186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 23

Meri Jaan by Umme Hani

حازم کے لئے واپسی کا سفر بڑا مشکل اور طویل تھا ایسا محسوس ہو رہا کہ تھکا دینے والے سفر کا آغاز کر چکا ہے دل میں نا جانے کیوں افسوس اور پچھتاوے کی چنگاری سی جلنے لگی تھی ۔۔۔ حالانکہ وہ نا مہرونساء سے محبت کرتا تھا نا ہی اسکے ساتھ عمر گزارنے کا خواہشمند تھا ۔۔۔ رش ڈرائیونگ کرنے کے باوجود لگ تھا کہ مسافت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے ۔۔۔ دو دن پہلے ہی وہ طلاق نامہ تیار کروا چکا تھا ۔۔۔ اور اپنی اور رفعت بیگم کی اٹلی کی ٹکٹ بھی کنفرام کروا چکا تھا آج رات کی ان دونوں کی پاکستان سے ہمیشہ ہے لئے واپسی کی فلائٹ تھی ۔۔۔۔ لیکن مہرو کی آخری وقت کی باتیں اس کے آنسوں اسکی پیلی رنگت اجڑی ہوئی حالت اس کی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ دل نا جانے کیوں محور الزام حازم کو دینے لگا تھا وہ دل سے یہی بحث کر رہا تھا کہ اس نے جو کچھ مہرونساء کے ساتھ کیا بلکل ٹھیک کیاوہ اسی کے لائق تھی آج کے بعد کسی بھی لڑکی کی زندگی سے کھلنے سے پہلے سو بار سوچے گی

شرمینہ کی معصومیت کے کھیلنے کا حق اسے دیا کس نے تھا ۔۔۔۔ ہزار دلیلیں وہ دل کے سامنے رکھ رہا تھا مگر دل کہاں اسکی سننے کو تیار تھا بس یہی کہہ رہا تھا

اسکے آنسووں کا حساب تم پر نکلتا ہے حازم اسکی نم آنکھیں ت۔ہیں کبھی بھی چین نہیں لینے دیں گئیں

” او شٹ اپ ۔۔۔۔ میں نے اسکی ساتھ جو کیا ہے ٹھیک کیا ہے مجھے کوئی افسوس نہیں۔ ” نا جانے کیوں اپنے دل سے جنگ کیے ہوا تھا ۔۔۔ حویلی پہنچ کر اس نے اپنے بیگ میں۔ جلدی سے آپ ے کپڑے ڈالنے شروع کیے ملازمہ سے وہ کہہ چکا تھا کہ رفعت بیگم کی پیکنگ کر دے ۔۔۔ گاؤں سے ڈھائی گھنٹے کاسفر تھا کراچی ائیر پورٹ کا اس لئے افراتفری میں جتنی تیاری وہ کر سکتا تھا رہا تھا جلد از جلد یہ ملک چھوڑ دینا چاہتا تھا ایک ملازم سے اس نے اپنا رفعت بیگم کا سامان گاڑی میں رکھنے کے لئے کہا اور پھر

رفعت بیگم کے کمرے میں آ گیا تھا وہ بھی تیار تھیں چپ بھی تھیں حازم نے چلنے کے لئے کہا تووہ کھڑی ہو گئیں حالانکہ حازم نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ انہیں اٹلی لے جا رہا ہے

حیران کن بات یہ تھی کہ رفعت بیگم نے بھی ہر بار کی طرح حازم سے سوال وجواب نہیں کیے تھے جیسے پہلے وہ کیا کرتی تھیں وہ پاکستان چھوڑنے کے حق میں بلکل نہیں تھیں کیونکہ یہاں شرمینہ کی قبر تھی ۔۔۔ حازمکو لگا کہ اگر اس نے رفعت بیگم کو بتا دیا کہ وہ انہیں۔ اٹلی لے جا رہا ہے تو کبھی جانے کے لئے رضامند نہیں ہوں گی

اس لئے انہیں انجان ہی رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ دوسری حیرت کا حازم کو کراچی ائیر پورٹ پہنچ کر لگا

