Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 3
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 3
Meri Jaan by Umme Hani
گاڑی میں شرمینہ بلکل خاموش بیٹھی تھی ۔۔۔
” مجھے تمہارے ایف ایس سی ڈاکومنٹس۔چائیے شرمینہ ” حازم کے سوال پر شرمینہ جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی مڑ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ جو پہلے سے اسی پر نظریں جمائے ہوئے تھا سراسمیگی سے بولی
” دیکھیں میں آپ سے جھوٹ نہیں بول رہی میں نے بہت اچھے نمبر سے ایف ایس سی کلیر کی ہے ۔۔۔ اور آپ کو اپنی مارک شیٹ بھی واٹس اپ کی تھی۔۔۔ میں اب خود سے۔ بھی بہت اچھا پڑھ لیتی ہوں ” شرمینہ کو لگا کہ حازم ابھی بھی اسکے رزلٹ کو لیکر شک میں ہے شرمینہ کی معصومانہ باتوں پر وہ ہنس ہی سکتا تھا اس کے خوف کی وجہ بھی کچھ کچھ سمجھ گیا تھا کہ وہ اس سے کتراتی کیوں ہے اسے لگتا ہے کہ اب بھی حازم اسے کہے گا جاؤں شرمینہ جا کر اپنی کتابیں لیکر آؤں ۔۔۔۔ اپنے ٹیسٹ پیپر دیکھاؤ
اگر تمہارے نمبر کم آئے تو خیر نہیں ہے تمہاری
بچپن کی ڈانٹ ڈپٹ کو وہ اب تک بھولی نہیں ہے پہلے سوچا اسے کہہ دے کہ وہ باتیں اب پرانی اور بے معنی ہو چکیں ہیں ۔۔۔۔ لیکن پھر ایک شرارت سی سوجی اس لئے چہرے مصنوعی سنجیدگی سجائے بولا
” مجھے تم ہر اعتبار نہیں ہے اس لئے تمہارے سارے ڈاکومنٹس میں خود دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔ تم جانتی ہو کہ اس معاملے میں ۔۔۔میں کتناسخت مزاج ہوں ” چہرے پر مصنوعی سختی لاتے ہوئے وہ بولا شرمینہ گھبرا سی گئ تھی ۔۔۔۔ آئسکریم کھانے کے بعد حازم نے جیب سے ایک مخملی ڈبیہ نکالی تھی ۔۔۔ اسکے لئے گولڈ کی بریسلیٹ لایا تھا ۔۔۔
ڈبیہ سے بریسلیٹ نکالی اور اپنا ہاتھ شرمینہ کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔ وہ متذبذب سی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔ نظروں سے ہی برسلیٹ دیکھ کر پوچھنے لگی
” یہ کس لئے ہے “
” تمہارے ایف ایس سی میں پاس ہونے کی خوشی میں ۔۔۔۔ اب ہاتھ ادھر دو ” حازم کاارادہ تو پہلے یہی تھا کہ اسے اپنی محبت کا اظہار کرے گا یا اسکی تعریف کرتے ہوئے اسے بریسلیٹ پہنائے گا ۔۔۔ لیکن تین سال بعد۔ بھی شرمینہ بلکل ویسی ہی تھی ۔۔۔۔ حازم نے سوچا دھیرے دھیرے ہی وہ اسے اپنی طرف مائل کرے تو بہتر ہے ۔۔۔۔۔شرمینہ نے ہاتھ آگے بڑھا دیا تھا ۔۔۔۔ حازم نے اسکی نازک سی کلائی پکڑ کر اس پر برسلیٹ پہنا دی ۔۔۔۔ لیکن اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔ دل کی بے تابیوں نے پھر سے اکسانہ شروع کیا تھا ۔۔۔۔
” تین سال سے دل میں دبے منہ زور جذبوں نے اتحجاج سا کیا تھا ۔۔۔۔ سفید مومی ہاتھ اسکی ملکیت تھے ۔۔۔۔ سامنے بیٹھی حسین دو شیزہ اسکی منکوحہ تھی ۔۔۔۔ وہ کراچی آنے سے پہلے سہیل صاحب اور شائستہ بیگم سے کہہ کر آیا تھا کہ اس بار شرمینہ کورخصت کروا کر اٹلی لے آئے گا ۔۔۔ اس لئے وہ لوگ رفعت بیگم سے بات کر لیں ۔۔۔ باقی کی تعلیم شرمینہ اٹلی میں مکمل کر لے گی ۔۔۔۔ اس لئے جذبوں پر بندھ باندھنے کا ارادہ بھی نہیں تھا ۔۔۔
حازم کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ ذرا سا کھنچنے پر بھی شرمینہ کو آذادی نہیں ملی تھی ۔۔۔۔ اسکی عجیب سی نظروں سے شرمینہ کی دراز پلکیں لرزیں اور جھک گئیں ۔۔۔ دل سکڑ کر پھیلا تھا ۔۔۔۔ دھڑکنوں کی آواز کانوں میں یوں گونجنے لگی گویا دل اپنے مقام سے ہٹ کر کانوں دھڑکنے لگا ہو ۔۔۔
” بہت خوبصورت لگ رہی ہے تمہارے ہاتھ میں یہ برسلیٹ ۔۔۔ اسے کبھی اتارنا مت ۔۔۔ ” دوسرے ہاتھ سے اسکی کلائی پر سجی برسلیٹ کو چھوتے ہی وئے بولا
” جی ” اسوقت حواس باختگی کی کیفیت سے گزر رہی تھی ۔۔۔۔ اس کے ہیجانی کیفیت کو سمجھ کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔
” واپس چلیں ۔۔۔ مجھے گھر جانا ہے ” شرمینہ فورا سے کھڑی ہوئی تھی حازم نے مینوں بک میں پیسے رکھے اور اسے پارکنگ میں کے آیا گاڑی میں وہ بلکل خاموش بیٹھی رہی
” شرمینہ مجھ سے اتنا ڈرتی کیوں ہو ۔۔۔ ؟ حازم نے اسکے خوفزدہ چہرے کو دیکھ کر پوچھا وہ نفی میں سر ہلانے لگی
” نہیں ۔۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں ہے ” نظریں چرا رہی تھی چہرہ بد حواس تھا جو اسکی بات کی چغلی کھا رہا تھا
