186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 8

Meri Jaan by Umme Hani

مہرونساء کو جب ہوش آیا تو اس کا سر بہت بھاری ہو رہا تھا ۔۔۔ آنکھوں میں نیند کا اثر اب بھی باقی تھا ۔۔۔۔ بس مشکل ہی وہ اٹھ کر بیٹھی تھی

آنکھیں با مشکل کھولیں تو سب کچھ دھندلا دھندلا سا دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔ کمرہ بہت کشادہ سا تھا اے سی آن تھا ۔۔۔ کمرے کی ہر چیز مہرو کو ڈبل دیکھائی دے رہی تھی وہ اپنا چکراتا سر پکڑ کر دبانے لگی تو احساس ہوا کہ کہ وہ زیورات پہنے ہوئے ہے پھر نظریں خود پر پڑیں تو عروسی لباس دیکھ کر یاد آیا کہ وہ پارلر سے تیار ہو کر نکلی تھی اور پھر گاڑی میں بیٹھی اسکے بعد اسے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا

” کیا میری شادی ہو چکی ہے ؟ میں فواد کے کمرے میں ہوں ؟ ” وہ ذہن پر زور دے کر سوچنے لگی لیکن پھر بھی ذہن کا ورقہ خالی تھا ۔۔۔ کچھ یاد نہیں آ رہا تھا دوبارہ سے اپنے ذہن کو یکسوئی پر رکھ کر کمرے کا جائزہ لیا تو یہ یاد آنے لگا کہ یہ کمرہ فواد کا ہر گز نہیں ہے ۔۔۔۔ وہ ابھی بھی اس قابل نہیں تھی کہ اٹھ کر کھڑی ہو سکتی کمرے میں ہر چیز نفاست سے سجی ہوئی تھی ۔۔۔ لیکن اس وقت وہ کمرے میں اکیلی تھی ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے اٹھ کر کھڑی ہونے کی کوشش کرتی کمرے کا دروازہ کھلا تھا ایک بڑے عمر کی خاتون ایک گلاس میں پانی لیکر اس کے پاس آئی تھی وہ عورت بھی مہرونساء کے لئے اجنبی سی تھی ۔۔۔۔

” بیگم صاحبہ یہ نمبو پانی ہے اسے پی لیں ۔۔۔ ” پیاس تو مہرونساء کو لگ رہی تھی ۔۔۔ اس لئے گلاس پکڑ کر وہ ایک ہی گھونٹ میں پی گئ تھی نمبو پانی کا ذائقہ خاصا ترش تھا لیکن پیاس کی شدت اتنی تھی کہ وہ ترش کی پروا کیے بنا ہی پانی پی چکی تھی ۔۔۔۔ پانی پیتے ہی نشے کا اثر آہستہ آہستہ زائل ہونے لگا تھا ۔۔۔ اب وہ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوئی تھی گھڑی پر نظر دوڑائی تو رات کے تین بج رہے تھے ۔۔۔ وقت دیکھ کر اس کے سوئے ہوئے طبق آب وتاب سے روشن ہوئے تھے ۔۔۔وہ عورت واپس جا چکی تھی کمرہ بھی بند ہو چکا تھا

” کہاں ہوں میں ۔؟۔۔۔ میری تو آج شادی تھی ۔۔۔۔ مجھے کچھ یاد کیوں نہیں آ رہا ۔۔۔ فواد ۔۔؟۔۔ کیا فواد ۔مجھے یہاں لایا ہے ؟ کیا یہ بھی اسکے سرپرائز کا کوئی حصہ ہے؟ ۔۔۔ نہیں نہیں وہ ایسا مزاق کیوں کرے گا ۔۔۔۔ نکاح سے پہلے مجھے یہاں کیسے لاسکتا ہے ۔۔۔ مجھے کیوں کچھ یاد نہیں آ رہا ہے ” وہ زیر لب بڑبڑا رہی تھی فواد کے علاؤہ کوئی دوسرا شخص اس کے ذہن و گمان میں بھی نہیں تھا ۔۔۔

اب اسے فواد پر بھی غصہ آنے لگا تھا مزاق کی بھی کوئی حد ہوتی ہے گھر ۔میں تو سب پریشان ھو رہے ہوں گئے ۔۔۔ وہ

