Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 13
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 13
Meri Jaan by Umme Hani
مہرونساء تیزی سے اس جیپ کی فرنٹ سیٹ کی طرف پہنچی تیز برستی بارش جب ڈرائیورونگ سیٹ پر بیٹھے نفوس پر نظر پڑی تو اس کے ہوش اڑ گئے
حازم اسے ہی دیکھ رہا تھا مہرونساء سانس لینا تک بھول گئ تھی اس سے پہلے کے وہ پھر بھاگنے کی کوشش کرتی حازم اسکی کلائی پکڑ چکا تھا ۔۔۔
چیپ کے دروازے پر ایک لوئے کا کنڈا سا لگا تھا جس پر ہتھ کڑی لٹک رہی تھی ہتھ کڑی کا ایک کڑا اس کنڈے سے لوک تھا اور دوسرا کڑا حازم نے پل میں مہرونساء کی کلائی پر پہنا کر بند کیا تھا ۔۔
مہرونساء سوچنے سمجھنے سے قاصر ہوئی تھی
“یہ کیا کر رہے تم ۔۔ ہاتھ چھوڑو میرا ” اپنا ہاتھ ہتھ کڑی میں مقید دیکھ کر وہ بولی
” بہت شوق ہے تمہیں بھاگنے کا میری جان ۔۔۔ ” حازم کے چہرے پر نا حیرانی تھی نا تعجب نا غصہ کوئی تاثر ایسا نہیں تھا جیسا اچانک سے یہاں مہرونساء کو دیکھ کر ہونا چاہیے تھا
” حازم مجھے جانے دو ۔۔۔ میں نے تمہارا بگاڑا کیا ہے ۔؟۔ کس بات کی سزا دے رہے ہو مجھے ۔۔۔؟ دیکھوں تم میرا سب کچھ برباد کر چکے ہو ۔۔۔ میری عزت ۔۔۔ میری نام ۔۔ میری شہرت ۔۔ یہاں تک کہ فواد کی نظر میں مجھے گرا چکے ہو ۔۔۔ خدارا اب مجھے جانے دو ۔۔۔ میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ” مہرونساء کو نا تیز برستی بارش کی ہوش تھی نا سنساں راستے کی پروا بس وہ حازم سے چھٹکارا چاہتی تھی ۔۔ روتے ہوئے حازم کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی
” جو کچھ میں نے تمہارا برباد کیا ہے مہرونساء میرا نقصان اس سے کئ زیادہ بڑھ کر ہے ۔۔۔تم زندگی بھر بھی تڑپتی رہو تب بھی میرے نقصان کی بھرپائی نہیں ہو سکتی ۔۔۔ تم جتنا مجھ سے بھاگنے کی کوشش کرو گئ خود کو اور بھی مشکل میں ڈالتی جاؤں گی ۔۔۔ بھاگنا چاہتی ہوں نا تم ؟ میں بھگاتا تمہیں جب تک تم اپنے منہ سے یہ اعتراف نہیں کر لیتی کہ آئندہ تم بھاگنے کی کوشش نہیں کروں آج تم سب بھاگتی رہو گئ ۔۔۔ “۔ یہ کہہ کر حازم نے اپنی جیپ اسٹاٹ کی حازم کے ارادے کو بھانپ کر مہرونساء کی جان لبوں تک آئی تھی گاڑی کے اسٹاٹ ہوتے ہی گاڑی آگے بڑھنے لگی تھی مہرونساء کا ہاتھ ہتھ کڑی میں مقید تھا اور ہتھ کڑی کا دوسرا سرا گاڑی کے ساتھ اسلئے مہرونساء کو گاڑی کی اسپیڈ کے ساتھ بھاگنا پڑا رہا تھا ۔۔۔ چیپ کے اوپر ایک چمڑے کا کور تھا تا کہ بارش کا پانی زیادہ اندر نا آ سکے ۔۔ پہلے گاڑی کی اسپیڈ اتنی تھی جس سے مہرونساء تیز قدموں سے گاڑی کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ حازم سامنے دیکھ کر گاڑی چلا رہا تھا گاڑی کی اسپیڈ دھیرے دھیرے بڑھنے لگی تھی اب مہرونساء کو بھاگنا پڑا رہا تھا تیز برستی بارش میں وہ گاڑی کی اسپیڈ سے بھاگ رہی تھی ۔۔۔چند منٹ میں ہی بری طرح سے ہانپنے لگی تھی ۔۔۔
