Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 28
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 28
Meri Jaan by Umme Hani
مہرونساء کاوہسں کچھ خاص کام تھا نہیں شورٹ وہی دوبارہ سے کی جانی تھی جو بیچ میں ہی چھوڑ کر یسرا اور فاضل وال آؤٹ کر گئے تھے ۔۔ پھر ایبٹ آباد کا موسم بھی۔ بہت اچھا تھا اس لئے اپنے پرس میں اپنارائٹنگ پیڈ اور پین رکھا اور ایک خوبصورت اور خاموش جگہ کی تلاش میں اپنے کمرے سے نکلی تھی اپنے ک۔رے کی چابی اس نے رسپشن پر دہ اور کہا کہ یسرا مانگے تو اسے دیدیں
پھر ہوٹل سے باہر نکل گئ ۔۔۔ سیدھی سڑک دائیں جانب مارکیٹ تھی۔ بائیں جانب اسے معلوم نہیں تھا کہ کیا ہے اس لئے اس نے وہیں کارخ کیا کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد پہاڑوں کا سلسلہ سا شروع ہو چکا تھا سڑک کی دوسری جانب نیچے بڑے درخت پہاڑوں پر لگے ہوئے تھی وہ نیچے اتر کر ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھ گئ
شام کاوقت تھا عصر کے بعد دھوپ نا ہونے کے برابر تھی۔ ہوا میں خنکی تھی گرمیوں کے مہینے تھے ہر طرف گرمیوں کا زور تھا لیکن ایبٹ آباد کا موسم قدرے ٹھنڈا تھا بہت دن بعد مہرونساء کو پر سکون ہوئی تھی چڑیوں کا چہچہانا بھی اچھا لگ رہا تھا
درخت کے ساتھ ٹیک لگائے اس نے آنکھیں بند کر لیں ٹھندی ہوا دل و دماغ کو فرحت بخش رہی تھی پرندوں کی آوازیں دل کو بھلی لگ رہیں تھیں
آج بہت دن بعد وہ اپنے اندر ایک سکون سا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر وہاں ایسے بیٹھی رہی ۔۔۔ اس کے بعد اپنے پرس نما بیگ سے رائٹنگ پیڈ اور پین نکال کر لکھنے لگی لکھتے ہوئے
اسے اندازہ ہی نہیں ہوا تھا کہ کب شام اندھیرے میں بدلنے لگی تھی احساس اس وقت ہوا جب پورااندھیرسا چھا گیا تھا ۔۔۔ اور بارش کی پہلی بوند اس رائٹنگ پیڈ پر پڑی تھی ۔۔۔ مہرونساء نے فورا سے بند کر کے پرس میں ڈالا اور واپس جانے کے لئے جب سڑک پر پہنچی تو راستہ بھول چکی تھی چلتے چلتے نا جانے کہاں پہنچ گئ تھی اس وقت دن کی روشنی میں حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے۔ وہ نا جانے کتنی دور نکل آئی تھی ۔۔۔ اور سب ایک آندھرا بڑھ چکا اور اس پر یہ غضب ہوا کہ وہ راستہ بھول چکی تھی تیسرا ستم یہ ہوا کہ موبائل بھی ہوٹل کے روم میں رہ گیا تھا ۔۔۔ پہلے تو مہرونساء نے اپنی عقل پر افسوس کیا تھا ۔۔۔ جہاں وہ تھی وہ جگہ آبادہ سے خاصی دور تھی پھر رات کا اندھیرا گہرا ہونے کے ساتھ ساتھ بارش کے قطرے بھی تیزی سے گرنے لگے تھے وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی اس سے سنسان سڑک پر وہ اکیلی ہی تھی آس پاس بس سناٹے کا راج تھا مہرونسا کے ہوش اڑنے لگے تھے اپنی بیوقوفی پر رونا آنے لگا تھا اب وہ نا پہلے کی طرح با اعتماد رہی تھی نا ہی بہادر کے ایسی چیزوں کو انجوائے اور ایڈونچر سمجھتی ۔۔۔ جو وقت وہ حازم کی سنگت میں گزار کر آئی تھی خوف اس کے رگ رگ میں بس چکا تھا ۔۔۔ وہ حد درجہ گھبرائی ہوئی تقریبا بھاگ رہی تھی بادلوں کی گرج نے مہرو کا دل اور بھی دہلا دیا تھا ۔۔۔ وہ کافی دیر سے مختلف راستوں کی طرف بھاگ رہی تھی لیکن ابھی تک ابادی کہیں نظر نہیں آ رہی تھی بارش نے اپنی شدت اختیار کی تو وہ پل میں بھیگ چکی تھی ۔۔۔ سب تو رو بھی رہی تھی جب سامنے ایک گاڑی گزری تھی جب مہرو کے پاس سے گزری تو فوراسے گاڑی کو بریک لگی تھی دو نوجوان اس میں بیٹھے تھے جو گاڑی سے اتر کر مہرونساء کے ساتھ چلنے لگے ۔۔۔
” ہیلو میڈیم ۔۔۔ اس وقت اکیلے اکیلے کہاں جارہی ہو کہو تو ہم ت۔ہین چھوڑ دیتے ہیں ” مہرونساء پہلے ہی خوفزدہ تھی دو نوجوانوں کو دیکھ کر اور بھی بد حواس ہوئی تھی اس سے پہلے کہ وہ مہرو کو پکڑ کر زبردستی گاڑی میں بیٹھاتے وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر بھاگنے لگی تھی وہ دونوں نوجوان بھی اپنی گاڑی وہیں چھوڑ کر مہرونساء کے پیچھے بھاگنے لگے ۔۔۔ کافی دیر بھاگنے بعد اسے ایک گاڑی نظر آئی تھی
گاڑی کے سامنے اچانک سے مہرونساء ہیلپ ہیلپ کرتی ہوئی بھاگتی آ رہی تھی اس کے پیچھے دو نوجوان اس کے پیچھے آ رہے تھے زکی نے گاڑی کو فوراسے بریک لگائی تھی اور تیزی سے گاڑی کافرنٹ ڈور کھول کر باہر نکلا زکی کو سامنے دیکھ کر مہرونساء کی جان میں جان آئی تھی۔۔ فوراسے اسکے پاس پہنچ گئ اس وقت پوری بارش سے بھیگی ہوئی۔ تھی ۔۔۔ اور۔ بھاگ بھاگ کر سانس بری طرح سے پھولا ہوا تھا کہ بات تک نہیں ہورہی تھی
اتنی دیر وہ نوجوان اس تک پہنچ گئے جو مہرونساء کے پیچے بھاگ رہے تھے مہرونساء ڈر کر زکی کے پیچھے کھڑی ہو گئ ۔۔۔ وہ۔ نوجوان مہرو کی طرف طرف بڑھنے لگے زکی نے انکے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کی طرف دھکیلا تھا ۔۔
” اے لڑکے اس لڑکی کو ہمارے حوالے کر دو “
” کیوں تمہارے حوالے کیوں کر دوں ۔۔۔ جاؤں یہاں سے ورنہ پولیس کو فون کر کے بلا لوں گا ” زکی سخت لہجے سے بات کی
” دیکھوں یہ ۔۔۔۔”
” اوہ شٹ اپ ۔۔۔ اب یہ مت کہنا یہ تمہارے ساتھ آئی تھی تمہاری کچھ لگتی ہے ۔۔۔ ” اس سے پہلے وہ لوگ کوئی جھوٹ بولتے زکی نے پہلے ہی ٹوک دیا
