پر سوال کیا۔۔

پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا پھر مجھے اس بات کا بھی ڈر تھا کہ آپ کو برا نہ لگے

حور آپکی بیٹی ہے پر اس نے مجھے ماما کہا تو مجھے لگا آپ برا مانیں گے۔۔

ہانیہ تھوڑا ڈرتے ہوئے بولی اسے وجاہت کا رویہ یاد آنے لگا جب وہ آئرلینڈ سے واپس آیا تھا اور حور کا اسکے پاس نہ جانا اسے بہت برا لگا تھا۔۔

پھر وجاہت نے حور کا سارا غصہ ہانیہ پر نکالا تھا۔۔

ہانیہ کا ڈرا ہوا لہجہ سن کے وجاہت اسکی سوچ کو پڑھ چکا تھا۔۔

میں جانتا ہوں تم کیا سوچ رہی ہو مگر میں غلط تھا ۔۔

میں نے جو کیا وہ بھی غلط تھا

حور جتنی میری بیٹی ہے اتنی ہی تمہاری بھی ہے یا یوں کہو تو غلط نہ ہوگا کہ حور پر مجھ سے زیادہ تمہارا حق ہے۔۔

تم نے ہی اسے سنبھالا اسکا خیال رکھا راتوں کو جاگی نیندیں خراب کی دن رات اس پر صرف کر دئیے۔۔

اور لبوں سے تمہارے اف بھی نہ نکلا۔۔

نور اگر زندہ ہوتی تو یہ سب کبھی نہ کرتی

ایسے ہی تھوڑی میں نے پہلی ہی نظر میں تمہیں اپنی بیٹی کیلئے چنا۔۔۔

تمہارے اندر میں نے اپنی بیٹی کیلئے محبت دیکھی تھی ایک انجانی تڑپ دیکھی تھی ۔۔

اور ویسے بھی اب تو تمہارا جتنا حق ہماری بیٹی پر ہے اس سے تو کہیں زیادہ حق بیٹی کے باپ پر ہے۔۔

اخری بات وجاہت نے خاصی شرارتی لہجے میں کہی۔۔

ہانیہ جو مبہوت ہوکر وجاہت کی باتیں سن رہی تھی اب اس کے شرارتی انداز پر سرخ ہوگئی۔۔

وجاہت اسے ہی دیکھ رہا تھا ہانیہ کا سرخ ہوتا چہرا دیکھ کے دل کیا کہ چھولے مگر جیسے ہی وجاہت نے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔

حور نے وجاہت کا ہاتھ پکڑ لیا وجاہت جو شوخ ہورہا تھا حور کی اس حرکت پر حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔۔

ہانیہ کا وجاہت کی شکل دیکھ کے ایک دم قہقہہ نکل گیا۔۔

وہ ہونقوں کی طرح حور کو دیکھ رہا تھا جو اب وجاہت کو ہاتھ پکڑ کے اس ہاتھ پر ہی بیٹھ گئی تھی ۔۔

ہانیہ کو مسکراتا دیکھ کے وجاہت بھی ہنسنے لگا۔۔

تمہیں پتہ ہے دادو نے جب میرے روم میں کام کروایا تھا تو تمہیں میرے برابر والے روم میں شفت ہونے کا کیوں کہا تھا۔۔

وجاہت نے اب ہانیہ کا ہاتھ تھام کے بولا حور کو کھلونے دے کر وہ اسے اپنے اور ہانیہ کے بیچ سے ہٹا چکا تھا۔۔

ہاں کہا تو تھا مگر آپ اس وقت مجھے دیکھنا تک پسند نہیں کرتے تھے میرا آپ کے برابر والے کمرے میں رہنا کہا برداشت کرتے۔۔

ہانیہ اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی۔۔

وجاہت نے ایک بار پھر اسکا ہاتھ تھاما اور اسے دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے دوبارہ ہاتھ چھڑایا تو اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ کے ساتھ ہی باندھ لے گا۔۔

ہانیہ اسکی بات پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔

چھوڑو اس بات کو تمہیں پتہ ہے دادو نے وہی کمرہ کیوں چنا تھا تمہارے لئے۔۔

وجاہت نے پھر ہانیہ سے سوال کیا۔۔

نہیں مجھے نہیں معلوم۔۔

آپ بتائیں۔۔

ہانیہ نے معصومیت سے کہا۔۔

اس کمرے میں ایک دروازہ ہے جو کہ میرے کمرے میں آنے کا راستہ ہے۔۔

دادو چاہتی ہیں کہ ہم ساتھ میں رہیں۔۔

تو اب جلد ہی تم میرے کمرے میں شفٹ ہوجاؤ گی اور برابر والے کمرے میں حور کا کمرہ ہوگا۔۔

تاکہ ہم ساتھ میں رہ کر اپنی بیٹی کا بھی خیال رکھیں ۔۔

وجاہت نے بولتے ہوئے ہانیہ کی گود میں سر رکھ لیا۔۔

ہانیہ دل میں سوچنے لگی کہ یہ لاڈ صاحب باتوں باتوں میں کچھ زیادہ ہی قریب نہیں آرہے۔۔

وجاہت بھی اسے یوں تکتا ہوا پاکر دل ہی دل میں ہنسنے لگا وہ جانتا تھا ہانیہ کیا سوچ رہی ہوگی اس کے بارے میں مگر فکر کس کو تھی۔۔

حور نے جب کھلونوں سے کھیلتے ہوئے وجاہت اور ہانیہ کو دیکھا تو کھلونے پھینک کر ہانیہ کے پاس آئی۔۔

اور وجاہت کو اپنے ننھے ہاتھوں سے ہٹانے لگی ہانیہ کی گود سے۔۔

وجاہت جیسے ہی اٹھا حور خود ماما ماما کہہ کر کر ہانیہ کی گود میں لیٹ گئی۔۔

مجھے لگتا ہے مجھے پیرس اپنی گڑیا کو یہی چھوڑ کر جانا پڑے گا اگر یہ ایسے ہی مجھے اپنی ماما سے دور کرنے گی تو۔۔

وجاہت شرارت سے کہتا ہوا حور کو پیار کرکے جانے لگا مگر پھر واپس آیا اور پیار سے ہانیہ کا گال چوم کر چلا گیا۔۔

جبکہ ہانیہ اپنے گال کو چھوکر وجاہت کو جاتا ہوا دیکھتی رہ گئی۔۔

کتنا پیارا شخص ہے یہ جو اپنی ہر ادا سے مجھے یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کے دل میں میری کیا اہمیت ہے۔۔

ہانیہ سوچ کر مسکرادی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *