186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 12

Meri Jaan by Umme Hani

مہرونساء ڈرتے ڈرتے اپنے کمرے سے باہر آئی یہ آواز اسی پورشن کے آخر میں بنے کمرے سے آ رہی تھی

وہ دھیرے دھیرے سے چلتی ہوئی اس کے تک پہنچ گئ

” حازم یہ کیا کر رہے ہو میرے ساتھ تم دور رہو مجھ سے ” اس عورت پھر سے چلا کر بولنے کی آواز آئی

شاید اس سے زبردستی کر رہا ہے ۔۔کیسا دندرہ صفت انسان ہے عورتوں کو حراساں کرتا ہے ” مہرونے تاسف سے سوچتے ہوئے دروازے کے سوراغ سے دیکھا تو حازم ایک انجکشن بھر رہا تھا بیڈ پر کوئی عورت تھی لیکن اس کے بس پاؤں نظر آ رہے تھے اب حازم وہ انجکشن بھر کر اس کے قریب جانے لگا وہ عورت پھر سے چلانے لگی پانچ منٹ بعد اس عورت کی آواز بند ہو چکی تھی ۔۔۔ مہرو نساء دے پاؤں واپس پلٹ کر اپنے کمرے میں آ گئ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ ہ عورت بے ہوش ہو گئ ہو اور حازم دروازہ کھول لیں یوں مہرونساء کو دیکھ کر تو وہ اس پر بھڑک اٹھتا ۔۔۔

مہرونسا کمرے میں آکر لیٹ گئ ۔۔۔ اس عورت کی آوازیں اب بند ہو چکیں تھیں مہرونساء کی جان پر بنی ہوئی تھی کسی بہت بڑی مصیبت میں پھنس چکی تھی ۔۔۔ اپنی حالت زار پر پھر رونا آنے لگا تھا ۔۔۔ نا جانے کس جرم کی سزا بھکت رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی کمرے کا کادروازہ کھلا تھا حازم کمرے میں آ کر بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا مہرونسا لحاف اوڑھے لیٹی تھی ذرا ذرا سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی تا کہ حازم یہ شک نا ہو کہ وہ جاگ رہی ہے اس وقت وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا چہرے پر پریشانی اور تفکر کے آثار تھے پہلی بار مہرونساء کو حازم کچھ لگ سا دیکھ رہا تھا جیسا رویہ کچھ دن سے وہ اس کے ساتھ برت رہا اس سے یکسر مختلف ۔۔ جیسے وہ بھی کسی الجھن میں ہے کسی تکلیف میں مبتلہ ہے ۔۔۔ حازم کی آنکھوں میں پہلی بار اس نے آنسوں کو بہتے دیکھا تھا ۔۔۔ لمپ کی پیلی سی روشنی میں اسکی آنکھوں کی سرخی کچھ زیادہ ہی لگ رہی تھی

” کیااس سفاک قسم کے شخص کو بھی غم ہو سکتا ہے جسے کسی پر بھی رحم نہیں آتا ۔۔

کیسا انسان ہے یہ ایک مسٹری جیسا اس وقت یوں آنسوں بہاتا ہوا قابل رحم لگ رہا ہے ۔۔

مہرونساء کی سوچ کا مرکز اس وقت حازم تھا جس کے نام کے علادہ وہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی

صبح اٹھ کر حازم اسے پہلے جیسا ہی لگ رہا تھا وہی اسپاٹ چہرہ بے تاثر سا وہی دل جلانے والے انداز وہی طنز میں ڈوبی باتیں ۔۔ ناشتے کے بعد ہی وہ مہرو کو ویڈیو بنانے کا کہہ چکا تھا ۔۔ اپنے سر پر اسکارف پہن کر ہرونساء کاصرف چہرہ ہی نظر آ رہا تھا

حازم اسکے ساتھ نہیں بیٹھا تھا ویڈیو صرف مہرونساء کی بنائی جانی تھی ۔۔۔ جو مہرونساء نے بولنا تھا وہ حازم نے اسے لکھ کر دے دیا تھا

مہرونساء کو چہرے کے تاثرات کو نارمل رکھنا تھا ۔۔۔ کہیں یہ نہیں لگنا چاہیے تھا کہ وہ زبردستی لائی گئ ہے

