Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 10
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 10
Meri Jaan by Umme Hani
” اس وقت مہرونساء حازم کے حصار میں تھی ۔۔۔ فواد کا نام بے اختیار مہرونساء کے منہ سے سن کر ایک دلفریب سی مسکراہٹ نیند کی غندوگی میں بھی حازم کے چہرے پر پھیلی تھی
مہرو نساء نے اس کے ہاتھ خود سے پیچھے کیا اور اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔ پورا وجود ہی درد سے چور تھا
پوری رات اس نے حازم کے جنون اور وحشت کی نظر کی تھی ۔۔۔ حازم نے ذرا بھی نرمی نہیں دیکھائی تھی اسکے لکھے ہر لفظ کو اس پر آزمایا تھا شادی ایک مقدس رشتہ ہے۔۔۔ اور ایک دوسرے کے احساسات کو بڑے پیار اور اپنایت سے سمجھنے کا نام ہے ۔۔۔۔
لیکن اس ایک رات میں مہرونساء نے شادی کے نام پر صرف اذیت سہی تھی ناقابل برداشت اذیت ۔۔
حازم نے مہرونساء کا زیور اتارا نہیں تھا بلکہ نوچا تھا ۔۔۔ کان پر زخم۔۔۔ گلے پر گلوبند یک دم نوچ کر اتارنے سے گلے پر زخم ۔۔۔ چوڑیوں والی کلائی کو جس زور سے پکڑ کر اس نے دبوچ کر چوڑیوں کو اتارا تھا کئ کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ کر مہرو کے ہاتھ کو چیرتی ہوئی اتری تھیں کوئی فرق نہیں تھا سامنے بیٹھے حازم اوراسکے کتے میں ۔۔۔ ایک جانور کو انسان کے روپ دیکھا تھا
مہرو کا چیخنا تڑپنا رونا اس شخص کے جنون کے آگے بے معنی تھا ۔۔۔ مہرو نساء کو نہیں لگ رہا تھا کہ وہ شوہر کے ساتھ ہے بلکہ یہ محسوس ہو رہا تھاکہ کسی درندے نما انسان کی ہوس کا نشانہ بن رہی ہے ۔۔۔ صبح اس میں اتنی ہمت بھی باقی نہیں تھی کہ اپنے قدموں سے چل سکے ۔۔ وہ بیڈ کے کروانے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ تھی رات سہی جانے والی اذیت اس کے چہرے پر رقم تھی ۔۔۔ آنکھیں رو رو کر سوج چکیں تھیں
برابر میں سوئے اس کے سفاک شوہر کی ایک یہی تو فرمائش تھی کہ اسکے آنسوں رکنے نہیں چاہیے اور پوری رات مہرو نساء کے آنسوں جاری رہے تھے ۔۔۔ مہرو نساء کو اس شخص سے نفرت تو اسی وقت ہو چکی تھی جب یہ معلوم ہو تھا کہ وہ اسے اغوا کر کے لایا ہے لیکن جتنی نفرت اس وقت محسوس ہورہی اس کی کوئی حد ہی نہیں تھی برابر لیٹے شخص پر وہ ایک نظر ڈالنے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔۔ حازم نے خمار آلود آنکھیں کھول کر مہرونساء کے ستے ہوئے چہرے کو دیکھا تھا پھر مخمور لہجے میں بولا
” میری جان رات بھر میں نے اتنی محبت تم پر نچھاور کی ہے اور نیند میں تم میرے رقیب جاں کا نام لیکر اٹھو تو یہ تو میرے ساتھ ذیادتی ہے ۔۔۔ ” مہرونساء نے اسکی طرف ایک نظر نہیں ڈالی تھی چہرے پر ناگواری سی عود آئی تھی
