186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 14

Meri Jaan by Umme Hani

یسرا کو سیٹ پر کال آئی تھی

” آپ یسرا ہیں “

” جی لیکن آپ کون “

” دیکھیں محترمہ آپکی والدہ کا روڈ ایکسڈنٹ ہو گیا ہے اور اس وقت وہ ہاسپٹل میں ہیں آپ نیشنل ہاسپٹل پہنچ جائیں آپکی والدہ کی حالت ٹھیک نہیں ہے ” کسی راہگیر نے ہی اسکی والدہ کو ہاسپٹل پہنچایا تھا اور انکے پرس میں موجود یسرا نام اور فون نمبر دیکھ کر اسے اطلاع دی تھی یسرا کے تو سن کر ہوش اڑ گئے تھے ۔۔۔ زکی اس وقت وہیں سیٹ پر موجود تھا یسرا کی بد حواسی دیکھ کر وجہ پوچھنے لگا

” سر میری والدہ کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے ۔۔ “

” واٹ ” زکی کو بھی حیرت کا جھٹکا لگا تھا یسرا رونے لگی تھی

” آپ میرے ساتھ چلیں یسرا ۔۔ میں آپ کو ہاسپٹل لے جاتا ہوں ” زکی خود بھی پریشان ہو گیا تھا ۔۔

” سر میں چلی جاؤں گی آپ کی ساری شورٹ رک جائے گی آپ رہنے دیں ” کیمرہ مین اور دیگر سیکٹرز بھی وہاں موجود تھے سوائے سجیلہ کے

” اس وقت تمہاری والدہ اہم ہے یسرا۔۔ شورٹ نہیں کام بعد ۔یں ہوتا رہے گا ” زکی نے شورٹ وہیں رکوا دی تھی اور یسرا کے ساتھ ہی ہاسپٹل پہنچا تھا اسکی والدہ کے سر پر چوٹ لگی تھی ۔۔۔وہ بے ہوش تھی۔ یسرا انہیں خون

میں لت پت دیکھ کر رونے لگی تھی ۔۔

” امی۔۔ امی کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔۔” وہاں ایک ڈاکٹر موجود تھا جو زکی کے پاس پہنچ گیا کہنے لگا انکے سر پر گہری چوٹ آئی ہے ہمہیں فوری آپریشن کرنا پڑے گا اور اس کے لئے سات لاکھ کی ضرورت ہے جو ابھی ادا کرنے پڑیں گئے ” زکی نے برجستہ جواب دیا

” آپ فورا سے آپریشن کی تیاری کریں میں ابھی فیس کا انتظام کرتا ہوں ” زکی نے فورا سے اشتیاق صاحب کو کال کی کیونکہ زکی کے اکاؤنٹ اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ آپریشن کے لئے بھر سکتا ۔۔

” بابا یسرا کی والدہ کا ایکسڈنٹ ہو گیا فوری آپریشن کرنا پڑے گا آپ پلیز سات لاکھ میرے اکاؤنٹ میں ڈلوا دیں ” زکی بہت پریشان اور فکر مند تھا

” میں نے چیرٹی دفتر نہیں کھول رکھا جو پیسے بانٹتا پھیرو ۔۔ مجھ سے ایسی کوئی امید مت رکھنا ” وہ غصے سے تپے ہوئے بولے زکی سے وہ تب سے کی ناراض تھے جب سے اس نے سجیلہ کے لئے انکار کیا تھا

” بابا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ اس وقت اسکی والدہ کی کنڈشن بہت خراب ہے پلیز آپ پیسے ٹرانسفر کریں ” زکی کو باپ کی ناراضگی اس وقت بے محل ڈی لگ رہی تھی

” ہر گز بھی نہیں ۔۔جب تم میری کہیں بھی عزت نہیں۔ رکھ سکتے تو مجھ سے بھی ایسی کوئی امید مت رکھو ” انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا

” بابا آپ کو اگر نہیں دینے پیسے تو مت دیں لیکن مجھے میری محنت کا معاوضہ دے دیں مجھے میری فیس چاہیے جو محنت میں آپ کے ڈرامے کی خاطر کر رہا ہوں ۔۔ مجھے اس وقت سات لاکھ کی اشد ضرورت ہے آپ مجھے ہر حال پیسے بھیجیں ” زکی کو اپنے والد کی بے حسی پر حیرت اور افسوس تھا اس لئے وہ حتمی انداز سے بولا

