Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episdoe 09)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episdoe 09)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
وجاہت تیزی سے گھر سے نکلنے لگا اتنے میں پیچھے سے شان صاحب نے اسے آواز دی۔۔
وجاہت کہاں جارہے ہو رات کو ٹائم دیکھا ہے ۔۔
ڈیڈ میں ہانیہ کو لینے جارہا ہوں حور بلکل بھی نہیں رہ رہی ہے اس کے بغیر مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا اور کوئی بھی میری مدد نہیں کر رہا۔۔
وجاہت نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔۔
تو بیٹا یہ فیصلہ بھی تو تمہارا ہی تھا۔۔
شان صاحب نے بھی سب کی طرح بہت آرام سے وجاہت پر چوٹ کی۔۔
غلطی ہوگئی ڈیڈ دماغ خراب ہوگیا تھا آپ سب نے مل کر اچھے سے ٹھکانے لگا دیا۔۔
وجاہت کو اس طرح غصے سے بولتا دیکھ شان صاحب کو اپنے بیٹے پر ترس بھی آیا اور پیار بھی۔۔
وجاہت میرے بیٹے ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کوئی کسی کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہر کسی کا ہر انسان کی زندگی میں الگ کردار ہوتا ہے ۔۔
جیسے ہانیہ تمہاری جگہ نہیں لے سکتی حور کی زندگی میں ویسے ہی تم بھی اسکی جگہ نہیں لے سکتے۔۔
شان صاحب کو پیار سے بات کرتا دیکھ وجاہت بھی تھوڑا ٹھنڈا پڑا۔۔
ڈیڈ بس مجھے غصہ آگیا تھا میں نے نور کو کھو دیا اسے واپس نہیں لا سکتا مگر نور کی چھبی کو خود سے دور دیکھا تو برداشت نہ ہوا۔۔۔
شان صاحب اسے صوفے پر بٹھا کے خود اسکے ساتھ بیٹھ گئے۔۔
میں جانتا ہوں تم نور سے کتنی محبت کرتے تھے مگر بیٹا وہ اس دنیا میں اب نہیں ہے۔۔
تمہاری بیوی اب ہانیہ ہے اس کا بھی تو تم پہ حق ہے نہ۔۔
اب میں آپ کو کیسے بتاؤ کے ہم دونوں کا ہی ایک دوسرے پر کوئی حق نہیں۔۔
وجاہت نے دل میں سوچا۔۔
ڈیڈ ہانیہ سے شادی کرنا میری مجبوری تھی بس۔۔
وجاہت نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔۔
تو پھر شادی کیوں کی اسے دیکھ بھال کیلئے بھی تو رکھ سکتے تھے نہ۔۔
شان صاحب نے وجاہت کو دیکھ کے کہا۔۔
بابا اگر اسے صرف دیکھ بھال کیلئے رکھتا تو کل کو وہ حور کو چھوڑ کے جاسکتی تھی۔۔
آپ نے دیکھا ہے نہ اسے وہ کم عمر کم عقل اور معصوم ہے اپنے احساسات تک تو وہ چھپا نہیں سکتی اپنے چہرے سے اور ہے کتنی کیوٹ کوئی بھی لڑکا اسے اپنا ہمسفر بنانا چاہتا۔۔
وہ اس عمر میں ہے کہ کسی کی بھی محبت کو وہ دل سے اپنا لیتی وہ 24 سال کی ہونے والی ہے مگر میچورٹی نام کی نہیں ہے اس میں۔۔
اسی وجہ سے اس کا ڈائیورس ہوا ہوگا اتنی کم عقل ہے سنبھالتی کیسے اپنے رشتے کو اور مجھے تو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ اسکے گھر والوں نے اسکی شادی اتنی کم عمر میں کر کیسے دی تھی۔۔
وجاہت بے دھیانی اور غصے میں اتنا کچھ بول گیا۔۔
اور شان صاحب صرف اسکی بات پر مسکرا رہے تھے۔۔
آج پہلی بار وجاہت کے منہ سے انہوں نے ہانیہ کے بارے میں کچھ سنا تھا۔۔
شان صاحب کو ہنستا دیکھ وجاہت تھوڑا سنبھل گیا۔۔
میرا وہ سب کہنا کا وہ مطلب نہیں تھا جسے سن آپ ہنس رہے تھے۔۔
وجاہت نے شکایتی نظروں سے شان صاحب کو دیکھا۔۔