” حازم پلیز گاڑی رکو میں بھاگ نہیں پا رہی ہوں ” مہرنساء پہلے ہی بھاگ بھاگ کر تھک چکی تھی اور اب گاڑی کی اسپیڈ کا مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔۔ لیکن وہ خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا جسے کچھ سن ہی نا رہا ہو بلکل لا تعلقی برت رہا تھا ۔۔۔گاڑی کی اسپیڈ اتنی تیزتھی کہ مہرونساء اس کا مقابلہ بھاگتے ہوئے کر رہی تھی مسلسل تیز رفتار سے بھاگتے ہوئے مہرونساء کا تنفس بری طرح سے بگڑنے لگا تھا وہ رو بھی رہی تھی پاؤں شل ہونے لگے تھے پسینہ اور بارش کا پانی آنسوں اس کے چہرے تواتر سے بہہ رہے تھے مہرو حازم کی منت سماجت بھی کر رہی تھی لیکن۔ وہ بے حسی کی تصویر بنا بیٹھا تھا ۔۔۔ ایک نظر بھی مہرونساء کی طرف نہیں ڈالی تھی۔ بس گاڑی چلا رہا تھا محل کے دروازے پر پہنچ ہارن دیتے ہی مین گیٹ فورا سے کھل گیا تھا گاڑی پورش گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی بریک سے رک گئ تھی پورچ میں گاڑی کو پارک نہیں کیا گیا تھا ۔۔۔ کھلی آسمان کے نیچے تھی
چوکیدار گیٹ بند کر کے اس پر تالا لگا کر فورا سے حازم کے پاس آ گیا
” صاحب جی میرے لئے کیا حکم ہے ” سر جھکائے چوکیدار نے مودبانہ انداز سے پوچھا
” تم اپنے کواٹر میں جاؤں ” حازم نے اسے جواب دیا چوکیدار فورا سے وہاں سے چلا گیا مہرونساء لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی کھانس رہی تھی بارش اب بھی تیز تھی حازم گاڑی کی دوسری جانب سے نیچے اتر کر اکیلا ہی اندر جانے لگا مہرونساء اب بھی ہتھ کڑی میں جکڑی ہوئی وہیں کھڑی تھی
“
حازم کہاں جا رہے ہو مجھے اکیلا چھوڑ کر میری ہتھ کڑی کھولو ” مہرنساء نے چلا کر اسے پکارا حازم نے پلٹ کر اسے دیکھا
” بھاگنے کا بہت شوق ہے نا تمہیں سمجھو کہ ابھی بھی تم تنہا سڑک پر موجود ہو ۔۔۔۔ رات یہیں گزارو مہرونساء اپنے بھاگنے کو انجوائے کرو ” یہ کہہ کر وہ اسی کمرے میں۔ چلا گیا جہاں مہرونساء بھاگنے کے لئے نکلی تھی ۔۔۔
“حازم میری ہتھ کڑی کو کھولو ۔۔۔ مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے میں رات یہاں نہیں گزار سکتی ” وہ بے بسی سے روتے ہوئے کہہ رہی تھی لیکن۔ وہ اندر جا چکا کافی دیر وہ اپنے ہاتھ کو کھنچ کر ہتھ کڑی سے آزاد کرانے کی کوشش کرتی رہی لیکن ہر کوشش نا کام تھی ہتھ کی کی زنجیر اتنی چھوٹی تھی۔ کہ وہ نا گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ سکتی تھی ۔۔۔
نا اپنا ہاتھ آذاد کر سکتی تھی ۔۔ روتے روتے آنکھیں سوج گئیں تھیں رو رو کے آنسوں بھی خشک ہو چکے تھے بارش بھی تھم چکی تھی ٹھندی ہوا جب گیلے کپڑون اور اس کے وجود پر لگتی تو وہ کپکپا کر رہ جاتی ۔۔۔ بھوک اور نیند سے بے حال وہ وہی کھڑی تھی ۔۔۔ نیند سے ایسی بے بس ہو چکی تھی کہ زمین کے گیلے فرش پر ہی بیٹھ گئ ہاتھ ہتھ کڑی کی وجہ سے اوپر ہی رکھنا پڑ رہا تھا جیپ کے ٹائر کے ساتھ ٹیک لگا کر وہ سو گئی تھی ۔۔۔ لیکن صبح جب آنکھ کھلی تو وہ بری طرح سے کپکپا رہی تھی ۔۔۔ آنکھیں اس قدر بوجھل تھیں کہ کھلنے سے انکاری تھی تھی۔ رو رو کر آنکھوں کے پپوٹے سوج چکے تھے ۔۔۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کہیں لیٹی ہے اس پر کمبل بھی موجود ہے پورا جسم درد کی شدت سے چور تھا کہ پورے وجود سے آگ دہکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔ با مشکل آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ کمرے میں تھی ۔۔ یہ یاد نہیں تھا کہ کمرے میں کیسے آئی تھی ۔۔ کمرے میں صرف وہی موجود تھی آنکھیں پھر سے بند ہوئیں تھی وہ پھر سے نیند کی آغوش میں۔ جا چکی تھی ۔۔ دوسری بار کسی کے ہلانے پر مہرونساء کی آنکھ کھلی تھی اپنے سامنے حازم کو دیکھ کر وہ نفرت سے رخ بدل گئ تھی
