Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Last Episode
Rate this Novel
Meri Jaan Last Episode
Meri Jaan by Umme Hani
طلاق نامہ خالی تھا اس پر کچھ بھی درج نہیں تھا۔ نا کوئی سائن تھا نا ہی کوئی کوئی تحریر بس اسکے ساتھ ایک رقعہ موجود تھا زکی نے وہ خالی طلاق نامہ مہرنساء سے چھین کر الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا بلکل خالی تھا مہرونساء یوں تھی جیسے کسی نے اسے موت کی سزا سنادی ہو ۔۔۔۔ زکی نے بڑے تعجب سے پہلے مہرونساء کو دیکھا تھا پھر اسکی والدہ کو خود بھی وہ خالی طلاق نامہ دیکھ کر حیران پریشان تھیں ۔
” یہ کیا ہے مہر ۔۔۔ آنٹی یہ ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔ ” زکی کو لگا اس کے پاس لفظ ختم ہو گئے ہوں انجانے میں ایک ایسا گناہ کر چکا تھا کہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ
کہے کیا مہرونساء کسی بے جان سے مجسمے کی طرح کھڑی تھی۔ اس کی والدہ بھی رونے لگیں تھیں
” مہرونساء یہ کیا ہے اس نے ۔۔۔ اسنے تمہیں طلاق نہیں دی تھی بیٹا ؟؟ تو یہ طلاق نامہ ؟؟”
مہرونساء گم صم سی کھڑی تھی ۔۔۔۔ جیسے سکتے میں آ گئ ہو ۔۔۔
“مہرونساء یہ بات تو طے تھی کہ مجھے تم سے صرف بدلہ لینا تھا زندگی تمہارے ساتھ ہر گز نہیں گزارنی تھی ۔۔۔۔ میرا بدلہ پورا ہو چکا ہے ۔۔۔ ” یہ کہہ کر حازم ایک خاکی لفافہ اسے پکڑا دیا
“یہ طلاق نامہ ہے ۔۔۔ اب تم جاسکتی ہو “
بس یہی کہا تھا حازم نے ۔۔۔ طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے تھے۔۔۔
مہرونساء کی والدہ اس سے پوچھ رہیں تھیں ۔۔۔ لیکن وہ بلکل گم صم سی کھڑی تھی۔ ہوش اسے اس وقت آئی جب زکی اسکے سامنے کھڑا ہوا تھا
” تمہیں اندازہ ہے مہر کہ تم نے کیا کیا ہے میرے ساتھ تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔ میں تمہاری محبت میں جتنا آگے نکل چکا ہوں تم سوچ بھی نہیں سکتی اور اس مقام پر پہنچا کر ۔۔۔ اب یہ راز مجھ پر کھل رہا ہے “
زکی کی آواز حلق سے نہیں نکل رہی تھی آنسوں کا گولا حلق میں پھنس گیا تھا مہرنساء بس آنسوں بہا رہی تھی
” اس دن وہ سچ کہہ رہا تھا مہر بیوی تو تم اسکی ہو میری کچھ نہیں لگتی ۔۔۔ ” زکی کا یہ جمعلہ تھا کہ مہرونساء ہواسوں میں آئی تھی
” نن نہیں زکی۔۔۔ میں آپکی بیوی ہوں ہمارا نکاح ہوا ہے ” مہرونساء بے ساختہ بولی تھی
” نہیں نکاح پر نکاح نہیں ہوتا ہمارے درمیاں جو بھی تعلق تھا گناہ تھا ۔۔۔ تم نے انجانے میں مجھ سے بہت بڑا گناہ کروا دیا ہے مہر ۔۔۔ ” یہ کہہ کر زکی تاسف سے اسے دیکھتا ہوا جانے لگا لیکن مہر تیز قدم اٹھاتی ہوئی اس کے پاس آ گئ
” زکی مجھے چھوڑ کر مت جائیں مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس نے مجھے طلاق نہیں دی ۔۔ میں بلکل انجان تھی ۔۔۔ ” مہرونساء رونے لگی تھی زکی کا ہاتھ پکڑ کر اس کی والدہ بھی زکی کے پاس آ گئیں تھیں زکی نے تاسف سے مہرونساء کو دیکھتے ہوئے جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے پیچھے ہٹایا تھا
” دور رہو مجھ سے اور جھوٹ مت بولو بنا طلاق نامہ دیکھے تم نے کیسے یقین کر لیا کہ تمہیں طلاق ہو چکی ہے ۔۔۔؟ اچھا نہیں کیا تم نے میرے ساتھ مہر ” زکی کی آنکھوں میں نمی تھی
” وہ ٹھیک کہہ رہی ہے زکی اس نے سچ کچھ نہیں پڑھا وہ جب اس نیچ انسان کی قید سے آزاد ہو گھر میں داخل ہوئی تھی اسی وقت گر کے ہوش ہو گئ تھی ہمییں تو اپنی بچی کی فکر لگ گئ تھی میں نے نے ہی مہرونساء کے ہاتھ سے وہ نکاح نامہ لیکر اسی دراز میں رکھ دیا تھا مہرونساء کو ہاسپٹل لے گئے تھے ۔۔۔ مہرونساء کی والدہ نے ساری بات زکی کو بتا دی تھی مہرونساء کا مس کیرج ہونا اس کا بیمار پڑ جانا کسی کا دھیان اس خاکی لفافے پر گیا ہی نہیں میں نے بھی مہرونساء سے نہیں پوچھا کہ اس نے تمہیں لفظی طلاق دی تھی کہ نہیں ہم یہی سمجھے تھے کہ وہ طلاق دے کر جا چکا ہے ۔۔۔ اس نے مہرونساء سے یہی کہا تھا ۔۔۔ ” زکی کی والدہ بات سن کر وہ تذبذب کا شکار ہو گیا تھا اس وقت وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ اس لئے اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کرے اور کیا نا کرے مہرونساء کارو رو کے برا حال تھا ۔۔۔۔
