186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 4

Meri Jaan by Umme Hani

” حازم میرا ہاتھ۔ چھوڑیں مجھے کہیں نہیں جانا ” پورٹیکو تک جاتے ہوئے بھی شرمینہ حازم سے اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی ۔۔۔

” شٹ اپ شرمینہ ۔۔۔ خبردار جو ملازموں کے سامنے کوئی بھی سین کریٹ کیا تو ۔۔۔۔ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھو ورنہ میرے غصے سے ابھی تم واقف نہیں ہو ” حازم اسے آنکھیں دیکھاتے ہوئے دھمکایا تھا وہ خوفزدہ سی ہو کر چپ ہو گئ حازم نے پہلے اسے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر گھورتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ چپ چاپ سے گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔ حازم نے گاڑی کا دروازہ زور سے بند کیا تھا رات شرمینہ کے رویے کی وجہ سے وہ اب بھی غصے میں تھا ۔۔۔ پھر دوسری جانب آ کر گاڑی ۔میں بیٹھ گیا چوکیدار نے میں گیٹ کھول دیا تھا ۔۔۔۔ گاڑی زوم کی آواز سے تیزی سے باہر نکلی تھی ۔۔۔ شرمینہ کا یہ حال تھا کہ رنگت لٹھے کی طرح سفید پڑ گئ تھی دل سینے کی دیواروں سے ٹکرا رہا تھا خوف سے لگ رہا تھا کہ جان سے جائے گی ۔۔۔۔ حازم بھی غصے میں تھا اس لئے ڈرائیونگ بھی تیز کر تیز تھا ۔۔۔۔

” آ آپ مجھے ۔۔۔۔ کہاں ۔۔۔۔ لے کر جا رہے ہیں “۔ شرمینہ نے خوفزدہ آنکھوں سے حازم کی جانب دیکھا ۔۔۔۔ “

” اپنے گھر ” حازم نے دو لفظی خواب بڑے سخت لہجے میں دیا تھا ۔۔۔ ایک گھر کاسن کر شرمینہ کی جان پر بنی تھی۔ کہیں اسے کمرے میں قید نا کر دے ۔۔۔۔۔ خوف کے مارے وہ کپکپانے لگی تھی پھر سہمی ہوئی نظر حازم ہر ڈالی ۔۔

” حازم مجھے آپ کے گھر نہیں جانا ہے ۔۔۔ ” سراسمیگی سے وہ دھیمے لہجے میں بولی

” تم سے اب جو بھی بات کروں گا وہ گھر جا کر کروں گا ۔۔۔۔۔ اور شرمینہ مجھے سچ میں جواب چاہیے ۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے حازم نے بڑی سخت نظر اس پر ڈالی تھی شرمینہ کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا اپنے بنگلے کے سامنے گاڑی کا ہارن بنا روکے حازم نے دیا تھا وہاں موجود چوکیدار نے دروازہ کھول دیا گاڑی اندر داخل ہوئی بنگلے میں صرف ملازم موجود تھے یہاں اپنا گھر ہونے کے باوجود وہ رفعت بیگم کے گھر شرمینہ کی وجہ سے رہ رہا تھا ۔۔۔۔ گاڑی سے نیچے اتر کر اس نے شرمینہ کو گاڑی سے ہاتھ پکڑ کر خود اتارا تھا ۔۔۔ شرمینہ کی جان لبوں تک آ پہنچی تھی لاونج میں جاتے ہی ملازم نے حازم کو سلام کیا

” واعلیکم السلام ڈنر تیار کرو ۔۔۔۔ آج ہم دونوں ڈنر یہیں کریں گئے ” ملازم کو حکمیہ لہجے میں کہہ کر وہ شرمینہ کو نیچے لاونج میں موجود ایک کمرے میں لے گیا دروازہ بند ہوتے ہی شرمینہ کو لگا اس کا دل بھی بند ہو چکا ہے ۔۔۔۔

******……..

صبح زکی کی آنکھ مسلسل بجتی ہوئی ڈور بیل پر کھلی تھی ۔۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا تھا پھر مسلسل بجتی بیل سن کر اسے جلد ہی بستر چھوڑ کر باہر بھاگنا پڑا تھا اتنی بے صبری کس کو تھی کہ بیل کے بٹن پر ہاتھ رکھ کر بھول گیا تھا ۔۔۔۔ زکی نے دروازہ کھولا سامنے اپنے والد کو غصے سے تیوری چڑھائے دیکھ کر ساری نیند بھگ سے بھاگی تھی

