Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 19
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 19
Meri Jaan by Umme Hani
مہرونساء کے بارے میں ساری معلومات اکھٹی کرنا حازم کے لئے کوئی مشکل امر ہر گز نہیں تھا
لیکن اسے یہ معلوم ہوا کہ چند ماہ بعد مہرو کی شادی ہو رہی ہے تو ایک آگ سی تھی جو حازم کے اندر لگ چکی تھی ۔۔۔ اسکی زندگی برباد کر کے وہ لڑکی اپنا گھر بسانے جاری تھی ۔۔۔
پہلے تو حازم نے اس کے سب ناول کو پڑھا اور بڑی توجہ سے پڑھا تھا
پھر ایک دفعہ اس نے اچانک ہی مہرونساء کوایک بل شاپ پر دیکھا آپ ہ اسی اجڑی بکھری حالت کے ساتھ وہاں مہرونساء کے پرستاروں کے ہجوم میں گھس گیا وہ آٹو گراف دینے کے لئے پن مانگ رہی تھی پین حازم نے اسے دیا تھا اور اپنا ہاتھ اس کی طرف اس نے آٹو گراف کے لئے ہی بڑھایا تھا جیسے نخوت سے اس نے جھٹکا تھا ۔۔۔ جس قدر وہ حازم کو گھمنڈی سی لگی تھی حازم نے اس کے ہاتھ سے اپنا پین چھینا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ اسے دیکھ کر اندر ہی اندر بدلے کی آگ سی لگنے لگی تھی ۔۔۔
پھر وہ مہرونساء کا پیچھا کرنے لگا تھا ۔۔۔ ایک صحافی بنکر اسی بک شاپ پر پہنچ گیا جہاں اس نے اسے دیکھا تھا اتنی معلومات وہ جان چکا تھا کہ شہباز نامی شخص کے رسالے میں ہی مہرونساء لکھتی ہے ۔۔۔
مہرونساء کے انٹر ویو کے لئے حازم نے شہباز کی منتیں کیں تھیں ۔۔۔ اور اگلے ہی روز وہ نکاح کے پیپر انٹر ویو کے پیپر میں چھپا کر لایا تھا مہرونساء سے جان بوجھ کر ایسے سوالات کیے جس سے تو تلخ ہو جائے اور سوچنے اور سمجھنے کے بجائے واپس جانے کے لئے تیار ہو جائے سب کچھ حازم کی عین خواہش کے مطابق ہوا تھا ۔۔۔ ۔حازم نے مہرونساء فلاور بکے بھیجا اس کے نمبر پر مسجز کیے ۔۔۔ شادی کے قریب ایک بار اسکے کمرے تک پہنچ گیا جان بوجھ کر اسے ایسی خوشبوں سونگھائی جس سے وہ بے ہوش سی ہو گی اسکے بندھے بالوں کو آذاد کیا مقصد یہی تھا کہ وہ صبح اٹھ کر پریشان ہو جائے اسے کفن بھیجا ہوٹل میں ٹشو پر میسج لکھ کر دیا ۔۔۔ اسکی مہندی ہر مین سوئچ آف کر کے مہرو سے کہا کہ وہ کمرے میں تحفہ کھول کر دیکھے ۔۔۔ شادی کا جوڑا وہی تھا جو شرمینہ نے اپنی بارے پر پہنا تھا اس عروسی ڈوپٹے پر خون کے دھبے تک موجود تھے بڑے چاؤ سے وہ جوڑا حازم نے شرمینہ کے لئے خریدا تھا ۔۔۔ مہرونساء کو اپنے آبائی گاؤں میں لے جانے کی ساری تیاری وہ کر چکا تھا ۔۔۔
پہلی بار مہرونساء کو اپنے رو با رو دیکھ جی چاہا تھا اس کا گلہ دبا کر مار ہی ڈالے اس سے پوچھے کہ اس نے شرمینہ کے ساتھ ایسا کیوں کیا لیکن وہ اسے ایسی اذیت دینا چاہتا تھا کہ وہ خود اپنے منہ موت مانگے جینے کے نام پر پل پل مرے ویسے ہی خوفزدہ ہو جیسے اس نے شرمینہ کو کیا تھا ۔۔ وہی خوف وہی اذیت جو شرمینہ مہرونساء کی باتوں کی وجہ سے سہتی رہی تھی وہی حازم مہرونساء کی آنکھوں میں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ اس لئے اپنے پالتو کتے کو مہرونساء کے پیچھے لگا دیا وہ جب وہ کتے کی وجہ سے خوف سے کانپتی ہوئی اس کے ساتھ آ کر لگی تھی تب حازم کو چین آیا تھا ۔۔۔
