186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 34

Meri Jaan by Umme Hani

” حازم پلیز میرا پیچھا چھوڑ دو ۔۔۔ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ” مہرونساء ہاتھ جوڑے حازم کی منت سماجت کر رہی تھی ۔۔

لیکن حازم بھی اس کے سامنے بے بسی کی حالت میں کھڑا تھا بڑے رقت آمیز لہجے میں ۔۔ کہنے لگا

” میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔ نا کبھی چھوڑو گا ۔۔میری ہو تم “

” میرا قصور کیا ہے حازم ” وہ بے بسی سے اسے دیکھ کر پوچھ رہی تھی

” کوئی قصور نہیں تھا تمہارا میں غلط تھا میں محبت کرنے لگا ہوں مہرونساء تم سے۔۔۔ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا “

” محبت اور مجھ سے ؟۔۔ جھوٹ بولتے ہو تم ۔۔۔ ” مہرنساء نے اسے نفرت دیکھا تھا

” یہ میری محبت ہے مہرونساء کہ میں تمہیں اب تک بھلا نہیں پایا ۔۔۔ میری محبت ہی ہے کہ تم میرے دل کے اور بھی قریب ہو چکی ہو ۔۔۔ یہ میری محبت ہی ہے کہ اب تک تم میرے ۔۔۔۔” مہرونساء نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے

” اتنی بڑی سزا تم مجھے نہیں دے سکتے ہو ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلی گئ حازم اپنی گاؤں کی حویلی میں تھا مہرونساء کے کمرے سے نکلتے ہی وہ اس کے پیچھے دوڑا تھا لیکن وہ غائب تھی حازم بار بار اسے پکار رہا تھا اسے پکارتے ہوئے ایک ایک کمرے کا درازہ کھولنے دیکھ رہا تھا جب ایک کمرے سے مہرونساء کی ہسنے کی آوازیں آ رہی تھی حازم نے دروازے کا نیب گھومایا اور دروازہ کھل گیا سامنے مہرونساء دلہن بنی بیٹھی تھی مسکرا رہی تھی خوش تھی لیکن وہاں صرف مہرونساء نہیں تھی ایک شخص اسکے سامنے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا مہرونساء بھی اسی شخص کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔ حازم کے اندر ایک آگ سی لگ گئ تھی وہ فورا سے اس کے پاس پہنچ گیا اس شخص نے مہرونساء ک ہاتھ پکڑ رکھا تھا حازم نے جا کر اسکے ہاتھ سے بڑی بے دردی سے مہرونساء کا ہاتھ چھینا تھا

” میری بیوی ہے یہ خبردار جو تم نےاسے چھونے کی کوشش بھی کی تو۔ جان سے مار ڈالوں گا تمہیں ” وہ اتنے غصے میں تھا کہ جیسے سچ میں ہی اس شخص کا قتل کر ڈالے گا ۔۔۔

اس وقت حازم کا تنفس بڑی تیزی سے چل رہا تھا غصے کے مارے بری طرح سے اس کا سانس پھول رہا تھا ۔۔۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بینچ لیں تھیں ۔۔۔ چہرے سے پسینہ بہہ رہا تھا وہ بہت نفرت اور غصے سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جس نے دوبارہ سے مہرونساء کا ہاتھ حازم سے چھڑوا کر تھاما تھا اور اسے لیکر کمرے سے باہر نکل گیا

” مہرونساء ” حازم یک دم ہی چلا کر اٹھ بیٹھا تھا ہاتھوں کی مٹھیاں اب بھی بینچی ہوئیں تھیں دل اندر سینے کی دیواروں سے ٹکرا کر نا جانے کون سا ماتم کر رہا تھا ۔۔۔ بد حواسی الگ بائی ہوئی تھی پیسنہ اے سی میں بھی بہہ رہا تھاسانس بھی بری طرح سے پھولا ہو تھا

سب سے پہلے حازم نے بے ساختہ لیمپ آن کیا تھا ۔۔۔ پھر اپنا کمرہ دیکھنے لگا وہ حسی میں نہیں تھا اٹلی میں اپنے گھر کے کمرے میں موجود تھا ۔۔۔