بیٹا ہانی کے پاسٹ میں کیا ہوا اس میں میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں میں بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ ایک بہت پیاری اپنے رشتوں سے محبت کرنے والی اور بہت صابر بچی ہے جو کچھ اس کے ساتھ ہوا وہ اسکا نصیب تھا۔۔
مگر تم خود کہتے ہو کہ وہ اتنی اچھی ہے کہ کوئی بھی لڑکا اسے اپنانا چاہتا اور بے شک وہ اس سے محبت بھی کرتا شاید بے شمار۔۔
مگر تم ۔۔ تم کیا کر رہے ہو۔۔
اس لڑکی کے تمام احساسات کا گلہ گھونٹ رہے ہو تم اپنی بیٹی کیلئے اس لڑکی کو کیوں سزا دے رہے ہو
زرا سوچو جب وہ اتنی اچھی ماں بن سکتی ہے تو وہ ایک اچھی بیوی بھی ثابت ہوگی۔۔
شان صاحب کی باتوں کو وجاہت اور سن نہیں پایا کیونکہ وہ سچ کہہ رہے تھے اور سچ تو ہوتا ہی کڑوا ہے۔۔
ڈیڈ مجھے ہانیہ کو لینے جانا ہے میں نے آدھے گھنٹے کا کہا تھا وہ میرا ویٹ کر رہی ہوگی۔۔
ٹھیک ہے بیٹا جاؤ مگر میری باتوں پر غور ضرور کرنا ورنہ ایسا نہ ہو کل کو تمہیں پچھتانا پڑھ جائے۔۔
وجاہت شان صاحب کی بات سن کے رکا نہیں بلکہ باہر کی طرف بڑھ گیا بغیر کوئی جواب دیئے۔۔
جبکہ شان صاحب اپنے بیٹے کو تاصف سے دیکھتے رہ گئے ۔۔











ہانیہ کافی دیر سے وجاہت کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔
آدھا گھنٹہ کب کا گزر گیا تھا۔۔
ہانیہ نے اپنا سارا سامان پیک کرلیا تھا مگر وجاہت نہیں آیا۔۔
کہیں انہوں نے میرے ساتھ مزاق تو نہیں کیا مجھے تنگ کرنے کیلئے۔۔
ہانیہ نے سوچا اور واپس اوپر اپنے کمرے میں جانے لگی کہ گاڑی کے رکنے کی آواز آئی ہانیہ فوراً سے دروازے تک گئی اور دروازہ کھولا۔۔
وجاہت بلو ٹراؤزر کے ساتھ وائٹ ٹی شرٹ پہنا ہوا تھا فارمل سے لک میں بھی وہ بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔
ٹی شرٹ کی آستینوں سے اسکے سفید کسرتی بازو جھلک رہے تھے۔۔
ہانیہ ایک منٹ تو اسے دیکھے گئی۔۔
وجاہت گاڑی سے اترا اور ہانیہ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔۔
ہانیہ ابھی بھی وجاہت کو ویسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
میں جانتا ہوں میں بہت ہینڈسم ہوں مگر اتنا مت دیکھو کہیں نہیں جارہا میں ساری زندگی پڑی ہے مجھے دیکھنے کیلئے ابھی گھر چلو۔۔
ہانیہ کی نظریں مسلسل خود پر دیکھ کے وجاہت ہلکی مسکراہٹ لئے بولا۔۔
یہ سن ہانیہ چونک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔
میں تو بس یہ دیکھ رہی تھی کہ آپ کسی بھی طرح سے ڈرائیور نہیں لگ رہے ۔۔
حالانکہ مجھے تو اب یہاں ڈرائیور ہی لینے آنے والا تھا۔۔
ہانیہ کے طنز پر وجاہت نے اسے گھوری سے نوازا ۔۔
چلو یہاں سے ۔۔
وجاہت نے حکم جاری کیا۔۔
ابھی ہانیہ کچھ جواب دیتی سعید صاحب وہاں آگئے۔۔
ارے بیٹا آگئے آپ ۔۔
اسلام علیکم انکل ۔۔ جی بس وہ حور نہیں رہ رہی ہانیہ کے بغیر میں نے ہانیہ سے کہا بھی کہ میں حور کو لے آتا ہوں اسے تم وہیں رکھ لو
مگر ہانیہ نے کہا نہیں آپ مجھے لینے آجائیں۔۔
وجاہت نے صاف جھوٹ بولا اور ہانیہ بس وجاہت کو گھور کر رہ گئی۔۔
ہانیہ کا چہرا دیکھ وجاہت کو ہنسی آئی مگر وہ ضبط کر گیا۔۔
ہانیہ کے ڈرائیور والے طنز کا وجاہت نے اسے اچھے سے جواب دیا۔۔
کوئی بات نہیں بیٹا اب رات بڑھتی جارہی ہے آپ لوگ جائیں۔۔
سعید صاحب نے گھڑی میں ٹائم دیکھ کے کہا۔۔