وہ سکی آنکھوں میں خوف اور اذیت ہی دیکھنا چاہتا تھا اس لئے اسے اذیت ہی دے رہا تھا ۔۔۔
لیکن پچھلے ایک ماہ سے وہ چپ تھی ۔۔۔۔
حازم کو اسکی چپ پر حیرت تھی ۔۔۔ پچھے ڈھائی ماہ سے وہ رو رو کر اپنی غلطی کی روز اس سے معافی مانگتی تھی اس کے سامنے روتے ہوئے ہاتھ جوڑتی تھی ۔۔ کہتی کہ حازم مجھے معاف کر دو مجھے نہیں معلوم تھا کہ شرمینہ ایسا قدم اٹھائے گی ۔۔۔۔ لیکن حازم اس کی باتیں ایک کام سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا تھا ۔۔۔ جس قدر وہ اسے اذیت دیتا تھا اتنا ہی اس کے اندر بھرا الاو پر اسے پھنوار گرتی محسوس ہوتی تھی مہرونساء کی آنکھوں میں ہر وقت بہتے آنسوں اسے یوں محسوس ہوتے جسے کوئی اسکے اندر ٹھنڈی میٹھی پھنوار ڈال رہے ہوں ۔۔۔
بدلے کی آگ انسان کو اس کی اصلیت سے بہت دور لے جاتی ہے ۔۔۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ انسان ہے بس ایک ہی چیز سر پر سوار رہتی ہے مجھے بس بدلہ لینا ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے ایسا ہی جنون حازم کے سر پر بھی سوار تھا ۔۔۔
مہرو اس کے ظلم ستم سہہ کر اسے دیکھتے ہی سہم سی جاتی تھی ۔۔۔ اسے اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر اسکی رنگت اڑنے لگتی تھی ۔۔ جانتی تھی اب وہ انسانی تقاضوں سے ہٹ کر اس کے ساتھ سلوک کرے گا ۔۔۔ لیکن پچھلے ایک ماہ چپ تھی ۔۔۔ نا روتی تھی نا اسے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کرتی تھی ۔۔۔ مہرو ک رونا بلبلانا جب سے بند ہوا تھا حازم کی بے چینی عروج پر جا پہنچی تھی ۔۔۔ اسکی نم آنکھیں جب سے خشک ہوئیں تھیں حازم کو غصہ سا آنے لگا تھا ۔۔۔
اس کا تھپڑ بھی اب وہ کھا کر روتی نہیں تھی ۔۔۔
نا جانے کیوں حازم کا ہر ظلم سہہ کر بھی ایک لفظ نہیں کہتی تھی اور یہ بات حازم کی نیندیں اڑنے لگی تھی
” چپ کیوں رہنے لگی ہوں روتی کیوں نہیں ہو تم ۔۔
تمہارے آنسوں مجھے تسکین دیتے ہیں تمہاری آنکھوں کی بے بسی تمہاری التجائیں مجھے چین دیتی ہیں ۔۔۔ سمجھ رہی ہو نا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں تم سے ۔۔۔ ” حازم غضبناک لہجے سے اسے کہہ رہا تھا۔۔۔ لیکن وہ چپ تھی اسے بے خوف آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اور اسکی بے خوفی دیکھ کر حازم کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا
” ایسے کیا دیکھ رہی ہو ۔۔۔ جانتی ہوں ہو نا مجھے
مہرونساء مجھے تمہاری آنکھوں میں آنسوں چاہیے
سمجھی ورنہ میں پاگل ہونے لگتا ہوں اور میرا پاگل پن تم سہہ نہیں سکتی ہو اس لئے ان آنکھوں کو ہمیشہ نم رکھا کرو ” مہرونساء کا بازو دبوچ کر وہ کہہ رہا تھا کہ شاید بازو کے درد کی وجہ سے اسکی آنکھوں میں نمی اترے ۔۔۔ لیکن اس بار وہ ناکام ہو رہا تھا ۔۔ اسے بیڈ پر دھکیل کر وہ اس کے کمرے سے باہر نکل گیا اپنے کمرے میں جا کر