دو دن بعد زکی کو عدالت بلایا گیا تھا اس جرم میں کے بنا طلاق کے اس نے حازم کی بیوی سے نکاح کیسے کر لیا ۔۔ اب وہ یہ پریشان تھا کہ کیا کرے اور کیا ناکرے مہرونساء اپنی جگہ پریشان تھی تو رو کے اپنی آنکھیں سوجا چکی تھی ۔۔۔ رات کو کئ کال اس نے زکی کو کیں لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا تھا موبائل پر مہرونساء کا نمبر دیکھ کر نظریں ہٹا لیتا اب تک وہ نا جانے کتنی سگریٹ پی چکا تھا ۔۔۔
دو ماہ پہلے مہرونساء۔ اسے صرف پسند تھی لیکن آج اسکے لئے اتنی اہم ہو چکی تھی کہ اسکے بغیر نا اپنا گھر اچھا لگ رہا تھا نا ہی اپنا آپ ۔۔۔ پہلی بار اس کا کمرہ بھی اسی طرح بکھرا پڑا تھا ۔۔۔ جب سے وہ واپس آیا سگریٹ پیئے جا رہا تھا ۔۔۔
دوسری طرف مہرونساء کچھ نہیں کھا رہی تھی بار بار زکی کو کال کر رہی تھی ۔۔۔ پھر اس رقعے کا خیال آنے لگا جو اس طلاق نامے کے پرچے پر تھا مہرنساء نے وہ خاکی لفافہ اٹھا کر وہ رقعہ لیااور کھول کر پڑھنے لگی
” مہرونساء میں نے تم سے کبھی بھی محبت نہیں کی نا ہی کبھی کر سکتا ہوں ہاں تم سےنفرت بہت کی ہے اور شاید ہمیشہ کرتا رہو گا ۔۔۔ رات کو یہ طلاق نامہ میں لکھنے بیٹھا تھا لیکن نا جانے کیوں میرے زہن سے الفاظ غائب سے ہونے لگے ۔۔۔ پھر یہ سوچا صبح اٹھ کر تمہیں طلاق دے دونگا لیکن تمہارے سامنے یہ لفظ مجھ سے ادا نہیں ہو پائے اب یہ مت سمجھنا کہ میرا ارادہ بدل گیا ہے میں تمہیں طلاق ضرور دوں گا اٹلی جا کر بھیج دوں گا شاید ابھی مجھے تمہاری حالت دیکھ کرتم پر کچھ ترس سا آ گیا ہے اس لئے میں چاہ کر بھی بول نہیں پایا لیکن طلاق ضرور دونگا ۔۔۔فقط حازم
مہرونساء نے وہ پرچہ پڑھ کر نفرت سے دراز میں رکھ دیا
” کیوں تم نے مجھے پھر سے اذیت میں مبتلہ کر دیا ہے کب تک مجھے یونہی تکلیف دیتے رہو گئے ۔۔۔ “
ابھی مہرونساء یہی خود کلامی کر رہی تھی جب
اس کے موبائل پر کال آنے لگی بنا دیکھے ہی اس نے فون اٹھایا تھا
” ہیلو ” روتے ہوئے اس نے گلوگیر لہجے سے کہا
” کیسی ہو میری جان ” حازم کی آواز سن کر مہرونساء کی غصے کانوں کی لو تک سرخ ہوئی تھی
” فون مت رکھنا مہرو نساء۔ ورنہ تم سے ملنے تمہارے گھر پہنچ جاؤں گا ۔۔۔ ” حازم کا فون وہ واقع ڈسکنکٹ کرنے ہی والی تھی
” ملنا چاہتا ہوں۔ تم سے اب بتاؤں کے اپنا پتہ تمہیں بھیجوں یا تمہارے گھر چلا آؤں ” حازم کی بات پر وہ جھنجھلا کر بولی
” میری جان چھوڑ دو حازم خدا کے لئے ۔۔ “
” اب تو یہ اور بھی مشکل ہے ۔۔۔ تمہارے لئے ہی تو اٹلی سے یہاں آیا ہوں تمہیں یہاں سے لے جانے ۔۔۔ “
” میں نہیں رہنا چاہتی ہوں تمہارے ساتھ ” مہرونساء نے سسکیوں کے ساتھ یہ فقرہ بولا تھا
اسکی سسکیاں سن کر حازم کے اندر پھر سے ایک شور سا بھرپا ہوا تھا
” ساری باتیں فون پر نہیں ہو سکتیں مہرونساء میں کیس واپس لے سکتا ہوں اگر تم مجھ سے ملنے خود آ جاؤں تو ۔۔۔ ورنہ تمہارا وہ ڈاریکٹر تمہی دو دن بعد جیل میں نظر آئے گا ” حازم کی بات نے مہرونساء کے ہوش اڑائے تھے ۔۔۔
“, حازم زکی کو کچھ مت کرنا پلیز ” مہرونساء کی زکی کے لئے فکرمندی حازم کو کھل رہی تھی
” ہاں تو آ جاؤں گا نا پھر مہرونساء ورنہ تمہیں میں عدالت کے ذریعے بھی اپنے ساتھ جہاں چاہوں لے جا سکتا ہوں ” مہرونساء بتدریج روئے جا رہی تھی ۔۔۔
” میں تم سے کسی بھی ہوٹل کے کمرے یا گھر پر نہیں ملو گی کسی ۔۔۔ کسی پبلک پلیس کا ایڈریس سنٹ کر دینا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر مہرونساء نے فون بند کر دیا