جہاں سے مہرونساء کوسوں دور تھی اس نے بے بسی سے اپناسر پکڑا تھا

” کیوں آتی ہو میرے خوابوں میں ۔۔۔ کیوں میرے پیچھے پڑی ہو میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی ۔۔۔” ایک مرد ہو کر آنسوں بہانا ایک مرد کے لئے شاید بے بسی کی آخری حد ہے اور حازم اسی آخری حد سے گزر رہا تھا

********………

مہرونساء کا جی چاہا کمرے سے باہر نکل جائے زکی صرف اسکی بدلتی حالت غور دیکھ رہا تھا آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا مہرونساء نے اپنا رخ بدل لیا

” مہر پوچھو گی نہیں کہ میں نے رخصتی اتنی جلدی کیوں لی ہے ؟” اس نے بہت نرمی سے بات کا آغاز کیا تھا مہرو ایسے سوال جواب تب پوچھتی جب اپنے ڈر خوف سے نکلی ہوتی اس وقت اسے بس یہ معلوم تھا کہ وہ ایک مرد کے ساتھ ایک بند کمرے میں موجود ہے دل تھا کہ خوف سے دہلا ہوا تھا ہاتھوں میں لرزش تھی چہرے پر بد حواسی ۔۔۔

” مہر تم سے بات کر رہا ہوں ” زکی نے اپنے پیروں کو جوتوں سے آذاد کر چکا تھا

اب کچھ مہرونساء کے قریب ہو کر بیٹھ گیا تھا

” پلیز میرے قریب مت آنا ” مہرونساء بہت طرح سے گھبرائی ہوئی تھی خوفزدہ ہو کر بولی

” نہیں قریب آؤں گا تمہارے ۔۔۔ لیکن مجھ سے یوں مت ڈرو ۔۔۔ کہ مجھے اپنے انسان ہونے پر شبہ ہونے لگے

مہر مجھے ایک دوست کی اشد ضرورت ہے دیکھوں میں نے تم سے بہت سی باتیں چھپائی ہیں

جو کرنا چاہتا ہوں لیکن اگر تم مجھ سے یوں گھبراؤ گی تو کیسے بات کرو گا ۔۔ میں بلکل تمہارے پاس نہیں آؤں گا ۔۔ تمہیں چھوں گا بھی نہیں او کے ۔۔۔ ہم صرف باتیں کریں گئے ۔۔ ” زکی نے سب سے پہلے تو اسے اس خوف سے آزادی دینی چاہی تھی جو مہرونساء کے حواسوں پر سوار تھا ۔۔۔ مہرو نساء اب بھی کچھ بے یقین سی تھی

” سچ کہہ رہے۔۔۔۔ ہیں آپ ؟؟؟ آپ میرے۔ پاس تو نہیں آئیں۔۔۔ گئے ” وہ اس قدر خوفزدہ تھی کہ لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا کر رہی تھی

” ہاں بلکل سچ کہہ رہا ہوں میں زبردستی کا قائل ہر گز بھی نہیں ہوں ہم اپنے رشتے کی ابتدا دوستی سے شروع کریں گئے مہر جب تک تم دل سے نہیں چاہوں گی میں کبھی تمہیں فورس نہیں کروں گا نا اپنا حق طلب کروں گا جانتی ہو مہر تمہاری تحریریں پڑھ کر مجھے تم ہر رشک آتا تھا کہ مہر تم انسان کے اندر کے احساسات کو سمجھنے کی صلاحیت بہت زیادہ رکھتی ہو ۔۔۔ کسی کے دل میں جھانک سکتی ہوں اسکی آنکھوں میں دیکھ کر اسکے جذبوں کو سمجھ سکتی ہو

اس لئے مجھے لگا میرے لئے تم سے بہترین ہمسفر اور کوئی ہو سکتا ہے ۔۔۔ ” بڑے غیر محسوس طریقے سے وہ مہرونساء کی سوچ کو نیا رخ دینے لگا تھا مہرونساء کے چہرے پر چھائی بد حواسی اب کچھ کم تھی ۔۔۔ زکی نے جیب سے ایک مخملی ڈبیہ نکال اس کی طرف بڑھا دی ۔۔

