Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull NovelR50631 Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 43)
Rate this Novel
Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 43)
Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull
ارے ہانی بیٹا تم آج اتنی صبح کیوں جاگ گئی۔۔
دادو نے آج ہانیہ کو صبح صبح اپنے کمرے میں دیکھا تو بولیں۔۔
کچھ نہیں دادو بس آنکھ کھل گئی نماز پڑھ کر نیند نہیں آئی تو آپ کے پاس آگئی آپ بھی تو نہیں سوتیں نہ فجر کے بعد۔۔
ہانیہ دادو کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی۔۔
چلو اچھا کیا ۔۔ وجاہت تو سورہا ہوگا ابھی۔۔
دادو نے اپنی تسبیح سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔۔
جی دادو وجاہت دیر سے سوئے تھے کل حور سونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی تو وجاہت اسے اسکے کمرے میں لے گئے تھے۔۔
پتہ نہیں وہ لوگ کب سوئے ہونگیں۔۔
ہانیہ نے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ہانیہ کا اترا چہرا دیکھ کے دادو نے اس سے سوال کیا۔۔
ہانی میری جان کیا ہوا ہے کوئی پریشانی ہے کیا؟ دادو نے فکرمندی سے پوچھا۔۔
پریشانی تو نہیں ہے دادو بس میری وجہ سے وجاہت کا کام بہت بڑھ گیا ہے۔۔
وہ پہلے آفس کے کاموں کو دیکھتے ہیں پھر مجھے اور حور کو میں نہیں دیکھتی وجاہت ایک گھنٹے بھی آرام کرتے ہوں
جب دیکھو کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے ہیں
دن میں ہمیں ٹائم دیتے ہیں تو رات کو جاگ کر اپنے آفس کا کام کرتے ہیں پھر نیلم کی شادی کی تیاریاں چل رہی ہیں وہ بھی وجاہت خود دیکھ رہے ہیں۔۔
مجھے ڈر ہے دادو وجاہت بیمار نہ پڑ جائیں
آپ کو پتہ ہے مجھے اپنا آپ ایک بوجھ سا لگنے لگا ہے وجاہت کے لئے۔۔
وہ میرا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ میں سمجھ ہی نہیں پاتی کہ کیسے انکا شکریہ کروں۔۔
میرا فرض ہے انکی خدمت کرنا مگر وہ مجھے کچھ کرنے ہی نہیں دیتے فارغ رہ رہ کر بھی میں کبھی اکتا جاتی ہوں ۔۔
ہانیہ روہانسے لہجے میں بولی تو دادو ہنس دیں۔۔
آپ ہنس کیوں رہی ہیں دادو ۔۔ ہانیہ کو لگا دادو اس پر ہنس رہی ہیں۔۔
میری جان یہی دن ہوتے ہیں شوہر سے خدمت کروانے کے اور اگر وہ تھوڑی بہت خدمت کر بھی رہے ہیں تو کیا ہوا بیوی بھی تو اپنی جان پر کھیل کہ انہیں انکا وارث دیتی ہے۔۔
نو مہینے ایک جان کو اپنے اندر پالنا کوئی آسان کام تھوڑی ہے چلنے پھرنے میں تکلیف ۔۔ بیٹھنے اٹھنے میں تکلیف یہ کتنا مشکل مرحلہ ہے ۔۔
اور میں یہ بھی کہوں گی کہ وہ بہت ہی خاص مرد ہوتے ہیں جو اپنی بیوی کا اس دوران بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔۔
ہانی میری جان یہ تو بس کچھ مہینوں کی بات ہے پھر ساری زندگی اپنے شوہر کی خدمت کرنا ابھی مزے کرو۔۔
