Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 11
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 11
Meri Jaan by Umme Hani
مہرونساء جب کمرے میں داخل ہوئی تو حازم کھانس رہا تھا وہ اندر ا کر اسکے مقابل کرسی پر بیٹھ گئ بھوک کی شدت اور بھی بڑھ چکی تھی اس لئے حازم کو نظر انداز کر کے مہرو نے ہاٹ پاٹ سے روٹی نکالی اور نوالہ توڑ کر کھانے لگی حازم اب کافی سنبھل گیا تھا موبائل کی ویڈیو کو پھرسے شروع کیا اور اس کی وائز فل کر دی اور موبائل ٹیبل پر اپنے پاس رکھ دیا ویڈیو کلپ چلنے لگا
“میری ہونے والی بیوی گھر سے خود نہیں بھاگی اسے اغوا کیا گیا ہے ۔۔۔ میں یہ بات حلفا کہنے کو تیار ہوں کہ یہ کسی نے سازش کی ہے اور وہ جو کوئی بھی ہے جہاں بھی اگر مجھےسن رہا ہے تو اچھی طرح سے جان لے میں اسکی چنگل سے مہرونساء کو نکالے بنا چین سے نہیں بیٹھوں گا” فواد کی آواز پر مہرونساء اگلا نوالہ لینا بھول گئ تھی تڑپ کر حازم کے کے پاس رکھے موبائل کی جانب نظریں اٹھیں تھیں گود کی ایک جھلک دیکھ دل کی بے قراری نے بے ساختہ مہرو کو موبائل اٹھانے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔ خود ایک دن میں اجڑی ہوئی حالت میں دیکھا تھا اسکا تھکا ماندا اترا سا چہرہ متورم آنکھیں اور آنکھوں آنکھوں میں اپنے لئے فکرمندی اور نمی دیکھ وہ تڑپ ہی تو گئ تھی
حازم نے فون مہرونساء کے ہاتھ سے چھین لیا
” آلو کا پٹھا ۔۔۔ کتا ۔۔کمینہ ۔۔۔ ڈالا سمجھتا کیا ہے خود کو ” ایک ایک لفظ حازم نے جما کر کہا تھا ۔۔۔ مہرونساء نا جانے کس دل سے سن رہی تھی شدت سے لگی بھوک اب مٹ چکی تھی آنکھوں سے بس ٹب ٹب آنسوں بہہ رہے تھے ۔۔ پانی پی کر وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ
” تم کہاں جارہی ہو جان من کھانا کھاؤ یہاں بیٹھ کر اور بیفکر رہو تمہارا عاشق تمہیں ڈھونڈنے کے لئے۔ ایڈیاں بھی رگڑتا ہوا مر جائے تب بھی یہاں کبھی نہیں پہنچ پائے گا ” سلاد کی پلیٹ سے کھیرا اٹھا کر بڑے مطمئن انداز سے بات کر رہا تھا
” مجھے بھوک نہیں ہے ” مہرو نے غصے اور نفرت کے ملے جلے جذبات سے حازم کو دیکھا پھر اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا حازم پھر پور نظر اسکے روتے ہوئے چہرے پر ڈالی
” مہرونساء چپ چاپ سے کھانا کھاؤ ورنہ اب تک تم نے صرف میرا پیار دیکھا ہے اور وہ بھی تم سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ خود ہی سوچ لو مہرونساء میرا غصہ کیسے برداشت کروں گی ۔۔۔ تم اگر کھانا کھائے بغیر یہاں سے گئ تو مجھے بووووووہت غصہ آئے گا اور غصے میں میں پاگل سا ہو جاتا ہوں بلکل بے قابو سا ہونے لگتا ہوں ۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔۔۔” حازم بڑے متوازن لہجے میں کھانا کھاتے ہوئے مہرونساء کے دل دہلا رہا تھا مہرونساء واپس کرسی پر بیٹھ گئ اور کھانا کھانے لگی حازم نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا
” گڈ گرل ۔۔ جلدی سے کھانا کھاؤں ۔۔ پھر ہم مل کر تمہارے خبیث عاشق کو اسکے ویڈیو کلپ کا جواب بھیجیں گئے جس میں تم اس سے یہ کہو گی کہ تم نے مجھ سے شادی اپنی خوشی اور رضامندی سے کی ہے ۔۔۔تم مجھ سے بہت کرتی تھی میرے بغیر رہ نہیں سکتی تھی اس لئے تم نے میرے ساتھ نکاح کیا ہے اور کوئی بھی تمہیں پریشان کرنے کی کوشش نا کرے تم میرے ساتھ بہت خوش ہو کسی سے رابطہ بھی نہیں رکھنا چاہتی ” مہرو نساء تو سن کر سکتے میں آ گئ تھی ۔۔۔ ایسی ویڈیو کا مطلب تو سیدھا سا یہ تھا کہ اسے کوئی ڈھونڈنے کی کوشش بھی نا کرے ۔۔۔ مہرونساء اسے تاسف سے دیکھ رہی تھی
جو بڑے مطمئن انداز سے کھانا کھا رہا تھا
با مشکل ہی مہرونساء نے ایک روٹی ہی اپنے اندر اتاری تھی
حازم کھانا کھاتے ہی مہرونساء کو واپس کمرے میں لے گیا
“چلو مہرونساء اب اچھے سے ڈوپٹہ اوٹھو چہرے پر دلفریب سی مسکراہٹ سجاؤں اور ایک بہت ہی محبت بھرے انداز اپناتے ہوئے تم نے ویڈیو میں وہ سب کہنا ہے جو میں نے تم سے کہا ہے “
” مجھے ایسی کوئی ویڈیو نہیں بنانی ۔۔۔۔ کیونکہ سچ تو ہے کہ میں تمہارے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تم نے مجھ سے جبراً نکاح کیا ہے ” مہرونساء کا جواب سن کر حازم اس کے بلکل قریب آ کر کھڑا ہو گیا کچھ دیر اسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا پھر مسکرانے لگا
“جب میں تمہیں نکاح کے لئے بے بس اور مجبور کر سکتا ہوں مہرونساء تو پھر یہ بھی سمجھ لو کہ ویڈیو کے لئے بھی کر سکتا ہوں ایک بات میری اور سمجھ لو سوئٹ ہارٹ تم اس وقت مکمل طور پر میرے رحم و کرم پر ہو انکار کی تمہارے پاس گنجائش بلکل نہیں ہے ” اپنا چہرہ وہ مہرونساء کے بلکل قریب کر کے اسے جتانے والے انداز میں بولا مہرونساء نے تاسف سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
” کسی کو جب کوئی سزا سنائی جاتی ہے تو اسے اس کا جرم بھی بتایا جاتا ہے حازم۔۔۔ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے یہ میں نے ایک ہی رات میں جان لیا ہے
نا ہی میرے عاشق ہو نا ہی پرستار تمہارا ہر انداز مجھے یہ بتاتا ہے کہ تم مجھ سے کسی بات کا بدلہ لے رہے ہو ” یہ وہ سوال تھا جو مہرونساء کے ذہن میں صبح سے کلبلا رہا تھا حازم نے باغور اسے دیکھا پھر ہسنے لگا
” کافی سمجھدار ہو جان من مجھے ایسی لڑکیاں بہت بھاتی ہیں جو عقل کا استعمال کرتی ہیں ” یہ کہہ کر اس نے مہرونساء کے کھلے بال اسکی پشت سے مٹھی میں جکڑے تھے مہرونساء۔ کراہ کے رہ گئ
” لیکن یہی عقل جب ضرورت سے زیادہ استعمال ہونے لگے تو مجھے چڑ سی ہونے لگتی ہے مس رائٹر ۔۔۔اس لئے میرے معاملے میں تم اپنی عقل کو زیادہ زحمت دینے کی کوشش مت کرو صرف یہ سمجھ لو میری جان کہ تم میری بیوی ہو اور میری ہر بات پر سر جھکانا تمہارا فرض ہے میں تمہیں یہاں کیوں لایا ہو ؟۔۔ تم سے محبت کرتا ہوں؟ یا نفرت ؟یہ سوچنا تمہارا کام نہیں ہے چلو جلدی سے ڈوپٹہ اوڑھو اور اپنے عاشق کے لئے ویڈیو بنانے کے لئے تیار ہو جاؤں چاہو تو مکالمات کو جاندار بنانے کے لئے اپنی طرف سے الفاظ کا استعمال کر کے میری محبت میں جو چاہے کہہ دو ” ایک ایک لفظ حازم نے دانت بینچ کر غصے سے بولے تھے اسکے بعد۔ مہرونساء کے بالوں کو چھوڑ دیا تھا مہرونساء تنگ آ چکی تھی اس لئے دھکا دے کر خود سے پیچھے کیا