” یہ ہماری دوستی کا پہلا تحفہ ہے مہر ۔۔ اسے رکھ لو اگر تم پہنو گی تو مجھے اچھا لگے گا ۔۔۔ ” مہرونساء نے زکی کے ہاتھ وہ مخملی ڈبیہ پکڑ لی کھول کر دیکھا تو سونے کے کنگن تھے اس نے اپنے ہاتھوں میں پہن لیے زکی اسے ہی دیکھ رہا ہے تھا وہ اب بھی نروس تھی لزرتے ہاتھ سے وہ کنگن پہن رہی شاید دل میں کہیں یہ ڈر تھا زکی اسے یہی نا کہہ دے کے لاؤ کنگن میں پہنا دوں ۔۔۔ زکی کی دلی خواہش تو یہی تھی لیکن مہر کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر دل کی خواہش دل میں دبا گیا تھا

زکی کو اپنی طرف متوجہ پا کر وہ پھر سے نروس ہوئی تھی ۔اس وقت تو کچھ معاملات میں زکی بھی بے بس تھا ۔۔۔ مہر اس وقت بیوی کی حیثیت سے سامنے بیٹھی تھی اپنے ہر جذبے کو وہ دل میں دبا بھی لیتا تب بھی نظروں کو روک نہیں سکتا تھا ۔۔ وہ سادگی سے تیار ہوئی تھی لیکن کمال لگ رہی تھی ۔۔۔ اسکی پسندیدہ لباس پہنے ہوئے تھی حسین بھی لگ رہی تھی پھر اسے دیکھنے کا وہ حق رکھتا تھا اس لئے

نظروں پر پابندی نہیں لگا سکتا تھا ۔۔۔

” مجھے ۔۔۔ مجھے ۔۔ چینج کرنا ہے ” مہرونساء اسکی نظروں سے گھبرا کر بولی تھی ۔

” ہاں ٹھیک ہے کر لینا چینج لیکن کچھ دیر باتیں کرتے ہیں مہر میرے نزدیک بیوی ایک بہترین دوست ہوتی ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ سب سے زیادہ مخلص ہوتی ہے ۔۔۔ ” اب زکی اسے باتوں سے بہلانے لگا تھا تا کہ اڈےخاسی سجے روپ میں دیکھ سکے

” تمہیں کیا لگتا ہے کیا میں اچھا دوست ثابت ہو سکتا ہوں ؟”

زکی کے اس سوال پر وہ سوچ میں پڑ گئ تھی ۔۔۔

کیا جواب دے

” مہر؟” زکی کے پکارنے پر وہ چونکی تھی

” مجھے ابھی معلوم نہیں ہے میں کیا کہہ سکتی ہوں ” مہرونساء تذبذب سی ہو کر بولی

” ہاں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں کہ تم مجھے کون سا پسند کرتی ہو جو میرے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کی ہو ۔۔۔ اور بیوقوف بھی نہیں ہو جو فوار سے یہ طے کر لو کہ میں کیسا دوست ثابت ہو سکتا ہوں تھوڑا وقت تو تمہیں چاہیے ہو گا ۔۔۔ ” زکی نے نوٹ کیا تھا کہ اب وہ کچھ حد تک نارمل تھی

” اچھا چلو یہ تو بتا دوں جب میں نے یسرا کو پرپوز کیا تھا تو یسرا نے میرے لئے انکار کرنے کے لئے تمہیں بھیجا تھا نا ؟ ۔۔۔ تا کہ میں اسکے بارے کچھ برا نا سوچ سکوں ” جس موضوع کو وہ شروع کر بیٹھا تھا مہرونساء خوف کے بجائے خفت میں مبتلا ہوئی تھی جو وہ کہہ رہا تھا وہ سچ تھا ۔۔۔ لیکن مہرونساء چپ تھی کیسے یسرا کی بات کو زکیبل کو بتاتی یہ تو غلط بات ہو جاتی ۔۔۔

” ہم دوست ہیں مہر ۔۔۔ اس لئے یہ مت سوچوں کے میں یسرا سے کوئی ذکر کروں گا تمہاری ہر بات میری لئے امانت کا درجہ رکھتی ہے ” زکی کو اس بات میں دلچسپی نہیں تھی کہ یسرا نے انکار کیوں کیا کیونکہ وجہ وہ جانتا تھا بس مہرو نساء سے باتیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

