Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mile Tumse Kuch Is Tarha (Episode 15)

Mile Tumse Kuch Is Tarha by Parishay Gull

وجاہت کو اپنا پلان دیہان سے ترتیب دینا تھا اور اس کیلئے ضروری تھا کہ وہ سب کو یہ یقین دلائے کہ آیا وہ واقعی کام سے جانا چاہتا ہے وہ بھی اکیلے

مگر ہادی بھی تو ساتھ ہی کام کرتا ہے اسے کیا کہوں گا۔۔

وجاہت ایک بار پھر سوچ میں پڑگیا۔

کچھ سوچ کر وہ اٹھا اور ہادی کے کیبن کی طرف گیا۔۔

ہادی لیپ ٹاپ میں اپنے عادتوں کے برعکس آج خاموشی سے کام میں مصروف تھا۔۔

وجاہت بغیر ناک کئے اسکے کیبن میں داخل ہوا اور ٹیبل کے ساتھ رکھی ہوئی چئیر پہ بیٹھ گیا۔۔

ہادی نے جیسے ہی وجاہت پر نظر اٹھا کے دیکھا تو اسکو پیپر ویٹ پر نظریں جمائے دیکھا۔۔

کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟

ہادی نے لیپ ٹاپ بند کر کے وجاہت کو غور سے دیکھا۔۔

کچھ نہیں میں سوچ رہا ہوں پیرس چلا جاؤں وہاں میں سوچ رہا ہوں کہ مشہور برانڈ کی کمپنی کے شئیر بک رہے ہیں وہ خرید لوں

مگر پہلے میں وہاں تھوڑا سٹے کرنا چاہتا ہوں اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو خود دیکھنا چاہتا ہوں۔۔

ہمم ۔۔۔ آئیڈیا تو بہترین ہے مگر تمہارا جانا ضروری ہے کیا۔۔

ہادی نے ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھ کے کہا۔۔

ہاں جانا ضروری ہے کیونکہ تو جانتا ہے جب تک میں مطمئن نہیں ہوتا تب تک میں نئے بزنس میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔۔

ٹھیک ہے تو چلے جاؤ کب جانا ہے مجھے بتا دینا میں ارینج کروا دونگا۔۔

اسے اتنی جلدی کیوں ہورہی ہے اور کوئی سوال نہیں کچھ نہیں۔۔ وجاہت نے دل میں سوچا۔۔

نہیں میں سب خود دیکھ لونگا پہلے میں ڈیڈ سے بات کرونگا۔۔

وجاہت بولتا ہوا ہادی کے کیبن سے نکل گیا۔۔

مجھے اچانک خوشی کیوں ہوئی وجاہت کے جانے سے ۔۔

ہادی یہ سوچ کے رہ گیا۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہانیہ آج بہت خوش تھی وہ وجاہت کے بارے میں سوچ سوچ کے ہی گلنار ہورہی تھی۔۔

دادو ہانیہ کی یہ تبدیلی بھانپ رہی تھی کیونکہ وہ کچھ زیادہ ہی مسکرا رہی تھی آج۔۔

جبکہ شان صاحب اور عالیہ بیگم ہانیہ کو خوش دیکھ کے خوش تھے۔۔

وجاہت ٹھیک کہتا ہے یہ لڑکی اپنے جزبات کسی سے نہیں چھپا سکتی ۔۔

شان صاحب نے پیار سے ہانیہ کو دیکھا جو دھیرے دھیرے ہی سہی اب انکے بیٹے کی زندگی بنتی جارہی تھی۔۔

امی آج ڈنر میں کیا بنواؤں۔۔

عالیہ بیگم اپنی ساس سے پوچھنے لگی۔۔

ارے عالیہ بیٹا مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو جو دل کرے بنوا لو۔۔