” مجھے کوئی ویڈیو نہیں بنانی حازم ۔۔ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہوں تم انسان نہیں ہو جانور ہو ۔۔۔ ” مہرونساء تنگ آ چکی تھی اس لئے اس کا صبر کا پیمانہ ختم ہو چکا تھا اس وقت وہ چلا کر بولا رہی تھی ۔۔حازم نے پل بھی نہیں گزارا تھا اور ایک تھپڑ اسکے منہ پر مارا تھا وہ چکرا کر رہ گئ تھی
پھر اسے بازو سے دبوچ کر بولا
” تمہیں بتاؤں جانور کیا ہوتے ہیں ۔۔۔ کیسے نوچ نوچ کر کھاتے ہیں ۔۔۔ پیار کی زبان سمجھ نہیں آتی تمہیں تو ٹھیک ہے مہرونساء تمہیں میں اب اس زبان میں سمجھاتا ہوں جو تمہیں اچھی طرح سے سمجھ آتی ہے “, یہ کہہ کر اس نے مہرونساء کو بیڈ پر دھکیلا تھا
” مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہے ۔سمجھے تم مجھے معلوم ہے فواد مجھے ڈھونڈ لے گا اور یاد رکھنا جب مجھے موقع ملا میں یہاں سے بھاگ جاوں گی ” وہ بپھر کر بولی تھی حازم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اور کمرے سے باہر نکل گیا مہرونساء رونے لگی تھی
” فواد خدا کے لئے مجھے یہاں سے نکال لو میں اگر مزید یہاں رہی تو ۔مر جاؤں گی ” سسکیوں سے روتے ہوئے وہ فواد کو یاد کر رہی تھی
دس منٹ بعد کمرے کا دروازہ پھر سے کھلا تھا حازم کے ساتھ اس کا کتا ٹومی بھی کمرے میں داخل ہوا مہرونساء کی ٹومی کو دیکھ کر جان نکلنے لگتی تھی اس قدر وہ کتے سے ڈرتی تھی ۔۔
” ٹومی اپنی مالکن کو اچھی طرح سے سمجھاؤں کہ اسے یہاں پر کیسے رہنا ہے ” یہ سن کر ٹومی مہرونساء کے پاس جانے لگا مہرونساء کی چیخیں بلند ہوئیں تھیں
” حازم پلیز اسے یہاں سے باہر نکال دو ۔۔۔ مجھے س سے بہت ڈر لگتا ہے ” مہرو نساء کی رنگت پل میں سفید ہوئی تھی عجیب سا کتا تھا بلکل سیاہ۔ رنگ والا اور اسکی آنکھیں سرخ ہوتی تھیں جیسے آنکھوں میں خون اترا ہو زبان باہر نکالے وہ لمبے لمبے سانس بھر رہا ہوتا تھا ۔۔۔ مہرونساء کی ٹومی کو دیکھ کر جان ہی نکل جاتی تھی
لیکن حازم کمرے سے باہر نکل کر دروازہ بند کر چکا تھا اب وہاں ٹومی تھا اور مہرونساء
******……
یسرا گھر پہنچ کر سیدھا اپنے کمرے میں گئ تھی
بیڈ کر اوندھے منہ لیٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی یہ ضروریات زندگی بھی کبھی کبھی انسان کو ایسی راہ پر گامزن کر دیتے ہیں جس پر وہ کبھی چلنا نہیں چاہتا یسرا بھی حالات کی اسی چکی میں پس رہی تھی عزت روزی کمانا مشکل ترین ہو چکا تھا اور جہاں چار پیسے اچھے ملتے تھے وہاں عزت جانے کاڈر اور خوف ہر وقت لا حق رہتا تھا وہ ابھی اپنے حالات سے تنگ آ کر رو رہی تھی جب والدہ کی مسلسل کھانسنے کی آواز پر
