186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 25

Meri Jaan by Umme Hani

ارمان نے جب مہرونساء سے زکی کاذکر کیا تو اس نے صاف انکار کر دیا تھا

” ارمان بھائی مجھے کسی سے نہیں ملنا میں جس حال میں اسی حال میں خوش ہوں “

” مہرو کمرے میں بند رہ کر تم خود کو کس۔ بات کی سزا دے رہی ہو ۔۔۔ کیوں دنیا سے کٹ کر رہنا چاہتی ہو ۔۔۔ ” ارمان نے سمجھانے کی کوشش کی

” میں اب وہ مہرو نہیں رہی جسے دنیا کے بیچ رہنے کا۔ شوق تھا جو دستوں کی محفل کی دلدادہ تھی ۔۔۔۔ مجھے خوف آتا ہے لوگوں کے ہجوم سے ۔۔۔مجھے کسی کے سامنے نہیں جانا مجھے لوگوں کی نظروں سے اسکے سوالوں سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔ مجھے کسی کو کوئی صفائی نہیں دینی کوئی وضاحت نہیں دینی ۔۔۔۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں ” مہرو گلوگیر لہجے میں نم آنکھوں سے ملتجی لہجے میں بولی تھی

” مہرو تم خود کو کس بات کی سزا دے رہی ہو ۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں تم قصوروار نہیں ہو پھر کیوں چھپتی پھر رہی ہو سب سے ۔۔۔ “

” ارمان بھائی خدا کے لئے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں آپ لوگ نہیں جانتے اور میں آپ کو بتا نہیں سکتی اس لئے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں آپ جائیں یہاں سے ” مہرونساء روہانسی سی ہو گئ تھی

” میں تمہارا بھائی ہوں مہرو تمہیں اس حال میں دیکھ مجھے تکلیف ہوتی ہے بساس لئے بیوقوفوں کی طرح تمہیں سمجھانے آ جاتا ہوں ۔۔۔ تمہاری تنہا رہنے کی وجہ سے خالہ خالو کتنی اذیت میں اس بات کا احساس ہے تمہیں۔۔ زیب تمہارے لئے کتنی فکرمند رہتی ہے۔ مہرو ٹائے ٹو انڈسٹینڈ ۔۔۔ کیوں سمجھ میں نہیں آتا تمہیں تمہارے ساتھ ہماری زندگیاں بھی جڑی ہوئیں ہیں ۔۔۔۔تم خوش رہو گی تو ہم سب بھی اپنی زندگی میں سکون سے رہ سکیں گئے ” ارمان خود بھی دل گرفتگی سے کہہ رہا تھا

” ٹھیک میں ہر وقت کمرے میں نہیں رہو گی امی اور بابا کے ساتھ وقت گزارا کروں گی لیکن پھر بھی مجھے آپکے اس سر پھرے ڈاریکٹر دوست سے نہیں ملنا ہے ” مہرو نساء کو زکی پہلی نظر میں ہی اچھا نہیں لگاتھا

” ٹھیک میں اسے منع کر دوں گا ۔۔۔ لیکن تم اس کمرے سے خود کو باہر نکالو ” ارمان کے لئے تو یہی بات بہت تھی وہ کمرے سے نکلنے کو تیار ہوئی ہے ۔۔۔ ارمان نے زکی کو مہرونساء کا جواب دیا تو وہ ہسنے لگا

” چلو تم نے کوشش کر لی ایک بار مجھے بھی اپنی قسمت آزمانے دو مجھے مس مہرونساء کاایڈریس دے دو ہو سکتا وہ مجھے انکار نا کریں ” زکی کی بات پر ارمان نے ایڈریس اسے۔ دے دیا تھا لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیا تھا تم اپنا وقت ہی ضائع کروگئے ۔۔۔

زکی اگلے ہی روز شام کو مہرونساء کے گھر پہنچ گیا تھا ارمان کا تعارف ہی زکی کا مہرونساء کے گھر داخل ہونے کے لئے کافی تھا زکی ارمان کا دوست تھا اور ارمان اس گھر کا داماد تھا ۔۔۔۔ اس لئے اسے ڈرائنگ روم میں بیٹھایا گیا زکی نے رسمہ سلام دعا کے بعد اپنا مدعا مہرونساء کی والدہ کے سامنے رکھا