۔۔۔ سگریٹ پر سگریٹ وہ پیے جا رہا تھا ۔۔۔ رات دیر سے وہ اپنے کمرے سے مہرونساء کے کمرے میں گیا تو وہ کمرے نہیں تھی حازم نے ہوتا کمرہ دیکھ لیا لیکن وہ کہیں نہیں سامنے کھڑی سے پردہ ہٹا ہوا تھا حازم کی نظر پڑی تو مہرونساء شرمینہ کی قبر پر بیٹھی تھی رات کے تین بجے وہ لان کے ایک کونے میں بنی قبر پر بیٹھی تھی حالانکہ اسے ان چیزوں سے خوف آتا تھا ۔۔۔ حازم نیچے اتر گیا جب مہرونساء کے قریب پہنچا تو اسکی باتیں سن کر ٹھٹک کر وہیں رک گیا
” مجھے معاف کر دو شرمینہ تمہاری مجرم ہوں میں ۔۔۔۔ میں نے اچھا نہیں کیا میرا جرم قابل معافی نہیں ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم یہ قدم بھی اٹھا سکتی ہو ۔۔ ورنہ کبھی بات کو اس انداز سے نا بتاتی ۔۔۔ سچ شرمینہ مجھے تم سے نفرت تھی نا ہی کوئی شکوہ یا گلہ میں بھلا کیوں تمہارے ساتھ۔ جسن بوجھ کر یہ کرتی ۔۔۔ میں غلط تھی کیونکہ مجھے شہرت کا چسکا لگ گیا تھا دن با دن پرستاروں کی تعریف کا چسکا ۔۔ وہ یہی پڑھنا چاہتے تھے ۔۔۔ میری یہ تھی کہ میں نے وہ کی خواہش ہو قلم چلا کر اپنا معیار گرا دیا۔ مجھے تو چاہیے تھا کہ اپنے معیار کو قائم رکھتے ہوئے سچ اور حقیقت کو بیان کرتی۔ لیکن میں نے ؟ میں نے انسانی جانوروں کو ہیرو بنا کر پیش کر دیا ۔۔۔ وہ لکھا جو سہہ جانا کسی بھی عورت کے بس میں ہے ہی نہیں ۔۔۔ میرے بھی بس نہیں ہے ۔۔۔ ” وہ شرمینہ کی قبر پر بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔ حازم وہیں سے واپس پلٹ گیا ۔۔۔ اپنے کمرے میں آگیا ۔۔۔
نا جانے دل کی بے چینی کیوں بڑھنے لگی تھی
ایک پل کے لئے لگا کہ قصوروار مہرونساء بھی نہیں ہے اسے جو کیا جان بوجھ کر کسی دشمنی کے تحت نہیں کیا ۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے اندر بیھٹے انا پرست مرد نے کہا
انجانے میں بھی اگر کیا ہے تو کیا تو ہے نا ۔۔۔حازم اس نے تم سے تمہاری محبت کو چھینا ہے تم اس سے اسکے جینے کا حق چھین لو ۔۔۔ ” حازم اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
فواد نے حازم کا پتہ لگوا لیا تھا اور اب پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ اسکے گاؤں رواں دواں تھا جس پارلر سے اس نے مہرو کے لئے اپوانمنٹ کروائی تھی وہاں اس کی ویڈیو موجود تھی ۔۔۔
شہباز صاحب نے بھی حازم کی تصویر دیکھ کر تصدیق کر دی تھی کہ یہ شخص صحافی بنکر آیا تھا اور مہرونساء سے سوال و جواب کر دیا تھا ۔۔۔
صبح مہرونساء رفعت بیگم کو ناشتہ کروا رہی تھی جب پولیس موبائل کے ہارن سن کر حیران ہوئی تھی ۔۔۔ حازم آنکھ پولیس موبائل کے ہارن سن کر کھلی تھی
اس نے اٹھ کر سامنے کھڑی سے پردہ پیچھے کیا تو پولیس کی تین موبائل اس کی حویلی کے سامنے کھڑی تھیں
