186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 27

Meri Jaan by Umme Hani

نا چاہتے ہوئے بھی مہرونساء اتوار تک اپنی تیاری کر چکی تھی ۔۔ صبح ہی اپنا بیگ لئے نیچے اتر گئ ابھی بھی سب کے ساتھ ملکر ناشتہ ہی کر رہی تھی جب زکی پہنچ گیا تھا ۔۔۔ نیاز صاحب اور مہرو کی والدہ بھی خوش تھیں کہ کم از کم وہ گھر سے باہر نکلنے پر آمادہ تو ہوئی تھی ۔۔ زیب بھی کچھ دن رہنے آئی ہوئی تھی زکی جب اندر داخل ہوا تو سب کو مشترکہ ہی سلام کیا تھا نیاز صاحب بہت اچھے طریقے سے اس سے ملے تھے ۔۔

” آؤں بیٹا ہمارے ساتھ ناشتہ کرو ” نیاز صاحب نے ہی زکی سے کہا تھا ۔۔

” تھنک یو سو مچ انکل ناشتہ میں کر کے آیا ہوں لیکن چائے پی سکتا ہوں ایک چائے ہی ایسی چیز ہے جیسے میں انکار نہیں کر سکتا ” زکی کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔ چائے شکی کو زیب نے کپ میں ڈال کر دی تھی مہرونساء خاموشی سے بیٹھی رہی تھی ۔۔ ناشتہ وہ بھی کر چکی تھی بس چائے ہی پی رہی تھی ۔۔۔۔ بات نیاز صاحب نے شروع کی تھی ۔۔۔

” دیکھوں بیٹا تم ارمان کے دوست ہو ارمان تمہاری بہت تعریف کرتا ہے اور تم پر ٹرسٹ بھی اسے بہت ہے ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ میں مہرو کو بھجنے پر راضی ہوں ۔۔ ورنہ مہرو مجھے جس دن نظر نا آئے ۔مجھے چین ہی آتا ہے ۔۔۔ ” مہرو جب سے واپس آئی تھی نیاز صاحب اس کے لئے اور بھی زیادہ محتاط سے ہو گئے تھے اسے باہر ڈرائیور کے بنا بلکل جسنے نہیں دیتے تھے ۔۔

” انکل آپ بے فکر رہیں مہر میری زمہ داری ہیں ۔۔ اور میں خود فیملی ویلوز کو بہت پسند کرتا ہوں ۔۔ اس لئے اس کا خیال بھی رکھتا ہوں ۔۔۔ آپ یہ سمجھیں کہ مہر ارمان کے ساتھ ہے جیسا بھروسہ آپ ارمان پر کرتے ہیں مجھ پر بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔ ” زکی نے چائے کا خالی کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ مہرونسا بھی چائے پی چکی تھی ۔۔۔۔

اس لئے اٹھ کر کھڑی ہو گئ زیب اور اپنی والدہ سے گلے ملی نیاز صاحب نے اسکے سر کابوسہ لیا ۔۔۔ جیب سے اپنا کریڈٹ کارڈ نکال کر دیا اسے رکھ لو اور کسی ٹرپ کی طرح سے انجوائے کرنا ” نیاز صاحب سے کارڈ مہرو نے لے کر پرس میں رکھ لیا

پھر سب کو الوداع کر کے زکی کی تقلید میں چلی گئ

” امی یہ زکی دیکھنے میں کافی ڈشنگ اور ہنڈسم ہے ۔۔ اگر مہرو سے اسکی شادی ہو جائے تو کیسا رہے گا ” زیب کو زکی کو دیکھتے ہی یہ نیا خیال دل میں آیا تھا ۔۔۔

” تم جاتنی تو ہو کس حادثے سے گزری ہے وہ ۔۔۔۔ اور وہ لڑکا کیوں بھلا مہرو کے لئے رشتہ مانگے گا ۔۔۔ “

“امی جو کچھ بھی ہوا ہے مہرو کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے پھر ارمان بھی مجھے بتا رہے تھے زکی عادت کا بہت سوفٹ اور نائیس ہے “

” پھر بھی زیبی لوگ مہرونساء کو کسی اور نظریے سے دیکھتے اور سوچتے ہیں ” مہرو کی والدہ حقیقت پسند خاتون تھیں اس لئے ایسی کوئی بھی خوش فہمی نہیں پالنا چاہتی تھیں لیکن نیاز صاحب کو زکی پہلی نظر میں ہی اچھا لگا تھا۔۔۔

