Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 20
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 20
Meri Jaan by Umme Hani
مہرو چپ کھڑی تھی پولیس انسپکٹر نے دوبارہ مہرونساء سے گاڑی میں بیٹھنے کے لئے کہا لیکن وہ اب بھی وہیں کھڑی رہی فواد پھر سے مہرونساء کی جانب بڑھنے لگا لیکن حازم بیچ میں حائل ہو گیا ۔۔
” ایک بار کی کہی بات سمجھ نہیں آتی تمہیں ۔۔۔ دور ۔۔۔۔ ہٹ ۔۔۔ بات کروں ۔۔۔ مہرونساء سے ۔۔۔” حازم نے آخری جمعلہ سخت لہجے میں جما جما کر کہا
” تمہیں تو بعد میں دیکھ لوں گا ۔۔
“مہرو ۔۔۔ یہاں کیوں کھڑی ہو میں لینے آیا ہوں تمہیں اس شخص سے ڈرنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا قانون ہمارے ساتھ ہے ۔۔۔۔ ” فواد حازم کے پیچھے کھڑی مہرونساء کو دیکھ کر کہہ رہا تھا تا کہ حازم سے خوف نا کھائے ۔۔۔ مہرونساء نے فواد کی طرف دیکھا پھر دھیرے سے بولی
” فواد میں نے حازم سے شادی اپنی مرضی سے کی ہے ۔۔۔۔ مجھے کڈنیپ نہیں کیا گیا ۔۔۔ میں حازم سے محبت کرتی تھی اپنی مرضی سے اسکے ساتھ آئی ہوں ۔۔۔ تم یہاں سے جا سکتے ہو ” فواد یہ سن کر ششدد سا رہ گیا تھا ایک حیرت کا جھٹکا حازم کو بھی لگا تھا
اس نے پہلے کر مہرونساء کو دیکھا تھا ۔۔۔ کیونکہ اسے سو فیصد یقین تھا کہ مہرونساء فواد کے ساتھ چلی جائے گی
” مہرو ” حیرت ہی حیرت تھی فواد کی آنکھوں اور لہجے میں ۔۔۔
” یہاں سے چلے جاؤں فواد اور دوبارہ کبھی مت آنا ۔۔۔ ” مہرونساء کی بے حسی دیکھ کر فواد کو نا اپنی آنکھوں پر یقین آ رہا تھا نا ہی اپنے کانوں پر
” تمہیں اگر حازم سے محبت تھی تو وہ سب کیا تھا مہرو جو تم مجھ سے کرتی رہی ہو ” فواد کا لہجہ سخت لیکن پر نم تھا اتنا بڑا دھوکہ اس نے مہرونساء سے کھایا تھا پچھلے چھ ماہ سے خود پر آرام تک حرام کر چکا تھا ناافس کی فکر تھی نا ہی ڈوبتے ہوئے کاروبار کی نا گھر کی ہوش تھی نا ہی اپنی فکر تھی تو بس مہرونساء کی ۔۔۔ جس تک پہنچنے کے لئے اس نے جانے کتنی سخت مسافتیں سہی تھیں ۔۔۔ کس کس کی منت سماجت نہیں کی تھی ۔۔۔ میڈیا ۔۔۔ پولیس ہر جگہ جہاں جہاں اسکی پہنچ تھی اس نے مہرونساء کے لئے ہاتھ تک جوڑ کر اسکی مدد کی اپیل کی تھی اوراب جب مںزال اتنی قریب تھی تو مہرونساء کی خود غرضی دیکھ کر وہ مضمحل سا کو گیا تھا
” تم بابا کی پسند تھے ۔۔۔ اور وہ مجھ سختی سے کہہ چکے تھے میں تم سے حازم کا ذکر نا کروں ۔۔۔ میں مجبور تھی لیکن یہ تو پہلے سے طے تھا کہ مجھے شادی حازم سے ہی کرنی تھی ۔۔۔ میں یہاں بہت خوش ہوں سکون سے ہوں واپس نہیں جانا چاہتی خدارا میرا پیچھا چھوڑ دو ” اس بار مہرونساء نے ہاتھ جوڑ کر فواد سے کہا تھا حازم جتنا حرام ہوتا اتنا کم تھا ۔۔۔ لیکن فواد کے سامنے مہرو نساء کے برابر جا کھڑا ہو گیا ۔۔ پھر اپنا بازو پھیلا کر مہرو کو اپنے پہلو سے لگایا