” پھر مجھ سے باتیں کیا کرو ۔۔۔ تین سالوں میں تم نے کبھی میرا فون اٹینڈ نہیں کیا میں نے کئ بار پھپو سے کہا بھی کہ مجھے شرمینہ سے بات کرنی ہے ۔۔۔ لیکن وہ کہتی تھیں کہ تم کرنا نہیں چاہتی کئ بار میں نے تمہارے سیل فون پر بھی کال کی لیکن میرا نمبر دیکھ کر تم فون ہی آف کر دیتی تھی ۔۔۔۔ کیوں شرمینہ ؟” نا چاہتے ہوئے بھی وہ شکوہ کر بیٹھا تھا گاڑی کی ڈرائیو کافی سلو تھی شرمینہ انہیں سوالوں سے بچنا چاہتی تھی۔ جو حازم کی زبان پر تھے
” یہ گھر کب آئے گا ” شرمینہ نے گھبراتے ہوئے پوچھا تھا
” تم سے کچھ پوچھا ہے میں نے پہلے اس کا جواب دو ” اس بار حازم کا لہجہ بدلہ تھا
” حازم بھائی مجھے صبح کالج جانا ہے “
” بھائی نہیں ہوں میں تمہارا ۔۔۔۔ شوہر ہوں ۔۔۔۔۔ نکاح ہوا ہے ہمارا شرمینہ۔۔۔۔ بچی تو نہیں کو تم جو یہ بھی نا سمجھ سکو ۔۔۔۔ ” وہ تلخ سا ہو گیا تھا شرمینہ اسکے ذراسے سخت لہجے پر کانپ سی گئ تھی
” دیکھیں م۔۔۔میں ۔۔۔۔ اس وقت چھوٹی تھی ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ کم عمر بھی تھی ۔۔۔۔ اس عمر میں تو میرا آئی ڈی کارڈ بھی نہیں بنا تھا ۔۔۔۔ اٹھارہ سال کی میں اب ہوئیں ہوں ۔۔۔۔ میں اس رشتے کو ایکسپرٹ ہی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ جو سب بڑوں نے مل کر زبردستی سے جوڑ دیا تھا ۔۔۔۔ میں نہیں مان سکتی آپ کو کچھ بھی ” چلتی گاڑی کو بڑی زور سے بریک سی لگی تھی ۔۔۔۔ جھٹکے سے گاڑی رکی تھی ۔۔۔ حازم کا یہ سب سن کر سر چکرا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔ حیرت اور غصے کے ملے جلے جذبات سے وہ پوری آنکھیں پھیلائے شرمینہ کو دیکھ رہا تھا
” آر یو ۔۔۔۔۔۔۔ ان یور سنسز شرمینہ ” حازم کا لہجہ بلند بھی تھااور سخت بھی شرمینہ پہلے ہی گھبرائی ہوئی تھی مزید نروس ہوئی تھی کچھ نا بن پڑی تو اب منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی تھی ۔۔۔۔ پہلا خیال حازم کو جو آیا اس نے حازم کی جان نکال دی تھی ۔۔۔۔ کہ شاید وہ کسی اور کو پسند نا کرنے لگی ہو ۔۔۔۔
” شرمینہ رونا بند کرو ۔۔۔۔ ” دونوں ہاتھوں سے منہ چھپائے وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔۔حازم کی آواز سن کر رونے میں تیزی آئی تھی ۔۔۔۔
” شرمینہ ۔۔۔۔ فار گاڈ سیک پہلے اپنا رونا بند کرو ۔۔۔”
اس بار با مشکل وہ بڑےضبط سے نرم لہجے سے بولا تھا ۔۔۔ لیکن شرمینہ کا رونا جاری تھا ۔۔۔
” مجھے گھر لیکر جائیں ابھی کے ابھی ” وہ اسی طرح منہ ہاتھوں سے چھپائے روئے جارہی تھی ۔۔۔۔ مجبورا حازم کو گاڑی اسٹاٹ کرنی پڑی ۔۔۔۔ بنگلے کے پاس پہنچ کر حازم نے ہارن بجانا شروع کیا
ہارن کی آواز پر آہنی گیٹ وا ہوا تھا گاڑی بڑی تیزی سے پورٹیکو میں جا رکی تھی ۔۔۔۔ شرمینہ نے دروازہ کھولا اور لاونج کی جانب بھاگ گئ ۔۔۔۔ حازم بھی گاڑی سے اترا فرنٹ ڈور بڑی زور سے بند کیا اور چابی سامنے کھڑے چوکیدار کی طرف اچھالی تھی۔۔۔۔
” اسے اندازہ نہیں تھا کہ تین سال بعد یہاں آتے ہی اسے یہ سب سننے کو ملے گا پوری رات چین سے سو نہیں پایا تھا ۔۔۔۔۔ صبح صبح اٹلی کال کر کے سہیل صاحب سے پاکستان آنے کے لئے کہنے لگا
” ڈیڈ آپ چند دنوں میں یہاں پہنچے ۔۔۔۔ اور پھپو سے رخصتی کی بات کریں ۔۔۔ ” حازم کی عجلت سے سہیل صاحب زچ ہوئے تھے
” یہ کیا جذباتی پن ہے حازم ۔۔۔ آج تم یہاں پہنچے ہو ۔۔۔ اور چند دن میں رخصتی کا شور مچا رہے ہو ۔۔۔ مجھے تمہاری یہ بات بلکل پسند نہیں ہے ۔۔۔۔ پہلے نکاح کی جلدی بھی تمہی نے مچا رکھی تھی ۔۔۔ رفعت نے نکاح کے بعد ہی کہہ دیا تھا کہ وہ شرمینہ کی رخصتی اسکی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہی دے گی ۔۔۔ اور تین سال بعد ہی تم نے ایک نئ افتاد میں ڈال دیا ہے ہمہیں ” وہ بھی با رعب لہجے سے گویا ہوئے
” ڈیڈ میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔۔ آپ پھپو سے بات کریں گئے یا میں خود کر لوں ” وہ اس وقت جس اذیت سے دوچار تھا ۔۔۔۔ نا بیان کر سکتا تھا نا ہی سہہ پارہا تھا ۔۔۔۔ اگر شرمینہ کی زندگی میں کوئی دوسرا شخص آ چکاتھا تو یہ بات حازم کے لئے نا قابل برداشت تھی ۔۔۔۔۔
” کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں رفعت سے کچھ بھی کہنے کی ۔۔۔۔ میں خود اس سے بات کروں گا ۔۔۔ اور اگر اس نے وقت مانگا تو میں اسے انکار نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ بیکوز شرمینہ ابھی زیر تعلیم ہے ۔۔۔ لا ابالی ہے ۔۔۔۔۔ شادی اور اپنی تعلیم ایک ساتھ مینج نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ “
” ڈیڈ ” حازم کی بات سننے بنا ہی سہیل صاحب نے فون رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ وہ مٹھیاں بھینچ کر پیچ وتاب کھا کر رہ گیا تھا
*******……….
مہرونساء نے زکی کے آفس سے نکل کر ڈرائیور سے کہہ کر گاڑی سیدھی ارمان کے گھر کی جانب بڑھائی تھی ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ ارمان کے بنگلے کے باہر تھی ۔۔۔ گاڑی کے ہارن کو سن کر ہی میں گیٹ کھل گیا تھا ۔۔۔۔ خوبصورت وسیع و عریض بنگلہ پھولوں سے مزین لان میں کریسوں پر ہی ارمان اور زیب اپنی والدہ کے ہمراہ محور گفتگوں تھے چائے کے ساتھ بہت سے لوازمات بھی موجود تھے
۔۔۔۔ مہرونساء کو دیکھ تینوں کی ہی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔ لیکن وہ تیکھے انداز لئے ارمان کے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔
” کب آپکے اس پٹیچر ڈاکیکٹر دوست نے مجھے بلایا ہی نہیں تھا ارمان بھائی تو آپ نے مجھے اسکے پاس بھیجا کیوں تھا “
نا سلام ناادب و آداب ۔۔۔ اور مہرونساء کا یہ تند و تیز لہجہ سن کر ارمان سے پہلے زیب کو برا لگا تھا ۔۔۔ ارمان متذبذب سا سے مقابل کھڑا ہو گیا
” مہر یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا “
” زیبی پلیز آپ کو نہیں پتہ اس کھڑوس شخص نے کتنی باتیں سنائی ہیں مجھے ۔۔۔ کہتا ہے میں لکھنے کا معیار نہیں ہے ۔۔۔۔ میں چند تعریفی جمعلوں کی دلدادہ ہوں ۔۔۔۔۔ ہنہ۔۔۔۔ ہی از آ بلڈی ۔۔۔۔۔۔۔ ” مہرو نا جانے کیا سخت لفظ بولنے والی تھی جب زیب نے ڈپٹ دیا
” مہرو بیہو یور سلف ” مہرو کی آنکھوں کے ڈورے اب بھی گلابی تھے ۔۔۔۔
” زکی نے تم سے ایسا کہا غلط کہہ دیا ہے ۔۔۔۔ رکو میں۔ فون کرتا ہوں اسے ۔۔۔۔۔ ” ارمان نے اپنا موبائل فون جیب سے نکلا تھا
” نہیں ارمان بھائی ۔۔۔ مجھے پہلے صرف یہ بتائیں ۔۔۔ کیا اس نے آپ سے کہا تھا کہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے ؟”
” مہرو وہ میری مہندی پر تم سے یہی کہہ رہا تھا کہ میری شادی کے بعد ملاقات کریں گئے مجھے لگا شاید وہ انڑسڈ ہے ۔۔۔۔۔زکی ایسا لڑکا ہے تو نہیں کہ کہ کسی خاتون سے بد تمیزی کر جائے ۔۔۔ لیکن اگر اس نے ایسا کیا ہے تو میں اسے چھوڑو گا نہیں ۔۔۔۔ تم میری چھوٹی بہن ہو مہرو ۔۔۔۔۔ ” ارمان بھی غصے میں آگیا تھا مہرونساء اب کچھ نارمل ہوئی تھی
” رہنے دیں اسکی طعبیت تو میں بہت اچھے سے درست کر کے آئی ہوں ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
” بات کیا ہوئی ہے مہرو ۔۔۔ مجھے بتاؤ زکی کو تو میں بھی اچھے سے جانتی ہوں کئ بار ارمان سے ملنے گھر آچکا ہے ۔۔۔۔ میرے سامنے تو ادب سے کبھی نظریں نہیں اٹھائیں ۔۔۔۔ ” ارمان کی والدہ کو اول بات کا علم تو نہیں تھا لیکن بہرحال زکی کہ شرافت پر شک نہیں کر سکتیں تھیں مہرونساء نے سارا قصہ غصے سے سنایا تھا ساتھ ہی ساتھ غصے کے مارے چار پانچ کباب بھی پلیٹ سے اٹھا کر کھا چکی تھی ۔۔۔۔۔ خالہ اسے تسلی دینے لگیں ارمان البتہ خاموشی سے ساری بات سنتا رہا
” ارمان بھائی اسکی ہمت تو دیکھیں کہ میرے ہی منہ پر ۔۔۔۔ میرے ہی ناول کی۔ برائی کر رہا تھا ۔۔۔۔
دیکھ لیجیے گا ۔۔۔۔۔ کبھی کامیاب ڈاریکٹر نہیں بن پائے گا ۔۔۔ ” مہرونساء اب اپنے کپ میں چائے ڈال رہی تھی کرسی پر آلتی پالتی مارے بیٹھ کر چائے پینے لگی۔۔۔۔
” تمیں آئندہ زکی سے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ” ارمان نے مدافعانہ انداز سے کہا کیونکہ بات اتنی سنجیدہ نوعیت کی نہیں تھی ۔۔۔۔ بس یہی تھاکہ زکی کو اسکی کہانی اپنی پروڈکشن کے لئے پسند نہیں آئی تھی ۔۔۔۔
” میں ملوں گی اس تھرڈ کلاس ڈاریکٹر سے ۔۔۔؟ مائے فٹ ۔۔۔۔ ارمان بھائی ۔۔۔ ” مہرو نساء نخوت سے بولی ۔۔۔۔۔
بات آئی گئی سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔
اب یہ ہوا تھا کہ جیسے جیسے مہرونساء کا ناول اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا رومانوی سین میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ ہیروئن کادل ہیرو کے لئے موم ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔ لوگوں کی اشتیاق میں مزید اضافہ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ آخری قسط پر ۔۔ مہرونساء کو داد کے ساتھ رقم بھی وصول ہوئی تھی ۔۔۔۔ حالانکہ پیسوں کی اسے ضرورت ہر گز نہیں وہ پیسے اس نے اپنی دوستوں کے ساتھ ٹریٹ دے کر ایک ہی شام میں اڑائے تھے ۔۔۔۔۔
ناول کے ختم ہوتے ہی اس کے ناول کی پہلی اشاعت ہاتھوں ہاتھ چکی تھی ۔۔۔۔۔