مہرونساء کہ لئے یہ وقت بھی کسی کڑی آزمائش سے کم نہیں تھا اب تک ایک فواد ہی اسے نظر آیا تھا جو اس اسکے لئے آواز اٹھا رہا تھا اور اسی کو پیچھے ہٹانے کا مطلب تھا کہ وہ ساری عمر اسی قید میں گزار دے گی ۔۔۔ دل کند چھری سے کٹا تھا

لیکن بے بسی یہ تھی کہ اسے بیان وہی دینا تھا جو حازم چاہتا ہے ۔۔

حازم نے موبائل سے اس کی ویڈیو بنانی شروع کی

اور اسے بولنے کا اشارہ کیا

” میں مہرونساء نیاز اپنے پورے ہوش و ہواس میں میڈیا کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ میں فواد سے شادی پر راضی نہیں تھی مجھے فواد سے شادی کرنے پر میرے گھر والوں کی طرف سے زور زبردستی کی جا رہی تھی حالانکہ میں میں اپنے گھر والوں کواپنی مرضی بتا چکی تھی میں کسی اور پسند کرتی تھی اس لئے اپنی خوشی اور رضامندی سے میں اسکے ساتھ آئی ہوں اس سے نکاح بھی اپنی رضاندی سے کیا ہے جس کی اجازت اور آزادی مجھے میرا قانون اور اسلام دونوں دیتے ہیں اپنے نکاح کی فوٹو کاپی میں نے اپنے والد اور منگتر کو بھیج دی تھی ۔۔میں اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں اس لئے مجھے میڈیا کے سامنے ہائی لائٹس نا کیا جائے ۔۔۔ اور نا ہی مجھے ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے “

کس دل سے وہ جبرا یہ لفظ ادا کر رہی تھی یہ وہی جانتی تھی

ویڈیو بنوانے کے بعد حازم نے موبائل سے وہ شیر کر دی پھر مسکراتے ہوئے اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا اس وقت حازم کی نظروں میں خوشی کی چمک تھی

” آئی لو یو سو مچ وائفی ۔۔۔ آج تو تم پر سچ میں پیار آ رہا ہے ” مہرو نساء کی حالت اس ہارے ہوئے انسان کی طرح تھی جو سمندر کی تندو تیز تلاطم خیز لہروں

کے۔ بیچ میں۔ اپنے بچاؤں کی آخری کشی کو بھی جلا چکی تھی اور خود کو طوفاں کے سپرد کر دیا تھا اب وہ طوفان اسے جہاں چاہے بہا کر لے جائے

آنکھوں سے شکت کے آنسوں بڑی اذیت سے نکل کر آنکھوں سے بہہ کر رخسار پر گرے تھے حازم کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی

” یہ کیا مہرونساء ؟ مجھ سے محبت کا اتنا کھلم کھلا اظہار کرنے کے بعد یوں آنسوں بہا رہی ہو ۔۔۔ دس از ٹاف فیر۔۔ آج تو تم نے مجھے دل سے خوش کیا ہے آج رات میں تمہیں خوش کر دوں گا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اپنا چہرہ مہرونساء کے چہرے کے بلکل قریب لے جا کر اسکی آنسوں بہاتی آنکھوں میں دیکھ کر بولا

” آج رات میں تمہیں وہ محبت دیکھا کر خوش کر دوں گا جیسے اپنی گولڈن نائٹ میں دیکھائی تھی ” یہ سن کر مہرونساء کا تنفس تیزی سے چلنے لگا تھا

پہلی رات کا خیال آتے ہی ساری اذیت بھی یاد آنے لگی تھی وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی تھی نفی میں سر ہلانے لگی

” دیکھوں تم نے جو چاہا میں نے کہہ دیا ۔۔۔۔ لیکن پلیز تم مجھ سے دور رہا کرو ۔۔ ” کسی بے بس پرندے کی طرح وہ سہم کر صوفے کے کنارے سے جا لگی تھی