بورڈنگ ہونے کے بعد بھی رفعت بیگم نے کوئی سوال نہیں کیا تھا ۔۔۔ حالانکہ وہ سن چکی۔ تھی۔ کہ وہ کہاں جا رہیں ہیں لیکن چپ تھیں جہاز میں بیٹھتے ہی حازم نے خود ہی بات شروع کی

” پھپو ہم اٹلی جا رہے ہیں ” نا جانے کیوں حا،م کو لگ رہا کہ شاید وہ اب بھی انجان ہیں ہوں سے ٹھیک سے سنا نہیں ہو گا لیکن رفعت بیگم کے چہرے پر اطمینان سا تھا

” مجھے معلوم ہے حازم کہ ہم۔ اٹلی جا رہے ہیں ۔۔

آتے ہوئے شرمینہ کی قبر کو دیکھ کر میں نے اسے اپنے رب کی امان میں کر دیا تھا ۔۔۔ اس لئے کہ میں جانتی تھی کہ بہت دور جا رہی ہوں واپس نا جانے اپنی بچی سے مل بھی پاؤں گی یا نہیں ” رفعت بیگم کی باتیں حازم کو ششدد میں ڈالرکی تھیں وہ بلکل نارمل بات کررہی۔ تھیں ۔۔۔ اس بار کو بھی مان چکیں تھیں کہ شرمینہ مر چکی ہے ۔۔۔ علیہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ دوالے زیر اثر ہیں کیونکہ جانے کی جلد بازی میں اس نے رفعت بیگم کو دوا بھی نہیں کھلائی تھی

” پھپو پاکستان میں سب ہمارا کچھ بھی نہیں رہا پھر رہ کر کیا کریں گئے ۔۔ ” حازم نے کی زبان اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔ دل اندر سے اس بات کی نفی کر رہا تھا

” ہاں ٹھیک کہتے ہو تم میرا تو پاکستان میں کچھ نہیں رہا لیکن حازم تم پاکستان دوبارہ ضرور جاؤں گئے ۔” یہ کہہ کر وہ سیٹ سے سر ٹکا کر آنکھیں موند گئیں حازم انکی ذو معنی بات سمجھ نہیں پایا تھا

” میرا بھی وہاں کوئی نہیں رہا میں واپس کیوں آؤں گا ” حازم کا پاکستان واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔ پاکستان میں جو لئے سب سے خاص تھی وہ تو منوں مٹی کے نیچے جا چکی تھی

” تمہارا سب کچھ یہیں پاکستان میں ہے حازم تمہیں تو لوٹ کر جانا ہی پڑے گا ۔۔۔ جب واپس جاؤں تو مہرو کو میرا سلام کہنا ” بند آنکھوں سے رفعت بیگم کے ہونٹوں سے ادا ہونے سے فقرے نے حازم کے ہوش اڑائے تھے وہ تو مہرونساء کو ہمیشہ شرمینہ کہتی تھی شرمینہ ہی سمجھتی تھیں ۔۔۔

” کون مہرو پھپو ” حازم جتنا حیران ہوتا اتنا کم تھا

” مجھے نیند آ رہی ہے حازم تم خاموش ہو جاؤ ۔۔۔ ” رفعت بیگم اس بار مدافعانہ انداز سے کہا تھا ۔۔حازم انہیں دیکھتا رہ گیا تھاوہ بلکل نارمل انداز سے بات کر رہیں تھیں شرمینہ کی وفات کے بعد پہلی بار وہ اسے۔ نارمل لگ رہیں تھیں ۔۔۔

******……..

فاضل یسرا کواس کے فلیٹ میں ڈوپ کرنے جا رہا تھا گاڑی میں بیٹھی ہوتا کسی گہری سوچ میں تھی فاضل کی جب بھی اس پر نظر پڑی وہ دیکھ تو کھڑی سے باہر ہی تہی تھی لیکن شاید کہیں اور تھا