” لیکن بیٹا وہ تو کل ہی ارمان کو انکار کر چکی تھی ” مہرونساء کی والدہ نے زکی سے کہا

” آنٹی آپ پلیز ان سے کہیں بس ایک بار مجھ سے بات کر لیں مجھے امید ہے کہ میں انہیں قائل لوں گا ” زکی نے ملتجی لہجے میں کہا مہرو کی والدہ کندھے اچکا کر باہر چلی گئیں کچھ دیر بعد ہی مہرونساء ایک بڑا سا ڈوپٹہ سر پر اوڑھے بلکل اسپاٹ چہرے سے اندر داخل ہوئی زکی تو اسے دیکھ کر حیران سا رہ گیا تھا وہ کہیں سے بھی مہرونساء نہیں لگ رہی تھی سفید کے بجائے پیلی رنگت کمزور وجود آنکھوں کے نیچے گہرے ہلکے دیکھ کر زکی یہ تک بھول چکا تھا کہ وہ آیا کس کام سے تھا جو رنگ روپ اس نے پہلے مہرونساء کا دیکھا تھا وہ اس وقت اس کے برعکس تھی ۔۔۔ مہرونساء کو دیکھ بے اختیار ہی وہ کھڑا ہو گیا

” تشریف رکھیے مسٹر زکی” مہرونساء اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔ زکی کی نظریں اب بھی اس پر تھیں بلا شبہ مہرونساء کا شمار خوبصورت لڑکیوں میں ہوتا تھا لیکن جو مہرونساء اس کے سامنے بیٹھی تھی مدتوں کی بیمار لگ رہی تھی ۔۔۔۔ ارمان کی باتوں پر اسے سب یقین سا ہونے لگا تھا ۔۔۔

” مجھے ارمان نے بتایا تھا آپ کے بارے میں ۔۔ سن کر بہت افسو۔۔۔۔۔”

” دیکھیں مسٹر زکی مجھے بہت برا لگتا ہے جب کوئی بلا وجہ میرے نجی معاملات پر بات کرے ۔۔۔”

مہرو کے اسپاٹ لہجے پر زکی سنبھل کر بیٹھ گیا

شاید مہرو اپنی گزری زندگی پر بات نہیں کرنا چاہتی تھی

” او کے مس مہرو ایم سوری اگر میری وجہ سے آپ کو گراں گزرا ہے ۔۔ ہم کام کی بات کر لیتے ہیں ” اس سے پہلے زکی تفصیلاً کچھ کہتا مہرو نساء برجستہ بولی ۔۔۔

“میرے خیال آپ شاید اپنے ڈرامہ کے لئے میری اسٹوری میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن میں نے ارمان بھائی سے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔ مجھے کسی ڈرامے کے لئے کچھ بھی نہیں لکھنا ہے ” مہرونساء نے گویا بات ہی ختم کر دی تھی ۔۔۔

” مس مہرو پلیز مجھے کچھ کہنے موقع تو دیں ۔۔۔ آپ تو میری بات سنے بنا ہی انکار کر رہی ہیں ” زکی کا لہجہ مزید دھیمہ ہوا تھا ۔۔۔ وہ پہلی رائٹر تھی جس سے وہ یوں بات کر رہا تھا ورنہ ڈاریکٹرز کی نظر میں نیو رائٹر کی وقعت ہی کیا ہوتی ہے ۔۔۔

رائٹر ہی ڈاریکٹرز کی منت سماجت کرتے نظر آتے ہیں انہیں اپنی صلاحیتوں کو دیکھانے کاایک موقع ضرور فراہم کیا جائے ۔۔

” جی کہیے ۔۔ کیا کہنا چاہتے ہیں آپ ” مہرو یہ توسوچ کی چکی تھی انکار ہی کرے گی لیکن اب وہ بل کر خود اسکے گھر آیا تھا تو ایک ٹکا سا جواب دینا اچھی بات نہیں تھی