” تو تمہاری بھی کچھ نہیں لگتی ” ان میں سے ایک نے کہا
” میں انکی کچھ لگتی ہوں ۔۔۔ یہ میرے ۔۔۔ ؟؟” مہرونساء بد حواس سی تھی اس لئے برجستہ بولی لیکن آدھی بات کر کے اسے چپ ہونا پڑا ۔۔ سمجھ نہیں پا رہی تھی اس کا تعارف کیا کروائے
” یہ میری ہونے والی بیوی ہے ۔۔۔ سمجھے اب نکلو یہاں سے ورنہ پولیس کو فون کر دوں گا ” زکی نے جیب سے فون نکالا تو وہ لوگ واپس چلے گئے
زکی نے ایک غصیلی نظر مہرنساء پر ڈالی تھی ۔۔ جو چہرے سے بارش کے ساتھ ساتھ آنسوں بھی بہہ رہے تھے
” گاڑی میں بیٹھیں ” مہرونسا کو یہ کہنے کے بعد وہ خود بھی گاڑی میں بیٹھ گیا مہرو جلدی سے دوسری جانب سے آ کر گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔۔
دروازہ بھی فٹافٹ سے بند کیا تھا زکی اس وقت شلوار قمیض کے ساتھ شال پہنے ہوا تھا وہ شال اتار کر مہرونساء کو دے دی ۔۔۔ خوف اور بڑھتی ہوئی ٹھنڈ سے وہ کپکپا سی رہی تھی ۔۔۔ مہرونساء نے انکار نہیں کیا تھا کیونکہ اس وقت اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی ۔۔۔ شال لیکر اس نے خود پر لپیٹی تھی ۔۔۔ پورے راستے زکی تیوری چڑھائے خاموشی سے گاڑی چلاتا رہا ۔۔ ایک لفظ بھی منہ سے نہیں کہا ۔۔ مہرونساء۔ چور انکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی غلطی اس کی تھی یہ وہ بھی جانتی تھی ۔۔۔
زکی حد درجہ غصے میں یہ بھی وہ دیکھ رہی تھی لیکن چپ تھا ۔۔۔ ۔۔۔ چاہتا تو اسے ڈانٹ بھی سکتا تھا اگر ڈانٹ دیتا تو حق بجانب ہی تھا ۔۔ لیکن اس نے کچھ نہیں کہا ۔اگر وہ وقت پر نا پہنچتا تو نا جانے وہ اس وقت کس حال میں ہوتی۔ زکی نے سیدھی گاڑی لے جا کر ہوٹل کے سامنے کھڑی کر دی
مہرونساء کی طرف بنا دیکھے ہی ویسے ہی غصے میں بیٹھا رہا ۔۔ مہرونساء نے ہی پشیماں ہو کر معذرت کی تھی ۔۔۔
” ایم سوری ” مہرو کے سوری کہنے پر اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا
” آئندہ اگر آپ کو مٹر گشتی کا شوق ہو تو ۔۔۔ ۔مجھے بتانے کی زحمت ضرور کر دیجیے گا یہاں آپ کب تک ہی۔ میری ذمہ داری ہیں ۔۔۔ ” زکی نے بہت سنجیدگی سے کہا تھا وہ اثبات میں سر ہلا کر نیچے اتر گئ ۔۔۔ کمرے پہنچی تو یسرا اسی کے نمبر
کسل ملا رہی تھیہتو دیکھ کر تیزی سے اسکے پاس آئی تھی