” آپ ” رات کو تو زکی کی ان سے بات ہوئی تھی اور وہ صبح یہاں پہنچ بھی گئے تھے ۔۔۔

“پیچھے ہٹو تم کیا دروازے کے سامنے کھڑے ہو ٫” پینٹ کوٹ میں ملبوس اشتیاق صاحب کو دیکھ وہ تو اپنی سدھ بدھ ہی کھو گیا تھا

” بابا آپ ۔۔۔ یہاں ” زکی پیچھے ہٹ گیا وہ اندر داخل ہوئے اسے سر سے پیروں تک زریک نظروں سے دیکھا ٹراوزر شرٹ میں بکھرے بالوں اور بڑی ہوئی شیو میں ۔ وہ اسے دیکھ رخ پھیر گئے ۔۔۔

” زکی اپناسامان پیک کرو دو گھنٹے بعد ہماری لاہور کی فلائٹ ہے ” اشتیاق صاحب نے گھڑی دیکھتے ہوئے زکی کے چودہ طبق روشن کیے تھے ۔۔۔

” بابا ۔۔۔ میں ۔۔۔ ابھی ۔۔۔ ” زکی تو سن کر اچھنمبے میں آیا تھا ۔۔۔۔۔ سٹپٹا کر بولا

” ہاں تم اور وہ بھی ابھی ” اشتیاق صاحب۔ نے بھی لفظوں کو جماتے ہوئے زکی کے انداز سے مصنوعی حیرت سے آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا اور پھر دو وں ہاتھ پشت کی طرف کر کے بارعب انداز سے بولے

“۔۔جاوں جا کر اپنا سامان پیک کرو آدھا گھنٹہ ہے تمہارے پاس ۔۔۔۔”

” لیکن بابا ” زکی تو بری طرح سے بوکھلا سا گیا تھا

” ڈونٹ آرگیومنٹ مائے سن ۔۔۔۔ جلدی سے پیکنگ کرو ورنہ اسی نائٹ سوٹ میں تمہیں لے جاؤں گا ” اشتیاق صاحب کے دو ٹاک انداز پر زکی پیج و تاب کھاتا ہوا اپنے کمرے ۔ظں چکا گیا دن منٹ میں اپنے لیگج میں کپڑے ٹھونسے اور دس منٹ میں نہا کر باہر نکلا تھا گو کہ پورے آدھے گھنٹے میں۔ زکی صاحب

جانے کے لئے تیار تھے اچھی طرح جانتا تھا کہ اشتیاق صاحب کے آدھے گھنٹے کا مطلب آدھا گھنٹہ ہی ہے ۔۔۔۔ جب تک جہاز کے لاہور کے ائیر پورٹ پر اتر نہیں گیا اشتیاق صاحب نے زکی کی ایک نہیں سنی تھی ۔۔۔۔۔ گھرخوہ بگڑے ہوئے موڈ سے داخل ہوا تھا لیکن ماں کو سامنے دیکھ کر ان کے گلے لگ گیا ۔۔۔۔

” مجھے معلوم تھا میرا بگڑا نواب باپ کے کان کھنچنے پر ہی گھر کا رستہ بھولے گا ۔۔۔ ” ماں نے اسے سینے سے بھنچتے ہوئے پیار بھری سرزش کی

زکی پہلے بڑے خراب موڈ میں تھا لیکن ماں کے پیار بھرے میٹھے لہجے پر مسکرانے لگا ۔۔۔۔ ایک سال بعد واپس لوٹا تھا وہ بھی نا کامی کے ساتھ

” آپ کے شوہر بڑے ظالم ہیں ماں ۔ اپنی ضد میں کسی کی نہیں سنتے ۔۔۔ ” حدیقہ بیگم کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے وہ پیچھے ہٹا تھا

“تم بھی تو لاتوں کے بھوت ہو باتوں سے کہا مانتے ہو ” وہ پیار سے اس کے بال بکھیرتے ہوئے لاڈ سے دھیمے لہجے میں بولیں