” کیا سوچ رہی ہو ۔۔ دیکھوں اگر نیا پاکستان بنانے کے بارے کچھ سوچ رہی تو پلیز ۔۔ بلکل مت سوچنا بہت برا آئیڈیا ہے یار ۔۔۔ بلکل کامیاب نہیں ہو گا ” فاضل کی بلا وجہ کی بے تکی باتیں اسے مسکرانے پر مجبور کر دیتی تھیں ۔۔۔

” تم کبھی سیریس بھی ہوتے ہو ؟ یسرا اب اسکی طرف متوجہ ہو کر بولی فاضل نے نفی میں سر ہلایا

” نہیں میری اماں کہتی ہیں کہ بیٹا سنجیدہ صرف اس وقت ہونا جب تم نے کسی لڑکی سے شادی کرنی ہو ۔۔۔ اور دیکھو تم اگر مجھے بار بار سنجیدہ ہونے کا مشورہ دو گی تو میں تمہارے لئے ہی سنجیدہ ہو جاؤں گا ۔۔۔ ” فاضل کی بات پر یسرا نے مصنوعی غصہ دیکھایا جانتی تھی یہ بھی وہ مزاق میں کہہ رہا ہے

” تمہاری بیوی تو بڑے فائدے میں رہے گی ویسے شوہر کے ساتھ ساتھ اسے ایک تمسخرہ بھی مل جائے گا جی بہلانے کے لئے ” یسرا نے کہا تواسے جلانے کے لئے ہی تھا کیونکہ وہ سنجیدہ کبھی ہوتا ہی نہیں تھا ۔۔۔

” تو پھر کیا خیال ہے وہ خوش نصیب خاتون تم بن جاؤں سچ میں لائف بن جائے گی تمہاری ہر وقت تم ایک دکھی سی آتما بنی رہتی ہو جب جب میں تمہیں دیکھتا ہوں میری ۔۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ اس نے کوفت زدہ منہ بنا کر یسرا کی طرف دیکھا تھا

” میری کیا ” یسرا نے استفہامیہ انداز سے پوچھا

” تمہیں دیکھ میری ہنسی چھٹ جاتی ہے ” یہ کہہ وہ ہسنے لگا تھا یسرا نے کن اکھیوں سے فاضل کو دیکھا تھا پھر تپ کر بولی

” ویری فنی ” یہ کہہ وہ پھر سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی

” فاضل تمہاری بہن کب سے گونگی ہے ؟؟؟

” بچپن سے ” فاصل نے برجستہ جواب دیا

” بچپن میں اسے گردن توڑ بخار ہوا تھا اور غلط ٹرٹمنٹ اور علاج سے وہ اپنی قوت گویائی کھو بیٹھی ۔۔۔ جانتی ہو یسرا پورا دن ہمارے گھر میں ایک موت جیسی خاموشی چھائی رہتی ہے یہ جو اماں تمہیں اتنی باتونی لگ رہی۔ ہیں پورا دن بس خاموشی سے اپنے کام کرتی رہتی ہیں ۔۔۔ اور انابیہ

وہ تو ہے ہی چپ بس اماں کے ساتھ خاموشی سے مدد کرواتی رہتی ہے اور فارغ وقت میں ڈائجسٹ لیکر بیٹھ جاتی ہے ۔۔۔ اماں میرے ڈرامے اور فلم دیکھ کر میری غلطیاں نکالنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں لیکن گھر میں خاموشی ہی رہتی ہے

اس لئے میں نے خود کو بلا وجہ بولنے کا عادی بنا لیا ۔۔۔ تا کہ گھر میں ہر طرف چھایاسکوت ٹوٹ جائے مجھے دیکھ کر اماں اور انو کا چہرہ کھل سا جاتا ہے ۔۔۔۔ ” یہ بات کرتے ہوئے وہ بلکل سنجیدہ سا تھا

” اس گونگے پن کا کوئی علاج تو ہو گا “

” پاکستان میں تو نہیں ہے لیکن باہر کے کئ ممالک میں ہے اسی لئے تو دن رات ایک کر رہا ہوں تا کہ جلد از جلد پیسہ جمع کرو اور اپنی بہن کا علاج کرواں تا کہ وہ خوب بولے خوب باتیں کریں اور اس وقت میں چپ کر کے سنو گا ” فاضل کی بات پر یسرا نے برجستہ بولی