” سن لیا تم نے مسٹر فواد یا ۔۔۔ کچھ اور بھی سننا باقی ہے ” حازم نے فواد سے کہا ۔۔ انسپکٹر بھی فواد کے پاس آ گیا
” میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا ۔۔۔ آجکل کی لڑکیاں بے بس اور مجبور ہر گز نہیں ہیں جنہیں کڈنیپ کیا جائے ۔۔۔ ماں باپ کے منہ ذلت کا طماچہ مار کر بھاگ جاتیں ہیں اپنے یار کے ساتھ ۔۔۔ چلو اب ” اس انسپکٹر نے ایک ناپسندیدہ نظر مہرونساء پر ڈالی اور فواد کا ہاتھ پکڑے اسے باہر لے جانے لگا فواد کاہاتھ پولیس والے کے ہاتھ میں تھا لیکن رخ اور نظریں مہرونساء پر ۔۔۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو مہرو نساء حازم سے پیچھے ہٹ کر اندر بھاگ گئ ۔۔۔ حازم کے لئے اس کا یہ انداز بھی الگ تھا ۔۔۔
کچھ دیر تو حازم مہرونساء کے بارے سوچتا رہا ۔۔ کہ وہ اتنا موقع ہاتھ جانے کیسے دے سکتی ہے اتنا اچھا رویہ تو اس نے مہرونساء سے ایک منٹ کے لئے بھی برتا تھا کہ وہ اس ساتھ چاہے ۔۔۔ محبت تو دور کی بات ہے ۔۔۔ جب حازم اندر آیا تو مہرونساء رفعت بیگم کو دوا کھلا رہی تھی آنکھوں سے آنسوں متواتر بہہ رہے تھے ۔۔
” شرمینہ رو کیوں رہی ہو ۔۔۔ حازم نے کچھ کہا ہے تم سے ۔۔ ” رفعت بیگم مہرو نساء کے آنسوں صاف کرتے ہوئے پوچھنے لگی
” کچھ نہیں امی میری آنکھ کچھ چلا گیا ہے شاید اس لئے ” چاہ کر بھی مہرونساء اپنے آنسوں پر ضبط نہیں کر پارہی تھی آنکھوں سے سامنے بس فواد کا چہرہ تھا جو بڑی بے بسی اور امیدی سے اسے دیکھتے ہوئے واپس گیا تھا ۔۔۔
کتنی تکلیف ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی اپنے کی لڑائی کو اپنی لڑائی سمجھتے ہوئے لڑے اور کب کامیابی چند قدم ہو اور ہار جائے تو کسی پچھاوئے کی اذیت وہ شخص سہہ رہا ہو گا ۔۔۔ لیکن میں کرتی شرمینہ کی والدہ ۔جھے بیٹی سمجھتی ہے میری وجہ ان کے چہرے مسکراہٹ ہے ۔۔ کیسے چھین اس عورت سے اسکی مسکراہٹ جس کی بیٹی کو میں اپنی نا اہلی کی وجہ سے چھین چکی ہوں ۔۔۔ حازم اندر داخل ہوا اور رفعت بیگم کے پاس بیٹھ گیا
” کہا شکایتیں لگا رہی ہے آپ کی بیٹی میری ۔۔۔؟ میں تو بڑی محبت کرتا ہوں اپنی بیوی سے کیوں شرمینہ کرتا ہوں نا تم سے محبت ؟؟بتاوں نا پھپو کو کتنا چاہتا ہوں تمہیں ” مہرونساء کی بگھی آنکھوں میں وہ بڑے غور سے دیکھتے ہوئے اس دل ہی تو جلا رہا تھا ۔۔ مہرونساء اٹھ کر کھڑی ہو گی
” امی اب آپ آرام کریں ۔۔ میں آج آپکی پسند کی بریانی بناؤں پھر ہم ملکر کھائیں گئے ” مہرونساء وہاں سے جانا چاہتی تھی
” رہنے دو تم آنکھوں میں نا جانے تمہارے کیا ڈل گیا ہے جو پانی بہی جا رہا ہے ۔۔۔ ملازمہ بنا دے گی ” رفعت بیگم کی بات سن کر حجاز مہرونساء کے سامنے جا کھڑا ہو اسکی آنکھوں میں دیکھنے جو اس سے مسلسل آنکھیں۔ چرا رہی تھی پھر ڈرامائی انداز سے بولا
” او ہو کیا ہوا تمہاری آنکھوں ۔۔۔ دیکھاوں مجھے ” اس سے پہلے کہ وہ اس کے چہرے کو چھوتا مہرو نساء پیچھے ہٹ گی
” کچھ نہیں ہوا ۔۔ ” یہ کہہ وہ کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔ تیز قدموں سے چلتی ہوئی سیدھا اپنے کمرے میں گئ تھی۔۔۔ وہ چا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔ لیکن چند لمحوں بعد ہی اسے چپ ہونا
پڑا کیونکہ حازم اسکے کمرے میں آ چکا تھا ۔۔۔ اسے دیکھ کر مہرونساء نے فورا سے اپنے آنسوں صاف کیے اور کمرے سے باہر جانے لگی لیکن جیسے اسکے پاس سے گزر کر دروازے تک جانے لگی وہ اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کر چکا تھا ۔۔ پھر مہرو نساء کی آنکھوں میں ٹہرے ہوئے آنسوں دیکھنے لگا
” حازم مجھے چھوڑو مجھے کھانا بنانا ہے ” مہرنساء اپنا بازو اس سے چھڑوانے لگی لیکن وہ صرف اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔ جہاں آنسوں سے بھرا طلاطم سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا
فواد کی محبت ان اشکبار آنکھوں سے بھی صاف دیکھ رہی تھی
” چپ چاپ یہیں کھڑی رہو ۔۔۔ میرے سامنے ۔۔۔ مجھے دیکھنا ہے کہ ایسا بھی کیا ڈل گیا ہے تمہاری آنکھوں جو ایک مہنے سے خشک آنکھیں آج اتنی نم ہیں ۔۔۔ ” مہرونساء کی آنکھوں سے جھلکنے والے انسوں وہ اپنی انگلی کے پروں پر لیتے ہوئے بولا
حازم کے لہجے میں طنز کے علاؤہ دوسرا کوئی تاثر نہیں ہوتا تھا ۔۔ مہرونساء اب اپنے آنسوں پر ضبط کے بندھ باندھنے لگی تھی اس کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ اس کا آنسوں کا قطرہ اب بھی حازم کی انگلی پر ٹہری ہوا تھا وہ کبھی مہرونساء کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا کبھی اس ٹہرے ہوئے آنسوں کو پھر مہرونساء کے قریب آ کر ترسی ہوئی نظروں سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
” جانتی ہو پچھلے ایک مہنے میں پیاسا ہوں ۔۔۔ تڑپ رہا ہوں تمہاری نم آنکھوں کو دیکھنے کے لئے
اور تم ہو کہ روتی ہی نہیں ہو ۔۔۔ جانتی بھی ہو تمہاری نم آنکھوں کاعاشق ہوں میں مرتا ہوں تمہارے آنسوں پر ۔۔۔ افف۔۔۔۔ مت پوچھو کیسا قرار سا مل رہا ہے میرے دل کو تمہیں اتننننے دن بعد روتا دیکھ کر ۔۔۔ یہاں ۔۔۔ یہاں ۔۔۔ سکون ملتا ہے مجھے ” حازم اپنے دل کے مقام پر ہاتھ مار کر بولا پھر مسکرانے لگا مہرونساء کا دل اسکی ایسی باتوں سے کٹ سا جاتا تھا
” حازم میرا بازو چھوڑو ۔۔۔ جانے دو مجھے ” ۔”مہرونساء نے اپنا بازو پھر سے چھڑوانے کی کوشش کی
” میں تو تمہیں جانے دے رہا ….میری جان ۔۔۔ تمہارا عاشق بھی تمہیں لینے آیا تھا ۔۔۔ جس کے غم میں تم آج رو رہی ہو۔۔ آنسوں کی ندیاں بہارہی ہو ۔۔۔ پھر اس کے ساتھ گئ کیوں نہیں ؟؟۔۔۔۔ ہو سکتا تھا مہرونساء کہ میں تمہیں دوبارہ حاصل نا کر پاتا ۔۔۔ قانون تمہارے حق میں فیصلہ دے دیتا ۔۔۔ فواد تمہیں واپس مل جاتا ۔۔۔