” کیسے دور رہو مہرونساء تم خود سوچو تمہارے ناول کی ہر اپسوڈ میں ہیرو کا ایک رومنٹک سین تو ضرور دیکھایا جاتا ہے ہیروئن بلکل تمہاری طرح گھبراتی ہے ڈرتی ہے انکار کرتی ہے پلیز مجھے چھونا مت ۔۔ مجھ سے دور رہو۔۔۔ میرے قریب مت آنا ۔۔ ” حازم اسے ہیروئن کے ڈائیلاگز بلکل ڈرامائی انداز سے سنانے لگا

” لڑکی سپٹپاتی ہے۔۔ گھبراتی ہوئی پیچھے ہٹ کر صوفے کے کونے سے لگتی ہے اپنے شوہر کی پہلی شدتوں کا سوچ کر اس دل دہل جاتا ہے

بلکل ایسے ہی مہرونسا جسے تم گھبرا کر صوفے کے کونے سے جا لگی ہو بلکل ایسے ہی جیسے تم گھبرا رہی ہو ۔۔۔ ” وہ مہرونساء کی کیفت اسے تمسخرانہ انداز سے بتا رہا تھا ۔۔۔ آنکھوں میں وہی مصنوعی خوف لئے جو وہ ہیروئن کے لئے لکھتی تھی ۔۔ پھر ہسنے لگا ۔۔۔ مہرو کے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ بولا

” افف میری جان تمہار دل تو اس وقت بلکل تمہارے ناولز کی ہیروئنز کی طرح سے دھڑک رہا ہے

لگتا ہے دل پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا ۔۔ “یہ کہہ کر حازم نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔

” مجھے تو لگا تھا مہرونسا کہ یہ سب سچ میں نہیں ہوتا صرف کہانی تک ہوتا ہے لیکن نہیں تمہارے ساتھ یہ سب کچھ سچ میں ہو رہا ہے ” آنکھوں میں مصنوعی حیرت لئے وہ یوں بات کر رہا جیسے اس کا مزاق اڑا رہا ہو

پھر ایک تمسخرانہ مسکراہٹ مہرو کی طرف اچھالی

” اوہ ہاں تمہارا یوں گھبرانا تو سو فیصد جائز ہے کیوں تمہارے ساتھ بلکل ویسا ہی ہو رہا ہے ۔۔۔ تمہیں تو میرا احسان ماننا چاہیے مہرونسا میرے ساتھ بیتائے ہر لمحے کو تم قلم بند کر سکتی ہو ایک منٹ رکو ” مہرونساء کے خوف سے کپکپاتے ہونٹ اور بد حواسی آنسوں وہ سب کر یکسر نظر انداز کیے اس کے پاس سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔ اپنی الماری سے ایک ڈائری اور پین نکال کر اسکے ہاتھ میں تھایا

” لو مہرونساء اس پر نیا ناول شروع کرو ۔۔۔ (میری جان سیزن ٹو ) اس بار اس پراپنی کہانی کو لفظ دو ۔۔ خود پر بیتی ہوئی پر اذیت کو لکھو ۔۔۔ اور میں گارنٹی سے کہتا ہوں کہ یہ ناول تمہاری ایسی پہچان بنائے گا کہ اس کی دھوم پہلے والے ناول سے ذیادہ مچے گی ۔۔۔۔

کیونکہ جس اذیت کو سہہ کر لکھا جائے وہ پڑھنے والے کے آنکھ میں آنسوں لے ہی آتی ہے ۔۔۔

پلیز مہرونسا اس بار ہیرو کا نام حازم لکھنا احتشام نہیں ۔۔۔۔ اور ہیروئن نام شرمینہ کے مہرنساء لکھنا ۔۔۔ ” اب حازم بلکل سنجیدگی سے بول رہا تھا

” مجھے کچھ نہیں لکھنا ” وہ سسکیوں سے روتے ہوئے بولی ڈائری اور پین ایک سائیڈ پر رکھ دیے اپنے لفظوں کی بھرپائی کی۔ جو اذیت وہ سہہ رہی تھی اسی کو لفظ دینا اسکے بس کہ بات نہیں تھی

” لکھنا تو پڑے گا مہرونساء میری خاطر میری جان ۔۔مئں تمہارا انکار نہیں سنو گا اور ہاں

