Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 31)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

ہانیہ دادو سے مل کر اپنے کمرے میں جانے لگی اس سے پہلے ہی وجاہت نے اسے راستے میں روک لیا۔۔

کدھر جارہی ہو۔۔ لہجے میں سختی نہیں تھی مگر پیار بھی نہیں تھا۔۔

اپنے کمرے میں ہانیہ نے جان بوجھ کر صرف وجاہت کو چڑانے کیلئے اپنے اور حور کے پرانے مشترکہ روم کی طرف قدم بڑھا دئیے۔۔

وجاہت نے ایک نظر ادھر اُدھر دیکھا اور پھر بغیر کچھ کہے ہی ہانیہ کو اپنے بازوؤں میں اٹھا لیا۔۔

ہانیہ پہلے تو حیران ہوئی مگر پھر وجاہت کو دیکھ کر اسنے اپنی ہنسی کو بہت مشکل سے روکا۔۔

وجاہت سپاٹ چہرا لئے ہانیہ کو اٹھائے ہی اپنے کمرے میں لے کر گیا اسے بیڈ پر بٹھایا اور دروازہ لاک کرلیا۔۔

ہانیہ پہلے تو مسکرا رہی تھی مگر وجاہت کے دروازہ لاک کرنے پر گھبرا گئی۔۔

یہ اپنے دروازہ لاک کیوں کیا ہے؟

ہچکچاتے ہوئے ہانیہ نے پوچھا۔۔

تمہیں بہت شوق ہے نہ مجھ سے دور جانے کا تو اب تم میرے ساتھ اسی کمرے میں بند رہو گی تب تک جب تک میں چاہتا ہوں۔۔

اور یہ تمہاری سزا ہے ۔۔

بولتے ہوئے وجاہت ہانیہ کے برابر آکر بیٹھ گیا اور اسکے بالوں کی لٹ کو اپنی انگلی پر لپیٹنے لگ گیا۔۔

مگر دن میں اس وقت اچھا نہیں لگتا کسی نے دروازہ بجایا تو کوئی کیا سوچے گا کہ کیوں لاک کیا ہوا ہے۔۔

ہانیہ نے گھبراتے ہوئے کہا تو وجاہت نے انگلی پر لپٹی لٹ کو تھوڑا سا کھینچا جس پر ہانیہ سی کرتے ہوئے وجاہت کے اور قریب ہوگئی۔۔

تمہیں لگتا ہے سن شائن کے مجھے کسی کے سوچنے یا بولنے سے کوئی فرق پڑتا ہوگا۔۔

وجاہت نے سنجیدگی سے کہا اور ہانیہ کے چہرے کے اور قریب ہوگیا اتنا کہ اسکی گرم سانسیں ہانیہ کے چہرے کو چھو رہی تھی۔۔

ڈر سے ہانیہ نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں۔۔

کیا ہوا میری شدتیں برداشت نہیں ہوتی کیا تم سے۔۔ تلخ مسکراہٹ چہرے پر سجائے وجاہت نے ہانیہ کی بند آنکھوں کو دیکھ کے کہا۔۔

آپ کی صرف نظروں میں ہی اتنی تپش ہے جو کہ مجھے اندر سے جھلسا کے رکھ دیتی ہے۔۔

ہانیہ نے بغیر آنکھیں کھولے ہی وجاہت کو جواب دیا۔۔

لو ابھی سے گھبرا گئی۔۔ بے خود ہوتے لہجے کے ساتھ شہادت کی انگلی ہانیہ کے لبوں پر پھیرتے ہوئے وجاہت نے کہا۔۔

وجاہت۔۔ ہانیہ نے بہت دھیمے کہا۔۔

جی وجاہت کی سن شائن۔۔

اسی لہجے میں کہا گیا۔۔

پلیز۔۔ ہانیہ نے التجا کی اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔۔

ہانیہ کی حالت دیکھ وجاہت ایک پل کو مسکرانے لگا مسکراہٹ اتنی دلفریب تھی کہ ہانیہ نے آنکھ کھول کے دیکھا تو پھر دوبارہ آنکھ بند نہیں کرپائی۔۔

اپنی پیشانی ہانیہ کی پیشانی سے ٹکرا کر وجاہت نے ہانیہ سے تھوڑا فاصلہ قائم کیا۔۔

ایسے چیلنج مت دیا کرو جس میں تم لڑ بھی نہ سکو۔۔

اس بات پر ہانیہ نے حیرت سے وجاہت کو دیکھا جو اب مسکرا رہا تھا اسکی حالت بگاڑ کے اب وہ دشمن جاں مسکرا رہا تھا۔۔

اصل میں وجاہت نے ہانیہ کو اپنے پرانے کمرے میں جاتا دیکھ مسکراتے ہوئے دیکھ لیا تھا

اور سمجھ گیا تھا کہ وہ صرف وجاہت کو تنگ کرنا چاہتی ہے

تو وجاہت نے اس سے ٹھیک طریقے سے بدلا لیا۔۔

بہت برے ہیں آپ۔۔ وجاہت کو مسکراتا ہوا دیکھ ہانیہ اپنا سانس بحال کر کے بولی۔۔

مجھے برا بولنے پر اپنی سزا بھول گئی ہو کیا وجاہت نے ہانیہ کو اپنے قریب کھینچا اور اسے برا کہنے کی سزا دی۔۔

مگر اس سے الگ ہوکر وہ دروازے کی طرف بڑھا تو ایک دم مڑا اور ہانیہ کو دیکھنے لگا۔۔

غصے اور شرم سے سرخ چہرے کو دیکھ کے وجاہت کا دبہ دبہ سا قہقہہ کمرے میں گونجا۔۔

میں سوچ رہا ہوں کہیں تم جان بوجھ کر مجھے برا تو نہیں کہتی

کیا مطلب ہے آپکا۔۔ ہانیہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔

کیا پتہ تمہیں میری یہ سزا پسند ہو اسی لئے جان بوجھ کر برا بولتی ہو۔۔

وجاہت کو معنی خیزی سے مسکراتا دیکھ ہانیہ نے بیڈ پر پڑا کشن اٹھا کے وجاہت کی طرف پھینکا جسے وجاہت نے کیچ کرلیا۔۔

اب ایسا کروگی سچ سن کے ۔۔ ٹھیک ہے بھئی چلے جاتے ہیں یہاں سے۔۔

وجاہت دروازے کی طرف بڑھا تو ہانیہ نے اسے ایک دم روک دیا۔۔

وہ بلکل تیار کھڑا تھا یعنی کہی جارہا تھا مگر راستے کی تھکن تو اسے بھی ہوئی ہوگی یہ اسنے پہلے کیوں نہیں سوچا

ہانیہ کو سوچوں میں گم دیکھ کے وجاہت نے اسے آواز دی۔۔

سن شائن کیا ہوا آواز دے کر خیالوں میں گم ہو گئی۔۔

نہیں وہ آپ کہاں جارہے ہیں۔۔؟

ہانیہ نے وجاہت کو دیکھ کے پوچھا۔۔

آفس جارہا ہوں ڈیڈ وہاں ہیں تو دو گھنٹے بعد ان کے ساتھ ہی واپس آجاؤں گا۔۔

سائڈ ٹیبل کی دراز سے گاڑی کی چابی لیتے ہوئے وجاہت نے کہا۔۔

مگر آپ بھی تو تھک گئے ہونگے اتنے لمبے سفر سے تھوڑا آرام کر لیجئے۔۔

ہانیہ کا اسکے لئے فکر کرنا وجاہت کو بہت اچھا لگا۔۔

تمہیں دیکھ کے میری ساری تھکن اتر جاتی ہے ہانیہ کا ماتھا چوم کے وجاہت نے اسکا چہرا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔

بس دو گھنٹے میں واپس آجاؤں گا ڈیڈ میری جگہ کافی دن سے کام کر رہے ہیں

تم آرام کرو حور کو مام سنبھال لیں گی نیلم کو ہادی ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا ہے ۔۔

ڈنر پر ملاقات ہوگی۔۔ بولتے ہوئے وجاہت نے ہانیہ کو بیڈ پر لٹایا اور اس پر کمفرٹر ڈال کر کمرے سے نکلنے لگا کہ ایک بار پھر مڑا۔۔

ایک بات تو رہ ہی گئی۔۔

کھلے دروازے کو پکڑ کر وجاہت نے کہا تو ہانیہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔

میں ابھی بھی ناراض ہوں اور امید کرتا ہوں تم مجھے اچھے سے مناؤ گی۔۔

شریر سا مسکراتے ہوئے وجاہت نے ایک ونک ہانیہ کو پاس کی اور دروازہ بند کر کے چلا گیا۔۔

صدقے جاؤں ایسی ناراضگی کے۔۔

محبت سے ہانیہ نے دروازے کو دیکھ کے کہا جہاں سے ابھی ابھی وجاہت گیا تھا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

نیلم کو لے کر ہادی ہاسپٹل آیا تھا وہ بھی بہت مشکل سے۔۔

گھر پر تو وہ کچھ کھا نہیں رہی تھی کھالی پیٹ اسے دوائی دے نہیں سکتے تھے جبکہ بخار اسکا چڑتا اترتا جارہا تھا۔۔

وائرل فیور سے گلے میں کوئی انفیکشن نہ ہوگیا ہو یا اللّٰہ نہ کرے کوئی اور پرابلم نہ ہو تو اس نے سوچا کہ ڈاکٹر سے چیک اپ کروا لے۔۔

کوئی انفیکشن وغیرہ تو نہیں ہے بس ٹھنڈ کی وجہ سے بخار چڑھا تھا انہیں جو کہ اب انٹرنل ویکنس کی وجہ سے بار بار چڑھ رہا ہے ۔۔

مسئلے کی کوئی بات نہیں ڈائٹ کا خیال رکھیں گی اور ٹائم سے دوائی لیں گی تو ایک دو دن میں ٹھیک ہوجائیں گی۔۔

ڈاکٹر نے ہادی کو نیلم کا چیک اپ کرکے بتایا۔۔

ٹھیک تو تب ہونگی یہ محترمہ جب کچھ کھائیں گی اور کھالی پیٹ ہم دوا کیسے دیں۔۔

ہادی نے ایک نظر نیلم پر ڈال کر ڈاکٹر سے مخاطب ہوا۔۔

ڈاکٹر نے ایک نظر نیلم کو دیکھا جو معصوم سی شکل بنائے ہادی کو دیکھ رہی تھی پھر اسنے ہادی کو دیکھا جو فکرمند نظروں سے نیلم کو دیکھ رہا تھا ۔

دونوں کو دیکھ کے ڈاکٹر مسکرا دیں ۔۔

ٹھیک ہے اگر کچھ نہیں کھا رہی تو کوئی مسئلہ نہیں انہیں ہم ڈرپ لگا دیتے ہیں ایک ہاتھ پر اور دوسرے ہاتھ پر نس کے انجیکشن لگاتے رہیں گے تو یہ کل تک ہی ٹھیک ہوجائیں گی۔۔

ڈاکٹر کی بات سن کے نیلم کی سٹی گم ہوگئی۔۔

جبکہ ایک پل تو ہادی بھی پہلو بدل کے رہ گیا مگر جب اسنے ڈاکٹر کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو سمجھ گیا کہ ڈاکٹر بس نیلم کو ڈرانے کیلئے کہہ رہی ہیں

اصل میں ڈاکٹر ناز عالیہ بیگم کی بہت اچھی دوست تھی تو ان کی پوری فیملی کو اچھے سے جانتی تھی