مجھ سے تمہاری جان بھی چھٹ جاتی ۔اور یہ سب باتیں تم بھی اچھی طرح سے جانتی ہو ۔۔ پھر تم اس کے ساتھ گئ کیوں نہیں ؟؟؟اپنے اندر اٹھنے والے اس سوال نے حازم کے اندر ایک ہلچل سی مچا رکھی تھی ۔۔ مہرونساء نے کوئی جواب نہیں دیا تو اس کو بولنے کے لئے اکسانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا
” ہمم ۔۔تو تمہاری خاموشی کا کیس مطلب سمجھوں جانتی ہو خاموشی آدھی رضامندی ہوتی ہے ۔۔۔ کیا سمجھوں میں مہرونساء ۔۔۔کہ تم مجھ سے محبت کرنے لگی ہو ۔۔۔ چاہنے لگی ہو مجھے اپنے ناول کی ہیروئن کی طرح ؟؟؟” حازم کی بات اور ہزمیت بھرے انداز پر مہرونساء نے اسے تاسف سے دیکھا تھا
” بس ایک محبت ہی تو نہیں کر سکتی ہوں میں تم سے ۔۔۔ تمہاری غلام بن سکتی ہو داسی کنیز بیوی ۔۔۔۔
اور بھی جو تم چاہو مجھے بناسکتے ہو ۔۔۔ جیسے چاہوں میری زندگی میں زبردستی آ سکتے ہو ۔۔۔ بس ایک میرے دل میں تمہاری کوئی گنجائش نہیں ہے ۔۔۔ میں مر سکتی ہوں حازم لیکن تم سے ۔۔۔ محبت کبھی نہیں کر سکتی ۔۔۔ ” مہرونساء کی تلخ لہجے منہ سے نکلنے والے زہریلے جمعلوں پر وہ ہسنے لگا تھا
” ہمارا رشتہ ہی کچھ ایسا ہے مہرونساء کہ ناتو تم مجھ سے محبت کر سکتی ہو نا میں تم سے ۔۔۔
ہماری زندگی ایک دوسرے ساتھ ضرور جڑ گئ ہے لیکن دل کا،ایک ہونا ناممکن سی بات ہے ۔۔۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اتنا اچھا موقع پا کر بھی تم گئ کیوں نہیں ؟؟ ” حازم وجہ جاننا چاہتا تھا
” امی کی وجہ سے ۔۔ وہ مجھے شرمینہ سمجھتی ہیں ” مہرو کی بات پر وہ ہسنے لگا ۔۔
” اوہ تو یہ وجہ ہے ۔۔۔جس دن انہیں یہ یاد آ گیا کہ تم نے ان سے انکی بیٹی چھین لی ہے ۔۔۔اس دن وہ تم سے صرف نفرت کریں گئیں ” حازم نے سخت لہجے سے کہا
” یہی چاہتی ہوں میں ۔۔۔۔میں یہی چاہتی ہوں کہ وہ مجھ سے نفرت کریں مجھے برا بھلا کہیں ۔۔۔
میں مجرم ہوں انکی۔۔۔ انجانے میں سہی پر میں نے انکی بیٹی ان سے چھین لی ۔۔۔۔ اس لئے جا نہیں پائی ۔۔۔ ورنہ میں فواد سے جتنی محبت کرتی ہوں یہ میرا رب جانتا ہے ” مہرونساء نے بنا ڈرے یہ بات حازم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہی تھی ۔۔
” شوہر ہوں میں تمہارا بے شک تم سے محبت نہیں کرتا لیکن ہوں تو شوہر ہی ۔۔۔ آئندہ اگر ایسا کھلم کھلا اظہار تمہارے منہ سے سنا تو ۔۔۔” وہ غصے سے غرا کر بولا تھا ۔۔۔ اندر سے کہیں اسے مہرونساء کا فواد کے لئے رونا اس کےلئے محبت کااظہار کرنا برا سا لگ رہا تھا ۔۔۔ بے وہ اسکی محبت نہیں تھی لیکن بیوی ضرور تھی ۔۔۔ اس کے بعد مہرونساء کا بازو چھوڑ دیا ۔۔۔ وہ کمرے سے باہر نکل گئ تھی
