186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 36

Meri Jaan by Umme Hani

صبح جب مہرونساء کی آنکھ کھلی تھی کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی مہرونساء نے کروٹ بدلی تو اپنے برابر کی جگہ خالی دیکھی تو اٹھ کر بیٹھ گئ کیونکہ ابھی دن اتنا روشن نہیں ہوا تھا کہ زکی اٹھ کر چلا جائے لیکن جیسے ہی وہ اٹھ کر بیٹھی زکی کمرے میں داخل ہوا تھا شلوار قمیض پہنے ہوئے تھا سر پر سفید ٹوپی دیکھ کر مہرونساء کو حیرت ہوئی تھی ۔۔

” اٹھ گئ تم ؟ صبح بخیر ” مہرونساء کو بیٹھے دیکھ کر وہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا

” آپ کہاں گئے تھے ؟ وہ بھی خمار آلود لہجے میں پوچھ رہی تھی

” نماز پڑھنے ” وہ ٹوپی اتارتے ہوئے بولا

” فجر کی ؟”

” ہاں مہر اس وقت فجر کی آذان کا ہی وقت ہے “

” آپ روز نماز پڑھنے جاتے ہیں ” مہرونساء نے تعجب سے پوچھا تھا

” ہاں روز ہی آذان ہوتی ہے اور نماز پر مسلمان پر فرض ہے ۔۔۔ یہ کیسا سوال ہے مہر “

” میں نے پہلے آپ کو کبھی نماز پڑھتے دیکھا نہیں” مہرونساء وضاحت کی

” تم آج سے پہلے اتنی صبح کبھی اٹھی جو نہیں ورنہ دیکھ لیتی ۔۔ اب اگر اٹھ ہی گئ ہو تو نماز ادا کر لو ۔۔۔

مہرو نے اب نوٹ کیا تھا وہ گھر پر جتنا وقت بھی ہوتا تھا آذان کے وقت باہر چلا جاتا تھا یہ نہیں معلوم تھا کہ جاتا کہاں یا مہرونساء نے پہلے توجہ دی ہی نہیں تھی نا ہی کبھی زکی نے کبھی کہا وہ نماز پڑھنے جارہا ہے شاید اس کے لئے یہ بات اس کے معمول میں شامل تھی وہ ماز کا عادی تھا لیکن کبھی مہرونساء پر یہ بات مسلط نہیں کی تھی کہ وہ بھی نماز پڑھے ہاں لیکن نماز کی اہمیت اور فضیلت اپنے دادا کا نام لیکر ضرور بتاتا رہتا تھا ۔۔ زکی دوبارہ سے بیڈ پر لیٹ گیا مہرونساء اٹھ کر واش روم میں چلی گئ نہا کر فجر کی نماز بھی ادا کی تھی دعا کے لئے جب

ہاتھ اٹھائے تو دل سے بس شکر کے کلمات ہی نکلے تھے ۔۔۔ بہت فرق تھا شوہر کی محبت اور چاہت میں ۔۔۔ جو رات کو مہرونساء کو ملی تھی

شکر کے آنسوں تھے جو مہرونساء کی ہتھیلیوں پر گرے تھے ۔۔۔ کبھی کبھی کہنے کو لفظ نہیں ہوتے بس انسان کے آنسوں ہی دعا بن جاتے ہیں تو کبھی شکر کی ادائیگی بھی انسان آنسوں سے کرتا ہے ۔۔ وہ خوش تھی دیکھنے زکی اتنا ہیڈسم نہیں تھا جتنا حازم یا فواد تھا عام سے نقوش کا مالک تھا

لیکن اخلاق میں بہت سے نوجوانوں سے بہتر تھا

کبھی کبھی عام سے لوگ بھی اپنے اخلاق اور رویے کی بدولت ہماری زندگی میں سب سے ذیادہ خاص ہو جاتے ہیں اور بہت سے خوبصورت نظر آنے والے

اپنی بد اخلاقی کی وجہ سے ہمیں ایک آنکھ بھی نہیں بھاتے دین سلام نے سب سے بہترین انسان اسے کہا گیا ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں ۔۔

