Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 9
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 9
Meri Jaan by Umme Hani
مہرو کو اپنے پیچھے سے بس اس نوجوان کے قہقہوں کی آواز آ رہی تھی ۔۔ وہ تیزی سے سیڑیاں اترنے لگی وہ کوئی گھر نہیں بیت بڑی حویلی تھی پزانے طرز کی بنی ہوئی تھی اتنے بڑے رقبے پر وہ محل نما حویلی بنی تھی کہ کمرے ہی کمرے تھے بہت بڑا سا لاونج بنا ہوا تھا شیشم کی لکڑی کے بڑے سے صوفے لاونج میں رکھے ہوئے تھے لیکن دیکھنے سے لگ رہا تھا کہ وہاں موجود فرنیچر کئ سال پرانے زمانے کا ہے ۔۔۔ لیکن وہاں موجود رکھی چیزوں کی پروا کسے تھی
اپنا عروسی بھاری لہنگا سنبھال کر مہرو باہر جانے کا راستہ تلاش کر رہی تھی لاونج بہت وسیع تھا لیکن وہاں کوئی بھی بیرونی دروازہ موجود نہیں تھا جہاں دروازہ ہونا چاہیے تھا وہاں سامنے ایک دیوار بنی ہوئی تھی عجیب بات یہ تھی۔ باقی پورے لاونج کی دیواروں پر پیٹ تھا لیکن اس بیرونی گیٹ کے سامنے بنی دیوار پر سمنٹ کا پلستر ہوا تھا جیسے چند دن پہلے بنائی گئ ہو
بیرونی دروازے کو جیسے اس دیوار سے بند کیا گیا ہو مہرونساء لاونج کے مختلف کمروں میں جانے لگی سب کی کھڑکیاں کھول کر دیکھنے لگی کہ شاہد کہیں سے باہر نکل سکے لیکن کھڑکیوں پر لوہے کی ساخیں موجود تھیں ۔۔ لاونج کے ارد گرد اتنے کمرے موجود تھے کہ وہ شاید گنتی کرنے سے قاصر تھی کئ کمروں میں وہ جا چکی تھی لیکن باہر کا کہیں کوئی راستہ نہیں تھا آدھا گھنٹہ وہ لاونج میں دیوانوں کی طرح سے ایک سے دوسرے کمرے میں جارہی تھی ایک حیرت کی بات یہ بھی تھی وہ جرنلسٹ اس کے پیچھے نہیں آیا تھا ۔۔ اور دوسری بات جو مہرونساء کی پریشانی میں اضافہ کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ ایک معمولی سا جرنلسٹ اتنی بڑی حویلی کا مالک کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔ جس حویلی کا رقبہ اتنا بڑا تھا کہ اس میں بے شمار کمرے بنے ہوئے تھے جیسے وہ حویلی بھول بھلیاں جیسی ہو ۔۔۔ آدھے گھنٹے میں مہرونساء چکرا کر رہ گئ تھی ۔۔ لیکن اسے کہیں سے باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں ملا تھا ۔۔ بلا آخر تھک یار کر لاونج کے صوفے پر بیٹھ کر رونے لگی ۔۔
کہاں پھنس چکی تھی یہاں کیوں لائی گئ تھی ۔۔۔ بار بار فواد کا خیال آ رہا تھا تو کبھی اپنے گھر والوں کا رو رو کر اسکی ہچکی بندھ گئ تھی ۔۔۔ نا جانے کہاں سے ایک کالے رنگ کا خونخوار کتا اس لاونج میں نظر آنے لگا وہ بھونکا تب مہرونساء کی نظر اس پر پڑی کہاں سے آیا تھاوہ یہ سوچنے کے بجائے مہرو نساء بے ساختہ صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی اس کتے نے مہرونساء کو سوچنے کا موقع نہیں دیا تھا اور تیزی سے اسکی طرف بڑھنے لگا مہرونساء تو حواس باختہ سی ہو گئ تھی سامنے اوپر جانے کی سیڑیاں ہی نظر آئیں تھیں اس لئے اپنا لہنگا اٹھائے تیزی سے سیڑیاں چڑھنے لگی کتااس کے پیچھے تھا ۔۔۔