دادو نے نرمی سے جواب دیا۔۔

ام۔۔ مما آج میں ڈنر بناؤ کیا میرا دل کر رہا ہے کوکنگ کرنے کا۔۔

ہانیہ دھیمے لہجے میں عالیہ بیگم سے بولی۔۔

کیوں نہیں بیٹا اگر تمہارا دل ہے تو ضرور بناؤ ہم بھی تو دیکھیں ہماری بہو کیسا کھانا بناتی ہے۔۔

عالیہ بیگم نے محبت سے ہانیہ کا گال چھو کے کہا۔۔

ٹھیک ہے تو آپ حور کو سنبھال لیں اور تیار رہیں مزیدار سا کھانا کھانے کیلئے۔۔

ہانیہ خوش ہوکر بولتے ہوئے کچن کی طرف چل دی۔۔

کچن میں آکر اسنے سامان چیک کیا جو جو منگوانا تھا اسکی لسٹ بنا کر اسنے میڈ کو دی سامان لانے کیلئے اور لگ گئی کھانا کی تیاری میں ۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

4 گھنٹے مسلسل محنت کے بعد ہانیہ نے چکن یخنی پلاؤ کے ساتھ شامی کباب بنائے

اور سالن میں شاہی قورمہ بنایا

میٹھے میں اسنے فروٹ ٹرائفل بنایا اور سلاد رائتہ بھی تیار کرکے وہ وہ کاؤنٹر ٹیبل پر رکھ دیا تھا

ایک ملازمہ روٹی بنا رہی تھی جبکہ دوسری ڈائیننگ ٹیبل پر کھانا سیٹ کر رہی تھی

ہانیہ شامی کباب فرائی کر رہی تھی

سب جب ڈائیننگ ٹیبل پر آئے تو کھانے کے لوازمات دیکھ کے تھوڑا حیران رہ گئے۔۔

آج کیا کوئی خاص دن کی دعوت ہے۔۔

ہادی گھر اکر ایک بار پھر اپنے شرارتی موڈ میں آچکا تھا۔۔

وجاہت ہانیہ کو اس کے کمرے میں دیکھتا ہوا آیا مگر وہ وہاں نہیں تھی

وجاہت ابھی بھی ہانیہ کو ڈھونڈتا ہوا آرہا تھا کہ دادو کی بات پر ڈائیننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔۔

آج ہماری بہو نے کھانا بنایا ہے یہ کوئی کم خاص بات ہے کیا۔۔

دادو کے فخر سے بولنے پر وجاہت دھیمے سے مسکرا دیا بغیر کسی کی نظروں میں آئے

وہ پانی پینے کے بہانے کچن میں گیا جہاں ہانیہ کباب ڈش میں سیٹ کر رہی تھی اور ساتھ میں ملازموں کو ہدایات بھی دے رہی تھی۔۔

وجاہت کو کچن میں آتا دیکھ جہاں تمام ملازمین ہکا بکا تھے وہیں کچھ ایسا حال ہانیہ کا بھی تھا۔۔

کیونکہ وہ لاڈ صاحب کبھی کچن کے پاس بھی نہیں بھٹکے تھے آج تک۔

ہانیہ پر ایک نظر ڈال کر وجاہت فریج کھول کر پانی کی بوتل نکال کے کاؤنٹر کی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔

اور گلاس میں پانی ڈال کے پینے لگا جبکہ نظریں ہانیہ پر مرکوز تھیں۔۔

ہانیہ ویسے تو اپنے کام میں مصروف دیکھائی دے رہی تھی مگر وہ اچھے سے وجاہت کی نظر خود پر محسوس کر رہی تھی۔۔

شاکنگ پنک کلر کی کرتی کے ساتھ سفید رنگ کا کیپری پہنے اور سفید ہی ڈوپٹہ گلے میں ڈالے وہ تھکی تھکی سی بھی وجاہت کو بہت اچھی لگی ۔۔

اسکے چہرے پر ہلکا ہلکا پسینہ تھا جسے کافی حد تک تو اسکے بالوں کی فرینچ کٹنگ نے چپھا دیا تھا مگر گلابی گالوں پر چمک رہا تھا۔۔