ابھی دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے جب اسی نمبر سے حازم کا میسج آیا تھا ایک ریسٹورنٹ کا نام لکھا ہوا تھا ساتھ پانچ بجے کا وقت بھی ۔۔۔ اگلے روز مہرونساء حازم سے ملنے چلی گئ ۔۔۔ وہ پہلے سے وہیں موجود تھا اپنی گھڑی پر وقت دیکھ رہا تھا جب مہرونساء کو سامنے آتے دیکھ کر یک دم کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔ مہرونساء کی سرخ اور متورم آنکھیں۔ اسے یہ بتا رہیں تھیں کہ وہ رات بھر کس بات پر روئی ہو گی گھر کے عام سے لباس میں وہ آئی تھی سر پر ڈوپٹہ بھی بڑے سلیقے سے لیس ہوا تھا ۔۔۔ اس کے سامنے کرسی کھنچ کر بیٹھ گی بات حازم نے شروع کی تھی
“، مہرونساء میں ۔۔۔ میں تم سے بہت شرمندہ ہوں
دیکھوں میں نے جو کچھ تمہارے ساتھ کیا وہ غلط تھا ۔۔۔ میں اس وقت بہت غصے میں تھا اس لئے تمہارے ساتھ جو بھی سلوک میں نے کیاوہ ۔۔۔ “
” مجھے طلاق چاہیے حازم ” مہرونساء نے اسکی بات بیج میں ہی اچک لی تھی کچھ دیر وہ مہرونساء کے سرے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگا بولا کچھ نہیں اسے چھوڑنا حازم کے بس کی بات نہیں
تھی مہرونسا نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑ لئے ۔۔ بہتے آنسوں میں مزید روانی آئی تھی
” میں تمہارے ساتھ نہیں چاہتی نا رہ سکتی ہوں “, مہرونساء کی بے بسی آخری حد تھی کہ وہ اب بھی سکے سامنے ملتجی ڈیبیعئی تھی
” مہرونساء میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں ۔۔۔ اس بار ہم زندگی کی شروعات کریں گئے تمہاری ساری تکلیفوں کا میں ازالہ کرنے کو تیار ہوں تمہیں مجھ سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہو گی پلیز مجھے ایک موقع دے کر تو دیکھو۔ ” حازم کی آنکھوں میں چمکتے آنسوں اس بات کی گواہی دے رہے تھے
” حازم میں تمہارے ساتھ کبھی بھی ایک نارمل لائف نہیں گزار سکتی تم پیار بھی کروں گئے تو مجھے بیتے لمحوں کی اذیت ہی یاد آئے گی یہ میرے ناول کی لکھی گئ کہانی نہیں زندگی ہے
کوئی عورت ایسے مرد کو کبھی اپنا لائف پاٹنر بنانا نہیں چاہے گی جو اسے عزت نا دے اسے بدلے کے طور پر کسی ظلم و ستم کا نشانہ بنائے رکھے اور جب بدلے سے اندر کی آگ ٹھنڈی ہو جائے تو اس کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارنے لگے ۔۔۔ یہ صرف کہانیوں میں اچھا لگتا ہے ۔۔۔ اس کی دھوم کہانیوں اور ڈراموں کی حد تک ہی اچھی لگتی ہے حقیقی زندگی اس سے بہت مختلف ہے ۔۔۔ ہر لڑکی ایساشوہر چاہتی ہے جو اسے محبت اور عزت دونوں دے ۔۔۔ “
” میں تمہیں یہ دونوں دونگا مہرونساء ۔۔۔ ایک ۔۔۔ایک بار مجھے موقع دو ” پہلی بار وہ مہرونساء کے سامنے بے بس ہوا تھا حازم نے اپنے گرتے آنسوں کاصاف کیا تھا پھر اس کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگا “مجھے معاف کر دو اور میرے ساتھ چلو ۔۔۔۔ “حازم نے التجا کی تھی ۔۔۔
مہرونساء اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔ کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ اور وہاں سے جانے لگی
” مہرونساء میرے بس میں نہیں ہے تمہیں چھوڑنا
میں تمہیں طلاق نہیں دونگا “, حازم کی بات پر مہرنساء کے قدم بس چند لمحے ہی رکے تھے پھر وہ باہر نکل گئ
******…….,
رفعت بیگم کو یاد آنے لگا کیسے شرمینہ رخصتی سے پہلے بار بار انہیں منع کر رہی تھی کہ وہ کسی اور کو پسند کرنے لگی ہے ۔۔ رفعت بیگم نے اسے صاف منع کر دیا تھا
” حازم تمہارا شوہر ہے شرمینہ تم نے کیسے کسی لڑکے سے محبت کر لی “
” امی حازم سے شادی آپ لوگوں میری تب کی جب مجھے شادی کا معلوم نہیں تھا ۔۔۔ مجھے حازم جیسے لوگ اچھے نہیں لگتے وہ ساری زندگی میرے ساتھ ایسا ہی تویہ رکھے گا مجھے ڈانٹتا رہے گا پریشان کرے گا ۔۔۔ “
“تمہارے لئے یہی بہتر ہے شرمینہ کہ تم چپ رہو
ہم تمہارے لئے غلط نہیں سوچیں گئے بیٹا ۔۔۔”
” امی مجھے اس۔ سے ڈر لگتا ہے مجھے اس سے خوف آتا ہے اس کے سخت لہجے سے میری جان نکلنے لگتی ہے “
” یہ سب تمہارا وہم ہے وہ بہت محبت کرتا ہے تم سے جبھی اس نے تم سے نکاح کیا ہے “
” میں اسکی محبت سے بھی ڈرتی ہوں امی ایسے لوگوں کی محبت کو میں نے سنا ہے وہ محبت کے نام پر بیوی پر صرف جبر کرتے ہیں ” شرمینہ ہے ذہن میں بس ناول کی کہانیوں کے روڈ ہیروں جیسے چسپاں ہو کر رہ گئے تھے پھر مہرونساء کااس بات پر مہر لگا دینا فاضل کا کردار شرمینہ کے لئے اس لئے کشش رکھتا تھا کیونکہ وہ دیکھنے بلکل حازم سے مخالف تھا ۔۔۔۔