مجھے یہاں کیوں لے آیا ؟کون سی جگہ ہے یہ؟ وہ اٹھ کر کمرے کے دروازے کے پاس آ گئ دروازے کا نیب گھمایا لیکن دروازہ لوک تھا وہ دروازہ کھٹکھٹانے لگی

” فواد یہ کیا مزاق ہے دروازہ کھولو ۔۔۔ بہت ہو چکے تمہارے سرپرائز جانتے ہو آج ہماری شادی ہے رات کے تین بج رہے ہیں گھر پر سب پریشان ہو رہے ہوں گئے ۔۔۔ جب ہم ایک ہونے ہی والے ہیں تو اس قسم کی حرکت کا کیا مقصد ہے فواد ۔۔۔ فواد۔۔۔۔۔ پلیز اوپن دا ڈور یار ” مہرو اب پریشان سی ہونے لگی تھی اسکے گھر والوں پر اسوقت کیا بیت رہی ہو گی جب دولہا دلہن دونوں ہی غائب ہوں گئے ۔۔۔ دوسرے کمرے میں بیٹھا ایک شخص سامنے لگی ایل ای ڈی پر مہرو نساء کو دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے دیکھ رہا تھا

پھر ایک لمبی گہری سانس بھر کر ریموٹ سے ایل ای ڈی آف کی اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا

” بہت انتظار کر لیا تمہارا مس

مہرونساء اور بہت انتظار تمہیں بھی کروا دیا آج تو ملاقات کادن ہے۔۔۔ میری جان “

یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے سے باہر نکل گیا

******………

یسرا اپناسین کر چکی تھی اور اس وقت چائے کاوقفہ تھااس لئے ڈائنگ روم سے اپنا کپ اٹھا کر اس بنگلے کے لان میں چلی گئ جہاں وہ ڈرامہ شوٹ کر رہے تھے ۔۔۔ سب لوگ ڈائنگ روم میں چائے پی رہے تھے جب زکی وہاں پہنچا

” صرف آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد پھر سے شوٹ کرنا ہے اس لئے ذرا چائے گھونٹ جلدی بھریں تو بہتر ہے ” زکی نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا

” ڈاریکٹر صاحب اب اتنی گرم چائے حلق سے تواترنے سے رہی کہیں تو برف ڈال کر پی لیں ” فاضل نے جل کر کہا تھا صبح سے شام ہو گئ تھی اور زکی نہیں چھٹی دینے کو تیار نہیں تھا کہہ رہا تھا کہ آج چاہے رات ہو جائے اور ڈرامے کا آخری سین شوٹ کیے بنا کسی کو جانے نہیں دے گا ۔۔

دوپہر کا کھانا بھی شوٹنگ کے چکر میں گول ہو چکا تھا اس لئے شام کی چائے پر زکی نے خاصا احتمام کر دیا تھا ۔۔۔ فاضل کے ایک ہاتھ میں سموسہ تھا اور دوسرے ہاتھ میں چائے کا کپ

مکالمات بول بول کر حلق خشک کو چکا تھا ۔۔۔ اس پر زکی سے وقت کی پابندی کا سن کر وہ تلملا سا گیا تھا

” ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے ” مسکرا کر زکی نے فاضل کو اور بھی تپایا تھا اور اپنا چائے کا کپ اٹھا لیا وہاں بیٹھے سب لوگ ہی ہسنے لگے

” یہ یسرا کہاں ہے نظر نہیں آ رہی ” زکی کو وہاں بس ایک یسعاسہسں سے غائب لگ رہی تھی

” بیٹھی ہو گی کسی کونے میں اداس پنچھی کی طرح ۔۔۔ ” سجیلہ نے طنزیہ انداز سے کہا

زکی کپ اٹھائے وہاں سے باہر نکل گیا سجیلہ جو فاضل کے برابر میں بیٹھی تھی اسے لگا تھا زکی فاضل کواٹھا کرسجیلہ کے برابر بیٹھے گا لیکن وہ یسرا کا پوچھ کر ڈائنگ روم سے ہی باہر نکل گیا تھا فاصل کی نظر ساتھ بیٹھی سجیلہ پر پڑی وہ کمرے کے دروازے پر جمی ہوئیں تھیں جہاں سے زکی باہر نکلا تھا فاضل سجیلہ کے چہرے پر ناگواری دیکھ کر بولا