اسے یاد آیا کہ وہ دوا لاما بھول گئ ہے خود پر بے تحاشہ غصہ۔ آ رہا تھا اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے یہی سوچ رہی تھی پہلے جا کر دوا لے آئے کب اسکے موبائل کی بیل بجی زکی کا نمبر جگمگا رہا تھا ۔۔۔
یسرا نے آنسوں صاف کیے اور فون اٹھا لیا
“کیا میں پوچھ سکتا ہوں ایسی کیا ایمرجنسی پیش آ گئ تھی آپ کے ساتھ یسرا کہ جو مجھ بات کرنے کے بجائے اس لوفر سے ڈاریکٹر کے کام مانگنے کا پہنچی ” زکی نے اپناڑوہ دباتے ہوئے لہجہ متوازن رکھنے کی کوشش تو بھر پور کی تھی لیکن لہجہ پھر ترش تھا یسرا کی والدہ کو پھر سے کھانسی کادورا اٹھا تھا
” میری والدہ بہت بیمار ہیں میں آپ سے ابھی بات نہیں کر سکتی ” یہ کہہ کر یسرا نے فون بند کر دیا
یسرا بھاگ کر انکے کمرے میں پہنچی تھی وہ بری طرح سے کھانس رہیں تھیں وہ انکے پاس آ کر انکی کمر سہلانے لگی دوائیں دیکھی تو ساری ختم تھیں پرس میں صرف ہزار کا نوٹ بچا تھا
ب سوچ رہی تھی کون سی دوا پہلے لائے جس سے والدہ کی طعبیت بہتر ہو سکے ۔۔ پہلے والدہ کو پانی پلایا انکی کھانسی کو کچھ فرق پڑا تو دوسرے کمرے سے بہن کو اٹھا کر کہا کہ والدہ کا دھیان رکھے وہ دوا لانا بھول گئ تھی ابھی لینے جا رہی ہے ۔۔ چھوٹی بہن آنکھیں مسلتی ہوئی والدہ کے پاس چلی گئ یسرا نے چادر اوڑھی اور گھر باہر نکل گئ قریبی میڈیکل سے ایک دن میں میڈسن لیں لیکن گھر کے قریب پہنچی تو زکی گاڑی دیکھ کر حیران ہوئی تھی جب گھر میں داخل ہوئی تو وہ اسکی والدہ کا ہاتھ پکڑے انہیں سہارا دیتے ہوئے وہ شاید باہر لے جارہا تھا اسکی والدہ اب بھی وقفے وقفے سے کھانسرہیں تھیں
” آپ ؟ ” زکی کی جب یسرا پر نظر پڑی تو وہ زکی سے استفہامیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔
” پہلے ڈاکٹر پر چلتے ہیں باقی باتیں بعد میں ہوتی رہیں گئیں “
” اسکی ضرورت نہیں سر ۔۔ میں دوا لے آئی ہوں ” یسرا کو خفت نے ان گھیرا تھا اسے نہیں معلوم تھا کہ اسکی والدہ کا سن کر زکی اس کے گھر پہنچ جائے گا ۔۔
زکی نے یسرا کئ بات کو نظر انداز کیا تھا
” آپ میرے ساتھ چلیں یسرا ” زکی یہ کہہ کر اس کی والدہ کو گھر سے باہر لے گیا ۔۔۔ یسرا کو بھی اسکی تقلید میں باہر جانا پڑا ایک مہنگے پراویٹ ہاسپٹل کو دیکھ کر یسرا متذبذب سی ہوئی تھی کیونکہ پرس اس وقت بلکل خالی وہاں ایمرجنسی وڈ میں ڈاکٹر اسکی والدہ کا چیک اپ کچھ انجیکشن لگائے اور نیمولائئز کرو کرانک سانس بحال کیا اب وہ کافی بہتر محسوس کر رہیں۔ تھیں
ڈاکٹر نے میڈسن لکھ کر دی اچھی خوراک کا مشورہ دیا اور جانے کی اجازت بھی دے دی ۔۔۔ یسرا پریشان سی لگتی تھی کہ بل کیسے ہے کرے گی لیکن زکی نے سلپ پکڑ کر انکی فیز ہے کہ میڈسن بھی اسی نے خرید کر دیں یسرا کی والدہ زکی کو دعائیں دینے لگیں ۔۔۔
گاڑی میں واپس زکی نے انہیں ان کے گھر کے سامنے چھوڑا تھا یسرا نے شکریہ کے بعد ہی زکی سے کہا کہ