رخ موڑے ہی بیٹھی رہی وہ ہنس کر اٹھ کر بیٹھ گیا بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگائی اور اپنا چہرہ مہر کے کندھے پر رکھ اسے استزائیہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ کر دھیرے سے بولا
” تم نے تو مجھے یہ احساس دلا دیا مہرونساء کہ رات بھر کا میرا پیار ابھی بھی تم سے کم تھا جبھی تو تم اپنے سابقہ عاشق کو بھول نہیں پائی ۔۔۔ ” حازم کی طنز سے بھری باتیں اور زہر خند لہجہ سہنے سے بہتر تھا کہ وہ اٹھ کر چلی جائے اس لئے نقاہت کے باوجود وہ بیٹھ سے اٹھنے لگی لیکن اگلے ہی لمحے وہ اس کے دوسرے کندھے پر بازو پھیلا کر اسکے دوسرے کندھے کو پکڑ کر خود سے قریب کیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے دونوں جبڑے ہاتھ میں لیکر اس کے چہرے کارخ زبردستی اپنی جانب کیا اور زور سے دبایا کہ مہرونساء بلبلا اٹھی تھی لیکن وہ قہر بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا
” میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے میری جان ۔۔۔ اور اگر کوئی میری بات پوری سنے بنا ہی اٹھ کر جانے کی کوشش کرے تو بہت برا لگتا ہے مجھے ۔۔ائندہ خیال رکھنا ” یہ کہہ اسے چہرے کو چھوڑ دیا ۔۔۔ لیکن اسے اپنے پہلو سے جدا نہیں کیا تھا
نا چاہتے ہوئے بھی مہرونساء کی آنکھوں سے آنسوں کی سطح بلند ہونے لگی آنکھیں آنسوں سے بھر گئیں تھی اگر ایک بار بھی آنکھیں جھپکتی تو وہ آنسوں بہہ جاتے
حازم کا غصہ کم ہونے لگا تھا بڑی دلچسپی سے وہ اسکی آنسوں سے بھری ہوئی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا جو شاید رخسار پر گرنے کو تیار تھے لیکن ابھی گرے نہیں تھے ۔۔۔۔
” واؤ ؤاٹ آ بیوٹیفل یور آئز ۔۔۔۔ پتہ ہے مہرونساء تمہاری جھیل جیسی آنکھوں میں یہ ٹہرے ہوئے آنسوں مجھے کتنے اچھے لگتے ۔۔۔ کسی خوبصورت جھرنے کا منظر میرے سامنے آنے لگتا ہے
تمہاری آنکھوں میں بھرے ہوئے آنسوں دیکھ کر کاغان کی آنسوں جھیل کا گمان ہونے لگتا ہے جانتی ہو مجھے کبھی بھی سیف الملوک کی خوبصورت جھیل ۔۔جسے لوگ دور دور دیکھنے آتے ہیں کبھی اتنا متاثر نہیں کرتی تھیں جتنی یہ آنسوں جھیل کرتی ہے۔۔ دور سے دیکھنے پر گمان ہوتا ہے کسی عورت کی خوبصورت آنکھ ہے جس میں آنسوں کی سطح اس قدر بلند ہے اگر ۔۔۔۔ اگر وہ آنکھ کو جھپک بھی لے وہ ساری آنسوں جھیل بہہ کر ختم ہو جائے گی ویران سی لگنے لگے گی اسکی خوبصورتی ماند پڑ جائے گی اس لئے وہ بھری ہوئی جھیل کا منظر جب میں تمہاری آنکھوں میں دیکھتا ہوں ۔۔۔ چسٹ واو۔۔۔۔ تم سوچ نہیں سکتی کتنا پیار آتا ہے مجھے تم پر اس لئے ہر وقت اپنی آنکھوں میں آنسوں کی سطح کو بلند رکھنا اور آنسوں کو پلکوں کی باڑ سے بہنے نا دینا ۔۔۔ ورنہ مجھے بہت برا لگے گا مہرونساء ” آخری جمعلہ اس نے مصنوعی معصومیت سجا کر گھمبیر لہجے میں کہا پھر ہسنے لگا اور اپنا بازو مہرو سے پیچھے ہٹا لیا