اس بار کہانی کا مورل میں تمہیں بتاؤں گا ۔۔۔ بہت سالوں بعد بھی تاریخ کے اتہاس میں ایسی کہانی کسی نے نا پڑھی یو گی ۔نا لکھی ہو گئ ۔۔ خود پر قلم اٹھاؤں مہرونساء اس پراپنی ہر کیفیت اور ہر اذیت کو لفظ دو ۔۔۔ ایک رائٹر پر کہانی لکھو

اورایسا لکھو کہ تمہیں پڑھنے کے بعد لوگ تمہارے جیسا لکھنے سے پہلے سو بار سوچیں کہ کہیں تم جیساانجام نا ہو ۔۔ ” آخر کے فقرے وہ بڑے غصے اور تاسف سے ایک ایک لفظ چبا کر بول رہا تھا مہرونساء نظریں تک نہیں اٹھا پا رہی تھی

یہ کہہ حازم اٹھ کر واڈ روب کے جانب بڑھ گیا ایک ریڈ کلر کی ساڑھی بیڈ پر رکھ دی

” رات کو یہ پہن کر تیار رہنا مہرونساء میں ابھی باہر جا رہا ہوں رات تک ہی لوٹوں گا ۔۔۔ ” مہرونساء کے آنسوں کی پروا کیے بغیر وہ یہ کہہ کر چلا گیا

حازم کے جاتے ہی۔ مہرونساء نے ساڑھی کو نا پسندیدگی سے دیکھا تھا اور اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئ پھر اس رات والی عورت کا خیال آنے لگا

وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ رات کو چلانے والی عورت کون ہے ۔۔۔ اس کے دروازے کے پاس آ گئ دروازے کا نیب گھمایا لیکن دروازہ نہیں کھلا لوک تھا مہرونساء سخت مایوس ہوئی تھی پھر نیچے اتر گئ کچن میں آج کے پکانے کی ہر چیز موجود تھی مہرونساء نے کھانا بنایا دوپہر کے کھانے بعد نیچے کے پورشن کا پھر سے جائزہ لینے لگی آخر کہیں تو باہر جانے راستہ ہو گا حازم مجھے تو چار دیواری میں قید کر سکتا ہے لیکن خود کو تو نہیں کر سکتا یہیں۔ کہیں سے باہر جاتا ہو گا

مہرونساء نئے سرے سے باہر جانے کے لئے اس خفیہ دروازے کی تلاش شروع کر دی دو دن پہلے والی اذیت برداشت کرنے کی ہمت وہ نہیں رکھتی تھی بس ایک بار وہ یہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے تو پھر

اس کی جان حازم جیسے بے حس اور درندے صفت انسان سے چھٹ سکتی تھی

سب دروازے ان لوک تھے جسے وہ کئ بار دیکھ چکی تھی بس ایک دروازے پر تالا لگا ہوا تھا اس وقت گھر میں مہرونساء کے علاؤہ اور کوئی نہیں تھا ۔۔

اس لئے تیز دھار والا چاقو وہ کچن سے اٹھا لے آئی مہرونساء نے وہ تالا کاٹنے کوشش کر نے لگی اس کام میں اسے کئ گھنٹے لگ گئے تھے لیکن بلا آخر وہ تالا کاٹ چکی تھی مغرب کا وقت بھی گزر چکا تھا اندھیرا پھیل چکا تھا وہ چاقو خاصا تیز تھا مہرونساء نے اپنے ہاتھ میں ہی رکھا تھا کہ اگر اسے بھاگنے کے لئے کسی پر وار بھی کرنا پڑا تو وہ پیچھے ہر گز نہیں ہٹے گی

مہرونسا نے جیسے ہی وہ دروازہ کھولا وہ سیدھا پورچ میں کھلا تھا باہر بہت بڑے رقبے پر باغ سا بنا ہوا تھا پورچ اتنا بڑا تھا کہ بیک وقت دس گاڑیاں بھی وہاں کھڑی ہو سکتیں تھیں چار چوکیدار وہاں پہرے داری کر رہے تھے اور اس وقت بھی پانچ گاڑیاں وہاں موجود تھیں گاڑیوں کی آڑ سے ۔۔ وہ چھپ کر پورچ سے نکل کر باغ کے گھنے درختوں کے بیچ جا چھپی تھی ۔۔۔ اس وقت باغ کی طرف گھپ اندھیرا تھا اور بیرونی دیوار بھی خاصی اونچی تھی جس طرف مہرو کھڑی بھی ہوئی تھی وہاں کسی کا گزر نہیں تھا اس لئے وہ درخت پر چڑھنے لگی درخت بہت اونچا تھا وہ دیوار تک پہنچ گئ دیوار پر چڑھ تو گئ تھی لیکن جب دوسری جانب دیکھا تو خوف سا آنے لگا نیچے کافی گہرائی تھی پہلے کبھی ایسا موقع زندگی میں آیا بھی نہیں تھا کہ دیواریں پھلانگنیں پڑیں لیکن اس وقت یہی ایک راستہ اس کے پاس بچا تھا