وہ تیزی سے زینہ چڑھ کر اسی کمرے میں داخل ہوئی تھی جہاں سے بھاگی تھی کیونکہ اسی کمرے کا دروازہ اب بھی کھلا ہوا تھا ۔۔اب بھی وہ نوجوان وہیں کھڑا تھا جیسے اسے مہرونساء کے واپس یہیں آنے کا یقین ہو کتا اب بھی مہرو کے پیچھے تھا وہ سیدھی اس نوجوان کے ساتھ لگ گئ
” پلیز مجھے کتے سے بچا لو ” اس وقت وہ جتنی خوفزدہ تھی اور جتنی بد حواس تھی اسے یہ بھی احساس نہیں تھا کہ وہ اس کے سینے سے جا لگی ہے ” وہ بڑی سنجیدگی سے بولا
” بھاگنے کا بہت شوق ہے تمہیں ۔۔۔ کیا سمجھا تھا تم نے مہرونساء۔۔۔! میں بیوقوف ہوں جو دروازہ کھلا چھوڑ کر تم سے بات کروں گا اور تمہیں بھاگنے کا پورا موقع دونگا ۔۔۔ یہ جو آج تمہارے حسن ہر چار چاند لگے ہیں اس پر پانی کی طرح سے میں نے پیسہ یونہی تو نہیں بہایا ہے ۔۔۔ کہ تمہیں یہاں سے جانے دوں ۔۔۔ ” اس کی بات سن کر مہرو نساء اس سے پیچھے ہٹ گئ اس لڑکے نے اپنے ہاتھوں کو آذاد ہی چھوڑ رکھا تھا مہرو نساء کو اپنے گرفت میں لینے کی کوشش نہیں کی تھی لیکن جیسے ہی مہرو نساء اس لڑکے سے چار قدم پیچھے ہٹی کتا اس کے قریب بڑھ کے اس کے لہنگے کو منہ سے پکڑ کر کھنچنے لگا ۔۔۔ مہرونساء نے جب پلٹ کر دیکھا تو خوف کے مارے اسکی منہ سے چیخ برآمد ہوئی تھی پھر سے چلا کر مجبورا اس نوجوان کی پناہوں میں آئی تھی اس بار وہ ہسنے لگا تھا اس کے کان کے قریب جا کر بولا
” یہ سین تمہارے ناول کاحصہ نہیں تھا ۔۔ یہ میرا تیار کردہ مسودہ ہے مہرونساء اگلی بار اسے اپنے ناول میں نے ضرور لکھنا ۔۔ بہت داد ملے گی تمہیں ” مہرو نساء کی رنگت خوف کے مارے پھیکی پڑ چکی تھی ۔۔۔
” اب بتاؤں مہرو نساء کیا چاہتی ہو تم ۔۔۔ رات میرے ساتھ گزارو گی یا میرے کتے ٹومی کے ساتھ ۔۔۔ ” اس سوال نے مہرونساء کے رہے سہے ہوش بھی اڑائے تھے ۔۔ وہ کتا اب بھی اس کے قریب کھڑا بھونک رہا تھا مہرو کا دل کسی سوکھے پتے کی طرح سے کانپ رہا تھا جو خزاں میں ذرا سی ہوا چلنے پر آڑنے لگتا ہے آگے بھی مصبت تھی اور پیچھے بھی نا جانے کیوں لیکن وہ اس کے سینے سے لگ کر بے بسی سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔ تھک گئ تھی پھر کتے سے حد درجہ خوفزدہ تھی جو مہرو کے بلکل پیچھے کھڑا بھونک رہا تھا
” خدا کے لئے مجھے میرے گھر چھوڑ دو میں تمہاری منت کرتی ہوں “
” بہت مشکل ہے میری جان ۔۔۔ بلکہ سمجھو کہ نا ممکن سی بات ہے ۔۔۔ ” وہ دھیرے سے بولا مہرو نساء اس سے ذرا پیچھے ہوئی