” اب جاؤں فریش ہو جاؤ “
مہرو نساء اٹھ کر دھیرے سے چلتی ہوئی کمرے میں موجود واڈ روب تک پہنچی تھی اسے کھول کر دیکھا تو بہت سے لیڈیز کپڑے پہلے سے موجود
تھے مہرونساء کو پہلے حیرت ہوئی تھی وہ تو سمجھی تھی کہ الماری میں مردانہ کپڑے ہی ہوں گئے لیکن شاید وہ اسے یہاں لانے کی پوری تیاری کر چکا تھا مہرونساء نے ایک سادہ سا لباس نکالا اور واش روم چلی گئ ۔۔۔ سامنے واش بیسن کے سامنے لگے شیشے پر اپنا زخمی کان اور گردن دیکھ کر سسکیوں سے رونے لگی
(سلطان راؤ نے مرحا سے زبردستی نکاح کرنے کے بعد
اس کے زیورات کو اتارنے کے بجائے نوچنا شروع کیا تھا ۔۔ سب سے پہلے سر پر پہنے عروسی ڈوپٹے کو کھنچ کے اتار کر زمین پر پھنکا تھا مرحا تڑپ کر رہ گئ تھی بال پن سے بالوں کے ساتھ ڈوپٹے کو سجایا گیا تھا جب اسے یوں بے دردی سے نوچ کر اتارا گیا تو وہ بلبلا سی اٹھی تھی ۔۔۔ لیکن آج تواس کاعاشق جنون خیزی منانے کے موڈ میں تھا اس سے کہنے لگا” یہ تمہارے تھپڑ کا جواب ہے” مرحا گھبرا کر پیچھے ہٹنے لگی ۔۔
” خدا کے لئے مجھ پر رحم کھاؤں”, مرحا نے ہاتھ جوڑ کر اسکی منت کی تھی لیکن اس وجاہت سے بھرپور نوجوان پر تو بدلے کابھوت سوار تھا
” کیوں رحم کروں تم پر سب کے سامنے تم نے مجھے تھپڑ مارا تھا اس کی گونج تو آج تم ایسی سنو گی کہ ساری زندگی یہ گونج تمہارے کانوں میں آتی رہے گی ” اسکے بعد مرحا کا چلانا رونا سلطان راؤ پر بے اثر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔اسےچاپنے ناول کا سین یاد آنے لگا تھا ۔۔ اپنے ناول میں وہ ایک وہیات قسم کے لفظوں کے استعمال سے میاں بیوی کے مابین قائم ہونے والے رشتے کو لکھتی تھی جس میں بہودگی اور جنونیت کے علاؤہ کچھ بھی شامل نا ہوتا تھا ) مہرو نساء کی رات ایسی ہی تو گزری تھی اس درندے صفت پرستار نے اسے اس کے ہر ناول کی وڈنگ نائٹ یاد دلوائی تھی یہاں تک کہ اسے ہیرو کے پورے مکالمے سنائے تھے ۔۔
جس کو کبھی وہ مسکراتے ہوئے قلم بند کرتی تھی
آج سہنے سے قاصر تھی اپنی گردن پر زخم دیکھ کر رونے لگی تھی ۔۔
جب وہ شاور لیکر باہر آئی تو کمرہ خالی تھا ۔۔۔ بس سامنے صوفے کے پاس ایک ٹرے موجود تھی جس میں ناشتہ رکھا تھا ۔۔ وہ کل دوپہر سے بھوکی تھی اس لئے دھیرے سے چلتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئ
صرف ایک بوائل ایگ ایک سلائس اور ایک کپ چائے کے علاؤہ اور کچھ نہیں تھا ۔۔ مہرونساء کو اس وقت بھوک اس۔ شدت کی لگی تھی کہ اگر دو تین پراٹھے بھی ہوتے تو وہ کھا جاتی وہ ناشتہ اسکی بھوک کے سامنے بہت کم تھا اس نے بوائل ایک کو نائف سے کاٹ کر سلائس پر لکھا اور کھانے