” مس مہرونساء میں آپ کا ناول ” عزت ” پڑھا تھا ۔۔۔۔ سچ پوچھیں تو وہ تحریر نہیں تھی ایک حقیقت تھی جس کو آپ نے لفظوں کی خوبصورتی سے یوں نکھارا ہے کہ وہ کہانی میرے دل پر چھپ سی گئ ہے ۔۔۔ اس کے لفظوں کا جادو ہی ہے کہ اپنی مصروف ترین روٹین کے باوجود میں وقت نکال میں آج خود آپ کے سامنے بیٹھا ہوں ۔۔۔ دیکھیں ایک ڈرامہ۔۔۔۔ کہانی کے مضبوط پلاٹ اور دل کو چھو جانے والے لفظوں سے ہی زندہ ہوتا ہے سانس لیتے لوگوں کے دلوں میں دھڑکنے لگتا ہے ۔۔۔

آپ کے ڈائیلاگز نے مجھے رونے پر مجبور کر دیا ہے تو ہماری عوام کے دلوں پر راج کرے گا ۔۔۔ دیکھیں مس مہرو کہانی سب نہیں پڑھتے بس ناولز کے دیوانے ہی پڑھتے ہیں لیکن ڈرامہ انٹرنیشنل طور پر دیکھا جاتا ہے ۔۔۔ پاکستانی معیاری ڈراموں کو عربی میں ڈبنگ کر کے دیکھایا گیا ہے یہ انکی مقبولیت کا منہ کھولتا ثبوت ہے ۔۔۔ جیسے ہمسفر ۔۔۔ زندگی گلزار ہے ۔۔۔ میرا نام یوسف ” ان ڈراموں نے انٹرنشنل لیول پر مقبولیت حاصل کی ہے ۔۔۔

اس میں کمال صرف ایکٹرز کا نہیں ہے کمال رائٹر کا ہے ۔۔۔ بنا اچھی اور معیاری تحریر کے ہمارے ڈرامے صرف مردہ انسان کی طرح ہوتے ہیں ان میں روح ایک معیاری تحریر دے کر ایک رائٹر ہی پھونکتا ہے ۔۔۔

کاغذ پر لکھے کرداروں میں وہ ایسی جان بھر دیتا ہے کہ وہ ہمہیں جیتے جاگتے سانس لیتے وجود کی طرح سے اپنے سامنے نظر آنے لگتے ہیں ۔۔۔ جو منظر کشی آپ رائٹر کھنچتے ہیں اور جن لفظوں سے پرھنے والے کا دل چیر دیتے ہیں ہم ڈاریکٹرز اور ایکٹرز اسے اسی انداز سے دیکھانے کی حد الامکان بس کوشش ہی کر سکتے ہیں ۔ لکھ نہیں سکتے ۔۔ ہو سکتا ہے مس مہرو آپ کی تحریر پر جب کل ڈرامہ پیکچرائز ہو تو آپ کا پیغام دنیا کے آخری کونے تک جائے بہت سی لڑکیاں بھاگنے سے توبہ کر لیں ۔۔۔ کافی لڑکیاں حقیقت سے واقف نہیں ہے ہمارے میڈیا نے محبت میں بھاگ جانے والوں کو خوشحال اور خوش باش اور محبت کی جیت سے متعارف کرایا ہے بس گنتی کے چند ڈرامے ایسے دیکھائے جاتے جن میں بھاگ جانے والی لڑکیوں کا برا انجام دیکھایا ہو ۔۔۔ لیکن وہ اتنادل سوز اور عبرت ناک نہیں دیکھایا جاتا جتنا کہ درحقیقت ہے ۔۔۔ لیکن آپ کی کہانی میں وہ سب ہے ۔۔۔ جو کئ لڑکیوں کو گھر کی دہلیز پار کرنے سے روک سکتا ہے ۔۔۔ ” زکی کی بات مہرو نے چپ چاپ سنی تھی ۔۔۔

” میری آپ سے صرف اتنی گزارش ہے کہ میری درخواست پر غور ضرور کیجیے گا ۔۔۔اب میں چلتا ہوں ” یہ کہہ کر زکی کھڑا ہو گیا ۔۔۔ اور اپنی پینٹ کی جیب سے ایک کارڈ نکال کر مہرو کے سامنے سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیا مہرو کی خاموشی اس کے لئے امید کی کرن تھی ورنہ وہ اب بھی صاف منع کر دیتی

” آپ مجھ سے ڈرایکٹ رابطہ بھی کر سکتی ہیں ۔۔۔مجھے آپ کی رضامندی کا انتظار رہے گا ۔۔۔ خدا حافظ ” زکی جا چکا تھا لیکن مہرونساء کوایک نئ الجھن میں ڈال گیا تھا ۔۔۔