” تم جو کر رہے ہو وہ گنا ہے میں نے تمہیں دل سے قبول نہیں کیا ۔۔۔ تم نے دھوکے سے میرے سائن لئے ہیں یوں نکاح نہیں ہوتا ۔۔۔ میرا تم سے ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے میں تو تمہیں جانتی تک نہیں ہوں تمہارے نام تک سے انجان ہوں ۔۔۔ کیوں مجھے حراساں کر رہے ہو ۔۔۔ مجھے جانے دو تم جو مانگوں گئے میں تمہیں دے دوں گی ” ہچکیوں سے روتے ہوئے وہ رقت بھرے لہجے سے بول رہی تھی
” ہممم ٹھیک ہے یہ بات بھی پوری کر لیتے ہیں مجھے تم چاہیے ہو ۔۔ ابھی دس منٹ میں نکاح خواہ پہنچ جائے گا تم اپنی پوری آمادگی سے مجھے قبول کر لو ” وہ سنجیدگی سے بات کر رہا تھا
” لیکن میں ایسا نہیں چاہتی ۔۔۔ ” مہرو نساء کے جواب پر کتا بڑی زور سے بھونکا تھا وہ کانپ کے رہ گئ تھی
” لیکن میں تو ایسا ہی چاہتا ہوں نا میری جان ۔۔۔ دیکھوں مہرونساء یہ تو طے ہے کہ آج رات ہم ساتھ گزاریں گئے مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میرا تم سے دوبارہ نکاح ابھی ہوتا ہے یا نہیں ۔۔۔ کیونکہ عدالت کے مطابق تم میری بیوی بن چکی ہوں اور تمہارے ناول میں ایسے نکاح قابل قبول ماننے جاتے ہیں ۔۔۔ میں تو تمہاری تسلی کے لئے یہ سب کر رہا ہوں ورنہ میں تو تمہیں دل سے بیوی قبول کر چکا ہوں ۔۔۔ دیکھوں نا مہرونساء آخر میرے بھی تو کچھ ارمان ہیں ۔۔ آج کی رات کے لئے کتنے سپنے سجائے ہیں میں نے اب تو چار بجنے والے ہیں کیوں میرے صبر کا یوں امتحان لے رہی ہو کبھی سینے سے لگتی ہو کبھی چار قدم دور ہٹتی ہو مرد کے جذبات الگ قسم کے ہوتے ہیں دو منٹ کی قربت کے بعد دوری اس کے جنون کو بڑھاتی ہے ۔۔۔ یہ تم سے بہتر اور کون جان سکتا ہے تم تو مرد کے ایسے ہی جذبات کو قلم بند کرتی آئی ہو ۔۔ سمجھا کروں نا میری جان ” وہ استزائیہ انداز سے معنی خیز انداز سے آنکھ ونک کر کے مسکرایا پھر مہرونساء کے بہتے آنسوں پر آئی بالوں کی لڑ کو اس لڑکے نے اپنے ہاتھ سے پیچھے کرنے کی کوشش کی لیکن اسکا ہاتھ اپنے چہرے پر پہنچنے سے پہلے ہی مہرو پیچھے ہٹنے لگی اسکی باتیں ایسی تھی کہ مہرو نساء کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔۔ کتا بلکل مہرو نساء کے پیچھے کھڑا تھا وہ چاہ کر بھی اس لڑکے سے ذیادہ فاصلہ برقرار نہیں رکھ سکتی تھی اس لڑکے نے اپنا ہاتھ پیچھے نہیں کیا انگلی سے اسکے بالوں کی لڑ کو پیچھے کیا پھر بولا
“تم یہاں سکون سے بیٹھوں میں ابھی آتا ہوں تب تک۔ میرا ٹومی تمہارا خیال رکھے گا ۔۔” یہ کہہ کر وہ نوجوان پیچھے ہٹ کر جانے لگا لیکن کتے کا کمرے میں رہنے کا سوچ کر مہرو نساء بری طرح سے گھبرائی تھی اس لئے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
” نہیں پلیز مجھے اس کے پاس اکیلے مت چھوڑو مجھے ڈر لگ رہا ہے ” ” یہ بھی مہرونساء کی بے بسی کی آخری حد تھی کہ وہ اپنے ہی رقیب سے مدد مانگنے پر مجبور تھی
