186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 32

Meri Jaan by Umme Hani

مہرونساء کینہ توز نظروں سے زکی کو دیکھتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر چلی گئ نکاح ایک ماہ طے ہوا تھا لیکن زکی ابھی رخصتی نہیں چاہتا تھا جب تک کے مہرونساء دل سے رضامندی نا ہو

مہرونساء کے تو تصور سے اوپر کی بات تھی جو ابھی کچھ دیر پہلے ہوئی تھی

” یہ شخص ہوتا کون ہے میرے لئے رشتہ بھجنے والا ۔۔ ؟ میں کل اس کے آفس میں جا کر اس کے منہ پر اسکی انگوٹھی مار کر آؤں گی ” اپنے ہاتھ سے انگوٹھی اتار کر اس نے ڈرسنگ ٹیبل پر پھنک دی تھی جب زکی اور اس کے گھر والے لوگ واپس چلے گئے تو ۔مہرو نساء

غصے سے نیچے اتری تھی سیدھا اپنی والدہ کے پاس گئ تھی غصے سے ان سے پوچھنے لگی

” امی کیا آپ پہلے سے جانتی تھی وہ ڈاریکٹر کا بچہ کس ارادے سے یہاں آیا تھا ” مہرونساء کو اتنا اندازہ ہو چکا تھا یہ سب اچانک سے ہونے والی بات نہیں۔ تھی اسکے والدین جس طرح سے چائے کا اہتمام کیے ہوئے تھے اور مسکرا کر ہر بات طے کر رہے تھے پہلے سے بات چیت کا سلسلہ ضرور چل رہا بس ایک وہ انجان تھی انگوٹھی پہناتے وقت تو

ارمان اور زیب النساء بھی موجود تھے لیکن اب وہ بھی جا چکے تھے

مہرو نساء کو ہر بات سے کیوں انجان رکھا گیا تھا اور زکی نے بھی اس سے کسی بات ذکر تک نہیں کیا تھا اس قدر غصے میں تھی کہ زکی کا نام تک نہیں لے رہی تھی انہوں مہرونساء سے نظریں چرائیں تھیں

” ہاں ہماری اجازت سے ہی آیا تھا ۔۔۔ ” مہرونساء کو جتنی حیرت ہوتی اتنی ہی کم تھی

” امی ۔۔۔ میں آپ کو صاف منع کر چکی تھی کہ مجھے شادی کرنی ہی نہیں ہے ۔۔۔ پھر آپ نے کیوں بلایا ان لوگوں کو ” مہرونساء کے غصے کے مارے آنکھوں میں آنسوں جمع ہونے لگے تھے

” مہرو کیوں تم زندگی کو ایک سزا کی طرح سے جینا چاہتی ہو ۔۔۔ اسے ایک حادثہ سمجھ کر بھول جاؤ زکی ایک اچھا لڑکا ہے ارمان سے

اس نے خود تمہارے لئے خواہش ظاہر کی تھی تمہارے بابا کو بھی وہ پسند ہے

کیا ہمارا تم پر کوئی حق نہیں ہے ہم تمہیں یوں روتے تڑپتے دیکھ کر پل پل مرتے ہیں ۔۔ کیا چاہتی ہو تم کیا ساری عمر تمہیں یونہی پل پل مرتے دیکھتے رہیں ” مہرونساء سے پہلے اسکی والدہ کی آنکھوں سے آنسوں بہنے شروع ہوئے تھے ۔۔

” امی آپ سمجھتی کیوں نہیں ہے ۔۔ مجھے۔ نہیں شامل کرنا کسی کو بھی اپنی زندگی میں جو روپ مرد کا دیکھ چکی ہوں مجھے نفرت ہے اس زندگی سے مجھے نفرت ہے شادی کے نام سے بھی ” مہرونساء رونے لگی تھی جو اذیت اس نے شادی کے نام پر سہی تھی شادی کاتصور بھی اس کا دل دہلا دیتا تھا

