Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 33
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 33
Meri Jaan by Umme Hani
حازم کی نظریں ہٹنا بھول گئیں تھیں لڑکی کے مکالمات سے ہی اسے لگا تھاوہ ماضی میں جا پہنچا ہے۔ جہاں عزت کے بجائے مہرو اسکے سامنے رو رو کر اپنی زندگی کی خلاصی اس سے مانگتی تھی ۔۔۔ لیکن وہ بے حسی کی تصویر بنا ہوا تھا ۔۔
پہلے تو حازم نے بد حواسی سے ٹی وی آف کر دیا اسکے بعد سگریٹ۔ سائیڈ ٹیبل سے نکال کر ہونٹوں میں دبائی لیٹر جلاتے ہوئے حازم کے ہاتھوں میں واضع لرزش تھی سگریٹ جلتے ہی اندر کی سلگتی آگ کچھ اور بڑھکنے لگی تھی ۔۔
” مہرو نساء ” سگریٹ اب حازم کی دنوں انگلیاں کے بیچ میں تھا
منہ سے دھوئیں کے مرغولے سے اڑنے لگے تھے
” میری مہرنساء ” یہ آواز دل کی بے بسی نے اٹھائی تھی آنسوں ٹپ ٹپ اسکی آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگے تھے ۔۔۔
وہ ہار چکا تھا خود سے لڑتے لڑتے بے بس ہو چکا تھا جلتا سگریٹ حازم نے زمیں پر پھنک دیا
” یہ دل بھی کمبخت وہیں جا کر لگتا ہے جہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔ ایک نا ممکن سی بات ۔ہے ۔۔ کیونکہ میں نے تم سے نفرت کی تھی مہرونساء
اتنی نفرت کہ شاید میں نے اپنی زندگی میں کسی سے اتنی نفرت نہیں کی کیونکہ تم نے مجھ سے میری بہت قیمتی چیز چھین لی تھی شرمینہ میری جان تھی
اور میری جان ہی تو نکال لی تھی تم نے ” وہ رو رہا تھا آواز میں واضح آنسوں کی آمیزش تھی
بتدریج اس کے آنسوں بہہ رہے تھے اندر کی دبی سسکیوں میں حازم کی سسکیاں بھی شامل ہو چکیں تھیں وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا
” میں تم سے صرف نفرت کرتا تھا ہوں مہرونساء نفرت ہی کر سکتا ہوں
میں تم سے نفرت کرتا ہوں مہرونساء ۔۔۔ تم سے نفرت کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ” اسکے اندر کوئی چیخ کر اسکی بات کر ترید کر رہا تھا اب بھی وہ اپنی اندر کی آواز کو اپنی نفی سے دبانے کی کوشش کر رہا تھا
مہرونساء سے محبت اگر با اختیار ہوتی تو وہ کبھی نا کرتا ۔۔۔
لیکن یہ بے اختیار سا عمل تھا اس کے بس کی بات نہیں تھی
لیکن ماننے کو تیار بھی نہیں تھا مہرونساء کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی رو رہا تھا ۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا اپنا آپ اسے ہر وقت مجرم سا لگنے لگا تھا