” تم بھاگنے کی کوشش مت کرنا یہ تمہیں کچھ نہیں کہے گا میرا پالتوں ہے اور وفادار بھی ۔۔۔ اب مجھے نکاح کا انتظام بھی تو کرنا ہے مہرونساء ورنہ جتنی تم خوبصورت لگ رہی ہو جی تو نہیں چاہ رہا کہ تمہیں چھوڑ کر جاؤں ۔۔ ” اسے روتا ہوا خوفزدہ دیکھ کر وہ شاید طنزیہ یہ بول کر اپنا ہاتھ مہرونساء کے ہاتھ سے ہٹا چکا تھا ۔۔ پھر
کتے کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا
” خیال رکھنا اس کا ۔۔۔ کمرے سے باہر نا نکلنے پائے ۔۔۔ ” اس نوجوان کی بات پر کتے نے بھونک کر اپنی زبان میں شاید اپنے مالک کو اپنی طرف سے ہوتی تسلی دی تھی
یہ کہہ کر وہ نوجوان تو کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔ کمرے کا دروازہ اب بھی کھلا ہوا تھا ۔۔۔ لیکن کتا بنا آنکھیں چھپکائے مہرونساء کو ہی دیکھ رہا تھا پوری زبان اسکی باہر تھی لمبے لمبے سانس بھر رہا تھا آنکھیں سرخ تھیں ۔۔۔ بڑے چوکنے انداز سے یوں کھڑا تھا جیسے اپنی ڈیوٹی پوری ایمانداری سے دے رہا ہو ۔۔ مہرونساء بے بسی سے بیڈ پر بیٹھ گئ
” کاش کے یہ زمین ہی پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں ۔۔۔ کس جرم کی سزا بھکت رہی ہوں میں ؟ ۔۔۔۔ وہ پھر سے رونے لگی تھی
کچھ دیر میں ایک نکاح خواں ایک عورت کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا
ایجاب وقبول میں مہرو کو معلوم ہوا کہ اس جرنلسٹ کا نام حازم تھا ۔۔۔۔
نکاح ہوتے ہی مہرو نساء نے اپنی آنکھیں بند کر لیں آنکھوں میں جمع شدہ پانی بھی بہہ کر رخسار بھگو گیا تھا ۔۔۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ آج کی رات مہرونساء کی ایسی گزرے گی ایک اجنبی شخص جسے وہ ٹھیک سے جانتی تک نہیں تھی اسے مجبورا اپنا آپ سونپ چکے گی ۔۔۔ پہلی بار اپنی ان سب تحریروں پر غصہ آیا تھا جس میں وہ ہیروئن کی شادی ہیرو سے زبردستی مجبورا کرواتی تھی اور وہ روتی بلکتی تھرتھراتے ہونٹوں سے شادی کے لئے اقرار کرتی تھیں اس سین کو وہ بڑے پر سکون ماحول میں رات کی تاریخی میں لکھتی تھی اور لکھتے ہوئے پوری طرح سے لڑکی کی بے بسی لکھتے ہوئے اور لڑکے کی جیت کی سرشاری لکھتے ہوئے وہ بہت لطف اندوز ہوتی تھی
کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ آج وہ لمحے یوں اس کے سامنے بھی آ سکتے ہیں ۔۔۔ آج اسے لگ رہا تھا کہ وہ
سب کاغذ پر لکھے کردار اس کے سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہی روڈ سے ہیرو سوٹٹ بوٹٹ میں جیب میں ہاتھ ڈالے مغروانہ نظروں سے مہرونساء کو دیکھ رہے ہیں سر مسکرا رہے ہیں آہستہ آہستہ اس سب ہیروز کا چہرہ اسے حازم کے چہرے میں مدغم سا ہوتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔ اسے لگا ان سب لڑکوں کو ملا دیا جائے تو حازم کا نقشہ بن جاتا ہے