” کتنے پیسے چاہیے اس کے علاج کے لئے ۔۔۔ ؟ یسرا کاارادہ یہی تھا جو پیسے اسکے اکاؤنٹ میں ہیں وہ فاضل کو دی دے تا کہ اسکی بہن کا علاج جلد ہو جائے

” جتنے بھی ہوں لیکن تمہارا مقروض کبھی نہیں بننا چاہتا ۔۔۔ ” یسرا یہ سن کر اچھنبے میں آ گئ کیونکہ یہی تو سوچ رہی تھی

“تمہیں کیسے پتہ کہ میں تنہیں پیسے کی آفر کرنا چاہتی ہوں ” یسراواقعہ متعجب ہوئی تھی

” یہ میری گول گول بنٹے جیسی آنکھیں ہیں نا ۔۔۔۔ یہ ایکسرے مشین ہیں سامنے والے کی دل کی بات فورا سے جان جاتی ہے ” یسرا فہمائشی نظروں سے اسے دیکھا

” ہممم جانتی ہوں میں تم نے تکا لگایا ہو گاایسے ہی اندھیرے میں تیر پھینکا جو اتفاق سے ٹھیک جگہ لگ گیا ہے اب تم خود بڑی چیز سمجھ رہے ہو ۔۔۔ ” یسرا نے فاضل کے لگائے گئے تکے پر چوٹ کی تھی

” اچھا مجھے تو نہیں پتہ تھا میری نظروں کا تیر سیدھا جا کر تمہارے دل پر بھی لگ سکتا ہے وہ بھی اتفاق سے ” فاضل نے اپنی عادت کے مطابق جواب دیا تھا ۔۔۔

” تمہاری نظروں میں ایسی کوئی بات نہیں ہے فاضل ” یسرا نے پر یقین لہجے سے کہا کیونکہ آج تک انڈسڑی واحد وہی ایک شخص تھا جس کی نظریں اسے خود پر چھبتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی تھیں ۔۔ ورنہ وہاں موجود کیمرہ مین میک اپ مین وہاں شوٹ پر موجود سب لوگوں کی نظریں کاٹ دار ہی ہوتیں تھیں

” یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو ۔۔۔ “

” بس کہہ سکتی ہوں ۔۔۔ رومینٹک سین کو بھی تم کامیڈی کی طرح کرتے ہوں کبھی شکلیں عجیب بناتے ہوکبھی آنکھیں ٹہری کرتے ہو ۔۔۔ تمہارے ساتھ مجھے بس رومنٹک سین کرنا حد درجہ مشکل لگتا ہے ” یسرا نے ہنستے ہوئے کہا تھا

” وہ تو میں جان بوجھ کر کرتا ہوں کہ کہیں تم سیریس ہی نا ہو جاؤں ” فاضل کی بات پر حیرت سے یسرا نے اسکی طرف دیکھا تھا

” میں۔۔۔ اور تم سے ۔۔۔۔ وہ بھی سیریس ۔۔۔ ” یسرا نے بے یقینی سے لفظ جما کر کہا فاصل ڈرائیو کرتے ہوئے اب سامنے کے بجائے یسرا کی طرف دیکھنے لگا

” جس دن میں نے سیریسلی تمہاری آنکھوں میں دیکھ کر اظہار محبت کر دیا نا یسرا پکا پہلی بال پر ہی آؤٹ ہو جاؤ گی ۔۔۔ محبت کر بیٹھوں گی مجھ سے ” فاصل کی بات پر وہ جیتنی حیران ہوتی اتنا کم تھی بڑے دعوے سے اس نے یہ بات کہی تھی

” بہت خوش فہمی ہے تمہیں ۔۔۔ یہ محبت وحبت کی میری زندگی میں کوئی گنجائش نہیں ہے ” یسرا نے جان بوجھ کر جتایا گاڑی اب اسکے فلیٹ کے نیچے تک گئ تھی