ٹھیک ہے انکل پھر اجازت دیں ہانیہ پھر آجائے گی آپ لوگوں سے ملنے۔۔
وجاہت نے مودبانہ انداز میں کہا۔۔
جی بلکل بیٹا جیسا آپ لوگوں کو سہولت ہو۔۔
سعید صاحب نے مسکرا کے جواب دیا۔۔
ہانیہ اپنے بابا سے مل کر وجاہت کے ساتھ گھر کیلئے روانہ ہوگئی۔۔












بھئی کوئی ہے گھر میں یا سوگئے سب۔۔
کوئی چلاتے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔۔
شان صاحب اپنی اسٹڈی سے نکل کر اپنے روم کی طرف جارہے تھے۔۔
اچانک کسی کی آواز پر پلٹے اور ہادی کو دیکھ کے جاندار قہقہہ لگایا۔۔
ہادی میرے بچے تم آگئے۔۔
وجاہت اور ہادی ایک ساتھ پلے بڑے تھے مگر دونوں کی شخصیت میں زمین آسمان کا فرق تھا۔۔
وجاہت جتنا سنجیدہ تھا اتنا ہی ہادی شوخ اور چنچل سا تھا۔۔
گھر بھر کی رونق تھا وہ جب بھی آتا پورا عالم ولا جھوم اٹھتا تھا ہسی اور قہقہوں سے۔۔
جی انکل میں آگیا۔۔
کہاں ہیں سب بلائیں۔۔
ہادی اتنی زور زور سے بول رہا تھا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے اپنے کمروں سے باہر آگئے۔۔
ہادی سب سے پرجوش ہوکر ملا۔۔
انکل وجی کہاں ہے۔۔
ہادی نے سب کو دیکھا مگر وجاہت وہاں نہیں تھا۔۔
ابھی شان صاحب کچھ کہتے کہ گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔۔
لو آگیا وجاہت۔۔
شان صاحب نے مسکرا کے کہا۔۔
ہادی کو شرارت سوجھی اور وہ گیٹ کے پیچھے چھپ گیا۔۔
وہ سمجھا وجاہت اکیلا آئے گا پر جیسے ہی ہانیہ اندر داخل ہونے لگی ہادی کسی جن کی طرح نمودار ہوگیا۔۔
بھاؤؤ۔۔۔
ہادی زور سے چلایا تو ہانیہ ایک دم ڈر کے پیچھے ہونے لگی اور پیچھے ہوتے ہوئے اسکا پیر مڑ گیا
وہ گر ہی جاتی کہ ہادی نے فوراً اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
اگلے ہی پل ہانیہ ہادی کا ہاتھ پکڑ کے پھر سے کھڑی ہوگئی مگر یہ سب وجاہت کی نظروں سے نہ چھپ سکا۔۔
ہانیہ ہادی کو دیکھنے لگی کہ یہ کون ہے بھلا۔۔
ہانی یہ ہادی ہے یہ ایسا ہی ہے بہت شرارتی ہے تم برا نہیں ماننا اسے لگا وجاہت ہوگا۔۔
پیچھے سے دادو نے ہانیہ سے کہا۔۔
ہانیہ ہادی کو سلام کر کے آگے بڑھ گئی ہادی نے بھی اس کے سلام کا جواب دیا۔۔
وجاہت نے گلا کھنکارا۔۔
ہادی نے اب وجاہت کو دیکھ کے اسکے گلے لگ گیا۔۔
کیسا ہے بھائی۔۔
ہادی خوشی سے ملا۔۔
میں ٹھیک تم تو کل آنے والے تھے نہ۔۔
وجاہت نے بھی اب خوشی سے جواب دیا۔۔
اگر کل آتا تو سب کو یہ سرپرائز کیسے دیتا۔۔
ہادی چہک کر بولا۔۔
ارے بیٹا ساری باتیں کھڑے کھڑے کروگے کیا۔۔
یہاں آکر بیٹھو۔۔
عالیہ بیگم نے ہادی اور وجاہت کو اندر آنے کا کہا۔۔
ہانیہ اپنا سامان لئے حور کے کمرے کی طرف چل دی۔۔
دادو یہ کیوٹ سی لڑکی کون تھی۔
ہادی نے ساجدہ بیگم سے سوال کیا۔۔
ساجدہ بیگم نے کن آنکھیوں سے وجاہت کو دیکھا۔۔
جو ہادی کی بات پر ہادی کی پیٹھ کو گھور رہا تھا ۔۔
وجاہت پیچھے کھڑا تھا جبکہ ہادی دادو کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تھا۔۔
بیٹا وہ ہانی ہے۔۔
دادو نے جان بوجھ کے ہانیہ کا پورا تعارف ہی نہیں کروایا۔۔
واؤ۔۔ دادو کتنا پیارا نام ہے ہانی کیوٹ ہے بلکل ان محترمہ کی طرح۔۔
ہادی کی بات پر وجاہت کو تھوڑا غصہ آیا۔۔
ہانی نہیں ہانیہ۔۔
مسز ہانیہ وجاہت عالم۔۔
بیوی ہے میری۔۔