” اسی طرح یسرا کی باتیں میرے لئے امانت کادرجہ رکھتی ہیں میں کیوں یہ بتاؤ کہ وجہ کیا تھی ” مہرونساء کی بات پر وہ مسکرانے لگا

” ہاں تو ہے پتہ ہے جب تم میرے پاس آئی تھی اور مجھ سے یہ کہہ رہی تھی میں یسرا کے لئے منع کر دوں ۔۔۔پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ بات مجھ سے تم بھی کہہ سکتی ہو ۔۔۔ لیکن سچ پوچھوں تو مجھے بہت اچھا لگا تھا تمہارا مجھ سے میرے ذات کے بارے پوچھنا یہ کہنا میرے لئے کون بہتر ہے اور کون نہیں ۔۔۔ تبھی میں نے تمہارے بارے پہلی بار سوچا تھا کہ ہم اچھے دوست بن سکتے ہیں اور ایک اچھے دوست بننے کے لئے ہمارے درمیان ایک بہت اسٹرانگ اور جائز رشتہ ہونا بہت ضروری ہے ۔۔” زکی اسے دوستی کے ساتھ ساتھ اپنے رشتے کی اہمیت بھی بتا رہا تھا ۔۔ پھر مسکرانے لگا وہ لمحات یاد آتے ہی اسکی مسکراہٹ ہنسی میں بدلی تھی

” جانتی ہو شادی کے بارے میں پہلی بار کسی لڑکی نے مجھے شادی کی اہمیت اس انداز سے بتائی تھی ” زکی کی اس بات پر وہ مزید خفت سے نظریں جھکا گئ تھی اور زکی کے ہسنے پر نئے سرے سے اپنی حماقت پر افسوس ہوا تھا

” میں نے سوچا جو۔ لڑکی میری شادی کے اتنی فکر مند کو سکتی ہے وہ میرے ہر معاملے میں بہت سنسئر ہو گی اس لئے نکاح ہوتے ہی میرا دل چاہا کہ اپنی مخلص اور بہترین دوست کو چھوڑ کر کیوں جاؤں اسے میرے ساتھ ہونا چاہیے ۔۔۔ خاص طور اس وقت جب میرے سامنے آگے کڑی مسافر ہے مجھے ایک ہمدم دوست کی اشد ضرورت ہے جو مجھے مشکل وقت میں میرا ہاتھ تھام کر مجھے تسلی دے میرےساتھ ہمقدم ہو ” مہرو نساء اس وقت بلکل نارمل تھی زکی کی بات سن کر اس نے خود سے اپنا ہاتھ بڑھا کر اسکے ہاتھ پر رکھا تھا ہاتھ سرد تھا ہاتھ میں لرزش بھی بہت تھی

” میں پوری کوشش کروں گی کہ ایک بہترین دوست بن سکوں ” ایک سرد ہاتھ زکی کی ہاتھ کے اوپر موجود تھا مہرونساء کے لہجے میں ہچکچاہٹ بہت ذیادہ تھی ۔۔۔ لیکن یہ بات زکی کے لئے زیادہ اہم تھی کہ مہرونساء نے اپنا ہاتھ خود سے اسکی طرف بڑھایا تھا شاید وعدہ کیا تھا پھر ہاتھ فورا ہٹا بھی لیا ۔۔۔ آدھی رات بس باتوں میں گزری تھی زکی کی کئ باتوں پر وہ مسکرائی بھی تھی ۔۔۔ لیکن ذیادہ تر اسی کی باتیں سنتی رہی ۔مہرونساء نے ذیادہ باتیں نہیں کیں تھیں ۔۔ اس کے بعد زکی صوفے پر جا کر لیٹ گیا تھا ۔۔۔

مہرونساء بیڈ پر سو گئ تھی ۔۔۔ صبح کا ناشتہ حدیقہ بیگم اور اشتیاق صاحب کے ساتھ ہی دونوں نے کیا تھا مہرونساء کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اطمینان تھا نہیں تھا تو بس خوف کہیں نہیں تھا ۔۔۔ ناشتے کے دوران حدیقہ ہی مہرنساء سے باتیں کرتی رہی انہی سے مہرونساء کو معلوم ہوا کہ ان لوگوں لاہور کی فلائٹ دوپہر کی ہے ابھی کچھ دیر میں ہی وہ واپس چلے جائیں گئے