دادو نے اتنے پیار سے سمجھایا کہ ہانیہ مسکرا دی ۔۔
آپ ٹھیک کہتی ہیں دادو بس میں وجاہت کیلئے فکرمند ہوں ۔۔
میرا پوتا بہت ہمت والا ہے ہانی وہ کسی کیلئے کچھ نہیں کرتا جب تک وہ دل سے کچھ کرنا نہ چاہے
اگر وہ تمہارے لئے کچھ کر رہا ہے تو تمہیں اندازہ ہونا چاہئے کہ اسکے دل میں تمہارا کیا مقام ہے۔۔
دادو مجھے ہمیشہ آپ سے بات کر کے بہت اچھا محسوس ہوتا ہے پلیز آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہنا اور مجھ سے ایسے ہی پیار کرنا۔۔
ہانیہ بچوں جیسے دادو کے ساتھ لگتے ہوئے بولی۔۔













وجاہت کی آنکھ کھلی تو دیکھا ہانیہ بیڈ پر نہیں تھی ۔۔ گھڑی میں ٹائم دیکھا جو کہ صبح کے چھ بجا رہی تھی۔۔
سن شائن!!! وجاہت نے ہانیہ کو آواز دی مگر کوئی جواب نہ آیا
اب تو وجاہت کی آنکھوں سے نیند ایسے غائب ہوئی جیسے وہ کبھی سویا ہی نہ ہو۔۔
اٹھ کر پہلے اسنے واشروم چیک کیا اور پھر حور کے کمرے کو مگر ہانیہ کہیں نہیں تھی۔۔
پھر اسنے کمرے سے باہر آکر لان میں دیکھا کیونکہ اکثر ہانیہ صبح کے وقت لان میں آجایا کرتی تھی چہل قدمی کیلئے۔۔
اب وجاہت کو ہانیہ کی فکر ہونے لگی وہ واپس اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا کہ دیکھا دادو کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا جب تھوڑا قریب جا کر دیکھا تو ہانیہ دادو کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔
وجاہت کمرے کے اندر داخل نہیں ہوا وہ سننا چاہتا تھا کہ ہانیہ جو آج کل اتنا چپ چپ رہنے لگی ہے اس کی وجہ کیا ہے
جب وجاہت نے ہانیہ کے پریشانی کا سبب سنا تو مسکرا دیا مگر پھر جب اسنے دادو کی باتیں سنی تو اس سے اپنا قہقہہ روکنا مشکل ہوگیا
یہ تو طے ہوگیا تھا کہ دادو ہانیہ کے آگے اسکی کبھی سائڈ نہیں لیں گی مگر انکا کہنا بھی ٹھیک تھا مرد اگر تھوڑی فکر کرتا ہے بیوی کی تو کونسا وہ کوئی احسان کر رہا ہے اسکی بیوی بھی تو اسے وارث دے رہی ہوتی ہے۔۔
وجاہت نے ان دونوں کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھا تو وہ اپنے کمرے میں چلا آیا وارڈروب سے کپڑے لئے اور واشروم کی طرف چل دیا۔۔
پھر فریش ہوکر تیار ہوا اور ملازم سے کہہ کر اپنا دادو اور ہانیہ کا ناشتہ دادو کے کمرے میں ہی منگوا لیا اور ایک ملازمہ کو حور کے پاس رہنے کی ہدایت دی کیونکہ حور سورہی تھی۔۔














اور جمشید تمہارا سویڈن کا ٹرپ کیسا رہا ۔۔
شان صاحب نے ناشتہ کرتے وقت جمشید صاحب سے بات کا آغاز کیا۔۔
ڈائیننگ ٹیبل پر اس وقت شان صاحب عالیہ بیگم، نیلم ، ہادی اور جمشید صاحب بیٹھے تھے وجاہت ہانیہ اور دادو ناشتہ کر چکے تھے۔۔
بہت اچھا رہا ٹرپ میں نے تو کہا تھا ساتھ چلو وہاں کا سیمینار بہت اچھا تھا۔۔
جمشید صاحب نے آملیٹ کا پیس کھاتے ہوئے کہا۔۔
ہاں میں چلتا مگر یہاں کچھ کام تھا۔۔
شان صاحب نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔۔
آپ لوگ ناشتہ کرلیں پھر آرام سے بیٹھ کر باتیں کر لیجیے گا۔۔
عالیہ بیگم جو ناشتہ کر چکی تھی انہیں کام کے متعلق بات کرتا دیکھ بولنے لگیں۔۔
ارے بھابھی بعد میں کہاں وقت ملے گا مجھے تو بہت سے کام ہیں شادی کی تیاری کرنی ہے اور آج ہی ہم اپنے فلیٹ میں شفٹ ہوجائیں گے۔۔
جمشید صاحب کے بولنے پر ہادی نے انہیں دیکھا پھر نیلم کو جو مزے سے ناشتہ کر رہی تھی۔۔
مگر پاپا شادی میں تو ابھی دو ہفتے ہیں۔۔ ہادی نے اپنے پاپا کو دیکھ کے کہا۔۔
اسی لئے تو کہہ رہا ہوں آج شفٹ ہونا ہے ہمیں پھر کل سے تیاری شروع کرنی ہے۔۔
جمشید صاحب نے مسکرا کے ہادی کو دیکھ کے کہا۔۔
ٹھیک ہے جیسا آپ لوگوں کو ٹھیک لگے۔۔
ہادی نے ہار مانتے ہوئے کہا














کیا ہوا آج آپ آفس نہیں جارہے۔۔؟؟ وجاہت کو صبح کے 10 بجے تک گھر میں دیکھا تو ہانیہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔۔
آج دل نہیں چاہ رہا ویسے بھی کوئی ضروری کام نہیں ہے آفس میں جبکہ آفس سے باہر مجھے ایک آدمی سے ملنا ہے جو کہ بہت ضروری ہے۔۔۔
وجاہت نے ہانیہ کو اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا۔۔
ہمم۔۔ ٹھیک ہے جو آپ کو ٹھیک لگے۔۔
ہانیہ بیٹھ گئی وجاہت کے ساتھ مگر وہ کسی سوچ میں گم لگی وجاہت کو۔۔
کیا سوچتی رہتی ہو سن شائن۔۔ وجاہت نے ہانیہ کا ہاتھ تھام کے کہا۔۔
کچھ بتانا تھا آپ کو۔۔
ہانیہ نے اب کے وجاہت کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔۔
ہاں بولو کیا کہنا چاہتی ہو۔۔
وجاہت نے ہانیہ کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا۔۔
اس دن ہوٹل میں جو آدمی میرے روم کے باہر کھڑا تھا وہ معظم تھے۔۔
ہانیہ نے ڈرتے ہوئے بتایا۔۔ وہ کوئی ویٹر کے طور پر آرڈر لینے نہیں آئے تھے بلکہ مجھے تنگ کر رہے تھے کہہ رہے تھے کہ میں نے انہیں چھوڑ کر آپ کو پھسا لیا۔۔
ہانیہ کے چہرے پر ایک درد تھا بولتے ہوئے وجاہت نے اسے دیکھتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کردی۔۔
انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ آپ کو میرے بارے آپ کو سب کچھ بتائیں گے میں نے کہا بھی کہ میں نے آپ سے کچھ نہیں چھپایا مگر۔۔
ہانیہ بولتے ہوئے رونے لگی تو وجاہت نے اسے چپ کروادیا۔۔
بس خاموش میں نے سنا تھا اس دن سب کچھ اسی لئے اسے پیٹا تھا۔۔
وجاہت نے ہانیہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
جب آپ نے سب سنا تھا تو اتنے غصے میں کہاں لے کر جارہے تھے آپ مجھے میری بات بھی نہیں سن رہے تھے
مجھے لگا تھا میں نے آپ کو کھو دیا اس دن۔۔
ہانیہ نے وجاہت کو حیرت سے دیکھ کے کہا۔۔
مجھے غصہ اس دن اس لئے آیا کیونکہ تم نے مجھ سے جھوٹ کہا تھا اور روکا تھا مجھے ورنہ میں اسے اسی دن اسے جان سے مار دیتا۔۔ وجاہت کوشش کے باوجود اپنے لہجے کو سخت ہونے سے روک نہیں پارہا تھا..