” کہاں گئ تھی تم مہرو سر تمہیں شام سے ڈھونڈنے کے لئے نکلے ہیں کس قدر پریشان تھے ۔۔۔ بار بار مجھ سے فون پر پوچھ رہے تھے کہ مہر آئی کے نہیں ۔۔۔ میں بھی پریشان تھی تمہیں کسل کر رہی لیکن تمہارا فون ہی بند تھا مہرو نساء نے کوئی بھی جواب نہیں دیا ۔۔۔ چپ چاپ بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔ یسرا اسے خاموش دیکھ کر
” مہرو کیا ہوا ہے ۔۔۔ کہاں گئ تھی تم ” یسرااسکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔ مہرو کو اپنے اندر خفت سی محسوس ہو رہی تھی رونا بھی آ رہا تھا اگر وقت پر زکی مدد کے لئے نا پہنچتا تو نا جانے کیا ہوتااڈ کے ساتھ یسرا کے ساتھ لگ کر وہ رونے لگی ۔۔ مہرو کے رونے پر یسرا اور بھی پریشان ہو گئ تھی ۔۔۔
” مہرو آر یو آل رائٹ کہاں گئ تھی تم ۔۔۔ مہرو ” مہرو نساء کی کمر سہلاتے ہوئے پوچھ رہی تھی لیکن وہ بنا کچھ بتائے بتدریج روئے جا رہی تھی
” دیکھو میں بہت کمزور دل کی لڑکی ہوں اتنی ہمت نہیں رکھتی مجھے بتاؤں تم رو کیوں رہی ہو ۔۔ بلکہ پہلے میں سر سے بات کروں وہ نا جانے کہاں تمہیں ڈھونڈنے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہوں گئے ۔۔۔ ” یسرا اچانک سے زکی کاخیال آیا تھا ۔۔ اس۔ سے پہلے کے یسرا زکی کو کال کرتی مہرو نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا
” میں انکے ساتھ ہی واپس آئی ہوں ۔۔۔” مہرو کے جواب پر یسرا اب اس سے وجہ پوچھنے لگی مہرو نے روتے ہوئے ہی اسے ساری بات بتائی تھی ۔۔۔ یسرا رو سن کر دنگ رہ گئ تھی مہرو کی حماقت پر۔ افسوس سا ہوا تھا لیکن اسے کہہ نہیں سکتی کیونکہ وہ پہلے ہی بہت تو رہی تھی ۔۔۔ اپنے کیے پر بہت افسوس بھی ہو رہا تھا
کافی دیر یسرااسے تسلی دیتی رہی ۔۔۔
اس کے بعد مہرو جہاں گی تھی شورٹنگ کے لئے سب کے ساتھ ہی گئ تھی ۔۔۔ ڈرامہ کے آخری چند سینرہ گئے تھے اس لیے زمین نے ایک دن کی چھٹی
دے کر پکنک کا پروگرام بنایا تھا شملہ پہاڑ پر رخ کیا تھا ۔۔۔ بٹا دلکش منظر تھا ۔۔۔ یسرا اور مہرو نساء تقریبا ساتھ ساتھ ہی تھیں ۔۔۔
پہاڑ سے نیچے دیکھنے پر پوراایبٹ آباد نظر آتا۔ تھا مہرو نساء اور یسرا وہیں بیٹھ گئیں ۔۔۔
” ہم ایک مہنے سے یہاں ہیں لیکن کسم سے کبھی اتنی فرصت ہی نہیں ملی کے ایک دوسرے بارے میں بات کرتے ۔۔۔ آج ہم کہانی شوٹنگ مکلمات سکرپٹ سب کو چھوڑ کر اپنی باتیں کرتے ہیں تم اپنی سناؤ اور میں اپنی ” بات کاآغاز یسرا نے کیا تھا ۔۔۔۔
” میرے پاس سنانے کو ایسا کچھ ہے نہیں جسے یاد کر کے خوش گوار لمحوں کااحساس ہو جو ہے وہ اتنادرد ناک کے کہ سناتے ہوئے بھی اذیت کو سہنا پڑے گا ۔۔۔ اس لئے مجھے چھوڑو تم اپنی سناؤ ” مہرونساء نے بات کو بدلا تھاوہ اپنے ماضی کو لفظ دینا ہی نہیں چاہتی جس سے کہ سلے زخم پھر سے درد کاسبب بنتے مہرو کہ بات سن کر یسرا نے بھی ٹھنڈی سانس کھنچ کر لی تھی