مہرنساء نے جائے نماز تہہ کیااور بیڈ پر جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔ زکی سویا نہیں تھا مہرونساء کو ڈوپٹے میں دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گیا اور غور سے دیکھنے لگا وہ ڈوپٹہ اتارنے ہی والی تھی لیکن زکی کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر بھنور اچکا کر یہ پوچھنے لگی کہ ایسے کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔ وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلانے لگا

” کچھ نہیں بہت پیاری لگتی اس طرح ڈوپٹہ اوٹھ کر ” زکی کی تعریف پر وہ جھنپ کر رہ گئ تھی

” یاشاید نماز پڑھنے سے چہرے پر ایک عجیب سی کشش سی آجاتی ہے اگر روز پڑھو تو چہرہ بہت حسین سا لگنے لگتا ہے ایسا میرے دادا کہتے تھے “

مہرونساء سمجھ گئ تھی کہ وہ براہ راست نماز کی تلقین نہیں کر رہا بلکہ نماز کے فوائد سے دل میں نماز کی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے

زکی نے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے ایک ڈبیہ نکالی اور اس میں سے ایک گولڈ کی چین جس پر” مہر” لکھا تھا

” اگر اجازت دو تو یہ میں تمہیں پہنا دوں ؟ تمہارا حق مہر ہے ۔۔ ویسے تو میں نے پیسے پی لکھوائے تھے لیکن پھر سوچا پیسے خرچ ہو جائیں گئے میرا دل چاہا کہ اپنی مہر کو حق مہر ایسا دوں جو ہمیشہ اسکے پاس رہے اب اگر تم اجازت دے دو تو ؟؟ ” زکی کے اپنایت بھرے لہجے پر مہرونساء کا دل فدا سا ہونے لگا تھا

” آپ کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں زکی ۔۔۔ مہر آپکی ہے ” مہرنساء اظہار کے معاملے میں کنجوسی نہیں کرنا چاہتی تھی جس طرح سے سامنے والا محبت کے لطیف سے جذبے کو اتنی اپنایت سے نبھا رہا تھا تو جواب میں بھی اتنی ہی چاہت کا مستحق بھی تھا ۔۔۔ چین زکی نے اسے خود پہنائی تھی

” اس کے ساتھ اگر زکی بھی لکھا ہوتا تو مجھے اور بھی اچھا لگتا ” مہرنساء چین میں لٹکتا ہوا لوکٹ ہاتھ میں پکڑ کر کہا

” تمہارا شوہر اتنا زیادہ امیر نہیں ہے لیکن میرا وعدہ ہے بہت جلد تمہاری یہ خواہش بھی پوری کر دوں گا ۔۔۔ ” مہرو نساء نے چین چھوڑ دی اور زکی کو دیکھنے لگی

” میرا شوہر محبت سے مالا مال ہے اس لئے کبھی بھی غریب نہیں ہو سکتا ” دونوں اب بیڈ کے کروان سے ٹیک لگائے ایک ساتھ بیٹھے تھے بلا تکلف مہرونساء نے زکی کے کندھے پر سر رکھا تھا زکی کے ہاتھ اپنے دنوں ہاتھوں میں لیا زکی اسکی پیشانی پر بوسہ لیا

” مہر کل ہم مری چلیں گئے بس دو دن کے لئے ” سب زکی مہرونساء کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگا کر یہ خبر سنائی تھی

” بس دو دن ؟؟ ” مہرونساء کو یہ دو دن کا ٹرپ بہت کم لگا تھا اس لئے برملا اظہار کیا تھا

” ہاں یار بس دو دن کی ہی چھٹی لے سکتا ہوں جانتی آتے ہی مجھے تمہارے خوبصورت ہاتھوں سے لکھی جانے والی ایک اور اسٹوری چاہیے ” زکی کی فرمائش پر وہ کچھ اترائی تھی

” اس بار میں چیک پر قیمت خود لکھوں گی ” مہرونساء نے اترا کر کہا تھا زکی نے خوشگوار تعجب سے اسے دیکھا تھا

” اب تم مجھ سے بھی پیسے لیا کرو گی مہر ۔۔ ؟”