******……..
منظور صاحب زکی سے بہت خوش تھے اس کے دوسرے ڈرامے کی شورٹ بھی بہت اچھی جا رہی تھی ۔۔۔ وہ اپنے کام میں محنت بہت کرتا تھا اسے حقیقت کا رنگ دینے کی کوشش کرتا تھا ۔۔۔ اگر کریکٹر کسی مڈل کلاس لڑکی کا ہوتا تو اس کا گھر سادہ لباس سادہ چہرے پر میک بہت کم ہر چیز وہ ایسی ظاہر کرتا ورنہ کئ ڈراموں میں ایک مڈل کلاس لڑکی کو بھی ماڈل کے طور پر سجا کر دیکھایا جاتا تھا اور ان کا گھر اچھا خاصا اعلی شان ہوتا تھا
اس لئے سب کچھ حقیقت سے دور لگتا تھا ۔۔۔
اسبار آشتیاق صاحب کو بری طرح سے نا کامی کا منہ دیکھنا پڑ رہا تھا وہ زکی کی وجہ سے ایک کے بعد ایک ڈرامہ انکا فلاپ جا رہا تھاسجیلہ مشہ کرتی تھی اوراب وہ پہلے سے زیادہ نشہ کرنے لگی تھی ۔۔۔ دو ڈراموں میں اچھی کارکردگی نا دیکھانے پر لوگوں کی پسندیدگی میں کمی سے آ گئ تھی
دوسری طرف ایک بے کار سی لواسٹوری میں یسرا اپنے ایکپریشن اور اداکارہ سے جان ڈال رہی تھی ۔۔۔ فاصل سے وہ اب کافی بے تکلف سی یو گی تھی ۔۔ ہنس لیتی تھی بات بھی کرتی تھی اورسین بھی ڈسکس کر لیتی تھی۔ بہن کی شادی کو آٹھ دن رہ گئے تھے۔۔۔ اس لئے کچھ اداس تھی چائے کا کپ لئے فاضل یسرا کے پاس پہنچ گیا جو کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” ہیلو یسرا ” فاضل کے مخاطب کرنے پر وہ پیچھے پلٹی تھی فاضل کے ہاتھ میں دو کپ چائے کے دیکھ کر مسکرا کر ایک پکڑ لیا
” تھنکس ” یسرا نے چائے کا کپ لبوں پر لگا لیا اور پھر سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ایک نظر فاضل نے بھی کھڑکی سے باہر دیکھا
لیکن خالی سڑک کے علادہ اسے کچھ نظر نہیں آیا تھا پھر اس نے یسرا کی طرف دیکھ جو خالہ سڑک کو بڑے انہماک سے دیکھ رہی تھی
” ایسا کیا ہے اس خالی پر یسرا جو مجھے تو نظر نہیں آ رہا لیکن تمہاری نظریں ہنٹنے سے انکاری ہیں ” فاضل کی بات پر یسرا نے خالی سڑک سے نظریں ہٹا کر فاضل پر جمادی
” کچھ بھی نہیں میں سوچ رہی تھی ” چائے آپ لیتے ہوئے اس نے کہا
“, بہن کی شادی کے بارے میں ؟” فاضل کے منہ سے اپنی سوچ اور فکر کو سن وہ کچھ متعجب ہوئی تھی وہ اسوقت مریم کی شادی کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی ۔۔۔ اگر وہ وہاں ہوتی اسکی ماں اور بہنیں کتنی خوش ہوتیں
” آپ ۔۔۔ کو ۔۔۔ کیسے پتہ ؟؟ یسرا کچھ نظریں چرا سی گئ تھی
” تم نے بہن کی شادی کا کارڈ جو مجھے دیا تھااس پر تاریخ لکھی ہوئی اسی سے اندازہ لگایا ہے ؟” فاصل نے اسے شرمندہ کرنے کے لئے کہا تھا ورنہ لارڈ تو دور کی بات یسرا نے کسی سے ذکر تک نہیں کیا تھا یہ سن کر وہ خجل ڈی ہو گئ پھر یاد آنے لگا دو ماہ پہلے جب وہ اپنی والدہ سے بات کر رہی تو فاضل وہیں موجود تھا یسرا کو کچھ برا سا بھی لگا آخر اسے کیا ضرورت تھی کہ وہ اسکی باتیں اتنے غور سے سنتا ۔۔۔
” وہ ۔۔۔ یوں کسی باتیں نہیں سننی چاہیے ۔۔۔ ” اپنی خفت مٹاتے ہوئے وہ بولی تھی ساتھ ہی چاہے پینے لگی
