186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 29

Meri Jaan by Umme Hani

حازم کو جب ہوش آیا وہ ہاسپٹل میں تھا پٹیوں سے لپٹا ہوا ۔۔۔ شائستہ بیگم اور سہیل صاحب اسکے پاس ہی کھڑے تھے ۔۔۔ شائستہ بیگم رو رہیں تھیں

حازم کے سر میں شدت سے درد اٹھ رہا تھا ۔۔۔ بر وقت ہاسپٹل پہچنے پر جان بچ گئ تھی لیکن چوٹیں بہت آئیں تھیں ۔۔۔ چند دن بعد جب وہ گھر پہنچا تو رفعت بیگم اسے دیکھ اسکے لگ کر رونے لگیں

سہیل صاحب نے انہیں حازم کی حالت سے بے خبر ہی رکھا تھا ۔۔۔ کیونکہ وہ پہلے ہی ذہنی مریضہ بنکر چکیں تھیں پھر حازم میں انکی جان بستی تھی ۔۔۔ حازم سے وہ پہلے بھی بہت پیار کرتی تھیں لیکن شرمینہ کہ بعد سے وہ اسے نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی تھیں

لیکن اب حازم کو پٹیوں میں لپٹا دیکھ کر وہ اسکے ساتھ لگی رو رہیں تھیں

” تمہیں کیا ہو گیا ہے حازم۔۔۔ کیسے اتنی چوٹیں لگ گئیں” وہ روتے ہوئے پوچھنے لگیں

” میں ٹھیک ہوں پھپو ۔۔۔ کچھ نہیں ہوا مجھے ۔۔۔ کیوں پریشان ہو رہی ہیں آپ چپ ہو جائیں ۔۔۔ ” انہیں اپنے ساتھ لگائے وہ تسلی ہی دے سکتا تھا ۔۔۔

رفعت بیگم رات کو بھی حازم کے ساتھ ہی تھیں اسکا بہت خیال رکھ رہیں تھیں ۔۔۔ اب بھی اسے دوا دے رہیں تھیں

” پھپو میں خود بھی دوا کھا سکتا ہوں آپ کیوں اتنی پریشان ہیں ” حازم کو رفعت بیگم کا یوں پریشان ہونا فکر مند کر رہا کہ کہیں وہ پھرسے بیمار نا پڑھ جائیں دفعت بیگم اسکے پاس ہی بیٹھی تھیں

” اپنی پروا اگر کر سکتے تو یہ حالت نا ہوتی تمہاری اگر تم مہرو کو اپنے ساتھ لے آتے تو مجھے یہ سب نا کرنا پڑتا وہ تمہارا خیال رکھ لیتی ” رفعت بیگم یہ کہہ اس کے پاس سے اٹھ کر جانے لگیں تھیں جب حازم نے انکا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بیٹھا لیا

” پھپو آپ جانتی ہیں مہرو کو ؟؟” حازم انہیں جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر پوچھ رہا تھا کیونکہ انہوں نے ہمیشہ مہرونساء کو شرمینہ ہی کہا اور سمجھا تھا

” ہاں تمہاری بیوی ہے ۔۔۔ میرا بہت خیال رکھا ہے اس نے سچ پوچھوں تو مجھے یاد آتی ہے مہرو کی ۔۔۔ میں بہت یاد کرتی ہوں جیسے تم کرتے ہو ” رفعت بیگم کی بات پر وہ نظریں چرا سا گیا تھا ۔۔۔ جیسے اس کی دل عزیز پھپو نے اسکے اندر چوری پکڑ لی ہو یہ بات وہ اب تک اپنے آپ سے جھٹلتا ا رہا تھا

لیکن سچ تھا جب سے وہ یہاں آیا ایک الجھن کا شکار تھا چاہ کر بھی مہرونساء کی یاد سے پیچھا نہیں چھڑوا پا رہا تھا

” میں کیوں کروں گا اسے یاد ۔۔۔ پھپو وہ اچھی لڑکی نہیں ہے اس نے ہماری شرمینہ کو ہم سے چھینا ہے ” حازم نے وہی جھوٹی تسلی رفعت بیگم کو بھی دی جو وہ اپنے آپ کو دے رہا تھا

” صرف وہ قصوروار نہیں ہے مہرو نے مجھے سب کچھ بتایا تھا حازم ۔۔۔ لیکن دیکھوں میں بھی کتنی پگلی ہوں سب کچھ بھول جاتی ہوں اب یاد آ رہا ہے کہ اس نے مجھ کہا تھا کہ وہ شرمینہ نہیں ہے شرمینہ مر چکی ہے وہ مہرونساء ہے ۔۔۔ بہت روئی تھی وہ اس دن حازم میرے سامنے ہاتھ جوڑے معافیاں مانگ رہی تھی ” حازم کے لئے یہ بات بھی کسی انکشاف سے کم نا تھی ۔۔۔ وہ حیرت سے رفعت بیگم کو دیکھ رہا تھا