” وہ شادی نہیں تھی مہرو ۔۔۔ جو یوں اغوا کر کے لیکر جاتے ہیں وہ شادی کے خوبصورت اور پاکیزہ رشتے کے معنی بھی نہیں جانتے ۔۔۔ میرے بچے ایک بار تم قدم تو بڑھا کر دیکھو تمہیں مایوسی نہیں ہو گی زکی بہت اچھا لڑکا ہے ” مہرونساء تذبذب کا شکار تھی

” میں کسی بھی مرد کو اب آزمانا نہیں چاہتی ” مہرو نساء نے صاف انکار کیا تھا

” مرد انسان بھی ہوتے ہیں تم ایک انسان کو تو موقع دے سکتی ہو مہرو ۔۔۔ جب سے تم ایبٹ آباد سے لوٹی ہو میں نے تمہیں مسکراتے ہوئے دیکھا ہے خوش دیکھا ہے تمہارے چہرے کی رونق کو لوٹتے دیکھا ہے جب کسی کا پل دو پل کا ساتھ ہمیں خوشیاں دے سکتا ہے تو پھر وہ شخص عمر بھر بھی ہمارے لئے اچھا ہی ثابت ہو گا ۔۔۔ تمہارے منہ سے میں نے زکی کی صرف تعریف ہی سنی ہے ” مہرونساء اپنی والدہ کے سامنے بے بس سی ہونے لگی تھی اس لئے واپس کمرے میں آ گئ ۔۔ زکی کو کال کی لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا ۔۔ غصے مہرو نساء نے فون سائیڈ پر رکھا اور اگلے روز ہی انگوٹھی پرس میں ڈالے وہ زکی کے آفس میں پہنچی تھی

دوسری جانب زکی نے۔ مہرونساء کی تصویر حدیقہ بیگم کو بھیجی تھی اور مہرونساء سے شادی کرنے کے ارادے سے بھی مطلع کیا تھا اشتیاق صاحب نے زکی سے اختلافات تو بہت تھے لیکن وہ اپنا آپ منوا چکا تھا وہ انکار کر بھی دیتے تب بھی وہ مہرو سے ہی شادی کرتا اس بار حدیقہ بیگم نے زکی کے بجائے اپنے شوہر کو سمجھایا تھا یہی۔ کہا تھا زکی نے آپکی کی خاطر ہمیشہ اپنے جذبات کی قربانی دی ہے آپ کیوں بیٹے کے ساتھ اختلافات رکھ کر اسے خود سے دور کرنا چاہتے ہیں

حدیقہ بیگم کی بات مان کر ہی وہ کراچی آئے تھے اور نیاز صاحب سے بات بھی کی تھی وہ لاہور سے تر وز نہیں آ پائیں گئے اس لئے منگنی کی چھوٹی سی رسم اور نکاح کی تاریخ بھی طے کر کے جائیں گئے زکی اپنے آفس میں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ مہر کا فون نااٹھانے کی وجہ سے وہ اس سے خفاچتو بہت ہو گئ کیونکہ اس کے اس اقدام سے ایک وہی نا واقف تھی

بنااجازت کے مہرونساء اسکے کمرے داخل ہوئی تھی وہ اس وقت اکیلا ہی۔ بیٹھا ہوا تھا انٹر کام پر شاید ریسپشنر سے بات کر رہا تھا

کیونکہ ریسپشنر کے منع کرنے پر بھی مہرو بنا اطلاع کے اسکے کمرے میں چلی گئ تھی وہ اسے روکتی رہ گئ تھی

” کوئی بات نہیں آپ مہر کو کچھ مت کہا کریں وہ جب چاہیں بنا کسی کی اجازت کے میرے کمرے میں آسکتی ہیں “سامنے دروازے پر غصے سے کھڑی مہرونساء کو دیکھ کر وہ مسکرا کر دیکھ رہا تھا جو بڑے غصے سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔زکی نے انٹر کام بند کیا اور مہرونساء سے مخاطب ہوا