” چلو یہ بھی وعدہ رہا تم سے محبت بھی ضرور کروائیں گئے ۔۔۔ ابھی تو اپنے گھر جاؤں اور اپنی کھڑکی سے مجھے پہنچ جانے کا اشارہ کرو تا کہ میرے دل کو یہ اطمینان ہو جائے کہ تم با حفاظت اپنے گھر پہنچ گئ ہو تا کہ میں بھی اپنے گھر جاؤں ” وہ پھر اپنی پوری ٹیون میں واپس آ چکا تھا ۔۔۔ یسرا نے اسکی اس بات کو بھی سنجیدہ نہیں لیا تھا ۔۔ گاڑی سے اتر کر وہ اپنے فلیٹ میں چلی گئ سیڑیاں چڑھتے ہوئے وہ بھول چکی تھی کہ فاضل کو اپنے پہنچنے کی اطلاع بھی دینی ہے ۔۔۔ وہ کافی تھک چکی تھی اس لئے کپڑے تبدیل کر کے بیڈ پر لیٹ گئ آنکھیں ابھی بند کیں ہی تھیں جب فاضل کی گاڑی کا ہارون ایسا بجنا شروع ہوا کہ یسرا کے ساتھ ساتھ اور کئ لوگ بھی اٹھ چکے تھے ۔۔۔

یسرا کو اسکی بات یاد آئی تھی فوراسے بڑبڑا کر اٹھی اور کھڑی سے باہر جھانکا اسے تو لگا تھا اب کہ وہ چلا گیا ہو گا

وہ گاڑی کے ے اندر بیٹھا فرنٹ ڈور سے اسے ہی دیکھ رہا تھا دوسرا ہاتھ ہارن پر تھا جو یسرا کو دیکھ کر ہٹایا تھا۔ ۔۔ ساتھ ہی وہ گاڑی اسٹاٹ کر کے آگے بڑھ گیا

” پاگل شخص ہے یہ بلکل مجھ سے موبائل پر بھی تو پوچھ سکتا تھا سارے محلے کو ضرور جگانا تھا اس نے ۔۔۔ ” یسرا منہ میں بڑبڑا کر دوبارہ سے بیڈ پر لیٹ گئ ۔۔۔۔

******…….,

مہرونساء کی آنکھوں سے ندامت کے آنسوں بہہ رہے تھے

دوسال کی جھوٹی شہرت کی خاطر وہ موڑ آ کر کھڑی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ پہلی بار لگا کہ وہ ایک رائٹر نہیں بلکہ کسی گینگ کا حصہ ہے آج اپنے گناہوں کی فہرست بہت بڑی لگ رہی تھی

بیڈ سے اٹھ کر وہ واش روم میں چلی گئ وضو کیا اور کمرے میں آ کر جائے نماز بچھا کر وہ رونے لگی تھی روتے ہوظے صلوۃ توبہ کے نوافل ادا کیے ۔۔ لیکن جب دعا کے لئے ہاتھ سٹھ اس ہے تو لگا کہ ا ہاتھوں پر اتنا بوجھ ہے کہ شاید وہ دعا کے لئے اٹھ نہیں پائیں گئے کبھی شرمینہ کی باتیں یاد آنے لگیں کبھی اس لڑکی جس نے بھاگ کر شادی کر لی کبھی اپنے پرستاروں کے لیکھے تبصرے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے کہ ہمارا جی چاہتا ہے ہمارا شوہر بھی احتشام جیسا ہو ۔۔۔ احتشام کا نام یاد آتے ہی حازم کا چہرہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا

پورے جسم میں جھرجھری سی آئی حازم کا تصور بھی اس دل دہلانے کے لئے کافی تھا ہمارے معاشرے میں اگر کسی نا پسندیدہ شخص سے شادی ہونے پر بھی عورت شوہر کے اچھے رویے کو دیکھ کر اسے اپنا ہی لیتی ہے حازم دیکھنے ایسا تھا کہ لڑکیاں اسکی دیوانی ہو جاتی کوئی کمی نہیں تھی اس میں ہینڈسم نوجوان تھا پیسہ بھی اس کے پاس بے تحاشہ تھا بظاہر اس میں ساری خوبیاں ہی تھیں ۔۔۔ لیکن صفت صفت جانوروں والی تھی کوئی بھوکا کتا یا بھڑیا جسے بہت دن بعد اس کا کوئی شکار ملا ہو ۔۔۔ ایسے شخص کی پل دو پل کی سنگت بھی تڑپنے پر مجبور کر دیتی ہے کوئی بھی لڑکی ایسے شخص کی عمر بھر کی سنگت کبھی نہیں چاہ سکتی ۔۔۔ آج مہرونساء کو اپنی ہر کہانی جھوٹی لگ رہی تھی ۔۔۔ ایسا شخص جو صرف ہینڈسم ہو دولت مند ہو لیکن صفت میں جانور جیسا ہو وہ کسی لڑکی کا کرش کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔ جو ایک لڑکی کے ماں باپ کو ذلت کے اندھیروں میں دھکیل دے اسے بھرے بازار سے کھنچتا ہوا اپنی گاڑی میں بیٹھا ہے اور اس سے زبردستی نکاح کرے ۔۔۔ پھر اس کے ساتھ حیوانیت برتے وہ ہیرو کیسے ہو سکتا ایک جیتی جاگتی لڑکی سانس لیتی احساس کو محسوس کرنے والی ایسے کسی شخص سے محبت نہیں کر سکتی

مہرونساء کا تنفس بگڑنے لگا تھا ۔۔۔ اس نے محبت کے نام پر کرنے ہی ماں باپ کی بد دعائیں لے لیں نا جانے کتنی لڑکیاں ماں باپ کی برسوں کہ قربانیوں کو روند کر صرف ناول کی ہیروئن بننے کے چکر میں اپنے گھروں کو رات کے اندھیروں میں بھاگ گئ ہوں اس رات کی سیاہی ہمارے معاشرے نے انکے والدین کے منہ پر مل دی ہو گئ ۔۔۔۔ نا جانے کتنے مردوں کو ہیروں بننے کے شوق میں ۔۔ میں نے انسان سے جانور بنا دیا ۔۔۔۔ اور وہ ایسا جابرانہ سلوک اپنی بیویوں سے کر کے خود کو روڈ ہیرو سمجھتے ہیں ۔۔۔

میں نے تو معاشرے کو ایک ایسی راہ پر چلنے کاراستہ دیکھا دیا جہاں آگ ہی آگ ہے ۔۔۔۔ اپنی شہرت اور واہ واہ کے لئے میں نے کچے ذہنوں کو کیسا گھنونا کھیل کھیلا میرا رب منصب ہے ۔۔۔ افف

مجھے معاف کیسے کر سکتا ہے ۔۔۔ میں واتلا ہوں شرمینہ جیسی نا جانے کتنی ہی لڑکیوں کی ۔۔۔ میں مجرم ہوں لڑکوں کی چار دن کی محبت میں بھاگ جانے والی لڑکیوں کے روتے ہوئے ماں باپ کی ۔۔۔” جیسے جیسے مہرونساء سوچ رہی تھی جیسے جیسے اس پر سچ آشکار ہو رہا تھاویسے ویسے اس کا تنفس بگڑنے لگا تھا وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔

” میں مجرم ہوں ۔۔۔۔ میں قاتلہ ہوں ۔۔۔ میں نے نا جانے کتنی زندگیوں کو برباد کر دیا ۔۔۔ کتنے لوگوں کی بد دعاؤں کاسبب ہوں اسی لئے تو میرے ساتھ یہ سب ہوا ہے ۔۔۔ ہاں ایسی لئے میرے ساتھ یہ سب ہوا ہے میرا گناہ قابل معافی ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔۔

اللہ مجھے کیسے معاف کرے گا اب مجھے سمجھ آیا مجھے فواد جیسا اچھااعر مخلص انسان کیوں نہیں ملا ۔۔۔۔ اگر میں اس دن فواد کے ساتھ واپس آ بھی جاتی تب بھی وہ میرانصیب ہر گز نا بنتا ۔۔۔