” نظر رکھو اپنے ہیرو پر آجکل بہت یسرا یسرا کر رہا ہے ٫ فاضل نے سجیلہ کے بجھے چہرے کو دیکھ کر ایک اور تیز برسایا تھا سجیلہ نے ایک تیز نظر اس پر ڈالی

” بکو مت میں کہاں اور وہ کہاں ۔۔۔ میرا اس چھوٹی اور تھرڈ کلاس ایکسٹرا سے بھلا کیا مقابلہ ہے ” سجیلہ کا وہی نخوت بھرا لہجہ تھا آنکھوں میں وہی غرور اور رعونیت تھی

” یہ جو ڈاریکٹر ہوتے ہیں نا سجیلہ چیل کی آنکھ آنکھ رکھتے ہیں بس جو انکی نظر میں ایک بار بھا جائے اسے آسمان کی چوٹی پر بیٹھا کر رکھ دیتے ہیں اور برا مت منانا سجیلہ یسرا بے شک ایک چھوٹی ایکٹریس ہے لیکن بندی میں بات تو ہے ۔۔۔ اپنے سین میں جان ڈالنی آتی ہے اسے بنا میک اپ کے بھی ” فاضل کی بات نے سجیلہ کی جان اور بھی جلا کر رکھ دی تھی

دوسری طرف زکی یسرا کو ڈھونڈتا ہوا لان میں جا پہنچا تھا س کے پاس آکر کھڑا ہو گیا وہ پودوں پر بیٹھی ایک خوبصورت تتلی کو دیکھ رہی تھی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی

” آپ اکیلی یہاں کیوں کھڑی ہیں ” چائے کا سپ لیتے ہوئے زکی نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا زکی کی آواز پر وہ کچھ گڑبڑا سی گئ تھی فورا سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔

“سر وہ ” زکی کو دیکھ کر وہ متذبذب سی ہوئی تھی

” مجھے صرف چائے ہی پہنی تھی اس لئے سوچا لان میں پی لوں ٫ یہ کہہ کر وہ گھڑی ہر وقت دیکھنے لگی

” ابھی پندرہ منٹ باقی ہیں سر ۔۔ میں مقررہ وقت پر آپ کو شوٹ پر ہی ملوں گی ” یسرا سمجھی وہ اسے شوٹ کے لئے کہنے آیا ہے

” آپ کی بات کاتوسیدھا سا مطلب یہ ہے یسرا کہ میں یہاں سے چلا جاؤں ؟ زکی اسے ہی زریک نظروں سے دیکھ رہا تو اسے اپنے پہلے سین کی اداکارہ سے ہی متاثر کر چکی تھی ۔۔۔

” نن۔۔ نو سر ۔۔۔ میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ ابھی پندرہ منٹ باقی ہیں ” وہ بھی خاصی بوکھلا سی گئ تھی

” کیا ہم یہاں دونوں اس خوبصورت سی تتلی کو دیکھتے ہوئے چائے نہیں پی سکتے ” زکی کی بات سن کر حیرت اور بدحواسی ایک ساتھ اس پر چھائی تھی

” جج ۔۔ جی ؟۔۔۔ جی ۔۔ بلکل پی سکتے ہیں “

” یسرا میں انسان ہوں اور شوٹ کے علادہ بہت نرم مزاج ہوں آپ کو مجھ سے یوں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹیک اٹ ایزی ۔۔۔ آپ مجھ سے سکون سے بھی بات کر سکتی ہیں اس وقت میں آپ کاسر نہیں ہوں زکی ہوں سر میں ٹھیک دس منٹ بعد بنو گا ” زکی کے متوازن لہجے اور دوستانہ انداز پر وہ کچھ نارمل سی ہوئی تھی

” بس مجھے شور وغل زیادہ پسند نہیں ہے اس لئے یہاں لان میں آ گئ “

” آپ بھی میری طرح تہنائی پسند ہیں ۔۔۔ لوگوں سے زیادہ پھولوں تتلیوں اور پرندوں میں رہ کر خوش ہوتی ہیں ” زکی کی بات پر وہ مبہم سا مسکرائی تھی