” اتنی جلدی کیوں کچھ دن تو آپ یہاں رکتیں ” مہرو نساء کو حدیقہ بیگم کے اتنی جلدی چلے جانے کا سن کر افسوس ہو رہا تھا

“, اب تم آنا زکی کے ساتھ لاہور ۔۔۔ بہت سے دن میرے پاس رہنا ۔۔۔ ” انہوں نے بہت پیار سے اس کے رخسار کو پیار سے چھو کر کہا تھا ۔۔

ائیر پورٹ وہ دونوں اشتیاق صاحب اور حدیقہ بیگم کو چھوڑنے گئے تھے واپسی پر گھر کے بجائے زکی مہرو نساء کو سمندر لے آیا تھا ۔۔۔

کافی دیر وہ وہیں گھومتے رہے اس بار مہرونساء بھی زکی سے باتیں کرنے کرنے لگی تھی اپنی پسند بتانے لگتی کبھی اسکی پسند کے کھانے کا پوچھنے لگتی شام کو زکی اسے اسکے گھر ملوانے لے گیا تھا

ہلکے سے فینسی سوٹ میں ملبوس مسکراتی ہوئی مہرونساء۔ جب ماں کے گلے لگی تھی تو انکے اندر کہیں سکون سا اترا تھا ۔۔۔

” میری بیٹی خوش تو ہے نا ؟” انکی والدہ نے سے سینے لگا کر دریافت کیا تھا

” بہت خوش ہوں امی ” یہ لفظ نہیں تھے اسکی والدہ کے لئے دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کوئی نعمت تھی جو بیٹی کے چند لفظوں سے انہیں ملی تھی

کیونکہ مہرو کے الفاظ اسکے چہرے پر چھائی خوشی کی ترجمانی کر رہے تھے ۔۔۔ نیاز صاحب زکی سے ہی باتیں کرتے رہے چائے سب نے ساتھ ہی پی تھی ڈنر تک وہیں رکنے کا ارادہ تھا ڈنر پر زیب اور ارمان بھی پہنچ گئے تھے ۔۔ زیب نے بہت عرصے بعد مہرو کے چہرے پر رونق دیکھی تھی ۔۔۔

ارمان زکی سے گلے ملا تھا ۔۔۔

مہرو کے سر پر بھائی بنکر ہاتھ رکھا تھا

” ہمیشہ یونہی ہنستی مسکراتی رہو ۔۔۔ ” ارمان بھی بہت خوش تھا ۔۔۔ ڈنرہلکے پھلکے مزاق اور ہنسی کے دوران ہی کیا گیا تھا

” زکی اب آپ ہمارے گھر کب دعوت پر آئیں گئے ” زیب نے انکی واپسی کاسن کر کہا

” وہ آپ مہر سے پوچھ لیں یہ جب کہے گی میں اسے لے آؤں گا ۔۔۔ ‘” ہر بات پر وہ مہرونساء کو ہی اہمیت دے رہا تھا ۔۔۔

واپسی پر وہ بہت خوش اور مطمئن تھی رخصتی کا فیصلہ اس وقت اتنا بھی برا نہیں لگ رہا تھا جتنا کل اپنے گھر سے رخصت ہوتے ہوئے لگ رہا تھا

گھر پہنچ کر زکی اس سے یہ پوچھنے لگا کہ وہ زیب کے گھر کب جانا چاہتی ہے ۔۔۔ کافی دن گزر چکے تھے مہرونساء گھر کے ساری ذمہ داری سنبھال چکی تھی زکی کے سب کام خود کرتی تھی مگر عجیب بات یہ تھی کہ زکی نے اس سے ابھی تک پانی کا گلاس بھی نہیں مانگا اپنے کام خود کرنے کا عادی تھا ۔۔۔ اب وہ زکی سے کافی بے تکلفی سے بات کر لیتی تھی ۔۔۔