لیکن ایک اور اجنبی آواز سن کر مہرونساء نے بے ساختہ پلٹ کر دیکھا تو ایک ڈاکٹر موجود تھا اسکے ساتھ ایک نرس بھی تھی
جو اب مہرونساء کا بخار چیک کر رہی تھی
” او نو ۔ایک سو چار بخار ” نرس نے تھرما میٹر دیکھ کر گھبرا کر کہا ۔۔ پھر ڈاکٹر کی ہدایت پر انجکشن بھرنے لگی
” حازم اتنا بخار کیسے ہو گیا انہیں ” ڈاکٹر اب استھواسکوپ سے مہرونساء کو چیک کر رہا تھا
” بس کیا کہو ڈاکٹر صاحب میری بیوی کو بارش میں نہانے کا جنون ہے ۔۔ رات سوتے ہوئے نا جانے کب یہ بارش کی آواز سن کر باہر چلی تھی ۔۔ جب میری آنکھ کھلی تو لان میں بے ہوش پڑی تھی میری تو انہیں دیکھ جان ہی۔ نکل گئ تھی فورا سے انہیں اٹھا کر اندر لایا لیکن تب تک یہ بخار میں مبتلہ ہو چکیں تھیں ۔۔
” مہرو اسے ڈاکٹر کے سامنے بڑے فراٹے سے جھوٹ بولتے ہوئے تاسف سے دیکھ رہی تھی
” دیکھیں میڈیم شوق اپنی جگہ لیکن رات کے وقت
نہانہ مہنگا پڑ گیا ہے آپ کو ۔۔ نمونیے کااٹیک ہے ۔۔ ” ڈاکٹر نے رسانیت سے مہرونساء سے کہا پھر میڈسن لکھ کر ڈسکرپشن پیپر حازم کو دے دیا
پندرہ دن کا کورس لازمی کروائیے گا ورنہ ہاسپٹل ایڈمٹ کروانا پڑے گا ” ڈاکٹر نے فکرمندی سے کہا
” بے فکر رہیں میں خود انکا خیال رکھوں گا ” حازم نے مصنوعی فکرمند ظاہر کرتے ہوئے کہا ڈاکٹر جا چکا تھا ۔۔۔ ایک ملازم کو پکار کر حازم نے پیپر ملازم کو دیا
” یہ میڈسن لیکر آؤ فورا سے اور بوا سے کہو کہ مہرو کے لئے ناشتہ لیکر آئیں ” مہرونساء کو اپنے بچ جانے پر قلق سا ہوا تھا کاش کہ مر ہی جاتی ۔۔ کمرے میں اب حازم اور مہرو کے علاؤہ اور کوئی نہیں تھا مہرو نساء رخ موڑے لیٹی رہی حازم نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا جو آگ کی طرح سے جل رہی تھی
” کتنی بار تمہیں سمجھایا ہے جان من کہ ایسے شوق بہت مہنگے پڑ سکتے ہیں ۔۔ دیکھو نا ۔۔۔ہو گیا نا بخار ۔۔۔ ” مہرو نساء نے اسکی مکاری کو دیکھتے ہوئے غصے سے اس کا ہاتھ اپنی پیشانی سے پیچھے جھٹک دیا
” کاش کہ میں مر جاتی ۔۔ میری جان تو جھٹ جاتی تم سے ۔۔” غصہ نفرت اور نا جانے کیا کیا اس کے لہجے میں عود آیا تھا حازم ہسنے لگا جسے اسکی بے بسی سے حظ اٹھا رہا ہو پھر تھوڑا جھک کر اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کر کے بولا
” اتنی آسان موت تو میں تمہیں مرنے نہیں دونگا مہرو نساء ۔۔۔ تمہارا تو میں وہ حال کرو گا کہ تم نے کبھی سوچا بھی نا ہو گا ۔۔۔ ” جس سخت اور معنی خیز لہجے سے حازم اپنی غصیلی آنکھیں مہرو کی آنکھوں میں گاڑھے بول رہا تھا مہرونساء کی سوچ کر روح کانپی تھی نا جانے اور کیا کیا ستم اس شخص نے کرنے سوچ رکھا تھا ۔۔ یہ کہہ وہ حازم کھڑا ہو گیا اور سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا کسی گہری سوچ میں تھا جب مہرو نساء با مشکل اٹھ کر اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گی