“ہم ایسے شوق کہاں پال سکتے ہیں سر ۔۔۔ ہاں تنہائی پسند ہوں جب موقع ملے تو وقت کواکیلا گزارنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔ لیکن زندگی ۔میں اتنی ذمہ داریاں ہیں کہ ایک تنہائی ہی نہیں ملتی نافرصتبکے لمحات ۔۔۔ ” چائے آخری گھونٹ پیتے ہوئے یسرا نے کہا اسکی آنکھوں میں ایک عجیب سی یاسیت تھی کچھ پل تو وہ

یسرا کوبڑے غور سے دیکھنے لگا بڑی الگ سی لڑکی تھی سنجیدہ سی سلجھی ہوئی ۔۔۔ یسرا نے ایک نظر زکی کی طرف دیکھا جب اسے خود پر نظریں جمائے دیکھا تو کچھ گڑبڑا سی گئ

” سر دس منٹ ہو چکے ہیں ” یسرا نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا زکی نے اپنی نظریں اس سے ہٹا لیں ۔۔

” ہاں چلو آج ویسے بھی یہ ڈرامہ کمپلیٹ ہو جائے گا ۔۔۔ اس کے بعد تمہارا کیا ارادہ ہے ؟” ساتھ ساتھ چلتے ہوئے وہ یسرا سے پوچھنے لگا”

” ظاہر ہے سر کسی نئے ڈرامے کی تلاش پر لگ جاؤں گی ۔۔۔ ہمیں کون سا لاکھوں ملتے ہیں جو چند ماہ گھر بیٹھ کر کھا سکیں ” یسرا کی باتوں سے زکی سمجھ گیا تھا کہ وہ یہاں خوشی سے نہیں کسی مجبوری کے تحت آئی ہے

” میرے نیکسٹ ڈرامے میں کام کروں گی ایز آ ہیروئن؟ ” زکی کے اس جمعلے نے یسرا کے قدم وہیں جمائے تھے وہ وہیں رک گئ حیرت سے زکی کو دیکھنے لگی۔ زکی چند قدم اس سے آگے بڑھ گیا تھا لیکن جب یسرا کواپنے ساتھ نہیں پایا تو پلٹ کر اسے پیچھے دیکھ کر استفہامیہ نظروں سے دیکھنے لگا

” سر آپ نے ابھی کیا کہا مجھ سے؟ ” یسرا کو لگااس نے غلط سنا ہے زکی اس کی حیرت سے کھلی بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھ کر مسکرانے لگا

” وہی جو تم نے سنا ہے ۔۔۔ میں تمہیں اپنے ڈرامے میں ہیروئن لینا چاہتا ہوں یہ میری دلی خواہش ہے ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا تھا یسرا اسے جاتے ہوئے حیرت سے دیکھ رہی تھی اتنی جلدی اتنی بڑی آفر کی وہ توقع نہیں کر رہی تھی

*****…….

کسی ان نون نمبر سے جو میسج فواد اور نیاز صاحب کو موصول ہوا تھاوہ مہرو کا نکاح نامہ تھا ۔۔۔۔ گورنمنٹ کے اسٹمپ کے ساتھ تاریخ پندرہ دن پہلے کی موجود تھی اس بات پر نا فواد یقین کرنے کو تیار تھا نا ہی نیاز صاحب ۔۔۔ پولیس والے نے انہیں موبائل دیکھتے ہی یوں گم صم دیکھا تو پوچھنے لگے

” موبائل میں ایسا کیا آ گیا ہے نیاز صاحب جوآپ کی بولتی ہی بند ہو گئ ہے مجھے لگتا ہے آپ کی صاحبزادی نے اپنا نکاح نامہ بھیجا ہے” ۔۔۔۔ یہ کہہ ایس ایچ او نے نیاز صاحب کے پاس کھڑے ہو کر ان کا موبائل دیکھا تو مسکرانے لگا

” میں نے تو آپ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا ہم پولیس والوں کی چیل کی نظر ہوتی ہے اڑتی چڑیا کے پر تک گن لیتے ہیں ۔۔۔ اب تو آپکی تسلی ہو گئ ہے نا ہمہیں بھی اجازت دیں اب ” نیاز صاحب بے جان سے ہو کر صوفے پر بیٹھ گئے زیب النسا کہنے لگی مہرو ایسا نہیں کر سکتی ۔۔۔ وہ فواد کو بہت چاہتی تھی میں جانتی ہوں “