دل پر اتنا بوجھ بڑھ چکا تھا کہ اس سے آنسوں اسکے اختیار میں نہیں رہے تھے
******…….
مہرو اب زکی کے بارے میں سوچنے لگی تھی وہ اچھا انسان تھا لیکن جیسے ہی وہ یہ سوچتی کہ زکی سے کبھی شادی بھی ہونی ہے تو شادی کے نام سے دل دھک سے رہ جاتا تھا ۔۔ ایک ذہنی اذیت تھی جس میں وہ مبتلہ ہونے لگتی تھی پھر جلدی سے اپنا قلم اٹھا کر لکھنے لگتی تا کہ سوچ کی اذیت سے بچ سکے
دوسری کہانی کو مہرو نے بہت دل سے لکھا تھا بہت محنت کی تھی وہ چاہتی تھی کہ زکی کاڈرامہ اس بات فلاپ نا ہو اس لئے اس میں سسپنس بہت ڈالا تھا ایموشنل بھی اور جذبات کے اظہار لکھنے پر کبھی وہ خود آنسوں بہانے پر مجبور ہو جاتی تھی
ایک ایکٹر کسی ایک کریکٹر کو خود پر ہاوی کر کے اچھی پرفومس کر لیتا ہے لیکن ایک لکھاری اپنے ہر کردار میں ڈوب ہر اسے زندگی بخشتا ہے درد کو لکھنے کے لئے درد سے گزرنا پڑتا ہے ۔۔۔ تبھی وہ جاندار بنتے ہیں کئ بار ایک عورت کی۔ بے بسی کو لکھتے ہوئے مہرو کو اپنا وقت یاد آنے لگتا ۔۔۔
اذیت کو لکھتے ہوئے اسے اپنے وجود پر درد کا احساس ہونے لگتا تھا ۔۔۔ جیسے کردار کے ساتھ وہ وہیں موجود ہے
کہانی لکھتے ہوئے کئ بار یوں بھی ہوا کہ رات بھر سو نہیں پاتی تھی ۔۔۔
وہ کہانی جب زکی یسرا اور فاضل نے پڑھی تو دونوں کو چپ سی لگ گئ تھی یسرا کی آنکھیں بھی نم تھیں
“مجھے لگتا یہ کہانی لوگوں کے دلوں پر ضرور اثر کرے گی ” زکی نے سامنے بیٹھے تیونوں نفوس کی جانب دیکھ کر کہا
” ہاں مجھے بھی یہی لگتا اور اس میں ہیرو ایک پولیس آفیسر ہے جو ایماندار ہے ۔۔ پھر یہ کہانی فل آف سسپنس اور ایمشنل ہے اس لئے بہت چانسز ہیں یہ ڈرامہ بہرحال فلاپ نہیں ہو گا ایک پولیس والے کا سب کریکٹر میرے بھی نیا ہو گا مزہ آئے گا اور آئی تھنک یسرا ایزیلی یہ سب کر کے گی کیونکہ ایموشنل میں یسرا کا کوئی ثانی نہیں ہے ” فاضل کو یہ کہانی عزت سے ذیادہ اچھی لگی تھی ۔۔۔ زکی نے فاضل کی تائید میں سر ہلایا تھا لیکن یسرا چپ تھی فاضل سے کچھ ناراض سی بھی تھی ۔۔۔ وجہ وہ لڑکی کی تصویر تھی جو اب تک یسرا کے لئے ایک مسٹری بنی ہوئی تھی ۔۔۔ آخر فاضل بتا کیوں نہیں دیتا تھا کہ وہ لڑکی کون تھی ۔۔۔ یسرا اسی بات کو لیکر پریشان تھی اس لئے فاصل کی تعریف بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی اس کی شوٹنگ زکی نے جلد ہی شروع کروا دی تھی سندھ کے قصبے اور گاؤں کراچی سے
بہت دور نا تھے اس لئے شورٹنگ کے اس نے قریبی ایک گاؤں کا انتخاب کیا تھا ۔۔۔ یسرا کا کردار ایک گاؤں کی لڑکی کا تھا ۔۔ اور فاضل کاایک پولیس آفیسر دونوں کے ڈائیلوگز اس قدر دل کو چھو جانے والے تھے اسپر یسرا کے ایکپریشن نے تو اس ہیروئن سکھاں کے کردار میں جان سی ڈال دی تھی