حازم نے ایک نا پسندیدہ نگاہ اس پر ڈالی مسلسل مہرونساء رو رہی تھی
مہرونساء نے بہتے آنسوں کے ساتھ ہاتھ جوڑے بلکل بے بسی رقت آمیز لہجے سے کہا
” میں ہاتھ جوڑتی ہوں تمہارے سامنے حازم جان بخشی کر دو میری ۔۔۔ مجھے جانے دو ” مہرو حازم کے سامنے ہاتھ جوڑے بے بسی سے کہہ رہی تھی
لیکن حازم کے چہرے پر صرف بے حسی ہی نظر آ رہی تھی ۔۔۔ کرسی پر ٹانگ پے ٹانگ رکھے وہ بے تاثر بیٹھا تھا مہرو رونے گھڑگڑانے کا بھی اس پر کوئی اثر نہیں تھا
” جان بخشی ۔۔۔ ” پھر وہ کرسی سے اٹھ کر اس کے مقابل کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
” کیسے بخش دوں تمہیں ۔۔۔۔۔ تمہاری”” میری جان”” نے “”میری جان”” کی جان لے لی ۔۔۔۔ تمہاری جان میں کیسے چھوڑ سکتا ہوں مہرونساء۔۔۔۔
میرے نزدیک تو جان کا بدلہ صرف جان ہی ہے ۔۔۔ ۔۔ اس لئے ۔ بھول جاو کہ تم اس قید سے کبھی باہر بھی نکلو گی ” یہ کہہ وہ اسے روتے ہوئے اسی کمرے میں بند کر کے چکا گیا جہاں پچھلے ایک ماہ سے وہ بند تھی
دن کی روشنی کسے کہتے ہیں یہ مہرونساء نے پچھے ایک ماہ سے نہیں دیکھی تھی
******
سجیلہ نے گھر۔ آ کر اپنے پیرنٹس سے یہ کہا کہا کہ وہ اشتیاق صاحب کے گھر جائیں۔ اور ان سے یہ کہیں کہ وہ سجیلہ کی شادی ایک مہنے کے اندر کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ سجیلہ کے نزدیک اسکے ماں جی کی اہمیت بس اتنی ہی تھی کہ۔ باوقت ضرورت ان سے کام لے سکتی وہ بھی بیٹی کے رحم کرم پر تھے اس لئے سجیلہ کے سامنے کچھ نہیں کہتے تھے
اگلے روز وہ اشتیاق صاحب کے گھر پہنچ گئے اتفاق ایسا تھا کہ زکی بھی وہیں موجود تھا سجیلہ کے خیالات اس کے والدین کے منہ سے سن کر وہ تلملا سا گیا تھا ۔لیکن ضبط کیے بیٹھارہا لیکن جب اشتیاق صاحب نے بھی شادی کے لئے خوشی سے ہامی بھر لی تو زکی کو صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا
” میں ابھی دو تین سال تک شادی نہیں کرنا چاہتا اس لئے میری طرف سے صاف انکار ہے ” زکی نے بنا لحاظ کے انکار کر دیا تھاسجیلہ اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی وہ صرف وقت گزار رہ تھا تا کہ ڈاریکشن میں اپنا کچھ نام پیدا کر لیں اور پھر اپنے اصل مقصد پر کام شروع کرے اس لئے آشتیاق صاحب کی بات مانتے ہوئے سجیلہ کی ضد کے سامنے سر جھکایا تھا لیکن یہ تو وہ سوچ چکا تھا سجیلہ سے شادی ہر گز۔ نہیں کرے گا ۔۔۔
اشتیاق صاحب کو زکی کا یوں سب کے انکار کرنا غصہ دلا گیا تھا
” زکی جب ہم بڑے یہاں بیٹھے ہیں تو تمہارے بولنے کا کیا جواز ہے “
” بابا میری منگنی زبردستی اور مجبوری کے تحت ہوئی ہے میں سجیلہ کو نا کل پسند کرتا تھا اور نا اب کرتا ہوں اس لئے مجھے یہ رشتہ ہی ڈرے سے قبول نہیں تھا میں اب تک بہ تھاتو صرف اس لئے کہ سجیلہ میرا مزاج سمجھ کر خود ہی انکار کر دے گی ہم الگ مزاج کے لوگ ہیں ایک ساتھ رہنا ہمارے لئے نا ممکن سی بات ہے ۔۔۔ “
“او شٹ اپ زکی ۔۔۔ رشتے مزاق نہیں ہوتے جسے جب چاہے کر لیا جائے اور جب چاہے توڑ دیا جائے ” اشتیاق صاف غصے سے بپھر کر بولے سجیلہ کے والدین بھی تیوری چڑھائے بیٹھے تھے