لگی لیکن پہلے ہی نوالے نے حلق سے نیچے اترنے سے انکار کیا تھا
کافی گھنٹوں سے وہ بھوکی پیاسی تھی اس لئے حلق بکل خشک ہو چکا تھا سامنے رکھے پانی کے جگ سے اس نے پانی گلاس میں ڈالا اور پانی کے ساتھ ہی بریڈ کو نگلنے لگی ۔۔۔
چائے بھی اس نے عجلت میں پی تھی ناشتے سے کچھ سکون تو ملا لیکن بھوک نہیں مٹی تھی ۔۔ حازم جب دوبارہ کمرے میں آیا تو وہ ناشتہ کر چکی تھی ۔۔۔ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اس کے پاس پہنچا تھا ۔۔۔ دھڑام سے اس کے برابر صوفے پر بیٹھ گیا مہرو نساء پیچھے کھسک گئ پھر خالی برتن دیکھ کر مہرونساء کو دیکھ کر بولا
” ناشتہ پر میرا انتظار بھی نہیں کیا تم نے ۔۔۔ ویری بیڈ مہرونساء شادی کے کس پہلا ناشتہ میرے بغیر ؟ ” حازم نے یوں کہا جیسے بہت ڈھیر سارا ناشتہ اس کے پاس رکھا ہو
” مجھے اور بھوک لگی ہے ” مہرو نے نظریں چراتے ہوئے کہا
” لیکن اس سے ذیادہ نا شتہ ملے گا نہیں میری جان ” حازم کی بات پر اس نے نا فہمی سے اسے دیکھا
” کیا مطلب ؟
” دیکھوں سوئٹ ہارٹ یہ تمہارا میکہ تو ہے نہیں۔ جو تمہاری مرضی چلے نا ہی تمہارے سابقہ عاشق کا گھر ہے کہ جہاں تمہارے ناز نخرے اٹھائیں جائیں ۔۔۔ تم میری بیوی ہو اور میں تمہیں بس اتنی ہی خوراک دوں گا جس سے بس تم سانس لے سکو زندگی کے نام پر بس تمہاری سانسیں چلتی رہنی چاہیے ۔۔۔ ” اس بار وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔۔۔انکھوں میں یک دم وحشت سی اتری تھی ” اس کے بعد اس کا ہاتھ تھام کر کمرے سے باہر لے گیا نیچے کا زینہ اتر کر اسے ایک طرف لے گیا اور سامنے بنے چھوٹے سے کچن میں لے جا کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا کچن بس اتنا تھا کہ جو چھ قدم چلتے ہی ختم ہو رہا تھا وہاں اسٹو پر بڑے بڑے پیتلے رکھے تھے ۔۔۔ شلف پر سبزیاں اور چکن موجود تھا جو مقدار میں کافی سارا تھا
” پندرہ لوگوں کا کھانا بناؤ ۔۔۔ سب کچھ یہاں موجود ہے “
مہرو ان کودیکھ کر حیران ہوئی تھی اتنے لوگوں کا کھانا اس نے پہلے کبھی بنایا تھی نہیں تھا
” میں کیسے بناسکتی ہوں “
” کیوں اب پکانا بھی نہیں آتا تمہی کیسی رائٹر ہو یار اپنی ہیروئن سے تو اچھے خاصے کام کروا لیتی تھی بیچاریاں صفائی کپڑے دھلائی خانہ داری سب کچھ کرتی تھی اس کے بعد بھی تھکتی نہیں تھی جاب پر چلی جاتیں تھی۔
اور تم خود ہو کہ پندرہ افراد کا کھانا بنانا بھی تمہیں مشکل لگ رہا ہے ” حازم کے طنز سن سن کر وہ زچ سی ہو گئ تھی اس لئے لہجہ بھی اسی کی عکاسی کر رہا تھا
” میں نے کبھی اتنا کھانا نہیں بنایا “