مہرونساء نے آنکھیں بند کیں اور دیوار کی دوسری جانب کود گئ ۔۔۔ لیکن وہ کچی مٹی ہے گری تھی اس لئے بہت ذیادہ چوٹیں نہیں آئیں تھیں با مشکل اٹھ کر اس نے خود سے مٹی جھاڑی گھنٹے پر چوٹ تو آئی تھی لیکن اس وقت وہ درد کو نظر انداز کر کے بھاگنے لگی تھی

*******………,

فواد نے پورے تین دن بعد مہرونساء بے کی شکل دیکھی تھی اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر مسلسل چل رہی تھی فواد نے نظریں صرف مہرو کے چہرے پر تھیں وہ کیا کہہ رہی تھی کیا نہیں وہ اس کے لئے بے معنی تھا وہ بس اسکی روئی ہوئی اداس آنکھوں کو دیکھ رہا تھا جہاں خوف تھا وحشت تھی نمی تھی ۔۔ جمعلوں کے بجائے وہ مہرونساء کے لہجے کو سن رہا تھا جس میں یاسیت تھی اسکا لہجہ اسکے لفظوں کی ترجمانی نہیں کر رہا تھا لگ رہا یہ لفظ اس سے زبردستی بلوائے جا رہے ہیں ۔۔۔ مہرو کی آنکھیں جسے فواد کو یہ پیغام دے رہیں تھیں کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی مجھے دھوکے سے یہاں لایا گیا ہے

فواد نے موبائل بند کر دیا اب تو دل کو بلکل بھی قرار نہیں آ رہا تھا جہاں جہاں وہ مہرونساء کو بچانے کی کوشش کر سکتا تھا کر رہا تھا ۔۔۔ ایک بار وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ جو کہ صحافی تھااور فواد کی ہیلپ کر رہا تھا اتفاق سے ریسورنٹ بھی وہی تھا جہاں وہ آخری دفعہ مہرونساء کے ساتھ آیا تھا اور ٹیبل بھی وہی تھا وئیٹر بھی وہی تھا جس نے اس پر چٹنی گرائی تھی اس کے سامنے جوس رکھ کر فواد کو غور سے دیکھنے لگا پھر اسے کیسے کچھ یاد آیا تھا

” آپ ۔۔۔ آپ وہی ہیں جو آج کل سوشل میڈیا پر اپنی منگتر کو ڈھونڈ رہے ہیں اور یہاں پہلے انکے ساتھ ہی لنچ پر بھی آئے تھے ” وئیٹر کی بات فواد نے بے توجہ سے سنی تھی فکر تو اسے مہرونساء کی تھی ایک نظر فواد نے اس ویٹر پر ڈالی

اسے یاد آگیا تھا بات اتنی پرانی بھی نہیں تھی

” ہاں جب تم سے میری شرٹ پر چٹنی گر گئ تھی

‘ گری نہیں تھی جی وہ تو کسی نے مجھے گرانے کے لئے پورے ایک ہزار نوٹ دیا تھا مجھے نہیں پتہ تھا آپ لوگ اتنے مشہور لوگ ہو جاؤں گئے ” وئٹر باتوں تھا اس لئے جلد بازی میں بول گیا فواد نے بات اتنی نوٹ نہیں کی تھی لیکن اسے ساتھ بیٹھے اس کے صحافی دوست نے نوٹ کر لی تھی

” ایک منٹ ” اس صحافی نے فورا سے ویٹر کو ٹوک دیا پھر اس سے پوچھنے لگا

” کسی کے کہنے پر چٹنی گرائی تھی ؟؟؟ کس کے کہنے پر ” صحافی کی بات سن کر اور تشویش انداز دیکھ کر ویٹر کو اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا

” کوئی نہیں تھا کوئی نہیں تھا “, وہ متذبذب سا ہوا تھا وہاں سے جانے لگا اس اس صحافی لڑکے نے اسے روک لیا

” دیکھوں اس کی منگتر کو اغوا کیس گیا ہے۔ تم ہم سے تعاون کرو گئے تو تمہیں ہم انعام کے طور پر اچھی روم دیں گئے ” صحافی نے اس ویٹر کو لالچ دی وہ نظریں چراتے ہوئے بولا جہاں یہ بیٹھے تھے وہیں پچھلے ٹیبل پر ایک نوجوان بیٹھا تھا جس کی ان دونوں ہر تھیں اور اسی نے ویٹر چٹنی گرانے کے لئے کہا تھااور مہرونساء کو ایک ٹشوں بھی پکڑانے کو کہا تھا ۔۔ فواد یہ سب سن کر حیران ہوا تھا مطلب کوئی تھا جو مہرونساء کا پیچھا کر رہا تھا پھر فواد کو یاد آنے لگا کہ جب وہ اپنی شرٹ صاف کر کے واپس آیا تھا تو مہرونسا بہت گھبرائی ہوئی تھی کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھا رہی تھی فواد نے اس دن کا سارا واقع اپنے دوست کو سنا دیا وہ کچھ دیر خاموشی سے سوچتا رہا پھر کہنے لگا

” ہم ہوٹل کے مینجر سے بات کرتے ہیں ہاں جگہ جگہ کیمرے لگے ہیں اس دن کی ویڈیو انکے پاس موجود ہو گی ہوسکتا ہے اس شخص کا چہرہ ہم دیکھ سکیں کیونکہ پارلر سے جس گاڑی میں ۔مہرونساء گئ تھی اس گاڑی کے ڈرائیور کی شکل ویڈیو فوٹیج میں نہیں آ سکی تھی فواد اپنے دوست کی رائے پر متفق ہوا تھا ۔۔۔ دونوں اٹھ کر مینجر کے پاس چلے گئے صحافی کا تعارف ان کر مینجر نے کسی بات سے اعتراض نہیں کیا تھا

بلکہ انہیں اس دن کی ویڈیو دیکھا دی تھی

مختلف ویڈیوز تھیں بس مشکل ہی انکی مہرونساء پر اس ویڈیو میں نظر پڑی تھی پھر اسی کو زوم کر کے دیکھا گیا جہاں مہرونساء اور فواد بیٹھے۔ باتیں کر رہے تھے عین اسی ٹیبل کے پیچھے ایک شخص بیٹھا تھا جس میں نظریں ان دونوں پر ٹکی ہوئی۔ تھیں پھر اسنے سامنے رکھے گلاس میں سے ٹشو نکسل کر اپنی جیب سے پین نکالا اور اس پر کچھ لکھنے لگا مہرونساء کی اس شخص کی جانب پشت تھی پھر اس شخص نے

ویٹر کو اشارے سے بلایا اور اس سے کچھ کہنے لگا اور اسے وہ ٹشو بھی پکڑانے لگا لیکن وہ ویٹر نفی میں سر ہلانے لگا اس شخص نے جب ہزار کا نوٹ اسے دیاوہ ویٹر مان گیا ۔۔۔ جیسے ہی چٹننی فواد ہر گری تھی وہ شخص بھی اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔ فواد نے وہ ویڈو کئ بار دیکھ تھی شکل و صورت میں وہ نوجوان خاصا ہینڈسم تھا اور۔ اس کے پہناوے سے بھی لگ رہا تھا کہ بہت امیر ہے

اسے پیسوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور اب تک مہرونساء۔ کے لئے۔ پیسوں کا مطالبہ کیا بھی نہیں گیا تھا ۔۔۔

فواد اور اسکے دوست نے وہ ویڈیو اپنے پاس بھی سیو کر لی ۔۔۔

اب اس نوجوان کی ہسٹری معلوم کرنی تھی کہ آخر وہ ہے کون ۔۔۔

*******……

دوسرے دن یسرا زکی کے سامنے موجود تھی اشتیاق صاحب بھی وہیں تھے جب یہ معلوم ہوا کہ یسرا کو زکی نے بلایا ہے تو زکی کو گھور گھور کر دیکھنے لگے