*****…….
یسرا کی پہلی فلم کے پہلے ہی شو نے دھوم مچا دی تھی سنیما میں لوگوں کا ہجوم دن با دن بڑھنے لگا تھا ۔۔۔ اسد کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔ ایک کلب ڈانسر کی زندگی کی کہانی پر یسرا نے دیکھنے والوں کو آبدیدہ کر دیا تھا ۔۔۔ اس کے ڈائیلاگز اور بے بسی میں کہیں نا کہیں وہ خود بھی شامل تھی ۔۔۔ اپنی اذیت کو جس انداز سے اس نے لفظوں اور اداکارہ میں ڈھالا تھا ۔۔۔ دیکھنے والی ہر آنکھ نم تھی ۔۔۔ پہلی فلم پر وہ شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگی تھی سجیلہ نے اخبار پر یسرا کی فلم تصاویر دیکھ کر اخبار غصے سے دور پھینکا تھا
” نا جانے کیوں یہ لڑکی میری ہر راہ دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔۔۔ پہلے ڈرامہ میں میرا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔ پھر زکی کو ۔ھھ سے چھین لیا اور اب اس فلم کے لئے میں نے اسد کی منتیں کیں تھیں اور اس نے کہا تھا وہ مجھے ہی ہیروئن کے گا لیکن یہ کمینی یہاں بھی پہنچ گئ ۔۔۔ ” سجیلہ کو اپنی ہر نامی کی وجہ یسرا ہی لگ رہی تھی ۔۔۔ سب سے پہلے تو اس نے فاضل کو فون کیا
” ہیلو سویٹی ۔۔۔ بہت ٹائم بعد میری یاد تمہیں آئی ہے “
” او شٹ اپ فاضی ۔۔۔ ” سجیلہ کا تپا لہجہ سن کر فاضل کھلکھلا کر ہنسا تھا
” مجھے تو لگا تھا کہ تم مجھے میری گل۔ کے ہٹ ہو جانے کی مبارکباد دو گئ لیکن تم ۔۔۔ تو ۔۔۔” سجیلہ کو تپانے میں فاضل کو ہمیشہ سے ہیزہ آتا تھا
” تم نے تو کہا تھا تم اسد سے کہو گئے وہ مجھے اپنی فلم میں ہیروئن بنائے گا تبھی تم بھی کام کرو گئے ورنہ نہیں ۔۔۔ تو یہ سب کیا ہے فاضی۔۔۔۔ تم نے تو مجھ سے اس فلم ک ذکر تک نہیں کیا “
” سویٹی سرپرائز دینا چاہتا تھا تمہیں۔۔۔ مجھے لگا تم خوشی سے اچھل پڑو گئ کہ تمہارے فاضی نے کیسے تیسری ہی فلم میں اپنی دھاک بیھٹا لی ہے اور ایک تم ہو کہ ۔۔ ” فاصل نے بات بدلی تھی
” رہنے بھی دو سارا کمال اس یسرا کی بچی کا ہے ۔۔۔ اصل نمبر تو وہ آگے لے گئ ہے ۔۔۔یہ یسرا تو بڑی تیز نکلی ۔۔۔ ڈرامے کے شورٹ میں زکی کے سامنے کیسی نیک پروین بنتی تھی ۔۔۔ اور اب فلم میں ؟ اپنی اصل اوقات دیکھائی ہے اس نے ” سجیلہ کے اندر کی جلن ہی۔کم نہیں ہو رہی تھی
اور فاضل مسلسل ہنسے جا رہا تھا
” کچھ بھی کہو یار پر یہ یسرا ہے بڑی کمال کی لڑکی ۔۔۔ یقین مانو ایموشنل سین پر کمال حاصل ہے اسے۔۔۔۔ میں تو شورٹ کے درمیان ہی رو پڑا تھا ۔۔۔ کیا حقیقت کے رنگ پیدا کر دیتی ہے یہ لڑکی ” فاضل نے یہ تعریف یسرا کی بلکل ٹھیک ہی کی تھی ۔۔۔ ایک کلب ڈانسر کے بننے کے پیچھے جب اس نے اپنی مجبوریاں اور بے بسی کو دیکھانا شروع کیا تھا ۔۔۔ اسد کی بھی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔۔۔ اور اسکی کامیابی کی اصل وجہ گلیمر نہیں اسکی اداکارہ تھی ۔۔۔