زکی کی بات میں صداقت تو تھی آج کل میڈیا کادور ہے رسالے بس انہیں لوگوں تک محدود ہو چکے ہیں جنہیں شروع سے انہیں پڑھنے کا چسکا سا لگ چکا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ڈرامہ سب دیکھتے ہیں ۔۔۔ پیغام کو عام کرنے کا یہ ایک بہترین ذریعہ ہے اگر اسے مثبت طور پر استعمال کیا جائے ۔۔۔

دل میں ایک بار یہ خیال بھی گزرا کہ شاید جو گناہ میری تحریروں سے کسی زہر کی سے لوگوں سراہیت کر چکا ہے شاید ڈرامہ کی وجہ سے حقیقت سامنے آ جانے پر لوگ اپنی اصلاح کر سکیں ۔۔۔۔ کوئی ایک لڑکی بھی اگر دہلیز کو پار کرنے سے میری وجہ سے رک گئ تو میرے گناہوں کا کچھ تو بوجھ اترے گا کسی کی دعا تو مجھے لگے گی۔۔۔ پوری رات مہرونساء بس اسی نہج پر سوچتی رہی ۔۔۔۔ صبح تک وہ فیصلہ کر چکی تھی اس نے زکی سے کسل کر کے کہہ دیا کہ وہ کہانی کو ڈرامہ کے طور پر لکھنے کو تیار ہے ” یہ سن کر زکی کی وشی قابل دید تھی

” اگر برا نا منائے مس مہرونساء تو آپ میرے آفس میں تشریف لے آئیں تا کہ۔ بات کچھ تفصیل سے ہو جائے ۔۔۔ مہرونساء نے ہامی بھر لی

مہرو نساء ڈرائیور کے ساتھ شکی کے آفس پر گئ تھی بلڈنگ وہی تھی لیکن آفس کے اندر رنگ و روغن نیا کو چکا تھا زکی کے کمرے میں اور باہر ہال میں سے سی بھی لگ چکے تھے مہرونساء نے رسپشنر کو اپنا نام بتایا اس لڑکی نے زکی کو کال کر کے کہا مس مہرونساء آئیں ہیں زکی نے فورااسے اندر بلانے کے لئے کہا تھا ۔۔۔ ” میڈیم آپ اندر جائیں ” مہرونساء اندر داخل ہوئی تو زکی کے سامنے رکھی کرسی پر ایک لڑکی پہلے سے موجود تھی مہرونساء کی جانب اسکی پشت تھی ۔۔

” کیا میں اندر آ سکتی ہوں ‘ مہرونساء نے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کی

” جی ضرور تشریف لائیے مس مہرو نساء ” اس لڑکی نے پلٹ کر مہرونساء کی جانب دیکھا ۔۔ پھر فورا سے کھڑی ہو گئیں

” آپ تووہیں ہیں نا جن کی خبریں چند ماہ پہلے میڈیا پر دھوم مچا رہیں۔ تھیں جس نے بھاگ کر شادی کی تھی ۔۔۔ ” اس لڑکی نے مہرونساء کو دیکھتے ہی پہنچان لیا تھا ۔۔

“مہرونساء اسی وجہ سے گھر میں قید ہو رہ گئ تھی کہ لوگ اسے بھول جائیں ۔۔۔۔ لیکن شاید یہ داغ اسکے دامن سے کبھی نہیں مٹ سکتا تھا

” نازی میرے خیال سے ہمہیں اپنے کام پر فوکس دینا چاہیے ۔۔۔ ” زکی نے سخت لہجے پر اسکی اسسٹنٹ لڑکی نازی چپ ہو گئ

” مس مہرونساء آپ کیا لیں گئیں ٹھنڈا یا چائے کافی ” زکی نے فورا سی موضوع بدلہ تھا مہرو کے چہرے کے بدلتے تاثرات وہ دیکھ چکا تھا

” کچھ نہیں بس مجھے یہی پوچھنا تھا کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہیے ہیں ۔۔۔

” میں اس کہانی کو پڑھنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ اس موضوع پر تفصیلا بحث کی جائے ۔۔۔ ماں باپ کی بیٹی سے محبت الفت قربانی کو دیکھایا جائے اور بھاگ جانے کے بعد اسکی لڑکی کی لائف کو لیکر زیادہ تلخ پہلو دیکھائے جائیں ۔۔۔ ” مہرو زکی کی بات بہت غور سے سن رہی تھی ۔۔