” ہاں ضرور لوں گی رائٹر کی محنت کا معاوضہ ہمیشہ سے انہیں بہت کم ملتا ہے حالانکہ سب سے زیادہ محنت ایک لکھاری کی ہوتی ہے اور انہیں ملتا کیا آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ” مہرنساء نے شکوہ سا کیا تھا

” کیا مطلب پانچ سے چھ لاکھ تو آرام سے ملتا ہے ہاں کچھ رائٹر مشہور ہیں انکا معاوضہ دس سے پندرہ لاکھ ہے تقریبا ؟ ” زکی نے کچھ یاد کرتے ہوئے اندازہ لگاتے ہوئے کہا

” اور ایکٹر کتنا معاوضہ لیتے ہیں ؟ ہر اپیسوڈ کا دو لاکھ تو کوئی تین لاکھ حالانکہ ایکسپریشن تک ہم لکھ لکھ کر دیتے ہیں جن ڈائیلاگز کو بول کر وہ ہر دل عزیز ہو جاتے ہیں وہ انکے اپنے کہے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ ہمارے لکھے ہوئے ہوتے ہیں ۔۔۔ ہمارے خود کے اخذ شدہ ہوتے ہیں لیکن ہم گمنام ہی رہتے ہیں بس ڈرامے کے آخر میں ایک چھوٹا سا رائٹر کا نام لکھا ہوتا ہے ۔۔۔ بس یہ ہماری کمائی ہوتی ہے کہ تحریر فلاں کی ہے پتی لکھنا کتنا مشکل امر ہے جذبات کو لفظوں کے موتیوں کی طرح پیرو کر تحریر کی مسلسل بنانے میں ایک لکھاری کے لئے کڑا امتحان ہوتا ہے

(ہم گمنام سے لکھاری

ایک خواب بنتے ہیں اسے پھر تعبیر بنا کر

سفید کاغذ پر لفظوں سے چنتے ہیں

ہمارے کاغذی کردار دل میں یوں دھڑکتے

کہ لگتا ہے قاری کے خوابوں میں وہ بستے ہیں

لفظوں کے چناؤ کو کہے گئے فقروں کو

لوگ بہت طویل عرصے تک دلوں میں یاد رکھتے ہیں

کرداروں کے ناموں سے وہ سب کو یاد رہتے ہیں فقط کچھ بھول جائے تو وہ بس ایک ہم ہی ہوتے ہیں

ہم گمنام سے لکھاری) “(از قلم ام ہانی )

“آج تو بڑا شاعرانہ مزاج ہورہا ہے ” زکی نے اسے چھڑتےبیوئے کہا تھا

” ہاں بس آج دل چاہا کہ خود سے کچھ کہو حالانکہ مجھے شادی سے بس پڑھنے کی حد ہی لگاؤں ہے

پتہ ہے زکی مجھے لگتا ہے لکھاری ہونے کے لئے کسی خاص ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی کچھ زیادہ تعلیم یافتہ بھی ٹھیک سے لکھ نہیں پاتے اور کچھ لوگ کم پڑھے لکھے ہونے کے باوجود کمال ہی لکھ جاتے ہیں جیسے بہت سے لوگوں میں فطری طور یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ کسی کے بھی اسکیچ بنا سیکھے خود سے بنا بھی لیتے ہیں بناسیکھے ۔۔۔ بچپن سے ہی انکی ڈرائنگ بہت اچھی ہوتی ہے اسی طرح کچھ لوگوں میں لکھنے کی صلاحیت بھی فطری ہوتی اسی طرح شاعری بھی ہر کوئی نہیں کر سکتا یہ بھی کوئی ہی کرتا ہے جسے ہم گاڈ گفٹڈ کہتے ہیں

یہ جو لکھاری ہوتے ہیں کہ یہ معاشرے کو عام انسانوں کی طرح سے دیکھ ہی نہیں سکتے انکا معاشرے کو دیکھنے کاسوچنے پرکھنے کا انداز بلکل الگ ہوتا ہے وہ کسی بھی واقع کو دیکھ کر جب اسے قلم بند کرتے ہیں تو اپنے احساس کا نچوڑ اس میں ضرور ڈال دیتے ہیں ۔۔۔ اپنا ذاتی نظریہ ہمہیں ہر مصنف کی تحریر میں الگ ہی نظر آتا ہے