شرمینہ اکلوتی تھی کوئی بہن بھائی اور تھا نہیں اس لئے اسے کمپنی چاہیے تھی جو اسے میسر نا آ سکی چھٹی جماعت سے اس نے کہانیاں پڑھنی شروع کر دیں تھیں اسے انوسنٹ ہیروئن بڑی اچھی لگتی تھیں ان میں اسے اپنا آ پ دیکھتا تھا اس لئے اس نے خود کو کبھی اس خول سے باہر نکالنے کی کوشش ہی نہیں کی اسے لگتا تھا جو اس سے پیار بات کر لیتا ہے وہی اس کا ہمدرد ہے ۔۔۔ اس لئے کہ وہ ایک معصوم سی لڑکی ہے ۔۔۔ کچھ کہانیوں نے دماغ پر منفی اثرات مرتب کیے تھے کچھ اپنااچھا برا سوچنے کے بجائے وہ دوسروں کی بات پر ذیادہ فوکس کرتی تھی اس لئے فاضل کے جذباتی جمعلے بازی سے متاثر ہو کر بجائے کے اپنی عقل استعمال کرتی چھت سے کود گئ ۔۔۔۔
سمجھی کہ شاید کہانیوں کی ہیروئن کی طرح وہ بھی زندہ بچ جائے ماں باپ اسکی بات پر راضی ہو جائیں گئے اور پھر وہ فاضل سے شادی کر لے گی لیکن زندگی تھی کہانی نہیں ۔۔۔ جہاں لڑکی چھت سے کودے یازہر کھا لے تو بچ کر اپنے ماں باپ سے۔ اپنی بات منوا لیتی ایسے موقع ہزاروں میں کسی ایک کو فراہم ہوتا ورنہ ذیادہ تر لوگ مر جاتے ہیں ۔۔۔ قصور وار تو شرمینہ خود بھی تھی ۔۔۔ زندگی بہت انمول ہے کہانیوں کا چناؤ اول تو اچھا رکھیں جب پڑھنے والے ہی اپنا معیار اچھا رکھے گئے تو لکھنے والا بھی اچھائی کو پھیلائے گا پڑھنے والا اپنا معیار اور لکھنے والا اپنے قلم کا حق صحیح استعمال کرے تو ایسی غلطیوں سے انسان بچ سکتا ہے ۔۔۔ جو شرمینہ نے کر لی تھی
*****……
فاضل نے دوبارہ یسرا سے رابطہ نہیں رکھا تھا فیصلہ اسی پر چھوڑ دیا تھا کافی دن گزر گئے تھے یسرا نے بھی کال نہیں کی تھی نا ہی کوئی بات کی تھی ۔۔۔
ایک ہفتے بعد یسرا اس کے گھر آئی تھی خود اس بات پر آمادہ کرتی رہی کہ جو گزر چکا ہے اسے پس پشت ڈال کر آگے بڑھا جائے ۔۔۔ اگر فاصل کے دل میں شرمینہ کا کوئی الگ مقام تھا تو یسرا کی زندگی میں بھی اسد آ چکا تھا بے شک وہ ایک گناہ کا رشتہ تھا ۔۔۔ مجبوری کا سودا تھا لیکن سچ تو یہ بھی تھا فاضل یہ سب جانتے ہوئے اسے بنا کچھ جتائے یونہی۔ قبول کرنے پر راضی تھا پھر وہ کیوں نہیں ایک ہفتے بعد وہ اسکے گھر آئی تھی۔۔۔ اس کی والدہ ملی اور اپنی بہن کی شادی کارڈ بھی دیا کہنے لگی آپ لوگ میری بہن کی شادی پر ضرور آئیے گا ۔۔۔ فاضل چپ تھا ۔۔۔ اسکی والدہ کہنے لگیں۔ ت۔ہاری بہن کے سسرال والوں کو اس بات پر اعتراض نہیں ہے کہ تم ایک ایکٹر ہو کیونکہ پہلی بہن کا تو یہی مسلہ تھا تم نے بتایا تھا مجھے ” فاضل کی والدہ نے یسرا سے پوچھا کیونکہ اس انہیں ہر بات سے آگاہ کر دیا تھا ۔۔۔
” جی میں سب کو سچ بتا چکی ہوں فاضل سے رشتہ جڑ جانے کے بعد سب کے منہ بند ہو چکے ہیں
کسی کو کسی بات سے کوئی اعتراض نہیں ہے ” یستا نے کھانا کھاتے ہوئے بتایا تھا ۔۔۔ فاضل اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کھانے کے بعد فاصل نے خود سے یسرا سے کہا کہ وہ اسے اسکے گھر ڈراپ کر دے گا وہ بھی اس کے ساتھ اسکی گاڑی میں بیٹھ گئ گاڑی کو مین روڈ پر لاتے ہی بات فاضل نے شروع کی تھی
” کیا سمجھوں تمہاری باتوں کا مطلب”
” مجھے اس بات سے کوئی اعتراض نہیں فاضل بہت سے مرد دل میں پرانی محبوباؤں کو بسائے بیوی کے ساتھ زندگی اچھی گزار ہی رہے ہوتے ہیں بس بیوی کو علم نہیں ہوتا وہ انکے ساتھ خوش رہ لیتی ہیں تم نے تو پھر بھی مجھ سے کچھ نہیں چھپایا ۔۔۔ ” یسرا کا جواب اسے جیسے اطمینان سا بخش گیا تھا چہرہ یک دم کھل سا گیا تھا
” تمہاری بہن کی شادی پر میں امی سے کہہ دونگا کہ ہماری شادی کی بھی تاریخ مانگ لیں ۔۔۔ ٹھیک ہے نا یسرا ” فاضل کی بات کا جواب یسرا نے مسکرا کر دیا تھا
” مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ” یسرا کے اقرار نے چہرے کی رونق بحال سی کر دی تھی
” آئسکریم کھاؤں گی؟ “فاضل نے سامنے آئسکریم پارلر دیکھ کر پوچھا