زکی نے جب یسرا کی فلم کا ایڈ دیکھا تو موبائل سائیڈ پر پھنک دیا
کل ایواڈ شو کادعوت نامہ منظور صاحب نے زکی کو خود دیا تھا ڈرامہ میں ڈاریکٹر پر بھی نام زکی لکھا گیا تھا اور امید بھی یہی تھی کے ایواڈ اسےہی ملے گا کل تک وہ بہت خوش تھا لیکن آج یسرا کی فلم کا ایڈ دیکھ کر اندر ایک کھولن سی ہونے لگی تھی ۔۔۔
” بہت تکلیف ہوتی ہے جب ایک شریف لڑکی ایسے دلدل میں پھنس جائے وہ بھی مجبورا ۔۔۔ اور یسرا کی یہاں تک آنے کی وجہ تو کہیں نا کہیں میں ہوں ۔۔۔ میرا خالی اکاؤنٹ ہے ۔۔۔ اب اگر میرے اکاؤنٹ میں بیس لاکھ کی رقم بھی موجود ہے تو میرے لئے تو بے کار ہی ہے ۔۔۔ ” یسرا کے بجائے اسے اپنی بے بسی پر افسوس تھا ۔۔۔
اگلے روز ایواڈ زکی اسٹیج کر لینے گیا تھا ۔۔۔ یسرا بھی وہاں آئی لیکن اسد کے ساتھ بلیک کلر کی ساڑھی پہنے بہت موڈرن سا لک تھا اس کا ۔۔۔
زکی کیںایواڈ لیتے ہوئے سب سے پہلی نظر اپنے والد کے بجھے چہرے پر پڑی تھی ۔۔۔ لیکن اسے اس بار ذرا افسوس نہیں ہوا تھا دوسری نظر جب یسرا پر پڑی تو پلٹن بھول گئ تھی ۔۔۔ وہ بھی اڈے ہی دیکھ رہی تھی اس کی کامیابی پر تالیاں بھی بجا رہی تھی ۔۔۔
شو کے بعد بہت سے فلم ڈاریکٹرز کسی بھنبھناتی مکھیوں کی طرح یسرا کی جانب بڑھے تھے لیکن اسد یسرا کو اپنے پہلو سے لگائے سب سے کہہ رہا تھا کہ یسرا صرف اسی کے لئے جسم کرے گی جیسے وہ یسرا کا مالک بن بیٹھا ہو ۔۔۔ اس ہجوم سے ہٹتے ہی زکی پینٹ کی جیب میں دونوں ہاتھ لیے اسداور یسرا کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔
اسد نے اسے حقارت سے دیکھا تھا
” یسرا مجھے آپ سے بات کرنی ہے ” زکی نے ایک نظر یسرا کی جانب دیکھ کر کہا
” سنا نہیں تم نے کہ یسراصرف میرے لئے کام کرے گی ” جواب اسد نے بڑے نخوت انداز میں دیا تھا
” مجھے یسرا سے کوئی ڈارمہ یا کے متعلق بات نہیں کرنی مسٹر اسد میرے خیال سے فلم کے علاؤہ بھی یسرا کی اپنی ایک پرسنل لائف ہے ۔۔ جس میں اسے کسی سے ملنے اور آزادانہ بات کرنے کا حق حاصل ہے ۔۔۔ ” زکی بات سن کر اسد تو گویا غصے سے سرخ ہوا تھا ۔۔۔ پھر یسرا کو دیکھنے لگا
“سر آپ جائیں میں پندرہ منٹ میں آتی ہوں ” یسرا نے دھیمے لہجے سے اسد سے کہا اسد نے گھڑی کی طرف دیکھا
” صرف پندرہ منٹ ہی ہیں تمہارے پاس ” یہ کہہ کر وہ چلا گیا ۔۔۔ زکی نے یسرا کی طرف زریک نظروں سے دیکھا
” جی سر کہیے ” یسرا نے بسایک اچٹتی نظر ہی زکی پر ڈالی تھی
” بس پندرہ منٹ ہیں تمہارے پاس تمہاری اپنی زندگی کو دینے کے لئے ۔۔ ایسا بھی کون سا سودا کر بیٹھی ہو یسرا ۔۔۔ کہ مجھے تم اسد غلام لگنے لگی ہو ۔۔۔ کسی بد روح کی طرح سے وہ تمہارے ساتھ ساتھ رہتا ہے ۔۔ کیوں ۔۔۔ ؟” زکی چاہ کر بھی اپنی تلخی مٹا نہیں پا رہا تھا
