Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 22
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 22
Meri Jaan by Umme Hani
مہرو نساء حازم کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“میں نے تم سے رہائی تو نہیں مانگی تھی ۔۔۔ جیسے گزر رہی تھی گزرنے دیتے ۔۔۔ گھر سے اپنے عاشق کے ساتھ بھاگی ہوئی لڑکی کی واپسی ۔۔۔ کسی طوفان سے کم نہیں ہے ۔۔ بہتر تھا کہ تم مجھے عمر بھر قیدی بنا کر رکھ لیتے ۔۔۔ جانتے ہو اس دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ایک قیامت بھرپا ہو جائے گی ۔۔۔ میرے ماں باپ پہلے ہی میرے بھاگ جانے سے اور ویڈیو میں اپنی پسند کی شادی کا اعتراف کرنے سے آدھے تو مر چکے ہیں۔۔۔۔ لوگوں سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں ۔۔۔۔۔ میری وجہ ذلت کی زندگی جینے پر مجبور ہیں
اور اب یہ طلاق نامہ لیکر جب میں اندر جاؤں تو میرے ماں باپ نئے سرے سے اذیت برداشت کریں گئے
میں تمہاری گناہگار تھی حازم تو سزا صرف مجھے دیتے اور عمر بھر دیتے رہتے ۔۔ میرے ماں باپ کا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔ پھر یہ ذلت کا طماچہ انکے منہ پر کیوں مار رہے ہو ” مہرونساء نے وہ خاکی لفافہ جس میں اس کا طلاق نامہ تھا حازم کے سامنے کرتے ہوئے کہا اس بات وہ لاجواب تھا ۔۔ کوئی جواب نہیں تھا اس کے پاس ۔۔۔ مہرونساء نے اس سے نظریں ہٹا لیں اور گاڑی سے نیچے اتر گئ ۔۔۔ ایک بار بھی پیچھے پلٹ کر حازم کی طرف نہیں دیکھا رہنا رسول بھی اس کے ساتھ نہیں چاہتی تھی مہرو نساء کا ڈوپٹہ آدھا کندھے پر تھا اور آدھا زمین پر۔۔۔ اسے اپنی کوئی
ہوش نا تھی بال بھی کیچر میں مقید تھے لیکن اطراف سے لڑیں نکل کر بکھری ہوئیں تھیں ۔۔۔ اپنے گیٹ کے پاس پہنچ کر اس نے ڈور بیل دی دروازہ کھلا اور وہ اندر داخل ہو گئ
حازم نے آنکھیں بند کیں اور کئ آنسوں آنکھوں سے گرے تھے جس وہ حیران تھا نا جانے سدل ملول سا ہونے لگا تھا خود کو جھٹک کر ۔۔۔ اس نے کالے گلاسز پہنے اور گاڑی اسٹاٹ کر کے چلا گیا ۔۔۔۔
*******……..
مہرونساء اتنی کمزور اور پیلی پڑ چکی تھی کہ جیسے صدیوں کی بیمار ہو ہاتھ خاکی لفافہ پکڑے لاونج میں پہنچ گئیں سامنے صوفے پر نیاز صاحب اور مہرو کہ والدہ بیٹھیں تھیں ۔۔۔ مہرو کو دیکھ کر دونوں ہی اسکی طرف لپکے تھے ۔۔ مہرو یوں تھی جیسے پتھر کی ہو چکی ہو
” مہرو ۔۔۔ میری بچی۔۔۔ ” ماں نے بے اختیار اسے سینےسے لگایا تھا ۔۔۔ وہ قدر ڈپریس تھی کہ ماں کا لمس پاتے ہی۔ بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔ دوبارہ جب اسے ہوش آیا وہ ہاسپٹل میں تھی ہاتھوں پر ڈرپ لگیں ہوئی تھی ۔۔۔
با مشکل ہی مہرو نے آنکھیں کھولیں تھیں اسکی والدہ تیزی سے اسکے پاس پہنچ گئیں ۔۔۔
” مہرو ۔۔ میری بچی۔۔۔ سب کیسی ہو تم ” مہرو نے ماں کاانسوں سے بھرا تربتر چہرہ دیکھ کر منہ سے کچھ نہیں کہا بس اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔
” دیکھوں میرے بچے تم نے کچھ بھی نہیں سوچنا کوئی ٹینشن نہیں لینی بس تم واپس آ گئ ہو ہمارے لئے یہی بہت ہے ۔۔۔ ” مہرو کی والدہ اس کا چہرہ اور پیشانی چومنے لگیں مہرو جانتی تھی کہ دنیا کی ذلت انہیں اب بھی اٹھانی پڑنی ہے لیکن مجھ پر آنچ نہیں آنے دیں گئے ۔۔۔ کیسی بد بخت اولاد ہوں میں جو اپنے ماں باپ کے کے لئے ذلت کاسبب ہی بن رہی ہوں تکلیف کی شدت سے اس کے ہونٹ لزرنے لگے آنکھوں سے آنسوں بہہ کر تکیہ بھگونے لگے اس کی والدہ نے اسکے آنسوں صاف کیے
کہنے لگیں
خبردار جو تم روئی تو ۔۔۔ دیکھوں تو کیا حالت کر دی اس کمینے شخص نے تمہاری ۔۔۔۔ ” اسکی والدہ نا جانے حازم کو اور کیا کیا کہتیںں لیکن ایک لیڈی ڈاکٹر نرس کے ساتھ اندر داخل ہوئیں تھیں
” ان کی رپورٹس آ چکی ہیں ایک دن انہیں اور آبزرویشن میں رکھنا پڑے گا انکا ایچ بی سیون پوائنٹ ہے ۔۔۔ پھر یہ پریگننٹ بھی ہیں اس لئے اتنا کم بلڈ ماں اور بچے کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے ۔۔۔
یہ خبر تو مہرونساء کے ساتھ ساتھ اسکی والدہ کے لئے بھی دھماکہ خیز تھی ۔۔۔
” پریگننٹ۔۔؟؟؟” مہرو کی والدہ تو ششدد سی رہ گئیں تھیں ۔۔۔ بیٹی چھ ماہ بعد گھر پہنچی تھی تو کس حال میں ۔پہنچی تھی ۔۔۔
مہرو کے آنسوں تھم نہیں رہے تھے وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔۔
” میں نے اپنی زندگی میں صرف ایک شخص سے نفرت کی ہے اور بڑی شدت سے کی ہے ۔۔۔ اس کے ساتھ بتائے ہر لمحے پر مجھے اگر اختیار ملے تو میں اپنی زندگی کے صفحات سے پھاڑ کے پھنک دوں حازم نامی شخص کو اپنے حافظے سے مٹا دوں لیکن میری قسمت تو دیکھوں ۔۔۔ ایسے شخص کی اولاد میرے وجود میں ہے ۔۔۔
یہ میرے لئے کسی سزا سے کم نہیں ہے ۔۔۔۔ اور اگر اسے بھنک بھی پڑ گئ تو نا جانے کیا کرے گا میرے ساتھ ۔۔۔ میرے بچے کو مجھ سے چھین لے گا ۔۔۔ مجھے عمر بھر تڑپنے کے لئے چھوڑ دے گا ۔۔۔ مہرونساء کے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں تھیں ۔۔۔ وہ سر کو دبانے لگی
” مہرو کیا بات ہے بیٹا ۔؟ ۔ سر میں درد ہے ؟ ” مہرو کی والدہ اسے دیکھ کر پریشان سی ہو گئ تھی ۔۔۔
” نرس انکا بی پی چیک کریں اور انہیں نیند کا انجکشن دیں ” ڈاکٹر کی انسٹرکشن پر نرس مہرو کا بی پی چیک کرنے لگی جو کہ ہائی تھا نرس
فورااسے اسے میڈسن دینے لگی ۔۔۔
چند دن بعد ہی وہ گھر لوٹ کر آئی تھی ۔۔۔
پورادن وہ چپ رہتی تھی نیاز صاحب خود بھی بیمار رہنے لگے تھے کام کاروبار میں بھی کڑرورو کا نقصان ہو چکا تھا زیب نساء بھی ارمان کے ساتھ مہرونساء سے ملنے آئی تھی اسکی خالہ بھی مہرو کی دل جوئی کرتی رہیں کہ ایک چپ تھی جو مہرونساء کے ہونٹوں پر ہر وقت رہتی تھی ۔۔۔
ایک آنسوں تھے جو آنکھوں میں ہر وقت ٹہرے رہتے تھے اب تک کسی نے مہرونساء سے کوئی سوال نہیں پوچھا تھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا ۔ کیاخود اپنی مرضی سے گئ تھی ۔۔ یا اسے ڈرایا دھمکایا گیا تھا ۔۔۔ جس حالت میں وہ لوٹ کر آئی تھی وہ محبت کی شادی تو ہر گز نا تھی نا ہی مہرو کے گھر میں پسند کی شادی پر سختی اور پابندی تھی کہ اسے یہ چور راستہ اپنانا پڑتا ۔۔۔۔
نا ہی حازم کوئی غریب گھر کا تھا کہ نیاز صاحب کو اعتراض ہوتا اگر وہ اپنا رشتہ مہرونساء کے لئے بھیجتا تو سوفیصد اس کے رشتے پر سوچا جاتا ۔۔۔