” میں باپ ہوں تمہارا تم پر بہت پیسہ لگا کر میں نے تمہیں اس مقام تک پہنچایا ہے کہ تم آج چار پیسے کمانے لگے ہو میں تمہیں تمہارا پیسہ برباد کرنے ہر گز نہیں دونگا مرنے دو اس کی ماں کو ۔۔۔ روز ہی بہت سے لوگ مر جاتے ہیں تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے اس دو ٹکے کی لڑکی کی خاطر اپنا پیسہ برباد کرنے کی” اشتیاق صاحب کی بات سن وہ اشتعال میں آ گیا تھا

” بابا فار گاڈ سیک کچھ تو انسانیت کا جذبہ ہونا چاہیے آپ میں ۔۔۔ اس وقت اسکی والدہ زندگی اور موت کے بیچ میں ہیں۔ خدارا مجھے پیسے بھیج دیں ” زکی کو یقین نہیں آ رہا تھا اشتیاق صاحب اپنا یہ روپ بھی سے دیکھاسکتے ہیں ” یسرا زکی باتیں سن کر سمجھ گئ تھی کہ وہ پیسے ارینج نہیں کر سکتا ۔۔ اسلئے اپنے آنسوں پونچے کر بولی ۔

” سر یہ میرا مسلہ ہے میں ارینج کر لوں گی دو لاکھ میرے پاس ہیں باقی کاانتظام بھی کر لوں گی آپ فکر مت کریں ” یسرا کی بات سن کر زکی شرمندہ سا ہو گیا تھا ۔۔۔ جان گیا تھاوہ اشتیاق صاحب کی بے حسی کا اندازہ لگا چکی ہے “

” تم فکر مت کرو یسرا میں۔ بس ابھی کچھ دیر میں پیسوں کا انتظام کر کے آتا ہوں ۔۔۔ ” زکی یہ کہہ کر اپنے گھر کے لئے روانہ ہو گیا تاکہ اپنے والد کو سمجھا سکے ۔۔۔ یسرا کو ڈاکٹر نے ایک گھنٹے کا وقت دیا تھا دو لاکھ وہ جمع کروا چکی تھی اس کے علادہ اسکے پاس اور کچھ نہیں تھا ۔۔۔ وہ رو رہی تھی دعائیں کر رہی تھی کہ زکی کہیں سے پیسے لے آئے ۔۔۔

دوسری جانب اشتیاق صاحب نے ایک ہی شرط زکی کے سامنے رکھی تھی کہ وہ سجیلہ سے شادی کر لے تو وہ یسرا کو کی مدد کر دیں گئے۔ “

بابا اس بات کا پیسوں سے کیا تعلق ہے۔۔ آپ پلیز مجھے پیسے دیں میں آپ سے اپنی محنت کے پیسے مانگ رہا ہوں آپ کا احسان نہیں مسنگ رہا ” زکی کو وہ بلیک میل کر رہے تھے

” زکی پیسے تمہیں بس اسی صورت مل سکتے ہیں جب تم سجیلہ سے شادی کے لئے راضا مند ہوگئے مجھ سے وعدہ کروں گئے

زکی کی مجبوری سے اشتیاق صاحب پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتے تھے ۔۔۔ دوسری جانب یسرا اب حد درج پریشان تھی جس جس سے پیسے مانگ سکتی تھی مانگ چکی تھی لیکن سب نے صاف انکار کیا تھا دوسرا ڈاکٹرز آپریشن کے لئے بار بار کہہ رہے تھے یسرا کا اسوقت یہ حال تھا کہ کوئی اس سے اس کی جان بھی مانگ کر پانچ لاکھ دینے کا کہتا تو وہ انکار نا کرتی ۔۔۔ کبھی کسی رشتے دار منٹ سماجت وہ فون پر کر رہی تھی تو کبھی کسی ڈاریکٹر کی ۔۔