” چلو اب لنچ ریڈی ہونے والا ہے فریش ہو کر آؤں ساری ڈشز آج تمہاری پسند کی بنوائیں ہیں ” حدیقہ بیگم نے اس کا گال تھپتھپا کر کہا ۔۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں چلا گیا لنچ۔پر کئ قسم کے کھانے ٹیبل پر سجے ہوئے تھے کھانا کھاتے ہوئے اشتیاق صاحب نے زکی پر ایک نیا حکم صادر کیا تھا شام کو تم میرے ساتھ سیٹ پر چلو گئے ۔۔۔ ” زکی کا چاول کھاتے ہوئے ہاتھ رکا تھا

” بابا میں وہاں جا کر کیا کروں گا “

” زکی اب تم میرے ساتھ کام کروں گئے اور میں تمہاری ایک بھئ نہیں سنو گا ۔۔۔ تم نے اپنی من مانی کر کے دیکھ لی ہے کیا فائدہ ہوا ہے تمہیں۔۔۔؟ تم نے کیا نام اور پیسہ کمایا ہے وہ میں دیکھ چکا ” کاٹ دار لہجے

میں اشتیاق صاحب نے زکی پر اس کی نس کامی جتائی تھی ۔۔۔

” بابا حق اور سچ کاراستہ ہمیشہ نا کامی اور گم نامی سے شروع ہوتا ہے اور بعد میں خود کو ثابت کرتے ہوئے دنیا کواپنا آپ منوا کے چھوڑتا ہے ۔۔۔۔ جو نا کامی اور گم نامیوں سے گھبرا کر پیچھے ہٹ جائیں وہ ہمیشہ سفر ۔میں رہتے ہیں بے مقصد سا سفر ۔۔۔۔ اور مجھے منزل تک پہنچنا ہے ۔۔۔۔ وہ میں آپ کو ایک نا ایک دن پہنچ کر دیکھاوں گا ۔۔۔۔ دادا کی دعائیں ہیں میرے ساتھ ” زکی بھی اپنے ارادوں میں پختہ تھا ۔۔۔۔ اس بار کھانا کھاتے ہوئے اشتیاق صاحب کا چمچ رکا تھا ۔۔۔

” دادا کی نصحتیں کتابی باتوں پر مشتمل ہیں میاں۔۔۔۔ پڑھنے اور سننے میں صرف کانوں کو بھلی لگتیں ہیں یہ جو تمہارے سامنے آٹھ قسم کے کھانے پڑے ہیں برخودار ان کے لئے لال نوٹوں۔کی ضرورت پڑتی ہے ۔۔۔۔ جو لوگوں کی ریمانڈ پر سر جھکانے سے ملتے ہیں ۔۔۔ ” اشتیاق صاحب اور زکی کی بحث شروع ہو چکی تھی

” آٹھ کے بجائے اگر یہاں صرف ایک ہی سادہ سا کھانا ہوتا تو پیٹ تو تب بھی دو ہی روٹیاں بھر دیتیں ہیں ۔۔۔۔ اس کے بعد تو بد ہضمی شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔ اور میں نے ویسے پلاؤ کے علاؤہ دوسری کسی چیز کو چکھا تک نہیں ہے دادا کہتے تھے ایک وقت میں ایک ہی چیز کھانی چاہیے

اس لئے مجھے ایک وقت میں ایک ہی کھانا پسند ہے ۔۔۔ یہ کہہ کر پلیٹ خالی کر کے وہ ٹیبل سے اٹھ گیا تھا

” سنو چھ بجے انسان کے بچے بن کر نیچے اتر آنا میرے ساتھ تم سیٹ پر جاؤں گئے ” اشتیاق صاحب نے اسکی بڑی ہوئی شیو دیکھ کر کہا زکی زچ ہوتے ہوئے ڈائنگ روم سے باہر نکل گیا جانتا تھا تھا ۔۔۔۔ اشتیاق صاحب اسے اپنے ساتھ ضرور لیکر جائیں گئے

******……..

ایڈیٹر کی مہرو کو کال پر کال آ رہی تھیں لوگوں کی فرمائش تھی کہ ناول “میری جان ” کوطویل کیا جائے اور اس کا پارٹ ٹو لکھا جائے ۔۔۔۔

لیکن مہرو نے صاف انکار کر دیا تھا چار ماہ بعد اسکی شادی طے پا چکی تھی ۔۔۔۔ آج کل تو وہ بس فواد کے خیالوں میں۔ گم تھی ۔۔۔۔