” مہر کھڑی کیوں ہیں پلیز بیٹھیں ” زکی کی بات پر وہ بپھر کر بی تھی

” آپ ہوتے کون ہیں بنا میری اجازت کے میرے گھر رشتہ لیکر آنے والے دیکھیں میں بہت خطرناک قسم کی لڑکی ہوں غصے میں سامنے والے کی ساتھ کچھ بھی کر گزرتی ہوں اور میں یہاں بیٹھنے بھی نہیں آئی ہوں آپ کے زبردستی سے قائم کیے رشتے کو ختم کرنے آئی ہوں ۔۔ ” مہرونساء نے وہ انگوٹھی پرس سے نکالی اور ٹیبل پر رکھ دی لیکن زکی اسی طرح سے مطمئن ہی بیٹھا تھا چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ سجائے

جیسے مہرونساء کے اس قسم کے ریایکشن سے واقف ہو

اس سے پہلے کہ مہرونساء واپس پلٹ کر جاتی زکی نے کھڑا ہو گیا اپنی پینٹ کی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا

” آپ کو اعتراض کس بات پر ہے مہر ۔۔ “

زکی نے جیب سے ہاتھ نکال کر باتھ باندھتے ہوئے پوچھا

“آپ نے مجھ سے پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی کیا کوئی اس طرح سے رشتہ بھیجتا ہے ” مہرونساء نے پہلا اعتراض کیا تھا

“اووہ تو کیا مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے تھا مہر ؟

مجھے تو لگا تھا آپ ایک مشرقی قسم کی لڑکی ہوں گئ اور ایسے گھرانوں میں لڑکے والے لڑکی کے بجائے سیدھا اس کے والدین سے رشتے کی بات کرتے ہیں اور والدین اپنی بیٹی سے اجازت لیتے ہیں پھر ہی لڑکے والوں کو اپنے گھر مدعو کرتے ہیں

مجھے نہیں معلوم تھا ۔مجھے پہلے آپ سے اجازت طلب کرنی پڑے گی ۔۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ اس ذرا سی بات پر کوئی لڑکی اتنا زیادہ برا مان جاتی ہے کہ رشتہ ہی ختم کرنے آ جائے ” زکی اسے پھر سےاپنی باتوں میں الجھانے لگا تھا مہرونساء نروس ہوئی تھی

” یہ بات نہیں ہے مجھے شادی کرنی ہی نہیں ہے “

” اوہ تو یہ بات ہے مطلب آپ کو مجھ سے کوئی مسلہ نہیں ہے مسلہ شادی سے ہے ؟ میں تو ڈر ہی گیا تھا کہ مہر کہ کہیں میں آپ کو ناپسند نا ہوں ۔۔ شکر ہے آپ مجھے ناپسند نہیں کرتیں ” زکی کی باتوں سے وہ تذبذب سی ہونے لگی تھی

” مجھے آپ پسند بھی نہیں ہیں ” مہرو نے بات سنبھالتے ہوئے کہا

” بھی ۔” “مطلب ناپسند نہیں ہوں ؟” اب وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ رہا تھا مہرو شش وپنج میں مبتلہ ہوئی تھی

” میرا مطلب تھا کہ “,

” مہر کیا میں آپ کو برا لگتا ہوں ؟” زکی نے چہرے پر معصومیت سجائے اس سے براہ راست پوچھا مہرونساء چپ سی ہو گی تھی زکی نے بات جاری رکھی

” دیکھیں بے شک میں ڈراریکٹر ہوں لیکن با خدا کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا بس کبھی کبھی سگریٹ پی لیتا ہوں اس کے علاؤہ کوئی عیب نہیں ہے مجھ میں ۔۔ کسی کی کے ساتھ میرا کبھی افیر بھی نہیں چلا سجیلہ کے ساتھ منگنی ہوئی تھی لیکن۔ میری اس میں رضامندی شامل نہیں تھی کیونکہ وہ مجھے اچھی نہیں لگتی تھی اور وہ مجھے کیوں پسند نہیں اس لئے کہ وہ شراب پیتی تھی نشہ کرتی تھی بولڈ تھی ضدی تھی ۔۔

آپ بتائیں میں آپ کو کیوں نہیں پسند ؟کیا برائی ہے مجھ میں؟ ” وہ اپنے بارے میں اسے سب کچھ بتا بھی رہا تھا جو پہلے مہرو نہیں جانتی تھی اور اپنی خامیاں بھی پوچھ رہا تھا