زکی نے گاڑی میں بیٹھتے ہی مہرونساء کے لئے فرنٹ ڈور کھولا تھا مہرونسا کاسامان وہ ڈگی میں رکھ چکا تھا ۔۔

مہرونساء خاموشی سےاس کے برابر بیٹھ گئ ۔۔۔

زکی نے گاڑی میں روڈ ہرلاتے ہی سب سے پہلے فاضل کو کال کی تھی “

“کہاں ہو تم ” زکی نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا

فاضل ہینڈ فری کان میں لگائے فٹا فٹ سے اپنی بیگ میں اپنے کپڑے ٹھونس رہا تھا ابھی دس منٹ پہلے ہی اسکی آنکھ کھلی تھی کافی لیٹ ہو چکا تھا ۔۔ اس لئے دس منٹ میں جو جو ٹھیک لگ رہا بیگ میں پھنک کر بیگ کی زپ بند کرنے لگا جو بیگ کے اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے بند نہیں ہو رہی تھی

” میں بس گھر سے نکل چکا ہوں راستے میں ہوں ابھی پانچ منٹ میں تمہیں ائیر پورٹ پر ملو گا ” فاضل اب بیگ کے اوپر بیٹھ کر زپ بند کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ابھی اس نے تیار بھی ہونا تھا اس لئے کچھ بھی کر لیتا لیکن دس منٹ میں ائیر پورٹ پہنچنا اس کے لئے ممکن نہیں تھا ۔۔۔

دوسری طرف یسرا وقت پرائیر پورٹ پہنچ چکی تھی ۔۔ زکی نے فون بند کیا اور میوزک آن کر دیا ۔۔

مہرونساء وہسے بھی بلکل لاتعلق سی بیٹھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی ۔۔۔

دس منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہی وہ لوگ ائیر پورٹ پہنچ گئے تھے ۔۔۔ مہرونساء کی پہلی ملاقات یسرا سے ائیر پورٹ پر ہی ہوئی تھی ۔۔ زکی نے ان کابس مختصر سا تعارف ہی کروایا تھا ۔۔۔۔ اپنے بیگ لیے وہ لوگ اندر داخل کو چکے تھے ۔۔۔ اسلام آباد کی فلائٹ کا ٹائم بھی کو چکا تھا لیکن فاضل ابھی تک نہیں پہنچا تھا بلکہ فون بھی نہیں اٹھا رہا تھا ان تینوں کی بلڈنگ بھی ہو چکی تھی ۔۔۔۔ زکی اب پریشان سا ہو گیا تھا فاضل کی لاپروا طعبیت سے وی عاجز آ چکا تھا ۔۔۔۔ اب وہ لوگ جہاز میں جانے ہی والے تھے جب فاضل بھاگتا ہوا ان تک پہنچا تھا یسرا تو اسے دیکھ کر اچھنبے میں آئی تھی یہی حال فاضل کا بھی تھا ۔۔۔لیکن فاضل کے پاس زیادہ حیران ہونے کابھی وقت نہیں تھا زکی نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا تھا

“پانچ منٹ اب پورے ہوئے ہیں تمہارے ” زکی نے گھڑی دیکھتے ہوئے اسے غصے سے بولا فول مسکرانے لگا

” ٹریفک ۔۔۔ تمہیں تو پتہ ہے ٹریفک جب جام ہو جائے تو کتنا مشکل ہوتا ہے ” ایک اور بہانہ فاصل نے بنایا تھا زکی بس اس پر افسوس ہی کر سکتا تھا لیکن ابھی اس کا بھی وقت نہیں تھا

۔۔۔ جہاز میں یسرا اور مہرونساء ساتھ بیٹھی تھیں پوراسفر یسرا کے ساتھ مہرو کا اچھا گزرا تھا اسلام آباد سے اگے کا سفر ایک پرائیویٹ گاڑی میں کیا گیا تھا ایبٹ آباد کے ایک خوبصورت جب پہنچے تھے سب ہی تھکن سے چور تھے مہرنساء اور یسرا کا،ایک روم تھا البتہ فاضل اور زکی کے کمرے الگ تھے ۔۔۔

کیمرہ مین اور باقی کی ٹیم ٹرین کے ذریعے یا اپنے خرچے پر ہی یہاں ہوٹل میں پہنچنے والے تھے ۔۔۔