لکھنے کا کوئی موڈ بھی نہیں بن رہا تھا ۔۔۔۔ آجکل فواد اور مہرو ساتھ ساتھ ہی نظر آتے تھے مہرو فواد کے گھر بلا تکلف کے اس سے ملنے چلی جاتی تھی اور فواد کی تو اس کے کمرے تک کی رسائی ہو چکی تھی ۔۔۔ ان کی باتیں اور شادی کے بعد کے پلان پی ختم نہیں ہوتے تھے ۔۔۔۔۔ ہر بات مہرو فواد کے سامنے اپنی ہی رکھتی تھی ۔۔۔اس وقت بھی سمندر کے کنارے فواد کے ہمراہ بیٹھے ہوئے مہرو نے ہنی مون کے لئے اپنی پسند بتائی تھی

” فوڈ پہلے ہم پاکستان ٹور پر جائیں گئے ۔۔۔۔ مجھے صیف ملوک دیکھنے کے بہت شوق ہے اور اس کے بعد کشمیر کی حسین وادیوں دیکھنے کا ۔۔۔۔ “

” تم میرے ساتھ ملائشیا جا کر دیکھوں مہرو بھول جاؤں گئ سب کچھ ۔۔۔۔۔ اس کے بعدہم سینگا پور جائیں گئے بعد میں بنکاک ۔۔ اور ۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے کے فوڈ دو چار جگہوں کے اور نام بتاتا مہرو نے اس کے منہ ہاتھ رکھ دیا تھا ۔۔۔ تیز ہوا سے مہرو کے بال اڑ رہے تھے اس وقت وہ جینز کی پینٹ اور گھٹنوں تک ڈھلی ڈھالی شرٹ پہنے ہوئے تھی ۔۔۔

” نہیں نا فواد مجھے یو کے دیکھنا ہے کینیڈا جانا ہے ” مہرو نے فواد کو اپنی فرمائش بتائی تھی

فواد نے مہرو کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹا کر اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا

” او کے مائے لائف ۔۔۔۔ جہاں تم کہو گئ وہی چلے جائیں گئے ۔۔۔ بس جلدی جلدی سے بن جاؤں میری وائف ” فواد شوخ ہوتے ہوئے بولا مہرو کھلکھلا کر ہسنے لگی ۔۔۔۔

” ابھی تو بڑی محبت دیکھا رہیں ہیں آپ ۔۔۔۔ شادی کے بعد بدل تو نہیں جائیں گئے نا فواد” مہرو اسکی آنکھوں میں اپنی چاہت کے رنگ دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔ اپنی آنکھوں میں بھی فواد کی محبت کی چمک تھی ۔۔۔

” جان سے ذیادہ چاہنے لگا ہوں تمہیں ۔۔۔۔ بس ایک بار میری بیوی بن کر میری زندگی میں آؤں تو دیکھو کیسے حسین رنگوں سے تمہارا دامن بھر دوں گا دنیا بھر کی سیر کرواں گا تمہیں ۔۔۔۔ بتاؤں گا کہ فواد مہرو کے لئے کیا کچھ کر سکتا ہے ۔۔۔ ” فواد کے اظہار پر مہرو جتنا بھی اتراتی اتنا کم تھا ۔۔۔

” ہاں تو یہ تو ہونا ہی چاہیے۔۔۔۔ میری محبت یونہی تو آپ کے لئے نہیں ہو سکتی ” مہرو نے پورا پورا نخرہ دیکھایا تھا

“, تم میری محبت میں کیا کر سکتی ہو مہرو ؟” فواد نے اسے بھی آپ ایک امتحان میں ڈالا تھا

” میں ۔۔۔ ؟ میں کیا کرو فواد؟” مہرو نے نا فہمی سے کندھے سے اپنے کندھے اچکائے تھے

” میں چاہتا ہوں مہرو کہ تم میرے لئے لکھنا چھوڑ دو ” فواد کی بات سن کر مہرو نے اس کے دونوں ہاتھوں کے بیچ سے اپنا ہاتھ کھنچ کر نکالا تھا چہرے کی مسکراہٹ مہدوم ہو کر دم توڑ گئ تھی