” دیکھیں آپ برے نہیں ہیں نا ہی مجھے ناپسند ہے ۔۔ اور ناہی ایسا ہے کہ مجھے اچھے لگتے ہیں آپ میرے لئے کچھ بھی نہیں ہیں زکی “, مہرونسا نے مدافعانہ انداز اپنایا تھا اندر اندر سے نروس سی تھی

” میں جانتا ہوں مہر میں آپ کو برا نہیں لگتا اس لئے ہو سکتا ہے کہ منگنی کے بعد اچھا لگنے لگو ۔۔کیونکہ آپ کو مسلہ شادی سے ہے مجھ سے نہیں مہر آپ پلیز بیٹھ کر میری بات ایک دفعہ سن لیں ” اس نے کرسی کھینچ کر مہرونساء کو بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ خاموشی سے بیٹھ گئ پھر خود اسکے برابر والی کرسی کھنچ کر اس کے سامنے رکھ کر اسکے مقابل بیٹھ گیا

” آپ کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتی یہی مسلہ ہے نا آپ کے ساتھ ؟” زکی کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا

” کبھی آپ نے یہ سوچا ہے مہر کہ آپکے والدین آپ کے لئے بہت افسردہ رہتے ہیں بیمار رہنے لگے ہیں انہیں ہر وقت آپ کی فکر ستاتی ہے

اس لئے آج نہیں تو کل ۔۔ کل نہیں ایک سال بعد لیکن وہ آپ کو شادی کے لئے فورس ضرور کریں گئے اور آپ بھی ان کے سامنے ایک نا ایک دن بے بس ہو جائیں گئیں ہوسکتا ہے شادی کے لئے مان بھی جائیں ۔۔۔ مجبورا ہی صحیح لیکن ممکن ہے آپ مان جائیں ۔۔۔ تو جب طے ہے کہ شادی ایک نا ایک دن کرنی ہی ہے تو مجھ سے کیوں نہیں ؟ میں آپ کو برا نہیں لگتا ہوں مہر ۔۔۔ نا ہی نا پسند ہوں ۔۔۔ لیکن آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں پھر میرااور آپ کا مقصد بھی ایک ہے ہماری سوچ ایک جیسی ہے مہر اگر ہم ساتھ رہیں گئے تو آزادانہ طور پر وہ سب کر سکتے ہیں جو کرنا چاہتے ہیں ورنہ ہو سکتا آپ کاشوہر آپ کو لکھنے سے منع کر دے یا میری بیوی میری راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے کم از کم ہم ایک دوسرے لئے راہیں ہموار کر سکتے ہیں ۔۔۔ مہرونساء کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اپنی والدہ کے آنسوں کے سامنے وہ ابھی سے بے بس ہونے لگی تھی زکی یہ بات سچ ہی تھی کہ وہ اپنے والدین کی خاطر مجبورا بھی شادی کے لئے رضامند ہو سکتی تھی ۔۔۔ یہ سچ تھا کہ اس کا شوہراسے لکھنے سے منع کر دے فواد بھی اس بات کے خلاف تھی جو مہرو نساء کا جنون تھا

اس کی ہر تکلیف اور ٹینشن کا علاج اس کا قلم تھا

پھر زکی اسے کم از لکھنے سے کبھی نہیں روک سکتا تھا ۔۔ پھر یہ بھی سچ تھا کہ وہ معاشرے کی بہت برائیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنا چاہتی تھی ۔۔۔جس کے لئے زکی کا ساتھ معون ثابت ہو سکتا تھا

مہرو کافی دیر سے خاموش کسی گہری سوچ میں گم تھی

” مہر ” زکی آواز پر وہ چونک سی گئ تھی

” کیاسوچ رہیں ہیں ” اس نے دھیرے سے پوچھا

” آپ کو مجھے بتانا چاہیے تھا کہ آپ اپنے والدین کے ساتھ کس مقصد کے تحت آنا چاہیے ہیں ۔ یہ نہایت غلط بات ہے یوں اچانک سے ۔۔۔” مہر اپنے منہ اقرار کرنا نہیں چاہتی تھی اور انکار کی کی کوئی وجہ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی

” اگر میں آپ کو پہلے سے بتا دیتا تو کیا آپ مان جانتی ؟ نہیں نا ۔۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ بناسوچے سمجھے ہی انکار دیں گئیں جو میری بات آپ اب سمجھ رہیں ہیں وہ پہلے سننا بھی پسند نہیں کرتی ” زکی کی۔ بات سچ تھی ۔وہ اب بھی خاموش تھی زکی نے انگوٹھی پکڑی اور اسکے سامنے کی

” میں جانتا ہوں آپ بہت خطرناک لڑکی ہیں لیکن اگر آپ میرے بارے میں کوئی خطرناک ارادہ نہیں رکھتی تو یہ پہنا دوں آپ کو ؟ ” زکی نے اسکے پہلے جارحانہ رویے کے پیش نظر کہا تھا

مہرو نے ندامت سے نظریں جھکائیں تھیں

“آپ مجھے دیں میں خود پہن لوں گی ” مہرو نساء نے دھیمے لہجے میں کہا تھا زکی انگوٹھی اس کے ہاتھ میں رکھ دی ۔۔۔

” میری بہت خواہش تھی کہ میں پہناتا لیکن چلیں کوئی بات نہیں جیسے آپ خوش ” زکی کی بات کو نظر انداز کیے مہرونساء نے اس سے کہا

” میں رخصتی نہیں چاہتی کم از کم ایک دوسال تک “, مہرونساء کے دل میں اب بھی شادی کو لیکر خوف دل میں بیٹھا ہوا تھا زکی نے مہرونساء کو کوئی جواب نہیں دیا تھا مہرونساء اٹھ کر چلی گئ

اس وقت تو زکی کے لئے یہی بات اہمیت رکھتی تھی کہ مہرونساء رضامند ہے ۔۔۔

********…….

فاضل نے کوئی جواب نہیں دیا تھا تصویر یسرا کے ہاتھ سے لیکر واپس اسی کتاب میں رکھ دی اور کتاب کو دوبارہ شیلف پر یسرا اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی

” چلو آؤں شام کی چائے پیتے ہیں آج تو انو نے پکوڑے بھی بنائے ہیں اور تمہیں پتہ انو کم ہی کچھ بناتی ہے لیکن۔ جب بناتی ہے تو کمال ۔۔۔۔”

” کون ہے یہ لڑکی فاضل ؟” یسرا اسکی بے تکی باتوں کو یکسر نظر انداز کر کے۔ بولی تھی

اب بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جہاں کچھ اور ہی تھا اور جو تھا وہ یسرا کو بے چین کیے ہوئے تھا فاضل سمجھ گیا تھا کہ اسے بہلانا مشکل ہے

” یسرا کیاایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم کسی تیسرے کو ڈسکس نا کریں ؟ ہاں تمہاری ایک پریشانی میں دور کر دیتا ہوں مسز فاضل صرف تم بنو گی میری پہلے سے کوئی بھی بیوی نہیں ہے ” یہ کہہ کر فاضل نے اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے کمرے سے باہر لے آیا باہر انو نے چائے کے ساتھ بہت سے لوازمات بھی رکھے تھے فاضل نے پہلے یسرا کو بیٹھنے کے لئے کرسی کی طرف اشارہ کیا پھر خود بیٹھ گیا

” واہ جی میری بہن نے آج پکوڑوں کے ساتھ شامی کباب بھی بنائے ہیں ” فاضل سب سے پہلے پکوڑے اپنی پلیٹ میں ڈالے تھے لیکن پہلا ہی پکوڑا منہ ڈالتے ہی سی سی کر اٹھا تھا

” انو کی بچی یہ کیا بنایا ہے تم نے اتنی مرچیں “

وہ جگ سے پانی گلاس میں انڈیل رہا تھا

” بھائی بس مرچیں ہی کچھ زیادہ ہو گئیں ہیں باقی تو سب ٹھیک ہے “, انو کی بات سن کر اس نے پانی کا گلاس منہ سے نیچے کیا