” یہی بات میں آپ کو سمجھانا چاہ رہا ہوں بابا کہ رشتے مزاق نہیں ہوتے ۔۔ یہ میری پوری زندگی کا معاملہ ہے میں سجیلہ کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا ۔۔ اس لئے میں مزید یہ منگنی کا ناٹک بھی نہیں کر سکتا ۔۔ ایم سوری ” زکی نے یہ کہہ کر انگوٹھی اتار کر سامنے سنٹرل ٹیبل پر رکھ دی اور وہاں سے چلاگیا سجیلہ کے والد کھڑے ہو گئے کہنے
“اشتیاق صاحب آپ نے ہمہیں بہت ذلیل اور رسوا کیا ہے ۔۔ اگر آپ کے بیٹے کی مرضی ہی نہیں تھی تو پھر ساری دنیا کے سامنے میری بیٹی سے رشتہ کیوں جوڑا تھا ۔۔۔ ” اشتیاق صاحب بری طرح سے گھبرا گئے تھے رشتہ ٹوٹنے کا مطلب تھا کہ سجیلہ انکے کسی بھی ڈرامہ میں کام نہیں کرتی
” دیکھیں مجھے وقت دیں ۔۔ میں زکی کو سمجھاؤ گا ۔۔۔ وہ میری بات نہیں نہیں ٹال سکتا “
” ارے رہنے بھی دیں آپ کے بیٹے کی فرمابرداری تو ہم دیکھ چکے ہیں ۔۔ چلو بیگم ” سجیلہ کے والد نے غصے سے اشتیاق صاحب سے کہا اور اپنی بیوی کو ساتھ لیکر چلے گئے یہ خبر تو سجیلہ پر بم کی طرح پھٹی تھی ۔۔۔ وہ اس بات کی ذمہ دار بھی یسرا کو سمجھ رہی تھی کہ یسرا جب سے آئی تھی زکی اسے اہمیت دینے لگا تھا ۔۔۔ سجیلہ۔ سے کسی بھی صورت اپنی ہار برداشت نہیں تھی اس لئے گاڑی لیکر باہر نکل گئ پھر کسی کو کال گی ایک پیغام اسے دیا،اور یہ تاکید کی کہ جو وہ چاہتی ہے دو دن میں وہ ہو جانا چاہیے ۔۔۔
دو دن بعد ہی یسرا کی والدہ کوںروڈ کراس کرتے ہوئے ایک گاڑی نے بری طرح سے ٹکر مار دی تھی ۔۔۔
وہ سڑک پر جا گریں تھیں ۔۔۔
******……..
فواد اور اور اس صحافی لڑکے نے حازم کی کافی انفارمیشن نکال لی تھی خاندانی زمہ دار ہے اٹلی سے تعلیم حاصل کی ہے اور امیر ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہے ۔۔۔
بس اس سے زیادہ اس کے بارے میں جاننا مشکل ہو رہا ہے ” صحافی نے فواد کو حازم کے بارے میں وہ سب بتا دیا جو وہ اسکی اور نام سے جانا پایا تھا ۔۔
” یار میں نے آج تک مہرونساء کے ساتھ کبھی اس شخص کو نہیں دیکھا ۔۔۔ مہرونساء کی یونیورسٹی آف کے بہت سے گی کل وز کے ساتھ اسکی پکس ہیں اور یہ اس کا اس یونیورسٹی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔
“ہم مہرونساء کے نمبر کی ڈٹیل نکلوا کر دیکھ سکتے ہیں کہ کون اسے کنٹکٹ میں تھا ” اس صحافی لڑکے کا دماغ اس معاملے میں خاصا تیز تھا
مہرو نے سب کنٹکٹ نمبرز چیک کر لئے گئے تھے جس نمبر سے حازم اسے کال کرتا رھاسہ نمبر بند تھا سم کسی کے نام نہیں تھی اس صحافی نے فواد کے سامنے ساری ڈٹیل رکھتے ہوئے کہا
” وہ لڑکا مہرو نساء کو ایک ماہ سے تنگ کر رہا تھا اس کا پیچھا بھی کر رہا ہو گا ۔۔۔ مجھے حیرت اس بات کی ہے فواد کے ایسا کچھ تھا تو مہرو نے تمہیں کیوں نہیں بتایا ” جو سوال فواد کا صحافی دوست اس سے پوچھ رہا تھا یہ سوال فواد کے ذہن میں بھی گردش کر تھا کیا وجہ تھی مہرو نے فواد کو انجان رکھا تھا اگر وہ فواد کو بتا دیتی تو نوبت یہاں تک نا آتی ۔۔۔ بہرحال فواد نے اپنے تعلقات استعمال کر کے پولیس سے دوبارہ مدد چاہی تھی ۔۔۔