” مہرو نے آپ سے کہا تھا کہ شرمینہ کو اس نے مار ڈالا ہے ؟” حازم نے حیرت سے پوچھا تھا

” ہاں حازم مہرو نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اسے کوئی سخت سی سزا دے دوں ۔۔۔ اسے مارو پیٹوں بد دعائیں دوں ۔۔۔ کیونکہ وہ قصوروار ہے ۔۔۔ لیکن میں چپ چاپ اسے روتا دیکھ رہی تھی۔ مجھے اسکی سسکیوں میں شرمینہ کی سسکیاں سنائی دینے لگیں تھیں ۔۔ مجھے لگا قصور صرف مہرو کا نہیں میرا بھی تھا ۔۔ تمہارا بھی تھا ۔۔۔ ہم نے شرمینہ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی میں ماں تھی میری ذمہ داری اس پر ذیادہ تھی مجھے دیکھنا چاہیے تھا کہ میری بچی کیا پڑھ رہی ہے ۔۔۔ وہ حساس تھی کوئی بات ذہن میں بیٹھا لیتی تو مہینوں نہیں بھولتی تھی کسی دکھ دیکھ لیتی تو آنسوں بہانے لگتی تھی ۔۔۔ لیکن میں نے کبھی غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ وہ کیوں تم سے دور بھاگتی ہے ۔۔ وہ ایسا کیا پڑھتی ہے ۔۔۔ جوشادی کے نام سے اسکی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے وہ کیوں بد حواسی کا شکار ہو جاتی ہے جب بھی شادی کا اس سے کہا جاتا تھا ” رفعت بیگم کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے انہوں نے اپنی بات جاری رکھی

“میں نے اسے پیار بہت دیا حازم لیکن شعور نہیں دیا ۔۔۔ اسے کبھی یہ نہیں بتایا کہ کیا پڑھنا چاہیے اور کن باتوں کو پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔۔۔

لیکن جب مہرو نے بتایا کہ شرمینہ کیا پڑھتی تھی مہرو کیا لکھتی تھی کس چیز کے خوف نے میری بچی کو اتنا خوفزدہ کر دیا کہ اسے شادی سے ذیادہ موت کو اپنا لینا آسان لگا ۔۔۔ تو مجھے۔ خود پر افسوس ہوا

ہر بات کا کو جاننے کاایک وقت ہوتا ہے ۔۔۔ اسے انسان وقت پر ہی جانے تو اچھا ہوتا ہے ۔۔۔

ورنہ سوشل میڈیا کی لگائی گئی آگ میں شرمینہ جیسی معصوم ذہن کی لڑکیاں جلد ہی اسکی لپیٹ میں آ کر نقصان اٹھاتی ہیں ۔۔۔

زنا صرف طرح ایک ہی قسم کا نہیں ہوتا ۔۔۔ زنا سوچ کا بھی ہے ۔۔ باتوں کا بھی ہے ۔۔۔۔ میاں بیوی کا رشتہ ایک فطری سا ہے ۔۔۔ اللہ نے اپنی بنائی گئ ہر مخلوق کی فطرت میں اس بات کو ڈال دیا ہے افزائش نسل کا عمل صرف انسانوں تک تو محدود نہیں ہے ۔۔۔ اور نا ہی اس کے لئے کسی ٹرینگ کی ضرورت ہے

جنگل کے جانور بھی بنا جانے اس پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں ۔۔۔

بنا کوئی شعور رکھے ۔۔۔ آسمان میں اڑتے پرندے بھی افزائش نسل کے لئے فطری طور پر عمل کرتے ہیں یہاں تک کے پیڑ پودوں کی بھی افزائش اللہ کے حکم سے ازل سے ہوتی آ رہی ہے اور ابد تک چلے گئے ۔۔۔۔ کیونکہ یہ اللہ کا نظام ہے۔۔ فطرت ہے ۔۔۔ کوئی انوکھی بات نہیں جب ایک خر دماغ رکھنے والے چرند پرند پھول اور پودے اپنی فطرت کے محور میں رہ کر اس نظام کو چلا رہے ہیں تو ایک انسان جو کہ اشرف المخلوقات ہے ۔۔۔ کیا وہ فطرت سے دور ہے؟ ۔۔۔ اسے اس رشتے کو جاننے کے لئے وہیات قسم کے رسائل اور سوشل میڈیا سے جاننے کی ضرورت ہے کہ شوہراور بیوی کا تعلق کیا ہے ۔۔۔؟ نہیں ۔۔۔ یہ صرف نفسی خواہشات ہے جو ہوا کو بڑھاتی ہے ۔۔۔ لفظوں کا زنا ہے ۔۔۔ اور اس میں لکھنے والا جتنا گناہگار کے پڑھنے والا بھی برابر کے گناہ میں شریک ہے ۔۔۔ اللہ نے ہمہیں اختیار دیا ہے