” سر میں بہت جلد آپ کو یہ پیسے لوٹا دوں گی ” وہ یوں نادم تھی جیسے غربت اس کے لئے شرمندگی کا باعث ہو
” اندر چل کر بات کرتے ہیں یسرا ” یہ کہہ کر زکی نے اپنا فرنٹ ڈور کھولا اس چل کر دوسری جانب ا کر یسرا کی والدہ کے لئے دروازہ کھولا انہیں احتیاط سے نیچے اتارنے لگا گھر کے اندر پہنچ کر اسکی والدہ اپنے کمرے میں چلیں گئی۔ کیونکہ انجکشن کے زیر اثر اب انہیں نیند کی غنودگی سی ہونے لگی تھی یسرا نے چھوٹی بہن کو چاہے کا کہا اور زکی کو ڈرائینگ روم کی طرف جانے کا اشارہ کرنے لگی ۔۔۔ زکی ڈرائنگ روم میں داخل ہو کر ایک صوفے پر بیٹھ گیا
اسکے سامنے رکھے صوفے پر یسرا بیٹھ گئ
” سر آپ کا بہت بہت شکریہ ” یسرا نے دوبارہ سے زکی کا شکریہ ادا کیا تھا
” پلیز یسرا بار بار یوں کہہ کر مجھے شرمندہ مت کریں ۔۔ میں نے آپ پر کوئی احسان نہیں کیا
ہر انسان انسانیت کے ناطے دوسرے انسان سے رشتہ رکھتا ہے ۔۔ اور اسے نبھانا میرا فرض تھا جو میں نے ادا کر دیا ۔۔ میں آپ سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کلب میں کیسے پہنچ گئیں آپ ایسی لڑکی ہر گز نہیں ہیں یسرا کہ اس قسم کے ڈاریکٹرز کے ساتھ خوی سے وہاں گئیں ہوں یہ بات تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں ” زکی کی بات سن کر وہ نظریں چرا گئ
” سر یہ جو انسان کی مجبوریاں ہوتی ہیں وہ اس سے بہت کچھ کرنے پر بے بس کر دیتیں ہیں یہ وہ دور تو اب نہیں ہے کہ جب میڈیا پر صرف کام اور محنت کو دیکھا اور سراہا جاتاتھا
یہاں پر ہر موڑ پر عورت کو عزت کا سودا بلآخر کرنا ہی پڑتا ہے اور یہ جو غربت ہے یہ انسان کو ہر قدم پر بے بس اور مجبور کر دیتی ہے میں اس سے لئے آپ کو کچھ نہیں بتا سکتی ۔۔ “
” میں آپ کو باعزت کام دے رہا تھا یسرا با خدا آپ کی عزت پر آنچ بھی آنے نا دیتا پھر آپ کی پے پر بات ہو سکتی تھی جو آپکی خواہش کے مطابق ہی ہوتی یا شاید اس سے بھی کئ زیادہ مل جاتی ۔۔۔
مجھے افسوس آپ کو وہاں دیکھ کر ہوا “
” مجھے اشتیاق صاحب نے صاف منع کر دیا تھا کہنے لگے آپ جاسکتی ہیں ڈرامے کی ہیروئن ہمشیہ سے سجیلہ ہی بنی ہے اور آگے بھی وہی رہے گی ۔۔ زکی کی طرح وہ بیوقوف ہے میں نہیں جو اپنے ڈرامے کو نئے آنے والے لڑکے لڑکیوں کے ہاتھوں تجربے کی بھینٹ چڑھائیں گئے ” یسرا کی بات سن وہ حیرت زدہ ہوا تھا اسکے علم میں لائے بغیر ہی اشتیاق صاحب نے اتنا بڑا فیصلہ بھی کر لیا اور یسرا کو منع بھی کر دیا ۔۔
“بابا نے آپ سے یہ سب کہا تھا یسرا ۔۔۔ ؟ آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا “؟اپ کو مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی “
” سر وہ آپ کے والد ہیں اصل تووہی۔ ہیں انکے ہاتھ میں ہی سب کچھ ہے میں نہیں۔ چاہتی آپ انکی مخالفت کرتے ہوئے ۔مجھے سجیلہ کی جگہ دیدیں میں تو پہلے یہ سوچ کے پریشان تھی کہ کیسے ایک ہیرون کا کردار ادا کر سکتی ہوں ۔۔۔