” ہائے میری بچی نا جانے کس حال میں ہو گئ “

مہرو کی والدہ روتے ہوئے بولیں

” کیا خبر اپنی مرضی سے ہی بھاگی ہو ۔۔۔ سارے ثبوت تو یہی کہہ رہے ہیں ” فواد کی والدہ نے ناگواری سے کہا

” امی پلیز مہرو ایسی ہر گز نہیں ہے ۔۔۔ مجھ سے بہت محبت کرتی ہے ۔۔۔ یہ کوئی بہت خطرناک چال چلی گئ ہے ہمارے ساتھ ۔۔۔ میں مہرو پر شک کر ہی نہیں سکتا ہوں ” فواد کو اب بھی مہرو پر یقین تھا ۔۔۔ کبھی ایسی کوئی بات ان کے درمیان ہوئی ہی نہیں تھی کہ فواد شک بھی کرتا ۔۔۔ مہرو کی آنکھوں میں اپنی محبت وہ صاف دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔ روز وہ باتیں کرتے تھے اپنا ہنی مون تک پلان کر چکے تھے بہت سی باتیں انکے درمیان ایسی ہوئیں تھیں جس میں شادی کے حوالے سے دونوں کی بے تابیوں کا ذکر بھی ہوا تھا ۔۔۔ فواد یہ سوچ بھی نہیں پا رہا تھا کہ مہرو اس کے علاؤہ کسی کو چاہ بھی سکتی ہے ۔۔۔

پریشان یہ تھا کہ یہ سب مہرو کے ساتھ کیا کس نے ہے اور کیوں ؟؟؟؟

یہی سوال اس وقت مہرو نے دماغ میں بھی گھوم رہا تھا

******…..

کمرے کا دروازہ کھلا تھا مہرو یک پیچھے ہٹی تھی

لیکن سامنے اس جرنلسٹ کو دیکھ کر مہرو کو جتنی حیرت ہوتی اتنی کم تھی

” تم ؟” مہرو اسے دیکھ کر حیرت اور غصے سے ملے جلے جذبات سے بولی وہ دلفریب سی مسکراہٹ لئے اندر داخل ہوا

“ہاں میں۔۔۔ تمہارا عاشق ۔۔۔ تمہارا دیوانہ ۔۔۔۔ تمہارا پرستار ” وہ بڑی بے تکلفی سے ایک ایک قدم اسکی جانب بڑھاتے ہوئے کہہ رہا تھا مہرو اپنے قدم پیچھے ہی جانب لینے لگی ۔

” تم نے ۔۔۔ تم نے مجھے کنڈنیپ کیا ہے ؟ ” مہرونساء کو اب بھی یقین نہیں۔ آ رہا تھا

” نا نا میری جان کڈ نیپ کیوں کرو گا میں تو اپنی چیز کو اپنے پاس لیکر آیا ہوں جس پر اب صرف میرا حق ہے ” یہ کہہ کر اس نے مہرو نساء کا ہاتھ پکڑا تھا مگر اگلے ہی لمحے

ایک زوردار تھپڑ مہرو نساء نے اس جرنلسٹ کے منہ پر مارا تھا

“ہاؤ ڈیر تو ٹچ می یو بلڈی ۔۔۔۔۔” مہرو غصے سے بپھرے کر بس اتنا ہی بولی تھی کہ ایک تھپڑ اس کے بھی چہرے کی زینت بنا تھا ۔۔۔

” شپ اپ اگر میرے ساتھ بکواس کرنے کی کوشش بھی کی تو ۔۔۔۔ ” اس نے لہو رنگ آنکھوں سے اسے گھورتے ہوئے کہا مہرو اتنے غصے

میں تھی کہ تھپڑ کی پروا کیے بنا بولی

” کیا سجھتے ہو تم ۔۔۔ دو ٹکے کے جرنلسٹ ہو کر مجھے ۔۔۔؟ مجھے بلیک میل کر سکتے ہو ؟۔۔۔ مہرو نساء نیاز کو ؟ ۔۔۔ اگر اپنی خیریت چاہتے ہو تو ۔۔۔۔۔” اس سے پہلے کے مہرو اسے اور کچھ کہتی وہ اس کی جانب قدم بڑھانے لگا تھا