وجاہت کا دل کیا کے ہاتھ بڑھا کے وہ اسکا چہرا صاف کرے۔۔

اور اسے ڈانٹے بھی کہ اتنا کام کرنے کی ضرورت کیا تھی اسے مگر بولا کچھ نہیں

باہر آکر وہ جان بوجھ کے ہانیہ کی جگہ پر بیٹھ گیا تاکہ وہ اسکے برابر والی خالی کرسی پر ہی آکر بیٹھے۔۔

وجاہت کو دوسری چئیر پر بیٹھا دیکھ نیلم خوش ہوکر ہادی کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔

اسے نور کے جانے کے بعد آج موقع ملا تھا ہادی کے ساتھ بیٹھنے کا۔۔

سارا کھانا ٹیبل پر سیٹ ہوچکا تھا ہانیہ کچن سے باہر آئی تو دیکھا کہ وجاہت اسکی جگہ بیٹھا ہے جبکہ وجاہت کی جگہ پر نیلم بیٹھی ہوئی تھی۔۔

یہ آج تبدیلی کیسے آگئی۔۔

ہانیہ نے دل میں سوچا۔۔

اب کرسی تو بس وجاہت کے برابر والی ہی خالی تھی ہانیہ کچھ پل سوچ میں پڑ گئی کہ بیٹھے یا نہ بیٹھے۔۔

ہانیہ کو کنفیود دیکھ کے ہادی نے اسے مخاطب کیا۔۔

ہانی اگر آپ چاہیں تو میری جگہ پر بیٹھ جائیں میں وجاہت کے ساتھ بیٹھ جاتا ہوں۔۔

ہادی کو ایسا لگا کہ ہانیہ وجاہت کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتی اسی لئے سوچ میں پڑگئی۔۔

اور ہادی کی بات پر جہاں نیلم کا منہ اتر گیا وہیں وجاہت نے غصے سے بھری نظر ہادی کے اوپر ڈالی۔۔

وجاہت کو غصے سے ہادی کو تکتا پاکر ہانیہ جلدی سے ہادی کو منع کرکے وجاہت کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔

سب لوگوں نے کھانا شروع کیا تو سبھی گھر والے کھانے کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے تھے سبھی کھانے ایک سے بڑھ کر ایک ذائقے دار تھے

سب سے زیادہ جو تعریف کر رہا تھا وہ تھا ہادی جسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ ہر نوالے پر تعریفوں کے پل باندھ دے۔۔

وجاہت کو رہ رہ کر تپ چڑھ رہی تھی اور آگ میں گھی کا کام ہانیہ کی مسکراہٹ کر رہی تھی ہادی کی تعریف پر۔۔

کسی کو کال کرنے کے بہانے سے وجاہت کھانا تھوڑا ہی کھا کر ڈائیننگ ٹیبل سے اٹھ گیا۔۔

ہانیہ کا دل بری طرح سے ٹوٹا اسی کیلئے تو اس نے اتنی محنت کی تھی اور ان لاڈ صاحب نے تعریف تو دور کی بات پیٹ بھر کے کھانا بھی نہیں کھایا۔۔

وجاہت کے جانے کو ہادی نے بھی نوٹ کیا تھا اور اس کے ایکسپریشن بھی وہ دیکھ چکا تھا

کھانے سے فارغ ہوکر سب گھر والے ہال میں بیٹھے تھے۔

وجاہت بھی سب کے ساتھ آکر بیٹھ گیا کیونکہ اسے سب سے بات جو کرنی تھی۔۔

عالیہ بیگم ہاتھ میں ایک باکس لئے ہال میں داخل ہوئی اور وہ باکس دادو کو پکڑایا۔۔

دادو نے وہ باکس لے کر ہانیہ کو اپنے پاس بلایا۔۔

ہانی میری جان۔۔

جی دادو ۔۔

ادھر آؤ میرے بچے۔۔

ہانیہ فوراً اٹھ کے دادو کے پاس گئی

دادو نے باکس سے چار کنگن نکالے دو عالیہ بیگم کو تھمائے اور دو خود ہاتھ میں لئے ہانیہ کو پہنانے لگی۔۔