” نیکی اور پوچھ پوچھ ۔۔۔ ضرور کھاؤں گی” یسرا نے بھی۔ خوش دلی کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔۔ فاضل کئ مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
******……,
مہرونساء پریشان سی گھر لوٹی تھی نیاز صاحب نے مہرنساء کی پریشانی بھانپتے ہوئے کہا تم پریشان مت ہو ہم خلع کا مقدمہ درج کروائیں گئے
حازم کو تمہیں طلاق دینی پڑے گی ” مہرونساء بھی یہی سوچ رہی تھی۔ اس لئے اثبات میں سر ہلا گئ کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ کافی دن گزر گئے تھے زکی نے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا مہرنساء نے بھی اسے دوبارہ کال نہیں کی تھی ۔۔۔
” مہرونساء ٹی وی دیکھ رہی تھی جب چینل سرچ کرتے ہوئے اس کا ہاتھ ایک چینل پر جس کر رک گیا تھا ۔۔۔ جہاں طلاق کی مختلف صورتوں کے بارے تفصلات بتائی جا رہی تھی اسے سن کر مہرونساء کے ہوش اڑے تھے ۔۔۔ فورا سے اس نے ٹی وی بند کیا اور گھر باہر چلی گئ۔۔۔۔۔ مہرونساء ایک جامع مدرسے میں۔ پہنچی تھی وہاں اس نے مفتی صاحب کے سامنے اپنا سارا مسلہ رکھ دیا تھا پھر حازم کا لیٹر بھی پڑھوا دیا ۔۔۔ انہوں نے ہر بات کی وضاحت کرنی شروع کی
اَئمہ حدیث نے اس روایت میں ’’گھر والوں سے جا مل یا گھر والوں کے پاس چلی جا‘‘ کے الفاظ سے مراد طلاق لیا ہے، اس لیے انہوں نے اس روایت کو طلاق کے باب میں نقل کیا ہے۔ اسی طرح ایک روایت میں ہے:
عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: إِذَا قَالَ: لَا سَبِيلَ لِي عَلَيْكِ فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ.
اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا تجھ پر کوئی حق نہیں تو ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔
ابن أبي شيبة، المصنف، 4: 79، الرقم: 17995، الرياض: مكتبة الرشد
فقہاء کرام نے بھی کنایہ الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے حوالے سے تفصیلات بیان کی ہیں۔ ذیل میں اختصار کی خاطر چند علماء کرام کی رائے نقل کی ہے:
وَالضَّرْبُ الثَّانِي: الْکِنَايَاتُ، وَلاَيَقَعُ بِهَا الطلاَقُ إلاَّبِنِيَةٍ، أَوْ دَلالَةٍ حَالٍ.
(طلاق کی ) دوسری قسم کنایات ہے۔ ان سے طلاق صرف اس وقت ہو گی جب نیت یا دلالت حال ہو۔
لفظِ طلاق کے علاوہ بھی کچھ ایسے الفاظ ہیں جن سے نکاح ختم ہو جاتاہے۔ انہیں الفاظِ کنایہ کہتے ہیں، صحابہ، تابعین اور فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ان الفاظ سے طلاق کا وقوع جائز قرار دیا ہے۔ الفاظِ کنایات سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے یعنی فوری نکاح ختم ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:/p>
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِىَّ أَىُّ أَزْوَاجِ النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدَنَا مِنْهَا قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ فَقَالَ لَهَا لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِى بِأَهْلِكِ.
امام اوزاعی کا بیان ہے کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کون سی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پناہ مانگی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جون کی بیٹی کے پاس گئے اور اس کے نزدیک ہوئے تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم نے بہت بڑی ہستی کی پناہ لی ہے، لہٰذا اب اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔
بخاري، الصحيح، كتاب الطلاق، باب من طلق وهل يواجه الرجل امرأته بالطلاق، 5: 2012، الرقم: 4955، دار ابن كثير اليمامة
نسائي، السنن، كتاب الطلاق، باب مواجهة الرجل المرأة بالطلاق، 6: 150، الرقم: 3417، حلب: مكتب المطبوعات الإسلامية
ابن ماجه، السنن، كتاب الطلاق، باب ما يقع به الطلاق من الكلام، 1: 661، الرقم: 2050، بيروت: دار الفكر
وَهُوَ الْكِنَايَاتُ لَا يَقَعُ بِهَا الطَّلَاقُ إلَّا بِالنِّيَّةِ أَوْ بِدَلَالَةِ الْحَالِ.