زکی آپ کو پتہ جب میں نے عزت کہانی لکھی تھی اسوقت میں بہت روئی تھی وہ چھوٹا ساافسانہ بھی میں نے پوری رات میں لکھا تھا حالانکہ لکھنا مشکل نہیں تھا بس اس میں احساس ڈالنا بڑا مشکل تھا ۔۔۔ درد لکھنے کے لئے درد سے گزرنا پڑتا ہے یہ میں نے عزت لکھتے ہوئے محسوس کیا تھا ۔۔۔ ” مہرونساء کی آنکھیں اب بھی نم تھی

وہ جو کہہ رہی تھی مکمل طور پر اسی میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔۔

” یہ تو ہے شاید اسی لئے جب میں نے عزت کہانی پڑھی تھی تو آخر میں اپنی نمی کو چھپا نہیں پایا تھا ایک لکھاری کا قاری سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے مہر پڑھنے والے بھی لکھے گئے کرداروں کو خود میں سمو کر پڑھتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ میری طرح بھی ہوں گئے جو رات کی خاموشی میں ناول پڑھنے کے شوقین ہوں ہاتھ میں۔ بلیک کافی یا چائے کا کپ لئے ہر فکر اور کام سے آزاد ہو کر پڑھتے ہوں ” زکی اسے اپنی کیفیت بتا رہا تھا

” ہاں میں بھی پہلے ایسے ہی پڑھتی تھی اور وہ بھی ۔۔۔ جس نے میری زندگی کو نئی سوچ اور منفرد تحریروں کو اپنی سوچ سے نواز دیا ۔۔۔ ” مہرونساء کو اس وقت شرمینہ یاد آئی تھی

” شرمینہ ؟” زکی فورا سے سمجھ گیا تھا

” ہاں شرمینہ۔۔۔زکی میں خود کو تو شاید بھول جاؤ لیکن اسے نہیں بھول سکتی اس نے تو مجھے زندگی کا وہ سبق دیا ہے کہ میرے جینے کا انداز ہی بدل دیا ہے ۔۔۔۔ اب جب بھی میں لکھتی ہوں تو یہ سوچ کر لکھتی ہوں کہ کہیں میری وجہ سے کوئی شرمینہ جیسا قدم نا اٹھا لے ۔۔۔ “

” چلو اب چھوڑو سب باتوں کو کچھ دیر آرام کر لو اٹھ کر ہم مل کر پیکنگ کریں گئے پرسوں صبح کی ہماری فلائٹ ہے ” زکی اسے دوبارہ سے انہیں یادوں میں نہیں بھیجنا چاہتا تھا

چلو ایک غزل میں تمہیں سناتا ہوں جو میری لکھی گئ نہیں ہے کسی اور شاعر کی ہے

ﺳﻨﺎ ﮬﻮ ﮔﺎ ﺑﮩﺖ ﺗﻢ ﻧﮯ ۔۔۔

ﮐﮩﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻡ ﺟﮭﻢ ﮐﺎ،

ﮐﮩﯿﮟ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺒﻨﻢ ﮐﺎ !!!

ﭘﮍﮬﺎ ﮬﻮ ﮔﺎ ﺑﮩﺖ ﺗﻢ ﻧﮯ ۔۔۔

ﮐﮩﯿﮟ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺎ،

ﮐﮩﯿﮟ ﺳﺎﻏﺮ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﮐﺎ !! ﺍ

ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺪﻡ ۔۔

!! ﮐﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﮯ ؟؟ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﺮﮐﮭﮯ ؟؟

ﮐﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ۔۔۔۔۔ ؟؟

ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺟُﺪﺍﺋﯽ ﻧﮯ، ﯾﮩﯽ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺑﺨﺸﯽ ﮬﮯ !!

ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻔﻆ ﻟﮑھتاﮬﻮﮞ،

ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻔﻆ ﺭﻭﺗﮯ ﮬﯿﮟ !!!

ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﺮﻑ ﺑُنتا ﮬﻮﮞ،

ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﺑَﯿﻦ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ !!!

ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻨﮓِ ﺟُﺪﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ،

ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ !!!

ﺳﺒﮭﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ

ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﻟﯿﮑﻦ ۔۔ ۔۔

ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳُﻨﺘﺎ،

ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﺳﺴﮑﯽ !!!

ﻓﻠﮏ ﺑﮭﯽ ﺟﻮ ﮬﻼ ﮈﺍﻟﮯ ۔۔۔

۔۔ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ،

ﺍُﺳﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ

!!! ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺪﻡ !!!

ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ !!!…

********…….

اسلام آباد پہنچے کے بعد زکی نے ایک پراویٹ گاڑی بک کروائی تھی اور ڈرائیو بھی خود ہی کر رہا تھا

مری کے راستے میں جب بھی کوئی دلکش منظر نظر آتا تو وہ وہیں گاڑی روک دیتا تھا کچھ پل وہ دونوں وہیں بیٹھ کر اس نظارے میں کھو سے جاتے

تھے مہرونساء کو لگتا تھا جیسے اس کی زباں کی سارے گرہیں کھول سی گئیں ہیں وہ زکی سے خوب باتیں کر رہی تھی ۔۔۔ کبھی بے اختیار ہسنے لگتی کبھی کوئی کالج کا قصہ سنانے لگتی ۔۔۔ وہ بس مسکراتے ہوئے اسکی باتیں سنتا رہتا ۔۔۔ پہلی بار زکی پر یہ راز کھلا تھا کہ مہرونساء گم صم اور چپ چپ ریزو سی لڑکی ہر گز نہیں تھی مہرونساء کی مسکراتی آنکھیں کھلتا چہرہ زکی کی محبت کی وجہ سے تھا

زکی کا ارادہ سچ میں صرف نکاح تک ہی تھا وہ رخصتی ابھی کرنا نہیں چاہتا تھا ایک ڈیر سال تک وہ اپنے مقصد ہر ہی فوکس کرنا چاہتا تھا پھر پیسوں کی اسے اس وقت بہت کمی تھی جتنا کمایا تھا دو ڈراموں میں لگ چکاتھا اس لئے چاہتا تھا کہ پہلے کچھ پیشہ اور کما لے شادی وہ پورے زور شور سے کرنا چاہتا تھا لیکن یسرا کو جیل کاسین سمجھانے کے لئے جب مہرونساء خود اسکی جگہ پر جا کھڑی ہوئی تھی اور اپنے تلخ ماضی کو یاد کر کے رونے لگی تھی ۔۔۔ جب واپسی پر زکی سے شادی سے منع کر رہی تھی زکی اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ مہرونساء کو ایک دوست کی اشد ضرورت ہے ایک ساتھ اسے ایسا چاہیے کہ جس کی محبت پا کر وہ ماضی کے ہر غم کو بھول جائے اس لیے سے نکل جائے جس میں وہ ہر پل کرب میں تھی اسی لئے اسی وقت فیصلہ کر چکا تھا کہ اب وقت کوضائع نہیں کرے گا ۔۔۔ اور آج جو مہرونساء اس کے ساتھ بیٹھی اپنی ہر بات اسے بتا رہی تھی اس ہاتھ پکڑے ہوئے اپنی ہر چھوٹی سے چھوٹی خوشی اس کے ساتھ شیر کر رہی تھی وہ ۔۔وہ مہرونساء نہیں تھی جو ڈری سہمی خوفزدہ سی دلہن بنی زکی سے خوف کھا رہی تھی ۔۔۔ عورت اعتماد ہمیشہ شوہر ہی دیتا ہے اور اس کا اعتماد بھی ایک مرد ہی ہوتا ہے جو چھین لیتا ہے اپنی جارحیت کی وجہ سے