” ٹھیک ہے میں ایک ملازمہ کو بھیجتا ہوں آج وہ تمہاری مدد کر دے گی لیکن کل سے تم ہی سب کچھ بناؤں گی ” یہ کہہ کر وہ کچن سے باہر نکل گیا کچھ دیر بعد وہی عورت کچن میں داخل ہوئی جو اسے پہلے نمبو پانی دینے آئی تھی وہ بس مہرونساء یہ بتاتی رہی کہ اسے پکانا کیسے ہے سب کچھ مہرونساء خود ہی کاٹ رہی تھی ۔۔۔ کھانا بنانے کے بعد ہی وہ پھر سے نڈھال سی ہونے لگی تھی بھوک تو اسے پہلے سے لگ رہی تھی ۔۔ روٹیاں بازار سے آ چکیں تھیں مہرونساء نے جلدی سے سالن پلیٹ میں ڈالا اور شلف کر رکھ کر ہی روٹی ہاتھ میں پکڑ کر ابھی پہلا نوالا ہی توڑا تھا کہ حازم نے اس کے ہاتھ نوالہ چھینا تھا ۔۔
” یہ کونسا طریقہ ہے کھانا کھانے کا ؟ ایسے کھاتے ہیں کھانا ؟ اتنی بڑی لکھاری ہو کر دوسروں کو ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھا کر کانٹے چمچ سے کھانا کھانا سیکھانے والی خود چھوٹے سے ڈربے نما کچن کی گندی سی شلف کر پلیٹ رکھے پسینے سے شرابور
یوں روٹی کھاتی ہوئی رائٹر کہاں جچتی ہے میری جان ۔۔۔ ” اس وقت مہرونساء کا یہ حال تھا اگر اسے روٹی نا ملی تو شاید بے ہوش ہو جائے گی۔۔
” پلیز مجھے بھوک لگی ہے مجھے کھانا کھانے دو ” مہرونساء اپنی بے بسی کی انتہا سے گزر رہی تھی کھانے کی پلٹ حازم نے اس سے پیچھے کر دی
” حازم ۔۔۔ حازم نام ہے میرا ۔۔مجھے حازم کہا کرو ۔۔۔ کھانا ہم ضرور کھائیں جان من لیکن یوں نہیں ویسے جیسے محلوں میں رہنے کھاتے ہیں ۔۔۔
تمہارا بھی قصور نہیں ہے تم مڈل کلاس گھرانے سے آئی ہوئی لڑکیوں کے بارے میں لکھ لکھ ویسی ہوتی جا رہی ہو لیکن سوچوں نا سوئٹ ہارٹ میں تو سوٹٹ بوٹٹ قسم کی بندہ ہوں مجھے بہت برا لگے گا اگر میری بیوی یہ جاہلانہ طریقے اپنائے گی ۔۔ جاؤں اپنے کمرے میں جاؤں فرش ہو جا کر ایک اچھا لباس پہنو پھر لنچ کریں گئے ۔۔۔ ایک ایک لمحہ وہ مہرونساء کا صبر آزما رہا تھا اس وقت اس شخص سے بحث کرنا ہی فضول تھا ۔۔ وہ اپنے کمرے واپس آ گئ ۔۔۔ نا رکنے والے انسوں تھے جو وہ بہا رہی تھی
” پاپا اب لوگ کہاں ہیں ۔۔۔ کہاں ہیں آپ لوگ ؟ مجھے ڈھونڈ کیوں نہیں رہے ۔۔۔ مجھ تک جلد پہنچ جائیں نا پاپا ۔۔۔ مجھں سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا اس سیاد کی قید سے مجھے رہائی دلا دے کوئی ایک ایک لمحہ یہاں گزارنا مشکل ہے ۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔۔
اور وہ کمرے میں اسے ایل ای ڈی پر دیکھ کر ہنس رہا تھا ۔۔۔ ہاتھ میں جلتا ہوا سگریٹ موجود تھا
” یہ تو ابھی شروعات ہے مہرونساء تم تو ابھی سے
تھکنے لگی بڑی کھٹن لمبی مسافت ہے جو تمہیں یہاں میرے ہر ظلم کو سہہ کر طے کرنی ہے ۔۔۔ ” بڑا زہر خند لہجہ تھا ۔۔۔ یہ زہر تو پچھلے کئ مہینوں سے اس کے وجود میں خون کی طرح سے گردش کر رہا تھا ۔۔۔ سگریٹ سےخاءک گہرہ کش لیکر اس نے باقی لاسگریٹ وہیں کارپیٹ پر گرایا اور پاؤں سے مسل کر کمرے سے باہر نکل گیا