وہ کنایات سے صرف نیت ہو یا دلالت حال تو طلاق واقع ہو گی۔
وَلَا بُدَّ فِيْ إِيقَاعِ الطَّلَاقِ بِالْکَنَايَةِ مِنْ أَحَدِ أَمْرَيْنِ: أَمَّا النِّيَةُ کَمَا ذَکَرْنَا، وَأَمَّا دَلَالَةِ الْحَالَةِ الظَّاهِرَةِ الَّتِي تَفِيْدُ الْمَقْصُودِ مِنَ الْکَنَايَاتِ کَمَا إِذَا سَألتَهُ الطَّلَاقَ، فَقَالَ لَهَا: أَنْتِ بَائِنٌ فَإِنَّهُ يَقَعُ بِدُوْنَ نِيَّة.َّ
اور الفاظ کنایہ سے طلاق کے واقع ہونے کے لئے ان دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔ یا تو نیت ہو جیسا کہ بتایا گیا یا بظاہر حالات اس امر پر دلالت کرتے ہوں جو الفاظ کنایہ سے مراد ہیں مثلاً بیوی طلاق کا مطالبہ کرے اور خاوند کہے کہ تو بائن ہو گئی تو اب طلاق بغیر نیت کے واقع ہو جائے گی۔
علمائے کرام ان الفاظ کو کنایہ میں شمار کرتے ہیں اور ان کا حکم یہ ہے کہ ان سے طلاق واقع نہیں ہوتی لیکن اگر ان الفاظ کو بولتے وقت طلاق کی نیت ہو تو پھر طلاق ہو جاتی ہے اور اگر اس نے طلاق کی نیت نہیں کی یا ان الفاظ کی ادائیگی کے وقت اسے نیت کا علم ہی نہیں تھا تو طلاق شمار نہیں ہو گی۔
شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کو یہ کہتا ہے”میں تجھے نہیں چاہتا”اور یہ الفاظ کئی بار دہرائے تو شیخ کا جواب تھا۔
اگر یہ الفاظ نیت کے بغیر اداکیےگئے ہوں تو طلاق شمار نہیں ہوں گے یہ کناریہ(یعنی اشارہ)ہے طلاق نہیں اس کی بیوی اس کی عصمت میں باقی رہے گی اور اس پرکچھ نہیں ہے۔( دیکھیں : فتاوی الطلاق للشیخ ابن باز ص/68) (شیخ محمد المنجد)
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فقہِ اسلامی کی رو سےطلاق شوہر کی طرف سے صریح الفاظِ طلاق کی ادائی سے بھی ہو جاتی ہے، اور غیر صریح یا کنایہ کے الفاظ سے بھی۔ اگر شوہر اپنی بیوی کو صریح الفاظ سے طلاق دے گا ،یعنی لفظ طلاق یا اس کے مشتقات استعمال کرے گا ،تو چاہے اس کی نیت طلاق کی ہو یا نہ ہو، طلاق واقع ہو جائے گی۔ مثلاً اگر وہ کہتا ہے: اَنْتِ طَالِق، “تجھے طلاق ہے” تو آدمی کی نیت کا اعتبار نہ ہو گا، اور طلاق پڑ جائے گی۔ اگر وہ صریح الفاظ سے طلاق نہ دے، بلکہ کنایہ کرے ،یعنی ایسے الفاظ استعمال کرے، جس کے طلاق کے علاوہ اور معنی بھی ہو سکتے ہیں ، مثلاً یوں کہے: تو جدا ہے، تو آزاد ہے، تو شوہر کی نیت کا اعتبار ہو گا۔ اگر اس کی نیت طلاق کی تھی ،تو طلاق ہوجائے گی ورنہ نہیں۔ شیعہ فقہا کے نزدیک البتہ صرف صریح الفاظ ہی سے طلاق واقع ہو سکتی ہے۔طلاق کی شرعی حیثیت
اسلام نے معاہدۂ نکاح کو نہایت اہم اور مقدس ٹھہرایا ہے۔ اس کا اپنے ماننے والوں سے تقاضا ہے کہ شادی اور نکاح کے رشتے کو کھیل نہ سمجھا جائے، میاں بیوی حتی المقدور اس کو توڑنے سے احتراز کریں۔ میاں بیوی میں باہم اختلاف یا جھگڑا وغیرہ ہو جانا فطری سی بات ہے، لیکن اس کو جدائی پر منتج نہ ہونا چاہیے۔ اگر بات بات پر طلاق ہو گی تو دو افراد ہی نہیں کئی خاندانوں حتیٰ کہ پوری سو سائٹی پر اس کے نہایت مضر اثرات مرتب ہوں گے۔ چناں چہ زوجین کے متعلقین کا فریضہ ٹھہرتا ہے کہ وہ ان میں کشیدگی کی صورت میں مل کر اصلاح کی کوشش کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُما(النساء 35:4)
“ اگر تمھیں ان دونوں میں کشیدگی کا خوف ہو، تو ایک حکم اس (مرد) کے اہل خانہ میں سے اور ایک حکم اس (عورت) کے اہل خانہ میں سےمقر رکرو۔ (اور اصلاح کی کوشش کرو) اگر وہ اصلاح کے خواہش مند ہوں گے، تو اللہ ان میں موافقت پیدا کر دے گا۔”
اسلام عقدِ نکاح کو باقی رکھنے کا اس درجہ خواہاں ہے کہ بیوی ناپسند ہو تو بھی صبر کے ساتھ نباہ کا حکم دیتا ہے:
فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شيئا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا (النساء19:4)
“اگر تم انھیں (یعنی اپنی بیویوں کو) ناپسند بھی کرتے ہو (تو بھی ان سے برا سلوک نہ کرو) عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو، لیکن اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھی ہو۔”