ہم چاہیں تو نا پڑھیں ۔۔۔ نا ہی بولڈ لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں اگر ہم معیاری پڑھیں گئے اور اسی کوسپورٹ کریں گئے تو ہمارے ذہنوں کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں بھی پاکیزگی اترے گی

ہم بہودگی پڑھتے ہیں انکی تعریفوں کے جھنڈے گاڑتے ہیں اور کہتے آپ تنقید کی پروا نا کریں ہم آپ کو پڑھتے ہیں ۔۔۔ آپ بس لکھیں ہمارے لئے لکھیں ۔۔۔ لوگ آپ کی تحریر سے حسد کرتے ہیں ۔۔۔ آپ اپناقلم نا روکیں ہم تو آپ کی کہانی کے دیوانے ہیں ۔۔۔ لکھنے والا آپکی شہوت کو اکساتا ہے اور پڑھنے والا لکھنے والے کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے اور اسے غلط لکھنے پر اکساتا ہے تا کہ اسکی کہانی سے حظ اٹھا سکے ۔۔۔۔ جس قسم کی محبت کا طریقہ ان رسالوں اور سوشل میڈیا پر دیکھایا جاتا انسان اور جنگلی جانور میں فرق کرنا مشکل ہے ۔۔۔ ہم اپنے بچوں کو رومانس کے نام پر انسان سے جانور بنا رہے ہیں ۔۔۔ حالانکہ دنیا میں سب سے پہلا رشتہ ہی اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کا قائم کیا

افزائش نسل کا سلسلہ چلایا ۔۔۔۔ اس رشتے کی خوبصورتی اسلام کے علاؤہ کسی مذہب میں نہیں بتائی گئی ۔۔۔ لیکن ہم نے اپنی اندر کی نفسانی خواہشات کی ذرا سی تسکین کی خاطر ایک آگ سی لگا دی قصور وار وہ بھی ہے جو اسے پڑھتا ہے

۔۔۔ ایک دفعہ کاذکر ہے آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے ترجمے کا مفہوم ہے

. آدمی جس کے ساتھ محبت رکھتا ہے (روز قیامت) اسی کے ساتھ ہو گا۔

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے قیامت کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ وہ بولا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اسی کے ساتھ ہو گا جس سے تو محبت رکھے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم اسلام لانے کے بعد کسی چیز سے اتنا خوش نہیں ہوئے جتنا اس حدیث کے سننے سے خوش ہوئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے محبت رکھتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں قیامت کے دن ان کے ساتھ ہوں گا، گو میں نے ان جیسے اعمال نہیں کئے۔

اب یہ ہم سب کے لئے کھلی نصحت ہے ۔۔۔ ہم کسے پسند کرتے ہیں کی چیز کے دیوانے ہیں کیسی محفل میں وقت گزارنا پسند کرتے ہیں ۔۔۔ پڑھنے والے تصور میں وہیں پہنچ جاتے جہاں لکھاری انہیں لے کر جاتا ہے ۔۔۔ چاہے وہ کمرے کا بستر ہی کیوں نا ہو لیکن اللہ نے ہمہیں ذی شعور بنایا ہمارے اندر بیٹھا ضمیر ہمہیں تنبیہ کر دیتا کہ یہ پڑھنا غلط ہے ۔۔۔

قرآن پاک میں بے شمار جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ

کیا ہم نے تمہیں شعور نہیں دیا ۔۔۔ کیا تم شعور نہیں رکھتے “

اچھا برا دونوں راستے ہمارے سامنے ہیں ۔۔۔ لیکن اختیار ہمارے پاس ہے ۔۔ہم چاہیں تو اچھی چیز کا انتخاب کریں ۔۔۔ لیکن ہماری سطحی سوچ اور ذہنی پستی کا یہ عالم ہے کہ ہماری مثال یہ ہے کہ مکھیاں گند کے گرد ہی جمع ہوتی ہیں ۔۔۔

قصود شرمینہ کا بھی تھا ۔۔۔ وہ کیوں پڑھتی ایسے رسائل ۔۔۔ وہ کچھ ڈر پوک تھی اس لئے شہوت کے بجائے خوف کھانے لگی ۔۔۔ ڈرنے لگی ۔۔۔ اگر ڈرتی نا تو ان باتوں سے حظ اٹھاتی وہ بھی گناہ تھا ۔۔۔ اور جو شرمینہ نے کیا وہ بھی گناہ تھا