*******…….
یسرا کو اشتیاق صاحب نے ڈرامہ کرنے صاف انکار کر دیاتھا وہ نہیں چاہتے تھے کچھ بھی ایسا ہو کہ جو سجیلہ کو نا گوار گزرے ۔۔ وہ اپنے ڈرامہ میں سجیلہ کو ہی ہیروئن میں سائن کرنا چاہتے تھے اور زکی کو اس بات کا علم نہیں تھا ۔۔۔ یسرا پریشان تھی والدہ اب بیمار رہنے لگیں تھیں بہنوں کے اخراجات بڑھ گئے تھے اور آجکل تو یسرا سے چھوٹی بہن کے رشتے آ رہے تھے یسرا اس پر بھی سنجیدگی سے سوچ رہی تھی چاہتی تھی کہ بہنوں کی شادی جلد کر دے ۔۔۔ تا کہ اس میڈیا کے دلدل سے بھی نکل سکے ۔۔ اب تک عزت بچائے ہوئے کام کر رہی تھی ۔۔۔ زکی اور اشتیاق صاحب ایسے ڈاریکٹرز میں سے تھے کہ عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اپنے کردار پر محنت کے علاؤہ غلط ڈیمانڈ نہیں کرتے تھے ۔۔۔ نا ہی انکی نظریں غلط تھیں وجہ یہ تھی۔ یہ کام ان کا خاندانی تھا
پہلے اشتیاق صاحب کے والد کرتے تھے اس وقت ہندوستان اور پاکستان ایم قومیت تھی سب مل کر ٹی وی اور فلم انڈسٹریز چلاتے تھے ۔۔۔ حیااور پاکیزگی کی چادر اوڑھے ہی ایک با مقصد فلمیں اور گانے پیکچرائز ہوتے تھے ۔۔۔ بےحیائی اور فحاشی کو گلیمرائز نہیں کیا جاتا تھا جواجکل رومانس لازمی حصہ سمجھا جانے لگا ہے ۔۔۔ لیکن اشتیاق صاحب ڈرامے کو بے دور جدید کے مطابق بنانے لگے تھے لیکن کبھی کسی ہیروئن اور خواتین اداکاروں کے ساتھ کبھی غلط ڈیمانڈ نہیں کی تھی ۔۔۔ جو بیت سے ڈاریکٹرز کرتے تھے ۔۔۔۔ یسرا نے دو ڈرامے اشتیاق صاحب کے ساتھ ہی کیے تھے ۔۔۔ لیکن سب اسے وہاں سے بھی جواب ہو گیا تھا ۔۔ اس لئے کچھ ایسے ڈاریکٹر جن کی گزشتہ داموں کے کام کے دروان یسرا کو کال آ رہی تھیں کام کی آفر بھی تھی اس وقت تویسرا کو زکی نے ہیروئن کا کردار دینے کی آفر کر دی تھی اس لئے یسرا نے صاف انکار کر دیا تھا لیکن اب مجبورا یسرا کو انہیں سے رابطہ کر کے اپنے لئے کام مانگنا پڑ رہا تھا ان میں ایک نوجوان ڈاریکٹر نے اسے ہوٹل کاایڈریس دیااور وہاں کے کلب میں لے گیا حالانکہ کے یسرا شلوار قمیض میں آئی تھی ۔۔۔ وہ ڈاریکٹر نشے میں پہلے سے دھن تھا یسرا کے ساتھ پہلے تو ڈانس کرنے لگا کہنے لگا اسے پاس یسرا کے لئے جو رول ہے وہ ایک کلب ڈانسر کا ہے اس لئے وہ پہلے اس کے ساتھ ڈانس کر کے اسکا کانفڈنس دیکھنا چاہتا ہے ۔۔ یسرا حد درجہ گھبرائی تھی اس وقت ہاتھ بلکل خالی کا کام کی اشد ضرورت تھی اس لئے مجبورا اس کے ساتھ ڈانس فلور پر ڈانس کرنے لگی لیکن فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی تھی جسے مخالف شخص اسکی یہ کوشش نا کام کرتے ہوئے اسے اپنے حصار میں جھکڑ چکا تھا پھر اس کے کزن کے قریب جا کر بولا
” اگر تمہیں کام چاہیے تو اس کے لئے مجھے خوش کرنا پڑے سوئٹ ہارٹ ۔۔ میں تمہیں اپنے ڈرامہ میں ہیروئن کارول دے دوں گا ” اپنی گرفت یسرا کے گرد مضبوط کرتے ہوئے وہ نشے کی خماری میں کہہ رہا تھا