“تم اپنی کی شادی پر کیوں نہیں جا رہی “
” فاضل یہ میرا پرسنل میٹر ہے ۔۔۔ میں ڈسکس نہیں کرنا چاہتی ” یسرا نے صاف گوئی اپنائی تھی
” لیکن ہم ساتھ کام کرتے ہیں اتنی بے تکلفی تو ہم ہے یسرا کہ ایک دوسرے سے اپنی پرابلم کو شیر کر سکیں “
” میں نے آپ سے بھی کبھی آپکی فیملی کے بارے میں نہیں پوچھا ” یسرا نے جتاتے ہوئے کہا
” ہاں توپوچھنا چاہیے تھا نا ۔۔ میں تو روز یہی سوچتا رہتا ہوں کہ آج تم میرے گھر والوں کے بارے میں پوچھوں گی آج پوچھوں گی لیکن نہیں ۔۔۔ تم تو پتہ کسی اور سیارے سے ایک ہو ” فاضل نے شکوہ کیا تھا
” مجھے ایسی ضرورت محسوس ہیں ہوئی کہ آپ کی پرسنل لائف کو ڈسکس کرو
” مطلب جب تمہیں ضرورت محسوس ہو گی تب پوچھوں گی ؟؟؟ ویسے کس ضرورت کے تحت تم یہ سب پوچھنا پسند کرتی ہو ۔۔۔ وہ بھی بتا دو تا کہ مجھے ذرا تسلی ہو جائے ” فاضل کی ہر وقت کے مزاق کی عادت سے یسرا کادل ذرا بہلا رہتا تھا ۔۔ رومنٹک سین کرتے ہوئے بھی وہ آڑے ٹہرے منہ بنا کر یسرا کو دیکھتا تو وہ سین کے دوران ہی ہسنے لگتی تھی ۔۔۔ اس بات پر اسد سے روز ہی فاضل کی کھچائی ہوتی تھی ۔۔۔
” ویسے مجھے کچھ کچھ اندازہ کہ کہ لڑکیاں کب کسی لڑکے کی فیملی کے بارے پوچھتی ہیں ؟چہرے پر بلا کی معصومیت لئے وہ بات کر رہا تھا یسرا مسلسل مسکرا رہی تھی
” اچھا؟؟ تو بتائیں کوئی لڑکی کب کسی لڑکے سے اسکی فیملی کا پوچھتی ہے ” یسرا نے بھی آنکھیں پھیلائے مصنوعی حیرت سے پوچھا
فاضل شرمنے کی اداکارہ کرتے ہوئے بولا
” جب وہ لڑکی اس لڑکے سے ۔۔شادی کی خواہش مند ہو ” یہ کہہ وہ شرماتے اور مسکراتے ہوئے چہرہ کسی شرمیلی لڑکی کی طرح سے چھپا گیا یسرا بے ساختہ ہسنے لگی
” لیکن میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ” یہ سن کر وہ
یسرا کو غور سے دیکھنے لگا
” مجھے اسی جواب کی سو فیصد امید تھی ۔۔۔ لیکن پھر میں نے سوچا بندہ بشر کیا پتہ چلتا ہے ۔۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی میرا خیال بھی کسی کے دل سے گزر جائے ” فاضل کی کسی بھی بات کو یسرا سنجیدگی سے نہیں لیتی تھی جانتی کہ وہ کبھی سیریس نہیں ہوتا تھا اسد شورٹ کی سیٹ کو آخری تنقیدی نظر سے دیکھ کر انکے کمرے میں آیا تھا
” چائے اگر ختم ہو گئ ہو تو یہ شورٹ کمپلیٹ کر لیں ؟” فاضل اور یسرا کو کسی بات پر مسکراتے دیکھ کر اسد نے پوچھا ۔۔۔ بڑی معنی خیز نظروں سے وہ دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔
” یس سر ہو گئ چائے ختم ” یسرا نے اپنا کپ سامنے ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔ شورٹ ختم ہوتے ہی اسد نے یسرا سے ہوٹل میں چلنے کے لئے کہا تھا ۔۔۔ یسرا چپ سی ہو گئ تھی ک
” کیا بات ہے ۔۔ میرے ساتھ جانے کاسن کر تمہارا موڈ کیوں آف ہو جاتا تم مجھے ٹھیک سے رسپونس نہیں دیتی ہو یسرا ۔۔ وجہ کیا ہے “
” سر آپ مجھ سے نکاح کر لیں ” ایک غیر متوقع بات تھی جو یسرا کے منہ سے سن رہا تھا ۔۔۔
