Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 21
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 21
Meri Jaan by Umme Hani
اسد نے اتنے غصے سے یسرا کو دیکھا کہ وہ ڈر سی گئ تھی ۔۔۔
“تم ہو کیا چیز جو میں۔۔۔۔میں اسد غفار ایک خاندانی رئیس ایک مشہور فلم اور ڈرامہ ڈاریکٹر تم جیسی لڑکی سے شادی کروں گا ایک دو ٹکے کی ایکڑیس سے ؟ میرے خاندان کانام معززین میں لیا جاتا ہے ہماری۔ ایک عزت ہے معاشرے میں ایک مقام ہے ” اسد کے لہجہ رعونیت سی بھر پور تھا یسرا کا دل تو چاہا کہ کہہ دے کہ اتنے ہی خاندانی رئیس ہو تو کیوں مجھ جیسی دو ٹکے کی ایکٹریس کے ساتھ ہوٹل میں جاتے ہو ۔۔۔ تب تمہاری خاندانی عزت اور وقار کو فرق نہیں پڑتا
” سر مجھے آپ سے صرف نکاح کرنا اسے آپ خفیہ بھی رکھ سکتے ہیں اور کنٹریکٹ ختم ہوتے ہی طلاق دے دیجیے گا لیکن میں بار بار زنا جیسا گناہ نہیں۔ کر سکتی ۔۔۔ اس لئے اسے ایک پاکیزہ رشتے میں ڈھالنا چاہتی ہوں
” او یو شٹ اپ یسرا ۔۔۔ ہم صرف ایک دوسرے کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں تمہیں پیسے ملتے ہیں جس سے تمہاری ماں بہن عزت کی زندگی جی رہیں ہیں اور مجھے ۔۔” اسد کی بات یسرا نے کاٹتے ہوئے کہا
” میں فلم سے کمارہی ہوں اور میری فلم نے آپ کو شہرت کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی خوب دیا ۔۔۔ یا توآپ مجھ سے نکاح کریں گئے یا میں صرف فلم کی حد تک آپ کی پابند رہو گی ۔۔۔ اس کے علاؤہ میں آپ سے کوئی بھی تعلق نہیں رکھنا چاہتی ” یہ کہہ وہ یسراوہاں سے چلی گئ تھی
” بہت چالاک بنتی ہے سالی میں نکاح کر لو ؟ اور بعد میں یہ میڈیا میں اسکی دھوم مچا کر مجھے سب کے سامنے اسے مقام دینے پر مجبور کر سکے ۔۔ ایک فلم کیاہٹ ہو گئ خود تو نا جانے کون سی ریما خان سمجھنے لگی ہے ” اسد نے غصے سے سگریٹ جیب سے نکال کر منہ میں لیا تھا ۔۔۔
یسرا نے ہمت کر کے زبان کھول ہی دی اور اسے اس بات فایدہ پی ہوا تھا کیونکہ اب وہ اسد کی دوسری فلم کر رہی تھی پہلی فلم کی کامیابی کا یہ عالم تھا کہ سب تک سنیما گھروں کی زینت بنی ہوئی تھی اب تو اسد بھی کچھ یسرا کے سامنے جھکنے پر مجبور تھا کیونکہ وہ اپنی اداکارہ سے سین میں جان ڈالنا اچھے سے جانتی تھی ۔۔
اور یہ بھی سچ تھا کہ اس نے یسرا کی فلم سے کڑرورو کمائے تھے اور اب تک کما رہا تھا ۔۔۔
اس لئے اس پر اب زبردستی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔
دوسرے دن اسد کواپنارویہ یسراسے ٹھیک کرنا پڑا تھا شورٹ کے بعد اسد نے اسے اپنے آفس میں بلا کر بڑی نرمی سے گفتگوں کا آغاز کیا
” میں نے تمہاری بات پر بہت غور کیا ہے یسرا ۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہی ہو یہ سب گناہ ہے ۔۔۔ مجھے تم بہت اچھی لگتی ہوں ۔۔۔ نو ڈاوٹ کے تم بہت خوبصورت ہو لیکن دیکھوں نا یار ۔۔۔ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں کے کچھ تقاضوں کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے ایکچلی میری وائف میری کزن بھی ہے اور میرے والد نے میرے حصے کی ساری جائیداد میری بیوی کے نام کر رکھی ہے ۔۔ یو نو کہ میں ایک ڈاریکٹر ہوں اس لئے ہماری فیملی اور خاص طور پر بیوی ہمارے لئے ان سیکور ہوتی ہیں۔ میں تم سے نکاح نہیں کر سکتا ۔۔۔ ٹھیک ہے تم صرف فلم کرو ۔۔ اس کے علاؤہ میں تم سے کوئی تعلق نہیں رکھو گا
لیکن یسرا میں چاہتا ہوں ہم آگے بھی ایسے ہی کام کریں تم اگلے پانچ سال تک کا کنٹریکٹ میرے ساتھ سائن کرو ۔۔۔ میں تمہیں فلم کے پیسے بھی بہت اچھے دونگا ” اسد کو پہلی بار یسرا نے اپنے سامنے کچھ بے بس سا محسوس کیا تھا
” مجھے آپ کی بیوی بننے کی کوئی خواہش بھی نہیں ہے ۔مجھے بس گناہ سے بچنا ہے جتنا میں بچ سکتی پہلی بار میری مجبوری تھی میری والدہ کی زندگی کا سوال تھا اسکے بعد مجھے اپنی بہنوں کی عزت کے لئے تحفظ کے لئے ایک اپنے گھر کی ضرورت تھی لیکن اب میری ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے ہمارے کنٹریکٹ کو چھ ماہ ہی رہ گئے ہیں اس کے بعد میں سوچوں گی کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ۔۔۔ ” یسرا نے اپنے اس اعتماد کو ختم ہونے نہیں دیا تھا نا خود کو اسد کے سامنے پسپا کیا تھا اسد سامنے بیٹھی لڑکی کے اعتماد کو دیکھ کر حیران ہوا تھا ۔۔۔ وہ اسے لاجواب سا کر گئ تھی
*******……..
زکی کے دوسرے ڈرامے کی ریڈنگ بھی بہت اوپر جارہی تھی وہ جام توڑ محنت کر رہا تھا ذہن میں اب بسایک ہی بات کہ وہ تھی کہ اپنے بل بوتے پر اپنا نام اور مقام بنانا ۔۔۔ منظور صاحب کے تو پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔ زکی کو حیرت کا جھٹکا اسوقت لگا جب وہ منظور صاحب کے آفس میں کسی کام سے گیا تو وہاں سجیلہ پہلے سے موجود تھی ۔۔۔ سجیلہ کو دیکھ کر زکی وہیں رک گیا
” آؤں آؤں زکی سجیلہ کو تو تم جانتے ہی ہو آج سے یہ ہمارے لئے کام کریں گئ ” منظور صاحب نے بڑی خوشی سے یہ بات شکی سے کہی
” او کے سر اگر یہ آپ کے ساتھ کام کریں گئ تو مجھے آپ معاف کریں میں آپ کے ساتھ مزید کام نہیں کر سکتا ۔۔۔ ایم سوری ” زکی یہ کہہ چلا گیا سجیلہ حیران رہ گئ تھی ۔۔۔ زکی نے ذراسی بھی مروت نہیں دیکھائی تھی ۔۔۔
منظور صاحب نے بھی سجیلہ کو کھرا جواب دے دیا کہ وہ زکی کو نہیں چھوڑ سکتے ۔۔۔ اپنی اتنی بڑی اہانت سجیلہ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔
اسد سے بھی ف کے لئے کہہ چکی تھی اسد نے بھی اسے کورا جواب دیا تھا ۔۔۔ کہا نہیں کیا تھا اس نے یسراکو ہرانے کے لئے لیکن سجیلہ کی ہر چال اس پر الٹی پڑ رہی تھی ۔۔۔ وہ اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔ سجیلہ کے دن اب میڈیا پر پورے ہونے لگے تھے ۔۔۔ عمر بھی بڑھ رہی تھی نئ خوبصورت اور ٹیلنٹ والی لڑکیاں آگے بڑھنے لگیں تھیں لوگ اب انہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔۔۔ میڈیا پر صرف چڑھتے سورج کو ہی سلام کیا جاتا ہے بارہ سال سجیلہ نے اپناعروج دیکھا تھا اور اب اس کازوال شروع تھا
لیکن ایسے حالات میں ٹاپ پر رہنے والی ہیروئن اپنی ہار برداشت نہیں کر پاتی ۔۔۔ اسلئے الٹی سیدھی حرکتیں شروع کر دیتی ہیں ۔۔ سجلہ نے ڈرنک زیادہ کرنی شروع کر دی تھی ہر وقت نوکروں پر چلاتی تھی۔۔۔ پھر موڈل گ کی جانب بڑھ گئ لیکن وہاں بھی اسے یہ کہہ کر ڈال دیا گیا کہ جب آپ کے لائق کام ہو گا تو ضرور بتائیں گئے
یہ سن کر تووہ ہتھے سے اکھڑ گئ تھی
” کیس مطلب ۔میرے لائق کام ہو گا تو ۔۔ میں آپ کو فارغ نظر آتی ہوں میں سجیلہ ہوں مشہور سیڑریس سجیلہ ۔۔۔۔ ڈاریکٹرز میرے آگے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں مجھے کام سے ہی فرصت نہیں ملتی اور آپ کہہ رہے کہ ۔۔۔۔”
” جب آپ کے پاس کام کی فرصت ہی نہیں ہے توآپ یہاں کیا کر رہیں ہیں دیکھیں محترمہ ہمارا بہت قیمتی ہے اسے ذائع مت کریں اور جائیں یہاں سے ” یہ کہہ اس شخص نے اپنی جان چھڑائی تھی سجیلہ اسکی کرسی کو ٹھوکر سے گرا کر وہاں سے۔چلی گئ ۔۔۔ اس شخص کو سجیلہ کی ذہنی حالت پر شبہ ہونے لگا تھا ۔۔۔