” میرے پاس بھی سنانے کو ایس ہی کچھ ہے ۔۔۔
لیکن میں تمہاری طرح نہیں سوچتی ۔۔ مجھے یہ لگتا ہے جب ہم کسی سے درد کا رشتہ بانٹتے ہیں
وہ رشتہ سب سے ذیادہ پائیدار ہوتا ہے ۔۔ کبھی نہیں ٹوٹتا ۔۔۔ ” یسرا کی بات پر جواب اسکے عقب سے آیا تھا
” ایک دم جھوٹ ۔۔۔ ” فاضل کی آواز آپ ی پشت سے سن کر دونوں نے برجستہ پیچھے پلٹ کر دیکھا تھا ۔۔۔ فاضل انکے پیچھے ہی کھڑا کسن پر فون لگائے ہوئے بولا
جیسے کسی سے فون پر بات کر رہا ہو
” لوگ بھی۔ کتنے دوغلے سے ہوتے ہیں سجیلہ ۔۔۔ پہلے اپنی باتوں سے اپنے رویوں سے ہمہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم انکے لئے س ہیں لیکن جب وہ ہمارے لئے اہمیت رکھنے لگے تو یوں پیچھا چھڑواتے ہیں کہ انسان دنگ سا رہ جاتا ہے ۔۔۔ ” نا جانے وہ سجیلہ کو کہہ رہا تھا یا یسرا کو سنا رہا تھا ۔۔۔ یسرا نے دوبارہ سے رخ بدل لیا ۔۔
” کیا بتاؤں تمہیں سوئٹ ہارٹ اس وقت اس خوبصورت وادیوں میں تمہیں بہت مس کر رہا ہوں ” فاضل کی اس قسم کی۔ بات پر یسرا کی پیشانی پر کئ بل پڑے تھے ۔۔۔
” لو اب یہ لوفر انسان سجیلہ سے فلرٹ کر رہا ہے ۔۔۔ ایک بیوی کے ہوتے ہوئے نا جانے کتنی لڑکیوں سے کہ دلگی کرتا ہے ۔۔۔ ذرا شرم نہیں ہے اس میں ۔۔ٹھیک ہی کہتے مرد کبھی قابل بھروسہ نہیں ہوتا اچھا ہی کہ مجھے پر اسکی حقیقت مجھ پر آشکار ہو گئ ورنہ شاید میں بہت آگے نکل چکی ہوتی ۔۔۔
” سچ کہہ رہا ہوں تم سے سجیلہ میں تو تمہارے لئے دل و جان سے فدا تھا بس تمہیں نے راہ بدل لی
ارے جان من چند میں دن آ رہا ہوں واپس پھر ملیں گئے ۔۔۔ ” فاصل کی باتیں یسرا کے اندر ایک آگ سی لگا رہیں تھیں ۔۔۔۔ سو بار خود کو سمجھا چکی تھی ۔۔۔ کہ وہ لڑکا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ اچھا ہے کہ وہ اس سے دور ہی رہے لیکن نا جانے کیوں جب وہ کسی اور سے یوں بات کرتا تھا تو یسرا سے برداشت نہیں ہوتا تھا ۔۔۔ اس لئے اٹھ کر کھڑی ہو گی ۔۔
“۔ مہرو آؤں کہیں اور چلتے ہیں ۔۔ ” یسرا وہاں بیٹھنا ہی نہیں چاہتی جہاں آس پاس فاضل ہوتا ۔۔
” ارے آپ یہاں ہیں مس مہرونساء میں کب سے آپ کو ڈھونڈ رہا تھا اور یہاں بیٹھیں ہیں ۔۔ کیا میں آپ کے ساتھ بیٹھ سکتا ہوں ” فاضل یہ کہتے ہوئے ہی زرا فاصلے پر بیٹھ گیا ۔۔
” آپ مجھے کیوں ڈھونڈ رہے تھے ” مہرونساء اب فاصل سے مخاطب تھی یسرا نے جلے دل کے ساتھ سوچا کہ یقینا اب یہ مہرو سے بھی فلرٹ کرنے کی کوشش کرے گا ۔۔۔