میں صرف مہرو کو ہی الزام کیوں دوں ۔۔۔ مہرونساء کو شہرت کا چسکا تھا اسے تعریفیں چاہیے تھیں اپنے ارد گرد پرستاروں کی بیڑ اکھٹی کرنی تھی ۔۔۔

اس نے بھی غلط کیا تھا ۔۔۔ غلط میں نے بھی کیا جو شرمینہ کی ایکٹویٹی پر نظر نہیں رکھی اسے اچھا برا نہیں بتایا ۔۔ غلط تم نے بھی کیا تھا حازم

جو جلد بازی دیکھائی تمہیں لگاشرمینہ تمہیں چھوڑ کر کسی اور لڑکے کو نا اپنا لے ۔۔۔۔ قصور ہم سب تھا پھر سزا صرف مہرو کو کیوں دی گئ ۔۔۔ ” حازم بڑی خاموشی سے رفعت بیگم کو دیکھ رہاوہ کہیں سے ذہنی مریضہ نہیں لگ رہیں تھیں ۔۔۔ رو رہیں تھیں ۔۔۔۔

جو میں نے کھویا ہے حازم میں اسے کبھی پا نہیں سکتی لیکن تم غلطی پر ہو ۔۔۔

مہرونساء اتنی بری بھی نہیں ہے ۔۔۔ ورنہ مجھے ذہنی مریض ہیرہنے دیتی میری پروا نا کرتی لیکن اس نے مجھے کسی بیٹی کی طرح سنبھالا مجھ اس حقیقیت کو تسلیم کروایا کہ شرمینہ زندہ نہیں ۔۔۔ اور نا ہی وہ شرمینہ ہے ۔۔۔ اس نے مجھے حقیقت سے آشنا کروا کر معافی مانگی اپنے لئے سزا بھی مانگی تھی ۔۔۔۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا ۔۔۔ لیکن اس نے جو کچھ کیا انجانے میں کیا تھا اسے لگا تھا جب شرمینہ کی شدہ ہو جائے گی اور وہ ازواجی زندگی گزارے گی تو اپنی حماقت پر مسکرایا کرے گی ۔۔۔ لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ شرمینہ یہ انتہائی قدم اٹھا لے گی ۔۔۔

رفعت بیگم کی ساری باتیں حازم نے خاموشی سے سنی تھی۔ دل تو پہلے ہی کہیں اپنے کیے پرپشیمان ہونے ہی لگا تھا ۔۔۔ لیکن واپسی کا وہ کوئی راستہ

چھوڑ کر نہیں آیا تھا ۔۔۔ سوائے ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔ ******…

فاضل کادل جس قدر زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔ لگ رہاسینہ شگاف کر کے باہر آ جائے گا ۔۔۔

” مر گیا یار ۔۔۔۔ اب کیا کرو گا ۔۔۔ میں نے تو سوچا تھا ہاتھ جوڑ کر یسرا کی منت کر کے اسے منا لوں گا پوچھوں گا کہ اس کے ساتھ مسلہ کیا ہے لیکن اس نے تو ۔۔۔ صبح کا بھی انتظار نہیں کیااور ہاں بھی کر دی ۔۔۔ یار سب گڑ بڑ ہو گئ ہے ” فاضل سر پکڑ کر بیڈ پر بیٹھ گیا تھا لیکن پانچ منٹ بعد پھر سے زکی کی کال آنے لگی تو فاضل کو اٹھ کر اسکے روم میں جانا ہی پڑا جیسے ہی فاضل نے دروازے پر دستک دی زکی نے فورا سے دروازہ کھولا تھا اور مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگ گیا ۔۔۔

” چہرے سے لگ رہا تھا کہ حد درجہ خوش ہو زکی نے بیچ کر فاضل کو گلے لگایا تھا شاید اسکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا تھا ۔۔۔ اور فاضل کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ زکی اس سے پیچھے ہٹ کر اسے اپنے کمرے میں لے آیا دروازہ بند کیا اور اسے صوفے پر لیکر بیٹھ گیا فاضل کادل زوروں سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔

” میں آج اتنا خوش ہوں فاضل کے بتا نہیں سکتا لگتا ہے میری برسوں کی تمنا پوری ہو گئ ہے ” زکی کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ یسرا نے ہاں کرنے کے ساتھ ساتھ شاید محبت کے دو جمعلے بھی بول دیئے ہیں فاضل کی تو حالت ایسی تھی کہ زبردستی کی مسکراہٹ بھی چہرے پر لانے سے قاصر تھا ۔۔۔

” میرے دادا جی کہتے تھے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے لیکن بڑے صبر سے ملتا ہے ۔۔۔ افف کتنی جدوجہد کے بعد جا کر یہ دن دیکھنا نصیب ہوا ہے ” زکی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی

” فاضل دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس کاصبرتو اس کا سب کچھ لے ڈوبا ۔۔۔ اسے لگا تھا کہ یسرا آہستہ آہستہ مان جائے گی ۔۔۔۔ لیکن یہاں تو کچھ اور ہی ہو گیا تھا ۔۔

” مبارک ہو تمہیں ۔۔۔ منگنی کرو گئے یا ڈاریکٹ شادی “۔ فاضل کی بات پر زکی نے نافہمی سے اسے دیکھا تھا

” کیا مطلب ۔۔۔ ؟ یہ منگنی اور شادی بیچ میں کہاں سے آ گئ “

” ظاہر ہے یسرا نے ہاں کر دی ہے تو آگے یہی بچ جاتا ہے ہے ۔۔۔ شادی یا منگنی ؟” زکی نے سلگتے دل کے ساتھ کہا

” یسرا نے ؟ ۔۔۔۔ میں سمجھا نہیں ” زکی تو وہ بات بلکل بھول چکا تھا

” یار بھی کیوں پہلیاں بھجوا رہے ہو ۔۔۔ تم نے پرپوز کیا تھا یسرا کو ۔۔۔ ” فاصل کے یاد دلانے پر زکی کو خیال آیا تھا

“اوووہ ہاں وہ ۔۔۔۔ وہ بات نہیں یار ۔۔ لڑکیاں کہاں سے اتنی جلدی اقرار کرتی ہیں ۔۔۔ میں تو یہ خبر سنانے والے تھا کہ بڑی بڑی کمپنیاں ہمارے ساتھ پیسہ لگانے کو تیار ہیں ابھی میں نے صرف کاسٹ ہی ڈکلیئر کی ہے ۔۔۔ ایک پرومو ہی چلا ہے اور لوگوں کا رسپونس بہت اچھا جا رہا ہے ۔۔۔ ” زکی کی بات سن کر فاصل کاروکا ہوا سانس بحال ہوا تھا ۔۔۔

” تو یہ بات بتانے کے لئے تم نے مجھے بلایا تھا ؟ ” فاضل نے حیرت کا اظہار کیا تھا

” ہاں ۔۔۔ اسی لئے بلایا تھا کہ کوئی چھوٹی بات تو ہے نہیں ۔۔۔ ” زکی ابھی بھی فاضل کے تعجب کو سمجھ نہیں پایا تھا ۔۔۔ دوسری جانب ہسرا بہت پریشان تھی

زکی کے احسانات اس پر بہت تھے اب بھی اسکی دوسری بہن کا رشتہ پکا ہو چکا تھا اور وہ ایڈوانس پیسے زکی سے لے چکی تھی ۔۔۔ پھر جس طرح سے زکی ہر مشکل میں اس کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا وہ اس بات کو فراموش نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ اسکی والدہ کے آپریشن کے لئے بھی اس نے کم بھاگ دوڑ نہیں کی تھی بس قسمت تھی کہ اسے اسد کے جال میں پھنسا گئ تھی پھر اسد سے اس کے تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے ۔۔۔ اس کے باوجود وہ سے اپنانا چاہتا تھا شادی کرنا چاہتا تھا کوئی خفیہ رشتہ اس کے ساتھ نہیں بنانا چاہتا تھا ۔۔۔لیکن پھر بھی تذبذب کا شکار تھی ۔۔۔ دل سے فاضل نکلتا تو کوئی دوسرا بستا ۔۔۔ لیکن مسلہ یہ تھا کہ زکی کو انکار کیسے کرے ۔۔۔ وہ کمرے میں چکر پر چکر کاٹ رہی تھی۔ اور مہرونساء اسے غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہ اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی ایک کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی ساتھ ہی ساتھ یسرا کو بھی جلے پاؤں کی بلی بنے دیکھ رہی تھی

” کیا پریشانی ہے ہے تمہیں ۔۔۔ کیوں چکر پے چکر کاٹ رہی ہوں ادھر آؤں میرے آ کر بیٹھوں بتاؤ مجھے کیا الجھن ہے ” مہرونساء کب سے اسے پریشان حال دیکھ رہی تھی یسرا کو اس وقت ایک دوست کی ہی ضرورت تھی وہ مہرونساء کے سامنے بیٹھ گئ ۔۔

مہرونساء جو کوئی کتاب پڑھ رہی تھی کتاب کو بند کیا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئ

” ہاں اب بتاؤں کیا مسلہ ہے ” مہرونسا اسکی طرف پوری متوجہ تھی

” کیا بتاؤں تمہیں تم نے خود ہی سنا ہے کہ سر نے مجھے پرپوز کیا ہے ” یسرا کی متفکر چہرے پر پریشانی عیاں تھی

” تو اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے ۔۔۔ اگر زکی تمہیں پسند نہیں تو انکار کر دو ۔۔۔ سو سمپل ” مہرو نے کندھے آچکا کر کہا