لیکن یہاں قصہ کچھ اور تھا ۔۔۔۔ نیاز صاحب اب زیادہ تر وقت گھر ہی گزارتے تھے ۔۔۔ جو خاکی لفافہ مہرو کے ہاتھ میں تھا اسے بنا دیکھے ہی ایک دراز میں رکھ دیا گیا تھا کیونکہ وہ آتے ہی بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔ اس وقت انہیں مہرنساء کی پروا تھی۔ نا کے اس خاکی لفافے کی اور بعد میں یہ بات انکے ذہن سے بھی نکل چکی تھی ۔۔۔۔
ایک مہینہ بیت گیا تھا مہرونساء کی طعبیت میں ذرا سا بدلاؤ نہیں آیا تھا بلکہ وہ مزید کمزور ہوتی جارہی تھی۔ نا ٹھیک سے کھاتی تھی نا بولتی تھی ۔۔۔ اسے اندر سے غم تھے کھائے جا رہے تھے ۔۔۔
فواد کا اسکی زندگی سے ہمیشہ کے لئے چلے جانا اسے اندر سے مار ہی تو چکا تھا ۔۔۔ بے شک مہرو نے خود انکار کیا تھا ۔۔۔ لیکن اندازہ نہیں تھا کہ فواد اس کے لئے کتنا اہم ہو چکا تھااس پر یہ ستم کے وہ
امید سے تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ جب تک وضع حمل نا ہو جاتا ۔۔۔ اسے عدت میں رہنا تھا ۔۔۔۔ کیونکہ
حالت حمل میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے جیسا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
(انه طلق امراته وهى حائض و ذكر ذلك عمر للنبى صلى الله عليه وسلم فقال مُرْه فليراجعها، ثم ليطلقها طاهرًا أو حاملًا)
“انہوں نے اپنی عورت کو طلاق دے دی اور وہ حالت حیض میں تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ نے فرمایا۔ عبداللہ کو حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کر لے پھر اسے (بعد از حیض) طہر میں طلاق دے یا حالت حامل میں۔ (صحیح مسلم 1/476)
ایک ذہنی انتشار تھا جس نے مہرو کو اندر سے توڑ کے رکھ دیا تھا ۔۔۔
جب انسان اندر سے مر جائے تو صرف سانس لیتاوجود ہی بچ جاتا ہے ۔۔۔۔
ابھی اسی اذیت سے باہر نہیں نکلی تھی ایک تہلکہ خیز خبر نے مہرو کارہاسہا چین بھی چھین لیا میڈیا پر اس کی ایک اور پرستار لڑکی جو اس کے ناولز کی دیوانی تھی اس کے انٹرویو نے مہرونساء کے ہوش اڑا دیے تھے ۔۔۔ مہرو موبائل کے یو ٹیوب کو سرچ کر رہی تھی تا کہ اپنے ذہن کو مصروف کر سکے جب ایک لڑکی کاانٹر ویو دیکھ کر اس دل دہل کر رہ گیا تھا ۔۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئ تھی
کم عمر گیارویں جماعت کی وہ لڑکی عروسی لباس پہنے ایک نوجوان کے ساتھ کھڑی مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی
کہ اس نے بھاگ کر اس لڑکے سے شادی کر لی ہے ۔۔۔
کیونکہ اسے مہرنساء کے ناولز بہت پسند تھے ۔۔۔ وہاں جب لڑکی کو کڈ نیپ کر کے شادی کی جاتی تھی تو یہ بات اس لڑکی بہت امپریس کرتی تھی
اور جب یہ پتہ چلا اسکی پسندیدہ رائٹر نے بھی اپنے محبوب کے ساتھ بھاگ کر شادی کی ہے تو
اسے یہ بات اور بھی اچھی لگنے لگی جب مہرونساء کی ویڈیو اس نے دیکھی جس پر اس نے اپنی مرضی سے شادی کا اعتراف کیا تھا تو وہ اس لڑکی کے لئے ہیروئن کادرجہ رکھ چکی اس لئے اس نے بھی کسی لڑکے سے دوستی کی اور اس سے بھاگ کر شادی کر لی اور وہ کھلے عام بڑی دیدہ دلیری سے ہر بات کا اعتراف کر رہی تھی ۔۔۔ مہرونساء پر کیا بیتی تھی یہ تو صرف وہی جانتی تھی لیکن دنیا کی نظر میں وہ ایک ایسی لڑکی بن چکی تھی جس نے اپنی ناول کی کہانیوں کو سچ کر دیکھایا تھا ۔۔۔
یہ شاید اسکی سزا تھی جو قلم کے غلط استعمال سے اسے مل رہی تھی ۔۔۔۔