ان کا عالیہ بیگم کے گھر انا جانا بھی کافی تھا۔۔

تو وہ ہادی اور نیلم کی انقریب ہونے والی انگیجمنٹ کے بارے میں بھی جانتی تھی۔۔

ٹھیک ہے ڈاکٹر اگر یہی آخری حل ہے تو یہی سہی

ہادی نے کمال اداکاری سے تاصف سے سر ہلا کے کہا۔۔

نہیں میں سب کچھ کھالو گی پرہیزی کھانا بھی اور دوائی بھی مگر پلیز انجیکشن نہیں۔۔

نیلم نے جھٹ ہادی کا ہاتھ تھام کے کہا تو ہادی نے اپنا امڈ آنے والا قہقہہ بہت مشکل سے روکا۔۔

ٹھیک ہے اگر تم کہتی ہو تو رہنے دیتے ہیں مگر گھر جاکر تم نے منع کیا تو ڈاکٹر گھر آکر پرنسس کو انجیکشن لگا دیجیے گا۔۔

ہادی کی بات پر ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا تو ہادی نیلم کو لئے ہاسپٹل سے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔۔

راستے میں اسنے دیکھا کہ نیلم سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔

کیا دیکھ رہی ہو۔۔ نیلم کو مسلسل خود کو تکتا پاکر وہ پوچھے بغیر رہ نہیں سکا۔۔۔

آپ ایسے کیوں ہیں ۔۔

نیلم کے کہنے پر ہادی نے گردم موڑ کر نیلم کو دیکھا۔۔

کیا مطلب میں کیسا ہوں۔۔

مجھے کبھی بھی کچھ بھی ہوتا ہے آپ اپنا سب کام کاج بھلائے میرے ساتھ رہتے ہو ہمیشہ سے میرا اتنا خیال رکھتے ہو میری اتنی فکر کرتے ہو

کیوں۔۔؟؟

نیلم کے اس انوکھے سوال پر ہادی مسکرانے لگا۔۔

یہ سوال اگر تم دو ہفتے پہلے کہتی تو کچھ سمجھ آتا مگر اب سب کچھ جاننے کے بعد۔۔۔

یعنی اب جبکہ میں اپنی محبت کا اعتراف کر چکا ہوں تم اب بھی یہ سوال کر رہی ہو۔۔

ہادی نے ایک نظر اسے دیکھ کے پھر سے راستے کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔

بس ایسے ہی دل کیا تو پوچھ لیا۔۔

ہادی کے جواب پر نیلم نے بس اتنا کہا۔۔

جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ یار اب تو تمہارا وہ سڑا ہوا بھائی بھی آگیا ہے مجھے اس سے بات کرنی ہے۔۔

اور ہاں ایک بات تو میں تمہیں بتانا ہی بھول گیا۔۔

بریک پر پیر رکھ کے ہادی نے سائڈ پر گاڑی روک کے کہا۔۔

کیسی بات۔۔ نیلم پوری توجہ سے ہادی کو دیکھ کے بولی۔۔

یہی کہ میں وجاہت سے ہماری منگنی کی نہیں بلکہ سیدھے شادی کی بات کرونگا۔۔

ہادی نے اتنے عام سے لہجے میں کہا مگر نیلم اسے ہکا بکا دیکھنے لگی۔۔

مگر اتنی جلدی۔۔ نیلم نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔

جانتا ہوں تھوڑی جلدی ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ ہم دونوں جلد از جلد ایک مضبوط اور پاک رشتے میں بندھ جائیں

دیکھو نیلم میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو۔۔

اب جب میاں بیوی راضی کو کیا کہے گا وجی۔۔

گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کرکے ہادی نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے نہ ویسے۔۔

ہادی نے نیلم کو دیکھ کے کہا۔۔

نیلم نے کوئی جواب نہ دیا ہاں مگر سائڈ مرر سے ہادی نے نیلم کا مسکراتا ہوا گلنار چہرا دیکھ لیا

یعنی کے ہاں ہے ۔۔ شرارت سے بولتے ہوئے اس نے ایک بار پھر گاڑی اپنی منزل کی طرف بڑھا دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *