186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 26

Meri Jaan by Umme Hani

نا جانے کیوں لیکن یسرا کی آنکھوں سے آنسوں بہہ کر اس لڑکی کی تصویر پر گرنے لگے تھے ۔۔۔ فاضل شادی شدہ ہے ۔۔۔ تو پھر اسکی بیوی یہاں کیوں نہیں ۔۔۔ اور اگر وہ ناراض ہو کر بھی گئ ہے تو کبھی تو مجھ سے اس کاذکر کرتا ۔۔۔ مجھ سے کیوں چھپایا

یہ ایکٹر ہوتے ہی شاید ایسے ہیں اپنی رئیل لائف میں بھی ہیروئن کے ساتھ یوں دل لگی کرتے ہیں جیسے وہ کسی ڈرامے یا فلم کا حصہ ہوں اور جب بات شادی کی آتی ہے تو انہیں اپنی خاندانی لڑکیاں یاد آنے لگتی ہیں کیونکہ وہ عزت دار ہوتی ہیں ۔۔۔ اور ہم ۔۔۔محض ٹائم پاس ۔۔۔ ” نا جانے کیوں یسرا کو بے تحاشہ رونا آ رہا تھا ۔۔۔ اس نے وہ کتاب بند کی اور اس کے بیڈ پر ہی بیٹھ گئ ۔۔۔ بس اب دوبارہ فاصل سے بات تک نہیں کروں گی نا ہی اسکے ساتھ کوئی ڈرامہ کروں گی بہتر ہے میں اس سے دور ہی رہو ۔۔۔ بسایک چار وہ واپس آ جائے ترس کہ اسکی والدہ کہ ذمہ داری سے میں آذاد ہو جاؤں ۔۔۔ پھر دل نے یہ سوال کیا کہ تمہیں اس مطلبی شخص کی والدہ کی اتنی پروا کیوں ہے تم کل ہی واپس چلی جاؤ وہ جانے اور اسکی ماں جانے اسکی ماں تمہاری زمہ داری تو نہیں ہیں “

ہاں یہ بات بھی ہے میں بھلا کیوں اسکی والدہ کی فکر کرو وہ میری ذمہ داری تو نہیں ہیں ۔۔ لیکن پھر بھی وہ اکیلی تو ہیں نا ۔۔۔ اور میں اس شخص کی طرح بے حس نہیں ہوں جو مشکل وقت میں ایک بوڑھی خاتون کو اکیلا چھوڑ دوں ۔۔۔ نا جانے کون سی بے چینی تھی وہ خود ہی فاصل کے خلاف بات کر رہی اور اندر ہی اندر اسکی والدہ کی فکر بھی سرا رہی تھی انہیں سوچوں کے تانے بانے بنتے ہوئے وہ سو گئی تھی ۔۔۔ رات کے تین بجے ڈور بیل بجی تھی ۔۔۔ فاضل کی والدہ کی آنکھ کھل گئی اس وقت کون ہو سکتا ہے ۔۔۔ وہ اپنا نظر کاچشمہ پہنے باہر لاونج میں آ گئی ۔۔۔ جب میں دروازہ کھولا تو حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں تھیں سامنے فاضل اور انابیہ کھڑے تھے بنا اطلاع کے وہاں پہنچے تھے تا کہ اپنی والدہ کو سرپرائز دے سکیں

اسکی والدہ نے سب سے پہلے انابیہ کوسینے سے لگایا تھا وہ بھی ماں کی ساتھ لگ کر آبدیدہ ہو گئ تھی ۔۔۔

“تم دونوں ؟” وہ حریت سے بولیں

” کیسا لگا سرپرائز ” فاضل نے مسکرا کر ماں سے پوچھا

” مجھے بتا تو دیتے کہ کہ تم دونوں آ رہے ہو میں نے تو آج کھانا بھی نہیں بنایا ۔۔۔ ” انہیں دونوں بچوں کی بھوک کی فکر ستانے لگی

” سب کچھ پلین سے کھا کر آئیں ہیں اور اس وقت سخت نیند آ رہی ہے ۔۔۔ ” فاصل خود سے ماں کے ساتھ لگ کر بولا اپنے لیگج اندر رکھے میں دروازہ بند کیا اور سیدھا اپنے کمرے میں جانے لگا فاصل کی والدہ سمجھی کہ یسرا انابیہ کے کمرے میں سو رہی ہے اس لئے انابیہ کو وہ اپنے کمرے میں لے گئی انہیں کہاں نیند آنی تھی جب تک بیٹی کی آواز نا سن لیتیں ۔۔۔۔ انابیہ کی قوت گویائی توواپسا چکی تھی لیکن بولنا نہیں آتا تھا جب تک کہ کوئی اسے پروپر طور پربولنا نا سیکھاتا ۔۔۔ وہ بس امی کہنا ہی سیکھی تھی وہ فاصل نے بڑے جتن سے سیکھایا تھا ۔۔۔۔ فاضل اپنی دھن میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا لیکن سامنے بیڈ پر لیٹی لڑکی کو دیکھ کر دنگ سا رہ گیا تھا ۔۔ کچھ دیر اسے اپنے بیڈ پر سورا دیکھ کر بے یقنی سے دیکھتا رہا پھر اپنے سر کی پشت پر خود کو تھپکی لگائی

” افف کب تک یونہی خوابوں میں آ آ کر تنگ کرو گی مجھے ۔۔ اب تو یہ عالم ہے کہ جاگتی آنکھوں سے بھی مجھے تم ہی نظر آتی ہو ۔۔۔ وہ اپنے بیڈ کے قریب بڑھا تب بھی یسرا کا سویا ہوا تصور غائب نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ کچھ اور قریب ہوا تو حیرت کا جھٹکا سا لگا تھاوہ سب مچ سو رہی تھی یک دم سے وہ پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔

یسرا اور یہاں ” کمرے میں حبس اور گرمی تھی صرف پنکھا ہی چل رہا تھا فضل نے اے سی آن کیا یسرا پر لحاظ اڑھایااسر کمرہ بند کر کے باہر نکل گیا لاونج پر رکھے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔

” شاید امی کی تہنائی کاسوچ کر رک گئ ہو گئ ۔۔۔سس خیال نے امڈنے والے پیار میں اصافہ کیا تھا

” ہاؤ سوئٹ کتنا حساس سے بھرا خوبصورت سا دل ہے اس لڑکی کا ۔۔۔ ” نا جانے کس خوبصورت سے خیال کے زیر اثر اس نے کشن سر کی جگہ پر رکھااور صوفے پر ہی دراز ہو گیا ۔۔۔ سفر بہے تھجادینے والا تھاا اس وقت نیند ہی شدت سے آ رہی تھی ۔۔۔ اس لئے پانچ منٹ بھی نہیں لگے اسے نیند کی آغوش میں جاتے ہوئے ۔۔۔۔

*******……..

زکی نے چند دوسری لڑکیوں کو بلوایا تھا جوڈرامپ میں کام کر رہیں تھیں ۔۔۔ کیونکہ یسرا انکار کر چکی تھی ۔۔۔ لیکن کوئی بھی اسکے معیار پر پوری نہیں اتر رہی تھی ۔۔ کیونکہ انکی ایکٹنگ ایکنٹنگ ہی لگ رہی تھی اس میں حقیقت کا رنگ نہیں تھا ۔۔

مہرونساء اسٹوری کمپلیٹ کر چکی تھی جب وہ اپنی فائل سمیت زکی کے آفس میں اندر داخل ہوئی تو وہ۔ پچھلی طرف سٹ پر تھا جہاں لڑکیوں کو چند مکالمات بولنے کے لئے دیے گئے تھے ۔۔۔ لیکن وہ کر نہیں پا رہیں تھیں ۔۔ مہرونساء کو نازلی نے زکی کے آفس میں بیٹھا دیااور خود زکی کو بتانے چلی گئ ۔۔۔ وہ لڑکیوں کی شہکاری قسم کی جذباتی اداکاری دیکھ کر زچ سا ہو گیا تھا۔۔۔ کوئی یوں مکالمات بول رہی تھی جیسے تقریر کر رہی ہو

کوئی مکالمات بولتے ہوئے بار بار اپنی لٹ کو پھونک مار کر پیچھے کرنے لگتی ۔۔۔ اور کوئی تو یوں سیدھے سے انداز میں بول رہی جیسے سبق سنا رہی ہو اور کچھ تو مکلمات پر ہی اٹکنا شروع ہو جاتی تھیں ۔۔۔ اب تک کوئی بھی یسرا کے سانچے میں نہیں ڈھل پا رہی تھی ۔۔۔ ایک تویسرا کے کے انکار کا بھی دکھ تھا اسے امید نہیں تھی کہ وہ یوں صاف منع کر دے گی دوسرا وہاں آنے والی لڑکیوں ادکارہ علاؤہ تھا پوری فیشن کی دوکان بن کر آئیں تھیں ۔۔۔ تقریبا سب لڑکیاں ہی زکی کی ریجکشن فہرست میں شامل ہوچکی۔ تھیں جب نازلی نے اسے مہرونسا کی آمد کی اطلاع دی ۔۔۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ سامنے ایک کے بعد ایک لڑکی اپنے جوہر دیکھا رہی تھی ۔۔۔

نازلی کی اطلاع پر وہ کھڑا ہو گیا ۔۔۔

” نازلی آپ انہیں واپس بھیج دیں یہ سب ریجکٹ ہیں” یہ کہہ کر زکی اپنے آفس کی طرف بڑھ گیا جیسے ہی اپنے آفس میں داخل ہوا مہرونساء احتراماً اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی

” ارے بیٹھیں مس مہر اس تکلف جی ضرورت نہیں ہے ۔۔” زکی کو مہرونساء کا فارمل ہونا اتنا اچھا نہیں لگا تھا وہ سامنے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا

اور مہرنسا سے فائل لیکر اپنے پاس رکھ لی ۔۔

” میں کہانی کمپلیٹ کر چکی ہوں اس لئے مجھے نہیں لگتا کہ اب میری یہاں کوئی ضرورت ہے ۔۔۔”

” یہ تو میں کہانی پڑھنے کے بعد ہی بتا سکتا ہوں ہو سکتا مجھے کچھ ردوبدل کروانا پڑے ۔۔ “

” آپ پڑھ لیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اسکی کوئ ضرورت ہو گی ۔۔۔ آپ نے جیسی اسٹوری مانگی تھی میں نے ویسی ہی لکھی ہے ۔۔ “

” یہ میں آپ چند دن بعد ہی بتا سکتا ہوں جب یہ کہانی پڑھ لوں گا آپ کیا لیں گئیں مہر ٹھنڈا یا گرم ” مس مہرونساء کے بجائے وہ اسے صرف مہر کہہ رہا تھا ۔۔

” نو تھنکس میں اب جانا چاہوں۔ گی مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو کہانی پڑھنے کے بعد کوئی اعتراض ہو گا مجھے آپ سے یہ بھی کہنا ہے کہ میں سٹ پر آنا نہیں چاہتی نا ہی شوٹنگ کے دوران آؤں گی ۔۔۔ اگر اسٹوری میں کچھ بھی چینج کرنا ہو توآپ مجھ سے فون پر رابطہ کر لیجیے گا ” مہرونساء یہ کہہ کر چلی گئ ۔۔۔ زکی اس کی کہانی کی فائل لیکر بیٹھ گیا ۔۔۔ اور ساتھ ہاتھ میں ایک بال ہیں بھی پکڑ لیا ۔۔ تاکہ جو سین یا جو ڈائیلاگز سے اچھے نا لگیں وہ انہیں ٹک مارک کر دے گا ۔۔۔زکی کا ارادہ تو یہی تھا کہ کچھ دیر وہ اسٹوری پڑھے گا اور پھر گھر چلا جائے گا تین چار دن میں وہ کہانی کو مکمل پڑھ کر اسکی غلطیوں کو نکال کر ہی مہرو سے بات کرے گا کیونکہ اکثر اسے رائٹر کے بہت سے نظریات سے اختلاف ہوتا تھا اس لئے وہ بہت باریک بینی سے اسٹوری کو پڑھتا تھا اور نواسے غیر ضروری سین یا بار لگتی تھی وہ اسے ختم کر دیتا تھا ۔۔۔ اور مہرونساء کے ” میری جان ” ناول کو وہ پڑھ چکا تھا ۔۔۔ بے شک ” عزت ” کہانی اس سے بہت مختلف تھی لیکن وہ چند صفوں کا افسانہ تھا جسے زکی پڑھ کر متاثر ہو تھا اور اب وہ ایک ناول کی صورت میں اسکے سامنے تھا ۔۔۔

لیکن جیسے جیسے وہ ناول پڑھ رہا تھا اسکی دل چسپی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ دو گھنٹے گزر چکے تھے نازلی بھی چھٹی کے لئے اجازت مانگنے زکی کے پاس آ چکی تھی زکی نے سے جانے کی اجازت دے دی اور پھرسے کہانی کو پڑھنے لگا ۔۔۔ مسلسل پانچ گھنٹے تک وہ اس کہانی سے نظریں نہیں ہٹا پایا تھا اور آخر تک پڑھ کر ہی اس نے فائنل بند کی تھی ہاتھ میں پکڑا پین ویسے کا ویسے ہی پکڑا رہ گیا تھا کچھ بھی ایسا نہیں تھا اسے وہ کاٹتا ایسا لگ رہا تھا کہ زکی کی سوچ کی عکاسی مہرونساء نے قلم بند کی ہو حالانکہ زکی نے اس دن مہرونساء سے بس سرسری سی بات کی تھی لیکن جس طرح سے اس نے قلم کا جوہر دیکھایا تھا زکی کی عقل حیران تھی ۔۔۔۔

” مائنڈ بلونگ ۔۔۔ مس مہر دل جیت لیا آپ نے ۔۔۔ کمال کا لکھتی ہو بھئ ۔۔۔ پہلی بار کوئی ایسی لکھاری ملی ہے جس نے میری سوچ کو لفظوں میں بڑی خوبصورتی سے پرویا ہے ۔۔۔ زبردست ” وہ اس وقت اتنا خوش تھا کہ چہرے پر ایک مسکان سی ٹہر گئ تھی ۔۔

لیکن جب وقت پر نظر دوڑائی تو رات کے دو بج رہے تھے “

زکی کو لگا تھا چار پانچ دن اسے بس کہانی کو اپنے مطابق بنانے میں وقت درکار ہو گا لیکن وہ چند گھنٹوں میں ہی مہرونساء کے قلم کا قائل ہو چکا تھا ۔۔۔

اگلے روز اسے ارمان کی کال آ گئ تھی ۔۔۔ رسمی سی سلام دعا کے بعد وہ پوچھنے لگا کہ مہرو اس کے ساتھ کام کس طرح سے کر رہی ہے ” ارمان کاسوال زکی کو کچھ عجیب سا لگا تھا

” میں سمجھا نہیں ارمان ۔۔ مہرنیرء ویسے ہی کام کر رہیں جیسے کوئی رائٹر کرتی ہے کچھ رائٹر ہرسین میں ساتھ ہوتے ہیں لیکن کچھ ایسی بھی ہوتی۔ ہیں جو ایک بار ہی لکھ کر دے دیتی ہیں اور پھر سیٹ پر آنا پسند نہیں کرتیں اور ہم فورس بھی نہیں کرتے مہر نے جس طرح کہانی کاہر سین اور ہر پہلو جس انداز سے لکھا ہے مجھے نہیں لگتا کہ انہیں اب آنے ضرورت ہے ” زکی کی بات سن کر ارمان برجستہ بولا

” میں چاہتا ہوں کہ تم اسے سیٹ پر لازمی بلاؤ”

” وہ کیوں ؟ وہ تو صاف منع کر چکیں ہیں “

” لیکن تم اسے فورس کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کام کرے دیکھو زکی وہ تنہائی کا شکار ہو کر رہ گئ ہے

اگر تمہارے ساتھ سٹ پر رہے گی ایکٹرز سے ملے جلے گی تو زندگی کی طرف لوٹنے لگی ۔۔ میرا تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا ۔۔۔ پلیز تم اسے ہر شورٹ پر بلایا کرنا ” ارمان کئ مہرو کے لئے فکرمندی دیکھ کر اس نے ہامی بھر لی

******…….

حازم سب کے ساتھ ڈنر کر رہا تھا ۔۔۔ جب شائستہ بیگم نے سب کے سامنے ہی یہ بات چھڑ دی

” رفعت تم ہی سمجھاؤ اس لڑکے کو کب تک یہ شرمینہ کے غم کو سینے سے لگائے رکھے گا ہم چاہتے ہیں کہ اب یہ اپنا گھر بسا لے ” اپنی والدہ کی بات سن کر حازم اپنی والدہ کو کن اکھیوں سے دیکھا تھا

” مما آپ مجھ سے شادی ذکر کا ذکردوبارہ مت کیجیے گا ۔۔۔۔ مجھے کسی سے بھی شادی نہیں کرنی ۔۔ میری زندگی میں مزید کسی کی گنجائش نہیں ہے ” حازم کا لہجہ سخت ہوا تھا ۔۔۔ اس دل میں تو ابھی شرمیںنہ کا غم بھی تازہ تھا

” شائستہ حازم کی زندگی میں جس نے آنا تھاوہ آ چکی ہے ۔۔۔ شادی بھی وہ کر چکا ہے مجھے بس اس بات کی حیرت ہے کہ مہرونساء کو اپنے ساتھ یہاں کیوں نہیں لایا ” رفعت بیگم کے منہ سے سن کر حازم کے ہاتھ سے چمچ چھٹا تھا وہ ہر وقت چپ چپ سی رہتی تھیں انہیں دیکھ ایسا ہی لگتا تھا سمجھ بوجھ ختم سی ہو چکی ہے ۔۔۔ لیکن حازم کو انکی اس بات نے حیران کیا تھا پہلے جہاز میں بیٹھتے ہوئے بھی انہوں نے ایسا ہی کچھ کہا تھا تو کیا وہ جانتی تھیں کہ مہرونساء شرمینہ نہیں ہے مہرو ہے ؟ سائےہ بیگم اور سہیل صاحب حازم کو حیرت سے آنکھیں پھیلائے دیکھ رہے تھے ۔۔ حازم کچھ متذبذب سا بھی ہوا تھا ۔ لیکن فورا ہی سنبھل گیا

” آپ لوگ مجھے یوں کیوں دیکھ رہے ہیں پھپو کی ذہنی حالت کا پتہ نہیں ہے آپ کو ؟؟وہ ،رمینہ کی موت کو قبول نہیں کر پائیں ہیں ۔۔۔ جو کہ میں آتا ہے کہتی رہتی ہیں ۔۔۔ ” حازمنے مہرونساء سے شادی بس بدلے کے لئے کی تھی اس لئے اپنے ماں باپ کو اس بات سے انجان ہی رکھا تھا ۔۔۔

” نہیں حازم میں جانتی ہوں شرمینہ مر چکی ہے مجھے مہرو نے بتایا تھا ۔۔۔ ” رفعت بیگم پھر سے بولیں

” کون مہرو پھپو ۔۔۔۔ آپ کھانا کھائیں ۔۔۔ پھر آپ کو میڈسن بھی دینی ہے ۔۔ کل میں آپ کو ڈاکٹر پر لیکر جاؤں گا آپ کی ا چیک بھی کروانا ہے اچھا یہ بتائیں کہ واپسی پر۔ لنچ میں کیا کھائیں گئیں ” حازم رفعت بیگم کو باتوں میں سلجھانے لگا وہ بار بار بھول جاتیں اگر اگلی بار ان سے کی جاتی تو وقتی طور پروہ پچھلی بات یکسر بھول جاتی ہیں اب بھی بھول گئیں تھیں ۔

” ہاں مجھے لنچ تو کرنا ہی ہے ۔۔۔۔ لیکن ت۔ہیں تو پتہ ہے کہ میں شرمینہ کے ساتھ ہی لنچ کرتی ہوں بس اسی کے ساتھ کر لوں گی ” وہ پھر اپنی کیفیت میں واپس آ گئیں تھیں

” سن لیا آپ لوگوں نے ۔۔۔۔ آپ پلیز پھپو کی باتوں کو سنجیدگی مت لیا کریں ” حازم نا جانے کیوں اپنی صفائیاں دے رہا تھا

” تم رفعت کو چھوڑو اپنی کہو ہم تمہیں سارہ زندگی برباد کرنے تو نہیں دے سکتے ۔۔۔۔ شادی کے لئے اگر تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے تو تم بتا دو ۔۔۔ ” سہیل صاحب نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا

” ابھی کوئی نہیں ہے جب ہو گی تو بتا دوں گا فی الحال مجھ سے شادی کی امید مت رکھیں ” یہ کہہ وہ کرسی سے اٹھ کر ڈائینگ روم سے باہر چلا گیا

آج کل تو بات بات پراسے بساءک ہی لڑکی یاد آتی تھی وہ تھی مہرونساء ۔۔۔

********……..

فاضل جب صبح اٹھا تو معلوم ہوا کہ یسرا جا چکی ہے ۔۔۔ وہ کچھ متعجب سا ہوا تھا

“جا چکی ہے ۔۔؟ مجھ ملے بنا ہی ” ” فاضل کو حیرت سی ہوئی پھر زکی کی کال آنے لگی

” کہاں ہو ہیرو ؟” زکی فاضل سے کافی بے تکلف سا تھا کچھ۔ فاضل کا مزاج بھی ایسا ہی تھا کہ وہ بہت جلد بے تکلف سا ہو جاتا تھا چاہے وہ اسکے ساتھی ایکٹرز ہوں یا ڈاریکٹرز

” بس یار رات کو پہنچا ہوں ابھی ابھی سو کر اٹھا ہوں آج شام تک آتا ہوں تمہارے پاس ” جمائی لیتے ہوئے بولا ۔۔

” ہاں پہچوں تم ۔۔۔ کافی دن سے میں بہت بڑی الجھن میں پھنسا ہوا ہوں ۔۔۔ کوئی ہیروئن میری کہانی پر فٹ نہیں ہو رہی ہے اگر یسرا مان جاتی تو

میری ساری پریشانی ختم ہو جاتی ” زکی فکرمندی سے بول رہا تھا

” تم فکر مت کرو میں یسرا بات کرتا ہوں وہ مان جائے گی ” فاضل کو یہ لگ رہا تھا کہ وہ یسرا کو منا لے گا ۔۔۔ شام کو جب وہ زکی سے مل کر واپس گھر آیا تو اس کی والدہ شام کی چائے بنا رہیں تھیں جب وہ انابیہ کے کمرے میں آیا اس وقت یسرا انابیہ کے پاس بیٹھی اسے بولنا سیکھا رہی تھی

” انو کہو میں۔۔۔۔ ٹھیک۔۔۔ ہوں ” یسرا ایک ایک لفظ جما کر بول رہی تھی اور انابیہ اس کے پیچھے اٹک اٹک کر لفظ دہرا رہی تھی