یہ کس لئے دادو۔۔ ہانیہ ان خوبصورت کنگنوں کو دیکھ کے چونک گئی۔۔

بیٹا تمہاری شادی پر کوئی رسم تو ہوئی ہی نہیں تھی اسی لئے۔۔

یہ میری شادی کے کنگن ہیں میں نے آج تک عالیہ کو بھی نہیں دئیے تھے

یہ میں نے اپنے پوتے کی دلہن کیلئے رکھے تھے مگر اسکی پہلی بیوی تو ہمیں اپنا مانتی ہی نہیں تو اس وقت دل نہیں کیا اسے دینے کا مگر تم سے ہمارا دل جڑ چکا ہے تو اب سے یہ تمہارے ہوئے۔۔

دادو نے پیار سے ہانیہ کو کنگن پہنائے اور عالیہ بیگم نے دوسرے ہاتھ میں باقی دو کنگن پہنائے

خوش قسمت ہو ہانی ورنہ امی کا ارادہ یہ کنگن کسی کو بھی دینے کا نہیں تھا۔۔

عالیہ بیگم کی بات پر سبھی مسکرا دیئے۔۔

مگر مما دادو مجھے یہ نہیں چاہیئے آپ لوگوں کی دعائیں ہی کافی ہیں میرے لئے ۔۔

ہانی آپ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو چاہئے کہ نہیں

دادو نے مزاق میں کہا۔۔

پر ۔۔ پر ور کچھ نہیں ہانی بیٹا ابھی کہا نہ کہ تمہاری شادی پر تو کوئی رسم ہوئی نہیں کیونکہ وجاہت ہی اگلے دن ملک سے باہر چلا گیا تھا

اسی لئے ہم نے سوچا تھا کہ جب بھی تم کھانا بناؤگی ہم تمہیں تحفے میں یہ دینگے

عالیہ بیگم نے اسے پیار سے کہا۔۔

وجاہت بھی مان اور محبت بھری نظروں ہانیہ کو دیکھ رہا تھا۔۔

ہانیہ کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آگئی جسے وہ چھپا گئی تو دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی اتنے محبت کرنے والے رشتے دینے کیلئے۔۔

سب کو خاموش دیکھ وجاہت نے سوچا کہ وہ بھی اپنی بات کرے

مجھے آپ سب سے کچھ بات کرنی ہے۔۔

وجاہت نے بات کا آغاز کیا تو سبھی افراد اسکی طرف متوجہ ہوگئے بس ہانیہ نے اسے نہیں دیکھا۔۔

ہاں بولو۔۔

شان صاحب نے اسے بولنے کا کہا۔۔

میں پیرس جارہا ہوں 2 ہفتے کیلئے وہاں مجھے کام ہے۔۔

ڈیڈ میں آپ کو ڈیٹیل بتاؤں گا بعد میں کام کے متعلق۔۔

واؤ بھائی پیرس جائیں گے آپ ۔۔

نیلم چہکی۔۔

بھابھی کو بھی ساتھ لے جائیں نہ۔۔

وجاہت نیلم سے انہیں الفاظ کی توقع کر رہا تھا مگر چہرے کو سپاٹ رکھ کے بولا۔۔

نہیں نیلم میں وہاں کام سے جارہا ہوں گھومنے نہیں تو میں اکیلے ہی جاونگا۔۔

اور ویسے بھی کچھ پتا نہیں کہ وہاں 2 ہفتے سے زیادہ بھی لگ سکتے ہیں۔۔

اب میں وہاں کام کروں گا یا کسی کی ذمہ داری ہی نبھاتا پھروں گا۔۔

وجاہت نے بات کرتے ہوئے کن آنکھیوں سے ہانیہ کو دیکھا جس کے چہرے پر ایک سایہ آکر گزر گیا تھا۔۔