تمہیں رولانے والے کو میں اگلی سانس بھی لینے نہ دوں اور تم نے اس ذلیل انسان کو بچانے کیلئے مجھ سے جھوٹ کہا تھا۔۔
وجاہت نے سخت لہجے میں کہا۔۔
میں نے انہیں بچانے کیلئے جھوٹ نہیں کہا تھا۔۔ آپ اس وقت اتنے غصے میں تھے مجھے اندازہ تھا اگر میں آپ کو نہ روکتی تو آپ کچھ غلط کر دیتے اور میں نہیں چاہتی کہ آپ جیسا اچھا انسان کچھ بھی غلط کرے۔۔
ہانیہ نے وجاہت کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں لے کر کہا کیونکہ وہ غصے میں آچکا تھا اور ہانیہ کو اسے کچھ بھی کر کے اسکا غصہ ٹھنڈا کرنا تھا۔۔
آپ اچھے انسان ہیں وجاہت میں نہیں چاہتی آپ کبھی بھی کچھ غلط کریں کسی کے ساتھ بھی میری زندگی میں جو بھی ہوا وہ میری قسمت تھی
اور آپ یہ سوچیں نہ کہ اگر میرے ساتھ وہ سب کچھ نہیں ہوتا تو میں آپ کی زندگی میں کیسے آتی نہ معظم مجھے طلاق دیتے نہ لوگ میری دنیا تنگ کرتے مجھ پہ نہ مجھ میں حوصلہ آتا نہ میں نوکری کی تلاش میں آپ سے ملتی تو نہ میں آپکی زندگی میں ہوتی ۔۔
یہ کیوں نہیں سوچتے آپ کہ جو کچھ ہوتا ہے ہمارے بھلے کیلئے ہی ہوتا ہے ۔۔ ہانیہ نے بہت پیار سے نرم لہجے میں وجاہت کو سمجھایا۔۔
تو میں نے کب اسے کچھ کہا تھا یا اس کے ساتھ کچھ کیا تھا وہ خود ہماری زندگی میں واپس آیا ہے ہانیہ اور یہ اسکی غلطی تھی کہ وہ ہماری دنیا کو برباد کردے گا برباد تو میں کرونگا اسے اور اس طرح سے کرونگا کہ وہ دوبارہ ہماری زندگی میں جھانکنے کے بارے میں خواب میں بھی نہیں سوچے گا۔۔
وجاہت نے غصے میں کہا ہانیہ کیلئے اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا اسے اندازہ تھا جب بھی وہ وجاہت کو معظم کے بارے میں بتائے گی تو وہ ایسے ہی غصہ کرے گا۔۔
مگر اس کی سوچ سے زیادہ اس وقت وجاہت غصے میں تھا وہ ہانیہ کو تو کچھ نہیں کہہ رہا تھا مگر غصہ وہ کہیں نہ کہیں تو نکالتا اسی لئے ہانیہ کوشش کر رہی تھی کہ وہ اپنا غصہ یہیں ختم کردے۔۔
وجاہت کمرے سے جانے لگا تو ہانیہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا وجاہت ہانیہ کے روکنے سے رک گیا تو ہانیہ نے اسے گلے لگا لیا۔۔
پلیز ایسے نہ جاؤ ۔۔ التجا تھی ہانیہ کے لہجے میں کہ وجاہت چاہ کر بھی باہر نہیں جاسکا۔۔
پلیز آپ مجھ سے وعدہ کرو آپ کچھ بھی کسی کے ساتھ بھی غلط نہیں کروگے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچاؤ گے۔۔
ہانیہ نے التجائیہ انداز میں کہا ۔۔
وجاہت نے اسے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔۔ تم نے کچھ کھایا۔۔؟؟
وجاہت نے گہری سانس لے کر کہا۔۔
ہانیہ نے بے چارگی سے وجاہت کو دیکھا کہ کیسے اسکے وعدہ کرنے والی بات کو وہ پلٹ گیا۔۔
میں نے کچھ پوچھا ہے۔۔ وجاہت نے ہانیہ کو کوئی جواب نہ دیتے دیکھا تو کہا۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے ہانیہ نے وجاہت سے الگ ہوکر کہا۔۔
وجاہت نے اسے پھر سے اپنی گرفت میں لے کر دیکھا
میں وعدہ نہیں کر سکتا مگر کوشش کروں گا۔۔ اور تمہارے لئے فروٹس بھجوا رہا ہوں وہ کھا لینا اور ہاں ہر گھنٹے بعد جوس یاد سے پینا ورنہ ملازموں کی کلاس تو میں لونگا ہی تمہیں بھی بہت ڈانٹوں گا۔۔
ہانیہ کا چہرا ٹھوڑی سے تھام کے وجاہت نے کہا تو ہانیہ نے سر اثبات میں ہلا دیا۔۔
دیٹس مائی گرل۔۔ ہانیہ کا گال چوم کے وجاہت نے مسکرا کے اسکا روٹھا چہرا دیکھا۔۔
خیال رکھنا اپنا۔۔ کہہ کر وجاہت کمرے سے باہر چلا گیا۔۔
وعدہ پورا کرنا ہے یا نہیں یہ سوچنے وہ معظم کے پاس چل دیا۔۔