اب تک زکی نے اسے چھوا تک نہیں تھا ۔۔۔ بس اس سے بات ہی کرتا تھا

لیکن رات کو گھر لوٹتے ہی وہ پہلی بار مہر سے بڑے بے تکلف انداز سے ملا تھا مہرونساء نے دروازہ کھولا وہ اندر آتے ہی اسے سلام کرتا تھا پھر اس فریش ہو کر کھانے دوران اس کے دن بھر کی روٹین پوچھنے لگتا تھا لیکن آج اندر داخل ہوتے اسے اپنے ساتھ لگا کر سلام کیا عجیب بات یہ تھی کہ مہرونساء چاہ کر نا زکی سے پیچھے ہٹ سکی تھی نا اسے روک پائی تھی بس چند لمحوں کی بات تھی ۔۔۔ اپنے دونوں بازو زکی نے مہرونساء کے گلے میں حمائل کیے تھے ۔۔ اسے سلام کیا اپنے ساتھ اپنے ساتھ لگا لیا ۔۔۔مہرونساء کچھ پل تو وہیں فریز سی ہو کر کھڑی رہی وہ سمجھ ہی نہیں پائی تھی کہ چند لمحوں

اس کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔۔۔ دل یا تو دھڑکنا بھول گیا تھا یا شاید پہلی بار زکی کے نام پر دھڑکا تھا ۔۔۔

اسکے دھڑکنوں کو پل میں بے ترتیب کر کے وہ پیچھے ہٹ کر بولا

” مہر جلددییییی سے کھانا لگا دو بہت بھوک لگی ہے ” اسکے رخسار پر بلکے سے چٹکی بھر کر بڑی اپنایت سے کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا مہرونساء وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئ تھی

زکی نے بہت عام سے انداز سے کہا تھا جیسے روز بات کرتا تھا مہرونساء کو لگاشاید وہ بے دھیانی میں یہ سب کر گیا ہے

اس نے خود کو جھٹکے کچن میں چلی گئ کھانا گرم گرم کر کے لگایا زکی نہا کر عام سے ٹراوزر شرٹ میں باہر آیا تھا ۔۔۔

اس بار مہرو نساء کے سامنے بیٹھنے کے بجائے اسکے برابر میں بیٹھ گیا تھا مہرونساء اپنی پلیٹ میں سالن ڈال چکی تھی زکی کے لئے پلیٹ اسکے سامنے رکھنے لگی

” آج ایک پلیٹ میں کھاتے ہیں مہر ” زکی نے اپنی پلیٹ واپس رکھ دی اور پہلا نوالہ مہرو کے طرف بڑھایا ۔۔۔ مہرونساء کچھ حیران تھی کچھ تذبذب سی تھی دل الگ سے راگ سنانے لگا تھا

” جانتی ہو مہر میرے دادا کیس کہتے تھے؟ ۔۔۔ وہ کہتے تھے کہ بیوی کو اپنے ہاتھ سے کھلانے سے محبت بڑھتی ہے گھر آتے ہی بیوی کو پیار کی نظر سے دیکھنا ثواب ہے اس سے پیار کا اظہار کرنا سنت نبوی ہے۔ ۔۔۔ میرے دادا میرے بہت بہت اچھے دوست تھے مہر ۔۔۔ اب اسے کھاؤ آج ہم صرف داد کی باتیں کریں گئے ” زکی نے جب مہر کو

نوالہ کھانے کے لئے آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹتے دیکھا تو وضاحت دینے لگا ۔۔۔

مہرونساء نے آگے بڑھ کر نوالہ منہ ڈال لیا ۔۔۔ دوسرا نوالہ بھی جب زکی نے اپنے دادا کا کوئی قصہ سناتے ہوئے اسکی طرف بڑھایا تو سبکی سی محسوس کرنے لگی

” زکی میں خود کھا لوں گی ” ۔مہرونساء کی بات پر وہ اسے تعجب سے دیکھنے لگا جیسے اس نے انہونی سی بات کہی ہو