” او کے ۔۔۔ میں آپ کو لکھ کر سنٹ کر دوں گی ۔۔۔ ” مہرو نے مختصر سا جواب دیا تھا زکی نے دراز سے چیک بک نکالی اور ایک چیک مہرونساء کو طرف بڑھایا ساتھ ایک اگرمنٹ پیپر بھی ۔۔۔ مہرونساء نے صرف اگرمنٹ ہی اس سے لیکر پڑھنا شروع کیا تھا

جس پر یہ لکھا کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی کہانی پر ڈرامہ پیکچرائز کرنے پر راضی ہے “

” اس پر آپ یہ بھی بھی لکھ دیں میرے کسی بھی سین میں ردو بدل نہیں کی جائے گی اسے بے باکی کا روپ نہیں دیا جائے گا ۔۔۔ ” زکی پہلے ہی ایک صاف ستھرے میڈیا کاآغاز کرنا چاہتا تھا لیکن مہرو کی کہی بات اسے متعجب ضرور کر گی تھی ۔۔۔

” جی بلکل ایسا ہی ہو گا میں یہ تحریر اس لئے نہیں لکھی مجھے اپنے ڈرامہ میں کوئی بولڈسین کرنا ہی نہیں ہے ۔اینی وئے آپ کی تسلی کے لئے میں یہ لکھ دونگا ” زکی کو لگا کہ شایدچیک مہرو نساء نے دیکھا ہی نہیں ہے اس لئے دوبارہ سے چیک اس کے سامنے رکھ دیا

” اسکی ضرورت نہیں ہے مسٹر زکی ۔۔ مجھے اس ڈرامے کے لئے معاوضہ نہیں چاہیے ۔۔۔ ” یہ جواب بھی زکی کے لئے غیر متوقع سا تھا

” یہ آپکی محنت اور وقت کی ادنی سا معاوضہ ہے

ورنہ کوئی بھی قلم اور تحریر کی قیمت نہیں لگاسکتا جو کہ حق،اور سچ کے لئے اٹھایا جائے ۔۔ آپ اسے میری طرف سے ایک معمولی سا تحفہ سمجھ کر رکھ لیں ۔۔ ” مہرونساء نے وہ چیک اپنے پرس میں بنا اماونٹ دیکھے ہی رکھ دیا اور اگرمنٹ پیپر پر سائن کر دیے ۔۔۔

******……..

یسرا آج کل فری تھی اس لیے فاضل کے گھر کے روز ہی چلی جاتی تھی اس کی والدہ کافی ملنسار خاتون تھیں ڈھیروں قصے انہیں محلے داروں کے یسرا کو دیکھ کر یاد آنے لگتے تھے ۔۔۔ یسرا بھی پوری دلچپسی سے سنتی رہتی ساتھ ساتھ کوکنگ میں بھی انکا ہاتھ بٹا دیتی تھی ۔۔۔

کھانا بھی انکے ساتھ ہی لگاتی تھی انابیہ کا آپریشن ہو چکا تھا اور کامیاب ہی ہوا تھا ۔۔۔ لیک ابھی بھی واپس آنے میں انہیں پندرہ دن باقی تھے ۔۔۔۔ یسرا کو اس دوران اسد سمیت کئ ڈاریکٹر

کی کال آ چکیں تھیں فلم کے لئے ڈرامہ کے لئے لیکن نا جانے کیوں یسرا نے اب تک انکار ہی کیا تھا

آج کافی ماہ گزرنے کے بعد زکی کی کال آرہی تھی یسرا فاضل کی والدہ کی تنہائی کاسوچ کر ان کے گھر پر ہی سو جاتی تھی ۔۔۔ رات کودس بجے زکی کا نمبر اپنے موبائل پر جگمگاتا دیکھ کر یسرا نے اس کی کال اٹینڈ کی تھی

” جی سر کیسے ہیں آپ “

” کیسا ہو سکتا ہوں ۔۔۔ ؟” زکی نے الٹا اسی سے سوال کیا تھا یاشایداشے لاجواب کیا تھا کچھ پہلے تو یسرا بول ہی نہیں پائی پھر گلا کھنکھارا کر بولی