*******……..
“وہ مجھے چھوڑ کرجا چکا ہے ؟۔۔ شادی بھی کر لی اس نے؟ نہیں نہیں ۔۔۔ فواد ۔۔۔” مہرونساء رونے لگی تھی
” تمہیں میری آنکھیں پڑھنی چاہیے تھیں میں بے بس ہوگئ تھی ایک ماں کے آنسوں دیکھ کر میں تمہارے ساتھ جس نہیں پائی ایک ماں کے آنسوں کی وجہ میں تھی ۔۔۔ تمہیں کیوں لگا کہ تمہاری مہرو تم سے محبت نہیں کرتی تم نے کیسے یہ سمجھ لیا ۔۔۔کیوں سمجھ لیا ” فواد کے بچھڑنے کے غم کا احساس مہرونساء کو اب شدت سے ہو رہا تھا ۔۔۔ کچھ دن تک تو واقع وہ سوگ ہی مناتی رہی تھی ۔۔۔ حازم نے بھی اسے اس کے بعد کچھ نہیں کہا تھا لیکن مہرو اب زندگی سے بلکل مایوس ہو چکی تھی ایک بار حازم کی آنکھ مہرو نساء کے قہقہوں پر کھلی خاموشی میں بس اسی کے قہقہے گونج رہے تھے
جب حازم نے اٹھ کر کھڑی کھولی کیونکہ ہسنے کی آوازیں باہر لان سے آرہی تھیں مہرونساء شرمینہ کی قبر پر بیٹھی ہنس رہی تھی ۔۔۔
” برا مان گئے ہو شرمینہ ارے مزاق کیا تھا میں نے دیکھوں تو میں ہنس رہی ہوں اگر سنجیدہ ہوتی تو کیا یوں ہنس کر تم سے بات کرتی
میں نے تم سے مزاق کیا تھا شرمینہ لیکن تم تو میری زندگی ہی مزاق بنا دی
دیکھوں ۔۔۔ دیکھو آج قسمت نے میرے ساتھ کیسا مزاق کر دیا ۔۔۔ میں تمہیں بیوقوف بنا کر گھنٹوں تمہاری باتیں یاد کر کے ہنستی تھی کہ یہ کیسی بیوقوف لڑکی ہے جو میری باتوں کو سچ سمجھ لیتی ہے ۔۔۔ میں نے تمہاری معصومیت کا مزاق اڑایا تھا اور آج قسمت نے میرے ساتھ مزاق کیا ہے ۔۔۔ دیکھوں شرمینہ میرے ہاتھ دیکھوں ” مہرو اب رونے لگی تھی شرمینہ کی قبر پر بیٹھی اپنے ہاتھ پھیلا کر کہہ رہی تھی
” دیکھو میں خالی ہاتھ رہ گئ ۔۔۔ میرے ان ہاتھوں نے آج مجھ سے میری محبت چھین لی ۔۔۔ میرے ان ہاتھوں میں مجھ سے میرا فواد چھین لیا ۔۔۔ تم چپ کیوں ہو شرمینہ ۔۔۔ ہنسو مجھ پر زور زور سے ہنسو شرمینہ جیسے میں ہنستی تھی۔۔۔ تم کیوں سوئی ہوئی ہو اٹھو نا شرمینہ مجھ پر ہنسو ” مہرو اپنے حواسوں میں نہیں تھی ہزیانی سی کیفیت میں جا چکی تھی حازم کے ہوش اسکی دیوانگی دیکھ کر اڑنے لگے تھے وہ اب اپنے دونوں ہاتھوں سے شرمینہ کی قبر کی مٹی ہٹانے لگی تھی ۔۔۔ حازم فورا سے کمرے سے نکل کر لان میں پہنچا تھا ۔۔۔
مہرو کا بازو پکڑ کر اسے پیچھے کرنے لگا لیکن آج تو وہ اسکے قابو میں نہیں ا رہی تھی