جو چہرا اسے کھانا بناتے وقت اتنی تھکن کے باوجود بھی کھلا ہوا لگ رہا تھا وہ ایک دم مرجھا گیا تھا۔۔

ہادی کو بھی وجاہت کی سفاکی سے کہنے پر غصہ آیا۔۔

ہانیہ کا اترا چہرا دیکھ کے وجاہت کو احساس ہوا کہ وہ شاید کچھ زیادہ ہی بول گیا ہے۔۔

اچانک حور نے رونا شروع کردیا تو ہانیہ دل میں حور کا شکریہ ادا کرتی وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔

لو اب بیٹی بھی ناراض ہوگئی مجھ سے۔۔

وجاہت نے دل میں سوچا۔۔

وجاہت عالم پہلے بھی تم ہانیہ کو شادی کے اگلے ہی دن چھوڑ کر 4 ماہ کیلئے چلے گئے تھے

اور اب ایک بار پھر جانا چاہتے ہو۔۔

دادو نے وجاہت کا پورا نام لے کر سخت لہجے میں کہا۔۔

یہ انکا انداز تھا وہ جب بھی وجاہت سے ناراض ہوتیں تھیں وہ اسے اسکے پورے نام سے پکارتی تھی۔۔

دادو میرا جانا ضروری ہے۔۔

وجاہت نے ہلکا پھلکا سہ احتجاج کیا۔

اخر سب کو یقین بھی تو دلانا تھا کہ وہ ہانیہ کو ساتھ لے جانا نہیں چاہتا۔۔

تم یہ غلط کر رہے ہو وجاہت

عالیہ بیگم نے بھی وجاہت کو سمجھانا چاہا۔۔

وجاہت کچھ بولتا کہ دادو نے اپنا فیصلہ سنایا۔۔

وجاہت عالم اگر تمہیں پیرس جانا ہے تو ہانیہ کے ساتھ جاؤگے ورنہ بہتر ہے یہی رہو۔۔

وجاہت تو دادو کی بات پر ہی دل ہی دل میں بہت خوش ہوگیا۔۔

وہ تھوڑی اور اداکاری کرنا چاہتا تھا مگر ہادی کو دیکھا تو وہ آج اپنی عادتوں کے برعکس بلکل خاموش بیٹھا تھا۔۔

وجاہت کو اسکا نہ بولنا اچھا نہیں لگا اسے لگا جیسے وہ نہیں چاہتا ہانیہ اسکے ساتھ جائے تو وہ بغیر کچھ کہے دادو کی بات مان گیا۔۔

ٹھیک ہے دادو اگر آپ سب یہی چاہتے ہیں تو ہانیہ سے کہہ دیجیئے گا کہ جیسے ہی ویزا اپروو ہوتا ہے وہ اپنی پیکنگ کرلے اور ساتھ میں حور کی بھی۔۔

کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ہانیہ حور کے بغیر رہے۔۔

یہ بات کہہ کے وجاہت وہاں سے چلا گیا۔۔

جو چاہتا تھا وہ ہوگیا تھا اور کسی کو شک بھی نہیں ہوا ۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

ہانیہ کمرے میں حور کو کندھے سے لگائے سلا رہی تھی کہ تبھی نیلم کمرے میں آئی۔۔

بھابھی کل میری چھٹی ہے تو کیا میں آج حور کو اپنے ساتھ سلا لوں وہ کیا ہے نہ پڑھائی کی مصروفیات کی وجہ سے میں حور کے ساتھ وقت ہی بتا نہیں پاتی ۔۔

ہانیہ نے زبردستی مسکرا کے نیلم کو دیکھا۔۔

پوچھ کیوں رہی ہو نیلم لے جاؤ اور ساتھ میں اسکا سامان بھی

ویسے حور آج دن میں سوئی نہیں بلکل تو مجھے لگتا ہے وہ آج رات کو نہیں جاگے گی

ویسے بھی اب اسکی سونے کی ٹائمنگ بدل رہی ہے جیسے جیسے وہ بڑی ہورہی ہے۔۔

نیلم نے حور کو گود میں لیا اور اسکا سامان لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔

ایسا کرنے کیلئے نیلم کو عالیہ بیگم اور دادو نے کہا تھا۔۔

کیونکہ وجاہت کی بات پر انہوں نے ہانیہ کا اترا چہرا دیکھا تھا۔۔

تو ضروری تھا کہ وہ تھوڑی دیر آرام کرے ویسے بھی وہ پوری شام کچن میں مصروف رہی تھی ۔۔

حور کے جانے کے بعد ہانیہ بیڈ پر بیٹھ کر وجاہت کے بارے میں سوچنے لگی ۔۔

اسے اسکا ڈائننگ ٹیبل سے اڑھ کر جانا اور پھر اسکا اسے ساتھ لے جانے سے صاف منع کرنا بہت تکلیف دے رہا تھا۔۔

آنسو اب ہانیہ کی آنکھوں سے نکل کر اسکا چہرا بھگو رہے تھے جسے اس نے بے دردی سے صاف کیا۔۔

نظر ہاتھ میں پہنے کنگن پر گئی تو غصے میں وہ اتار دئیے۔۔

جب میں وجاہت کی بیوی ہی نہیں ہوں تو ان کنگن پر بھی میرا کوئی حق نہیں ہے۔۔

مگر دادو نے کچھ پوچھا تو۔۔

اچانک ہانیہ کو دادو کے سوالات کی فکر ہوئی۔۔

کچھ نہیں میں کوئی بہانہ کردوں گی مگر وجاہت عالم کو ابھی اور اسی وقت میں یہ کنگن دونگی ۔۔

ہانیہ یہ کہہ کر کنگن لئے وجاہت کے کمرے تک گئی۔۔

💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓
💓

دروازہ ناک کیا تو وجاہت نے فوراً یس کہا جیسے اسے پتہ ہو کہ کوئی اس وقت آئے گا۔۔

ہانیہ دروازہ کھول کے وجاہت کو دیکھنے لگی جو حسب معمول اپنے لیپ ٹاپ پر کام میں مصروف تھا۔۔

ایک نظر ہانیہ کو دیکھ کے وہ ایک بار پھر نظریں لیپ ٹاپ پر مرکوز کر چکا تھا۔۔

تم یہاں کیسے میری یاد آرہی تھی کیا۔۔

بغیر اسکی طرف دیکھے وجاہت شرارت سے بولا۔۔

وجاہت کے الفاظ اسے مزاق اڑانے والے لگے۔۔

مجھے آپ سے بات کرنی بلکہ نہیں کچھ دینا تھا۔۔

ہانیہ لہجے کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔

اچانک وجاہت نے لیپ ٹاپ بند کیا اور ہانیہ کی طرف بڑھا جو کہ دروازے پر کھڑی تھی۔۔

مار کے بھاگو گی کیا۔۔

ہانیہ کو دروازے پر ہی جما دیکھ کے وجاہت مسکرا کے بولا۔۔

ہانیہ بس وجاہت کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کے ٹھٹک گئی کیونکہ یہ کوئی طنزیہ مسکراہٹ نہیں تھی یہ ایک سچی مسکراہٹ تھی ۔۔

وجاہت نے اسے کھویا ہوا دیکھا تو ہانیہ کو کندھوں سے تھام کر تھوڑا آگے کیا اور دروازہ بند کر کے ہانیہ کے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔۔

میں جانتا ہوں میں بہت ہینڈسم ہوں مگر تمہارا ہی شوہر ہوں اب اس طرح تو مت دیکھو بے ہوش ہوجاؤنگا۔۔

شرارتی مسکراہٹ لئے اب وہ ہانیہ کے تاثرات دیکھ رہا تھا وہ اب گھبرا رہی تھی

مڑ کے دیکھا تو وجاہت دروازہ بند کر چکا تھا اور اب وجاہت ہانیہ کو ہی غور سے دیکھ رہا تھا