بس آپ میری یہ مدد کر دیں کہ کوئی ایکسڑا کاسین مجھے دے دیں مجھے اس وقت پیسوں کی اشد ضرورت ہے “یسرا کی بے بھی بے بسی تھی وہ زکی سے ملنے کر بیٹھی تھی
” یسرا آپ کل آفس آئیے گا ہم وہیں بات کریں گئے “زکی کھڑا ہونے لگا تو یسرا کی بہن چائے کا کپ ٹرے میں رکھے لے آئی
” سر پلیز چائے پی کر جائیے گا ” زکی کو کھڑے دیکھ وہ سمجھگئ تھی کہ وہ اب واپس جانا چاہتا ہے اس لئے لجاجت سے کہنے لگی زکی دوبارہ سے بیٹھ گیا ۔۔ گرم گرم چائے پی اور وہاں سے چلاگیا
*******……..
فواد کی ویڈیو نے میڈیا میں ایک دھوم سی مچا کر رکھ دی تھی ہر چینل پر آپ یہی قصہ ڈسکس ہونے لگا فواد کے والدین اس پر برہم ہونے لگے کہ تم کیوں بد نامی اپنے سر لے رہے پو لیس تمہیں بھی گرفتار کر سکتی ہے ایک دفعہ بھی مہرو نے تمہارے خلاف بیان دے دیا تو تمہاری ساری محنت بے بنیاد تہ جائے گی وہ بالغ ہے پھر ویڈیو فوٹیج میں خود گاڑی میں بیٹھی تھی کہانیاں لکھتی تھی ہزاروں پرستار تھے اسکے ہو سکتا ہے ان میں سے کسی ساتھ اسکا افیر چل رہا ہوں جس سے ہم سب انجان ہوں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نیاز نے یہ رشتہ مہرو کی مرضی کے خلاف کیا کو اس لئے اس نے یہ قدم اٹھایا ہو ” فواد کے والد نے اپنے خدشات سامنے رکھے بیٹے کے بڑھتے قدموں پر روک تھام ضروری تھی ورنہ وہ میڈیا کے طوفان کو کہاں سنبھال سکتے تھے
” پاپا میں مہرونساء کو اچھی طرح سے جانتا ہوں میرے علادہ وہ کسی سے محبت نہیں کرتی تھی ۔۔
کوئی زبردستی اس کے ساتھ نہیں کی جا رہی تھی سب کچھ اسکی خواہش کے مطابق تھا ۔۔۔اسے سو فیصد کسی نے ٹریپ کیا گیا ہے اسے کڈنیپ کیا گیا ہے ” فواد کو مہرونساء کہنا محبت پر شک تھا نا اگلے کردار پر ۔۔۔
” اگر وہ کڈنیپ ہوتی تواسکے باپ کو اب تک پیسوں کے مطالبے کے لئے فون آ چکا ہوتا ۔بہرحال ۔جو بھی تھا فورگیٹڈ فؤاد بھول جاؤں اسے اور واپس زندگی کی طرف توجہ دو اس ایک لڑکی پر زندگی ختم نہیں ہو جاتی ” فواد کے والد کو بیٹے کے جذباتی پن کو دیکھ کر غصہ آنے لگا تھا
” پاپا میں اسے ہر گز نہیں چھوڑ سکتا جب تک وہ با رو مہرونساء سے سچ نا سن لوں ۔۔ میں نے بہت چاہا ہے اسے وہ میرے لئے کیا ہو چکی ہے آپ کو لفظوں میں تو سمجھا ہی نہیں سکتا جب تک اسے ڈھونڈ نا لوں میں چین سے نہیں بیٹھوں گا “
“فواد پاگل پن مت کرو کیاسمجھتے ہو تم کیا اب تک اسکی عزت قائم ہو گئ ؟۔۔ ایسے گھٹیا لوگ سب سے پہلے عورت کی عزت ہی برباد کرے ہیں ۔ وہ واپس آ بھی جائے تو میرے گھر کی بہو ہر گز نہیں بن سکتی ” اپنے والد کی بات سن کر فواد نے انہیں حیرت سے دیکھا تھا
” پاپا آپ ایساسوچتے ہیں؟ مجھے افسوس ہے آپکی سوچ پر اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا بھی ہے تو حادثاتی طور پر ہوا ہے اس میں وہ قصور وار ہر گز نہیں ہے میں تو اسے ضرور اپن لوں گا ۔”
” فواد” اس کے والد چلا کر بولے تو فواد انہیں غصے سے دیکھتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا
*******……..
مہرونساء حازم کو پکارتی رہ گئ لیکن وہ دروازہ بند کر کے جا چکا تھا کتا جیسے جیسے مہرونساء کے قریب بڑھ رہا تھاوہ بیڈ کے دوسری جانب پلٹ کر پہنچ گئ وہاں سائیڈ ٹیبل پر ایک شیشے کا بھاری سا واش پڑا تھا مہرونساء نے وہی اٹھا لیا تا کہ کتے ہو ڈرا سکے لیکن وہ کتا بہت تیز تھا ایک ہی پل میں کودتا ہوا مہرونساء کے اس ہاتھ پر جھپٹا اگلے ہی پل گلدان مہرو نساء کے ہاتھ سے دور جا گرا تھا قلین کی وجہ سے ٹوٹنے سے بچ گیا تھا کتے کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر وہ بے ساختہ چلانے لگی تھی رونے لگی تھی وہ کتا پیچھے ہٹ گیا اور بھوکنے لگا مہرونساء یوں تھی کہ ابھی اسکی روح اس کے جسم سے پرواز کر جائے گی ۔۔۔۔ وہ دروازے کی طرف بھاگنے لگی تا کہ کمرے سے باہر نکل جائے لیکن وہ کتا ایک ہی کود مارتا ہوا دروازے کے پاس مہرونساء سے پہلے پہنچ گیا تھا اور دروازے پر استاذہ کیے یوں کھڑا ہو گیا جیسے چوکیدار ہو ۔مہرونسا کا جی چاہا کہ خود کو ختم ہی کرلے اس لئے کمرے کی کھڑکی کے پاس چلی گئ کھڑکی کھولی تووہی جیل جیسی لوہے کی سلاخیں موجود تھی وہ اسی کے ساتھ سر ٹکا کر بلک بلک کر رونے لگی ۔۔۔
وہ کتا اب خاموشی سے دروازے کے پاس کھڑا رہا ایک گھنٹہ مہرونساء ہچکیوں سے روتی رہی دل ہی دل میں اللہ سے اپنی رہائی کی دعائیں مانگنے لگی ۔۔ ایک گھنٹے میں اسکی آنکھیں رونے کے باعث اچھی خاصی سوج گئیں تھیں
حازم ایک گھنٹے بعد کمرے میں آیا تھا مہرونساء سامنے صوفے پر بیٹھی گھٹنوں پر بازو رکھے منہ چھپائے دو رہی تھی حازم نے ایک اچٹتی سی نظر
مہرونساء پر ڈالی پھر کتے سے پوچھنے لگا
” ٹومی کم آن مائے چائلڈ حزم کی آواز سن کر ۔مہرونساء نے چہرہ اوپر کر کے اسے دیکھا تھا جو کتے کو اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھا چکا تھا
” اب بتاؤں دماغ کچھ ٹھیک ہوا مس رائٹر کا ؟ حازم کی بات سن کر کتا بھوکنے لگا ساتھ ہی ساتھ آنکھوں سے اشارے کرنے لگا حازم نے گرے ہوئے گلدان کو دیکھا پھر ماتھے پر بل ڈالے مہرونساء کو گھورا پھر کتے سے مخاطب ہوا
” ائندہ اگر یہ تم پر وار کرے تو کچا چبا جانا اسے ” حازم کی بات سن حیرت کے ساتھ ساتھ مہرونسا کو خوف بھی آیا تھا کتے کی ہر بات وہ سمجھ رہا تھا اور اسے ہدایت بھی دے رہا تھا ۔۔۔ کتا پھر سے بھون کر باہر دروزے کی جانب دیکھنے لگا