” یعنی کے تم چاہتی ہو کہ میں اب ثواب بھی نا کماؤ کم آن مہر اپنے ہاتھ سے بھی تو کھانا ہی ہے میرے ہاتھ سے کھا لو مجھ غریب کا بھی بھلا ہو جائے گا ویسے تو نیکیاں کرنے کا موقع کم ہی ملتا اور یہ نیکی تو ایسی ہے جس میں میرے دل کی خواہش بھی شامل ہے ۔۔۔ ” زکی کا انداز بلکل نارمل تھا پھر وہ جس خوشگوار موڈ میں تھا مہرونساء کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی زکی کہنے لگا

” مہرونساء دادا مجھے واقع سنایا کرتے تھے کہ

آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں ہڈی سے دانتوں سے گوشت کھاتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور وہ ہڈی حضور ﷺ کوپیش کردیتی تو آپ ﷺ اپنا دہن مبارک اسی جگہ رکھتے جس جگہ میں نے رکھا تھا اور میں (پیالے میں ) پانی پی کر حضور ﷺ کو پیالہ دیتی تو آ پ ﷺ (پیالے میں ) اسی جگہ اپنا لب مبارک رکھتے جہاں سے میں نے پیا ہوتا۔

(سنن ابی داؤد: 259 ) ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ گھر تشریف لائے تو سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہی تھیں۔ آپ نے دور سے فرمایا، حمیرا میرے لیے بھی کچھ پانی بچا دیناتو سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کچھ پانی پیا اور کچھ پانی بچا دیا۔ نبی کریم ﷺان کے پاس تشریف لے گئے اور حضرت عائشہ نے پیالہ حاضر خدمت کر دیا۔ جب نبی کریم ﷺنے وہ پیالہ ہاتھ میں لیا اور آپ پانی پینے لگے تو رک گئے اور سیدہ سے پوچھا:حمیرا، تم نے کہاں سے منہ لگا کر پانی پیا تھا؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ میں نے یہاں سے پانی پیا تھاتوپیارے آقا حضور نبی کریم ﷺ نے پیالے کے رخ کو پھیرا اور اپنے مبارک لب اسی جگہ پر لگا کر پانی نوش فرمایاجس جگہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پیا تھا۔

ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور نبی اکرم ﷺ کی پسینے میں شرابور پیشانی سے نکلنے والے نور کو دیکھ کر حیران ہوئیں۔ حضور اکرم ﷺ نے پوچھا کس بات پر حیران ہو؟ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آ پ ﷺ کی مقدس پیشانی کے پسینے اور آپ ﷺ کے پسینۂ مبارک سے نکلتے ہوئے نور نے مجھے حیران کردیا، پس رسول اللہ ﷺ میری طرف اٹھے اور میری دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ارشاد فرمایا: اے عائشہ: اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے۔

تم مجھ سے اتنی مسرور نہیں ہوئیں جتنا میں تم سے مسرور ہوا۔ (حلیۃ الاولیاء)

مہرونساء نے پورا،واقع دلچسپی سے سنا تھا ۔۔وہ بھی

زکی کے ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے ۔۔۔۔ وہ اسے اس محبت سے متعارف کروا رہا تھا جو در حقیقت محبت ہے جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ اپنے حسن سلوک سے ہم تک پہنچائی گئ ہے جس گلاس سے مہرونساء نے پانی پی کر چھوڑ دیا تھا زکی نے اسی گلاس میں پانی پیا تھا اس کے بچ جانے والے سالن سے روٹی کھائی تھی مہرونساء کے دل میں جو مقام زکی کے اتنی جلدی بنتا جا رہا تھا شاید اسکی جگہ کوئی اوٹ ہوتا تو اتنی جلدی اسے جیت نہیں سکتا تھا وجہ وہ سنت طریقہ تھا جو ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمت کے مردوں کو سیکھایا تھا ۔۔ جب انسان اللہ کے بنائے پیارے طریقوں پر چلتا ہے تو کوئی شک نہیں کہ محبت پروان نا چڑھے ۔۔۔

زکی نے ابھی تک مہرو کو کام کاج کے کسی معاملے کچھ بھی نہیں کہا تھا کبھی وہ اگر کچھ لیٹ اٹھ جاتی تو زکی خود ہی اس کا اور اپنا ناشتہ کچن میں کھڑا تیار کر رہا ہوتا ۔۔۔ اگر وہ یہ کہتی آپ نے مجھے جگایا کیوں نہیں تو کہہ دیتا