” دو ٹکے کا جرنلسٹ؟ ۔۔۔۔ ہاں؟ ۔۔۔۔۔ مس مہرونساء نیاز یہ دو ٹکے کا جرنلسٹ تم جیسی مغرور لڑکی کو کہیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑے گا ۔۔۔ اور تمہارا باپ اور اس کے اثر رسوخ میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ وہ حشر کروں گا تمہارا کہ خود کو پہچان نہیں پاؤں گی ۔۔۔۔۔ ” ایک ایک لفظ وہ غصے سے غرا کر بول رہا تھا اور ایک ایک قدم اسکی جانب بڑھا رہا تھا اگلے ہی لمحے اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا ۔۔۔۔

” مس مہرو نساء نیاز تمہاری بربادی کاوقت آج سے شروع ہے ۔۔۔ کون ہے جو مجھے روک سکتا ہے ۔۔۔۔ یہاں تمہاری پکار سننے والا دور دور تک کوئی نہیں ہے ” اس کے کان کے قریب وہ زہر آلود لہجے میں بول رہا تھا

” چھوڑو مجھے ۔۔ ورنہ بہت پچھتاوں گئے ۔۔۔میں کوئی عام لڑکی نہیں ہوں ۔۔۔تم شاید جانتے نہیں ہو فواد کو جان لے لے گا وہ تمہاری ۔۔۔ ” اس گرفت سے وہ خود چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے غصے سے بھپری ہوئی بول رہی تھی “

” عام تو تم اب ہو ۔۔ خاص تو کل صبح ہو جاؤں جب رات میری سنگت میں گزار چکو گئ ۔۔۔ ” یہ بات سن کر مہرو نساء کی جان لبوں تک آئی تھی ۔۔۔ ٹپ ٹپ آنسوں بہنے لگے تھے اس وقت کو بے بس تھی اس لڑکے نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا ۔۔۔ کچھ ثانیے تو مہرونساء یہی سمجھ نہیں پائی کہ اسکے ساتھ ہو کیارہا ہے

” دیکھو تم جو کوئی بھی ہو تمہیں میں اتنے پیسے دلوا سکتی ہوں جتنے تم چاہتے ہو لیکن پلیز مجھے کچھ کہنا ۔۔۔ ” مہرو کو لگا کہ اس لڑکے نے مہرو کو پیسوں کی لئے کڈ نیپ کیا ہے مہرو نساء کی بات سن کر وہ ہسنے لگا

” پیسہ نہیں چاہیے مجھے ۔۔۔ میں تمہارا دیوانہ ہوں

عاشق ہوں تم پر تمہاری تحریروں نے مجھے تمہارے عشق میں ایسا جکڑا ہے کہ کیا بتاؤں تمہیں میں نے تمہارے ہر ناول میں ہیروئن پر تمہارا تصور باندھ کر اپنے خیالوں تم سے وہ سب کچھ کیا ہے جو تم نے لکھا ہے ۔۔۔۔ ” یہ بات اس لڑکے کے منہ سے سن مہرونساء پل پانی پانی ہوئی تھی

” افف کیا لکھتی ہوں تم ۔۔ پتہ ہے مہرونساء میں ایک عام سا لڑکا تھا ۔۔۔ سادے سے مزاج کا اگر تمہارے ناول نا پڑھتا تو مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ رومانس کیا ہوتا ہے ۔۔۔ یہ تو میں نے تمہاری تحریریں پڑھ کر جانا کہ محبت یوں بھی کی جاتی ہے ۔۔۔۔