لیکن ایک سین بہت جذباتی سا تھا جس میں اس سکھاں کو جھوٹے کیس میں گاؤں کا رائس اسے جیل میں بھیج دیتا ہے اور سکھاں کو پولیس اسٹیشن میں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔۔۔ وہ جب اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتی ہے تو اسی کو جھوٹا کہا جاتا ہے وہاں وہ اس انسپکٹر کے سامنے
خود پر ہونے والا ظلم بتا رہی ہوتی ہے روتے ہوئے اذیت سے لیکن یسرا وہ اتنا پرفیکٹ نہیں کر پا رہی تھی جیسا کہ
زکی چاہتا تھا ۔۔ کئ بار وہ سین کر چکی تھی لیکن زکی مسلسل کٹ کروا رہا تھا مہرونساء بہت دیر سے اسے دیکھ رہی اس سین میں سکھاں کو لکھتے ہوئے جس کرب سے وہ گزری تھی یسرا ویسا پرفوم نہیں کر رہی تھی ۔۔۔
” سر اس سے ذیادہ شاید میں ایموشنل مزید نہیں کر پاؤں گی ” یسرا نے آخری بار وہ سین پرفوم کرنے بعد جب تنگ آ کر یہ کہا تو زکی چپ سا ہو گیا وہ واقع کئ بار وہ سین کر کے سب تھک چکی تھی اس لئے کہنے لگا او کے فائن اسی کو سلیکٹ کر لیتے ہیں ” زکی مفاہمت سی کر لی تھی لیکن مہرو کھڑی ہو کر یسرا کے پاس آ گئ
” یسرا اسے ایک بار اور کر لو تمہارے ایکسپریشن میں کچھ کمی ہے اس میں وہ درد نہیں دیکھ رہا جو سکھاں نے سہا ہے ” مہرو کی بات پر یسرا اسے کہنے لگی
” مہرو یہ جیتا جاگتا کردار تو ہے نہیں جس نے سہا ہو ۔۔۔ مجھے نہیں لگتا اس پر اس سے زیادہ محنت میں کر پاؤں گی ۔۔۔”
” مہرو یسرا ٹھیک کہہ رہی ہے آئی تھنک یسرا نے پرفیکٹ ہی کیا ہے ” زکی۔ نے بھی بات کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن مہرو مطمئن نہیں وہ نہیں چاہتی تھی زکی کا یہ ڈرامہ بھی عزت کی طرح فلاپ ہو اس لئے خود جا سیٹ پر کھڑی ہو گئ ۔۔۔ فاضل ابھی تک وہیں پولیس کی وردی پہنے کھڑا تھا اپنے برابر کھڑے میک اپ آرٹسٹ سے بات کر رہا تھا ۔۔۔ جب مہرو اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی ۔۔ مہرو کواپنے سامنے پا کر وہ مہرو کو نافہمی سے دیکھنے لگا ۔۔۔ جس نے آنکھیں بند ثانیے کے لئے بند کی تھیں لیکن جب دوبارہ آنکھیں کھولیں تو آنکھوں میں ایک عجیب سی اذیت اور کرب سا دیکھ رہا تھا اب مہرونساء نے مکلمات بولنے شروع کیے تھے
” آپ جانتے بھی انسپکٹر صاحب اذیت کیا ہوتی ہے اذیت کہتے کسے ہیں
آپ کو ہمارے معاشرے کا محافظ کہا جاتا ہے ۔۔ پولیس موبائل اگر کبھی ہمارے گاؤں سے گزر بھی جاتی تھی تو ہم کہتے لو آ گئے ہمارے ملک کے شیر جوان اب ہمہیں کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ رات کے اندھیرے میں اس جیل میں جہاں ہر وقت پولیس والوں کا سخت پہرہ ہوتا ہے وہ پولیس