” اتنا بھی سمپل نہیں ہے مہرو ۔۔۔ تم نہیں جانتی بہت احسان ہیں زکی سر کے مجھ پر کیاسوچیں گئے میرے بارے میں ۔۔۔ ” مہرو اس کے چہرے کو کچھ بہت غور سے دیکھتی رہی پھر بولی

” تم اپنی زندگی کا اےنااہم فیصلہ کسی کے احسانات کی نظر کرنا چاہتی ہو یسرا ۔۔۔ ” مہرونساء کی بات پر وہ کچھ دیر خاموش سی کو گی

” یہ بات نہیں ہے ان میں ایسا عیب بھی نہیں ہے کہ میں انکار کرو وہ اچھے ہیں باقی ڈاریکٹر سے مختلف ہیں عورت کی رسپکٹ کرنا جانتے ہیں ۔۔۔۔پر ؟۔۔۔۔۔” یسرا خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ کیا کہے

“پر تمہیں پھر بھی اتنے اچھے نہیں لگتے جتنا کہ فاضل لگتا ہے ” مہرو کے منہ سے “سچ “اور “فاضل ” کا نام سن کر یسرا کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا

” یہ فاضل بیچ میں کہاں سے آگیا ” یسرا نے نظریں چراتے ہوئے دھیرے سے کہا تھا

” وہ تو پہلے سے تھا یسرا۔۔۔ بیچ میں تو شاید تمہارے سر زکی آئے ہیں ” مہرونساء کی بات پر وہ جس قدر حیران ہوتی اتنا ہی کم تھا یسرا کے دل کی حالت مہرو کی زبان پر تھی

” تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو “

” میں بھی لڑکی ہوں میں تو اسی دن جان گئ تھی جب تم دونوں اپنے مکلمات بھول بھال کر اپنی دل کی بات ایک دوسرے سے کر رہے تھے ۔۔۔ پھر آج بھی فاصل ت

ہیں جیلس فیل کروانے کے چکر کبھی فون پر کال کر رہا تھا کبھی تمہارے سامنے مجھے اہمیت دے رہا تھا لیکن تمہارے جاتے ہی وہ بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا ہم لوگوں تمہاری اور زکی کی ساری باتیں سنی تھیں اور فاضل کی اڑتی ہوئی رنگت دیکھ میرا ذرا سا شک بھی یقین میں بدل گیا ۔۔۔ یسرااگر تمہیں محبت فاضل سے تو پھر صرف اس لئے زکی کا انتخاب کرنا کہ تم اسکی احسان۔ مند ہو یہ تو زکی کے ساتھ بھی زیادتی ہے ۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہ پاؤں گئے ۔۔۔ دل کی رضامندی لازم ہوتی کسی بھی رشتے کی پائیداری کے لئے ۔ورنہ رشتے کھوکھلے سے ہو کر ٹوٹ جاتے ہیں ۔۔ اور میں لکھاری ہوں تمہاری

اور فاضل کی آنکھوں کو دیکھ کر تم لوگوں دل کی حالت کا اندازہ لگاسکتی ہوں ۔۔۔ جب ایک کاغذی کرداروں کے احساسات کو لکھ سکتی ہوں تو کیسے ممکن ہے کہ اپنے سامنے جیتے جاگتے لوگوں کے دل کے سے انجان رہو ” مہرونساء کی بات پر یسرا بس اسے حیرت سے تکے جا رہی تھی ۔۔۔

” لیکن فاضل شادی شدہ ہے ۔۔۔ ” یسرا نے وہ تصویر والی ساری بات مہرو کو بتا دی تھی ۔۔

” مجھے نہیں لگتا کہ یہ سچ ہے یسرا۔۔ ورنہ اسکی والدہ یا بہن اس بات کا ذکر تم سے ضرور کرتی ایسی باتیں۔ تھی نہیں ہیں پھر ایک تصویر کو دیکھ کر تم اسے بات بھی کلئر نہیں کر رہی ہو سکتا ہے اس تصویر کی کوئی حقیقت ہی نا ہو” مہرونساء نے یسرا کو بات کاایک نیا رخ دیکھایا تھا جو اس نے سوچا بھی نا تھا

دوسری جانب فاضل نے بھی سچ زکی کے سامنے کہنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔

” زکی مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے ۔۔۔ سوال ذرا ذارمتی ہے لیکن سمجھوں کے میرے لئے جاننا بہت ضروری ہے ۔۔۔ ” فاضل حد درجہ پریشان سا تھا۔۔۔

” ہاں پوچھوں کیا پوچھنا چاہتے ہو ” زکی ہاتھ باندھے بڑی سنجیدگی سے پوچھنے لگا

” کیا تم یسراسے محبت کرتے ہو ؟؟میرا مطلب ہے کہ یسرا کو اپنے لئے منتخب کرنا تمہارے دل کی خواہش تھی ؟؟” فاضل نے بڑی ہمت مجتمع کر کے یہ سوال پوچھا تھا ۔۔۔