اور اس پر لڑکیوں کے تبصرے پڑھ کر تو میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ لڑکیاں تو ایسے ہی لڑکوں کو ہیرو سمجھتیں ہیں جو انہیں یوں کڈنیپ کر کے زبردستی ان سے نکاح کریں انہیں ایک پرانی سی حویلی میں لے جائیں ۔۔۔ وہ لڑکی پہلے تو روئے تڑپے ہاتھ جوڑ کر لڑکے کی منت سماجت کرے اور کہے کہ خدا کے لئے میری عزت کو پامال نا کرو ۔۔۔ میرے ماں باپ اس بد نامی کو سہہ نہیں پائیں گئے ۔۔۔ خدا کے لئے مجھے چھوڑ دو ۔۔۔۔ لیکن وہ ہیرو اپنی ہیرو بنتی دیکھاتے ہوئے اس لڑکی سے زبردستی نکاح کرتا ہے پھر اس کے ساتھ جس طریقے رسے شتہ قائم کرتا ہے ۔۔۔ افففف۔۔۔۔ مہرونساء میں تو دیوانہ ہو کر رہ گیا ہوں تمہارا ۔۔۔ ” یہ کر وہ بڑی تیز نظروں سے اسکے پورے وجود کو یوں دیکھنے لگا کہ میرا نساء کے وجود میں سنسنی سی ڈور گئ دل تو یوں تھا کہ آج بند ہی ہو جائے گا وہ اس کے قریب آ کر اپنا چہرا جھکا کراس کے چہرے کے مقابل کر کے بولا

” میں اگر تمہارے باپ سے تمہارا رشتہ مانگتا تب بھی وہ مجھے انکار نہیں کر سکتے تھے ۔۔۔ لیکن کیا ہے نا میری جان ۔۔ ایسے لائف میں کوئی ٹوئسٹ ہی نہیں آتا ” یہ کہہ کر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا پھر جیب سے چند کاغذ نکال کر مہرو نساء کے ہاتھ میں تھما دیے

” یہ میرا اور تمہارا نکاح نامہ ہے میری جان ۔۔۔ اسے اچھی ی ی طرح سے پڑھ لو ” یہ سن کر مہرو نساء کی رہی سہی ہمت بھی ختم ہوئی تھی وہ پیپر وہ کھول کر پڑھنے لگی اپنے دستخط دیکھ کر اسے بڑی زور کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔

” یہ جھوٹا نکاح نامہ ہے میں نے یہ سائن نہیں لیے میں بھلا تم سے نکاح کیسے کر سکتی ہوں ۔۔۔ میرا تم سے ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے “مہرونساء نے تڑپ کر کہا وہ ہسنے لگا

“ٹوئسٹ میری جان ٹوئسٹ۔۔۔۔ کمال کی لڑکی ہو یار تم بھی ۔۔۔ اپنے ہر ناول میں ایسے دھوکے سے ہی تو سائن کرواتی ہو اپنی ہیرائن سے ۔۔۔ تمہیں تو نکاح نامہ دیکھ کر سمجھ جانا چاہیے تھا ۔۔۔۔ ” مہرونساء یہ سن کر رونے لگی تھی

” یہ کہانی نہیں ہے ۔۔ میری زندگی ہے ۔۔ تم کیوں ایک افسانوی کہانی کو پڑھ کر مجھے برباد کرنا چاہتے ہو ۔۔۔ میں نے تمہارا کچھ نہیں بگاڑا ہے خدا کے لئے مجھے جانے دو ۔۔۔ میں فواد سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔ میرے ماں باپ لوگوں کو کیا جواب دیں گئے کیوں کر رہے ہو یہ سب میرے ساتھ ۔۔۔ ” بے بسی سے وہ روتے ہوئے کہنے لگی

” بلکل ویسا ہی ہائےےےے۔۔ سیم ۔۔۔۔ ایسا ہی سین میں نے پڑھا تھا افف مہرو۔۔۔ یار تم تو لکھنے کے ساتھ ساتھ اداکاری بھی بڑی زبردست کر لیتی ہو پتہ ہے جب میں نے “میری جان “پڑھا تھا تو اس سین کو چالیس بار پڑھااور ہر بار تمہارا ایسا روپ امیجن کیا تھااس پر تمہارے بے بسی سے بہتے آنسوں میں یہ مکالمے اففففف افف اففف

مہرونساء تم نے تو لفظ با لفظ جمعلے ادا کیے ہیں کمال کر دیا آج تو ۔۔۔ ایک بار پھر سے کہو ۔۔۔۔ سچ میں دیکھ کر بہت مزہ۔ آ رہا ہے ” وہ لڑکا مہرونساء کی بے بسی کا تمسخر اڑا رہا تھا ۔۔۔ جیسے یہ سب کوئی ڈرامہ ہے مہرونساء نے اسے دھکا دیااور کھلے دروازے سے کمرے سے باہر بھاگ گئ