” ایسا کیوں چاہتے ہیں آپ ؟” مہرو نساء کو فواد کی یہ بات اچھی نہیں لگی تھی ۔۔۔ فواد اب بلکل سنجیدہ لگ رہا تھا میں نے تمہاری کہانی پر لوگوں کے تبصرے پڑھے تھے مجھے اچھے نہیں لگے ” فواد نے اپنی جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور ایک سگریٹ نکال کر اپنے لبوں میں دبائی پھر لیٹر سے آگ جلاتے ہوئے دونوہاتھع کے سہارے سے آگ کو سمندر کی تیز ہوا سے بجھنے سے بچاتے ہوئے سگریٹ سلگائی تھی ۔۔۔۔

” لیکن یہ میرا پیشن ہے فواد ۔۔۔ لکھنا میرا جنون ہے قلم جب میں ہاتھ پکڑتی یوں کسی دوسری دنیا میں پہنچ جاتی ہوں ۔۔۔ ہاں چند ماہ کے لئے تو چھوڑ سکتی ہوں لیکن ۔۔۔۔ “

” مہرو میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔ اور بلکل ویسی محبت کرتا ہوں جیسی ایک مرد کرتا ہے ۔۔۔ تم سے منگنی میری محبت کا ثبوت ہے ۔۔۔۔ جیسے جیسے تبصرے لڑکے تمہاری کہانی پر کرتے ہیں مجھے برا لگتا ہے ۔۔۔ ایسا لگتا ہے وہ تمہارے ناول کی نہیں تمہاری تعریف کر رہے ہیں ۔۔۔ تم نے اپنی تصویر اپنی کہانی کے ساتھ کیوں لگائی مہرو۔۔؟ شکر کرو یہ حماقت تم نے مجھ سے ملنے سے پہلے کی تھی اسلئے معاف کر رہا ہوں تمہیں اگر اب لگاتی تو۔۔۔۔۔ ” سگریٹ کا دھواں تیز ہواؤں کے دوش پر پھینکتے ہوئے فواد نے مہرو اپنے ایک اور نئے انداز سے متعارف کروایا تھا ۔۔۔۔

” فواد میں لکھنا ۔۔۔۔۔ “

” مجھے پسند نہیں۔ تمہاری تحریر ۔۔۔ مجھے کہانیوں سے خاص لگاؤں نہیں ہے مہرو ۔۔۔۔ لیکن تم سے ہے اس لئے میں تمہارے ناول کے چند صفحات پڑھے تھے ۔۔۔ مجھے اچھے نہیں لگے ۔۔۔۔ مرد کی محبت میں اتنی جنونیت نہیں ہوتی ۔جتنا تم نے لکھا ہے ۔۔ اور تمہارے ناول میں رومانس کے نام پر پتہ نہیں کیا لکھا گیا ہے اور تم اسے اپنا پیشن کہتی ہو ۔۔۔۔ بہت ہو چکا تمہارا شوق پورا ۔۔۔۔۔ بس اب مزید کچھ بھی لکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ “

” فواد ہم اس بات کو پھر کبھی ڈسکس کریں گئے ” مہرو سے کہاں اپنے ناول کے بارے میں تنقید برداشت تھی یہ تو فواد تھا اس لئے اس ۔ے موضوع بدلنا چاہا تھا اگر اسکی جگہ کوئی اور ہوتا تو اسے کھری کھری سنا دیتی

” اوہ نو مہرو ۔۔۔ اب ہم اس بات کو دوبارہ کبھی ڈسکس نہیں کریں گئے ” فواد کے حتمی انداز نے مہرو کو اپنی حیثیت بتا دی تھی مہرو ایک لفظ نہیں بول پائی تھی ۔۔۔ فواد بہت سنجیدگی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔

” چلو اب چلتے ہیں بہت لیٹ ہو گئے ہیں ” مہرو کو سنجیدہ اور خاموش دیکھ کر فواد نے ملاقات کو اختتام کرنا ہی بہتر سمجھا تھا جو بات وہ اسے سمجھانے یہاں لایا تھا وہ اپنے انداز سے سمجھا چکا تھا ۔۔۔۔ جب اسے۔ یہ معلوم ہوا تھا کہ ۔ہرو ناول لکھتی ہے تو فواد کو اس بات سے اتنا فرق نہیں پڑا تھا لکھنا کوئی غلط بات تو نہیں ہے اگر انسان کے پاس لکھنے کا ہنر ہے تو اسے اس سے فایدہ اٹھانا چاہیے ۔۔۔۔ لیکن مہرو کے ناول کو تھوڑا سا پڑھنے کے بعد ہی اس نے غصے سے اس ناول کو سائیڈ پر پٹخا تھا اس پر پھر لوگوں کے بے باک سے تبصرے دیکھ کر رگوں میں خون ابلا تھا ۔۔۔۔اگرخوہ کچھ اچھا لکھ رہی ہوتی توخوہ کبھی اعتراض نا کرتا ۔۔۔ اس لئے فواد نے سوچ لیا تھا کہ اس سلسلے کو مزید جاری نہیں رہنے گا ۔۔۔۔ اگر کل کو راہ چلتے مہرو کا کوئی فین فواد کے سامنے اسکی تعریف کرے گا تو وہ تو شاید سن کر اس کا منہ ہی نا توڑ دے ۔۔۔۔