*********…….
چند دن بعد ہی مہرونساء کچھ بہتر ہو گی تھی مہرونساء کا خیال ایک ملازمہ رکھ رہی تھی اسے وقت پر میڈسن دیتی اسکے کھانے پینے کا خیال بھی رکھتی ۔۔ حازم اس دن کے بعد دوبارہ مہرونساء کے کمرے میں نہیں آیا تھا ۔۔ مہرونساء کو بس یہ ایک بات ستائے جا رہی تھی کہ اس نے اس شخص کا بگاڑا کیا ہے جیسے اس نے پہلی بار شہباز کی بک اسٹال پر دیکھا تھا جہاں اس نے ایک جھوٹے انٹرویو کے بہانے مہرونساء سے نکاح نامے پر سائن کروائے تھے ۔۔۔ کئ بار سوچنے پر بھی مہرونسا کے ذہن میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔
آٹھ دن بعد حازم اس کے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔
مہرونساء اب کافی بہتر ہو چکی تھی ۔۔
مہرونساء اسے دیکھ کر اپنا رخ بدل گئ تھی ۔۔ اس شخص نے اسکو ایک قیدی بنا کر رکھ دیا تھا نا اس کا جرم اسے بتاتا تھا نا ہی سزا کم کرتا تھا ۔۔۔ حازم سیدھا واڈراب کی طرف بڑھا اور وہی سرخ رنگ کی ساڑھی بیڈ پر رکھ دی
” جاؤں اور تیار ہو کر آؤں بہت آرام کر لیا تم نے اب ذرا شوہر کا دل بھی بہلا لو ” حازم کا وہی اسپاٹ لہجہ تھا ۔۔ مہرونساء کو اسکی قربت کا سوچ کر بھی گھن سی آتی تھی ۔۔۔ تکلیف کااحساس ہونے لگتا تھا ۔۔۔ حازم سگریٹ منہ میں لئے لیٹر سے جلا رہا تھا ۔۔ مہرونساء کو اسی انداز سے بیٹھا دیکھ کر پھر سے بولا
” سنائی نہیں دے رہا تمہیں ۔۔۔ جاؤں اور تیار ہو کر آؤں “
” مجھے جان سے مار ڈالو حازم ۔۔۔ مجھے اتنی تکلیف نہیں ہو گی جتنی تمہارے قریب آنے سے ہوتی ہے ۔۔۔ ” مہرونساء کی بات سن کر۔ وہ طنزیہ مسکرایہ تھا ۔۔
” کیا ہے نا کہ جان من جو مزہ قطرہ قطرہ جان لینے میں آتا ہے وہ جان سے مار دینے میں نہیں آتا
جان سے تو میں تمہیں ضرور مارو گا ۔۔۔ لیکن آسان موت کبھی نہیں دونگا ۔۔۔ اب جاؤں میری جان ۔۔۔ جا کر ایک خوبصورت سی حسینہ بنکر میرے سامنے آؤں ۔۔۔ ورنہ خواہ مخواہ مجھے ٹومی کو زحمت دینی پڑے گی ۔۔ “
ٹومی کا نام سن کر مہرونساء کی جان ہی تو نکل گئ تھی فوراسے بیڈ سے نیچے اتر گئ ساڑھی ہاتھ میں لئے ڈرسنگ روم میں چلی گئ ۔۔۔ بے دلی سے تیار ہوئی تھی لیکن تیار اسے ہونا پڑا تھا جب باہر آئی تو پورے کمرے میں لائٹس بند تھی صرف کینڈلز کی مدھم سی روشنی تھی یہی سب کچھ اگر فواد نے اس کے لئے کیا ہوتا تو شاید اسکی زندگی کا یاد گار لمحہ ہوتا ۔۔ لیکن جانتی تھی کہ وہ حازم ہے صرف اذیت دینا جانتا ہے ۔۔ دھیرے دھیرے سے قدم آگے بڑھانے لگی
ابھی ٹھیک سے کمرے میں دیکھ بھی نہیں پائی تھی جب کسی نے اسے ہاتھ سے کھنچ کر اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔ وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے ہٹنے لگی تھی
” جاننا چاہتی کہ کیا قصور ہے تمہارا ۔۔۔ ” اسے اپنے ساتھ سختی سے لگائے حازم اس کے کان کے قریب بول رہا تھا ۔۔
” ہاں جاننا چاہتی ہوں ۔۔۔ مجھے میرا جرم بتا دو ۔۔۔ ” مہرونساء کی آواز میں نمی تھی ۔۔۔
ایک میوزک آن ہوا تھا جس پرایک پرانہ انڈین گانا چلنے لگا ۔۔
” ڈارلنگ ۔۔۔۔ آنکھوں سے آنکھیں چار کرنے دو
روکو نا ٹوکو نا مجھ کو پیار کرنے دو ۔۔