کیونکہ میں تو بد دعاؤں کے حصار میں ہوں ۔۔۔ مجھے حازم نے نہیں مجھے لوگوں کی بد دعاؤوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا ۔۔۔۔ میں بری ہوں ۔۔۔ میں غلط ہوں کیسے ؟ کیسے ۔۔؟ میں وقت کے پہیے کو پیچھے موڑ دوں دو سال پیچھے لے جاؤں اور خود کو س گناہ سے روک لوں ۔۔۔

کیسے میں سارے رسائل اپنے پاس جمع کر لوں اپنے ناول کے صفحات کو نوچ کر پھاڑ دوں آگ لگا دوں

کاش کے لوگوں کے ذہنوں سے بس کچھ محور ہو جائے وہ بھول جائیں کہ مہرو نساء کون تھی؟ ۔۔۔

مہرونساء کیسی لکھاری تھی ؟ ۔۔۔ سے اللہ مجھے نسیا مسیا کر دے میری پہچان کو ختم کر دے ” مہرونساء ہزیانی کی کیفت میں تھی دیوانوں کی طرح چلا کر تڑپ کر رو رہی تھی جب اسکے کمرے میں اسکی والدہ داخل ہوئی وہ جائے نماز پر بیٹھی چلاتے ہوئے رو رہی تھی وہ مہرو کے پاس آ کر بیٹھ گئیں ۔۔

” مہرو میری بچی کیا ہوا ہے ہے تمہیں ” انہوں نے نم آنکھیں لئے پوچھنے لگیں اپنی بیٹی کی بگڑتی حالت نہیں دیکھ جا رہی تھی

مہرو انہیں خالی خالی آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔” امی امی آپ مجھ سے محبت کیوں کرتی ہیں میں اپنی نفرت کے قابل ہوں مجھے نفرت سے دیکھا کریں ۔۔۔ میری وجہ سے آپ اور بابا اس معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کے قابل نہیں رہے ۔۔۔ امی ۔۔۔ امی میں نے آپ کو کسی قابل نہیں چھوڑاجھے ماریں مجھ سے پیار مت کریں میں اس قابل نہیں ہوں ٫ مہرو اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑے اپنے منہ پر مارنے لگی۔ انہوں نے اپنا ہاتھ کھنچ لیا

” تمہارا قصور نہیں ہے مہرو ۔۔۔ میں جانتی ہوں تم اپنی مرضی سے نہیں بھاگی تھی ۔۔۔ ماں ہوں تمہاری ۔۔۔۔۔ تمہاری آنکھوں میں فواد کی چاہت کی چمک دیکھی تھی میں نے ۔۔۔ کیوں خود کو قصور وار سمجھ رہی ہو ۔۔ ” اسکی والدہ پیار سے اس کے چہرے سے آنسوں صاف کرنے لگیں

” نہیں امی میں بری ہوں ۔۔ گناہگار ہوں ۔۔۔ میں نے شرمینہ کو خود کشی کرنے پر مجبور کر دیا تھا امی وہ مر گئ ہے ۔۔۔ امی وہ مر گئ ہے ۔۔۔ یہ دیکھیں میرے ہاتھ ۔۔۔ ” وہ اپنے ہاتھ اپنی والدہ کو دیکھانے لگی مہرو نساء کا پورا چہرہ آنسوں سے تر بتر تھا رنگت بلکل پھیکی سی پڑ۔ چکی تھی

” امی یہ دیکھیں میرے ہاتھوں پر خون لگا ہے شرمینہ کا خون

میں نے اسے مرنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔ میں قاتل ہوں میں نے ایک معصوم لڑکی کا قتل کر دیا ۔۔ ” وہ روتے ہوئے بے حال سی ہونے لگی تھی ۔۔۔ اس کاسانس اس قدر پھولنے لگا کہ سانس لینے میں دشواری سی ہونے لگی تھی اس کے ہونٹ نیلے پڑنے لگے تھے وہ بے ہوش سے ہونے لگی تھی ۔۔۔

جب اسکی والدہ پریشان ہو کر ملازمین کو پکارنے لگیں ۔۔۔۔ مہرونساء بے ہوش ہو چکی تھی