مری پہنچتے ہوئے انہیں شام ہو گئ تھی اور ٹھنڈ بھی بڑھ گئ تھی رات کا کھانا کھاتے ہی وہ لوگ باہر نکل گئے کیونکہ دو دن کے لئے آئے تھے اس لئے ان دو دنوں کو یاد گار بنانا چاہتے تھے ۔۔۔ مہرونساء کے ذہن سے ماضی کی ہر تلخ یاد محور سی ہو کر رہ گئ تھی ۔۔۔ یاد تھا تو بس یہ کہ وہ زکی کے ساتھ بہت خوش تھی اتنی خوش کہ شاید فواد کے ساتھ بھی کبھی ایسی انڈرسنڈنگ ڈویلپ نا ہو پاتی کیونکہ زکی اسے سمجھتا تھا ۔۔۔ کئ باتیں وہ مہرونسا کہ کہے بنا اسے بتا دیتا تھا

” شاید میرے نصیب میں زکی ہی سب سے بہتر تھا میرے رب نے میرے لئے ایک بہترین ہمسفر چنا تھا اور اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ وہی دیتا ہے جو ہمارے لئے سب سے بہتر ہوتا ہے یہ اور بات ہے کہ ہم اس بات کو سمجھنے میں بہت دیر کر دیتے ہیں

مہرونساء کو زندگی سے اب کوئی شکوہ نہیں رہا تھا ۔۔۔

رات کو وہ بیڈ پر لیتی یہی سوچ رہی تھی ۔۔۔ زکی سو چکا تھا لیکن وہ جاگ رہی تھی ۔۔

زکی کو بڑی چاہت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی پھر اسکی باتیں یاد آنے لگیں

” مہر میرے دادا کہتے تھے میاں بیوی اگر محبت سے ایک دوسرے کو دیکھیں تو وہ بھی نیکی ہے۔۔۔ کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں اگر ہم دین کا مطالعہ کریں تو ہرعمل عبادت کے زمرے میں آتا ہے حالانکہ ماں باپ کو پیار سے دیکھنا ؟ ۔۔۔ بیوی بچوں سے محبت سے رہنا یہ سب فطری سی باتیں ہیں اور ہم اس معاملے میں بے اختیار سے ہوتے ہیں

ہمہیں اپنے ماں باپ پر پیار خود با خود آتا ہے اور اللہ کی محبت کی شان تو دیکھوں اللہ نے اس بے اختیار سے جذبے کو بھی ثواب بنا دیا ہے بیوی سے محبت ایک فطری جذبہ ہے اور اسے بھی نیکیوں سے بھر دیا ہے ۔۔۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی جب جائز رشتوں میں اللہ نے سب کچھ رکھا ہے تو انسان کیوں شیطان کے بہکاوے میں آ کر کہیں اور محبت تلاش کرتا ہے ۔۔۔ ” زکی کی باتیں اپنی جگہ بلکل درست تھیں ۔۔۔ کاش کے سب کے دادا زکی کے دادا جیسے ہو جائیں اپنے بچوں کو اسلام سیکھائیں انہیں یہ بتائیں کہ اللہ نے کسطرح سے اپنے بندوں کو محبت کی ترغیب دی ہے ” زکی کی پیشانی پر بکھرے بالوں کو مہرونساء نے اپنے ہاتھوں سے پیچھے کیا تھا وہ گہری نیند میں تھا مہرونساء یہ سوچنے لگی تھی کہ جب پہلی بار وہ زکی سے ملی تھی تو اسےخاس وقت وہ بہت برا لگا تھا وہ صاف گو قسم کا انسان تھا تب بھی اسکے ناول پر اس کا تبصرہ خوشامد سے عاری تھا