” مجھے چھوڑی۔ پلیز میں اس قسم کی ایکٹر نہیں ہوں مجھے نہیں چاہیے کوئی بھی کام ” یسرا کی بات پر وہ نوجوان کمینگی سی ہنسی ہسنے لگا
” اوہ رئیلی یسرا ۔۔۔ کس دنیا میں رہتی ہو تم جس میڈیا سے تم ریلٹو ہو وہاں آنے سے پہلے عزت کو اتار کر ٹاٹا بائے بائے کہا جاتا پھر اندر آنے کی اجازت ملتی ہے ۔۔۔ یہ کہہ کر وہ پھر سے ہنسا
” سیدھا سیدھا کہو کہ تم اپنے ریٹ بڑھانا چاہ رہی ہو ” یہ بات سن کر تو یسرا کے کانوں کی لوسرخ ہوئیں تھیں یسرا نے ہاتھ اس کے سینے پر رکھ پوری قوت لگا کر اسے دھکا دیا تھاوہ نوجوان دور جا گرا تھا
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اس قسم کی بدتمیزی کرنے کی ” وہاں موجود سب لوگوں کی نظریں اب یسرا اور اس نوجوان پر تھیں ۔۔۔
وہ لڑکا کھڑا ہو کر یسرا کو مغلیات بکنے لگا
” او یو بلڈی بیچ بکاؤ عورت تمہاری اتنی ہمت کے کہ تم میرے ساتھ یوں پیش آؤں ذ”وہ دھاڑتے ہوئے بولا زکی تو سن کر بپھر سا گیا تھا اس کا گریبان پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور مارنا شروع کر دیا ۔” شرم نہیں آتی تمہیں ایک شریف لڑکی کو گالی دیتے ہوئے ۔۔۔ ” زکی نے اس کے منہ پر مکا مارا تھا اس سے پہلے کے وہ طیش میں مزید اسے لہو لہان کر دیتا وہاں موجود سب لوگوں نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے پیچھے کیا
” تم کون ہوتے ہو بیچ میں آنے والے اس کے کے بھائی باپ یا دلال ۔۔۔ ” وہ شخص بنا لحاظ کے منہ میں ا رہا تھا بول رہا تھا زکی کو چند لڑکیوں مضبوطی سے جکڑ رکھا تھا
” زبان سنبھال کے بات کروں ورنہ جان سے مار ڈالوں گا تمہیں ۔۔۔ ” زکی بے قابو سا ہونے لگا تھا سجیلہ تو اسے اتنے غصے میں دیکھ کر دم بخود رہ گئ تھی اس لڑکے کے ناک سے خون بہہ رہا تھا ۔۔
چار پانچ لڑکوں نے اسے بھی پکڑ رکھا تھا کچھ وہ نشے میں بھی تھا اس لئے زیادہ قوت نہیں لگا پا رہا تھا لڑکے اسے کھینچ کر کلب سے باہر لے گئے
یسرا رونے لگی تھی اپنا تماشہ بنانا نہیں چاہتی تھی لیکن بن چکا تھا زکی یسرا کے پاس آ گیا
” چلیں میرے ساتھ آپ کو گھر چھوڑ دوں ” یہ کہہ کر زکی نے آگے قدم بڑھا دیے ۔۔ یسرا اس کے پیچھے چلنے لگی پھر زکی سجیلہ کے پاس جا کر رک گیا
” چلیں یہاں سے ؟ ” زکی کے پوچھنے پر وہ بھی کلب سے باہر نکل گئ یسرا گاڑی میں بیٹھی بھی رو رہی تھی
” کون تھا یہ یہ کمینہ انسان ” زکی سب بھی غصے میں تھا سوال اس نے پیچھے بیٹھی یسرا سے پوچھا تھا لیکن جواب گاڑی ڈرائیو کرتی سجیلہ نے دیا تھا ۔
” ایک نیا ڈاریکٹر ہے ۔۔۔ ڈرامے بناتا ہے ” سجیلہ اسے اچھی طرح سے جانتی تھی اس کے ساتھ ڈرامہ بھی بنا چکی تھی ۔
” یسرا آپ اس کے پاس کیا کرنے گئ تھیں ؟ زکی کو حیرت ہوئی تھی کہ جب وہ اسے کام دے رہا تھااور اسے شہرت کی بلندیوں تک پہچانا باہر تھا تو اسے کیا ضرورت تھی کسی اور کے پاس جانے کی