” اوہ تو بھاگنے کی کوشش بھی کی ہے اس نے ” حازم نے تعجب سے مہرونساء کو دیکھا تھا ۔۔۔ “پھر کتے کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔
” ایسا کرو ٹامی آج تم اسی کمرے میں سو جاؤں “
” ہر گز نہیں ۔۔۔ حازم پلیز اسے یہاں سے بھیج دو تم جو چاہتے ہو میں کرنے کو تیار ہوں لیکن اسے یہاں سے نکال دو ” مہرو نساء رقت آمیز لہجے سے حازم کی منت کر رہی تھی “
” ہمم ٹھیک ہے جان من جیسے تمہاری خوشی میں تو تمہاری بات ڈال ہی نہیں سکتا ہوں اتنی محبت جو کرتا ہوں تم سے ” حازم کے طنز سے ڈوبے لہجے کو وہ نا جانے کس دل سے سن رہی تھی
” جاؤں ٹامی جا کر آرام کرو ۔۔۔ ” حازمے کے کہنے کی دیر تھی کہ کتا دم ہلاتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔ حازم نے اٹھ کر پہلے کمرہ لوک کیا پھر مہرونساء کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔
٫
“مجھے یہ بتاؤں مہرونساء یہ سب کر کے تمہیں حاصل کیا ہوا .؟..سوائے ان خوبصورت آنسوں کے ” مہرونساء کے رخسار سے بہتے ہوئے آنسوں حازم نے اپنی انگلی کے پرور پر اٹھا کر کہا مہرونساء نے اپنا چہرہ پیچھے کر لیا
” بات تو تم میری اب بھی مان رہی ہو ۔۔ لیکن رو رو کر جو حشر تم خود کا کر چکی ہوں ویڈیو تو اب کل ہی بنے گی ۔۔۔ چلو شاباش جا کر منہ دھو اور آرام کر لو پھر اٹھ کر تمہیں ڈنر بھی تو بنانا ہے وہ بھی پندرہ لوگوں کا ” یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا تھا مہرونساء بس بے بسی سے اسے دیکھتی رہ گئ رات کو کا کھانا بنا کر وہ تھک کر سو چکی تھی ۔۔۔ رات کو نا کسی عورت کی چلانے کی آوازوں پر مہرونساء کی آنکھ کھلی تھی مہرنسا اٹھ کر بیٹھ گئ لمپ آن کیا تو حازام اسکے برابر سے غائب تھا کمرے کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا کسی کی چلانے کی آواز کے ساتھ دروازہ بھی زور سے بج رہا تھا
” حازم دروازہ کھولو کیوں مجھے۔ کمرے میں قید کر رکھا ہے ۔۔۔ حازم ” ایک زمانہ آواز سن کر بے ساختہ مہرونساء نے لحاف خود سے اتارا تھا اور بیڈ سے نیچے اتر گئ ۔۔
” یہ کون ہے ؟ کیا میرے علاؤہ اور بھی لڑکیاں اس حویلی میں قید ہیں ؟؟؟ ؟ مہرونساء کاسر چکرا سا گیا حازم نامی شخص شاید کسی گینگ کا حصہ تھا ۔۔ جو لڑکیوں کو اغوا کرتے ہیں اور پھر ؟؟ یہ سوچ مہرونساء کے دماغ میں ارے ہی جان حلق تک پہنچ گئ تھی ۔۔۔ کہ کہیں وہ لوگ عورتوں کی سمگلنگ ہی نا کرتا ہو ۔۔۔