جنہیں دیکھ ہمارے گاؤں کی مائیں دعاؤں میں ہاتھ اٹھاتیں نہیں تھکتی تھی وہیں ۔۔۔ وہیں محمکہ کے اعلی کاروں کے لئے نفسی خواہش کے لئے رات کو میرے جیل کو کھولا جاتا ہے میری آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی جاتی ہے مجھے بالوں سے پکڑ کر باہر نکلا جاتا ہے اور ایک اور اندھیری جیل میں پھنکا جاتا ہے ۔۔۔ میرے بندھے ہاتھوں کی گرفت کواور سختی سے مضبوط کیا جاتا ہے ۔۔ تا کہ وہ کھل نا سکے میرے منہ پر رومال باندھا جاتا ہے تا کہ میری چیخ و پکار کوئی سن نا سکے مجھ جیسی کمزور عورت کو باندھ بے بس کر کے ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔۔۔ مجھے بتاؤ انسپکٹر یہاں کون سا چور ہے جو اتنے پولیس کی بھاری نفری اور چوکیداری میں میرے پاس آ سکتا ہے ۔۔۔ وہ کوئی چور یا لوٹیرہ نہیں تھا وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔ ایک پولیس آفیسر تھا ۔۔۔ وہ محافظ ہو کے کیسے عزت کا لوٹیری ہو سکتا ہے ۔۔۔ اسکے ہاتھ کیوں نہیں کانپے ایک مظلوم لڑکی کے اوپر سے عزت کی چادر کو نوچتے ہوئے ۔۔۔ اسے بے دردی سے زمین پر پھنکتے ہوئے ۔اسکی بے بسی سے فایدہ اٹھاتے ہوئے ۔ ” اس وقت مہرو کے آواز اذیت اور دکھ کی وجہ سے کپکپا رہی تھی یہاں تک سارے مکلمات وہ وہی بول رہی تھی جو اس نے خود لکھے تھے اور زکی یسرا کیمرہ مین فاصل سب اسی کو ہر چیز سے بے خبر ہو کر دیکھ رہے تھے جیسے وہ مہرو نا ہو سکھاں ہو یسرا اور زکی اور باقی سب کردار مہرونساء کو دیکھ کر حیرت زدہ سے رہ گئے تھے
جس بے بسی وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ یسرا بھی دنگ سی رہ گئ تھی کیونکہ وہ ایکٹر نہیں تھی لیکن اپنے لکھے الفاظ کی بلکل صحیح عکاسی کر رہی تھی ۔۔۔ یہاں تک تو سب ٹھیک تھا
لیکن اسکے بعد مہرونساء کے مکلمات بدل چکے تھے ۔۔۔
مہرو کو حازم کے ساتھ گزاری شادی کی رات یاد آنے لگی تھی جو ایک ناقابل فہم اذیت تھی ۔۔۔ اسے فاضل کے چہرے میں حازم نظر آنے لگا تھا وہ اسے کہنے لگی
“ایک مرد میں اور ایک جانور میں زیادہ فرق نہیں ہوتا جب اس کی آنکھوں میں جنون ہو نفرت ہو ۔۔ بدلے کی آڑ میں ایک لڑکی کو برباد کر دینے کی خواہش اسے بھوکا کتا یا بھیڑیا بنا دیتی ہے ۔۔۔۔
مجھے پتہ ہے میرے ساتھ کیا ہوا تھا میں نے کیا سہا ہے ۔۔۔ میں تم جیسے ایک مرد میں اور جنگل کے پاگل بھڑیے کوئی فرق نہیں دیکھا ۔۔۔۔ مجھے اب ہر مرد سے خوف آتا ہے مجھے ہر مرد کی قربت کے خیال سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ حازم تم انسان نہیں ہو تم جانور ہو درندے ہو
تم نے مجھے جس طرح سے برباد کیا ہے میں کبھی بھی کسی کے ساتھ بھی آباد نہیں ہو سکتی ہوں مجھے نفرت ہے تم سے مجھے گھن آتی تمہارے قریب آنے سے تم نے مجھے اس جرم کی سزا دی جو میں جانتی تک نہیں تھی۔۔۔ اس سے اچھا ہوتا تم مجھے جان مار ڈالتے۔ مجھے قتل کر دیتے ۔۔۔ میرے لئے وہ اذیت شاید کم ہوتی لیکن تم نے تو مجھ سے میری زندگی ہی چھین لی ہے مجھ سے جینے کا ہسنے کا حق چھین لیا ہے مجھے جیتے جاگتے وجود سے ایک بے جان زندہ لعش بنا دیا ہے ” مہرونساء اپنے حواسوں میں نہیں تھی سامنے فاضل کی شکل میں اسے حازم نظر آنے لگا تھا
زکی یسرا فاضل اور باقی سب لوگ جو وہاں موجود تھے مہرو کو ہونق بنے دیکھ رہے تھے ۔۔
فاضل سب سے ذیادہ پریشان تھا کیونکہ اس وقت اس کا گریبان مہرنساء کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔
وہ اسے جھنجھوڑ کر روتے ہوئے بلکتے ہوئے بول رہی تھی ۔۔
” مہرونساء ہوش میں تو ہیں آپ ” فاضل نے اسے پکار کر ہوش دہلانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ لیکن وہ کسی اور ہی ٹرانس میں تھی ۔۔
زکی مہرونساء کے پاس آ گیا اسکے ہاتھ سے فاضل کا گریبان چھڑوایا ۔۔۔
” مہر ہوش آؤ”
یک دم ہی مہرونساء اپنے ٹرانس سے نکلی تھی سامنے کا بدلہ ہوا منظر دیکھ کر بد حواس سی ہوئی تھی زکی اسے ہی۔ دیکھ رہا تھا
بہت دن بعد اس پر یہ دوراہ پڑا تھا ۔۔۔ اپنے اوپر سب کی نظریں مرکوز دیکھ کر گڑبڑاسی گئ تھی آنکھوں میں بتدریج آنسوں بہہ رہے تھے فوراسے وہاں سے باہر نکل گئ
اپنے کیے پر حد درجہ افسوس ہوا تھا
” اس شورٹ کو بعد میں کریں گئے ۔۔۔” یہ کہہ شکی بھی باہر مہرونساء پاس گیا تھا ۔۔۔
جو باہر کھڑی آنسوں بہا رہی تھی وہ اس کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا
” مہر آر یو آل رائٹ ؟” مہرونساء نے اثبات میں سر ہلایا
” مجھے گھر جانا ہے مجھے گھر چھوڑ دیں ” مہرونساء کے بہتے آنسوں پر اس کا اختیار ختم تھا
” او کے آئیں میرے ساتھ “
زکی اسے اپنی گاڑی کے پاس لے گیا گاڑی اب شہر کی جانب رواں دواں تھی مہرونسا بار بار اپنے آنسوں پونچ رہی تھی
” میں سے شادی نہیں کر سکتی ہوں زکی ” بات روتے ہوئے مہرونساء نے شروع کی تھی زکی نے ایک نظر اس پر ڈالی
” میرے لئے بہت مشکل ہے کسی بھی مرد کو اپنی زندگی میں شامل کرنا مجھے نہیں لگتا کہ میں آپ کو ۔۔۔۔ کچھ دے سکتی ہوں ” یہ الفاظ اس نے روتے ہوئے ہچکیوں تھی تھی کہ کے ساتھ ادا کیے تھے ۔۔
” مہر تم اس وقت اپ سٹ ہو مجھے نہیں لگتا کہ ہمہیں اس موضوع پر بات کرنی چاہیے ۔۔ ” زکی نے موضوع بدلنا چاہا تھا
” نہیں زکی میں جانتی ہوں کہ میں شادی کبھی نہیں کر سکتی نا ابھی نا ہی سالوں بعد
کچھ زخم ایسے بھی ہوتے ہیں جو لگتے تو انسان کے وجود میں ہی۔ لیکن گھائل روح کو کر دیتے ہیں اور روح پر لگے زخم ہمیشہ رستے رہتے ہیں کبھی نہں بھرتے ۔۔
میں شاید کبھی بھی ایک میری لائف نہیں گزار سکتی ۔۔۔ کبھی بھی نہیں ” مہرونساء کا انداز حتمی تھا ۔۔۔ ابھی بھی رو رہی تھی ۔۔ زکی نے ٹشو سامنے بکس سے نکال اس کی طرح بڑھائے تھے
مہرونساء نے وہ ٹشو ہاتھ میں لیکر آنسوں صاف کیے ۔۔۔
زکی نے مزید مہرونساء سے کوئی بات نہیں کے تھی بس اسے گھر اتارنے سے پہلے یہ ضرور کہا تھا
وہ اب آرام کرے شوٹنگ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے اگر اسے کچھ ڈسکشن کرنی بھی ہوئی تواس سے فون پر رابطہ کر لے گا ۔۔ ایک مہنے بعد ہی زکی کے طرف سے مہرونساء کے لئے نکاح کا جوڑا اور کچھ زیورات آئے تھے جو مہرونساء کی والدہ بہت خوش ہو کر مہرونساء کو دیکھا رہیں تھیں مہرونساء اپنی والدہ کے خوشی سے دھمکتے چہرے کو دیکھ کر چپ سی ہو گئ تھی اسے لگا تھا کہ شاید زکی اسکی باتیں سن کر خود سے انکار کر دے گا لیکن اس نے کوئی بات نہیں کی تھی مہرونساء
نے بھی کچھ نہیں کہا خود کو وقت اور حالات پر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا جانتی تھی کہ ابھی بس نکاح ہی ہونا ہے ۔۔۔ رخصتی میں ابھی دو سال ہیں
یا تو وہ خود کو شادی کے لئے راضی کر لے گی یا پھر زکی سے صرف نام تک کارشتہ رکھے گی ۔۔۔ اس لئے نکاح کے لئے تیار ہو گئ تھی لیکن خود کو ذیادہ سجایا نہیں تھا میک بھی زیب سے ہی کروایا تھا پارلر نہیں گئ تھی نکاح میں دونوں جانب کے لوگ ملا کے پچاس سے ساٹھ افراد تھے مہرونساء کو نکاح کے بعد زکی کے ساتھ بیٹھایا گیا تھا ۔۔۔ پہلی بار زکی کی نظروں سے وہ نروس ہوئی تھی پہلی بار وہ اسے بڑے حق سے دیکھ رہا اب تک دل کے بے جان سا مجسمہ لگنے لگا تھا
ہوش مہرونساء کے اس وقت اڑے جب زکی نے رخصتی کے لئے کہا تھا ۔۔۔
” انکل میں مہرو کو آج ہی رخصت کروانا چاہتا ہوں ” مہرونساء نے حیرت سے زکی طرف دیکھا تھا جو صرف اسکے والد کے جواب کا منتظر تھا مہرونساء کے وجود سے جان نکلنی شروع ہوئی جب نیاز صاحب نے بھی خوش دلی کا مظاہرہ کیا تھا ۔۔
” اب مہرونساء تمہاری امانت ہے رخصتی اب لے لو یا بعد میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ” مہرونساء کا جی چاہا صاف انکار کر دے کے وہ رخصتی سے انکار کر دے ۔۔۔ زکی نے مہرونساء کا ہاتھ تھاما تب اس کادل یکبارگی سے دھڑکا تھا ۔۔۔ لگتا تھا کہ اب کوئی اس کا حقدار ہے وہ کسی انجانی ڈور سے بندھ گئ ہے رخصتی سے پہلے اپنی والدہ اور زیب کے گلے لگ کر خوب روئی تھی ۔۔۔ گاڑی میں بھی خاموشی سے بیٹھی رہی یسرا اور فاضل اور زکی کے والدین پہلے ہی زکی کے فلیٹ میں پہنچ چکے تھے حدیقہ بیگم نے بہت اچھا بہوں کا استقبال کیا تھا مہرو کو سینے لگا کر دعائیں دیں تھیں فرحت محبت سے زکی کا ماتھا چوما تھا
لاونج سے پھولوں کو کمرے تک بچھایا گیا تھا یسرا کی ہمراہی میں مہرونساء۔ زکی کے کمرے میں گئ تھی کمرہ پھولوں سے سجا ہوا تھا ۔۔۔ لیکن مہرونساء پر صرف خوف طاری تھا ۔۔۔ یسرا نے ستائشی نظروں سے کمرے کو دیکھ کر کہا
” واؤ سر نے تو پہلے سے ساری تیاری تیاری کر رکھتی تھی اور مجھےاور فاضل سے کہہ رہے تھے
کہ میرا ارادہ تو بس نکاح کا تھا لیکن مہر دیکھ کر نیت بدل گئ ۔۔۔ ” یسرا کی بات نے دھڑکنوں کا ساز بجایا تھا ۔۔۔ لیکن دل میں کسی خوبصورت سے جذبے نے امنگ نہیں جگائی تھی بس خوف تھا ڈر تھا جو قطرہ قطرہ اسکی جان نکال رہا تھا