بے کیف ہیں بہاراں بے چین جانے یاراں
گلوں کو ابھی انتظار کرنے دو
ڈارلنگ ۔۔۔۔ ” وہ مسلسل مہرونساء کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اور اپنی گرفت اس کے گرد مضبوط کر رہا تھا کہ جب
گانا یہاں تک پہنچ کر بند ہو گیا تھا ۔۔۔
اس کے بعد ایک لڑکی کی آواز کمرے میں گونجی شروع ہوئی تھی روتی ہوئی آوار سسکیوں کے ساتھ وہ کہہ رہی تھی
“میں نے ان سے کہہ دیا کہ میں انہیں پسند نہیں کرتی ۔۔۔۔۔ مجھے وہ ۔۔۔ اچھے نہیں لگتے ۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔ آپ پلیز میری مدد کریں مجھے اس شخص سے بچا لیں ۔۔۔۔ مجھے نہیں کرنی ہے اس سے شادی ۔۔۔ مجھے اس سے ۔۔۔۔۔ ” مہرو نساء کسی کرنٹ کی مانند حازم سے پیچھے ہٹ تھی ۔۔۔
رنگت پل میں اڑی تھی ۔۔۔ وہ آواز اس کے لئے نئ نہیں تھی ۔۔۔ گھبرائی ہوئی آنسوں سے لبریز آواز ۔۔ وہ آواز شرمینہ کی تھی ۔۔۔۔ آخری بار جب اس نے مہرونساء سے بات کی تھی تو یہی کی تھی اسکے بعد اس کا فون ڈسکنکٹ ہو گیا تھا ۔۔۔ جب مہرونساء نے دوبارہ کال کی تھی تو فون آف تھا ۔۔۔
لیکن یہ سب حازم کے پاس کیسے ۔۔
“حازم ” یہ نام اب مہرونساء کے دماغ کے پردے پر آنے لگا تھا
” مہرو جی حازم نام ہے انکا جن سے میرا بچپن میں ہی نکاح ہو گیا تھا ” شرمینہ کی آواز اس کے کانوں میں ٹکرائی تھی ۔۔ بار بار مہرونساء نے کانوں میں بس ایک ہی باز گشت گونج رہی تھی ایک ہی آواز اور وہ تھی شرمینہ کی آواز
” مہرو جی حازم نام ہے انکا ” کمرے کی لائٹس جل چکیں تھیں وہ چونک سی گئ تھی۔ سامنے حازم کھڑا تھا ۔۔۔
“حاااا۔۔۔زم ” با مشکل مہرونساء نے اس کا نام پکارا تھا ۔۔ شرمینہ ۔۔۔ اففف میرے خدایا ۔۔۔۔ ” وہ بیڈ پر بیٹھ گئ دونوں ہاتھوں سے اپناسر پکڑ لیا ۔۔دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا
شرمینہ مہرونساء کی ایک پرستار تھی جو دیوانوں کی طرح اسے چاہتی تھی ۔۔۔ یونیورسٹی کی اسکی دوستیں مہرونساء سے کہتیں تھیں
مشہور رائٹرز لڑکیوں کے پیچھے لڑکے تو دیوانے ہوتے دیکھے ہیں مہرو پر یہ لڑکی ۔۔۔ توبہ ۔۔۔ عاشق ہے تمہاری ۔۔۔ ” مہرونساء کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔۔
” مہرو جی آج میری برتھ ڈے ہے آپ آئیں گئیں نا ۔۔۔ پلیز انکار مت کیجیے گا ۔۔۔ میں نے بہت مہنگے ریسٹورنٹ میں بکنگ کروائی ہے ۔صرف آپ کے لئے ۔ پلیز مہرو جی” شرمینہ فون پر اسکی منتیں کر رہی تھی
” یار تم کیا چیز ہو لڑکی ۔۔۔ میں تمہیں اتنی فارغ نظر آتی ہوں کہ تمہاری سالگرہ پر آؤں بڑھ ڈے کی ٹوپی پہنوں تم کیک کاٹو اور میں تالیاں بجاوں ۔۔۔ نو۔ نیور شرمینہ میں نہیں آؤں گی ” مہرو نے فون پر صاف انکار کیا تھا
” آپ ضرور آئیں گئیں ۔۔ میں کیک آپ کے سامنے ہی کاٹو گئ ۔۔۔ میں آپ کا انتظار کروں گی مہرو جی چاہے پوری رات ہی کیوں نا بیت جائے ” یہ کہہ کر فون بند ہو گیا تھا مہرونساء کو لگا کہ انتظار کر کر کے خود ہی عقل ٹھکانے آئے گی تو اپنے گھر چلی جائے گی
رات دو بجے پھر سے اسی نمبر سے کال آئی تھی مہرونساء اسوقت اپیسوڈ لکھ رہی تھی ۔۔ اس نے کوفت سے شرمینہ کا نمبر دیکھا پہلے تو جی چاہا فون آف کر دے لیکن پھر نا جانے کیوں فون اٹھا لیا