” یہیں سمجھ لیں سر ۔۔۔۔مجھے چھوڑیں ۔۔۔ آپ کو بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔ آپ کو آپکی محنت کا صلہ ملا ہے ۔۔ “
” ہاں لیکن ایک بہت قیمتی انسان کے کھو جانے کے بعد ۔۔۔ کاش کے میرے پاس یہ سب چھ ماہ پہلے یہ مقام ہوتا ۔۔۔ ” زکی کی معنی خیز بات پر یسرا نے نظریں جھکا لیں
” کچھ چیزیں قسمت اپنے ہی ہاتھ میں ہی رکھتی ہے ۔۔۔ آپ کیوں کسی پچھتاوے کا شکار ہیں سر مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔۔۔ ” باہر گاڑی کا ہارن اتنی تیزی سے بجنے لگا کہ یسرا فوراسے تیز قدم اٹھاتی ہوئی باہر نکل گئ ۔۔۔ زکی وہاں اکیلا ہی کھڑا رہ گیا تھا ۔۔۔۔
**
*****……..
اگلی فلم میں بھی فاضل ہی یسرا کے ساتھ ہیرو کے لئے سلیکیٹ ہو تھا ۔۔۔ اب بار ایک لواسٹوری تھی ۔۔۔ جس کی کہانی یسرا کو کچھ خاص لگ نہیں رہی تھی ۔۔۔
” اس فلم کا کو سر پیر نہیں ہے الوجکل سی ” یسرا نے اسٹوری کا مورل اوراسکرپٹ پڑھ کر سائیڈ پر فائل رکھتے ہوئے کہا
” کیا مطلب۔۔۔ میں سمجھا نہیں ۔۔ سیدھی سی محبت کی کہانی ہے ۔۔۔ اور محبت کی کون سے لوجک ہوئی ہے سوائے
اس کے کہ دو بیوقوف انسان یہ حماقت کرتے ہیں ” فاضل نے جیسے تمسخرانہ انداز سے کہا تھا یسرا بے ساختہ ہنسی پڑی تھی ۔۔۔
” تو ہنستی بھی ہیں آپ ۔۔۔ ” فاضل نے شاید پہلی بار اسے یوں کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تھا یسرا کی ہنسی کو بریک لگی تھی
” آپ نے بات ہی کچھ ایسی کی ہے ۔۔۔ “
” میری تو محبت کے لئے یہی رائے ہے ۔۔۔ یہ جس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا وہ محبت کر لیتا ہے ۔۔ اور میرے پاس کرنے کو اتنا کچھ ہے بس ایک محبت کی فرصت نہیں ہے ۔۔۔ ” فاصل کی بات پر یسرا نے چائے کا کپ ٹیبل سے اٹھا کر لبوں سے لگایا
” مجھے تو لگا تھا کہ آپ شاید سجیلہ کے سنجیدہ ہیں لیکن وہ زکی سر کے لئے سنجیدہ ہے ” یسرا کی بات پر وہ ہنس پڑا اور اپنا کپ اٹھ لیا ۔۔
” سجیلہ ہوا کا مزاج رکھتی ہے اور روشن مستقبل پر گہری نظر بھی ۔۔۔ یونہی تو زکی اسے پسند نہیں ا گیا تھا ۔۔ جانتی تھی زکی ترقی کے منازل بڑی تیزی سے طے کرے گا ۔۔۔ لیکن خیر اب تو سب ختم ہی ہو چکا ہے ۔۔۔ ” فاضل نے لا پروائی سے چائے پیتے ہوئے کہا
” کیس مطلب کہ اب سب ختم ہے ” یسرا نے نا فہمی سے پوچھا اتنا تووہ جانتی تھی زکی کی سجیللہ سے منگنی ہے
” تمہیں نہیں معلوم زکی نے سجیلہ سے شادی سے انکار کر دیا ہے ۔۔۔ اور اس وجہ سے زکی کے والد اس سے بائیکاٹ کر چکے ہیں “, یسرا کے لئے یہ سب باتیں نئ تھیں ۔۔
” اور زکی سر نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔ مطلب اپنے والد کو چھوڑ کیوں دیااور سجیلہ سے منگنی تھی تو ظاہر ہے شادی اسی سے ہونی تھی پھر انکار کی وجہ کیا تھی “