” ہاں یسرا کا انتخاب میرے خواہش ہی ہے ۔۔۔ ہاں لیکن یہ بھی سچ ہے مجھے اس سے فی الحال محبت نہیں ہے ۔۔۔ سچ پوچھوں تو میں شادی سے پہلے محبت کا قائل نہیں ہوں لیکن یسرا بہت اچھی لڑکی ہے اس میں ایک اچھی بیوی ہونے کی ساری خوبیاں موجود ہیں ۔۔۔ شادی کے بعد محبت کا ہو جانا لازم ہے ۔۔۔ ” فاضل نے سکون کی لمبی گہری سانس لی تھی

” شکر ہے یار کہ تم اس سے محبت نہیں کرتے ۔۔۔ بس یہ بات میرے لئے اہم ہے ۔۔۔ کب سے میں پریشان تھا ۔۔۔ ” فاضل یوں سکون میں آیا تھا جیسے سارا مسلہ حل ہو گیا ہو ۔۔۔ لیکن زکی ابھی بھی انجام تھا ۔۔۔

” کون مسلہ “؟ زکی نے نافہمی انداز سے کہا

” میں یسراسے بہت محبت کرتا ہوں اور وہ

مجھ سے محبت کرتی ہے بس کسی بات پر مجھ سے ناراض ہے ۔۔۔ اس لئے اگر وہ تمہیں سے شادی کے لئے رضامندی بھی دے تو تم ہاں مت کرنا ۔۔ میں اسے بعد میں منا لوں گا ۔۔۔ ” فاصل اسکی منت پر اتر آیا تھا

زکی نے بڑی زریک نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔

” تو یہ مسلہ ہے ” زکی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

” ہاں یہی مسلہ ہے جو مسلہ کشمیر بنتا جا رہا ہے “

” چلو ٹھیک ہے تمہارا یہ مسلہ بھی کل حل کر دیتے ہیں ” فاضل تو خوشی کے مارے اسکے گلے لگ گیا تھا ۔۔۔

” تھنک یو سو مچ”

دوسری طرف یسرا نے مہرو سے یہ کہا تھا کہ وہ اپنی طرف سے زکی سے کہے کہ وہ یسرا سے جواب طلب نا کرے اور اس قصے کو یہی ختم کر دے کیونکہ وہ زکی کو انکار نہیں کر پائے گی کیونکہ وہ اسکی احسان مند ہے مہرو نے سنتے ہی انکار کر دیا تھا متذبذب سی ہوئی تھی

” یسرا میں یہ کیسے کہہ سکتی وہ بھی اپنی طرف سے ۔۔ زکی کیا سوچے گا کہ مجھے تمہارے اور اسکے رشتے سے کیوں اعتراض ہے ۔۔ تم فاضل سے صلح کر لو اس سے کہو کہ وہ زکی سے بات کر لے ” مہرو کو زکی کی ذاتیات میں بات کرنا اکوڈسا لگ رہا تھا ناوہ تین میں تھی نا تیرا میں ۔۔۔

” نہیں اگر میں نے فاضل سے کہہ دیا تو وہ تو خود کو ناجانے کیا سمجھنے لگے گا ۔۔۔ بس تم کچھ بھی بہانہ کر دو سر سے کہ دو کہںوہ مجھ سے شادی نا کریں میں انکے ساتھ بلکل اچھی نہیں لگوں گی ۔۔۔ پلیز ” یسرا کی التجا پر مہرونسا نے ہامی تو بھر لی لیکن ذہنی طور پر بلکل سمجھ نہیں پا رہی تھی اپنا آپ انفٹ سا لگ رہا تھا ۔۔۔

لیکن دوسرے ہی دن وہ زکی سے بات کرنے چلی گئ ۔۔۔ رات کو ہوٹل کے اندر بنے لان میں ہی کھڑا کافی پی رہا تھا ۔۔۔ اور یہی سوچ رہا تھا اگر یسرا سے دوبارہ اس موضوع پر بات ہی ناکرے ۔۔۔ بات یونہی ختم ہو جائے گی ۔۔ جب مہرو نساء کے گلا صاف کرنے کی آواز پر وہ پلٹا تھا تھااس وقت وہ شلوار قمیض پر اسی کی شال خود پر لپیٹے کھڑی تھی ۔۔