یسرا فاضل کو دیکھ کر پریشان ہوئی تھی اسے اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ وہ زکی کے۔ ڈرامہ میں کام کر رہا ہے تو وہ کبھی بھی زکی کوہامی نابھرتی ۔۔۔

مہرونساء کبھی بہت باتونی ہوا کرتی تھی لیکن اپنی زندگی کے ایک حادثے نے اسے چپ سی لگا دی تھی یسرا ویسے کم گو تھی صبح صبح جب مہرونساء کی آنکھ کھلی تو سات بجے کاوقت تھا یسرا بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔ وہ اٹھ کر فریش ہو کر گیلری میں آ گئ تھی ۔۔۔

” فواد ہم ہنی مون کے لئے یو کے ضرور جائیں گئے ۔۔ “

“جہاں تم کہو گی وہی۔ جائیں گئے لیکن مجھے پہلے پاکستان بھی دیکھنا ہے ۔۔۔ ” اپنی اور فواد کی باتیں اسے یاد آنے لگیں گرم شال لپیٹے وہ کھڑی باہر کے خوبصوت مناظر دیکھ رہی تھی لیکن وہ نا آنکھوں کو بھلے لگ رہے تھے نا ہی دل کو فواد کا خیال آتے ہی اس کی باتیں مہرو کو تڑپانے لگیں تھیں ۔۔۔ آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔۔

” اپنی بیوی کے ساتھ بہت خوش ہو گاوہ مجھے تو بھول چکا ہو گا ۔۔۔ میں نے اسکے ساتھ اچھا کیا بھی کب تھا ۔۔۔۔ کیسے الٹے پاؤں جاتے ہوئے بھی مجھے آس بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کہ شاید میں اسکی پاس لوٹ جاؤں ۔۔۔ لیکن میں ۔۔۔۔ ؟ میں شاید اسکے نصیب میں تھی ہی نہیں وہ تھی جو اسے بنا کوشش کیے مل گئ ۔۔۔ اپنے آنسوں پونچے کر جب وہ پیچھے پلٹی تو یسرا کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی

” مہرونساء آر یو او کے ” یسرا اسے روتے ہوئے کب سے دیکھ رہی تھی لیکن وجہ سے انجان تھی پھر وہ مہرو کے ماضی سے بھی بے خبر تھی ۔۔۔ نا ہی ناول پڑھنے میں اتنی دلچسپی رہی تھی نا ہی اتنی فرصت کے اپنے گھر کے حالات سے باہر نکل کر کچھ اور دیکھے یا سنے ۔۔۔

” ہاں میں ٹھیک “

” سر کی کال آئی تھی کہہ رہے تھے شورٹ شام سے ہی اسٹاٹ کرنا ہے ۔۔۔ اگر آپ فری ہیں تو ناشتے کے بعد کچھ ڈسکس کرلیں کیونکہ میں اپنے کریکٹر سے بلکل انجان ہوں ” یسرا نے بنا کسی ڈسکشن کے ہی زکی کے ڈرامہ کے لئے ہامی بھری تھی ناشتہ ان چاروں نے ایک ساتھ ہی کیا تھا اسی ہوٹل کے ریسٹورنٹ۔ میں اور وہیں بیٹھ کر کریکٹر کو بھی ڈسکس کرتے رہے تھے باقی کی ٹیم بھی پہنچ چکی تھی ۔ ۔ پہلی بار ایسا کریکٹر یسرا کو ملا تھا ۔۔۔

” ڈفرنٹ سا کریکٹر ہے آئی تھنکنگ مجھے سیکھنے کو بہت کچھ ملے گا ۔۔” ۔یسرا کو کہانی کافی جاندار سی لگ رہی تھی

” ہاں لیکن مجھے اینڈ بلکل پسند نہیں آیا ۔۔۔ جب اس لڑکے کو اپنی غلطی کااحساس بھی یو جائے گاوہ سدھر بھی جائے گا معافی بھی مانگ کے گا تو پھر ہیروئن اسے کیوں نہیں ملے گی ۔۔۔ یہ تو اس بیچارے کے ساتھ ذیادتی نہیں جو جائے گی ” فاضل کو بس ڈرامے کے آخری سین ہر اعتراض تھا جہاں ہیروئن سے معافی تلافی کے بعد بھی ہیروئن اسے اپناتی نہیں ہے سوال اس نے زکیبسے کیا تھا

” یہ تو تم رائٹر صاحبہ سے پوچھ لو ۔۔ کیونکہ انکی یہ شرط ہے انکی تحریر میں ردو بدل کی گنجائش نہیں ہے ۔۔۔ ” زکی نے مہرو کی کہی بات ہی دہرائی تھی لیکن مہرونساء کو لگا کہ وہ اس پر طنز کر رہا ہے ۔۔۔ فاضل اب براہ راست مہرو نساء سے مخاطب ہوا

” مس مہرو نساء آپ کو نہیں لگتا کہ ڈرامے کی اینڈنگ کچھ ہیپی سی ہوئی چاہیے لوگ خوش ہو جائے گئے عزت کو فہد کے ساتھ خوش دیکھ کر ۔۔۔ ” فاصل نے کریکٹر کے نام لیکر کہا

” ہمارا سارا مسلہ یہی تو ہے ہم بس لوگوں کو خوش کرنے کی خاطر انہیں حقیقت سے بہت دور لے جاتے ہیں ۔۔۔ یہ نہیں سوچتے کہ یہ ہیپی اینڈنگ کہ وجہ سے ہم کتنے ہی کچے ذہنوں میں اس غلط کام کاانجام اچھا دیکھا کر انہیں لاشعوری طور پر یہ سمجھا رہے ہوتے ہیں بعد میں سب کچھ ٹھیک کو جاتا ہے اس لئے غلط قدم اٹھا لو اینڈنگ ہمیشہ ہیپی ہی ہو گی لیکن سچ میں ایسا نہیں ہوتا ۔۔ برائی کا انجام ہمیشہ درد ناک ہی ہوتا ہے ۔ ” مہرونساء کی بات سن کر تینوں ہی خاموش کو گئے تھے ۔۔۔ اور مہرو کو شرمینہ کا خیال آیا تھا ۔۔۔

زکی کو مہرو کی باتیں سن کر کچھ عجیب سا فیل ہوا تھا شاید اسکی وجہ اسکے ساتھ رونما ہونے والا واقع تھا ۔۔۔ ورنہ وہ پہلے بھی مہرونساء سے مل چکا تھا وہ شوخ مزاج سی لڑکی تھی۔۔۔

شورٹ سے پہلے مہرونساء نے زکی سے پوچھا

” آپ مجھے بتا دیں کہ میری مسٹیک کہاں ہے اور کون سے سین غیر ضروری اور بور ہیں میں انہیں چینج کر دوں ” مہرنساء جس کام کے لئے آئی تھی اس کے متعلق پوچھنے لگی لیکن جو جواب اسے سننے کو ملا تھا وہ تلملا کر رہ گئ تھی ۔

” کوئی ایسا سین نہیں ہے جیسے چینج کرنے کی ضرورت ہو نا ہی کوئی مسٹیک ہے سب کچھ بلکل پرفیکٹ ہے ” چائے پیتے ہوئے زکی نے مہرونساء سے کہا وہ سن حیران ہوئی تھی

” جب سب کچھ بلکل پرفیکٹ تھا تو مجھے آپ یہاں کیوں لائے ہیں “مہرو کو حیرت کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آ رہا تھا

” بس یونہی میں نے سوچا آپ تھوڑا انجوائے کر لیں گئیں شوٹنگ دیکھ لیں گئی گھر بیٹھ بیٹھ کر آپ نے کرنا بھی کیا تھا ۔۔۔ بور کی تو ہونا تھا ” بڑے آرام سے وہ یہ کہہ کر کیمرہ مین کے پاس چلا گیا اور اسے کیمرے کی ڈاریکشن سمجھانے لگا

مہرونساء اسے کینہ توز نظروں سے دیکھتی رہ گئ تھی ۔۔۔ جو اسے بہت آرام سے بیوقوف بنا گیا تھا

پہلا شورٹ بہت اچھا گیا تھا ۔۔۔ زکی کی خواہش کے مطابق شام کو جب وہ لوگ واپس ہوٹل کے رومز میں لے گئے زکی کو مہرونساء کی کال آنے لگی

“جی مہر کہیے “

” میں واپس جانا چاہتی ہوں کیونکہ آپ نے

مجھ سے جھوٹ بول کر یہاں لائیں ہیں ۔۔۔ آپ کیا سمجھتے ہیں میں احمق ہوں جو آپ کو سمجھ نہیں پاؤں گی” وہ غصے سے بول رہی تھی

” دیکھیں مہر اگر میں آپ سے سچ کہتا توآپ ہر گز بھی آنے کو تیار نا ہوتیں اور دوسری بات آپ نے بلکل ٹھیک کہی ہے میں آپ کو یہی سمجھتا ہوں ورنہ اتناخوبصورت شہر چھوڑ کر جانے کو کس عقلمند کا دل چاہ سکتا ہے کوئی احمق ہی ہو گی جو یہاں سے جانے کا کہے ” زکی نے مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا تھا ۔۔ ” مہرنساء کی غصے اور حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں تھیں

اس نے فون بند کر دیا ۔۔۔ اور اپنادل جلانے لگی ۔۔۔

میں اسے احمق لگتی ہوں نا جانے کیوں میں اس شخص کی باتوں میں آ کر یہاں آ گئ ۔۔۔

مہرونساء کو سٹ پر جانا تھا اس لئے یسرا کے ہمراہ وہیں پہنچ گئ

ڈرامے کے دوسرے ہی سین میں ہیرو کوہیروئن سے اپنی محبت کا اظہار کرنا تھا مکلمات وہ دونوں یاد کر چکے تھے ۔۔ڈرامے کا پہلا سین تھا جہاں یسرا اور فاضل رو با رو کھڑے تھے

پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ فاصل نے چہرے کے زاویے نہیں بگاڑے تھے بلکل سنجیدگی سے یسرا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ آنکھوں۔ میں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا

جیسے آنکھوں سے ہی اسے زیر کر دے گا ۔۔۔ یسرا کے رویے نے اسے پہلے ہی بہت ڈسٹرب کر رکھا تھا وہ مسلسل اس سے آنکھیں چرا رہی تھی ۔۔ فاصل نے بس پہلا جمعلہ کی ٹھیک بولا تھا

“عزت میں۔ تم سے بہت محبت کرتا ہوں لیکن ہمارے والدین بھی ہمہیں ایک نہیں ہونے دیں گئے ” فاضل اپنا مکالمہ بول چکا تھا باری اب یسرا کی تھی لیکن آج جن نظروں سے وہ اسے دیکھ رہا تھا یسرا کے لئے بولنا مشکل ہو رہا تھا ہر بار یسرا نے ایسے سین فاضل کے ساتھ ہمیشہ ہنستے ہنساتے ہی کیے تھے لیکن اس بار وہ بڑی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا ۔۔۔ آج اسکی نظروں میں بہت کچھ تھا جسے یسرا محسوس تو کر رہی تھی لیکن نظریں چرا رہی تھی

” میں بھی تم سے۔۔۔۔۔۔ ” نا جانے کیوں بولتے ہوئے اٹک سی گئ تھی پھر جب اسکی آنکھوں میں دوبارہ دیکھا تو سارے لفظ ہی ذہن سے محو ہو چکے تھے

” اگر تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو تو اقرار کرتے ہوئے اتنا ڈر کیوں رہی ہو ۔۔۔۔۔ نظریں کیوں چرا رہی ہو مجھ سے ۔۔۔ ” یسرا کو لگ رہا تھا کہ فاضل ادکارہ نہیں کر رہا بلکہ سچ مچ اس سے وجہ پوچھ رہا ہے ۔۔۔

” میں ۔۔۔ نہیں جانتی ۔۔ لیکن مجھے برا لگتا ہے جب تم میرے علاؤہ کسی لڑکی کواہمیت دیتے ہو ۔۔۔۔ کوئی کیوں تمہاری زندگی میں مجھ سے زیادہ اہم “

” مطلب تم جیلس ہوتی ہو ۔۔۔ تمہیں تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔ مجھے بھی بہت تکلیف ہوتی ہے جب تم کیسی اور کی آنکھوں میں دیکھ کر اظہار محبت کرتی ہو جب کے تمہارے دل میں صرف میں ہوں ” مہرو کے ساتھ ساتھ زکی بھی اپنی کرسی سے کھڑا ہوا تھا مہرونساء کے ہاتھ میں فائل تھی جس پر وہ نظریں جمائے مکلمات سن رہی تھی ۔۔۔

مہرونساء کبھی ہاتھ میں پکڑی پر نظریں دوڑاتی تو کبھی بار بار دیکھتی دونوں ہی الگ سے نکالنے بول رہے تھے زکی بھی کیمرہ مین کے پاس سے ہٹ کر مہرونساء کے پاس جا کھڑا ہو گیا اس کے ہاتھ فائل پکڑ کر مکلمات دیکھنے لگا

” یہ دونوں تو نا جانے کیا بول رہے ہیں ۔۔۔ دونوں ہی اپنے مکلمات سے الگ لائن بول رہے ہیں ۔۔۔ ” مہرونساء نے دھیرے سے کہا

” ہاں میں بھی یہی دیکھ رہا ہو یہ ڈائیلاگز تو بلکل مختلف ہیں ۔۔۔ ایسی غلطی دونوں نے پہلی کبھی کی تو نہیں ہے نا جانے آج کیوں ” زکی بھی حیران تھا ایسا پہلے ہوا بھی نہیں تھا

زکی اور مہرونساء کی نظریں پھر ان دونوں پر اٹھیں تھیں ہسرا کیںانکھیں نم ہوئیں تھیں بڑی دل گرفتگی سے بولی

” تمہیں صرف اپنی تکلیف کااحساس ہے ۔۔ بہت برا لگتا ہے میرا کسی طرف دیکھنا محبت کااظہار کرنا

اور جس تکلیف میں گزر رہی ہوں اس کا ذرا سا اندازہ ہے کتنا مشکل میرے وہ سہنا ” یسراروہانسی سی ہو گئ تھی فاضل یسراکی آنکھوں کی نمی دیکھ کر اپ سٹ ہوا تھا

” کٹ کٹ کٹ ” کی آواز پر دونوں ہی اپنے اپنے ٹرانس سے باہر آئے تھے

” یہ سب کیا بول رہے ہو تم لوگ ۔۔۔ یہ تو بلکل آؤٹ سے ڈائیلاگز ہیں ۔۔۔ ” زکی نے فائل مہرو کے ہاتھ سے لیکر فاضل اور یسرا کے سامنے کی دونوں کی اپنی اپنی جگہ خفت کا شکار ہوئے تھے

” ایم سوری سر ۔۔۔ لیکن میں یہ ابھی نہیں کر سکتی ” یہ کہہ کر یسرا اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی صاف کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔ زکی اسے دیکھتا ہی رہ گیا تھا دوسری حیرت اسے فاضل کو دیکھ کر ہوئی تھی جو یسرا کے پیچھے لپکا تھا دونوں ہی باہر جا چکے تھے ۔۔۔ وہاں موجود کیمرہ مین اور باقی کے لوگ بھی ایک دوسرے معنی خیز نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔ کچھ کچھ گڑبڑ کا احساس تو مہرونساء کو بھی ہو رہا تھا ۔۔۔ زکی گہری سانس لیکر نافہمی کے انداز سے کندھے آچکا کر رہ گیا تھا

دوسری طرف یسرا تیزی سے باہر نکل رہی تھی جب فاضل نے اگلے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھما تھا ۔۔۔ اس نے برجستہ اپنے قدم روکے تھے

” یہ کیا بد تمیزی ہے ہاتھ چھوڑیں میرا ” ۔یسرا تلخ لہجے سے بولی

” کون سی تکلیف سہہ رہی ہو تم ۔۔۔ ایسا کیا کیا ہے میں نے ” فاصل نے بات وہیں سے شروع کی جہاں سے وہ چھوڑ کر گئ تھی وجہ ہی تووہ جاننا چاہتا تھا کیوں وہ اتنی ںاجنبیت سے کام لے رہی تھی

” ایسا کچھ نہیں ہے میں ڈائیلولز بھول گئ تھی جیسے آپ بھولے تھے ۔۔۔ اب ہاتھ چھوڑیں میرا ” یسرا اس سے پیچھا چھڑانے کے لئے بولی

“, تم سے کس نے کہا کہ میں ڈائیلولز بول رہا تھا ۔۔۔ میں تم نے سے جو بھی کہہ رہا تھاسچ کہہ رہا تھا یسرا۔۔۔ اور جو تم مجھ رہی وہ بھی کوئی جھوٹ نہیں تھا ۔۔۔۔ اب بتاؤں مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ” فاضل کے برملا اظہار پر وہ سٹپٹا سی گئ تھی