” تو باقی بچتا کیا ہے اس میں جس کی تعریف کی جائے میں نے ایویں خواہ مخواہ میں یسرا سے تمہارے پکوڑوں کی تعریف کی ” اب وہ شامی کباب کھا رہا تھا جو بلکل پرفیکٹ بنے تھے یسرا چپ تھی بس خاموشی سے۔ چائے ہی کچھ میں ڈال رہی تھی ۔۔

” کیا بات ہے بیٹا تم کچھ کے نہیں رہی ” فاضل کی والدہ نے ہسرا کو چپ دیکھ کر کہا جو صرف چائے کا کپ ہی اپنی سامنے رکھے بیٹھی تھی

” بس اسوقت چائے کی ہی طلب ہے “

” بھابھی بھائی جھوٹ کہہ رہے ہیں آپ پکوڑے ٹرائے کریں اچھے بنے ہیں ” انو کو لگا کہ یسرا فاضل کی بات کی وجہ سے نہیں کھا رہی یسرا نے ایک ہی پکوڑا کھایا تھاوہ انو کا دل رکھنے کے لئے

ورنہ فاضل کی وجہ سے وہ بری طرح سے اپ سٹ تھی ایسی بھی کیا بات تھی جو وہ اسے بتانا نہیں چاہتا تھا اگر کوئی افیر تھا تو تب بھی چھپانے کا کیا مقصد تھا ۔۔۔

وہ چائے پیتے ہی واپس چلی گئ تھی ۔۔اپنے گھر پہنچ کر بھی وہ کچھ ڈسٹرب تھی جب مہرو کی اسے کال آ گئ مہرو سے زکی کی بات پکی ہو جانے کی خبر پر یسرا پہلے تو بے یقین سی ہوئی تھی اس کے بعد خوش ہوئی تھی

دوسری جانب مہرو نساء زکی کے بارے میں سوچنے لگی تھی ۔۔ اگر وہ اس کے فواد کی طرف طرح اسکی محبت نا تھا تو حازم کی طرح قابل نفرت بھی نا تھا فواد کاحصول تو نا ممکن سی بات تھی پھر یہ سچ تھا وہ یوں اکیلے زندگی نہیں گزار سکتی تھی ۔۔۔ زکی ٹھیک ہی تھا ۔۔۔ وہ اسکے بارے میں ذیادہ جانتی نا تھی لیکن سوائے اسکے کے وہ ایک پریکٹیکل قسم کا شخص تھا

کوئی دھواں دار اظہار محبت نہیں کیا تھا اس نے

نا ہی کوئی افسانوی سی باتیں کی تھیں ایک سچائی تھی جس سے مہرو کو روشناس کروایا تھا

سوچوں کاسلسلہ شروع ہوا تو پہلے فواد کی باتیں اور گزرے لمحات یاد آنے لگے آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے دل میں وہ سب بھی کہیں موجود تھا پھر شادی کے دن شاد آتے ہی حازم کے خیال نے ایک خوف کی لہر اس کے وجود میں دوڑنے لگی تھی ۔۔۔

حازم کی دی ہوئی ہر اذیت یاد آتے ہی زکی بھی بتا سا لگنے لگا تھا ۔۔۔ شاید زکی شادی کے بعد ۔جھے حازم کے حوالے طعنے دے ابھی تو اسے میں ایک لکھاری کے طور پر اچھی لگ رہی ہوں لیکن بیوی بنتے ہی ۔۔۔ نا جانے اس کا رویہ مجھ سے کیسا ہو جائے میں نے کیوں انکار نہیں کر دیا ۔۔ میں گئ تو انکار کرنے ہی تھی ۔۔ پھر کیوں اس کے نام کی انگوٹھی پہن کر لوٹ آئی ۔۔۔ “, مہرونساء کو پھر سے اپنے کیے پر افسوس ہوا تھا لیکن اب بار بار انکار نہیں کر سکتی تھی