سر ورق پر مہرونساء کی تصویر چھپی تھی۔۔۔۔۔ مہرونساء کی خوشی شاہد کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔۔۔۔ زیب سے گلے لگ کر وہ اپنی خوشی کا اظہار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ نیاز صاحب بیٹی کی ایکٹوٹی سے لا علم اور لا پروا تھے ۔۔۔۔ ان کی پہلی ترجعی انکا بڑھتا ہوا کاروبار تھا ۔۔۔۔مہرو کا یونیورسٹی کو خیر آباد کہتے ہی نیاز صاحب کے ایک پاٹنر نے ہی اپنے بیٹے کے لئے مہرونساء کا رشتہ مانگ لیا تھا ۔۔۔ زیب النسا کی شادی پر ہی فواد کی نظر مہرونساء پر پڑتے ہی پلٹنا بھول گئ تھی ۔۔۔۔۔ زیب النسا کی شادی پر وہ فواد کی نظروں کے حصار میں رہی تھی ۔۔۔۔ اپنی پسند وہ اپنے والدین کو بتا چکا تھا ۔۔۔۔ اس لئے مہرو کا ایم بی اے کمپلیٹ ہوتے ہی ۔۔۔ رشتہ کی بات آگے بڑھائی تھی ۔۔۔۔ فواد کے کے والد اثرو رسوخ اور دولت میں نیاز صاحب کو بھی مات دیتے تھے ۔۔۔ اس لئے انکار کا کوئی جواز ہی نہیں تھا ۔۔۔۔
مہرونساء کی زندگی میں بھی ناول کے ہیروے علاؤہ اپنی زندگی میں ہیرو کی ویکنسی ابھی خالی تھی۔۔۔ پھر فواد خوش شکل تھا گھرانہ بھی ٹھیک ٹھاک تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے اعتراض کی کوئی وجہ ہی نہیں تھی ۔۔۔۔ ایک ماہ میں سارے معاملات طےہوئے تھے اور منگنی کی رسم دھوم دھام سے سر انجام پائی تھی ۔۔۔۔۔ اس خبر کے شائع ہوتے ہی نوجوان پرستاروں کے دل ٹوٹے تھے ۔۔۔ بہت سے خطوط مہرونساء کو گھر پر موصول ہوئے تھے ۔۔۔۔
جس میں اپنی محبت کا اظہار اور منگنی کاسوگ اور دکھ کا اظہار بھی تھا ۔۔۔۔ یہ بھی ایک الگ سا نشہ تھا مہرونساء کے لئے چاہے جانے کی خواہش کسےبری لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔ فواد کی فیملی آزادانہ ماحول کی تھی تو مہرو بھی پابندیوں کی عادی نہیں تھی ۔۔۔۔۔ فواد نے فون پر بات کرنے کی خواہش ظاہر کی مہرونساء نے قبول کر لی پہلی ملاقات پر بھی وہ اسی کی گاڑی میں اس کے ساتھ بیٹھ کر گئ تھی۔۔۔۔۔
ڈیمنڈ کی رنگ فواد نے منگنی پر پہنائی تھی ۔۔۔۔ اور گولڈ کی چین پہلی ڈیٹ پر ۔۔۔۔ پہلی بار ناول پر لکھے جانے والے سین کے حقیقی رخ کی جھلک دیکھی تھی ۔۔۔۔۔ ڈنر کے بعد خود اسے سمندر کے کنارے لے گیا تھا ۔۔۔۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے ایک خاموش سے گوشے کا انتخاب کیا گیا تھا جہاں فواد اسے لیکر گیا تھا ۔۔۔۔ چین مہرونساء کو فواد نے اپنے ہاتھوں سے پہنائی تھی ۔۔۔۔
مہرو نساء نا گھبرائی تھی نا ہچکچائی تھی ۔۔۔۔۔
فواد کچھ ریزو زاضرسر تھا ۔۔۔۔ نہیں جانتا تھا کہ مہرونساء کا رد عمل کیا ہو گا
” ایک آرزو ہے میری اگر تم انکار نا کرو تو ؟”
” وہ کیا “
” I want a kiss your beautiful hand”
مہرونساء اس بار مسکرائی تھی ۔۔۔۔ پھر ہاتھ اسکی طرف بڑھا دیا ۔۔۔۔۔ فواد پل بھر کے لئے متحیر سا ضرور ہوا تھا ۔۔۔۔ کوئی بھی لڑکی ہو پل بھر کے لئے گھبراتی ضرور ہے ۔۔۔۔ انکار بھی کر دیتی ہے لیکن مہرونساء نے تو ہاتھ آگے بڑھا دیا تھا ۔۔۔۔
مہرونساء جو اپنے ناول کے۔ بسٹ سین کو حقیقت میں ہوتے دیکھ کر شرمیلی اور بیواقوف ہیروئن نہیں بننا چاہتی تھی ۔۔۔۔ جو ہیرو۔ کی التفات کو در کرے ۔۔۔۔ وہ ان لمحوں کو گلاب کرنے کی خواہشمند تھی ۔۔۔۔۔ فواد نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔ اپنے ہونٹوں سے چھو کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں ہی تھامے رکھا ۔۔۔۔ تیز ہوا سے اڑتے مہرونساء کے بال ۔۔۔ ۔۔ ٹائٹس کے ساتھ شارٹ کرتی پہنے
چہرے پر ہلکے سے میک نے حسن کو اور بھی نکھار دیا تھا ۔۔۔۔ فواد اسے ساتھ واک کرتے ہوئے اسے بتانے لگا کہ کیسے وہ زیب النسا کی شادی پر اس کے حسن پر فریفتہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔ مہرونساء خود ہر اٹھنے والی نظروں کے بھید کے بارے اب جانی تھی۔۔۔۔
” تو وہ آپ تھے ۔۔۔۔ میں تو پورے ہال میں ڈھونڈتی ہی رہ گئ کہ یہ کون ہے جس کی نظروں نے مجھے بے چین کر دیا ہے ‘, مہرو نساء نے بھی مسکرا کر۔ بات کو آگے بڑھایا تھا ۔۔۔۔ فواد ہسنے لگا
” بس میں نے شادی ختم ہوتے ہی ڈیڈ سے کہہ دیا تھا کہ مہرو پر میرے نام کی مہر لگا دیں ۔۔۔۔ کہیں یہ نا ہو کہ کوئی اود طلبگار بھی کھڑا ہو جائے ۔۔۔۔
میں کیسے برداشت کروں گا” فواد کی محبت کے اظہار پر وہ اترائی تھی
” ایک طلبگار ؟” مہرونساء کے حیرت کا اظہار کیا تھا
” جناب میرے طلبگاروں کی کتنی ہی نہیں ہے بے شمار ہیں ” مہرونساء کی بات سن کر فواد کے قدم تھمے تھے ۔۔۔۔۔
مہرو کا ہاتھ فواد کے ہاتھ میں تھا اس لئے مہرونساء کو بھی رکنا پڑا
” کیا مطلب ؟ ” یہ بات تو کوئی بھی شخص نہیں سن سکتا کہ اسکی منگتر کے بے شمار طلبگار ہیں فواد کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر مہرونساء اسکی حالت سے حظ اٹھاتے ہوئے ہسنے لگی۔۔۔
” اتنی حیرت سے کیا دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ آپ کی ہونے والی بیوی کوئی عام سی لڑکی تھوڑی ہے ۔۔۔۔ ایک رائٹر ہے ۔۔۔۔ میری کہانیوں کے لوگ دیوانے ہیں ” پوری بات سن کر فواد کا۔ تنا ہوا چہرہ نارمل ہوا تھا
” اوہ تو ناول نگار ہو ۔۔۔۔ آئی سی ۔۔۔۔ پھر ٹھیک ہے ۔۔۔ تمہاری بات نے تو میری جان ہی نکال لی تھی ” گاڑی تک پہنچ کر فواد نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔
ایک حسین شام تھی ۔۔۔ جو مہرونساء فواد کے سنگت گزار کر آئی تھی ۔۔۔۔۔
******……..
چار دن گزر گئے تھے ۔۔۔۔ شرمینہ نے دوبارہ حازم کو اپنی شکل تک نہیں دیکھائی تھی ۔۔۔۔ صبح اسکے اٹھنے سے پہلے کالج جا چکی ہوتی تھی دوپہر کواتے ہی سو جاتی تھی شام کو بھی کمرے میں کتابیں بکھیرے بیٹھ جاتی تھی ۔۔۔۔ رات کا ڈنر ہی اکھٹے ہوتا تھا ۔۔۔۔ حازم نے ایک بار پھر چاہا کہ وہ اس کے ساتھ کہیں آئے جائے تا کہ اپنے دل کے خلجان کو دور کر سکے چار دن میں کیا کچھ نہیں سوچ چکا تھا
” شرمینہ ڈنر کے بعد ہم لونگ ڈرائیو پر جائیں گئے” اس بار حازم نے افضل صاحب سے اجازت طلب نہیں کی تھی۔۔۔ براہراست شرمینہ سے کہا تھا سن کر ہی شرمینہ کی رنگت اڑی تھی
” نہیں میرے ٹیسٹ ہو رہے ہیں مجھے کہیں۔نہیں جانا ” ۔۔۔ کھانا پلیٹ میں ادھورا چھوڑ کر وہ اٹھ کر ڈائنگ روم سے باہر چلی گئ تھی ۔۔۔۔ رفعت بیگم ہسنے لگی
” حازم میاں چھٹی ہو گئ تمہاری ۔۔۔۔۔ مجھے پتہ تھا کہ میری شرمیلی سی گڑیا روز تمہیں ملاقات کا شرف نہیں دے گی ۔۔۔۔ ” رفعت بیگم کی بات پر حازم زبردستی سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔ ورنہ شرمینہ کے انکار پر جی تو جل کر سلگ سا گیا تھا ۔۔۔۔
” سہیل کا فون آیا تھا ” افضل صاحب جو اب تک خاموشی سے سب سن رہے تھے حازم کی جانب دیکھ کر بولے حازم جانتا تھا کہ سہیل صاحب نے کیوں فون کیا تھا چار دن سے وہ اپنے والد سے یہی ضد کر رہا تھا
” سہیل بھائی کا فون آیا تھا ؟…کیا کہہ رہے تھے ” رفعت بیگم نے پوچھا
” یہ تم حازم سے پوچھ لو ۔۔۔۔۔ دیکھوں رفعت ۔۔۔۔ جواب وہ دینا جس میں شرمینہ کی رضامندی بھی شامل ہو ” یہ کہہ کر وہ بھی ٹیبل سے اٹھ کر چلے گئے رفعت نے پہلے میاں کو سنجیدگی سے جاتے دیکھا تھا پھر دل عزیر بھتجے کو دیکھنے لگیں جو نا جانے کس بات پر الجھا الجھا لگ رہا تھا
” حازم کوئی بات ہوئی ہے ۔۔۔۔ سہیل بھائی نے کچھ کہا تم سے ۔۔۔۔ ” رفعت بیگم کھانا کھا چکیں تھیں حازم بس اپنی پلیٹ میں بچے چاول کو ہی بے دلی سے چمچ سے دائیں بائیں گھما رہا تھا پھر چمچ پلیٹ میں رکھ کر رفعت بیگم کو دیکھنے لگا
” پھپو مجھ سے کتنا پیار کرتی ہیں آپ ” حازم کے سوال کا مطلب جانتی تھی کہ ضرور کوئی فرمائش ہو گی کیونکہ جب بھی اپنی بات رفعت بیگم سے اس نے منوانی ہوتی تھی تب ہی وہ یوں بات کرتا تھا
” حازم تم اچھی طرح سے جانتے ہو ۔۔۔۔ شرمینہ اور تم میں نے کبھی فرق سمجھا ہی نہیں ہے ۔۔۔ بیٹے کی طرح سے تمہیں ہمیشہ چاہا ہے ” حازم کے لئے رفعت بیگم میں ہمیشہ پیار ہی امڈتا تھا
” میں نے بھی آپ میں اور موم میں کبھی فرق نہیں سمجھا اس لئے بڑے مان سے آپ کے سامنے ہاتھ پھیلا کر اپنی چیز آپ سے مانگنے آیا ہوں ۔۔۔ میں نے بچپن سے صرف ایک ہی لڑکی سے محبت کی ہے اور بھی بہت ٹوٹ کر کی ہے ۔۔۔۔ تین سال کی جدائی بڑی مشکل سے سہی ہے پھپو ۔۔۔۔ آپ کو بلکل ماں سمجھ کر اپنی کیفیت بتا رہا ہوں ۔۔۔۔ اس بار شرمینہ کے بغیر اٹکی نہیں جانا چاہتا ۔۔۔۔ پلیز میری بیوی کو ۔میرے ساتھ رخصت کر دیں ۔۔۔۔ ڈیڈ سے بھی میں نے یہی کہا ہے۔ کہ آپ سے بات کریں ” رفعت کے دنوں ہاتھ پکڑ کر وہ رقت آمیز لہجے سے کہہ رہا تھاانکھوں میں محبت کی لو صاف دیکھائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔ رفعت بیگم چپ سی ہو گئیں تھیں شرمینہ شادی کے نام سے ہی گھبراتی تھی حازم کو سامنے دیکھ کترا کر گزر جاتی تھی ۔۔۔۔ کئ بار رفعت بیگم نے اسے سمجھانا بھی چاہا کہ وہ اتنا اصرار کرتا ہے کبھی کبھی ہی اس سے بات کر لیا کرے لیکن شرمینہ کی فق ہوتی رنگت اور ہچکچاہٹ اور مسلسل انکار سن کر وہ ہی چپ ہو چاتیں تھیں ۔۔۔۔ اور رخصتی ۔۔۔ ؟رفعت بیگم کے گلے میں گرہیں سی پڑیں تھیں
” وہ سب تو ۔۔۔۔ ٹھیک ہے حازم ۔۔۔۔ شرمینہ میرے پاس تمہاری ہی امانت ہے بیٹا ۔۔۔۔ لیکن ابھی وہ پڑھ رہی ہے ۔۔۔۔ تمہاری ہی۔ خواہش تھی کہ وہ میڈیکل پڑھے ” رفعت بیگم دل جان سے پیارے بھتجے کو صاف انکار کرنے کاحوصلہ نہیں رکھتیں تھیں
” میں اس کا،وہاں اٹلی میں ایڈمشن کروا دونگا ۔۔۔۔ میرا وعدہ ہے اسکی تعلیم میری وجہ سے بلکل ڈسٹرب نہیں ہو گی ۔۔۔ “” حازم کہاں رکنے کو تیار تھا
” حازم۔۔۔ وہ ابھی بلکل نہیں مانے گی ۔۔۔۔ بہت گھبراتی ہے تم سے تمہارا نام سن کر رنگت اڑ جاتی ہے اسکی ۔۔۔۔ ” یہی بات تو اندر ہی اندر سے حازم کی جان لیے ہوئے تھی کہ وہ اسے دیکھ کر یوں ریایکٹ کیوں کرتی ہے ۔۔۔
” پھپو یہی تو مجھے سمجھ نہیں آتا مجھ سے اتنا گھبراتی کیوں ہے ۔۔۔۔ آپ نے کبھی پوچھا نہیں اس سے ؟” حازم نے اپنے دل کاخدشہ ظاہر کیا
” میں کیا پوچھوں اس سے منہ سے کچھ کہے تب نا تمہارا نام سن کر تو وہ سانس لینا بھول جاتی تھی۔۔۔۔ کئ بار اسے کہا کہ اب حازم سے تمہارا ایک الگ رشتہ ہے شرمینہ ۔۔۔ چلو روز نہیں تو کبھی کبھی اس سے بات کر لیا کرو لیکن نہیں گھبرا کر منع کر دیتی تھی ۔۔۔ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی جاتی تھی ۔۔۔ اب بھی جب سے تم آئے ہو کمرے میں بند رہنے لگی ہے تمہاری وجہ سے ۔۔۔۔۔ ” رفعت نے بھی کھل کر شرمینہ کی کنڈشن بتائی تھی
” پھپو ایسا کیوں ہے ۔۔؟ ۔ یہ بات میں بھی محسوس کر رہا ہوں ۔۔۔۔ آپ جانتی ہے کچھ دن پہلے جب وہ میرے ساتھ آئسکریم کھانے گی تھی ۔۔۔۔ اس نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھے شوہر ہی نہیں مانتی اس رشتے کو کچھ نہیں سمجھتی ہے ؟’ ” حازم کی بات سن رفعت بیگم پریشان سی ہوئیں تھیں شرمینہ یہ کیا حماقت کر گئ تھی
” ایسا تم سے شرمینہ نے کہا ہے ؟ ” وہ کچھ بے یقین سی ہوئی۔ تھیں
” پھپو یہ سن کر آپ کو یقین نہیں آ رہا،سوچیں میری کیا حالت ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔ کیا کیا اندشے میری جان نہیں۔ نکال رہے ہیں ۔۔۔ اس پر اس کی بے اعتنائی اس کا کترانا ۔۔۔۔ پھپو میں یہ سن ہی نہیں سکتا کہ وہ میری جگہ کسی اور کو دے۔۔ میری سماعت میں ایسی برداشت ہی نہیں ہے ” حازم کی آنکھوں میں نمی تھی کرب تھا لہجہ بھی ٹوٹا سا تھا رفعت بیگم برجستہ بیں
” نہیں حازم شرمینہ کی زندگی میں تمھارے علادہ اور کوئی بھی نہیں ہے ” حازم کے دلی خدشے نے رفعت بیگم کا دل دہلایا تھا ۔۔۔ حازم بے حد سنجیدگی سے ایک ایک لفظ جما کر بولا
” ہونا بھی نہیں چاہیے ۔۔۔۔ یہ بات تو کوئی ہھی۔ برداشت نہیں سکتا ۔۔۔۔ کہ اسکی منکوحہ کسی اور کے خواب آنکھوں میں سجائے
پھر میں کیسے کر لو ؟ ۔۔۔ میری آنکھوں نے بچپن سے صرف شرمینہ کے خواب دیکھے ہیں ۔۔۔ میرے دل نے صرف اسی کو چاہا ہے ۔۔۔۔ اسکی نظروں میں اور دل میں صرف میں ہی بسا رہا رہو اسی لئے تو اسے اس مضبوط بندھن میں باندھ کر یہاں سے اٹلی گیا تھا ۔۔۔۔ اسے اجازت ہی نہیں تھی کہ میرے علادہ کسی کو سوچے بھی ۔۔۔ پھپو میں نے ایک لڑکا ہوتے ہوئے اٹلی میں رہ کر بھی خود کو اسی رشتے کا پابند رکھا ہے جوشرمینہ سے قائم کیا ہے ۔ ۔۔۔ پھر یہ کیسے سہہ سکتا ہوں کہ شرمینہ خطا کر جائے ۔۔۔۔گنجائش ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ” حازم کی باتیں رفعت بیگم کا ہوش اڑا رہیں تھیں ۔۔۔ چند ماہ پہلے شرمینہ کی روتی ہوئی آنکھیں نظروں میں گھومنے لگیں ۔۔۔۔ کیا وجہ تھی کیوں رو رہی تھی وہ۔۔۔ وجہ پوچھنے پر بھی گڑبڑا سی گئ تھی ۔۔۔۔ کہیں حازم ک شک ٹھیک تو نہیں ۔۔ ” اس سوچ نے رفعت بیگم کا دل مٹھی میں دبوچا تھا ۔۔۔۔۔ غیرت کے نام پر اپنے خاندان کی کئ عورتوں کو کٹتے اور مرتے دیکھا تھا ۔۔۔۔ بے شک اب اس ماحول سے بچے یکسر دور تھے اپنے آبائی گاؤں کی ہوا تک دونوں بہن بھائیوں نے اپنے بچوں کو نہیں لگنے دی تھی ۔۔۔ لیکن رگوں میں تو حازم کے بھی اسی دادا پر دادا کاخون دوڑ رہا تھا ۔۔۔۔ آج حا کی آنکھوں میں وہی استحقاق اور حق نظر آ رہا تھا۔۔۔۔ جو عورت کی ملکیت کے لئے بھی باپ دادا کی آنکھوں میں رفعت دیکھ چکی تھی رفعت بیگم کا حلق تک خشک ہوا تھا
” تمہیں غلط لگ رہا ہے حازم ۔۔۔ بیٹا دیکھو ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ شرمینہ تم سے عمر میں چھوٹی بھی تو ہے ۔۔۔۔ شا ۔۔۔ شاید اس لئے گھبرا رہی ہے ” رفعت بیگم اسے مطمئن کرنے لگیں ۔۔۔۔ حازم نے ایک گہری سانس بھری
” پھپو خدا کرے ایسا ہی ہو ۔۔۔پہلے تو میں یہ صرف سوچ کر آیا تھا کہ آپ سے رخصتی کی التجا کرو گا ۔۔۔۔ اگرآپ کی رضا مندی نا ہوئی تو واپس چلا جاؤں۔ گا
لیکن اب نہیں ۔۔۔اس لئے ۔ افضل انکل سے کہہ دیں میں اپنی بیوی کو اپنی ساتھ لیکر جاؤں گا چاہے شرمینہ کی رضامندی ہو یا نا ہو ۔۔۔ ” یہ کہہ حازم اٹھ کر چلا گیا تھا رفعت بیگم گم صم سی ہو کر رہ گئیں تھیں ۔۔۔
******…….
” زکی میں تم سے آخری بار کہہ رہا ہوں کہ واپس آؤ لاہور ۔۔۔۔ کیوں اپنے کریئر کے بہترین سال تم اپنی دقیانوسی سوچوں کے نظر کرنا چاہتے ہو ” اشتیاق صاحب کا پارا ساتویں آسمان پر تھا
” بابا آپ سمجھتے کیوں نہیں ہیں کہ میں وہ سب کر کے میڈیا پر نہیں دیکھا سکتا جو آپ دیکھاتے ہیں مجھے منزل اور مقصد بھی آپ سے جدا ہے اس لئے میری راہیں بھی الگ ہیں میں آپ کر ساتھ آپکی راہوں میں چل کر کبھی بھی اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا ۔۔۔۔ ” فون پر پچھلے آدھے گھنٹے سے باپ بیٹے کی بحث چل رہی تھی ۔۔۔۔
” تم ۔۔۔۔ اور تمہاری منزل ۔۔۔۔ میرا نام ضرور ڈبو دیں گئے ” وہ غصے سے دانت بینچ کر بولے زکی بھی انہیں سمجھا سمجھا کر تنگ آ چکا تھا
” ٹھیک ہے آپ کو مجھ سے ایسے ہی خدشات ہیں تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں ۔۔۔۔ باقی آپ کے بچے ہیں آپ کا نام روشن کرنے کے لئے ” زکی بھی ترش لہجے میں بولا تھا اس کے والد کو زکی کی ہر بات سے اختلاف ہی رہتا تھا
” زکی ” وہ چلا کر بولے زکی نے فون بند کر کے آف کر دیا ذہنی انتشار کا شکار ہو چکا تھا فراز بھی چوتھا رائٹر تھا جو انکار کر کے جا چکا تھا ۔۔۔۔
باقی کے جو چھوٹے موٹے رائٹر تھے وہ بھی آجکل کے اچھوتے موضوعات پر ہی لکھنے کو ترجعی دے رہے تھے ۔۔۔۔ یا رومانس یا پھر ساس بہو کے جھگڑوں کے سالوں چلنے والے ڈرامے ۔۔۔۔۔ حالانکہ کامیڈی اسکی فلیڈ نہیں تھی لیکن کامیڈی کے نام پر جس قسم کے لوفر جمعلے بازی ڈراموں میں چل گئ تھی مزاح میں ادب کا عنصر ختم کو چکا تھا ۔۔۔ جو کچھ بچا تھا وہ بیہودگی اور لوفر پن تھا ۔۔۔۔۔ اب اسے ایک نئے رائٹر کی تلاش تھی جو اسکی سوچ کو لفظوں میں بیان کر سکے یہ فکر زکی کی ختم نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ اسپر والد کی بے جاضد وہ انہیں لوگوں کاحصہ بن جائے جنہیں وہ اپنے ایک ہی ڈرامے سے منہ توڑ جواب دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
غصے سے رات کووہ خود قلم اٹھائے اپنے کمرے کے رائٹنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔ پین اٹھایا اور لکھنے کے سامنے رکھے رجسٹر پر جھکا تو ذہن لفظوں سے خالی ہو گیا تھا ۔۔۔ کچھ بھی تو ذہن میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ پھر پین سائیڈ پر رکھ دیا پھر یکسوئی سے سوچنے لگا کہ لکھے کس موضوع پر ۔۔۔ لیکن اس وقت ذہن سادہ سا خالی کاغذ کی مانند لگنے لگا تھا ۔۔۔۔ شاید یہ کام اس کے لئے مشکل تھا ۔۔۔۔۔ پھر ذہنی مشکل سے دو چار تھا س لکھنے کی کوشش ہی بے کار تھی ۔۔۔۔ کرسی سے اٹھ کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔ یہ سوچنے لگا کہ اگر قلم اٹھائے بھی کس موضوع پر ۔۔۔۔ ایک رشوت خور پولس انسپکٹر پر ؟ یا پھر عدالت پر بیٹھے جج کی کرسی پر بیٹھے ایک ایسے شخص پر جو چند سکوں کی خاطر انصاف کے تقاضوں کو چھوڑ کر ظالموں کا ساتھ دیتے ہوئے مظلوم کو موت کی سزا سنا دیتا ہے ۔۔۔۔ یہ ظلم کرتے ہوئے نا اس کے ہاتھ کانپتے ہیں دل دہلتا ہے
یک دم ذہن نے کام شروع کیا تھا ۔۔۔ وہ اٹھ کر واپس رائٹنگ ٹیبل پر آ گیا ۔۔۔۔ قلم اٹھا کر لکھنے لگا ۔۔۔ چند سطریں چند ڈائیلاگز لکھنے کے بعد ہاتھ رک سے گئے تھے ۔۔۔ ذہن میں کئ تصور بیٹھانے کی کوشش کی لیکن بیکار تھی ۔۔۔۔
” پتہ نہیں وہ کون سے ڈاریکٹرز ہوتے ہیں جو لکھنے کا کام بھی خود سر انجام دیتے ہیں ۔۔۔۔ میرے بس کی تو بات ہی نہیں ہے پین دوبارہ سے رجسٹر پر رکھا اور اپناسر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
*******……..
رات کے گیارہ بجے شرمینہ کے کمرے پر دستک ہوئی تھی ۔۔۔۔ وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی دستک سن کر فوت سے فون بند کر دیا ۔۔۔ سب سے پہلے اپنے فون سے ڈائل نمبر ڈلیٹ کیا ۔۔۔ پھر دروازہ کھولا اسے لگارفعت بیگم ہوں گی رات کو وہی اس کے لئے دودھ کا گلاس لاتیں تھیں ۔۔۔۔ اور اس کے لاکھ انکار پر اسے پلاتی بھی تھیں ۔۔۔ لیکن ابھی دروازہ ذرا سا ہی کھلا تھا سامنے حازم کو دیکھ کر شرمینہ کارنگ اڑا تھا ۔۔۔۔ اسوقت وہ کیوں اسکے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔
” آ۔۔پ آپ اس وقت کیوں آئے ہیں یہاں ” شرمینہ نے دروازہ نہیں کھولا تھا اسی ادھ کھلے دروازے کے سامنے استاذہ کیے حازم سے پوچھنے لگی
” کیوں اس وقت کیا ہے ۔۔۔ ہٹو پیچھے شرمینہ ۔مجھے اندر آنا ہے ۔۔۔۔۔ بات کرنی ہے تم سے ” حازم کافی سنجیدہ لگ رہا تھا لہجہ بھی ذرا سخت تھا ۔۔۔ شرمینہ نے دروازہ کھولنے کے بجائے خوف کے مارے بند کرنا چاہا تھا ۔۔۔۔
حازم کو اس سے یہ توقع ہر گز نہیں تھی حازم نے بے ساختہ دروازے کی دہلیز پر ہاتھ کر دروازہ بند ہونے سے روکنا چاہا اسی اثنا میں دروازے کے بیچ میں حازم کا ہاتھ آ چکا تھا ۔۔۔۔ شرمینہ نے دروازے پر اپنی پشت لگائے دروازے کو پوری طاقت سے بند کرنا چاہا
” شرمینہ یہ کیا حماقت ہے دروازہ کھولو ” حازم کا ہاتھ دروازے کے بیچ میں تھا اور شرمینہ کو لگا کہ حازم نے پاؤں کی نوک سے دروازے کو بند ہونے سے روکے رکھا ہے ۔۔۔ کیوں کے دروازے پر پشت لگائے بنا دروازے کو دیکھے بنا زور سے بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی
” نہیں ۔۔۔ مجھے نہیں کھولنا دروازہ آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔۔۔ ” شرمینہ ڈر کے مارے گھبرا کر بولی
“شرمینہ میرا ہاتھ دروازے میں ہے ۔۔۔۔ فار گاڈ سیک ۔۔۔دروازہ کھولو کھا نہیں جاؤں گا میں تمہیں ” معاملہ حازم کی برداشت سے باہر ہوا تھا بری طرح سے ہاتھ سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں ۔۔۔۔ شرمینہ نے برجستہ دروازے کی طرف پلٹ کر دیکھا پھر افسوس کے مارے آنکھیں بند کر دیں یہ کیس کر بیٹھی تھی دل میں خود کو سرزش دی دروازے پر اپنی گرفت اتنی ہی ڈھیلی رکھی کے حازم اپنا ہاتھ کھنچ سکے جیسے ہی حازم نے اپنا ہاتھ کھنچا تھا شرمینہ نے دروازہ بند کر لیا لوک کے ساتھ چٹکنی بھی لگا دی حازم کاغصے سے برا حال تھا ۔۔۔
” شرمینہ دروازہ کھولو ورنہ بہت پچھتاوں گی “
” آپ جائیں یہاں سے ۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔۔ ” شرمینہ کا وہی۔ جواب تھا حازم غصے سے اپنا ہاتھ دباتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔ شرمینہ کے عجیب وغریب رویے سے پریشان ہونے لگا تھا ۔۔۔ اب بھی اس سے ایک دوست۔ بنکر وجہ ہی جاننا چاہتا تھا کہ وہ کیوں اس سے اس طرح سے ڈرتی اور گھبراتی ہے لیکن جو درعمل شرمینہ نے دیکھایا تھا وہ مارے غصے سے پوری سو نہیں پایا تھا دوپہر کو شرمینہ جیسے ہی کالج سے لوٹی تھی لنچ کرتے ہوئے رفعت بیگم سے اپنے کالج کی پرفیسر کے بارے میں تا رہی تھی جب حازم ڈائنگ روم میں داخل ہوا تھا ۔۔۔ اسے دیکھ کر شرمینہ فورا سے کرسی سے کھڑی ہوئی۔ تھی
” مما میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں ” رفعت بیگم نے شرمینہ کی اڑی ہوئی رنگت دیکھ کر اسکی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے پیچھے دیکھا دروازے پر حازم کھڑا تھا جیسے ہی وہ کترا کر اس کے برابر سے گزر کر کمرے سے باہر جانے لگی حازم اسے بازو سے پکڑ چکا تھا شرمینہ بری طرح سے۔ سٹپٹائی تھی
” میرا بازو چھوڑیں حازم ” لیکن حازم نے رفعت بیگم کی جانب دیکھ کر کہا
” پھپو میں اسے باہر لے جا رہا ہوں ہم رات کا ڈنر کر کے واپس آئے گئے ” حازم کی بات اور جرت پر شرمینہ پریشانی سے ماں کو دیکھنے لگی جو بلکل خاموش تھی۔۔ حازم کے سوال پر بس اثبات سے سر ہلانے لگی شرمینہ ماں کے رویے پر دنگ ہوئی تھی اسے لگا کہ وہ حازم کو ڈانٹیں گیئں
” مما ۔۔۔ مما مجھے انکے ساتھ کہیں نہیں جانا ہے ۔۔۔۔ انہیں کہیں مجھے چھوڑیں ” شرمینہ نے اپنا بازو حازم کی گرفت سے چھڑوانا چاہا ۔۔۔۔
” بہت ہو چکا ہے شرمینہ جاؤں اس کے ساتھ شوہر ہے وہ تمہارا ” رفعت بیگم کے سخت لہجے نے شرمینہ کو حیرت زدہ کیا تھا
“مما ” وہ حیران اور پریشان تھی حازم اسے اپنے ساتھ لاونچ سے باہر لے جانے لگا ۔۔۔۔