” چھوڑو مجھے حازم ۔۔۔ شرمینہ جیت گئ ہے ۔۔۔ وہ معصوم تھی ۔۔۔ اس لئے میرئ باتوں کو سچ سمجھ بیٹھی ۔۔۔ آج وہ جیت گئ ہے میں ۔ ہار گئ ہوں ۔۔۔میں خالی ہاتھ رہ گئی ہوں ۔۔ مجھے شرمینہ سے معافی مانگنی ہے ورنہ میرافواد مجھے نہیں ملے گا ۔۔۔ شرمینہ مجھے معاف کر دے گی توججے چین آ جائے گا ۔۔۔ مجھے چین نہیں آتا مجھے نیند نہیں آتی ۔۔۔ ۔جھے بھوک بھی نہیں لگتی
حازم مجھے اسے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنی ہے مجھے چھوڑو ” وہ پوری قوت سے لگا کر اپنا آپ چھڑوا رہی تھی حازم کے وہ قابو سے باہر ہو رہی تھی وہ مضبوطی سے تھامنے کی کوشش کر رہا تھا
” پاگل ہو گئ ہو تم ۔۔۔ مر چکی ہے شرمینہ ۔۔۔ اتنا شوق ہے اس سے معافی مانگنے کا تو اس کے پاس جا کر مانگو ۔۔۔ اور وہ تم مرے بنا جا نہیں سکتی ہو ۔۔۔ ختم کروں اپنا پاگل پن ۔۔ بند کرو یہ ڈرامہ ” حازم نے اسے بری طرح سے جھجھوڑ کر رکھ رہا تھا مہرو کو ہوش میں لانا چاہتا تھا ۔۔۔
“سچ کہہ رہے ہو تم ۔۔۔ میں اس سے ایسے کیسے مل سکتی ہوں ۔۔۔ مرے بنا اسکے پاس کیسے جاسکتی ہوں ۔۔۔ ” حازم کی گرفت کمزور ہوتے ہی مہرو اپنا آپ چھڑوا کروہ بھاگتے ہوئے اندر گئ تھی ۔۔۔ حازم اسکے پیچھے دوڑا تھا وہ اوپر کا زینہ تیزی سے چڑھ رہی تھی
” مہرو کہاں جا رہی ہو تم رکو ” حازم اسکے پاگل پن سے زچ ہو رہا تھاوہ چھت کی سیڑیوں چڑھتے ہوئے چھت پر پہنچ گئ ۔۔۔ اور تیزی سے بھاگتی ہوئی دیورا کے پاس پہنچ گئ جس کے نیچے لان تھا حازم کی یہ دیکھ جان پر بنی تھی ۔۔۔
” مہرو” وہ اسکی طرف تیزی سے لپکا تھا لیکن اس وقت تک مہرو دیوار پر کھڑی ہو چکی تھی
” شرمینہ میں تمہارے پاس آ رہی ہوں ” یہ کہہ کر مہرو نے آنکھیں بند کی اوراگلا قدم ہوا میں معلق ہوا تھا اس سے پہلے کے وہ خود کو موت کے حوالے کرتی حاز م نے اس ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھنچا تھا ۔۔۔ وہ حازم پر جا کر گری تھی ۔۔۔ وہ جانتا تھااس لئے اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا وہ زمین پر نہیں گری تھی ۔۔۔ پھر اسے چھوڑ کر ایک زور دار تھپڑ اسکے منہ پر مارا ۔۔
” کیا کر رہی تم یہ ۔۔۔ پہلے اپنی وجہ سے شرمینہ کو حرام موت پر اکسایا تم نے اور اب خود بھی ایک حرام موت مرنے جا رہی ہو ۔۔۔ ” وہ چلا کر بولا تھا مہرو کو نا تھپڑ کا اثر تھا نا ہی اسکی کیفیت میں کوئی بدلاؤ آیا تھا