” مجھے کام کی ضرورت تھی ۔۔۔ اسی سلسلے میں اس نے مجھے یہاں بلایا تھا مجھے لگا رسٹورنٹ میں کھانے دروان سب باتیں تہہ کرنی ہوں گی لیکن وہ مجھے کلب لے آیا اور غلط ڈیمانڈ کرنے لگا ۔۔۔ اس لئے مجھے غصہ آ گیا ” یہ بات سن کر تو زکی کو اور بھی غصہ آنے لگا کہ کب وہ کام دے رہا تھاوہ کسی دوسرے پاس گئ ہی کیوں
” یہ ع سی بات ہے یسرا ۔۔ کوئی انوکھی یا انہونی بات تو نہیں جس پر۔ یوں ریایکٹ کر رہی ہو ۔۔۔ ” سجیلہ کے لہجے میں طنز تھا
” میں ایسی لڑکی نہیں ہوں اور نا ہی کام کے لئے عزت کا سودا کر سکتی ہوں ۔۔۔”
” تم پلیز کبھی دیر چپ ہو جاؤں سجیلہ ” زکی نے سب سے پہلے تو سجیلہ کو خاموش کروایا جو صرف طنز کے نشتر ہی چلا رہی تھی
” آپکو کام کی کیا ضرورت پڑ گئ تھی یسرا جب۔ میں آپ سے کہہ چکا تھا کہ آپ میرے ڈرامے میں ایز آ ہیروئن کام کریں گئیں ” زکی کی بات سن کر گاڑی کو یکلخت بریک لگی تھی ۔۔۔ سجیلہ کو یہ خبر کسی بم دھماکے کی طرح سے لگی تھی سجیلہ کے نام کے نیچے کیا کیا ہو رہا تھا ۔۔ زکی ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ہوئے بچا تھا پیچھے بیٹھی یسرا بھی آگے کو جھک گئ تھی
” یہ تم پر کیس افتاد ٹوٹ پڑی ہے گاڑی اگر چلانی نہیں آتی تو اٹھو یہاں سے میں چلا لیتا ہوں ” یوں مین روڈ پر گاڑی کو اچانک بریک لگانے سے کوئی بھی حادثہ پیش آ سکتا تھا ۔۔۔ سجیلہ فوراسے سنبھلی تھی اس وقت روڈ پر گاڑیوں کا ذیادہ رش نہیں تھا پھر دوبارہ سے گاڑی چلانے لگی یسرا سے اس کا گھر پوچھنے لگی یسرا نے اپنے گھر سامنے گاڑی رکوائی پسماندہ ساعلاقہ دیکھ کر سجیلہ ناک چڑھانے لگی ۔۔۔ یسرا اتر کر اپنے گھر چلی گئ ۔۔۔ سجیلہ گاڑی دوبارہ میں روڈ پر لے آئی
” رہتی کہاں ہے یہ ہنہ۔۔۔ جھونپڑے میں اور نخرے دیکھوں اس کے کیسے پارسا بنی پھرتی ہے ” ” سجیلہ نے اپنی جلن نکالنے کی کوشش کی تھی
” وہ پارسا ہے ۔۔۔۔ اچھی لڑکی ہے وہ ۔۔۔ ” زکی کی بات سجیلہ کو سرے بھی سے لگا گئ تھی
” بس ساری دنیا تمہیں وہ اچھی لگی ہے ورنہ کوئی اور تو اسے منہ بھی لگانا پسند نا کرے ۔۔۔ خیر مجھے کیا ۔۔۔ میرے وقت تھوڑی ہے کہ ان جیسی کمی کمین لڑکیوں کو ڈسکس کرو ” سجیلہ نخوت بھرے لہجے سے بولی زکی کو اسکی بات سن کر حد درجہ افومسوس ہوا تھا لیکن بولا کچھئ نہیں جانتا تھا اس بیوقوف لڑکی سے بات کرنا پی فضول ہے “
*******…….
فواد چپ نہیں بیٹھا تھا ۔۔۔ اس نے پولیس سے نا امید ہو کر میڈیا کا سہارا لیا تھا میڈیا پر فواد کی ویڈو کلپ چلتے ہی آگ کی طرح سے پھیلی تھی مہرونساء کو نئ نسل اچھی طرح جانتی پہچانتی تھی اور پھر ایسی گرما گرم خبروں کو میڈیا ہائی لائٹس کر کے بیان کرتا تھا تا کہ پیسے کما سکے ۔۔۔۔
“میری ہونے والی بیوی گھر سے خود نہیں بھاگی اسے اغوا کیا گیا ہے ۔۔۔ میں یہ بات حلف کہنے کو تیار ہوں کہ یہ کسی نے سازش کی ہے اور وہ جو کوئی بھی ہے جہاں بھی اگر مجھےسن رہا ہے تو اچھی طرح سے جان لے میں اسکی چنگل سے مہرونساء کو نکالے بنا چین سے نہیں بیٹھوں گا
پہلی بار موبائل پر یہ خبر دیکھتے ہوئے حازم کو پانی پیتے ہوئے اچھو سا لگا تھا ۔۔۔