اگر بیوی کو شوہر سے شکایت ہو تو اسے بھی صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ اپنے خاوند کے برے سلوک پر صبر کرنے والی بیوی فرعون کی بیوی آسیہ کا سا اجر پائے گی۔ تاہم اسلام اعتدال پسند دین ہے۔ وہ لوگوں کو مجبور و لاچار نہیں بناتا اور نہ ان پر ناقابلِ برداشت پابندیاں عائد کرتا ہے۔ بعض اوقات ایسی صورت ِحال پیدا ہو جاتی ہے کہ میاں بیوی کا عقدِ نکاح میں بندھے رہنا محال ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں اسلام نے اس بات کی گنجائش رکھی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو سکیں۔ طلاق کے جائز ہونے کا ثبوت متعدد آیات قرآنی (مثلاً البقرہ 227:2 تا 232 ) اور احادیثِ نبوی سے ملتا ہے۔ تاہم یہ باور کرانے کی سعی برابر کی گئی ہے کہ طلاق کو معمول اور مشغلہ نہ بنایا جائے اور اسے نہایت مجبوری کے عالم میں آخری حل اور چارۂ کار کے طورپر استعمال کیا جائے۔ حدیث نبوی ہے:
اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلَی اللّٰہِ الطَّلَّاقُ (ابو داؤد، بیہقی،دارقطنی، مصنف ابن ابی شیبہ)
“اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔”
(بعض لوگوں اس حدیث کے ضعیف ہونے کا “فتویٰ” دے کر اسلام میں طلاق کی ناپسندیدگی کے تصور کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی خدمت میں ہماری گزارش ہے کہ اس حدیث کو ایک طرف رکھ دیا جائے، تو بھی اسلام میں طلاق کا حلال چیزوں میں سے ناپسندیدہ ہونا واضح ہے۔میاں بیوی میں اصلاح کی کوشش اور میاں کو ناپسندیدگی کے باوجود بیوی سے نباہ کی ترغیب سے متعلق اوپر درج آیات اس حقیقت کو عیاں کر رہی ہیں کہ شریعت طلاق کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو میاں بیوی کے رشتے کو ٹوٹنے سے بچانے کی ترغیب کیوں دی جاتی!)
اس خط کو دیکھا جائے تو آپ کے پہلے شوہر کا پکاارادہ آپ کو طلاق دینے کا واضع ہو رہا ہے
آپ کے شوہر کا آپ کو طلاق نامہ دینا طلاق کنایہ کے زمرے میں آتا ہے اور آپ کاوہ کاغذ لینا اور اس طلاق کو مان لینے کا صاف مطلب یہ کہ طلاق واقع ہو چکی ہے ۔۔۔
وہ آپ کو طلاق دینے کا ارادہ کر چکا تھا ۔۔۔۔ اسی لئے طلاق نامہ بھی آپ کے ہاتھ میں اسی لئے تھمایا تھا یہ بھی کہہ رہا تھا بیرون ملک جا کر بھی طلاق نامہ ہی بھیجے گا ساتھ نہیں رکھنا چاہتا تو طلاق کنایہ کی رو سے وہ آپ کاشوہر نہیں ہے
مہرونساء خوش ہو گئ تھی اس نے ایک فتویٰ لکھوایا اور اسے فوٹو اسٹیٹ کروا کر حازم کو بھیج دیا۔۔۔ جیسے دیکھ کر حازم کے ہوش اڑے تھے یہ بات تو سو فیصد درست تھی کہ اسے طلاق دینے کا پکا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔ اور طلاق ہی دینا چاہتا تھا یہ بھی کہا تھا وہ اسکے ساتھ رہنا نہیں چاہتا ۔۔۔ اسے چھوڑنا چاہتا ہے ۔۔۔ ارادہ طلاق کاوہ کر چکا تھا ۔۔۔ حازم نے جب آپنے وکیل سے بات کی تو اس نے بھی یہی کہا کہ آپ کی طرف سے طلاق ہو چکی ہے اب آپ اس رشتے کے اہل نہیں رہے ۔۔۔۔
******…….
کافی دن گزر گئے تھے مہرونساء کو انتظار تھا شاید زکی اس سے بات کرے دوسری جانب زکی اس شش و پنج میں مبتلہ تھا کہ وہ کس مقام پر جا کھڑا ہوا ہے ۔۔۔ نیاز صاحب نے اسے بتایا تھا وہ جلد از جلد مہرونساء کو حازم سے خلع دلوا دیں گئے ۔۔۔
زکی مہرونساء کے حازم سے رشتے ٹوٹ جانے کا منظر تھا تا کہ عدت پوری ہونے کے بعد وہ دوبارہ سے مہرونساء کو اپنا لے ۔۔۔۔ دس سے بارہ دن میں زکی کے اپنی اور گھر دونوں کی حالت ابتر ہو چکی تھی ۔۔۔ جب باہر کی ڈور بیل بجی تھی باہر مہرونساء تھی دروازہ کھولتے ہی زکی کو حیرت کا جھٹکا سا لگا تھا مہرونساء کیوں آئی تھی مہرونساء نے ایک پیر اسے تھمایا اور خود اندر داخل ہو گئ ۔۔۔۔ گھر بکھرا پڑا تھا وہ خود بھی بے حال اور اجڑے ہوئے حلیے میں تھا ۔۔۔ شیو بڑی کوئی تھی بال بکھرے ہوئے تھے آنکھیں متورم سی تھیں گھر کے عام سے سادہ سے ٹراوزر شرٹ پہنے شاید کہیں کام پر جا بھی نہیں رہا تھا تھا سامنے صوفے پر تولیہ پڑا ہوا تھا صوفے کے سامنے رکھے ٹیبل پر ایش ٹرے سگڑٹ کے ٹکڑوں سے بھرا ہوا تھا