” مجھے مر جانے دو حازم ۔۔۔۔ میرا فواد مجھے چھوڑ کر جا چکا ہے ۔۔۔ میں نے تم سے تمہاری محبت چھینی تھی دیکھوں مجھے تمہاری بد دعا لگ گئ ۔۔۔ مجھے لگا تھا فواد میری آنکھیں پڑھ لے گا ۔۔۔ وہ میری مجبوری کو سمجھے گا ۔۔۔ لیکن اس نے شادی کر لی ۔۔۔۔ تم نے ۔مجھے بد دعا دی تھی نا حازم ۔۔۔۔ میں نے تم سے تمہاری محبت کو چھینا تھا آج مجھ سے میرا پیار چھن گیا۔۔۔۔ تمہارا بدلہ پورا ہو گیا ۔۔۔۔ مجھے اب شرمینہ کے پاس جانے دو
مجھے اس سے معافی مانگنی ہے ” مہرونساء بتدریج روئے جا رہی تھی ۔۔۔ روتے روتے اب اسکی حالت غیر ہونے لگی تھی اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں
” مہرو” حازم نے جیسے ہی اسے اپنے حصار میں لیا
وہ حازم پر ہی گر کر بے ہوش ہو گئ تھی ۔۔۔ حازم نے اسے سنبھالا اور اٹھا کر نیچے کمرے میں لے آیا بیڈ پر لیٹا کر پہلے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔ لیکن پھر نا جانے اس بات کا خوف ستایا کہ کہیں دوبارہ سے چھت پر نا چلی جائے وہ واپس اسکے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ مہرونساء کے پاس جا کر بیٹھ گیا سوئے ہوئے بھی وہ ہچکیاں لے رہی تھی آنسوں اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے ۔۔۔ پہلی بار حازم کو اسکی حالت پر ترس آ رہا تھا نا جانے کیوں پہلی بار مہرو کی آنکھوں میں آنسوں اسے اچھے نہیں لگ رہے تھے اپنے ہاتھ سے اسکے آنسوں پونچنے لگا ۔۔۔
اسکے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔ محبوب کی جدائی کا غم خود سہہ چکا تھااس لئے مہرو نساء کی تکلیف کا اندازہ بھی اچھی طرح سے لگا سکتا تھا
پہلے دل میں یہ پشمانی بھی ہوئی کہ کاش فواد کی شادی کی ویڈیو اسے نا دیکھاتا حالانکہ جانتا تھا کہ وہ بہت روئے گی لیکن یہ نہیں معلوم تھا اپنی جان لینے کا سوچ لے گی ۔۔۔ پہلی بار بڑے غور اور لگاوٹ سے مہرونساء کے چہرے پر وہ نظریں جمائے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جس کا چہرا بے رونق سا لگ رہا تھا پچھلے چھ ماہ میں حازم نے اسے سزا ہی تو دی تھی۔ ذرا بھی رحم نہیں کھایا تھا اسپر ۔ لیکن اب لگ رہا کہ مزید اس کے ساتھ ذیادتی کر نہیں پائے گا ۔۔۔