” یقینا بہت اچھے ہوں گئے ایک سال میں تین سپر ہٹ ڈراموں کے ڈرایکٹر آپ ہی ہیں اور یہ بات کسی بھی ڈاریکٹر کے لئے امر کی بات ہے “

” ایک سال میں دوسپر ہٹ فلم دے کر آپ نے بھی کامیابیوں کے کم جھنڈے تو گاڑے سنا ہے لوگ اب خاصے مصروف ہو چکے ہیں ۔۔۔ پتہ نہیں مجھ نا چیز کے لئے کام کریں گئے بھی کہ نہیں ” زکی کی خواہش تھی۔ “عزت ” ڈرامہ میں ہیروئن کا کردار یسرا پلے کرے ۔۔۔ لیکن شاید اب وہ اتنی مہنگی ہیروئن کوافورڈ نہیں کر سکتا تھا جس نے ایک سال میں دوسپر ہٹ فلم دیں تھیں ۔۔

” میں سمجھی نہیں سر ” یسرا واقع زکی کی بات سمجھ نہیں پائی تھی

” میں اپنے بل بوتے پر ڈارمہ بنانا چاہتا ہوں اور خواہش یہ ہے کہ آپ اس میں ایز آ ہیروئن کام کریں ” زکی بات سن کر وہ چپ سی ہو گئ تھی

اب تک سب کو بلا جھجک انکار کرتی آ رہی تھی لیکن سب میں اور زکی میں بہت فرق تھا

وہ دل سے اسکی عزت کرتی تھی اگر فاضل اسے مکان رکھنے کی بات نا کرتا تو وہ بنااسٹوری سنے ہی اسے ہاں کر دیتی لیکن نا جانے کیوں کر نہیں پائی تھی ۔۔۔ کیوں فاضل اسے ایک انجانی سے ڈور میں باندھ گیا تھا وہ نہیں جانتی تھی اور کیوں وہ اس ڈور کو توڑ نہیں۔ پارہی تھی یہ بھی وہ نہیں جانتی تھی ۔۔

” سر میں ضرور کام کر لیتی لیکن میں کسی اور کے ساتھ کمٹمنٹ کر چکی ہوں ایم سوری “

” اٹس او کے یسرا نیور مائنڈ ۔۔۔ اور سنائیں آپکی والدہ بہنیں وہ سب کیسی ہیں ” زکی افسوس تو بہت ہوا تھا لیکن بات کو اچھے انداز سے بدل گیا تھا۔۔۔ دوسری کال زکی نے فاضل کو کی تھی ۔۔۔

” کہاں ہو تم آجکل نظر نہیں آ رہے “

” پاکستان سے باہر ہوں ۔۔ بہن کے آپریشن کے سلسلے میں یہاں آیا تھا ۔۔۔ تم سناؤں کیسی چل رہی ہے ” فاضل ساتھ ساتھ زکی سے بات کر رہاتھا اور ساتھ ساتھ انو کو اپنے ہاتھ سے سوپ پلا رہا تھا جو مسلسل کافی دن سے سوپ پی پی کر تنگ آ چکی تھی لیکن ابھی چند ماہ اسے سوپ ہی پینا تھا اس لئے آڑی ٹہری شکلیں بنا رہی تھی ۔۔۔ فاضل اسے آنکھیں دیکھاتے ہوئے آنکھوں سے ہی ڈرامے کی نا کام کوشش کر رہا تھا۔

” اوہ اچھا کیسا رہا آپریشن ” زکی اسکی بہن کے خیریت پوچھنے لگا کافی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے بعد زکی نے کہا کہ وہ اسے اپنے ڈرامے کے لئے ہیرو کا کریکٹر دینا چاہتا ہے

” وائے ناٹ میری جان ۔۔۔ میری طرف سے ہاں سمجھو اور ہیروئن کے لئے یسرا کو کہہ دو آجکل وہ کسی اور کا کام کر بھی نہیں رہی ۔۔ ” نا جانے اسے کیوں یقین تھا یسرا اسکی بات نہیں ڈالے گی

“۔ سے پہلے اسی سے بات کی تھی لیکن وہ کسی اور کمنٹمنٹ کر چکی ہے ۔۔۔ “

” سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ” فاضل نے برجستہ پر یقین لہجے سے کہا