” کیا لکھتی ہیں آپ۔۔۔ مائے گاڈ آپ کے الفاظ یہاں ۔۔ دل کو جا کر لگتے ہیں ۔۔۔۔ قسم سے ” فاضل کی تعریف پر مہرو نے کوئی تاثر نہیں دیا تھا نا اچھا نا برا
لیکن یسرا نا جانے کیوں تلملانے لگی تھی ۔۔
” ایسا کچھ خاص بھی نہیں لکھتی ” مہرونساء نے مختصر سا جواب دیا تھا ۔۔۔ یسرااٹھ کر مہرو نساء سے یہ کہہ کر چلی گئ وہ کچھ کھانے کو لینے جا رہی ہے ۔۔۔ وہ سیدھا زکی کے پاس گئ تھی ۔۔۔ جو دور بین سے نظاروں کودیکھ رہا تھا یسرا کو دیکھ اس نے دور بین چھوڑ کر اڈے دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔
“بہت خوبصورت ویو ہیں یہاں ۔۔۔ خوبصورت نظارے بھی بعض اوقات اتنی کشش رکھتے ہیں کہ ہم ہر چیز کو وقتی طور پر اسکے حصار میں خود کو بندھا ہوا محسوس کرتے ہیں ۔۔ ” شکی کی بات پر یسرا ہلکا سا مسکراتی تھی
” پتہ ہے سر آپ بہت مختلف ہیں ۔۔۔ اس سوشل میڈیا کی دنیا میں سروایو کرنے والے مردوں سے بہت ہٹ کر ہیں ۔۔۔ آپکی سوچ اپنی عادت بہت الگ ہے ۔۔۔ بہت خوش نصیب ہو گئ وہ لڑکی جسے آپ جیسا ہمسفر ملے گا ” یسرا کو اول غصہ فاصل کی حرکتوں پر آ رہا تھا ۔۔۔ اور کب زکی کو سامنے۔ دیکھا تو نا جانے کیوں وہ فاضل کو زکی کے ساتھ اس کا موازنہ کرنے لگی ۔۔ زکی کی شخصیت اور شرافت کی وہ پہلے سے قائل تھی ۔۔ لیکن نا جانے کیوں محبت جیسے جذبات فاضل کے لئے دل میں محسوس کیے تھے ۔۔
” اچھا مجھے تو نہیں معلوم تھا مس یسرا کہ مجھ میں اتنی ڈھیر ساری خوبیاں ۔۔۔ خیر ۔۔۔ میری ہمسفر اگر آپ بن جائیں تو میں خود کو خوش نصیب سمجھوں گا ” زکی کے برملا اظہار پر یسرا ششدد سی رہ گئ تھی ۔۔۔ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ زکی اسے دیکھ کر مسکرانے لگا
“٫ مجھے آپ اچھی لگتی ہیں یسرا ۔۔۔ اب سے نہیں بہت پہلے سے ۔۔۔ لیکن آپ پر کوئی زبردستی نہیں ہے آپ اپنے فیصلے میں بلکل آزاد ہیں ۔۔۔ اور یہ بھی مت سمجھیے گا کہ آپ کا انکار مجھے ہرث کرے گا
ہم پھر بھی اچھے دوست رہیں گئے میں چاہتا ہوں کہ مل کر کام کریں ۔۔۔ ” زکی کی باقی باتیں وہ غائب دماغی سے سن رہی تھی اس قسم کے اظہار کی توقعاڈے زکی کی جانب سے ہر گز نہیں تھی وہ بے شک اچھاانسان تھا لیکن یسرا کے مقابلے میں خاصا امیر تھا ۔۔۔ جتنا یسراشاکڈ تھی اتنا ہی شاکڈ ان دونوں کے پیچھے کھڑا فاضل تھا ۔۔۔ یہ سن کر فاضل کا دل ہی دھڑکنا بھول گیا تھا ۔۔۔ مہرنساء بھی اس کے ساتھ ہی کھڑی تھی لیکن اس کے لئے یہ باتیں بے معنی سی تھیں ۔۔۔