زکی نے سکینڈ ہیروئن کے لئے یسرا کو سلیکٹ کیا تھا ۔۔۔ آشتیاق صاحب کے غصے کو نظر انداز کر کے اس نے چند لاکھ کا چیک اشتیاق صاحب کو بنانے کا کہا کیونکہ سارے پیسے اشتیاق صاحب کے اکاؤنٹ میں کی ہوتے تھے ۔۔۔ زکی کے اکاؤنٹ میں۔ بس چند ہزار ہی ہوتے تھے اپنی ضرورت کے لئے وہ والدسے پیسے مانگتا تھا ۔۔۔ اشتیاق صاحب نے کبھی منع نہیں کیا تھا ۔۔۔ اس لئے زکی کو بھی کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اپنے ڈرامے کی کامیابی پر ایک معقول رقم اپنے پاس رکھے اپنی محنت کا معاوضہ لے ۔۔۔ اسے اس۔ بات سے کبھی فرق نہیں پڑا تھا۔ کہ پیسہ اسکے اکاؤنٹ کے بجائے اس کے والد کے اکاؤنٹ میں ہے ۔۔۔

اشتیاق صاحب کو اتنا اندازہ ہو گیا تھا کہ زکی انہیں کامیابیوں کے سب سے اوپر مقام تک لے جانے میں معاون ثابت ہو گا ۔۔۔اس لئے چپ تھے چیک بک پر دو لاکھ لکھ کر سائن کر کے وہ چیک یسرا کو پکڑا دیا ۔۔۔

یسرا خوش ہو گئ تھی ۔۔۔

” یسرا اب تم نے اور بھی زیادہ محنت کرنی ہے ” زکی نے یسرا کے چہرے پر پر سکون سی مسکراہٹ دیکھ کہا ۔۔۔ خود بھی اسے مطمئن دیکھ کر خوش تھا ۔۔۔ وہ ایک مجبور لڑکی تھی اپنی گھریلوں حالات کی وجہ سے یہاں آئی تھی ۔۔۔ اس لئے چاہتا تھا کہ وہ۔ برے لوگوں کی چنگل میں نا پھنس جائے ۔۔۔

یسرا اسے مشکور نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔

لیکن اس بات کا علم سجیلہ کو ہوا تو اس سے برداشت نہیں ہورہا تھا کہ ایک ایکسٹرا کریکٹر کرتے ہوئے یسرا دوسرے ڈرامے میں ہی سکینڈ ہیروئن کی صفت میں جا کھڑی ہوئی تھی

سجیلہ نے ایک مقام دو سال بعد حاصل کیا تھاوہ بھی ڈایکٹرز کی ہر قسم کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے بعد یسرا اتنی جلدی کامیابی منازل طے کر رہی تھی وہ بھی صرف زکی کی وجہ سے ۔۔۔سجیلہ ابھی اشتیاق صاحب کے آفس میں داخل ہوئی تھی

یہ سب باتیں سن کر

سجیلہ کو زکی کے یسرا کے ساتھ یہ احسان مندی

بری لگ رہی تھی ۔۔ ایسے التفات وہ سجیلہ کے ساتھ بلکل نہیں برتا تھا سجیلہ چپ چاپ آ کر بیٹھ گئ ان دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی

پہلے ہی وہ تپی بیٹھی تھی کہ یسرا نے جانے کی اجازت مانگی تو زکی بھی اس کے ساتھ ہی کرسی سے کھڑا ہو گیا

” چلو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں “

زکی نے سجیلہ کو یکسر نظر انداز کر کے یسرا سے کہا

” نو سر میں چلی جاؤں گی آپ کو خواہمخواہ زحمت ہو گی ” سجیلہ کے چہرے پر تیوری دیکھ کر یسرا نے ہچکچاتے ہوئے انکار کیا تھا

“, او کم آن یسرا میں ویسے بھی جا ہی رہا تھا ۔۔۔ تم پر کوئی احسان نہیں کر رہا ہوں تمہاری والدہ