ہمت جمع کر کے وجاہت کے سامنے اسنے بولنا شروع کیا

میں یہ کنگن آپ کو دینے آئی تھی باہر کچھ نہیں بول پائی مگر میں جانتی ہوں میرا ان کنگنوں پر کوئی حق نہیں ہے

تو اس سے پہلے آپ مجھے میری لمٹس یاد کروائیں میں نے سوچا خود ہی آپ کو یہ واپس کردوں۔۔

ہانیہ نے نظریں نیچے کر کے جلدی سے سب کچھ کہہ دیا اور کنگن وجاہت کی طرف بڑھائے۔۔

وجاہت نے گہری نظروں سے ہانیہ کو دیکھا پھر کنگن کو

کنگن ہانیہ کے ہاتھوں سے لئے بغیر وجاہت نے ہانیہ کا کنگن کا والا ہاتھ تھاما اور اسے خود کے قریب کیا

دوسرے ہاتھ سے ہانیہ کا چہرا تھوڑی سے پکڑ کے اوپر کیا تو ہانیہ کا چہرا ضبط سے لال ہوا وا تھا۔۔

ہونٹوں کو آپس میں سختی سے بند کئے وہ ناراضگی میں وجاہت کو بہت کیوٹ لگی۔۔

وجاہت نے اسکے دوسرے ہاتھ کو بھی تھام کر اسے کنگن پہنائے

ہانیہ نے ہاتھ چھڑانے کہ کوشش کی مگر وجاہت نے اسکے ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔۔

کنگن پہنانے کے بعد وجاہت نے پیار سے ہانیہ کے ہاتھوں کو چوما۔۔

ہانیہ نے اپنی آنکھیں زور سے بند کرلیں۔۔

ہانیہ کو اپنے حصار میں لے کر وجاہت نے اپنا منہ اسکے بالوں میں دے دیا۔۔

مجھے یہ نہیں چاہئے اگر کچھ دینا چاہتی ہو تو مجھے وہ محبت دے دو جو میں نے آج کچن میں تمہارے چہرے پر دیکھی تھی۔۔

بول کر وجاہت نے ہانیہ کو خود سے دور کیا تو ہانیہ نے ناراض نظر سے وجاہت کو دیکھا

وجاہت سمجھ گیا کہ وہ اس سے ناراض ہے کیونکہ اس نے ہانیہ کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا شوق سے نہیں کھایا تھا۔۔

ایک بات بولوں مانو گی۔۔

وجاہت نے اب اسکے بالوں کو کان کے پیچھے کیا جو اسکے چہرے پر آرہے تھے۔۔

ہانیہ نے کچھ نہیں کہا وہ تو بس حیران تھی کہ وہ وجاہت کو کچھ بول کیوں نہیں رہی تھی ۔۔

وہ تو آئی ہی وجاہت کو چار باتیں سنانے تھی مگر وجاہت کی قربت پر تو اس کے لب ہی سل گئے تھے۔۔

ہانیہ کا کوئی جواب نہ پاکر وجاہت خود ہی بول پڑا۔۔

مجھے بھوک لگی ہے۔۔

وجاہت نے شوخ نظروں سے ہانیہ کو دیکھ کے کہا۔۔

جی۔۔

ہانیہ کے منہ سے بس یہی ادا ہوسکا کیونکہ وجاہت کی نظریں اسے بہت کچھ کہہ رہی تھیں مگر وہ کیا کہہ رہا تھا۔۔

اسے ہکا بکا دیکھ کے وجاہت کے چہرے پر تبسم پھیل گیا۔۔

مسز ہانیہ وجاہت عالم تمہارے اس شوہر کو بھوک لگی ہے کھانا ملے گا کیا یا میں خود ہی کچن میں جاکر کھانا کھاؤ۔۔

ہانیہ وجاہت کو دیکھ رہی تھی جو اسے ہی دیکھ کے شرارت سے ہنس رہا تھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *