186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 30

Meri Jaan by Umme Hani

مہرو حد درجہ نروس اور خفت کا شکار تھی جب کمرے میں۔ پہنچی یسرا اسی کا انتظار کر رہی تھی

مہرو کو دیکھ کر اسکے پاس آگئ ۔۔

” ہو گئ بات ؟” یسرا نے بے چینی سے پوچھا تھا مہرونساء نے اثبات میں سر ہلا دیا تنفس اب بھی اسکا بہت تیز چل رہا تھا

” سر نے کیا کہا” یسرا کو تجسس سا ہو رہا تھا

” کچھ نہیں بس خاموش ہی رہے تھے ۔۔۔ ” مہرو اب اپنی حماقت کی داستاں یسرا کو سنانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ یسرا بھی چپ سی ہو گئ تھی چند بعد ہی شوٹنگ ختم ہوتے ہی ان کی واپسی تھی ۔۔۔ یسرا کی مہرونساء سے اچھی دوستی ہو چکی تھی زکی نے دوبارہ یسرا سے اس موضوع پر بات نہیں کی تھی

گھر پہنچ کر پہلی بار مہرونساء نے اپنی والدہ سے ڈھیروں باتیں کیں تھیں ایبٹ آباد کی۔۔ شوٹنگ کی ۔۔ کبھی کسی بات پر ہنس بھی دیتی تھی ۔۔۔ اسکی والدہ تو بیٹی کو خوش دیکھ کر نہال ہو رہیں تھیں ۔۔ جو واپس پرانی مہرو بنتی جا رہی تھی ۔۔۔

دوسری طرف یسرا کو تین دن ہو گئے واپس آئے ہوئے دل کی خواہش بھی تھی کہ جا کر انابیہ سے ملے لیکن گئ نہیں تھی ۔۔انابیہ اور فاضل کی والدہ نے بھی اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔۔۔ نا جانے کیوں وہ چاہتی تھی فاضل خود اس سے اس موضوع پر بات کرے لیکن وہ بھی چپ تھا ۔۔۔ شام میں وہ اپنے لئے چائے بنا رہی جب اسکے گھر کی ڈور بیل ہوئی ۔۔۔ یسرا نے دروازہ کھولا تو سامنے فاضل اپنی والدہ اور انابیہ کے ساتھ کھڑا تھا اور جو فاضل کے بائیں جانب کھڑی تھیں اسے دیکھ کر یسرا آنکھیں جھپکنا بھول گئ تھی ۔۔۔۔

” امی” یسرا کی والدہ تھیں وہ کرنا حیران ہوتی اتنا ہی کم تھا ۔۔۔

وہ سب کو بھلائے اپنی ماں کے گلے لگ گئ تھی ۔۔۔ س کی بہنیں بھی ساتھ آئیں تھیں ۔۔۔

نا چاہتے ہوئے بھی اس کا ضبط جواب دے گیا تھا اپنی امی اور بہنوں سے ملکر وہ آنکھیں چھلک گئیں تھیں ۔۔۔ سب ہی اندر داخل ہو گئے تھے ۔۔

یسرا کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس چیز سے سب کی توضع کرے ۔۔۔ عجیب بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی فریج سے جوس نکالا اور گلاسز میں ڈالنے لگیں ۔۔۔

” مجھے معلوم ہوتا امی کے آپ آنے والی ہیں اور آپ سب لوگ آئیں گئے تو کھانا جلدی بنا لیتی ” وہ سب کو جوس دے کر اپنی والدہ کے پاس بیٹھ کر کہنے لگی ۔۔۔ جواب فاصل کی والدہ نے دیا تھا

” کھانا بنانے کی زحمت تم بلکل نہیں کروں گی ہم تو تمہیں لینے آئے ہیں کھانے کا انتظام میرے گھر پر ہے ۔۔۔ مجھے جب سے فاضل نے یہ بتایا کہ تم نے میرے نکمے بیٹے کے لئے ہاں کر دی ہے مجھے تو اپنے کانوں پر ہی یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ کہ یسرا اتنی سمجھدار ہونہار ہو کر ایسی بیوقوفی کر کیسے سکتی ہے ؟ فاضل کی۔ بات پر جہاں سب ہنسنے لگے تھے یسرا نے حیرت سے فاضل کی طرف دیکھا تھا جس نے مسکراتے ہوئے اپنی آنکھ ونک کی تھی۔۔ یسرا نے خفگی سے اسے دیکھا تھا

” بھئ میں نے سوچا کہیں یہ نا ہو کہ یسرا کو اپنی غلطی کااحساس ہو جائے اور اتنی پیاری لڑکی میرے ہاتھ سے نا نکل جائے اس لئے میں نے وقت ضائع کیے بنا ہی میں فاضل سے کہا مجھے یسرا کی والدہ کے پاس لے جاؤں ۔۔ اب رشتہ پکا کر کے انہیں اپنے ساتھ ہی لے آئی ہوں تا کہ اپنی بہو کو اپنے فاضل کے نام کی ہتھ کڑی پہنا دوں ” فاضل کی والدہ کے منہ سے ساری بات سن کر یسرا جتنا بھی حیران ہوتی اتنا ہی کم تھا ۔۔۔ فاضل اسکے گھر تک پہنچ گیا تھا رشتہ مانگ چکا تھا ۔۔۔ سب کچھ طے بھی ہو چکا تو اور یسرا کو کسی بات کا علم تک نہیں تھا ۔۔

“لیکن آنٹی” یسرا تذبذب کا شکار ہوئی تھی ۔

” آنٹی نہیں امی کہو ۔۔۔ مجھے یہ سن کر ذیادہ اچھا لگے گا ” فاضل کی والدہ نے پیار سے کہا اور اٹھ کر یسرا کے پاس جا کر بیٹھ گئیں ۔۔۔

اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔

” میں تو کب سے فاضل سے کہہ رہی تھی کہ تم یسرا سے پوچھ لو ورنہ میں پوچھ لیتی ہوں مجھے تو وہ کبھی انکار نہیں کر سکتی جب سے تمہیں دیکھا تھا مجھے تم تب سے ہی اچھی لگنے لگی تھی پھر جس اپنایت سے تم نے مشکل وقت میرا حوصلہ بڑھایا ہے مجھے تم سے اچھی بہو تو مل ہی نہیں سکتی ۔۔۔ لیکن فضل کی اپنی ڈرامے بازی ہی ختم نہیں ہو رہی تھی کہنے لگا وہ خود ہی تم سے پوچھے گا ۔۔۔ ” فاضل کی والدہ کی آنکھوں فرحت محبت کے جذبات تھے ۔۔۔ یسرا کہاں ان کی محبت کے سامنے کچھ کہہ سکتی تھی ۔۔

یسرا کواپنے ہمراہ لئے وہ اپنے گھر لے آئیں تھیں جہاں رات کو منگنی کی مختصر سی تقریب تھی ۔۔۔ یسرا خوش تھی ۔۔۔ بس ایک ہی وہم تھا دل میں کہ وہ مسز فاضل کون ہے اسوقت وہ انابیہ ہے کمرے میں تھی ۔۔۔۔

جہاں اسکی انابیہ کے ساتھ ساتھ والدہ اور بہنیں بھی موجود تھیں بہت خوش بھی ہو رہیں تھیں چھوٹی بہن کے چہرے سے مسکراہٹ غائب نہیں ہو رہی تھی وہ یسراسے کہنے لگی

” اپیہ میرے فیورٹ ہیرو ہی فاضل تھے جب میں نے انہیں اپنے گھر کے دروازے پر دیکھا تو مجھےلگا میں خواب دیکھ رہی ہوں ۔۔ ہائے مجھے اتنی خوشی ہو رہی کہ میں بتا نہیں سکتی “

چھوٹی بہن یسرا کے گلے لگ کر کہہ رہی تھی ۔۔ کافی عرصے بعد یسرا کی والدہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی خوشی تھی ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی فاضل کی والدہ بہت سے شاپنگ بیگ اندر لے آئیں ۔۔ چلو بھئ لڑکیوں تم لوگ اب میرے کمرے میں تیار ہو جاؤں یہاں میری بہو کو تیار کرنے کے لئے بیوٹشن آ رہی ہے ۔۔۔ ” انابیہ یسرا کی بہنوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی ماں کی بات سن سب ہی کمرے سے جا چکے تھے ۔۔۔ پہلا خیال یسرا کو اسے مسز فاضل کا ہی آیا تھا ۔۔ اس نے اپنے فون سے فاصل کو کال کی تھی تا کہ اس بات کا کلئر کر لے

” ہیلو عزیز جان من کیسا لگا۔ میرا سر پرائز ” فاضل کا،وہی شوخ انداز تھا

” میں نے کب آپ سے کہا تھا کہ اپنا رشتہ بھیج دیں ” ۔

” محبت کا اقرار تو کیا تھا نا ۔۔۔ محبت کے اقرار میں سب کچھ شامل ہوتا ہے ۔۔۔ “

“مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے فاضل کیا آپ میرے پاس آ سکتے ہیں “

” دل تو تو یہی چاہ رہا ہے لیکن کچھ رشتوں کی پاسداری بھی ہوتی ہے ۔۔۔ مجھےتمہارے کمرے کے کے آس پاس میری اماں نے دیکھ لیا تو یہ بھی نہیں دیکھنا کہ میری منگنی ہے جوتا اٹھا لینا ہے مجھ پر اسلئے اب جو بھی بات ہو گی منگنی کے بعد ہی ہو گئ ۔۔ اور ہاں مہرونساء کو فون کر کے خود ہی دعوت منگنی پر بلا لوں کیونکہ میرے منہ سے آج تمہاری واقع مجھ سے منگنی کا اسے یقین نہیں آ رہا ک ۔۔ کہہ رہی۔ تھیں ۔۔ یسرا اتنی جلدی کیسے مان سکتی ہے ۔۔۔ ” فاضل نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا تھا مہرونساء کا خیال یسرا کو اب آیا تھا ۔۔ سب کچھ اتنی جلدی میں ہو رہا تھا کہ وہ ذہنی طور پر الجھ کر رہ گئ تھی

سب سے پہلے اس نے مہرونساء کو ہی کال کی تھی ایمرجنسی اصلوں کے تحت ہونے والی منگنی کی دعوت بھی دی تھی اور سارا قصہ بھی سنایا تھا لیکن بیٹشن کے آتے ہی اسے فون رکھنا پڑا مہرو نے سب سے پہلے اپنی والدین سے جانے کی اجازت مانگی تھی پھر ایک ہلکا فینسی ڈریس پہنے بہت لائٹ سا میک کیے وہ ڈرائیور کے ساتھ فاصل کے گھر پہنچی تھی ۔۔ سب سے پہلے یسرا کے گلے ہی ملی تھی جو آج بہت پیاری لگ رہی تھی خوش تھی تو تذبذب سی بھی تھی وہ الجھن تو اب تک باقی تھی کہ یہ مسز فاضل کا کیا چکر ہے یہ بات بھی مہرو کی ٹھیک تھی اسکی والدہ نے ابھی تک ایسا کوئی ذکر نہیں کیا تھا پھر فاصل ایک ایکٹر تھا اور ایکٹر کی نجی زندگی بھی سوشل میڈیا سے چھپی ہوئی نہیں ہوتی انکی کتنی شادیاں ہو چکیں ہیں کتنی طلایں ہوئیں ہیں سب پتہ لگ ہی جاتا ہے مسلسل فاصل کے ساتھ کام کرنے پر اس کا نام بھی فاصل کے ساتھ لیا جانے لگا تھا پھر کیسے ممکن تھا کہ یہ بات چھپی رہتی فاصل پچھلے چھ سال سے ایکٹنگ کے شعبے سے منسلک تھا

فاضل نے کسی بھی اخباری نمائندوں کو یہ خبر نہیں دی تھی چاہتا تھا کہ گھریلو لوگ ہی شامل ہوں بس اس نے زکی کو ہی اس تقریب میں بلایا تھا

******……

زکی جب ایبٹ آباد سے گھر پہنچا تھا اپناسامان ان پیک کرتے ہوئے اسکی نظر اپنے بیگ میں رکھے مہرونساء کے پرس پر پڑی تھی جو بارش کے دوران اسکی گاڑی میں رہ گیا تھا دوسرے دن وہ مہرونساء کا پرس اسے واپس کرنا چاہتا تھا لیکن جب نظر رائٹنگ پیڈ پر پڑی تو اس نے وہ نکال کر سرسری سی نظر اس پر دوڑائی تھی ایک اور کہانی اس پر دیکھ کر زکی نے پرس اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا ۔۔۔ مہرونساء کو بھی دوبارہ اس پرس کا خیال نہیں آیا تھا کیونکہ اس میں صرف رائٹنگ پیڈ اور پین کے علاؤہ اور کچھ بھی نہیں تھا مہرونساء کو غالب گمان یہی تھا کہ وہ اپنا پرس اسی درخت کے نیچے چھوڑ آئی ہے جہاں بیٹھ کر لکھ رہی تھی ۔۔ زکی نے اپنے کپڑے الماری میں رکھے اپنے لئے ایک کپ بلیک کافی بنائی اور اپنے بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھ گیا ۔۔۔ اس رائٹنگ پیڈ پر لکھی جانے والی کہانی پڑھنے لگا وہ بھی ایک سوشل ایشو پر تھی ۔۔۔ ایک گاؤں کی عام سی پڑھی لکھی لڑکی پر لکھی گئ تھی

جو اپنے گاؤں میں ہونے والی جاہلانہ رسموں کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور پھر اس کا خمیازہ اسے کس کس طرح سے بھکتنا پڑتا ہے وہ پڑھتے ہوئے زکی کے دل کی دھڑکنیں تیز رفتاری سے چلنے لگیں تھیں کیس کیسے وہ لڑکی گاؤں کے رئیسوں اور چوہدریوں کی چنگل میں پھنستی ہے کیسے اپنی عزت بچاتی ہے بھاگتی ہے ۔۔۔ جس جگہ کہانی اپنے فل کلائمسک پر تھی وہیں پین کی سیاہی گھلی ہوئی تھی اور آگے کی سطریں خالی تھیں

” اففف کہاں جا کر اسٹوری کو روکا ہے مہر ۔۔۔ نا جانے آگے کیا ہوا ہو گا ۔۔۔ ” خالی رائٹنگ پیڈ دیکھ کر زکی کو حد درجہ اسکے خالی ہونے کاافسوس تھا ۔۔۔

پھر آنکھوں کے سامنے مہرونساء کا چہرہ نظر آنے لگا

” نا جانے کون سا جادو ہے اس لڑکی کے ہاتھوں میں کیسے لکھ لیتی وہ سب جو میں پڑھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ایک ایسی لڑکی کے احساسات کو اس نے قلم بند کیا تھا جو ایک گاؤں میں پلی بڑھی اپنی برداری کی مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے تعلیم حاصل کی اور ان رسموں کو توڑنے کی شروعات کی جس جہالت میں گاؤں کے معصوم لوگ پڑ کر اپنی بچیوں کی عزتتں گاؤں کے زمینداروں کے ہوس شدہ کتوں کی بھوک مٹانے کے لئے انکے بنائے ہوئے فرسودہ ریت رواجوں کے نظر کر رہے تھے ۔۔۔وہسں کی ریت یہ تھی کہ شادی سے پہلے لڑکیوں کو ایک رات کے لئے زمیداروں کے بنائے ہوئے ایک کمرے میں رکھا جاتا تھا جو ایک سنسان سی جگہ پر بنایا گیا تھا اور کہا جاتا تھا یہ پاک کمرہ ہے جو لڑکی اس میں رات گزار لے گی وہ خوش قسمت ہو جائے گی ور اسکی شادی اچھی گزرے گی ۔۔۔اور جو لڑکی اس کمرے میں جانے سے انکار کرے گی وہ بد کردار کہلائی جائے گی

کمرے میں جو لڑکی بھی جاتی وہ زمیداروں کی ہوس کا نشانہ بنتی اور اسے ڈریا دھمکایا جاتا کہ منہ کھولنے پر وہ مار دی جائے گی ۔۔۔ اس کہانی میں اس لڑکی کی سوچ کوشش اور اسکو دی جانے والی اذیتیوں کی جس لفظوں سے مہرو نے منظر کشی کی تھی جس طرح سے اسکی کے اذیت کو بیان کیا گیا تھا زکی کو پڑھ کر یہ لگ رہا تھا کہ وہ اس لڑکی پر بیتی جانے والی ہر اذیت کو خود محسوس کر رہا ہو ۔۔۔ جب تک اس نے آخر سطر تک نہیں پڑھ لی تھی وہ اس کہانی کو چھوڑ نہیں پایا تھا کوئی جادو تھا ان لفظوں میں جس وہ ایسر ہو چکا تھا اور جب رائٹنگ پیڈ سائیڈ پر رکھا تو یاد آیا کہ کافی بنا کر اس نے پینے کے ارادے سے سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھی جو سب ٹھنڈی ہو چکی تھی پھر دور دور فجر کی اذانیں سن کر گھڑی پر نظر دوڑائی تواحساس ہوا کہ کب سے وہ اس کہانی کھویا ہوا تھا ۔۔ نماز پڑھ کر وہ سویا تھا اس کے بعد اپنے ڈرامے کی اپسوڈ کو کس چیز ل پر نشر کرنا ہے اس کی بھاگ دوڑ میں لگ گیا تھا ۔۔۔

تین چار دن تو اسے فرصت نہیں ملی تھی اور اب فاصل کی دھماکہ خیز خبر نے اسے حیران کر دیا تھا ۔۔ یسرا کے ساتھ اسکی منگنی تھی وہ رات کو

زکی سے اس نے لازمی آنے کے لئے کہاتھا ۔۔۔

فاضل کووہ انکار نہیں کر سکا تھا ۔۔۔

رات کو اسکی منگنی پر اسکے گھر پہنچا تھا ۔۔ وہاں یسرا کی والدہ کودیکھ کر اسکی خیریت دریافت کرنے لگا وہ بھی زکی سے باتیں کرنے لگیں سامنے صوفے پر یسرا فاضل کے ہمراہ بیٹھی بہت خوش لگ رہی تھی ۔۔۔ مہرونساء اسکی بہنوں کے ساتھ کمرے میں تھی اچانک سے پھولوں کے زیوارت ایک ٹرے میں سجائے وہ کمرے سے نکلی تھی جب زکی پر نظر پڑی تھی وہ سفید رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس تھا فاضل کے گلے مل رہا تھا ساتھ میں یہ بھی کہہ رہا تھا کہ اچھا ہوا تم نے بروقت مجھے بتا دیا کہ تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو ۔۔۔ یہ سن کر مہرونساء کو حیرت ہوئی مطلب فاضل اسے پہلے ہی سب کچھ بتا چکا تھا پھر وہ اس دن مہرونساء سے جو کہہ رہا تھا اسے جان بوجھ کر تنگ کرنے کے لئے کہہ رہا تھا ۔۔۔ اتفاق تھا کہ وہ یسرا کو پہنانے کے لئے پھولوں کا زیوارت ایک ٹوکتی میں رکھے زکی کے کے پیچھے ہی کھڑی تھی ۔۔۔ یسرا کے ساتھ فاضل کے والدہ بیٹھیں تھیں وہ ان سے باتوں میں مصروف تھی ۔۔۔ جیسے زکی پیچھے کی جانب پلٹا مہرونسا کودیکھ کر وہیں ٹھٹک سا گیا تھا سب سے ذیادہ سمپل اسوقت سب لڑکیوں میں وہی لگ رہی تھی ۔۔۔ لیکن اس کے باوجود پیاری بھی لگ رہی تھی ۔۔۔ وہ سچمیں سادگی میں بھی جاذب نظر تھی یا پھر صرف زکی کی نظریں اس کے لئے بدلنے لگیں تھیں یہ کہنا مشکل تھا ۔۔۔ مہرونساء اگلے بڑھ گئ اور یسرا کو زیورات پہنانے لگی ۔۔۔ زکی ایک سائیڈ پر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔ بار بار گھوم کر نظر اب صرف مہرو نساء پر رکنے لگی تھی ۔۔۔

فاضل نے منگنی کی انگوٹھی کے بجائے یسرا کو منگنی کے کنگن پہنائے تھے ۔۔۔ دونوں ہی ایک ساتھ بیٹھے بہت اچھے لگ رہے تھے ۔۔ مہرونساء کھانا کھاتے ہی جانے کی اجازت مانگنے لگی ۔۔ بارہ بج چکے تھے لیکن جب وہ باہر نکلی تو ڈرائیور گاڑی کے پنکچر ہوئے ٹائر کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ مہرونساء نے جب گاڑی کے ٹائر کو دیکھا تو ڈرائیور سے اسکی بابت پوچھنے لگیں وہ کہنے لگا کہ اسے پہلے ہی شک ہو رہا تھا ڈائر ٹھیک نہیں ہے لیکن س وقت کسی مکینک کا ملنا مشکل تھا ۔۔۔ زکی جب باہر آیا تو مہرونساء ڈرائیور سے ہی بحث کر رہی تھی وہ یہاں بیٹھا کیا کر رہا تھا جب تک وہ منگنی اٹینڈ کر رہی تھی وہ ٹائر کا پنکچر لگوا سکتا تھا ۔۔ ڈرائیور شرمندگی سے اپنی غلطی کا اعتراف کر رہاتھا جب زکی باہر نکلا تھا ۔۔۔

مہرونساء کو ڈرائیور پر برستے دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ ہوا کیا ہے وہ مہرونساء کے پاس آ کر کہنے لگا

” مہر میں آپ کوڈراپ کر دیتا ہوں گاڑی تواہکیباب صبح ہی ٹھیک ہو سکتی ہے ” ڈرائیور یہ سن کر خوش ہو گیا تو بہ بی بی جی میں اپنے گھر جاؤں جی صبح سب سے پہلے گاڑی ٹھیک کروا ہی آپ کے گھر پہنچ جاؤں گا ” مہرونساء اب بھی اسے غصے سے دیکھ رہی تھی

” ہاں تم جاؤں مہر کو گھر چھوڑ دونگا ” جواب زکی نے دیا تھا

مہرونساء ڈرائیور کوگھورتی ہوئی زکی کے گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔۔ زکی نے گاڑی اسٹاٹ کی ۔۔۔ اور میں روڈ پر لاتے ہی مہرنساء کو مخاطب کیا

” اب آپ کا آگے کیا ارادہ ہے ۔۔۔ “

” کیا مطلب کس بارے میں ؟ “

” قلم اٹھانے کے بارے میں مجھے اپنی دوسری کہانی کا بے صبری سے انتظار ہے ‘” زکی کی بات سن کر وہ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئ ۔۔

” مجھے اب ڈرامہ کے لئے کوئی اسکرپٹ نہیں لکھنا “

” کیوں ؟”

” اس لئے لوگوں کو سچ بہت کڑوا لگتا ہے ہم صرف جھوٹے سپنے ہی دیکھ کر خواب خرگوش کے مزے لوٹنا پسند کرتے ہیں آپ کے ڈرامے “عزت “کی ابھی جتنی بھی دھوم ہے وہ آپ کا پچھلاریکارڈ دیکھ کر ہے لیکن جیسے یہ ڈرامہ چلے گا بری طرح سے فلاپ ہو جائے گا کیونکہ لوگوں کو سچ کی گولی بہت کڑوی لگتی ہے منہ میں ڈالتے ہی اگل کر پھنک دیتے ہیں ” مہرونساء کی بات تھی تو سوفیصد سچ بنا رومانس کے ڈرامہ صرف حقیقت پر دیکھانا اور لوگوں کااسے دیکھ لینا ایک مشکل سی بات تھی کیونکہ لوگ وہ سب دیکھنے کے عادی ہو چکے تھے جو فسانوی سا تھا ۔۔۔ لڑکا لڑکی کی محبت میں بارش میں رات بھر بھیگ کر اس لڑکی کادل جیت لیتا ہے

امیر خیبر باپ کابگڑا ہوا نواب ایک غریب لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو کر اپنے گھر والوں سے مخالفت کرتا ہے۔۔۔ اور جیسے ہی لڑکی کے ساتھ زبردستی نکاح کرتا ہے اسکے ویوز ملین میں پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔ لڑکے لڑکیاں دیوانہ وار اس ڈرامے کو دیکھتے ہیں پسند کرتے ہیں وہ روڈسا ہیروانکا کرش بن جاتا ہے ۔۔۔۔ ہر لڑکا اسی کی طرح کا بننے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔ وہ لوگ جو یہ سب دیکھنے کے عادی ہو چکے ہوں انہیں ایسی لڑکی کی داستان میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے جو اپنے گھر سے اپنا ماں باپ کی عزت کو پامال کرتے ہوئے بھاگ جاتی ہے اور پھر جو سلوک معاشرہ اسکے ساتھ کرتا ہے وہ کیسے اسے خود پر جبرا سہتی کے اور پھر آخر میں ہیرو کواپنی غلطی کااحساس ہونے پر بھی وہ لڑکی اسے اپنانے کے بجائے اکیلا رہنا پسند کرتی ہے

ڈرامہ کا،اینڈ دیکھ وہ ڈرامہ فلاپ سا ہو جائے گا

” بات توآپ کی ٹھیک ہے مہر لیکن اگر ہم بیس پچیس سال پیچھے جا کر دیکھیں تو ڈرامہ ہمیشہ مورل اسٹوری پر ہی کیا جاتا تھا ۔۔ لوگ اسوقت بھی تو وہ صاف ستھرا میڈیادیکھنے کے عادی تھے

اگر ہم ملکر دوبارہ سے صاف ستھرے میڈیا کی بنیاد ڈالیں تو کبھی تو کامیاب کو ہی جائیں گئے میں جانتا ہوں کہ عزت ڈرامہ کووہ عزت نہیں ملے گی جس کی وہ حقدار ہے فلاپ ہی ہو گا لیکن ایک ڈرامہ فلاپ ہو جانے کے ڈر سے ہم اپنے قدم کیوں روک دیں ۔۔۔ کڑوی دوا منہ کو بد مزہ ضرور کر دیتی ہے لیکن جب طعبیت پر اچھااثر ڈالتی ہے تو لوگ دوبارہ بیمار ہونے پر وہی دوا مانگتے ہیں ۔۔۔ مجے امید ہے کہ ایک دن ہم لوگوں کو اس کڑوی دوا عادی بنا لیں گئے اگر ہم ساتھ ساتھ چلیں تو ۔۔۔ کیاخیال ہے مہر ؟ چلیں کامیابی نا بھی ملے تو یہ بھی ایک جہاد ہی ہے اس ظلمت کے اندھیرے میں ایک سچ کا چراغ جلا کر نکلنا کہ شاید کوئی اسکی روشنی سے سیدھی راہ پر آ جائے تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ سودا برا تو نہیں ہے ” زکی کی بات پر وہ نا جانے کیوں لا جواب سی ہو جاتی تھی

“, کیا آپ یہ چاہتے ہیں میں سچ لکھتی رہو “

” بلکل ۔۔ “؟

” سوچ لیں ڈرایکٹر صاحب سچائی کی راہ میں داد کے بجائے ڈنڈے پڑتے ہیں سچے لکھاریوں کے قلم کو ہمیشہ روکا گیا ہے تاریخ گواہ ہے اور ایسے ڈراموں پر بھی بینڈ لگایا گیا ہے جس نے سچ دیکھانے کی کوشش کی ہے کیس چلتے ہیں عدالتوں میں ۔۔۔ کہاں تک قدم ملائیں گئے ؟” مہرونسا نے ایک تلخ حقیقت کوسامنے رکھا تھا

” آپ کب تک ساتھ دیں گئیں مہر ؟” زکی کاسوال اب بھی وہی تھا

” آپ کب تک چاہتے ہیں ۔۔۔ ایک سال دو سال جتنے سال کا چاہیں اگریمنٹ بنوا لیں لیکن میری بس ایک شرط ہے میں تحریر پر کمپرومائز نہیں کروں گی چاہے پھر کیس ہویا پھانسی آپ کو وہی ڈرامہ بنانا پڑے گا جو میں لکھوں گی ” مہر کو لگا تھازکی اس بات پر سوچ میں پڑ جائے گا

” میری طرف سے ڈن ہے لیکن اگریمنٹ لائف ٹائم کا ہونا چاہیے ” یہ سن کر مہرو نساء ضرور سوچ میں پڑ گئ تھی۔ گاڑی اب مہرونساء کے گھر سامنے جا رکی تھی

مہرونساء نیچےاترنے لگی تو زکی کی بات پر رک گئ

” میرے پاس آپکی وہ کہانی بھی موجود ہے جوآپ نے بارش کی رات میری گاڑی میں بھول گئیں تھیں

آپ کی تحریر میری سوچ کی عکاسی کرتی ہے ہے مہر آپ پہلی لکھاری ہیں کہ جس کی تحریر میں مجھے کبھی کوئی تنقید نکالنے ضرورت نہیں پڑی ۔۔۔ اگر فرصت ملے اس کہانی کو مکمل کر دیں تا کہ اگلا قدم بڑھایا جائے “