” واٹ ” بے اختیار اسد کے منہ سے نکلا تھا
*****…….
فواد پورے راستے گم صم بیٹھا رہا تھا کچھ نہیں بولا ۔۔ گھر آکر اپنے کمرے میں چلا گیا اس وقت تو بلکل ٹوٹ سا چکا تھا ۔۔ چھ مہینے کی تگ و دو کے بعد وہ مہرونساء کے پاس پہنچا تھا ۔۔۔ یہ اسکی محبت ہی تھی کہ وہ اسے ہر حال قبول کرنے کو تیار تھا لیکن مہرونساء کے انکار نے اس کے اندر اتنی ٹوٹ پھوٹ کر دی تھی کہ مضمحل سا ہو کر اپنے بیڈ پر گرا تھا ۔۔۔ اپنے اوپر باندھے سارے ضبط کھو چکا تھا اس وقت پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا اگلے روز ہی اس نے آپ ے والد سے کہہ دیا کہ وہ ملک سے باہر جانا چاہتا ہے اسکے بھائی کی فیملی پہلے سے ہی جرمن میں رہتی تھی ۔۔۔ یہ سن کر اسکے والد نے فورا سے ہامی بھر لی وہ خود چاہتے تھے فواد چلا جائے ۔۔۔
“ڈیڈ میں وہاں جاتے ہی بھابھی کی بہن سے نکاح کر لوں گا ۔۔ آپ لوگ یہی چاہتے تھے ۔۔ مجھے اب اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ” مہرونساء نے جو چوٹ اسے دی تھی وہ پاکستان میں رہ کر خود کو نہیں سنبھال سکتا تھا ۔۔۔
******……
مہرونساء کھانا بنانے سے پہلے ٹومی کو کھانا دیتی تھی
وہ کتے سے پہلے پہل بہت ڈرتی تھی لیکن پچھلے ایک ماہ سے اسے کسی چیز سے خوف نہیں آتا تھا
ٹومی کے پاؤں پر پتھر لگنے سے چوٹ لگ گئ تھی مہرونساء نے پہلے اسے کے دوا لگی پھر اس کے سامنے کھانا رکھا اور اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئ
وہ درد کے مارے منہ سے یوں آوازیں نکال رہا تھا جیسے درد اس کے لئے ناقابل برداشت ہو اس بے زبان جانور کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔۔
وہ کھانا بھی نہیں کھا رہا تھا ۔۔
مہرونساء نے جب اپنے ہاتھ سے اسکے آنسوں پونچے تو وہ کتا اسے حیرت سے دیکھنے لگا ۔۔ اتناتو وہ بھی جانتا کہ مہرو اس سے ڈرتی ہے
پھر جب مہرونساء نے اسے اپنے ہاتھ کھلانا چاہا تو چپ چاپ کھانے لگا بڑی احتیاط وہ کھا رہ تھا کیونکہ مہرونساء کے ہاتھوں میں لرزش تھی شاید اندر کا خوف ابھی بھی باقی تھا ۔۔۔ کتے نے بھی اسے خوفزدہ کرنے کی کوشش نہیں کی
جب حازم لاونج میں داخل ہوا تواسکے ہاتھ میں شاپر تھے ۔۔۔ ٹامی کو مہرو کے ہاتھ سے کھانا کھاتے دیکھ کر ایک حیرت کا جھٹکا اسے لگاتھا مہرونساء حازم کو دیکھ کر اٹھ کر کچن میں چلی گئ وہ بھی کچن میں اسکے پیچھے گیا تھا شوپر شلف پر رکھے مہروسپنے ہاتھ صابن سے دھو رہی تھی تا کہ ڈنر بنا سکے
” جان من آج ڈنر رہنے دو آج ہم اسپشل ڈنر کریں گئے ان شوپر میں سب کچھ ریڈی میٹ ہے ۔۔ بس جلدی سے ٹیبل پر لگا دو ۔۔ بہت بھوک لگ رہی ہے ” بڑے خوشگوار موڈ میں وہ لگ رہا تھا ۔۔۔ مہرونساء
نے کھانا ڈشز میں ڈالا اور ڈائنگ ٹیبل پر رکھ دیا