” غلط فہمی ہے آپکی ایسا کچھ ۔۔۔ نہیں ہے ” یسرا نے نظریں چراتے ہوئے انکار کیا تھا

” غلط فہمی ہے ؟ کیسی غلط فہمی ۔۔۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں اسی لئے تمہیں اپنی فیملی میں بار بار ملوانے کا میرا مقصد بھی یہی تھا ۔۔۔ میں چاہتا تھا تم میری فیملی سے اٹچ ہو جاؤں انہیں اچھی طرح جان لو امی اور انو تمہیں اچھی طرح سے سمجھ لیں ۔۔ تا جب میں امی سے تمہاری بات کرو تو انہیں اعتراض نا ہو ۔۔۔ اور “

” انف از انف ۔۔۔ کیاسمجھ رکھا ہے آپ نے مجھے

یسرا آپکے ہاتھ کی کٹ پتلی ہے جسے جب چاہیں جیسا چاہیں آپ چلا لیں گئے ۔۔۔ میری کوئی رائے نہیں ہے ۔۔ میں آپ کو پسند ہوں کیا یہ کافی ہے “

” نہیں یہ کافی نہیں ہے ۔۔۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ تم مجھے پسند کرتی ہو بلکہ پسند سے زیادہ ہی میں تمہارے لئے اہمیت رکھتا ہوں ” فاصل کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا

” کس نے کہہ دیا آپ سے ؟؟؟ میں صرف آپکی والدہ کی خوش مزاجی اورانو کے لئے آپ کے گھر چلی جاتی تھی اگر آپ ایسی خوش فہمیاں پالنے موڈ میں ہیں تو آئندہ نہیں جاؤں گی ” یہ سن کر فاضل نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا

” سچ کہہ رہی ہو تم میں ہی شاید کسی غلط فہمی میں تھا ۔۔۔ اچھا کیا تم نے دور کر دی ” کہہ کر وہ وہاں رکا نہیں تھا گے بڑھ گیا تھا

******…….

بہت دن بعد حازم آج شرمینہ کی تصویر رکھے اس کااسکیچ بنانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔ شرمینہ کہ باتیں اسے یاد ا رہی۔ تھی کبھی اسکا مسکراتا ہوا چہرہ آہستہ آہستہ کب وہ چہرہ مہرونساء کے چہرے میں بدلنے لگا کب حازم کی سوچ مہرونساء کی جانب ہونے لگی اسے بلکل خبر نہیں ہوئی تھی ہوش اسے پھر سے تب آیا جب مہرونساء چھت سے کودنے کے لئے بھاگی تھی اور حازم نے اسے اپنی جانب کھنچا تھا

دل دھک سے رہ گیا

” نہیں مہرونسا نہیں ” یک دم ہی وہ پھرسے چلایا تھا ۔۔۔ یک دم ہی اپنی بازگشت ہی اسے حال میں لائی تھی دل اب بھی وہی عالم تھا بے ساختگی سے دھڑک رہا تھا چہرے سے پسینے بہہ رہے تھے

اپنی بد حواسی وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ابھی اپنی کیفت سے ہی سنبھل نہیں پایا تھا کہ سامنے کااسکیچ دیکھ کر دنگ سارہ گیا تھا سامنے مہرونساء کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔ حالانکہ وہ شرمینہ کا اسکیچ بنانے کی کوشش کر رہا تھا نا جانے کس خوف کے تحت لیکن حازم نے ہاتھ میں پکڑی پینسل جھٹ سے پھینک دی تھی

کچھ دیر مہرونساء کااسکیچ بڑے غور سے دیکھنے لگا آہستہ آہستہ اس اسکیچ کی آنکھوں میں پائی سطح بلند ہوتی ہوئی نظر آنے لگی پھر کے مہرونساء کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے ہیں اب وہ سسکیاں لیتے ہوئے رو رہی کہہ تھی

” حازم تمہیں میرے آنسوں پسند ہیں نا ۔۔۔۔ میرا تمہیں سکون بخشتا ہے ۔۔۔ دیکھوں مجھے میرے آنسوں اب کبھی خشک نہیں ہوتے میری سسکیاں اب کبھی ختم نہیں ہوتیں ۔۔۔ تمہیں میرے آنسوں سے محبت تھی شاید اس لئے ۔۔۔ نہیں تمہیں تو میرے آنسوں سے عشق ہے ” بہتے آنسوں سے وہ اسے کہہ رہی تھی

” نہیں ۔۔۔ نہیں ہے مجھے تمہارے آنسوں سے کوئی عشق ۔۔۔ تمہاری سسکیاں میرا چین لینے لگیں ہیں ۔۔۔ مجھے راتوں نیند نہیں آتی ہے مہرونساء ۔۔۔ ” حازم اس کی اسکیچ کی طرف بڑھا اور اس کے آنسوں پونچنے لگا ۔۔۔ لیکن اب وہ اسکیچ واپس اپنی اصل میں آ چکا تھا ۔۔۔۔ جہاں آنسوں مہرونساء کی آنکھوں میں کہیں نہیں تھے وہ مسکرا رہی تھی ۔۔۔ آنسوں تواب حازم کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے حازم نے جب اپنے چہرے پر بہتے آنسوں کو محسوس کیابری طرح سے بد حواس ہوا تھا

” میں کیوں رو رہا ہوں میری آنکھوں سے آنسوں کیسے بہہ سکتے ہیں ۔۔۔ میں نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا جو مجھے بے چین کر دے ۔۔۔ مجھے کیوں سکون میسر نہیں ہے ” حازم اس بات سے پریشان تھا اس نے جو کچھ بھی مہرونساء کے ساتھ کیا وہ اس پر حق بجانب تھا کیونکہ شرمینہ کی موت کی وجہ وہ تھی ۔۔۔ لیکن اگر وہ حق پر تھا سب کیوں بے چین تھا کیونکہ مہرونساء کی یادیں اس کے لئے عذاب بنتی جا رہیں تھیں

*******………,

اگلے روز مہرونساء سے پر موجود نہیں تھی ۔۔۔ کافی دیر بعد جا کر زکی فاضل اور یسرا سے اپنی مرضی کاسین پیکچرائز کروا کر فارغ ہوا تھا ۔۔۔ اس کے بعد وہ اپنے کاموں میں ہی مصروف رہاشام کی چائے پر جب یسرا اکیلی ہی آئی تو زکی مہرونساء کا پوچھنے لگا

” سر وہ دوپہر سے ہوٹل کے روم میں نہیں ہیں میں جب شورٹ کر کے واپس روم گئ وہ وہاں نہیں تھیں فون بھی آف کے ان کا ” یسرا کی بات سن کر وہ پریشان سا ہوا تھا کہ کہیں واپس نا چلی گئ ہو

لیکن اگر ایسا کرتی بھی تو اسے اطلاع ضرور دیتی ۔۔۔ چائے ختم کرتے ہی وہ اپنے موبائل سے اسے فون کرنے لگا لیکن اس کا فون آف تھا اب شام بھی گہری ہونے لگی تھی ،کی کی پریشانی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔ ہوٹل کے رسپشن سے یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ بنا کسی سامان کے اکیلی ہی روم کی چابیاں رسپشن پر دے کر کہیں گئ تھی کہ اگر یسرا آئے تو روم کی چابی کے لئے پریشان نا ہو

پہلے تو زکی نے یہ سوچا کہ شاید قریب ہی کسی مارکیٹ میں گئ ہو گی لیکن اب تو اندھیراچار سو پھیل چکا تھا ۔۔ ہوٹل سے نکل کر وہ آس پاس کی قریبی جگہوں پر اسے ڈھونڈنے نکل گیا تھا ۔۔۔ لیکن وہ کہیں بھی۔ نظر نہیں آئی تھی فون پر وہ یسرا سے یہ بھی پو چھتا رہا کہ مہرو واپس آئی کہ نہیں جب آئے تو یسرااسے اطلاع کر دے ۔۔۔ جیسے جیسے رات بڑھ رہی تھی زکی کی پریشانی میں بھی اضافہ ہو رہا تھا ۔۔۔ اس یہ ستم کے گرج چمک سے بارش شروع ہو چکی تھی ۔۔۔ وہ قریبی مارکیٹ دیکھ چکا تھا وہ کہیں نظر نہیں آئی تھی

” جس کہاں سکتی ہے وہ ۔۔۔ واقع احمقوں کی سردار ہے یہ لڑکی کم از کم فون توان رکھنا چاہیے تھا ۔۔۔ مجے بتاتو سکتی تھی ۔۔۔ اب کہاں جا ڈھونڈو اسے ” زکی زچ کی آخری حد پر تھا گاڑی اب مختلف راستوں پر چلارہا تھادائیں بائیں نظریں بھی دوڑا رہا تھا لیکن وہ کہیں نہیں نظر آ رہی تھی اب اسکی گاڑی سنسان سے راستوں پر رواں دواں تھی جب اچانک سے ۔۔۔۔۔