” یہ تو مجھے نہیں پتہ ۔۔۔ لیکن مجھے لگتا ہے دل کا معاملہ ہے ” کرنا سجیلہ یسرا کے ذکر سے چڑتی تھی اور زکی کے التفات بھی فاضل یسرا کے لئے دیکھ چکا تھا تو فاضل کو لگتا تھا کہ شاید یسرا ہی زکی اور سجیلہ کے رشتے ٹوٹنے کاسبب ہے
یسرا ابھی یہی سوچ رہی تھی جب یسرا کے نمبر پر کال آنے لگی ۔۔۔ اسکی والدہ کا فون تھا
” جی امی کہیے ۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے۔ نا ” یسرا نے فکندی سے پوچھا
” مبارک ہو تمہی۔ مریم کا رشتہ طے ہو گیا ہے شادی بھی دو ماہ کے بعد طے ہو گئ ہے ” والدہ نے جو خوشخبری یسرا کو سنائی تھی یسرا کا چہرہ دھمک س گیا تھا
” امی یہ تو بہت خوشی کی بات ہے ۔۔۔ آپ بتائیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے آپ کو ؟؟پیڈے تو میں سارے آپ کے اکاؤنٹ میں ڈلوا دیے تھے ۔۔ اگر کبھی کم لگ رہے ہی تو بتا دیں ۔۔۔ میں بھجو دوں گی لیکن مریم کی شادی پر کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے ۔۔۔ ” یسرا کی خوشی قابل دید تھی
” نہیں پیسوں کہ کوئی کمی نہیں ہے یسرا پیسہ تو اب ضرورت۔ سے کئ زیادہ ہو چکا بس تیری کمی رہے گی میری بچی ۔۔۔ تیرے بنا کیسے تیری بہن کو رخصت کر دوں ” اسکی والدہ کی آواز میں آنسوں کی آمیزش تھی
” امی پلیز سمجھنے کی کوشش کریں جس مقام میں اسوقت ہوں اگر میں شادی پر آ گئ تو میری بہن کی رخصتی نہیں ہو پائے گی۔۔۔ اس لئے اس کے سسرال والوں کو تو بھنک بھی نا پڑنے دیجیے گا کہ میں مر کی بہن ہوں ” نمی تو یسرا کی آواز میں بھی آچکی تھی فاضل کی موجودگی میں یسرا کو والدہ سے بات کرنا کچھ اکوڈ سا لگ رہا تھااس لئے اٹھ کر کچھ فاصلے پر چکی گئ وہ بڑے غور سے اسکی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ اور اسکے چہرے کو بھی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جہاں کی آدمی مجبوری کی چھاپ صاف دیکھائی دے رہی تھی
***……
فواد کو پولیس موبائل سے اترتے ہوئے دیکھ کر حازم نے گہری سانس لی تھی ۔۔۔
” تو پہنچ ہی گیا مہرونساء کاعشق اسے ڈھونڈتے ہوئے مجھ تک ۔۔۔ ویری انٹرسٹنگ ” اپنے ٹراوزر کی جیب سے اس نے سگریٹ نکال کر ہونٹوں میں دبایا تھا لیٹر سے سگریٹ جلائی ایک گہرا کش لیا اندر کی بھڑاس دوائیں کے ذریعے باہر نکالی اور کمرے سے باہر نکل کر نیچے چلا گیا چہرے پر ذرا سی بھی پریشانی نہیں تھی چوکیدار کو دروازہ کھولنے کا حکم حازم نے ہی دیا تھا پولیس والوں کے ہمرہ فواد بھی موجود تھا ۔۔۔ اندر داخل ہوتے ہی اس نے بڑی نفرت سے حازم کو دیکھا تھا ۔۔۔
” حازم سہیل آپ کے گھر کی تلاشی کے اڈرز ہیں
فواد کا کہنا ہے انکی منگتر کو آپ نے اغوا کیا ہے ۔۔۔ “