پوری رات وہ صرف مہرونساء کے بارے میں ہی سوچتا رہا ۔۔۔
*******…….
فاضل یسرا کے ساتھ گاڑی میں ریسٹورنٹ کھانا کھانے جا رہا تھا ۔وہ بھی اس شرط پر کہ بل یسرا بھرے گی
” آپ کو شرم نہیں آئے گی ایک لڑکی سے بل بھرواتے ہوئے ” یسرا نے اسے کچھ غیرت دلانے چاہی
” ایمن ہمم بکل شرم نہیں آئے گی ۔۔ کیونکہ لڑکی کماؤں پوت ہے اس سال ایورڈ یافتہ بھی ہونے والی ہے تو مجھے بھلا کیوں شرم آئے گی میں تو ڈٹ کے کھانا کھاؤں گااور منگواں گا بھی سی فورڈ کیونکہ اس بل ذیادہ بنتا ہے ” فاصل کی ڈھٹائی پر وہ مسکرانے لگی تھی
” مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس بار ایورڈ مجھے ملے گا ” یسرا کو فاصل کی پیشن گوئی پر حیرت تھی
” بچہ ہم بہت پہنچے ہوئے شاسترک ہیں ہماری بھوشن وانی سوفیصد درست ہوتی ہے۔ بچہ ” فاصل نے کسی پہنچے ہوئے تانترک کی طرح سے بول رہا تھا یسرا ہنسے بنا نہیں رہ پائی تھی
۔۔فاضل کے گھر سے کال آ رہی تھی فاضل نے فون دیکھا تو سنبھل سا گیا
” جی امی ۔۔۔ لیکن امی میں توایک دوست کے ساتھ ہوں وہ مجھے زبردستی کھانے پر لے جا رہا ہے ۔۔ حالانکہ میں نے اسے بہت سمجھایا کہ میری امی روز روز۔ بازار کا کھانا کھانے سے منع کرتی ہیں لیکن ۔۔۔ پھر بھی وہ مجھے لے آیا تو اب میں کیا کروں ۔۔”
” تم گھر پہنچتے ہو یا پھر “فاضل کی والدہ اتنے بلند لہجے سے بولیں کہ یسرا کو آواز با آسانی سنائی دے رہی تھی
” او کے آ رہا ہوں کیوں ہر وقت اتنی زور سے چیختی ہیں بچے کی جان لیں گئیں۔ کیا آپ ” فضل نے مصنوعی خوفزدہ ہو کر کہا پھر فون بند کر دیا
” چلو بچ گئیں اک تم بل دینے سے ۔۔۔ “
” فاضل آپ مجھے میرے فلیٹ پر ڈروپ کر دیں ” یسرا نے فوراسے مشورہ دیا
” کیوں بھی ڈر گئ ہو میری ماں سے ۔۔۔ دیکھوں بے شک وہ غصے کی بہت تیز ہیں گھر کی ڈور بیل بجاتے دروازہ کھلتے ہی پہلے میری اماں کی جوتی میرے پاس پہنچتی ہے اور اماں بعد میں لیکن پھر بھی مہمانوں کے ساتھ انکا رویہ بہت سوئٹ ہے ت
ہیں کچھ نہیں کہیں گئیں اس لئے کھانا میرے گھر کھا لو پھر میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں گا ۔۔۔ ” فاضل کی بات سن کر بھی اسے یہ مناسب نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اسکے ساتھ اسکے گھر چلی جائے
“نہیں فاصل مجھے آپ میرے گھر ہی چھوڑ دیں “
” اب تم چپ ہو جاؤں بچہ ۔۔ اور خاموشی سے ہماری آگیا کا پالن کرو ۔۔۔” فاصل پھر سے مزاق شروع کر چکا تھا کچھ ہی دیر میں وہ ایک گھر کے سامنے گاڑی روک چکا تھا ۔۔ مناسب ساعلاقہ تھا اور گھر بھی پرانے طرز کا بنا ہوا تھا یسرا کو تو لگا کہ وہ کسی بنگلے میں رہتا ہو گا ۔۔۔ ۔” یسرا بھی گاڑی سے نیچے اتر گئ ۔۔
ڈور بیل پر دروازہ ایک سترا سالہ لڑکی نے کھولا تھا جس کی شکل فاصل سے بہت مشابہ تھی
” ہائے چھٹکی ۔۔۔ اماں کا غصہ کیسا ہے ” فاصل کے سوال پر وہ اشارے سے منہ پھکا کر دیکھانے لگی
” باپ رے باپ آج تو خیر نہیں ہے میری ” فاول کے کہنے پر وہ لڑکی اشارے سے ہاتھ نفی میں ہلانے لگی ابھی یسرا یہی سوچ رہی تھی کہ یہ لڑکی منہ سے کچھ کیوں نہیں بول رہی لیکن وہ دونوں ہی آگے بڑھ گئے تھے یسرا کو بھی انکی تقلید میں آگے جانا پڑتا سامنے لاونج کا دروازہ کھلتے ہی سب سے پہلے ایک لیڈی چپل باہر آئی تھی جو سیدھی فاضل کے کندھے پر لگی تھی ۔۔