یسرا کچھ دیر تو مہرو سے باتیں کرتی رہی لیکن مہرونساء بس غائب دماغی سے سن رہی تھی بس ہوں ہاں میں جواب دے رہی تھی
دروازے کی دستک پر مہرونساء بری طرح سے چونکہ تھی لیکن اندر فاضل داخل ہوا تھا کمرے کو دیکھ کر کچھ سے تو دیکھتا ہی رہ گیا پھر مہرونساء کو بھابھی کہہ کر مخاطب کیا تھا
” زکی سے میری دوستی بھی بہت اس ناطے اب آپ میری بھابھی ہیں ۔۔۔ میں ایک اچھا دیور بھی ثابت ہو سکتا ہوں اور ویسا دیور بھی جو بھابھی کو خوب ستاتا ہے ۔۔۔ اس لئے جب بھی میرے آنے کی اطلاع آپ کو ملے آپ نے اچھے اچھے کھانے میرے اور میری بیوی کے لئے بنا کے رکھنے ہیں تب تو ہماری خوب جمنے گی ورنہ پھر ۔۔۔ ” فاضل مہرونساء کے بد حواس چہرے کو دیکھ کر بات ہلکے پھلکے انداز سے کر رہا تھا تا کہ وہ کچھ ریلکس ہو جائے لیکن وہ چپ تھی ۔۔۔
” ہاں آپ کو تو عادت ہے دوسروں پر اپنی بات مسلط کرنے کی ۔۔۔ چاہے سامنے والا ماننا چاہتا بھی ہو یا نہیں ۔۔۔ ” فاضل کو تیکھے لہجے میں یسرا کا جواب ملا تھا
” قصور تمہارا نہیں ہے تمہارے اندر بیٹھی ایک خاتون کا ہے ۔۔۔ جیسے یہ غم ستائے رہتا ہے کہ اس کا ہونے والے شوہر کا کسی سے کوئی افیر تو نہیں ہے ۔۔۔۔اگر ایسے ہے تو یہ تمہارا مسلہ ہے کیوں کے میں ایک چوکلیٹ ہیرو ہوں مجھ پر بہت لڑکیاں فدا ہوتی ہیں ۔۔۔ اور ہوتی رہیں گئیں ۔۔۔ تم یا تو ان باتوں کو سوچنا چھوڑ دو یا بھی دل ہی دل میں جلتی رہو ۔۔ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ٫ فاضل نے محسوس کیا تھا جب سے یسرا نے اس تصویر سے لڑکی کے بارے میں دریافت کیا تھا اس کے بعد وہ فاضل سے ٹھیک سے بات نہیں کر رہی تھی یسرا فاضل کے منہ سے سچ سن کر مزید دل جلانے لگی تھی مطلب وہ ہر بات جانتے ہوئے بھی یسرا کو نظر انداز کر رہا تھا ۔۔۔
یسرااٹھ کر کھڑی ہو گی اور فاضل کو کینہ توز نظروں سے دیکھتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئ فاضل بھی باہر جا چکا تھا ۔۔ کمرے کادروازہ بند تھا جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا مہرونساء کی دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہیں تھیں وہی خوف اور ڈر تھا جس سے وہ چھٹکارا حاصل نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر بعد زکی کمرے میں داخل ہوا تھا کمرے کے لاک ہوتے ہی مہرونساء کو لگا اس دل کسی نے مٹھی میں لیکر دبوچ دیا ہو ۔۔۔ مہرونساء اسے دیکھ کر خوف کے مارے بیڈ کے کراؤن سے جا لگی تھی ۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا بس اس شخص کا چہرہ الگ ہے اندر سے یہ بھی حازم جیسا ہی ہے ۔۔۔۔ زکی مہرونساء کی آڑی ہوئی رنگت چہرے پر چھائی اس کی بد حواسی دیکھ چکا تھا لیکن پھر بھی اس نے اپنے قدم نہیں روکے تھے ۔۔۔ جیسے جیسے وہ مہرنساء کے بیڈ کی جانب بڑھ رہا وہ دور کھسک رہی تھی ۔۔۔ چہرے سے لگ رہا تھا ابھی تو دے گی ۔۔۔