مہرونساء اور اس جیسی بولڈ لکھنے والی رائٹرز کے قلم کی بے باکی کا یہ نتجہ سامنے آ رہا تھا کہ گھر سے لڑکیوں کے بھاگ جانے کی شرح پہلے سے بڑھ چکی تھی ۔۔۔۔ بھاگ کر ایک ویڈیو میڈیا پر بھیج دی جاتی کہ ہم نے اپنے ماں باپ کی ساری زندگی کی کمائی عزت کا جنازہ چار دن کی محبت کی خاطر نکال دیا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ ناولز کے مطابق ایک لڑکے سے چند ماہ کی محبت ماں باپ کی کئ سالوں کی محبت سے بہت بڑھ کر اہم بتائی جاتی تھی۔۔۔۔
اور جب وہ لڑکا اپناشوق ختم ہونے بعد اس لڑکی کو چھوڑ دیتا تو ایک بدنامی کا داغ لئے وہ گھر کی چوکھٹ پر آ بیٹھتی
نا لڑکوں کو یہ سمجھایا جاتا کہ محبت کا مطلب عزت دینا ہے اغوا کر کے نکاح کرنا نہیں ہے ۔۔۔
نا لڑکیوں کے نزدیک اس بات کی اہمیت
ہے دلائی جاتی کہ ماں باپ کی عزت پر قربان ہو جانا بھاگ جانے سے کئ گناہ بہتر ہے
جو ماں باپ اپنی بیٹی کی خاطر اپنا سکھ چین برباد کر لیتے ہیں تو کیاوہ اسکے بارے میں برا سوچ سکتے ہیں ۔۔۔ ؟؟,
پہلے لڑکیاں اپنی خواہشات اور آرزو اور پسند کو پس پشت ڈالے ماں باپ کی عزت کی چادر اوڑھے
وہیں جانا پسند کرتی تھیں جہاں انکے والدین چاہتے تھے اور کچھ عرصے بعد اپنی کی جانے والی محبت ایک حماقت لگتی تھی اور ماں باپ کا فیصلہ سوفیصد درست ۔۔۔ لیکن آجکل بچے بہت سیانے ہو گئے ہیں جب تک زہر کو چکھ نا لیں زہر کو زہر نہیں مانتے ۔۔۔۔ ضروری نہیں کہ عزت گنوا کر عزت کی اہمیت کااندازہ ہو سکے ۔۔۔۔
کاش کے کہانی کو ایک کہانی سمجھ کر پڑھا جائے
نا کے سے اپنے سر اور زندگی پر سوار کیا جائے ۔
اور لکھاری بھی اپنی کہانیوں میں سچ لکھ کر لوگوں کی اصلاح کا سبق دین نا کہ شادی کے رشتے کو لفظ با لفظ بیان کریں ۔۔۔۔ کیونکہ انسان کی نفسیات تین طرح کی ہوتی ہے ۔۔۔ یا تو وہ بات کو حد درجہ مثبت لیتا کہ منفی پہلو کی طرف دیکھنے کی کوشش کی نہیں کرتا جیسا اس لڑکی نے بھاگ کے شادی کو مثبت ہی لیا تھا یہ سوچے سمجھے بنا کہ کل کیا ہو گا یا پھر اسے شرمینہ کی طرح منفی لیتے ہیں کہ شادی سے ڈر اور خوف محسوس کر سکیں ۔۔۔
تیزی قسم کی نفسیات بہت کم لوگوں کی ہوتی ہے جو دوراندیشی سے کام لیتے ہیں لیکن اسکی بھی ایک عمر ہوتی جو کہ بیس بائیس سال کے بعد شروع ہوتی ہے چودہ سے بائس سال کی عمر میں خود کو سنبھالنا سب سے مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہمہیں ہر چمکتی چیز سونا نظر آتی ہے
اور اپنا آپ اتنا عقل مند لگنے لگتا کہ ماں باپ بھی بیوقوف سے دیکھتے ہیں ۔۔۔ اور پھر بلوغت کی عمر میں اپنے مخالف جنس کی طرف کشش بھی کچھ زیادہ محسوس ہوتی ہے
یہ وقت سنبھلنے کا ہوتا ہے ۔۔۔ عقل اور دل کو قابو میں رکھنے کا ہوتا ہے ۔۔۔۔ یہںں سات سال اگر لڑکالڑکی خود کو سنبھال لیں تو زندگی بھر نقصان سے بچ جاتے ہیں ورنہ کچی عمر میں ڈولنے والی شخصیت ہمیشہ نقصان اٹھاتی ہے
مہرونساء نے وہ ویڈیو بند کر دی ۔۔۔۔
اس وقت وہ ایک نئ اذیت سے گزر رہی تھی ۔۔۔
اسے بچپن میں پڑھی ہوئی احادیث یاد آنے لگیں
[6/14, 6:42 PM] سمیہ: حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’ حیا اور زبان کو قابو میں رکھنا ایمان کی دو شاخیں ہیں اور فحش گو اور بے ہودہ باتیں نفاق کی دو شاخیں ہیں۔‘‘(جامع ترمذی)