” آپ ۔۔۔ ؟” زکی کو اسے یہاں دیکھ کچھ حیران تھا

“جی مجھے۔۔۔ آاپ ۔۔۔ س۔سے کچ۔کچھ بات ۔۔۔ کرنی تھی ” مہرونساء کی زبان زکی کے سامنے کچھ لڑکھڑاسی گئ تھی ۔۔۔ کیونکہ وہ اس معاملے میں زبردستی سے لائی گئ تھی ۔۔۔ پرپوز زکی نے جاتا کو کیا تھا اور انکار اس کے ذریعے سے کروا رہی تھی وہ بھی۔ اس صورت میں کہ یسرا کا نام بھی نا آئے ۔۔۔

” جی مہر کہیے ” زکی کو مہرونساء کچھ نروس سی بھی لگ رہی تھی اور مہرونسا کا یہ حال تھا کہ پورادن جو لفظوں کی ترتیب اس نے اپنے ذہن میں زکی سے بات کرنے کے لئے دی تھی وہ سب گڈ مڈ سا کو کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔

” میں سوچ رہی تھی کہ ۔۔۔ نہیں بلکہ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ۔۔۔ آااپ کوابھی شادی بلکل نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔ ” ایک غیر متوقع سی بات تھی جو مہرونساء نے کی تھی

” واٹ ” زکی حلق کے بل چلایا تھا

” ججی ۔۔ آاپ کیسے اتنی جلد بازی میں یہ فیصلہ کر سکتے ہیں شادی شادی ہوتی ہے کوئی گڈا گڈی کا کھیل تھوڑی ہے بہت سوچ سمجھ کر شادی کرنی چاہیے انسان کی پوری زندگی کا سوال ہوتا ہے

اور یسرا تو آپ کے ساتھ بلکل بھی سوٹ نہیں کرتی ۔۔ بس آپ یسرا سے انکار کر دیں ” مہرو دل کی دوڑتی بھاگتی دھڑکنوں نے ایسا بد حواس کیا تھا کہ سارے لفظوں کو نا جانے کس طریقے سے الٹا سیدھا وہ زکی سے کہہ گئ تھی ۔۔۔ وہ بڑی حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اس قسم کی بات کی توقع وہ بہرحال مہرونساء سے نہیں کر سکتا تھا ۔۔

وہ بڑی غور سے اسے دیکھتے ہوئے قدم اٹھاتے ہوئے مہرونساء کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا

” آپ جانتی ہیں مہر کہ آپ مجھ سے کیا کہہ رہیں ہیں ؟” زکی کو اب بھی اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ اپنے آپ میں رہنے والی ریزیو سی لڑکی اس سے یہ سب کہہ جائے گی

” بس میں نہیں چاہتی کہ آپ یسراسے شادی کریں ” مہرنساء کو لگ رہا تھا وہ اگر مزید یہاں رکی مزید کچھ غلط ہی بول جائے گی

” تو پھر یہ بھی بتا دیں کہ میری ساتھ کون سی لڑکی سوٹ کرے گی ۔۔۔ مجھے کس سے شادی کرنی چاہے ؟؟۔” زکی یہ جاننا چاہتا تھا کہ مہرونساء نے یہ بات کیوں کی یہ بھی پتہ تھا کہ جتنی وہ بد حواس ہے کسی کی پڑھائی ہوئی باتیں کر رہی ہے خود سے کچھ نہیں کہہ رہی

” مجھے کیا معلوم ۔۔۔ آپ کو پتہ ہو گا “؟ مہرونساء کو لگ رہا کہ وہ بری طرح پھنس گئ ہے

” نہیں مہر جو مجھے پسند ہے آپ کی دور اندیشی کے مطابق وہ تو ۔میرے ساتھ سوٹ ہی نہیں کرے گی ۔۔ اور شادی ۔۔ شادی ہوتی ہے گڈا گڈی کا کھیل نہیں ہوتا بہت سوچ کر فیصلہ کرنا چاہیے ۔۔۔ اس لئے میں سوچ رہا ہوں کہ مجھ میں تو اتنی سمجھ ہے ہی نہیں کہ میرے ساتھ لڑکی کون سی سوٹ کرے گی لیکن آپ ماشااللہ بہت سمجھدار ہیں قابل ہیں اس لئے اب یہ کام آپ کے ذمے ہیں آج کے بعد میرے لئے لڑکی آپ نےہی پسند کرنی ہے ۔۔۔۔ آخر میری پوری زندگی کا سوال ہے ۔۔۔ شادی شادی ہوتی ہے ۔۔۔ ” ایک ایک قدم وہ اسکی جانب بڑھا رہا تھا ساتھ ہی ساتھ مسکرا بھی رہا تھا اور وہ اپنے قدم پیچھے لے رہی تھی زکی اسے اسی کی باتوں کے جال میں اچھی طرح سے الجھا چکا تھا مہرونساء فورا سے پلٹ گئ اور تیزی سے ہوٹل کے اندر جانے لگی اپنے پیچھے سے وہ زکی کا قہقہ سن رہی تھی جو شاید وہ اسکی بیوقوفی پر لگا رہا تھا