اگلے روز یسرا فاضل اور مہرونساء زکی کے آفس میں بیٹھے تھے

” بری طرح سے ڈرامہ فلاپ ہوا ہے زکی ” فاضل نے

برے سے منہ بناتے ہوئے کہا

” ہاں مجھے معلوم تھا لوگوں کو حقیقت اتنی پسند نہیں آتی لیکن مجھے امید ہے کہ اگلا ڈرامہ اس سے کچھ کم فلاپ ہو گا ” زکی کی بات پر فاضل نے تعجب سے دیکھا تھا

” کیا مطلب ہے یار ایک ساتھ اگر ہم فلاپ ڈرامے ہی دیتے رہے تو بہت جلد ہاتھوں کشکول لئے نظر آئیں گئے تم جانتے میں نے اور یسرا نے کتنی مشکل اور قربانیوں سے ایک سال میں دو ہٹ فلمیں دے کر اپنا ایک مقام بنایا ہے اگر ایک ڈرامہ ہمارااور فلاپ گیا تو سو سے زیرو پر آنے میں ذیادہ ٹائم نہیں لگے گا ” جو بات فاضل کی زبان پر تھی وہی بات یسرا کے دل میں بھی تھی یسرا نے تواپنی عزت کھوئی تھی

بے شک وجہ پیسہ تھا لیکن شہرت جو اسے ملی تھی وہ کھونا نہیں چاہتی تھی ۔۔

مہرونساء اپنے اندر گلٹ فیل کر رہی تھی جیسے سارا قصور اسی کا ہو ڈرامہ تو اسی نے لکھا تھا

” زکی میں نے کہا بھی تھا عزت ڈرامے کا اینڈ اچھا کرو وہی کرو جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ۔۔۔ ” فاضل نے ایک چور نظر مہرونساء پر ڈالی تھی کیونکہ وہی راضی نہیں تھی

” فاضل یسرا میں نے آپ نے سب کواسی لئے یہ بلایا ہے کہ آپ لوگوں سے بات کر سکوں جو راہ میں نے اختیار کی ہے اس میں شہرت ملنا بہت مشکل ہے کیونکہ عوام سوئی ہے حسین خوابوں میں کھوئی ہوئی ہے اسے جھوٹے خواب سے جگاانا اتنا آسان تو نہیں ہے بہت مشکل ہے لیکن ہاں مجھے یقین ہے جس دن یہ عوام جاگ گئ انقلاب لے آئے گی اسوقت ہو گا میرا مقصد پورا جب سب کے ہاتھوں میں انقلاب کے جھنڈے ہوں گئے ۔۔۔

” نو مور بولڈ رومانس ” کے نعرے لگانے والے نوجوان ایک نیا عزم لئے میرے ہم قدم ہوں گئے ۔۔۔

پھر ہم صاف ستھرے سوشل میڈیا کا آغاز کریں گئے جہاں عورت کو سر سے ڈوپٹہ نہیں اتارنا پڑے گا اور ناہی بیہودہ لباس پہننا پڑے کا لوگ اپنے ٹیلنٹ کو دیکھائیں گئے جسم کو نہیں ۔۔۔ لیکن یہ راہ کانٹوں سے بھری ہے دیکھوں میں تم لوگوں کو جھوٹا آسرا ہر گز نہیں دونگا

ہوسکتا ہے میں پیسے دوسرے ڈاریکٹر کی نسبت کم دوں ہو سکتا ہے میرے ڈرامے میں کام کرنے سے آپ لوگوں کی شہرت ختم ہو جائے کیونکہ تاریخ گواہ ہے حق کی راہ خاردار ہوتی ہے پیر لہو لہان ضرور ہوتے ہیں قربانیاں دینی پڑتیں ہیں لیکن یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں لوگوں کو ایک نئ راہ دیکھا جاتیں ہیں اور جب بات لوگوں کو سمجھ آ جائے تو ان کے حق کی جانب بڑھتے ہوئے طوفانی قدموں کو کوئی نہیں روک سکتا میں بھی اس بے حیائی اور بولڈ رومانس کے خلاف خوابوں کو چھوڑ کر سچ دیکھانے کا عزم رکھتا ہوں ۔ مگرتم لوگوں پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔۔۔ میرا ساتھ نا دینا چاہوں تو بے شک مت دو شہرت دولت تم لوگوں کو مل جائے گی ۔۔۔ لیکن میرے ساتھ شاید فاقے بھی کاٹنے پڑیں ۔۔۔ ” زکی کی صاف گوئی پر مہرونساء