******…….
حازم کسی بزنس پارٹی میں موجود تھا جب اسکی نظر فواد پر پڑی تھی بلیک پینٹ کوٹ پہنے اور اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا کسی شخص سے باتوں میں مصروف تھا ۔۔۔ اسے دیکھ مہرونساء کاروتا ہوا چہرہ پھت سے آنکھوں کے سامنے سے آ گیا تھا
کتنی محبت کرتی تھی وہ اس شخص سے ۔۔۔ کرناروئی تھی اسکی شادی کا سن کر اپنے بدلے کے چکر میں وہ مہرو سے اس کا سب کچھ چھین چکا تھا ۔۔۔ ضمیر نے پھر سے اسے بڑی زور کا جھنجھوڑا تھا
” کیا ملا تمہیں حازم ۔۔۔ مہرونساء سے بدلہ لیکر ۔۔۔ کیا شرمینہ واپس لوٹ آئی تمہارے پاس ؟؟؟
کیا مہرو سے بدلہ لیکر تم پر سکون ہو ؟؟؟؟
چین مل گیا تمہیں اس لڑکی سے اس کاسب کچھ چھین کر ۔۔۔ تم نے اس لڑکی کو ایسے جرم کی سزا دی ہے حازم جو اس نے دانستہ نہیں کیا تھا ۔۔۔ انجانے میں کیا تھا ۔۔۔ اسے اس بات کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ شرمینہ اتنا بڑا قدم بھی اٹھا سکتی ہے
تم نے ناصرف اسے زبردستی پناہا بلکہ اسکی محبت تک اس سے چھین لی ۔۔۔ تم کیسے اتنے سنگدل ہو سکتے تھے ۔۔۔ تم تو خود محبت کے جذبے سے واقف تھے محبوب کے بچھڑے کے دکھ سے گزر کر یہ بھی جان چکے تھے کتنا جان لیوا اذیت ہوتی ہے جب اپنا محبوب بچھڑ جائے تم نے اس لڑکی سے سب کچھ چھین کر اسے زندہ لعش بنا کے رکھ دیا ۔۔۔۔
تم جو آج اتنے بے چین تو صرف اس لئے کہ تم نے ظلم کیا ہے ۔۔۔ مہرو نساء کے بہتے آنسوں ہیں جو تمہیں سات سمندر پار بھی چین نہیں لینے دے رہے ۔۔۔ تم نے اسکی آنکھوں کو ہ۔یشی کے لئے آنسوں کی جھڑی لگا دی ہے ۔۔۔ جوانوں ت۔ہیں ہر وقت آدمی آنکھوں میں اچھے لگتے تھے جو سسکیاں تم سننا چاہتے تھے آج وہی سسکیوں کی آوازیں تمہارا چین کھو چکیں ہیں تمہارے دل پر بوجھ بن گئے ہیں مہرونساء کے آنسوں ۔۔۔ ” حازم کے اندر کاشور سنتا بلند تھا کہ اس کاسانس گھٹنے لگا تھا ۔۔۔ وہ۔ فورا سے وہاں سے باہر نکل گیا ۔۔۔ اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا لیکن دل کی برقراری میں ذرا سا چین نہیں آیا تھا ۔۔۔
” کیا تم خدا تھے حازم جو کسی کو سزا یا جزا سناتے ۔۔۔ تمہیں کس نے یہ حق دیا تھا ۔۔۔ کیا رمی۔ہ نے مرتے وقت تم سے ایسا کوئی وعدہ لیا تھا کہ تم اس کی موت کا بدلہ مہرونساء سے لینا ۔۔۔ کیا صرف مہرونساء ہی قصور وار تھی ۔۔۔ تم نہیں تھے
جس نے شرمینہ کے انکار کی وجہ جاننے کے بجائے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے بجائے جلد از جلد رخصتی کو اہمیت دی تم نے شرمینہ کو وقت ہی نہیں دیا تھا حازم کے وہ تم پر اپنے اعتماد کو بحال کرتی ت۔پیں بلا جھجک سچ بتاتی ۔۔۔ تمہیں اڈے وقت نہیں دیااور اس نے تمہیں وقت نہیں دیا ۔۔۔