چوڑی پیشانی گوری رنگت ستواں ناک مسکرانے سے چہرے پر ڈمپل۔۔ حازم اسے تمسخرانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کا مزاق اڑاتا ہوا نظر آنے لگا
مہرو نے نظریں بدلیں تھیں دوسری جانب اسے وہ سب ناولز کی ہیروئن نظر آنے لگیں مڈل کلاس سادی سی معصوم سی بے ضرر لڑکی جو اپنے ساتھ بدتمیزی کرنے والے لڑکے کو تھپڑ مار دیتی ہے یا چار لوگوں کے سامنے اسے بے عزت کر دیتی ہے جس کے بدلے میں وہ لڑکا اسے سر عام سڑک سے اپنی گاڑی میں بیٹھا کر کسی پرانی حویلی میں لے جاتا ہے اور اسے خود سے نکاح کرنے پر مجبور کرتا ہے وہ سب لڑکیاں اسے روتی سسکتی تڑپ کر ہچکیاں بھرتی ہوئی نظر آئیں پھر ان سب لڑکیوں کا چہرہ ملکر اسے لگا اس کا اپنا چہرہ بن گیا ہو بے بس سا ہاتھ جوڑتے ہوئے اپنی عزت کی بھیک حازم کے سامنے مانگتا ہوا ۔۔۔ رکے ہوئے آنسوں میں پھر سے روانی آنے لگی تھی ایک کے بعد ایک آنسوں اسکی آنکھوں سے بہہ رہا تھا جب حازم کمرے میں داخل ہوا اس بار وہ نائٹ سوٹ میں ملبوس تھا چہرہ بلکل اسپاٹ تھا سیدھا چلتے ہوئے وہ مہرونساء کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔ مہرو کچھ سمٹ کر پیچھے ہوئی تھی اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوں پونچنے لگی تو حازم نے اس کا وہی ہاتھ پکڑ لیا
٫ ناں میری جان اب یہ ظلم تو مجھ پر مت کرو آنسوں صاف کرنے کی ضرورت نہیں ہیں ۔۔ تمہیں کیا خبر کہ مجھے تمہارے ان آنسوں سے ہی تو عشق ہے ۔۔۔ مرتا ہوں تمہارے آنسوں پر اس لئے انہیں کبھی اپنی آنکھوں سے جدا مت کرنا
جانتی ہو کتنی خوبصورتی ہے ان بہتے آنسوں میں ایسا لگتا ہے موتیوں سے ہیروئی کوئی مالا ہے جو کھل گئی ہے اور سارے موتی ایک ایک کر کے گر رہے ہیں اففف ۔۔۔ اففف میرے خدا کیا دلکش منظر ہے تمہاری آنکھوں کا مہرونساء جی چاہتا تم ہوتے ہوئے رات بھر ان موتیوں کو اپنی ا نکھوں سے گراتی رہو اور میں رات بھر محویت سے تمہیں دیکھتا رہو ۔۔۔ لیکن مجبوری یہ ہے کہ آج میری گولڈن نائٹ ہے آج کے لئے تو کچھ اور ہی سوچ رکھا ہے میں نے ۔۔ یہ خواہش کسی اور دن پوری کر لوں گا ۔۔ تم کون سا اب کہیں جا سکتی ہو ۔۔۔ ” یہ کہہ کر حازم نے مہرونساء کا ہاتھ چھوڑ دیا پھر اس نے چہرے کو بڑے غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔
” کمال کی بیوٹیشن ہے بھئ صیحیح پیسے وصول کیے ہیں اس نے مجھ سے کہنے لگی آپ کی بیوی جتنا چاہے رخصتی پر رو کے میک اپ پر فرو نہیں پڑے گا یہاں تک کہ آنسوں سے آنکھ کا کاجل تک نہیں پھیلے گا اور دیکھوں نا مہرو نساء ویسی کی ویسی ہی لگ رہی ہو ۔۔ ” مہرو نساء نطلظریں جھکا گئ تھی۔۔۔ اس وقت بے بس تھی مجبور تھی جانتی تھی کہ سوائے برداشت کرنے کے دوسرا ہر راستہ وہ س ہر بند کر چکا ہے مہرونساء کو یوں خاموش دیکھ کر وہ ہسنے لگا