” سر پلیز اس وقت میری مدد کر دیں میں بہت پریشان ہوں میری والدہ مر جائے گی “

” دیکھیں بی بی آپ اپنے اصولوں کے ساتھ کامپرومائز کرنے کی عادی نہیں ہیں اور ایسی نیک پروین ٹائپ کی ہیروئن ہمارے ڈراموں میں نہیں چلتی ۔۔۔ اور صدقہ خیرت باٹنے کا مجھے شوق نہیں ہے ” یہ کہہ کر ایک ڈریکٹر نے فون بند کر دیا ۔۔ وہ بے بسی سے کرسی پر بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی جب سامنے سے اسے وہی نوجوان ڈاریکٹر ایک نئ لڑکی کے ساتھ نظر آیا جو کلب میں اسکے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا وہ کسی لڑکی کے ساتھ آیا تھا جو لڑکی آجکل اسی کے کسی ڈرامہ میں کام کر رہی تھی وہ نوجوان ڈاریکٹر ایک لیڈی ڈاکٹر سے بات کر رہا تھا اس کے بعد اس لڑکی کو لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ بھیج دیا ۔۔۔ یسرا کی بے بسی کی انتہا یہ تھی کہ ڈاکٹر اسے پندرہ منٹ کا وقت دے کر ابھی اندر گیا تھا کہ یا تو وہ پندرہ منٹ میں پیسوں کا انتظام کرے یا پھر اپنے مریض کو یہاں سے لے جائے ۔۔۔ اس وقت یسرا کے لئے بس اسکی ماں کی زندگی عزیز تھی اس لئے کھڑی ہو گی اپنے آنسوں صاف کیے اور نوجوان ڈاریکٹر کے پاس چلی گئ ۔۔۔ یسرا کو اپنے سامنے دیکھ کر اس ڈاریکٹر کے چہرے پر نا گواری سی چھا گئ تھی

” سر مجھے آپ سے بات کرنی ہے ” یسرا کے لفظ اسکاساتھ نہیں دے رہے تھے لیکن مجبوری اس درجے کی تھی کہ وہ ہچکچاتے ہوئے نظریں چراتے ہوئے اس سے بول رہی تھی

” مجھ سے ۔۔۔ ” وہ متعجب ہوا

” جی فرمائیے مس یسرا آج کونسا نیا تماشہ لگانے کاارادہ ہے آپ کا ” وہ ہاتھ باندھے طنز کے نشتر چلاتے ہوئے بولا یسرا نظریں جھکا گئ اپنی بے بسی پر بڑی زور کارونا آیا تھا اسے

” میری والدہ کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے ۔۔ ان کے سر بہت گہری چوٹ آئی ہے اگر ابھی انکا آپریشن نہیں ہوا تووہ ۔۔۔ تو وہ ۔۔” یہ کہہ کر یسرا ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔ لیکن اس نوجوان کاچہرہ ویسے ہی اسپاٹ تھا

” سر مجھے اس وقت پانچ لاکھ کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔۔ پندرہ منٹ میں اگر میری والدہ کااپریشن شروع نہیں ہوا تو انہیں ۔۔۔۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے آپ مجھے اگر پانچ لاکھ ادھارے دیدیں تو میں بہت جلد آپ کو لوٹا دوں گی ” وہ رقت آمیز لہجے میں اپنی مجبوری بتا رہی تھی

” کیوں نہیں مس یسرا میں آپ کو ابھی پیسے دے دیتا ہوں پانچ کیا میں آپ کو پندرہ لاکھ دینے کو تیار ہوں آخر انسان ہی تو انسان کے کام آتا ہے ۔۔۔ ” اس نوجوان ڈاریکٹر کی بات سن کر یسرا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا وہ آنسوں بہاتے ہوئے بھی اسے مشکور نظروں سے دیکھ رہی تھی

” تھنک یو سو مچ سر مجھے صرف پانچ لاکھ ہی چاہیے میں بہت جلد آپ کے پیسے لوٹا دوں گی ” یسرا آنسوں پونچتے ہوئے بولی

” مس یسرا مجھے پیسے واپس نہیں چاہیے ۔۔۔ مجھے آپ چاہیے بس چند گھنٹوں کے لئے ۔۔۔ سمجھ رہی ہیں نا آپ کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ” جس معنی خیز انداز سے وہ کہہ رہا تھا اور جس بے باک اور کمینگی سے اسے دیکھ رہا تھا یسرا اس کا مطلب سمجھ گئ تھی لیکن اس وقت ایک ایسے دوہرائے پر کھڑی تھی جہاں ایک طرف اسکی عزت تھی تو دوسری طرف اسکی ماں کی زندگی

اور ان میں اڈے کسی ایک کو چننا تھا وہ بھی صرف پندرہ منٹ میں

******……..

مہرونساء نے بد حواسی اور بے یقینی سے حازم کیطرف دیکھا تھا جس کی آنکھیں نا جانے کس جذبے کے تحت سرخ ہو رہیں تھیں ۔۔