قصوروار تو تم بھی تھے پھر ساری سزا مہرو کو کیوں دی ۔۔۔ حازم کے ذہن میں ایک کے بعد ایک ایسی سوچ آ رہی تھی کہ وہ بری طرح سے برآمد حواس ہونے لگا تھا گاڑی نا اسے گاڑی کی اسپیڈ کا اندازہ تھا نا ہی کسی اور بات کی ہوش سامنے ٹریفک سنگل کی ریڈ لائٹ بھی وہ بنا دیکھے گاڑی اندھا دھن بھگا گیا تھا لیکن سامنے آنے والی کار سے اس کی گاڑی بری طرح سے ٹکرا گئ تھی ۔۔۔ گاڑی کے ٹکراتے ہی ایک دھماکے کی آواز گونجی تھی ۔۔۔ دونوں گاڑیوں کوآگ لگا چکی تھی ۔۔۔
******……,
یسرا کے اٹھ کر وہاں سے جاتے ہی فاضل بھی چپ ہو گیا تھاوہ تو بیٹھا ہی اس لئے تھا کہ یسراکو جیلس فیل کروانا چاہتا تھا ۔۔۔ اس لئے سجیلہ کے ساتھ بھی ایسے جمعلے بازی کر رہا تھا ۔اسکی مزاق کی عادت سے سب کی واقف تھے ۔۔۔ کہ سب سے یونہی بات کرتا ہے جب سے یہ سنا تھا کہ یسرا کو یہ بات جیلس کرتی ہے کہ فاصل کسی لڑکی سے بات کرتا ہے وہ جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا کہ شاید دل برداشتہ ہو کر وہ فاضل سے اظہار کر دے کہہ دے کہ تم کیوں دوستی لڑکیوں سے بات کر رہے ہو ۔۔۔ لیکن یہاں توسب کچھ سکتا ہو گیا تھا جیسے ہی یسرااٹھ کر گئ تھی وہ بھی مہرونساء کے ساتھ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ شکی کے پاس یسرا کودیکھ کر اور انکی باتیں سن کر
فاضل کے سارے طبق آب وتاب سے روشن ہو گئے تھے ۔۔۔ پہلے تو اسے یہ سن کر ہی یقین نہیں آ رہا تھا کہ زکی یسرا کو پرپوز کر سکتا ہے ۔۔۔
اسوقت فاضل کو چپ سی لگ گئ تھی واپس ہوٹل میں آ کر وہ اپنے کمرے میں سیدھا گیا تھا ۔۔۔
اب یہ فکر ستائے جارہی تھی کہ کہیں یسرا رضا مندی نا دیدے ۔۔۔
بے چینی ایسی تھی کہ ایک پل اسے سکون نہیں۔ آ رہا تھا ۔۔۔
فون کی گھنٹی بھی تو فاضل سوچوں کے تسلسل سے باہر آیا تھا ۔۔۔ فون شکی کا تھا ۔۔۔ فاصل نے اٹھا کر کسنںپر لگایا
” کہاں ہو تم ” زکی نے بنا تمہید کے پوچھا تھا
” کمرے میں ہوں “
” جلدی سے میرے کمرے میں آؤں تمہیں ایک بہت بڑی خوشخبری سنانی ہے ” خوش خبری کالفظ سن کر فاضل کی جان لبوں پر آئی تھی ۔۔۔ گلے میں گرہیں سی پڑ گئیں تھیں
” کیسی ۔۔۔۔ خوش خبری “
میری زندگی سب سے بڑی خوشی کی خبر کے بس جلدی سے آؤں میرے کمرے میں ” زکی کی آواز کی سر شادی ہی خطرے کی گھنٹی بجا رہی تھی ۔۔۔ فاضل سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