واپسی کا سفر بڑی خاموشی سے کٹا تھا مہرو گم صم سی بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔ ذہن اب بھی فواد کے رویے اور باتوں میں الجھا ہوا تھا ۔۔۔۔ عورت پر مرد کب تک اپنی حکمرانی چلاتا رہے گا ۔۔۔۔ میں کیوں فواد کے کہنے پر لکھنا چھوڑو ۔۔۔۔ ” مہرو کی اپنی الگ سوچ تھی ۔۔۔ یہ نہیں سوچ رہی تھی اگر مرد کی بات درست ہے تو مان لینے میں کوئی حرج نہیں ۔۔۔ بس اگر بات رعب جما کر کہہ دی تو مرد کی ٹھیک بات بھی غلط لگتی ہے اور پھر عورت کے حقوق یاد آنے لگتے ہیں ۔۔۔۔ گاڑی مہرو کے گھر کے سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔ مہرو نساء بنا فواد کو بائے کہے اسکی گاڑی سے اتر کر چکی گئ ۔۔۔

******……..,

شرمینہ کا رنگ اڑا ہوا تھا ۔۔۔ ایسے خوفزدہ تھی جیسے حازم اس گلا دبا دے گا ۔۔۔۔

” حازم ۔۔۔ حازم مجھے باہر جانا ہے ” موٹے موٹے آنسوں وہ بہانے لگی تھی ۔۔۔۔۔

” پہلے بیٹھو ادھر ” حازم نے اسے بیڈ پر بیٹھایا ۔۔۔ خود بھی اس کے پاس بیٹھ گیا لیکن وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ جیسے خوف کے مارے اسکی روح ہی پرواز کر جائے گی ۔۔۔

” کیا بات ہے شرمینہ اتنا کیوں ڈرتی ہو مجھ سے ۔۔۔ ” حازم نے اپنا لہجہ حد درجہ نرم رکھتے ہوئے دوستانہ انداز سے اس سے پوچھا تھا ۔۔۔

” میں آپ کو پسند نہیں کرتی ۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ آپ ۔۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہی وہ رونے لگی تھی حازم اسکی بات سن کر اسکی شکل دیکھتا رہ گیا تھا ۔۔۔ وہ روتے ہوئے پھر سے بولی

” مجھے آپ اچھے نہیں لگتے ” شرمینہ کے اعتراف نے حازم کے اندر آگ سی لگا دی تھی ۔۔۔ لیکن ضبط سے بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ بڑاکڑا امتحان دے رہا تھا

” کیوں ۔۔۔۔۔ ؟ میں کیوں اچھانہیں لگتا ” حازم آج مصمم ارادہ کر کے آیا تھا کہ شرمینہ سے وجہ جان کر رہے گا ۔۔۔

” پانی ۔۔۔۔۔ مجھے پانی پینا ہے حازم ” وہ روتے ہوئے کہنے لگی اس وقت وہ حد درجہ خوفزدہ تھی ۔۔ تنفس اس قدر تیز چل رہا تھا کہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی حازم اٹھ کر کھڑا ہو گیا جیسے وہ سفید پڑ چکی تھی شاید پانی مس ملنے پر ہوش ہی ہو جاتی اس لئے کمرے سے باہر پانی لینے چلا گیا لیکن جب کمرے کا نیب گھمانے لگا تو شرمینہ کی باتوں کی آواز سن کر ٹھٹھک کر وہیں رک گیا