” شرمینہ ۔۔۔۔۔ شر ۔۔۔مینہ ۔۔۔ مر ۔۔۔ چکی ہے ؟” مہرونساء حیرت زدہ تھی آنکھوں کے سامنے ہنستا مسکراتا شرمینہ کا چہرہ نظر آنے لگا مسکرانے سے اس کے گال پر پڑتا ڈمپل جو اسکی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیتا تھا وہ معصوم سی پیاری لڑکی جو مہرونساء سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی تھی دن میں کئ بار اسے فون کیا کرتی تھی پچھلے چار ماہ سے ایک بھی اسکی کال نہیں آئی تھی ۔۔۔ بس ایک آخری کال تھی جس پر وہ کچھ خوفزدہ تھی اس کے بعد اس کا فون آف ہو گیا تھا پھر دوبارہ بات بھی نہیں ہو پائی تھی مہرونساء نے یہ سوچا کہ

شاید مصروف ہو گئ ہو گی یا اسکی شادی ہو چکی ہو گئ ۔۔شرمینہ کی کال نا آنے کی ہر وجہ اسکے ذہن میں آئی تھی سوائے اس کے کہ وہ مر بھی سکتی ہے ۔۔۔ مہرونساء کی یہ سوچ کر تنفس بری طرح سے چلنے لگا تھا کہ شرمینہ مر چکی ہے پل بھر میں وہ پسینے سے شرابور ہو چکی تھی خالی نظروں سے حازم کو دیکھ رہی تھی پھر نفی میں سر ہلانے لگی

” نہیں ۔۔۔ وہ نہیں مر سکتی ۔۔۔ کیسے مر سکتی ہے وہ ۔۔۔ وہ تو بہت معصوم تھی ۔۔ بے حد انوسینٹ سی تھی ۔۔۔ صاف شفاف دل کی مالک تھی ۔۔۔ ” مہرونساء کے سامنے شرمینہ کا چہرہ تھا پھر نظر مٹی کے ڈھیر پر پڑی یک دم دل کانپ کے رہ گیا تھا وہ جھٹکے سے قبر سے پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔

” نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ وہ نہیں مر سکتی کیسے مر سکتی ہے ؟ “کیسے مر سکتی ہے حازم ۔۔۔ وہ کھڑی ہو کر حازم کے سامنے جا کر پوچھنے لگی حازم کی سرخ آنکھیں اس وقت انسوں سے لبریز تھیں ۔۔ بہت غصے سے۔ اس نے مہرونساء۔ سے کہا

” یہ خود سے پوچھوں مہرونساء کیونکہ شرمینہ کی موت کی ذمہ دار تم ہو ” ایک دھمکا تھا جو حازم نے مہرونساء کے دل ودماغ اوراعصاب پر کیا تھا یہ کہہ وہ وہاں اسے اکیلا چھوڑ کر چلا گیا

مہرونساء کسی پتھر کے مجسمے کی طرح وہاں کھڑی کی کھڑی رہ گئ تھی ۔۔۔ ایک طوفان اندر بھرپا تھا ابھی تو یہ صدمہ ہی وہ سہہ نہیں پا رہی ہئتھی کہ شرمینہ مر چکی ہے اور ایک اور اعصاب شکن بات تھی کہ شرمینہ کی موت کی ذمہ دار مہرونساء تھی ۔۔۔۔۔ وہ کسی بے جان وجود کی طرح وہیں شرمینہ کی قبر کے پاس گرنے کے انداز میں بیٹھ گئ ۔۔۔

” مہرو جی آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں ۔۔۔ ” شرمینہ سے فون پر کی گئ بات اسے یاد آنے لگی

” اچھا چلو آج تم مجھے بتا ہی دو کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے ” مہرونساء کو وہ لڑکی بیوقوف سی لگتی تھی

” یہ تو میں نہیں جانتی ہاں بس اتنا پتہ ہے آپ کے لئے جان دے سکتی ہوں ۔۔۔ چاہیں تو آزما لیجیے گا ” شرمینہ کی بات یاد آتے ہی مہرونساء کو بری طرح سے جھٹکا سا لگا تھا اس وقت۔ تو شرمینہ کی بات کو مہرونساء نے مزاق سمجھ کر ہوا میں اڑایا تھا ۔۔۔ لیکن اب اسکی قبر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

دل کی حالت ایسی تھی کہ ابھی بند ہو جائے اندر اس قدر گھٹن بڑھ چکی تھی کہ سانس لینا دشوار ہو رہا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔۔ نا یہ معلوم تھا کہ شرمینہ نے خود کشی کیوں تھی نا یہ پتہ تھا کہ مہرونساء کیوں اور کیسے اس معصوم کی موت کا سبب بنی تھی ۔۔۔ وہ ہر بات سے انجان تھی لیکن شرمینہ کے لئے رو رہی تھی ۔۔۔ بلک بلک کر رو رہی تھی شرمینہ کا چہرہ اسکی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔

اسکی آوازیں مہرونساء کے کانوں میں گونج رہیں تھیں ۔۔۔

******……..

پہلی ملاقات مہرنساء کی شرمینہ سے ایک چھوٹے سے فاسٹ فورڈ میں ہوئی تھی اتفاق تھا کہ اس وقت وہاں ایک پرانہ انڈین گانا چل رہا تھا ۔۔۔

(ڈارلنگ آنکھوں سے آنکھیں چار کرنے دو )

مہرونساء ور اسکی دوست وہیں ٹیبل پر بیٹھیں تھیں گول گپوں کا آڈر دیا تھا اور اسی کا انتظار کر رہیں تھیں گانا بے شک پرانہ تھا لیکن سننے میں اچھا لگ رہا تھا ۔۔ مہرو انگلیوں کے ناخن سے ٹیبل پر گانے کے کے حساب سے میوزک بجانے کی کوشش کر رہی تھی ساتھ ساتھ گانا بھی گنگنا رہی تھی

” یار یہ گول گپے ابھی تک آ کیوں نہیں رہے”مہرونساء نے جب وئٹر کو سب کو سب کے آڈر دیتے دیکھا تو گھڑی دیکھ کر اپنی دوست سے پوچھنے لگی

” آ جائیں گئے کس بات کی جلدی ہے تمہیں “

” گھر جانے کی جلدی ہے ۔۔۔ تمہیں تو پتہ ہے کہ آج مجھے ہر صورت اپیسوڈ کمپلیٹ کر کے کل تک پوسٹ کرنی ہے ۔۔۔ ” مہرونساء کی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ گول گپوں کی پلٹس سامنے آ گئیں تھیں مہرونساء نے فورا سے کھانے شروع کیے تھے ۔۔۔ اسکی دوست اسے یوں کھاتے دیکھ کر ہسنے لگی

” مہرو اگر یہاں کوئی تمہارا کوئی پرستار تمہیں یوں گول گپے کھاتے دیکھ لے تو کیا سوچے گا کہ انکے فیورٹ ناول’ میری جان ” کی رائٹر یہاں بیٹھی ندیوں کی طرح سے گول گپے کھا رہی ہے تو سوچو کیسا فیل ہو گا تمہیں “

“کچھ فیل نہیں ہو گا ۔۔۔ اب کیا میں گو گپے بھی اپنی مرضی سے نہیں کھا سکتی ” مہرونساء نے ایک گول گپا منہ ڈال کر بامشکل کہا تھا کہ فوراسے پچھلے ٹیبل سے ایک لڑکی اٹھ کر مہرونساء کے پاس آگئ بہت خوبصورت سی لڑکی تھی معصومیت اس کے چہرے کا خاصاتھی ۔۔۔ وہ حد درجہ خوش نظر آ رہی تھی جیسے مہرونساء کے روپ میں نا جانے کیا دیکھ لیا ہے

“آاااپ مہرو جی ہیں؟ ۔۔۔ میری فیورٹ رائٹر ۔؟۔ ” خوشی کے مارے شرمینہ کی آواز نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔ مہرونساء جلدی سے گول گپا اندر نگلا

تیز کھٹا اور تیز مرچ کی وجہ سے آنکھوں میں آنے والا پانی صاف کیا ۔۔ ۔”

” جی ۔۔۔ آپ کون ؟؟” مہرونساء کو پہلی ہی نظر میں وہ لڑکی اچھی لگی تھی

” میں شرمینہ کیا میں آپ کے پاس بیٹھ سکتی ہوں ” شرمینہ نے اجازت مانگی

” ارے بیٹھوں نا ۔۔۔ اور آؤں ہمارے ساتھ گول گپے کھاؤں “مہرونساء کی کہنے کی دیر تھی شرمینہ کرسی کھنچ کر بیٹھ گئ ۔۔ لیکن گو گپوں کو ہاتھ نہیں لگایا تھا بس ۔مہرونساء کو ہی دیکھے جا رہی تھی

” میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں ۔۔ آپ کے سب ناولز کو میں نے کئ کئ بات پڑھا ہے اور میری جان کی تو ابھی چار اپیسوڈ آئیں ہیں اور مجھے تو ازبر یاد بھی ہو گئیں ہیں ۔۔ میں تو کھو سی جاتی ہوں اپنے ناولز میں اور میری جان ناول میں تو ہیرون بھی میری ہم نام ہے اسے پڑھتے ہوئے تو مجھے لگتا ہے۔ میں اسکی جگہ پر ہوں ۔۔۔ ” شرمینہ کی ڈرانس میں بات کر رہی تھی مہرونساء گول گپے کھا چکی تھی مینیو بک میں پیسے رکھ کر شرمینہ سے بولی

” اوہ اچھا چلو یہ تو اچھی بات ہو گئ ۔۔۔ او کے شرمینہ اب ہم چلیں گئے ۔۔۔ تم سے پھر کبھی ملاقات ہو گئ ” مہرو گول گپے کھا چکی تھی اور اسے گھر جا کر لکھنا بھی تھا اس لئے وہ گھڑی دیکھتے ہوئے بولی

” اتنی جلدی کیوں جا رہیں ہیں اتنی مختصر سی ملاقات سے میرا جی بھی نہیں بھرا ابھی ۔۔۔ ایک منٹ” شرمینہ جا تو چہرہ اترساگیا تھا جلدی سے اس نے اپنے پرس سے ایک پانچ ہزار کا نوٹ نکالا اور ایک پین پھر وہ مہرونساء کی طرف بڑھا دیا

” اس پر آٹو گراف دیدیں ۔۔۔ میں اسے ہمیشہ سنبھال کر رکھوں گی ” مہرونساء نے اسے حیرت سے دیکھا تھا پھر لاپروائی سے کندھے آچکا کر اس پانچ ہزار کے نوٹ پر سائن کر دیا

“آپ مائنڈ نا کریں تواپناسل نمبر بھی لکھ دیں میں کبھی کبھی آپ سے بات کر لیا کروں گی ” شرمینہ کی اگلی فرمائش سن کر مہرو نے زریک نظروں سے اسے دیکھا تھا

” دیکھوں آپ لوگ پہلے نمبر تو لے لیتے ہو لیکن بعد میں بہت تنگ کرتے ہو ” مہرنساء اسے نمبر دینے کے موڈ میں نہیں تھی

” میں بلکل تنگ نہیں کروں گی پلیز مہرو جی ” شرمینہ نے ملتجی لہجے سے کہا مہرونساء نے نمبر دے دیا ۔۔۔ اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئ

*******……

سجیلہ کے موبائل پر کسی کال آرہی تھی ۔۔۔ اس نے فون اٹھایا تو کسی نے مرادنہچاواز میں کہا

” میڈیم اپنا کام ہو گیا ہے “

” ویری گڈ ۔۔ پیسے تمہارے اکاؤنٹ میں پہنچ جائیں گئے ۔۔۔”۔ یہ کہہ کر سجیلہ نے موبائل بیڈ پر پھنک دیا ۔۔۔

“مس یسرا کیا سمجھا تھا تم نے سجیلہ کو ۔۔۔ آج تک مجھے کوئی لباس بھی پسند ا جائے تو کسی میں اتنی جرت نہیں کہ وہ مجھ سے چھین سکے تو یہ تو پھر زکی ہے ۔۔۔ تم جیسی دس بھی ہوں تو سجیلہ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں ۔۔ زکی تواسی سات میرا ہو چکا تھا جب وہ مجھے پہلی بار اچھا لگا تھا ۔۔۔ مجھے اپنے راستے سے رکاوٹیں ہٹانا بہت اچھے طریقے سے آتا ہے ۔۔۔ تم تو وہ چھوٹا س پتھر ہو جو میری ایک ہی ٹھوکرسے اتنی دور جا کر گرے گا کہ دوبارہ مجھے آپ ے راستے میں نظر بھی نہیں آئے گا ۔۔۔” بڑے نخوت بھرے انداز میں سجیلہ بول رہی تھی ۔۔۔ پھر مسکرا ے لگی ۔۔۔

دوسری طرف زکی اپنے والد سے مایوس ہو کر اپنے دوستوں سے پیسوں کا پوچھنے لگا وہ چاہتا تھا کہ

جلد از جلد پیسے لیکر ہی ہاسپٹل پہنچے ۔۔ لیکن کوئی بھی پیسے دینے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔ مجبورا اسکے پاس ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ سجیلہ جیسی لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کی ہامی بھر لے

اس لیے اپنے باپ سے اس نے کہہ دیا کہ وہ اسے پانچ لاکھ دے دیں وہ سجیلہ سے شادی کرنے کے لئے تیار ہے ۔۔۔