*******…….
“چلو آؤں تمہیں تمہارے گھر ڈراپ کر دوں ” فاضل نے یسرا سے کہا
” میرے پاس گاڑی موجود ہے میں خود جا سکتی ہوں ” یسرا نے تن کر جواب دیا
” تو پھر ۔مجھے ڈروپ کر دو میرااس وقت ڈرائیؤنگ کا بلکل موڈ نہیں ہے ” فاضل اس کے ساتھ ہی پارکنگ ایریا میں آ چکا تھا یسرا کی گاڑی ان لاک ہوتے ہی اس نے فرنٹ سیٹ سنبھالی تھی ڈرائیونگ سیٹ پر یسرا بیٹھ گئ ۔۔۔
گاڑی میں روڈ پر آتے ہی بات فاصل نے شروع کی تھی
” یسرا اتنی بڑی بات نہیں ہے جیسے تم ایشو بنا کر منہ پھلائے ہوئے ہو “
” ٹھیک کہاں آپ نے بات بڑی نہیں ہے لیکن میرا مسلہ بڑا ہے میرے اندر ایک شکی خاتون بیٹھی ہے ” یسرا نے تپ کر فاضل کئ بات دہرائی تھی
” مطلب تمہیں ساری زندگی میرے ساتھ یونہی گزارنی ہے ۔۔۔ میرا تعلق جس فیلڈ سے ہے میرے تو آئے دن لڑکیوں کے ساتھ اسکینڈل چھپتے رہتے ہیں تو کیا تم ہر بار مجھ سے ایسے ہی سوال وجواب کرو گی ” اس بار فاضل سنجیدہ تھا ۔۔۔
“ہاں یہی سمجھ لیں ” یسرا پہلے سے ہی تپی بیٹھی تھی اس لئے لہجہ بھی تیز تھا
” او کے ٹھیک ہے کرتی رہو شک ۔۔۔ میرا کیا جاتا اپنا ہی خون جلاؤ گئ ” فاضل بھی ماتھے پر تیوری چڑھائے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا ۔۔۔
‘ آخر آپ بتا کیوں نہیں دیتے کہ وہ لڑکی کون ہے ۔۔ فاضل میں نا تو آپ پر شک کر رہی ہوں نا ہی ہر لڑکی کے بارے میں پوچھ رہی ہوں مجھے معلوم ہے کہ ہم کس فلیڈ سے تعلق رکھتے ہیں اس لڑکئ کو دیکھ کر جو کچھ میں نے آپکی آنکھوں میں دیکھا ہے وہ کبھی کسی اور لڑکی کے لئے نہیں دیکھا ۔۔۔
وہ آپ کے لئے ایک عام سے فین نہیں ہے وہ کچھ خاص ہے ۔۔۔ ” یسرا کی آنکھوں اب نمی بھر آئی تھی فاضل اسے غور سے دیکھنے لگا تھا
پھر گہری سانس بھر کر بولا
” ہاں وہ میرے لئے بہت خاص اور ہمیشہ خاص رہے گی اس لئے کہ وہ میری پہلی محبت ہے ۔۔۔میں اسے کبھی بھی بھلا نہیں سکتا ہوں ” فاضل نے صاف اعتراف کیا تھا
” نام کیا ہے اس کا ؟” یسرا نے بڑے ضبط سے پوچھا تھا
” شرمینہ ” فاضل کے سامنے شرمینہ کا معصوم سا چہرہ گھومنے لگا تھا مسکراتا ہوا ۔۔۔ دل کے سارے تار بجاتا ہوا