کی عیادت کے لئے تو مجھے جانا ہی تھا

چلو اس بہانے ان سے بھی ملاقات ہو جائے گی ۔۔۔ زکی اور یسرا آفس سے باہر چلے گئے خشمگین نظروں سے تو آشتیاق صاحب بھی شکی کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔ جو نا جانے کیوں اس لڑکی میں اتنی دلچسپی کے رہا تھا

” عقل کا اندھا ہے یہ لڑکا ۔۔۔ میں اس کے لئے کیا کیا سوچ رہا ہے اسے کس اونچائی پر دیکھنا چاہتا ہوں اور یہ ہے کہ ۔۔۔۔ زمین پر دھسنا چاہتا ہے ” ہاتھ میں پکڑی فائنل آشتیاق صاحب نے سامنے ٹیبل پر غصے سے پھنکتے ہوئے کہا پھر سجیلہ کے بگڑے موڈ کو دیکھ کر کہنے لگے

” تم پریشان مت ہو ۔۔ اسے میں سدھارنا جانتا ہوں ” اشتیاق صاحب نے سجیلہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا

” وہ تو مجھے نظر آ ہی رہا ہے انکل ۔۔۔ ” سجیلہ نے اپنی جلن طنزیہ لہجے سے نکالی تھی

” اوہ سجیلہ تمہیں یسرا سے گھبرانے کی ہر گز ضرورت نہیں ہے ۔۔ ایسی بہت سی لڑکیاں آتی جاتی رہتی ہیں ۔۔ تمہاری جگہ کوئی نہیں لے سکتا ” اشیتاق صاحب نے ہوا میں بات کو لاپروائی سے اڑایا تھا لیکن سجیلہ فکر مند سی ہو گئ تھی ۔۔۔

*****………

مہرونساء رستے کا تعین کیے بنا بھاگ رہی تھی گھپ اندھیرے میں ویران سڑک کے علادہ اور کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔ اس وقت وہ ننگے پاؤں سڑک پر بھاگ رہی تھی ۔۔۔ لیکن ستم ظریفی کچھ موسم نے دیکھائی تھی گرچ چمک کے ساتھ بارش شروع ہو گئ تھی دیکھتے ہی دیکھتے تیز بارش نے میں تیزی آ گئ تھی مہرونساء اندھا دھن بھاگ رہی تھی لیکن بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج اور تیز برستی بارش میں بھاگتے رہنے سے اب وہ تھکنے لگی تھی اس وقت جہاں وہ تھی۔ کوئی زی روح وہاں موجود نہیں تھی ۔۔۔ اس لئے خوفزدہ بھی تھی ۔۔ دل میں دعائیں کر رہی تھی کہ کوئی مدد گار مل جائے جو اسے قریبی شہر تک پہنچا دے

لیکن اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔ کچھ دیر وہ وہیں بیچ سڑک میں کھڑی ہو کر اپنا سانس بحال کرنے لگی مسلسل بھاگنے سے ٹانگیں شل سی ہونے لگیں تھیں تنفس بھی اسقدر تیز تھا وہ ہانپ رہی تھی ۔۔ تقریبا دو میل بھاگنے کے بعد ہی وہ اب رکی تھی ۔۔۔ بارش کی رفتار مزید بڑھ گئ تھی ۔۔ ہوا کے زور سے آپ مہرونساء کو سردی سی محسوس ہونے لگی تھی بارش کی وجہ سے وہ پوری کی پوری بھیگ چکی تھی اس لئے ہوا لگتے

ہی وہ کپکپانے لگی تھی زندگی میں کبھی ایسی سچویشن سے دو چار نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ ابھی ٹھیک سے پرسکون بھی نہیں ہوئی تھی کہ سامنے سےگاڑی کی فرنٹ تیز لائٹس دیکھ کر مہرونساء

کو امید سی بندھی تھی اس لئے گاڑی کے سامنے جا کر ہاتھ ہلانے لگی وہ ایک جیپ تھی عین مہرونساء کے سامنے جا کر رک گئ ۔۔۔ تیز روشنی آنکھوں پر پڑنے سے اسکی آنکھیں چندھیا سی گئیں تھیں لیکن دل میں ایک امید سی جاگی تھی کہ اب وہ اپنے گھر پہنچ جائے گی ۔۔۔