” میں انکی منگتر کو نہیں جانتا میرے گھر میں میری بیوی رہتی ہے۔ جس سے میرا نکاح ہوا ہے
اور میں نہیں چاہتا کہ میری بیوی سے کوئی بھی ملے ۔۔ میں اپنے انکل سے بات کرتا ہوں کہ ڈی آئی جی ۔۔۔ “,حازم نے موبائل سے نمبر ملانا چاہا لیکن پولیس انسپکٹر نے اس سے اس کا فون چھین لیا
جب تک ہم آپ کے گھر کی تلاشی نا لے لیں آپ کسی سے بات نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ ” انسپکٹر نے حازم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
پھر اپنے اہلکاروں کو اشارہ کیا
” جاؤں اندر اور تلاشی لو پورے گھر کہ اگر وہاں مس مہرونساء ملیں تو انہیں باہر کے آئیے گا ۔۔۔
پھر حازم کے سامنے کھڑا ہو کر بولا
” اے مسٹر اگر تم نے مس مہرونساء سے زبردستی کی شادی کی ہوئی تو یاد رکھنا اغواء کا کیس ڈال دونگا تم پر “
” اچھا ۔۔۔ سمجھ کیا رکھا ہے تم نے مجھے تم مجھے دھمکی دے رہے ہو ۔۔۔ میری ایک فون کال تمہاری یہ وردی اتروا سکتی ہے ۔۔۔ اور میری بیوی تب تک میری ہی رہے گی جب تک میں اسے چھوڑ دوں اگر تم نے اسے یہاں سے لے جانے کی غلطی بھی تو یاد رکھنا جیل کی سلاخوں کے پیچھے نظر آؤں گئے تم اور تمہارا یہ دوست بھی ۔۔۔ ” حازم نے سخت نظروں سے اس انسپکٹر کو اور فواد کو دیکھ کر کہا کچھ ہی دیر میں مہرونساء پولیس اہلکاروں کے ساتھ باہر آ گئ تھی
مہرونساء کاستاہوا اداس چہرہ دیکھ کر اسکی پیلی زرد رنگت آنکھوں کے نیچے گہرے ہلکے دیکھ کر فواد کا دل کٹ کے رہ گیا تھا وہ پلک کر مہرونساء کے قریب ہونے لگا کہ حازم ان دونوں کے بیچ میں کھٹا ہو گیا
” میری بیوی سے دور رہو مسٹر فواد ورنہ ۔۔۔۔ ” حازم نے غصے سے انگلی اٹھا کر کہا
” زبردستی اسے بیوی بنانے سے مہرو تمہاری بیوی نہیں بن جائے گی ۔۔” فواد چلا کر بولا ۔۔۔ مہرونساء بس ایک ٹک فواد کو دیکھ رہی تھی جس کی بکھری حالت اس بات کی گواہ تھی وہ اگر یہاں موجود ہے تو مہرونساء سے اب بھی محبت کرتا ہے ۔۔ اور اسے پچھلے چھ ماہ سے تلاش کرتا ہوا اس تک پہنچ ہی گیا ہے ۔۔۔ مہرونساء کی آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں تھیں ۔۔۔
” مس مہرونساء آپ کوڈرنے بلکل ضرورت نہیں ہے
آپ وہ بتائیں جو سچ ہے ۔۔۔ اگر اس شخص نے آپ کو حراساں کر رکھا ہے اور دعا دھمکا کر نکاح کیا ہے تو یقیں جانے اسے اس کے کیے کی پوری سزا ہم اسے دلوائیں گئے ۔۔۔ ” اس انسپکٹر نے مہرونساء کو یقین دلاتے ہوئے کہا
” انسپکٹر تم شاید مجھے ٹھیک سے جانتے نہیں ہو
میرا موبائل دو مجھے اپنی پہنچ اور طاقت لاندا،ہ میں تمہیں اگلے دو منٹ میں دیکھاسکتا ہوں ” حازم غرا کر اسے بولا ۔۔
” مس مہرونساء آپ گاڑی میں بیٹھیں میں دیکھتا ہوں کہ یہ آپ کو رک کیسے سکتا ہے ” انسپکٹر نے حازم کا موبائل اسے نہیں دیا تھا ۔۔۔