پھر جب اس کے ساتھ پہلا ڈرامہ کیا رب بھی اڈے ایک با رعب اور اپنے کام میں پرفیکشن کو اہمیت دینے والا ڈاریکٹر ہی پایا تھا لیکن گھر میں وہ کس قدر منفرد سا شخص تھا اس کے لئے ناشتہ بنانے ہوئے اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے ہوئے اسے یاد آنے لگا جب وہ بارش میں بھیگی ویران سڑک پر بھاگتے ہوئے اسے ملی تھی اتنے غصے میں ہونے کے باوجود بھی زکی نے اس کے ساتھ سخت لہجہ نہیں اپنایا تھا اسے۔ دیکھے بنا اس نے پانی شال اسکی طرف بڑھا دی تھی تا کہ وہ خود کو چھپا سکے مرد کی تربیت شاید ایسے ہی موقع میں سامنے آتی ہے ۔۔۔ اور اب بھی اسلام آباد سے مری آتے ہوئے وہ لوگ کچھ دیر انگوری کی آبشار پر رکے تھے ۔۔۔ بہتے جھرنے دیکھتے ہوئے مہرو کو جب پیاس سی محسوس ہوئی تو زکی نے اپنی ہاتھ کے پیالے سے اسے پانی پلایا تھا عمل ایک چھوٹا سا تھا مرد کو شاید ایسا کر کے یاد بھی نہیں رہتا لیکن عورت ؟ عورت کے لئے وہ ایک حسین یاد بن جاتا ہے ہمیشہ کے لئے دل کی کتاب میں خوبصورت لمحوں کی فہرست میں لکھا رہتا ہے اب سمجھ آ رہا تھا کہ محبت ایک دوسرے کا احساس کرنے کا نام ہے

پھرخود ہر بھی افسوس ہونے لگا جس کو وہ محبت کے طور پر لکھتی آئی تھی وہ تو محبت تھی ہی نہیں محبت یہ تھی جو زکی کے دادا نے اسے سیکھائی تھی ۔۔۔۔ دو دن بہت جلد ہی گزر گئے تھے واپسی میں وہ اسی آبشار کے پر رک گئے

سامنے پتھر کے پہاڑوں سے قدرتی طور پر بہتے پانی کے نظارے ہی بہت دلفریب تھے ۔۔۔ انکی شام کی واپسی کی فلائٹ تھی ۔۔۔ وہیں آبشار پر بیٹھے ہوئے وہ دونوں ہی اپنی باتوں میں مگن تھے ۔۔ جب کسی کا ہاتھ مہرونساء کے کندھے پر بڑی سختی سے اسکے۔ کندھے کو جکڑ چکا تھا ۔۔۔ سب سے پہلے تو زکی کو مہرونساء کے کندھے پر ایک مردانہ ہاتھ دیکھ کر جھٹکا لگا تھا ۔۔۔ مہرونساء اور زکی دونوں نے بیک وقت پلٹ کر اس شخص کو دیکھا تھا جیسے دیکھ کر مہرونساء اپنا اگلا سانس لینا ہی بھول گئ تھی ۔۔۔

******…….

فاضل دو دن سے گھر میں ہی اپنے کمرے میں بند تھا جس ماضی کو وہ بھولنا چاہتا تھا یسرا نے اسے وہی یاد دلا دیا تھا

شرمینہ سے پہلی ملاقات فاضل کی اسی کے کالج میں ہوئی تھی اپنے کسی ڈرامے کی پرموشن کے لئے انکی ٹیم ایک گلرلز کالج گئ تھی ۔۔۔ وہاں سجیلہ بھی فاضل کے ساتھ تھی لیکن چونکہ وہ لڑکیوں کا کالج تھا تو فاضل کے پیچھے اسکی پرستار لڑکیوں کا ہجوم بہت زیادہ تھا کوئی آٹو گراف کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھا رہی تھی تو کوئی ڈوپٹے کا کونا وہ بس مسکراتے ہوئے بس پر اپنے سائن ہی کر رہا تھا جب اس ہجوم کو پیچھے ہٹاتے ہوئے ایک لڑکی با مشکل اس تک پہنچی تھی شاید وہ بھی فاضل کو اتنی یاد نا رہتی اگر وہ اپنی تصویر اسکی طرف نا بڑھاتی

” سنئیے اس پر اپنا آٹو گراف دیدیں اس لڑکی نے اپنی یونیفارم میں کھنچی ہوئی تصویر آگے کی فاضل نے اسکی تصویر پکڑ لی سوچا کہ شاید اپنی تصویر پر اس کااٹو گراف دیکھا کر اپنی سہیلیوں کو دیکھنا چاہتی ہو گی س سے پہلے کے وہ سائن کرتا اس لڑکی نے اسے فورا سے ٹوک دیا