زکی نے تعجب سے اسے دیکھا تھا پھر پیپر پڑھنے لگا ۔۔۔ وہ وہی فتویٰ تھا ۔۔۔۔ جس کی رو سے مہرونساء کو طلاق ہو چکی تھی ۔۔۔۔
وہ پڑھ کر وہ مہرونساء کے پاس آ گیا
” مہر یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔”,
” مجھ سے بات مت کریں زکی ۔۔۔” مہرونساء نے نم آنکھوں سے کہا تھا خفگی سے بولی تھی
” میرا قصور کیا ہے مہر ۔۔۔ مجھے تو معلوم نہیں تھا کہ حازم نے تمہیں کیا کہا،اور کیا نہیں ۔۔۔ نا ہی تم نے بتایا تھا اور با خدا مجھے ایسی طلاق کا دادا نے بھی کبھی نہیں بتایا تھا ۔۔۔ کم از کم مجھ سے شادی سے پہلے تمہیں طلاق نامہ دیکھنا چاہیے تھا تمہارے والدین کو اسی وقت تصدیق کروانی چاہیے تھی ۔۔میں تو ہر بات سے انجان تھا مجھ سے کیوں ناراض ہو “
” پھر بھی مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ۔۔۔ ” مہرونساء کی آنکھوں سے برسات جاری تھی
” سزا پر سزا تو مت سناؤ مجھے میں کون سا سکون سے تھا مجھے تو تمہارے والد نے یہی کہا تھا کہ وہ تمہیں خلع دلوا کر حازم سے علیحدہ کروائیں گئے عدت کے بعد ہی میں تم سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہوں ۔۔۔ ” زکی واقعے پر بات سے بے خبر تھا ۔۔۔ مہرونساء کو فی الحال وہ اپنے لئے نا محرم ہی سمجھ رہا تھا ۔۔۔
” آپ کو اندازہ بھی ہے میں نے یہ دن کتنی اذیت سے کاٹے ہیں ۔۔۔ ” مہرو نساء کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے وہ زکی کے ساتھ لگ کر رونے لگی تھی
” تو کیا میں خوش تھا میں بھی دہری اذیت میں تھا مہر تم سے دوری اختیار کرنا میرے لئے آسان تو نہیں تھا ۔۔۔ میں تو یہ سوچ رہا تھا تین مہینے تمہارے بنا کاٹو گا کیسے
” بارہ دن میں جانتے کتنے گھنٹے ہوتے ہیں ؟ میں نے لمحہ لمحہ آپ کو یاد کیا تھا ” مہرونساء نے شکوہ کیا تھا زکی اپنی کیفیت بتا رہا تھا
” میرے لئے بھی ہر لمحہ صدیوں کے برابر ہی گزرا ہے ” مہرو نساء کو ساتھ لگائے وہ کہہ رہا تھا آنکھیں اسکی بھی نم تھیں
” میرے گھر کا حشر دیکھا ہے آپ نے سارا گھر بکھرا پڑا ہے ” مہرنساء زکی سے پیچھے ہٹ کر گھر دیکھنے لگی ۔۔
” تمہارے بغیر تو یہی حال ہونا تھا ۔۔۔ ” وہ اب اسکی آنکھوں سے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہنے لگا
” اتنے سگریٹ کیوں پیئے ؟” مہرونساء نے سامنے ایش ٹرے دیکھ کر پوچھا
” تم جو نہیں تھی مجھے ٹوکنے کے لئے اب آ گئ ہو تو نہیں پیو گا ” مہرونساء کچھ پیچھے ہٹنے لگی تھی تا کہ گھر کی بکھری حالت کو سمیٹ سکے لیکن زکی کی بے تابیاں عروج پر تھیں وہ مہرونساء کو پھر سے اپنے حصار میں لے چکا تھا
” گھر کی حالت نظر آگی ہے تمہیں میرا حال نہیں پوچھو گی
میں بھی تو بکھرا ہوا ہوں مہر پہلے مجھے سمیٹنے کے بارے میں سوچو ۔۔۔ تمہاری جدائی نے کہیں کا نہیں چھوڑا ہے مجھے ۔۔۔ ” پہلی بار زکی گرفت مہرونساء پر مضبوط ہوئی تھی
“آئی لو یو سو مچ ۔۔۔ مہر ” اسے اپنے ساتھ لگائے وہ اس سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا آج دونوں کے شکوے ختم ہونے کا نام نہیں کر رہے تھے ۔۔۔
محبت میں اگر ذرا سی دوری آ جائے تو دل میں محبت کااحساس بڑھ جاتا ہے
*****…..,
وقت کچھ آگے بڑھ چکا تھا چار سال گزر چکے تھے
حازم نے اپنے والدین کی مرضی سے شادی کر لی تھی سمجھ میں آ گیا تھا کہ رشتے زبردستی نہیں رکھے اور نبھائے جاتے
یسرا فاضل کی ہمراہی بہت خوش تھی اور مہرونساء زکی کی سنگت میں خوش تھی ۔۔۔ اس بار مہرونساء نے شرمینہ پر کہانی لکھی تھی وہ ڈرامہ سپر ہٹ ہوا تھا ۔۔۔
آج لوگوں کے دلوں میں زکی کی سچائی کی دھاک بیٹھ چکی تھی نو بولڈ رومانس۔۔۔ وہ ڈونٹ لائیک روڈ ہیرو اینڈ انوسنٹ ہیروئن لائیک شرمینہ
وی آر سٹرانگ وومن
کے نعرے نوجوان نسل کی زبان پر آنے لگے تھے سوشل میڈیا میں پھر سے ڈوپٹے کی اہمیت اجاگر ہو چکی تھی ۔۔۔ معیاری ڈراموں کو پسند کیا جانے لگا تھا ۔۔ لوگوں نے ایسے رسائل کو جلانا شروع کر دیا تھا فحش پر مبنی تھے انقلاب کی ابتدا زکی سر مہر کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ کر چکے تھے
اب سوچنا یہ ہے کہ ہم اسکی ابتدا کب کریں گئے
آپ کے کمنٹ کا انتظار رہے گا