” مم۔۔میں ۔۔۔۔ٹھٹھییک ۔۔۔ ہوؤں” بچپن سے انابیہ نے صرف اشاروں کی زبان سمجھی تھی اس لئے لفظوں کو بولتے ہوئے وہ حد درجہ ہچکچاہٹ کا شکار تھی ۔۔۔ فاصل مسکراتا ہوا انابیہ پاس جا کر بیٹھ گیا یسرا انابیہ کے سامنے اس کے بیڈ پر بیٹھی تھی فاصل کو دیکھ کر چونک سی گئ تھی

” لیکن ۔۔ میں ۔۔ بلکل ۔۔ ٹھیک۔۔ نہیں ۔۔۔ہوں ۔۔۔ ” انابیہ کے بجائے وہ یسرا کو دیکھ کر دھیرے سے بولا ۔۔۔ وہ کچھ ناراض ناراض لگ رہی تھی ۔۔

فاضل کو بلکل نظر انداز کر گئ تھی

” انو میں سب چلتی ہوں مجھے شورٹنگ پر جانا ہے ہم کل پھر سے پریکٹس کریں گئے او کے ” فاضل کو پہلی بار یسرا کی بے رخی کا سامنا ہوا تھا ۔۔۔

اس لئے کتنا حیران ہوتااتنا کم تھا نا توان کے بیچ کوئی لڑائی ہوئی تھی نا ہی کوئی بحث بظاہر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا جس پر یسرا یوں خفا ہوتی

” انو تمہیں امی کچن میں بلارہیں ہیں جاؤں جا کر انکی بات سنو ” فاضل نے سب سے پہلے تو انابیہ کو منظر سے غائب کرنا چاہا ۔۔ انابیہ اٹھ کر چلی گئ یسرا نے بھی اپنا پرس بازو پر لٹکایا اور

اٹھ کر کھڑی ہو گئ اس سے پہلے کے وہ باہر جاتی فاضل س کے سامنے کھڑا ہو گیا یسرا دائیں جانب سے جانے لگی تو دائیں جانب آ گیا بائیں جانب سے جانے لگی تو بائیں جانب یسرازچ ہوتے ہوئے اسے گھور کر دیکھا تووہ اسے مزاق میں انھیں نکسل کر دیکھانے لگا ۔۔

” فاضل پیچھے ہٹیں ۔۔۔ مجھے شوٹنگ پر جانا ہے “

“ہاں تو جاؤں نا روکا کس نے ہے ۔۔۔ ” وہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا ۔۔۔ یسرا جس طرف سے جانے لگتی وہ وہیں کھڑا ہو جاتا

” فاضل پلیز ” یسرازچ ہوئی تھی وہ ہسنے لگا

” انابیہ کے ساتھ میں بھی پردیس سے واپس آیا ہوں مجھ تو ناسلام نادعا نا ہی کوئی کوئی دریافت کی کہ فاصل کیسے گزرے دن رات ” فاضل کا،وہی انداز تھا شوخ سا مزاق کی آمیزش لئے ہوئے

” یہ پوچھنے کے لئے اور بہت ہیں آپ کر پاس ۔۔ میرے پاس اتنا فارغ وقت ہر گز نہیں ہے کہ اس قسم کی فضول باتوں میں وقت ضائع کرتی رہو ” بڑے اسپاٹ لہجے میں وہ یہ کہہ کر چلی گئ

فاضل اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا وہ بھی بڑی حیرت سے ۔۔۔ اس کے بعد تو یسرا نے اسکی کوئی کال ہی اٹینڈ نہیں کی تھی نا ہی کسی میسج کا جواب دیا تھا ۔۔۔ یسرا نے عید کے حوالے سے پیش کیے جانے والے ایک ہی اپسوڈ کا کام لیا تھا جس کا آخری سین وہ کسی اور ہیرو کے ساتھ پیکچرائز کر رہی تھی اور اس میں اسے ہیرو سے محبت کااظہار کرنا تھا ۔۔۔ وہ بھی ہیرو کی آنکھوں میں دیکھ کر ۔۔۔ اب تک اس نے صرف فاضل کے ساتھ ہی کام کیا تھا یا بھی ایکسڑا رول کے طور پر وہ کسی ہیروئن کی بہن بن کر آتی تھی یا دوست وغیرہ اس لئے وہاں کسی ہیرو کے ساتھ اس قسم کے اظہار کا موقع نہیں ملا تھا ۔۔۔