” کمال کا نشانہ ہے اماں آپ کا بھی مجال ہے کہ کبھی بول جائے ” یہ کہتے ہوئے وہ سامنے عام سے حلیے میں بیٹھی خاتون کے پاس چلا گیا ۔۔
” یہ وقت ہے گھر آنے کا ” وہ غصے سے بولیں لیکن سامنے دروازے پر متذبذب سی کھڑی یسرا کو دیکھ کر فاصل سے آبرو آچکا کر پوچھنے لگی
” کون ہے یہ لڑکی کہیں یہ وہی تو نہیں ؟”
” ہاں وہی ہے آپکی بہو ۔۔۔ ابھی ابھی نکاح کر لے سیدھا یہاں لایا ہوں تا کے اپنے چرن چھو کر آشیواد لے سکے۔ ۔۔ ” یہ بات سنتے ہی یسرا کاایک رنگ ا کر گزر گیا تھا
وہ فورا سے نفی میں سر ہلانے لگی
” نہیں یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں ۔۔۔ “
” معلوم ہے مجھے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے میری اولاد میں لاکھ برائیاں صحیح پریہ کسم کبھی نہیں کر سکتی اتنااعتماد ہے مجھے “
” چلو شکر ہے اتنا تو بھروسہ آپ نے مجھ پر کیا ہے ۔۔۔ تم کیوں دروازے پاس جم کر کھڑی ہو ۔۔۔ یہ میری اماں ہے ۔۔ بے فکر رہو صرف مجھے ہی جاتا مارتی ہیں ۔۔۔ تم بلکل سیو ہو ” فاصل یسرا کو ہونق بنا دیکھ کر بولا ۔۔۔
” ہاں بیٹا تم فکر مت کرو اور اندر آ جاؤں ۔۔۔ ” انکا لہجہ پل میں شیریں ہوا تھا ۔۔ پھر اس سترا سالہ لڑکی سے وہ مخاطب ہوئیں
” انابیہ کھانا لگاؤں بیٹا ۔۔ سب کو بھول لگی ہو گی ” وہ لڑکی سر اثبات میں۔ ہماری ہوئی ایک طرف چلی گئ یسراخراما خراما قدم اٹھاتی ہوئی فاصل کی والدہ کے پاس جاکر کھڑی ہو گئ انہیں سلام کیا وہ یسرا سے گلے لگ کر ملیں تھیں
” تمہاری فلم نے تو مجھے رلا ہی دیا تھا ۔۔۔ تین راتیں میں روتی رہی ہوں ۔۔۔ ” وہ رہانسی سی ہو گئیں
” ہاں اور ان تین راتوں میں اماں نے رات تین بجے بھی مجھے جاگا کر یہی کہا تھا کم بخت تو اس وقت کہاں تھا جب بچی اتنا تو رہی تھی ۔۔ کس بات کا ہیرو بنا ہوا تھا جب ایک لڑکی کے آنسوں تجھ سے صاف نا ہو سکے ” فاضلنے بے چارگی سے منہ بنا کر کہا اسکی والدہ نے اس کا کام پکڑ لیا
” ہاں کیا غلط کیا تھا میں نے “
” اچھا اماں اب کان چھوڑیں اور کھانا لگائیں ۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے “
فاضل کا کام چھوڑ کر وہ بھی کچن میں چلیں گئیں فاضل نے یسرا کو ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھنے کا اشارہ کیا یسرا خاموشی سے بیٹھ گئ ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں کھانا ٹیبل پر اس سترہ سالہ لڑکی اور فاضل کی والدہ نے لگایا تھا وہ لڑکی فاضل کی بہن تھی ۔۔ کھانے پر خاصا احتمام دیکھ کر یسرا کو حیرت ہوئی تھی ۔۔۔ چار پانچ ڈشز بنی ہوئی تھیں ۔۔ جیسے اسکی آمد کی پہلے سے انہیں خبر ہو ۔۔۔۔ یہ خیال بھی فاضل کی والدہ کی اگلی بات پر سچ ثابت ہوا تھا
” صبح سے اس لڑکے نے دہائی ڈال رکھی تھی کہ اماں کھانا مزے کا بنائیے گا میری دوست نے پہلی بار ہمارے گھر آنا ہے ۔۔۔ اور جب میں نے فون پر پوچھا کہ کب پہنچ رہے تو کہنے لگا دوست کے کھانے پر بیٹھا لیا ۔۔۔ مجھے تو اس وقت اس پر اتنا غصہ آیا کہ پوچھوں ہی مت” یسرا انکی بات سن کر حیرت سے فاضل کو دیکھنے لگی تھی جس کی کوئی کل بھی سیدھی نہیں تھی یسرا نے اپنے خاموش بیٹھی لڑکی کو مخاطب کیا