” مہرو جی میں آپ کے گھر کے باہر کیک لیکر کھڑی ہوں ریسٹورنٹ والوں نے ڈیر بجے کے بعد باہر نکال دیا تھا انہیں اپنا ریسٹورنٹ بند کرنا تھا اس لئے مجھے وہاں سے نکلنا پڑا ورنہ میں تو ۔۔۔ میں نے بہت انتظار کیا آپ کا ۔۔۔ آپ نہیں آئیں اس لئے مجھے آنا پڑا پلیز اب اپنے گھر سے باہر آ جائیں۔ تاکہ میں کیک کاٹ سکوں ” مہرونساء اپناسر پکڑ کر رہ گئ تھی
” میڈ ٹوٹلی میڈ ہو تم شرمینہ ۔۔۔ رکو میں آتی ہوں ” مہرونساء نے فون رکھا اور تیزی سے اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی باہر مین گیٹ کے باہر گاڑی جلتی لائٹس دیکھ وہ اس دیوانی لڑکی کی دیوانگی پر مسکرائے بنا نہیں رہ سکی تھی
خان لالا درازہ کھولیں ۔۔ میری دوست آئی ہے ” مہرونساء نے۔ چوکیدار کو دور سے آواز لگائی دروازہ کھلتے ہی شرمینہ کیک ہاتھ میں لئے مسکراتے ہوئے دیوانہ وار اس کی طرف بڑھ رہی تھی ۔۔ سب سے پہلے مہرو کے گلے لگی تھی
” آپ نے مجھے اپنی دوست کہا کہ مہرو جی ۔۔۔ ہائے میں کتنی لکی ہوں ” شرمینہ کا میٹھا رس گھولتا لہجہ اسے یاد آیا تھا ۔۔۔
” میری جان کچھ یاد آیا ” حازم کی آواز پر مہرونساء چونکی تھی ہوش کی دنیا میں واپس آئی تھی
” مہرو جی ۔۔۔ یاد آیا کچھ یا کچھ اور بھی یاد کرواں ” پہلی بار حازم نے اسے اس نام سے پکارا تھا جس سے شرمینہ پکارتی تھی ۔۔
” شر۔۔مینہ ۔۔۔ ؟ مہرونساء پر بس یہی ایک نام تھا
” ویری گڈ بہت جلدی یاد آ گیا تمہیں ۔۔۔ “
” تم ۔۔۔ تمم۔۔ شرمینہ کے شوہر ہو ؟۔۔۔ ہے نا ؟ ۔۔۔ پھر تم نے مجھ سے شادی کیوں کی ؟ ۔۔۔ شرمینہ کہاں ہے ؟ ۔۔۔ ” مہرونساء سلجھنے لے بجائے مزید الجھ گئ تھی حازم نے کوئی جواب نہیں دیا تھا
” بولتے کیوں نہیں ہو ۔۔ بتاؤں مجھے شرمینہ کہاں ہے ۔۔ تم نے اسے بھی کمرے قید کر رکھا ہے ۔۔۔ ظالم ہو تم ۔۔۔ اس رات بھی چلا رہی تھی اور تم اسے انجکشن لگا رہے تھے ۔۔۔ ۔۔۔ مجھے اسکے پاس لیکر جاؤں ۔۔۔ ” مہرونساء غصے سے بپھر کر بولی ۔۔ اب بھی اسکی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا کہ شرمینہ کی ذاتی زندگی میں وہ کیوں شامل ہوئی ہے جس سےمہرو کا تعلق صرف اتنا تھا کہ وہ اس کی پرستار تھی اس سے باتیں کرتی تھی ۔۔۔
” ملنا چاہتی ہو شرمینہ سے آؤں ملواں میں تمہیں اس سے بہت یاد کرتی ہے تمہیں تمہاری دیوانی جو ہے ۔۔۔ ” حام نے مہرونساء کا ہاتھ پکڑا اور اسے کمرے سے باہر لے آیا لیکن شرمینہ کے کمرے میں لے جانے کے بجائے نیچے کا زینہ اترنے لگا
” یہ کہاں لیکر جا رہے ہو مجھے حازم شرمینہ کا کمرہ تو اوپر ہے ۔۔ ذ” مہرونساء کی کسی بات کا جواب وہ نہیں دے رہا تھا اسے اپنے ساتھ تیز قدموں سے باہر پورج میں لے آیا پھر اسی لان میں جہاں لگے گھنے درختوں کی مدد سے پھلانگ کر مہرونساء بھاگی تھی وہیں ایک کونے لا کراسے ایک جگہ پٹخ کر پھنکا تھا مہرو نے غور سے دیکھا تو ایک مٹی کا ڈھیر تھا جس پر وہ گری تھی
” اس کے اندر رہتی ہے شرمینہ ۔۔۔ اسی کی قبر ہے یہ ” حازم نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا ۔۔۔ یہ سن کر مہرونساء ششدد سی رہ گئ تھی ۔۔۔