” میں نے ان سے کہہ دیا کہ میں انہیں پسند نہیں کرتی ۔۔۔۔۔ مجھے وہ ۔۔۔ اچھے نہیں لگتے ۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔ آپ پلیز میری مدد کریں مجھے اس شخص سے بچا لیں ۔۔۔۔ مجھے نہیں کرنی ہے اس سے شادی ۔۔۔ مجھے اس سے ۔۔۔۔۔ ” حازم نے کمرے کا نیب گھمایا دروازہ کھل گیا تھا سامنے وہ اپنے موبائل پر کسی سے بات کر رہی تھی حازم کو دیکھ کر ڈر کے مارے فورا سے فون

ڈسکنکٹ۔ کیا تھا حازم تیزی سے اسکی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔ موبائل اس کے ہاتھ چھین لیا حازم کے ایک ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا دوسرے ہاتھ سے وہ موبائل کے ڈائل پر جا کر دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ بات کس سے کر رہی ہے لیکن شرمینہ نے حازم کے ہاتھ سے اپنا فون چھین کر فورا سے نمبر ڈلیٹ کیا تھا ۔۔۔ حازم کا غصے سے برا حال تھااس نے پہلے تو پانی کا گلاس زمین پر کھنچ کے مارا تھا جو زمین پر گرتے ہی چھن سے ٹوٹ چکا تھا اسکے کانچ پورے فرش پر بکھرے تھے شرمینہ گھبرا کر پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔ اس بار حازم کا رویہ جارحانہ تھا ۔۔۔ شرمینہ کے دونوں بازو پکڑ کر بولا غصے سے بھبک کر بولا

” کون ہے وہ جس سے تم بات کر رہی تھی ۔۔۔ ” جس لہجے سے وہ غرایا تھا شرمینہ کافل اچھل کر حلق میں آیا تھا

” کک۔۔۔کوئی ۔۔۔ نن۔۔نہیں ” لزرتے ہونٹوں کے ساتھ وہ ہچکچائیں تھی

” شرمینہ نمبر بتاؤ اس کا مجھے جان سے مار ڈالو گا اسے ۔۔۔ زندہ نہیں بچے گاوہ میرے ہاتھوں سے ۔۔۔۔۔ ۔میرے علادہ تم کسی اور کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتی ہو ۔۔۔۔ شرمینہ کو اچھی طرح سے وہ جھنجھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔ پھر اسکے بازو کو اپنی گرفت سے آزاد کیا ۔۔۔ اور بیڈ پر گرا شرمینہ کا فون اٹھا کر اسکے ہاتھ ۔میں تھمانا چاہا

” کرو اسے کال میرے سامنے میں بات کرتا ہوں اس سے ۔۔۔۔ ” لیکن وہ مسلسل رو رہی تھی نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔

” نن۔۔ نہیں ۔۔۔ آپ اسے کچھ نہیں کہیں گئے ۔۔۔۔ میں آپ کو اسے۔ کچھ نہیں کہنے دونگی ۔۔۔ میں بہت محبت کرتی ہوں ان سے ۔۔۔ ” حازم کا جی چاہا ایک زور دار تھپڑ اسے منہ پر رسید کر دے ۔۔۔ کیسے بے باکی سے وہ اس کے سامنے کسی غیر شخص کا ذکر کر رہی تھی شرمینہ نے فون بیڈ پر پھنک دیا

” وہ جو کوئی بھی ہے شرمینہ میرے لئے مشکل نہیں ہے اسے ڈھونڈنا تمہارے موبائل سے اسکا تمبر نکالنا ۔۔۔ ” یہ سن کر شرمینہ نے حازم کے ہاتھ سے اپنا فون چھین کر زمین پر پٹخ کر توڑ ڈالا تھا پھر چلا کر بولی

” اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی آپ کو ۔۔۔ میں محبت کرتی ہوں ان سے ۔۔۔۔۔ اگر آپ نے انہیں کچھ بھی کہا یا ان کے ساتھ کچھ بھی کیا حازم میں آپ کو کبھی معاف نہیں۔ مروں گی ” ایک تھپڑ شرمینہ کےنہ پڑا تھا وہ بیڈ پر جا گری تھی ۔۔۔ اب ہچکیوں سے رونے لگی تھی

” دو دن ۔۔۔۔ دون میں رخصتی کروا کر تمہیں یہاں سے ہمیشہ کے لئے لے جاؤں گا ۔۔۔۔ دیکھتا ہوں میں کہ تم انکار کیسے کرتی ہو ” حازم کی بات نے شرمینہ کے ہوش اڑا دیے تھے