” آپ پڑھتی ہو ” یسرا کے سوال پر اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
” کون سی کلاس میں ” اس سوال پر اس ہاتھ کی دونوں انگلیاں دیکھا کر گیارہ کا ہندسہ بنا کر بتایا
جو خیال یسرا کے ذہن سے گزرا تھا ۔۔۔ فاصل کے اگلے جمعلے نے اسکی تصدیق کر دی تھی
” نمرہ گونگی ہے یسرا ۔۔۔ بول نہیں سکتی ” یہ بات کہتے ہوئے پہلی بار فاضل خاصا سنجیدہ لگ رہا تھا
” اوہ آئی سی ۔۔ ” یسرا چپ سی ہو گئ ۔۔۔ کھانے کے دوران بس فاصل کی والدہ ہی باتیں کرتی رہیں کافی باتونی قسم کی خاتون تھیں ۔۔ یسرا کو فاضل کے گھر کا سادا سا ماحول بہت اپنا اپنا سا لگا تھا ۔۔۔
*****……
صبح جب مہرونساء کی آنکھ کھلی حازم اسکے برابر میں ہی سو رہا تھا مہرونساء کے ہاتھ میں اپنی انگلیاں پھنسا رکھیں تھیں کہاگر وہ اٹھ کر کہیں جائے تو وہ جاگ جائے ۔۔۔ مہرو نے اپنا ہاتھ بہت دھیرے سے اسکی ہاتھ سے کھنچا تھا لیکن وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا تھا ۔۔ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا
” اب کیسی طعبیت ہے تمہاری ” مہرو نساء چپ ہی رہی کوئی جواب نہیں دیا حازم اٹھ کر بیٹھ گیا
مہرونساء چپ تھی
” تم پہلے ناشتہ کر لو مجھے تم کچھ باتیں کرنی ہیں ” حازم کا لہجہ پہلی بار طنز سے مبرا تھا ۔۔ یہ کہہ وہ کمرے سے باہر چلا گیا ناشتہ مہرونساء نے رفعت بیگم کے ساتھ ہی کیا تھا ۔۔ اس نے حازم کے کمرے کے دروازے پر دستک دی حازم نے دروازہ کھولا اور کمرے سے باہر آگیا بنا کچھ کہے مہرونساء کا ہاتھ پکڑا اور سیڑیاں اتر کر باہر پورچ میں لے آیا حیرت کا جھٹکا مہرونسا کو تب لگا حازم نے اسے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھنے کے لئے کہا وہ خاموشی سے بیٹھ گئ ۔۔۔ گاڑی ابحویلی سے باہر نکل چکی تھی چھ ماہ بعد وہ باہر کی دنیا کو دیکھ رہی تھی لیکن آنکھوں کو کوئی چمک نا تھی جیسے اب سب بے معنی تھا
” کہاں کے جا رہے ہو مجھے ” مہرونساء جب ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد بھی کو ٹھکانا نا دیکھا تو پوچھنے لگی ۔۔۔
” بتا دوں گا ۔۔۔ اتنی بھی جلدی کیا ہے تمہیں ” حازم نے یہ جواب دیا اس وقت وہ کافی سنجیدہ تھا تین گھنٹے کی مسافت کے دوران وہ بس سگریٹ ہی پیتا رہا تھا گاڑی اب کراچی شہر کے سڑکوں پر رواں دواں تھی حیرات کا دوسرا جھٹکا مہرونسا کو تب لگا جب گاڑی اسکے گھر کے سامنے کا کر رکی تھی ۔۔۔
” جاؤں مہرونساء اپنے گھر جاؤں ۔۔۔ تم آج سے میری قید سے آزاد ہو “
” اب ۔۔۔ حازم اب۔۔۔ اب تو مجھے رہائی کی کوئی تمنا کی نہیں رہی ۔۔۔ اب آزاد ہو کر کیا کروں گی ۔۔ تم مجھے واپس امی کے پاس چھوڑ دوں وہ میرے بغیر نہیں رہ پائیں گئیں ” مہرونساء گاڑی سے نیچے نہیں اتری تھی
” کچھ نہیں ہو گا پھپو کو ۔۔۔ جب وہ ،رمینہ کے بغیر زندگی ہیں تو تمہارے نا ہونے سے بھی نہیں مریں گئیں
مہرونساء یہ بات تو طے تھی کہ مجھے تم سے صرف بدلہ لینا تھا زندگی تمہارے ساتھ ہر گز نہیں گزارنی تھی ۔۔۔۔ میرا بدلہ پورا ہو چکا ہے ۔۔۔ ” یہ کہہ کر حازم ایک خالی لفافہ اسے پکڑا دیا
“یہ طلاق نامہ ہے ۔۔۔ اب تم جاسکتی ہو “
اس جمعلے نے مہرونساء کے ہوش اڑا دیے تھے