اور خود اس کے سامنے بیٹھ گئ ۔۔۔
” ڈارلنگ ۔۔۔ آنکھوں کو آنکھوں سے آنکھیں چار کرنے دو
رکو نا ٹوکو نا مجھ کو پیار کرنے دو ” بریانی اپنی پلیٹ پر ڈالتے ہوئے وہ بڑی ترنگ میں یہ گانا گا رہا تھا ۔۔۔ چہرے پر اتنی خوشی تھی کہ چھپائے نہیں چھپ رہی تھی ۔۔ مہرونساء خاموشی سے ہی کھانا کھا رہی تھی
” جانتی ہو مہرونساء آج میں بہت خوش ہوں ۔۔۔ اتنا خوش کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اظہار کیسے کرو ۔۔۔ جھومو ناچوں گاؤ کیا کرو ” حازم کا کھلا کھلا چہرہ دیکھ ہی اسکی خوشی کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا لیکن مہرونساء کو اسکی خوشی سے کوئی خاص سروکار نہیں تھا ۔۔۔
اس لئے لا تعلق بنی اپنا کھانا کھاتی رہی ۔۔۔
” سوئٹ ہارٹ پوچھوں گی نہیں مجھ سے میں اتنا خوش کیوں ہوں ” حازم نے جب مہرونساء کو بلکل انجان بنے دیکھا تو خود سے ہی پوچھنے لگا
” مجھے اس بات کوئی غرض نہیں ہے ۔۔” کھانا وہ کھا چکی تھی بس پانی پی رہی تھی حس بے اختیار ہسنے لگا
” ٹھیک کہہ رہی ہو تم ۔۔۔ تمہیں اس بات سے غرض ہونا بھی نہیں چاہیے ۔۔۔۔ کیونکہ تم شافی شدہ ہو اپنی ازواجی زندگی بہترین گزار رہی ہو ۔۔۔ اب اگر فواد نے بھی شادی کر لی ہے تو تمہیں کوئی فرق پڑتا تو نہیں چاہیے ۔۔۔ ” یہ کہہ کر اپنا موبائل ان کر لے اس نے مہرونساء کے سامنے رکھ دیا تھا جہاں فواد کے نکاح کی ویڈیو چل رہی تھی۔۔۔ مہرونساء نے گلاس ٹیبل پر رکھا اور بے ساختگی سے موبائل پکڑ کر دیکھنے لگی ۔۔۔ چند لوگوں کی موجودگی میں فواد نکاح نامے پر سائن کر رہا تھا ۔۔۔ مہرونساء کواگلس سانس لینا بھول گئ تھی ۔۔۔۔ لگ رہا تھا کہ آج اپنا سب کچھ ہار بیٹھی ہو ۔۔۔ مہرونساء کاا ترا چہرہ دیکھ کر حازم ہسنے لگا تھا
” کیا ہوا جان من رونا آ رہا ہے ۔۔۔ دکھ ہو رہا ہے ۔۔۔
ویسے وہ بھی بیچارہ کیا کرتا چھ ماہ سے تمہیں ڈھونڈ رہا تھا کسی مجنوں کی طرح لیلی لیلی پکار رہا تھا،اور لیلی نے ملتے ہی بیچارے کو ہری جھنڈی دیکھا دی ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ زور زور سے ہسنے لگا مہرونساء تو یوں جیسے بے جان سی ہو گئ ہو
” مجنوں میاں نے بھی سوچا کہ جب لیلی ہی اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے تو کیوں نا لیلی ہی بدل لی جائے ” حازم اسے کو جتنے طنز کے نشتر سے زخمی کر سکتا تھا کر رہا تھا ۔۔۔ مہرونساء اٹھ کر وہاں سے چلی گئ ۔۔۔
” سو سوئٹ میری جان ۔۔۔۔ آج ہی تو ٹھیک سے جان نکلی ہے تمہاری ۔۔۔ تمہیں بھی تو پتہ چلے جب کسی کا محبوب اس سے چھنےا ہے تو کیسا لگتا ہے
کیسا درد اٹھتا ہے ۔۔۔ دل کیا حالت ہوتی ہے ۔۔۔ آج تم سوگ مناؤں مہرونساء اور میں ۔۔۔۔ میں جشن مناؤں گا ” یہ کہہ کر وہ ہسنے لگا