” کیوں ۔۔۔ کیوں سوال پیدا نہیں ہوتا اس نے خود مجھ سے کہا ہے ۔۔ ” زکی کو فاصل کی بات کچھ عجیب سی لگی

” اچھا ۔۔۔ تو کر لی ہو گئ ۔۔۔ مجھے لگا کہ شاید نا کی ہو ” یسرا کڈیخاوت جگہ کمنٹمنٹ کر چکی یہ سن کر فاصل کچھ بجھ سا گیا تھا ۔۔۔

دونوں نے ہی بات چیت کے بعد فون بند کر دیے تھے

******

حازم کا تنفس بری طرح سے چل رہا ناوہسں مہرونساء تھی نا ہی اسکی سسکیاں جس کبھی حظ اٹھاتا تھا سنیما میں بیٹھے سب لوگوں کی نظریں حازم پر ہی مرکوز تھیں وہ اس نے جب سب کو اپنی طرف متوجہ پایاتواٹھ کر ہال سے باہر نکل گیا ۔۔۔ اس کے دوست بھی باہر آ گئے

اس وقت وہ سگریٹ جیب سے نکال کر پینے لگا تھا ۔۔۔

” اے حازم واٹس ہیمنڈ ڈوڈ” ایک دوست حازم کو یوں پسینے سے شرابور دیکھا تو پوچھنے لگا

” نتھنگ ۔۔۔ آئی وانٹ ٹو گو ہام ” یہ کہہ کر حازم پارکنگ کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔ ایسا ہی بات ہوا تھا ۔۔۔ کہ مہرونسا کی سسکیاں اسے یوں ماحول سے بیگانہ کر گئیں تھیں ۔۔۔ گاڑی ڈرائیو کرتے وقت بھی اس کا دھیان صرف مہرونساء کی طرف ہی تھا ۔۔۔ کئ بار وہ خود کو جھٹکنے لگا تھا کبھی شرمینہ کو سوچنے کی کوشش کرنے لگتا شرمینہ کا تصور باندھنے کی کوشش کرنے لگتا لیکن نا جانے کہاں سے مہرو کاروتا ہوا چہرہ آنکھوں کے سامنے آنے لگتا ۔۔۔ رات دیر تک وہ سگریٹ ہی پیتا رہا ۔۔ آمد نا جانے کون سی آگ سی دہکنے لگی تھی ۔۔۔ کیا چیز تھی جو اس کاسکھ چین کھونے لگی تھی ۔۔۔ وہ اپنی کیفت سے پریشان ہونے لگا تھا ۔۔۔۔

******……

یسرا فاضل کے کمرے میں سو جاتی تھی تو کبھی انابیہ کے کمرے میں آج بھی وہ فاضل کے کمرے میں چلی آئی تھی بے مقصد ہی اس کے کمرے کے بک شلف کی طرف بڑھنے لگی دل میں۔ کچھ سبکی سی محسوس ہو رہی تھی بڑی آس سے زکی نے پوچھا تھا اور اس نے انکار کر دیا وہ ایک جھوٹ بول کر ۔۔ وہ بھی کس کے لئے “؟اس فضول نان سیریس فاضل کے لئے جس کی نوے فیصد باتیں ایسی ہی ہوتی بے معنی سی ۔۔۔ مجھے انکار نہیں چاہیے تھا سر کیا سوچتے ہوں گئے میرے بارے میں ” یونہی وہ ایک کتاب شلف سےاٹھا کھول کر صفحے پلٹنے لگی ۔۔۔ حالانکہ ذہن اپنی ہی باتوں میں الجھا ہوا تھا لیکن کتاب سے ایک تصویر زمین پر گری تو اپنی سوچوں سے باہر آئی تھی کتاب فاصل کی تھی لیکن نیچے گری ہوئی تصویر ایک لڑکی کی تھی ۔۔۔۔ یسرا نے اٹھا کر اس تصویر کو غور سے دیکھا بہت خوبصورت سی لڑکی تھی اس تصویر پر لکھا

” مسز فاضل ” ایک جھٹکا سا یسرا کو لگاتھا ۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی دل کی کیفت عجیب ہوئی تھی

” مسز فاضل ؟” یسرا نے زہر لب با مشکل یہ کہا تھا