لیکن برا یہ ہوا کہ عین ٹائم فاضل وہاں پہنچ گیا تھا اس کے لئے یہ معلوم کرنا مشکل نہیں تھا کہ یسرا کس ڈرامہ میں کام کر رہی ہے ۔۔۔ پہلے اس لڑکے نے یسرا سے اپنی چاہت کا اظہار کیا تھا ۔۔۔ اب یسرا کی باری تھی۔ لیکن اسی وقت کیمرہ مین کے ساتھ کھڑے فاضل پر اس کی نظریں جا پڑیں تھیں۔۔۔

جو اسے حد درجہ غصے سے دیکھ رہا تھا نا جانے کیوں ہوتا نروس سی ہو گئ تھی ۔۔ دل کی دھڑکنوں میں عجیب سا دھمال شروع کر دیا تھا ۔۔۔

” میں ۔۔۔تمم سے ۔۔۔۔ ” یہ کہنے بعد وہ سارے مکلمات ہی بھول گئ تھی۔۔۔ سارا ٹمپو یسرا کا فاصل کی نظروں سے ٹوٹ چکا تھا

” کٹ ۔۔کٹ ۔۔ کٹ ” ڈاریکٹر نے سین کٹ کروایا تھا

” یسرا واٹس تانگ ود یو ۔۔۔۔۔ تم جیسی سپر ہٹ ایکڑیس بھی اب مکلمات بھولنے لگی گی تو ہو گیا کام “

” ایم سوری سر۔ پھر سے رپیٹ کرتے ہیں ” یسرا نے ایک بار پھر اسکریٹ کو نظریں دوڑائیں لیکن کسی تیز اور غصیلی نظر اسکااحاطہ کیے ہوئے تھیں وہ چسہ کر اپنا اعتماد قائم نہیں کر پارہی تھی ایک دو بار اس نے چور نظریں فاضل پر ڈالیں تھیں جو بنا کسی لحاظ کے صرف اسے دیکھ رہا تھاوہ بھی غصے سے یسرا نے تین سے چار بار وہ سین دہرایا لیکن ہر بار وہ اٹک جاتی تھی ۔۔۔

” ایم سوری سر میں اسوقت یہ سین نہیں کر سکتی اسے کل کمپلیٹ کر لیں گئے ۔۔۔ “

” او کے یسرا مجھے لگ رہا ہے آپ میںٹلی کچھ ڈسٹرب ہیں آپ گھر جائیں ۔۔۔ ” ڈایکٹر نے بھی اسے چھٹی دے دی تھی ۔۔۔ جیسے ہی وہ وہاں سے باہر نکلی فاضل اسی کی گاڑی کے ساتھ م

ٹیک لگائے کھڑا اسی کا انتظار۔ کر رہا تھا ۔۔ وہ نظریں چراتی ہوئی اپنی گاڑی کے پاس آئی تھی

” کیا ہم بات کر سکتے ہیں ” ؟

” بڑے غصے سےفاضل نے پوچھا تھا

” نہیں مجھے گھر جانا ہے پھر کبھی صحیح ” یسرا نظریں چرا کر بولی تھی۔ غصہ اس بات پر تھا کہ کب اپنی بیوی موجود ہے اس کے پیچھے کیوں پڑا ہے وہ کوئی کھلونا تو ہر گز نہیں ہے جس کا جی چاہے وہ اسے جذبات سے کھیلے”

” یسرا مجھے تم بات کرنی ہے وہ بھی ابھی۔۔ ” وہ بھپرے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا نا اسے یسرا کی بے اعتنائی سمجھ آ رہی تھی نا اپنا قصور ۔۔۔ یسرا نے بڑی تیکھی نظر اس پر ڈالی تھی

” آپ کے حکم کی غلام نہیں ہوں میں کہ آپ بات کرنا چاہیں تو اپنے کام چھوڑ کر آپکی خدمت میں حاظر ہو جاؤں ہٹیے سامنے سے ۔۔” جس قدر وہ تیز لہجے سے بولی تھی ایک آگ سی جوفاول کے اندر جا لگی تھی ۔۔۔ وہ پیچھے ہٹ گیا یسرا گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلی گئ ۔۔۔

اگلے روز وہ ڈرامے کا آخری سین کے بھی کر چکی تھی اس لئے زکی سے اس نے اسکے ڈرامہ کرنے کی ہامی بھر لی تھی لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ڈرامہ ہیں ہیرو کا کردار فاضل کر رہا ہے ۔۔۔ تمام کریکٹرز کمپلیٹ ہو چکے تھے جب زکی نے مہرو کا کال کی تھی

” جی مسٹر زکی کہیے “

” مہر مجھے آپ سے صرف یہ کہنا تھا کہ نکسٹ عیکنپ۔ ایبٹ آباد شورٹنگ کے لئے جا رہے ہیں اس لئے اپنارخت سفر چاند لیجیے گا “

” جی ” مہرونساء نے حیرت سے پوچھا تھا

” مسٹر میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکی تھی کہ میں ان سب کا حصہ نہیں بن سکتی ہوں ۔۔۔ “