[6/14, 6:43 PM] سمیہ: حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’ مومن نہ تو طعنہ دینے والا ہوتا ہے،نہ لعنت کرنے والا،نہ فحش گو اور نہ زبان دراز۔‘‘ (جامع ترمذی)
اسلامیات پڑھانے والی ٹیچر کا دیا گیا لیکچر مہرونسا کو لفظ با لفظ یاد آنے لگا جو لغو گوئی پر تھا
بات کرنے،اپنے جذبات کا اظہار کرنےاوراپنے مدعا کو الفاظ دینے کی صلاحیت اللہ تبارک و تعالی نے دوہی چیزوں کو دی ہے ایک قلم اور دوسرے زبان۔قلم کو حرکت دینے کی صلاحیت زندگی کے بہت سے تجربوں کے بعد سامنے آتی ہے جبکہ زبان تو پیدائش کے ساتھ ہی حرکت میں آجاتی ہے۔
معصوم بچہ بھی اپنے مدعا کا اظہار اس عظیم نعمت ہی کے ذریعے کرتا ہے خواہ وہ صرف رونے ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو۔مگر کیا کبھی انسان نے اس نعمت کی قدر پہچانی یا اسے مفت ملی ہوئی ایک چیز کی طرح بے دریغ استعمال کیا؟ نہ اس کی حفاظت کی ، نہ اس کی تربیت کی اور نہ ہی اس کو ان مفید کاموں میں لگایا جن کے ذریعے اس عظیم نعمت کا شکر ادا کیا جا سکتا تھا۔
یہ جتنی بڑی نعمت ہے اتناہی تقاضا ہے کہ اس کا صحیح استعمال کیا جائے مگر عمومی طور پر اس کو بے مقصد ،فضول اور لغو کاموں میں استعمال کیا جا تا ہے۔حالانکہ زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ تحریر کیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدo مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ (ق:81)
’’ جب وہ کوئی کام کرتا ہے تو دو لکھنے والے جو دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں لکھ لیتے ہیں،کوئی بات اس کی زبان سے نہیں نکلتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔‘‘
چناچہ ضروری ہے کہ ہم اپنی زبان کو ان باتوں سے روکیں جو ہماری تباہی و بربادی کاذریعہ ہیں۔
فحش باتیں:
فحش اور بے حیائی پر مبنی باتیں کرنا جن میں فحش لطیفے اورمزاق شامل ہیں۔ موبائل پرفحش پیغامات بھیجنا بھی اسی زمرے میںآتا ہے۔ اجنبی مردوں یا عورتوں کے ساتھ جذبات بھڑکانے والی،جھوٹی محبت بھری باتیں سب فحش ہیں جو انسان کی نفسانی خواہشات کو بھڑکانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ان فحش باتوں کے ذریعے غلط تعلقات پروان چڑھتے ہیں اور نتیجے میں معاشرے میں رشتوں کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔
یہیں تو غلطی مہرونساء نے کی تھی ۔۔۔۔ اپنی شہرت کی خاطر اس نے وہ لکھنا شروع کر دیا جوسراسر غلط تھا گناہ تھا اور اسے اس بات کااحساس تک نہیں ۔۔۔۔
پھر سے یاد آنے لگا کہ ایک وقت تھا جب مہرونساء کو کتب بینی کا بہت شوق تھا وہ گھنٹوں لائبریری میں بیٹھی مختلف موضوعات پر کتابیں پڑھتی تھی ایک بار لکھاری کے بارے میں پڑھے کااتفاق ہو
جس میں م کے استعمال پر جامع تحریر تھی مہرونساء کووہ ساری تحریر یاد آنے لگی
جو کہ سب لکھاریوں کو قلم ٹھانے پہلے لازمی پڑھنی چاہیے جس نے بھی لکھا بہت خوب لکھا تھا۔ کہ