کے دل میں زکی کی عزت اور بڑھ گئ تھی ۔۔۔ وہ شخص واقع اس معاشرے کا رہنے والا نہیں تھا

اسکی سوچ سطحی نہیں تھی وہ ایک اکیلا ہی سوشل میڈیا کو بدلنے کا عزم رکھتا تھا ۔۔۔

ع

رفته رفته منقلب ہوتی گئی رسم چمن

دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں بنتا گیا

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

جس طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایان شوق

خار سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا

تم لوگوں کو لگتا ہے میں نا کام ہوا ہوں ؟ ایسا نہیں ہے زکی نے چند خطوط ان کے سامنے رکھے

یہ میری کامیابی کی دلیل ہیں ۔۔ انہیں پڑھوں ۔۔۔

چھ سات خط تھے یسرا فاضل اور مہرونساء نے وہ خط پکڑ لئے

وہ مختلف شہروں سے آئے تھے لڑکیوں کے تھے آپ کے ڈرامہ عزت نے ہماری عزت بچا لی ہم ناولز کی دیوانی لڑکیاں روڈ ہیروں کو خوابوں کا شہزادہ بنا لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ ہمہیں اپنے ساتھ محلوں میں لے جائے گا لیکن آپ کے ڈرامہ عزت نے ہمہیں یہ دیکھایا کہ سینڈیلا کی کہانی کی اصل حقیقت کیا تھی ۔۔۔ ہم عزت کا حشر دیکھ ڈر گئیں اور ایسی محبت سے توبہ کر لی جو عزت کے بدلے ملتی ہے ۔۔ تھنکس زکی بھائی رائٹر جی کو ہمارا سلام کہیے گا “

اگر میرے اگلے ڈرامے سے۔ چھ کی جگہ بارہ لڑکیاں بھی گاؤں میں ہونے والی فرسودہ رسموں میں سے ایک غلط رسم توڑنے والی ہو گئیں۔ تو سمجھوں کے میں کامیاب ہوں انقلاب شروع ہو چکا ہے ۔۔ بس کاروں بننے کی دیر ہے ۔۔۔” زکی کی باتوں نے تینوں

کے ہوش اڑائے تھے سب سے پہلے یسرا نے ہامی بھری تھی اس کے بعد فاضل نے مہرونساء تو پہلے ہی زکی کی ہو چکی تھی وہاں تو اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا

*****…..,

پہلی بار حازم کی نظر ٹی سے ہٹنے کو تیار نا تھی

وہ ڈرامہ اسے مکمل طور پر اپنے حصار میں لے چکا تھا ٹی وی کو سرچ کرتے ہوئے پاکستانی چینل پر چلنے والے عزت ڈرامے نے حازم کے اندر کے تار چھیڑ دیے تھے عزت نامی ہیروئن کے ڈائیلاگز اس کےآنسوں اسکی سسکیاں حازم اس کی جگہ ہلنے نہیں دے رہیں تھیں ۔۔۔ ایک لڑکی کو محبت کے نام پر گھر سے بھاگانے پر مجبور کرنے والا شخص

اسے بیوی کے بجائے کچھ اور ہی سمجھ رہا تھا ۔۔۔

بظاہر ڈرامے میں کچھ بھی بولڈ نا تھا ہیرو نے اس لڑکی کاہاتھ تک نہیں چھوا تھا وہ لڑکی بھی ڈوپٹہ سر پر اوڑھے ایکٹنگ کر رہی تھی لیکن اسکے الفاظ دل کو چیر دینے والے تھے کچھ پل حازم کو لگا کہ عزت کی جگہ مہرونساء کھڑی ہے اصل ہوش حازم کے اس وقت اڑے جب ڈرامہ ختم ہونے کے بعد رائٹر کا نام اس نے پڑھا تھا ۔مہرونساء نیاز