” دیکھیں آپ کی کہانی میں بہت کمی ہیں کچھ

میری مرضی کے مطابق نہیں کے بہت نا تجربہ کار ہیں آپ بہت سیکھنے کی ضرورت۔ ہے آپ کو ۔۔۔ اس لئے آپ کا ہمارے ساتھ جانا بہت ضروری ہے۔۔۔ میں ارمان سے بات کر چکا اور غالباً وہ آپکی فیملی سے اجازت لے چلے ہیں ۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس پر مزید بات کرنے کی ضرورت ہے آپ سنڈے کے دن صبح تیار رہیے گا ۔۔۔ میں آپ کو خود پک کرنے آؤں گا “

” مجھے کہیں نہیں جانا اور ارمان بھائی کون ہوتے ہیں مجھ سے پوچھے بنا آپ کو اجازت دینے والے ؟” مہرونساء چڑ کر بولی تھی اسی بلکل بے خبر رکھ کر ارمان نے اس کے اتنافیصلہ کیا بھی کیسے تھا

” آپ کے کزن ۔۔۔ بہنوئی اور ۔۔۔ شاید بھائی بھی ۔۔۔۔ ارمان نے یہ سب رشتے مجھے بتائیے ہیں مجھےبتو لگا تھا آپ اپنے اکلوتے بہنوئی کو بہت ویلو دیتی ہوں گئ آخر تین تین رشتے ارمان نے بڑے مان سے مجھے بتائے تھے وہ کہہ رہا تھا مہر انکار کر ہی سکتی مجھے بڑا بھائی سمجھتی ہے ۔۔۔ میں نے تو ارمان سے بہت کہاں کہ مہر کچھ نہ چڑھی سے لگتیں ہیں ان سے پوچھ لو تو بہتر ہے یہ نا ہو کہ جب میں سارے انتظام کر لو تو وہ صاف انکار کر دیں لیکن وہتو بڑے دعوے کر رہا تھا کہہ رہا تھا میں جو کہہ رہا کہ مہر جائے تو توسوفیصد جائے گی ۔۔۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ مجھے انکار کرے ۔۔۔ میں اب سارا انتظام کرواچکا ہوں مس ۔مہر

” بڑے آرام سے زکی نے اڈے باتوں کے جال میں الجھایا تھا ۔۔۔ مہرونساء تو پہلے تواس بات تپ سی گئ تھی ساس کی کہانی پر اتنی تعریفوں کے بعد منت سماجت کر کے زکی نے اس سے ایگریمنٹ سائن کروایا تھا،اور اب اسکی تحریر میں نقص نکال رہا تھا ۔۔ اتنا ہی تجربے کار رائٹر چاہیے تھاتو اسکی منت کیوں کی تھی ابھی تو اس پر بھی بات نہیں کر پائی تھی کہ ارمان کی بات سے اسے ایموشنل بلیک میل کر رہا تھا ۔۔۔ جانتی تھی کہ ارمان اس کے لئے بہت فکر مند رہتا ہے یہ بھی پتہ تھا کہ ارمان اس کے لئے ایسے دعوے بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ مہرونساء کے ساتھ بلکل بڑے بھائیوں جیسا ہی رویہ رکھتا تھا ۔۔۔ رمان کی بات وہ واقع نہیں ٹالتی تھی اس لئے فون بند کر گئ ۔۔ زکی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئ تھی دوسری کال اس نے ارمان کو کی تھی

” مبارک ہو ارمان تمہاری ترکیب کام کر گئ ہے ۔۔۔ “

” سچ میں ؟ واقع مہرو مان گئ ہے ؟ ” ارمان نے بے یقینی سے پوچھا

” نیم رضا مندی ہی سمجھو جیسے جیسے میں دعوے تمہارا نام لیکر مہر کو دیے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ وہ منع کر سکتیں ہیں “, زکی کو یقین تھا وہ مان جائے گی

“, تھنک یو سو مچ زکی تم نہیں جانتے کہ تم نے ۔یری کتنی بڑی مشکل کو آسان کیا ہے ۔۔۔ بس ایک بار وہ اپنے غم۔ سے باہر آ جائے تو بلکل ٹھیک ہو جائے گی ” ارمان بہت خوش تھا ۔۔۔

مہرونساء ایک الجھن میں پڑ گئ تھی ۔۔۔ ارمان کو منع نہیں کر سکتی تھی لیکن گھر سے باہر جانا۔ نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ ا

نا جانے کون اسے پہچان کر اس پرانگلیا اٹھاتا ۔۔۔ کسی سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ سر پکڑے بیٹھی تھیں کہ کیا کرے اور کیا نا کرے