لکھاری وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے خیالات ,محسوسات اور جذبات کو قلم کے ذریعے اوراق کی زینت بنانے کا ہنر رکھتا ہے۔ لکھاری اپنی معاشرت کو پروان چڑھانے کے لیے اپنے ارد گرد کے موضوعات پر بات کر کے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت اکساتا ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی میں لکھاری اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ سچ کو سچ جھوٹ کو جھوٹ لکھنے کا ظرف رکھتا ہے۔ آج ہر لکھاری اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ قلم ایک طاقتور ہتھیار ہے اور اس سے ظلمت کے سب اندھیرے دور کیے جا سکتے ہیں۔ تاریکیوں کو روشنیوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ہر لکھاری کا یہ ماننا ہے کہ قلم کے ذریعے انصاف قائم کیا جاسکتا ہے۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اتنے ڈھیروں ڈھیر لکھاری ہونےکے باوجود ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار کیوں ہے؟کیوں یہاں کا ہر غریب مجبور لاچار انصاف سے خالی ہے؟اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ آج کی نوجوان نسل میں موجود نو خیز لکھاریوں سے لے کرمنجھے ہوئے ادھیڑ عمر لکھاریوں تک بہت سے لکھاری ایسے ہیں جو لکھنے کا ہنر تو رکھتے ہیں۔ خیالات، تصورات بھی بہت جامع اور عمدہ ہوتے ہیں۔لیکن آج کا لکھاری خود عمل سے خالی ہے۔ صرف لفظوں کو اوراق پہ بکھیرنے کا ہنر جانتا ہے۔جبکہ ان لفظوں کو پہلے دل میں سرائیت کروا کر اپنی شخصیت پہ لاگو کر کے انہیں اوراق کے سپرد کر دینا ہی ایک لکھاری کی حقیقی پہچان ہوتی ہے۔ایک طرف تو آج کا لکھاری اس بات پہ یقین رکھے ہوئے ہے کہ لکھاری ایک عام انسان نہیں ہوتا بلکہ وہ اللّٰه کی طرف سے منتخب شدہ ایک قلمی جہاد کا اہل خاص شخص ہوتا ہے۔ لیکن یہیں پہ کہیں نہ کہیں لکھاری خود کو عام بھی سمجھتا ہے کیونکہ اگر خاص سمجھتا ہے تو اس خاصیت کی لاج بھی رکھنے کی کوشش کرے ۔ مگر آج کے لکھاری پہ سوار شہرت کی دھن اور عمل کے بغیر نصیحت کی دھن اسے صرف عام نہیں بلکہ عام سے عام تر اور کھوکھلا بنا رہی ہے۔ جبکہ جس بات پہ عمل ہو اور وہ پھر لکھ کے دوسروں تک پہنچائی جائے وہ بات سب سے پہلے اثر دکھاتی ہے۔ کیونکہ وہ دل سے کہی جانے والی بات ہوتی ہے ۔
شاعر بھی کیا خوب کہتا ہے
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
حقیقی لکھاری قلم سے جہاد کرنے کے لیے منتخب ہوتا ہے اس لیے ایک لکھاری اپنی اس ذمہ داری کو آسان نہ سمجھے ایک لکھاری پل صراط کی مانند ایک ایسی باریک پگڈنڈی پہ قدم رکھ چکا ہوتا ہے۔ جس پہ سنبھل سنبھل کر چلنا پڑتا ہے ۔ ذرا سا قدم ادھر ادھر ہوا لکھاری کے ساتھ ساتھ معاشرے کا زوال شروع ہو جاتا ہے ۔ایک حقیقی لکھاری سب سے پہلے اپنے کام سے محبت عشق اور امانت داری کا ثبوت دینے والا ہوتا ہے ۔ وہ کسی صلے کی پرواہ کیے بغیر امن، بھلائی اور معاشرے کو متحرک کرنے کے لیے قلم کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کچھ لکھاری ایسے بھی ہیں جو کشیدگی اور اپنے اندر کی بھڑاس نکالنے کے لیے قلم کا غلط استعمال کرتے ہیں – اشتعال انگیز اور انسان کی’ میں’ کو ابھارنے والے انداز میں معاشرے سے محو گفتگو ہوتے ہیں۔ جو کہ سراسر لکھاری کے اپنے لیے اور اس معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ اس کے علاوہ ایسی تحاریر لکھی جا رہی ہیں جو محض جذبات پر مبنی ہیں اور قاری پڑھتے ساتھ ہی جذباتی ہو کر اپنے نفس کی قید میں چلا جاتا ہے اور جنسی بے راہ روی کو بڑھانے کے لیے کچھ غیر موضوع مواد بھی لکھا جا رہا ہے۔ یہاں پہ ایک لکھاری کو یہ بات ماننی اور سمجھنی چاہیے کہ ایک لکھاری سب سے پہلے اللّٰه کی طرف سے منتخب شدہ نمائندہ ہوتا ہے جو اپنے قلم سے معاشرت کی پروان چڑھاتے ہوئے روشنی کو مزید تیز اور اندھیرے کو ختم کر دیتا ہے۔جن لوگوں کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھاتا لکھاری اپنے قلم سے ان بے بسوں اور بے سہاروں کے لیے ان کی آواز اور انصاف کا ذریعہ بنتا ہے۔ایک لکھاری معاشرے کے دبے ہوئے پہلوؤں کو ابھارتا ہے۔لکھاری ایک انقلابی شخص ہوتاہے۔وہ اپنے لفظوں سے دوسروں کے لیے مرہم ، مسکراہٹ اور امید کی کرن بنتا ہے ۔کیونکہ وہ عام انسانوں کی طرح صرف آنکھ سے نہیں دل سے دیکھنے اور پرکھنے کا ہنر بھی رکھتا ہے۔ایک لکھاری ملک،قوم اور مذہب کو فقط اپنے قلم سے فتح کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔اگر ترقی سے محروم قوموں کے لکھاری بیک وقت قلم کو متحرک کر لیں تو اس قوم کو بلندی سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔یہ ہیں ایک لکھاری کی خصوصیات جنہیں شاید خود ایک لکھاری بھی نہیں جانتا اور اسی وجہ سے وہ لکھاری سے حقیقی لکھاری بننے سے قاصر ہے
لکھاری کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ صرف کچھ حد تک نہیں بہت حد تک معاشرہ اس کے کندھوں پر استوار ہوتا ہے۔ جب ساری دنیا خود میں مگن ہوکر ہر چیز کو بھولی ہوتی ہے تو تب ایک لکھاری معاشرے کے نازک نکات پہ اپنے قلم کو متحرک کرکے پوری دنیا میں ہلچل مچا دیتا ہے۔ ایک لکھاری کا قلم اٹھانے سے پہلے اس بات سے آگاہ ہونا ضروری ہے کہ اسے کیا لکھنا ہے؟ سب سے بہترین لکھاری انصاف لکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے قلم کو رب کی طرف سے ودیت کیا گیا انعام سمجھتا ہے اور کبھی اس کا غلط استعمال نہیں کرتا۔ وہ تلوار کی طرح باطل کو کاٹنے اور چراغ کی مانند حق کو پھیلائے گا تو ہی وہ لکھاری کہلائے گا۔ معاشرتی پہلوؤں کے علاوہ لکھاری کو شاعری اور دوسری اصناف میں وہ الفاظ لکھنے چاہیے جو قاری کو پڑھتے ہی محسوس ہوں کہ وہ الفاظ ایک دلاسہ ہیں ایک امید ہیں اور پڑھنے والے کوان کی بہت ضرورت بھی ہے اور یہ لفظ قاری کے لیے ہی لکھے گئے ہیں ۔لکھاری کو وہ الفاظ لکھنے چاہیے جو مشعل راہ ہوں اس میں لکھاری کا اپنا کوئی ذاتی مفاد شامل نہ ہو بلکہ معاشرے اور لوگوں کی بھلائی اور احساس پر مبنی سچی اور کھری باتیں ہوں۔ ایک لکھاری کو ایسی تحاریر لکھنی چاہیے کہ بے شک وہ مزاح نگار کیوں نہ ہو لیکن اس تحریر کا کوئی ایک مقصد اور اس میں کوئی ایک مثبت چیز ضرور ہونی چاہیے۔لکھاری کو اپنی سوچ نہیں معاشرے کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے قلم کو تحریک دینی چاہیے تا کہ رکا ہوامعاشرہ حقائق سے واقف ہو کر آگے بڑھ سکے اور اپنے بھولے ہوئے ورثے کو یاد رکھ سکے ۔کیونکہ سچے لکھاری کے بغیر کسی ملک کی ترقی نا ممکن ہے۔ ایک لکھاری کو اپنے کام میں ضم ہو کر اپنا آپ اپنی ‘ انا ‘ کو بھول کر صرف اپنے کام سے عشق کرتے ہوئے لکھنا چاہیے تاکہ اس کے الفاط تاثیر پکڑنے کے ساتھ ساتھ عمل تک بھی پہنچ سکے۔ لکھاری کو آندھیوں اور بگولوں میں سہارا ہونا چاہیے۔ طوفان اور بارش میں چھتری اور سائبان ہونا چاہیے ۔ کیونکہ لکھاری ایک ایسا شخص ہوتا ہے کہ دبا ہوا اور مجبور معاشرہ ہمیشہ اس کی رہنمائی اور الفاظ کی تلاش میں رہتا ہے ۔اس لیے لکھاری کو ہمیشہ متحرک سچا اور انصاف پسند ہونا چاہیے پہلے اپنی ذات میں پھر معاشرے کے لیے تا کہ اس کے لکھنے کا مقصد پورا ہو سکے ۔کیونکہ کچھ نہ کچھ تو سب ہی لکھتے ہیں مگر حقیقی لکھاری صرف انصاف لکھتا ہے وہ انتشار نہیں امن کا پیغام لکھتا ہے
وہ نفرت نہیں محبت کا درس دیتا ہے اور مذہب کی عکاسی کرتے ہوئے اپنی قوم کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ کیونکہ لکھاری کو لکھاری ہونے کا عہدہ رب نے عطاء کیا ہوتا ہے اور اس کا صلہ بھی صرف اللہ کے پاس ہی ہوتا ہے اس لیے لکھاری کو ہر چیز سے بے نیاز ہو کر بس حق لکھنا ہوتا ہے۔ لکھاری پھول بنے تاکہ خوشبو بکھیر سکے لکھاری ڈھال بنے تاکہ معاشرے کی طرف اٹھنے والے تیراندازوں کا سر کچل سکے ۔ ایک لکھاری کو چاہیے کہ وہ اصلاحی اور فلاحی انسان بننے کے لیے بھرپور کوشش کرے تاکہ اس سے لوگ مثبت پہلو سمیٹ کر زندگی کی منفی سوچوں کو پیچھے چھوڑ سکے ۔ اللّٰه سے دعا ہے کہ اللّٰه پاک مجھ سمیت تمام لکھاریوں کو سچا کھرا ، منصف اور اپنے کام سے محبت کرنے والا بنا دے تا کہ معاشرے کا جو ستون ہمارے کندھوں پہ سوار ہے اسے قائم رکھتے ہوئے ہم قلم کا حق ادا کر سکیں ۔ کیونکہ قلم تھامنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ قلم کا حق ادا کیا جائے ۔
آنسوں نہروں کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے
وہ قصوروار تھی ۔۔۔ کیو کہ اس نے قلم اٹھانے پہلے
قلم کی اہمیت کو پڑھا لیکن
شہرت کے حصول کے لئے اس نے ساری باتوں کو پس پشت ڈال دیا تھا
پہلا آفسانہ اس نے ایک ٹرک ڈرائیور کی آپ بیتی پر لکھا تھا جس میں ایک غریب ٹرک ڈرائیور کی بے بسی مجبوری اور معاشرے میں۔ اسکی محنت پر ملنے والے تھوڑے معاوضے کو وہ کیسے پیسے بہا کر دن رات ایک کر کے حلال کرتا ہے اسے بیان کیا تھا یکن اس کے پڑھنے والے بہت کم تھے
بے بسی غربت ۔۔ شرافت ۔۔۔ ایمانداری حلال روزی کاحصول ۔۔۔ یہ سب پڑھنے والے کم ہی لوگ تھے
یہاں تو زمیدارانہ لڑکوں کو پسند کیا جاتا تھا جواپنئ جیب میں مٹی اڑتے ہوئے گزرتے اور کیچڑ کسی گاؤں کی حسین معصوم انوسنٹ سے گوری پر پھنکتے اور وہ گوری جب چلا کر بولتی وہ ہیرو چراتے ٹائر والی گاڑی کو روکتا اور گاڑی کافرنٹ ڈور کھول کر نیچے اتر کر کالا چشمہ اتارتا تو اس گوری کو دیکھ کر اس کا ایساد دیوانہ ہوتا کہ اسے زبردستی اپنی گاڑی میں بیٹھا کر اپنے محل بنا دیتا پھر اس سے زبردستی نکاح کرتا ۔۔۔ اس کے ساتھ قائم کرنے والے رشتے کو ہوس کی طرح استعمال کرتا ۔۔۔ اور وہ اس کہانی کا ہیرو ہوتا ۔۔۔ وہ لڑکی پہلے تواس نوجوان سے نفرت کرتی بھاگنے کی کوشش بھی کرتی لیکن پھر آہستہ آہستہ اس سے محبت کرنے لگتی ۔۔۔
ایک طرف تو ہم اس نظام کو برابھلا کہتے ہیں لیکن کہانیاں پھر بھی ایسی ہی پڑھنا چاہتے ہیں اور اسی باتوں کو ہی پرموڈ کرتے ہیں اور لکھنے والے واہ واہ سننے کے متمنی یہ بھول جاتے ہیں ہم کس کے جوابدہ ہیں