” سنئے اس پر اپنے سائن مت کیجیے گا ” اس لڑکی کی یہ فرمائش بھی کچھ عجیب تھی

” تو اور کیا لکھوں “

” مسز فاضل ” اس لڑکی کی عجیب وغریب سی فرمائش سن کر فاصل نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا تھا سفید یونیفارم پہنے معصوم سے چہرے پر اسکی خوشی کے جوش سے چمکتی ہوئی آنکھیں اور مسکرانے سے چہرے پر پڑتا واضع ڈمپل اسے اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے کافی تھا

” دیکھیں یہ میں نہیں لکھ سکتا ۔۔۔ میری بیوی ناراض ہو جائے گی ۔۔۔ ” فاضل نے سجیلہ کی طرف آنکھ ونک کر کے مزاق میں کہا کیونکہ جسڈرامء کی پرموشن کے لئے وہ لوگ آئے تھے اس میں فاصل کی بیوی کا کردار سجیلہ ہی ادا کر رہی تھی ۔۔۔ فاضل کے مزاق پر سجیلہ سمیت سب لڑکیاں ہی ہسنے لگیں ۔۔

” لکھ دیں نا پلیز آپ کو بھلا کیا فرق پڑے گا ۔۔ بس مجھے خوشی ہو گی میں یہ ہمیشہ اپنے پاس سنبھال کے رکھو گی ۔۔۔ آپ کو نہیں پتہ کہ میں آپ کی کتنی بڑی فین ہوں ” وہ لڑکی لجاجت سے کہہ رہی تھی فاضل نے اس کے ہاتھ سے اسکی تصویر لیتے ہوئے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ تمام عمر یہ تصویر وہ لڑکی نہیں بلکہ وہ اپنے پاس کسی یاد کی طرح سنبھالے رکھے گا ۔۔۔

مسز فاضل لکھ کر فاضل نے وہ تصویر اس لڑکی کو واپس کر دی ۔۔۔ اس لڑکی نے خوشی سے اپنی تصویر کو چوما اور اسی ہجوم سے باہر نکل گئ یک دم ہی وہ فاصل کی نظروں سے اوجھل ہو گئ تھی ۔۔۔

نا جانے کیوں لیکن چند ثانیے کے لئے فاصل کی نظریں اسی کی متلاشی رہیں تھیں پھر وہ دوبارہ سے آٹو گراف دینے میں مصروف ہو گیا ۔۔۔

گھڑی کے بارہ بجنے کے الارم نے فاضل کو ماضی سے حال میں کھنچا تھا ۔۔۔ جب ہوش آئی تو آنکھیں نم تھی آنکھوں کے سامنے شرمینہ کا روتا ہوا چہرہ تھا اس سے آخری ملاقات یاد آنے لگی تھی کیسے بے تحاشہ روئے جا رہی تھی

” وہ ۔۔۔ وہ ۔۔شخص انسان نہیں ہے فاضل ۔۔۔ وہ بہت سخت مزاج ہے ۔۔ مجھے اس سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ خوف آتا ہے “

” تم کیوں فکر کرتی ہو میں کل ہی تمہارے گھر اپنی والدہ کو لیکر آؤں گا تمہاری امی کو سمجھاؤں گا ان سے بات کروں گا مجھے وہ انکار نہیں کر پائیں گئیں “

“نن ۔۔نہیں ۔۔نہیں ۔۔تم نے آنا وہ ۔۔۔ ۔۔۔وہ ” شرمینہ اس قدر خوفرہ تھی کہ اس کے منہ سے لفظ بھی ادا نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔ ” پھر نا جانے کیوں بڑی بد حواسی میں اٹھ کر جانے لگی تھی

” جا کہاں رہی ہو میری بات سنو شرمینہ “

” میں فون ہر بات کروں گی ” یہ کہہ وہ چلی گئ تھی

فاضل اٹھ کر بیٹھ گیا سامنے رکھی اسی کتاب کے پاس پہنچ کر اسے کھولا سامنے ہی شرمینہ کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آنے لگا ۔۔۔۔

” میں آپ کی بہہہہت بڑی فین ہوں ۔۔۔۔ “

ایسا لگ رہا تھا وہ تصویر بول رہی ہے کہ مسکرا رہی ہے ۔۔۔ فاضل کی آنکھوں سے بے اختیار آنسوں بہنے لگے تھے