کہ اب میں ایک ناشتے کے لئے تمہاری نیند کو خراب نہیں کر سکتا ہوں مہر “

“کیوں زکی اس میں کیا حرج ہے آپ مجھے جگا دیتے میں ناشتہ بنا دیتی ” چائے کی کیتلی مہر نے اسٹو پر رکھتے ہوئے کہا یہ تو ایک معمولی سی بات تھی یہ سب توعورت کی ڈیوٹیز میں شامل ہے شوہر کا ناشتہ کھانا اور کی ضروریات کو پورا کرنا اور اکثر شوہر بیویوں کر بے دھڑک جگا ہی دیتے ہیں ۔۔۔لیکن زکی کی باتیں الگ تھیں کہنے لگا

” مہر میرے دادا بتاتے تھے کہ

ام المومنین عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کرنماز پڑھتے اورقرات بھی بیٹھ کرکرتے تھے جب تیس یا چالیس آیات کی قرات باقی رہتی توکھڑے ہوکر پڑھتے پھر رکوع کرنے کے بعد سجدہ کرتے پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے اورنماز سے فارغ ہوکر مجھے دیکھتے اگرمیں سوئی ہوئی نہ ہوتی تو مجھ سے باتيں کرتے ، اوراگرمیں سوچکی ہوتی توآپ بھی لیٹ جاتے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1068 ) ۔

دادا مجھے یہ واقع سنا کر یہ کہتے تھے کہ ہم جس حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لیوا ہیں ۔

انہوں نے ازاج مطہرات کے کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کیا اور ہمارے لئے بھی یہی حکم ہے ” وہ ساتھ ساتھ انڈے فرائی کرتا رہتاساتھ ساتھ مہرونساء کو اپنے دادا کی باتیں بتاتا

” دادا کہتے تھے کہ مرد کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ سوئی ہوئی بیوی کو بس اس وجہ سے جگا دے کہ اس سے اپنے کام کروا سکے ۔۔۔ مجھے بھی یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ تمہیں صرف اس لئے جگا دوں کہ مجھے ناشتہ کرنا ہے ۔۔۔ ” مہرونساء اسے حیرت سے دیکھتی تھی ۔۔۔ پھر اسے حازم یاد آنے لگا جو تیز بخار میں بھی اسے کچن میں لا کھڑا کرتا تھا کہ پندرہ سے بیس لوگوں کا کھانا وہی پکائے گی چاہے وہ جس مرضی حالت میں ہے

وہ دوا کھائے سر میں درد کے باوجود کھانا بناتی تھی ۔۔۔

شاید امی ٹھیک ہی کہتی تھیں وہ شادی نہیں تھی

بلکہ سزا تھی ۔۔۔۔

شوہر ویسا نہیں ہوتا جیسا میں ناول میں لکھتی تھی وہ محبت تو نہیں جسے میں نے محبت بنا کر اب تک پیش کیا محبت تو یہ ہے جو زکی کرتا ہے وہ ہے جو زکی کے دادا نے اسے سیکھائی ہے جو ہمارے دین نے ہمارے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کے ذریعے سے امت کو سمجھائیں ہے محبت یہ ہے

*********……..

” جب محبت کسی شرمینہ سے کی تھی فاصل تو شادی بھی اسی سے کرتے ” یسرا نے اپنی آنسوں کوضبط کر کے پوچھا تھا

” اسی سے کرنا چاہتا تھا اور اسی سے ضرور کرتا بھی اگر وہ زندہ ہوتی تو ۔۔۔ مر گئ ہے وہ بلکہ یوں کہو کہ اپنی ماں اور منکوحہ کی خود غرضی کی بھینٹ چڑھ گئ ۔۔۔ ” فاضل بہت غصے سے بات کر رہا تھا

” کیا مطلب میں سمجھی نہیں ” یسراواقع سمجھ نہیں پائی تھی

” سجھاو گا کسی اس وقت تو میرا دماغ کھولنے لگا ہے تم نے۔ ذکر ہی کچھ چھیڑ دیا ہے ۔۔۔ مجھے فی الحال اس پر کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔” جس قدر فاضل غصے میں تھا یسرا نے اڈے کریدنا مناسب بھی نہیں سمجھا