” اوہ مائی گاڈ تم میرے سامنے بیٹھی ہو یقین نہیں آ رہا ۔۔۔ ویسے سنا ہے فواد بہت پسند تھا تمہیں آج کی رات کے لئے اسے حوالے سے خواب تو تم نے بھی اپنی آنکھوں میں بہت سجائے یوں گئے ۔۔ ہے نا مہرونساء ؟ یہ سن کر مہرو نساء نے ایک سلگتی ہوئی نظر اس پر ڈالی تھی۔ لیکن اگلے ہی لمحے اپنی بے بسی کا اندازہ لگا کر نظریں بدل گئ تھی
” بیچارا فواد پھولوں سے بھری سیج پر بنا دلہن کے رات بھر سو تو بلکل نہیں پائے ۔۔۔ بڑی بے تابیاں بھری ہوئیں تھیں۔ اس دن ریسٹورنٹ میں اسکی آنکھوں میں ” حازم کی یہ بات سن کر مہرونساء نے سرعت سے اسکی طرف حیرت سے دیکھا تھا
” ایسے کیا دیکھ رہی ہو میرے کہنے پر ہی تو وئٹر کے ذریعے اس کمینے پر چٹنی گرائی گئ تھی مجھ سے برداشت نہیں ہوا کہ وہ تمہیں یوں دیکھے ۔۔ جی تو میرا چاہا ایک ہزار کے بجائے دو ہزار ویٹر کو دوں اور کہوں کہ چٹنی اس کی شرٹ کے بجائے اسکی آنکھوں میں ڈال دے ہوتا کون ہے وہ میری مہرونساء دیکھنے والا جس پر صرف میرا حق ہے ” مہرونساء اب سمجھی تھی کس کی آر پار ہوتی نظریں اسے بے چین کر رہیں تھی کون اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے آنکھوں سے ہی روح کو کھنچ لے گا ۔۔۔ نا جانے کیوں لیکن ایک خوف کی لہر مہرونساء کے پورے وجود میں بجلی کی طرح سے گزری تھی
حازم نے سب سے پہلے مہرونساء کا ڈوپٹہ بے دردی سے سر سےکھنچ کر اتار تھا جسے بال پن اور دوسری پنز کے ساتھ سجایا گیا تھا کئ بال مہرونساء کے جڑ سے اکڑے تھے ایک چیخ سی برآمد ہوئی تھی ۔۔ سامنے حازم کی آنکھوں میں اس وقت صرف سرخی تھی وحشت تھی اور جنون تھا وافتگی تھی سب کچھ تھا سوائے محبت کے ۔۔ اس رشتے کی ابتدا حازم نے بڑی بے رحمی اور بے دردی سے کی تھی
******……..
زکی نے اگلے ڈرامے کے لئے جب ہیروئن کے طور پر یسرا کو منتخب کیا تو سب سے پہلا اعتراض اشتیاق صاحب کو ہوا تھا
“پاگل تو نہیں ہو گئے تم زکی سجیلہ جیسی جانی مانی ٹاپ ہیروئن کو چھوڑ کر تم ایک ایکسٹرا کو اہمیت دے رہے ہو ۔۔۔ ” اشتیاق صاحب زکی اس قسم باتوں غصے سے بے قابو ہو جاتے تھے ۔۔۔
” بابا یسرا میں آگے بڑھنے بہت گیٹس موجود ہیں اور اگر کوئی اس کام کا اہل ہے تو میں کیوں نااڈے موقع دوں ” زکی نے اپنا لہجہ متوازن ہی رکھا تھا
” اوہ پلیز زکی سجیلہ کو چھوڑ کر میں کسی بھی نئ لڑکی کو اپنے ڈرامے میں ہیروئن کی جگہ دے کر تجربہ نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ سجیلہ ہی بسٹ رہے گی اور پھر سجیلہ یہ بلکل بھی برداشت نہیں کرے گی کہ ہم لوگ اسے چھوڑ کر کسی نئ لڑکی کو اس جگہ دیدیں ” اصل بات اشتیاق صاحب کے منہ پر ا گئ تھی اول فکر انہیں یہی تھی کہ سجیلہ تو یہ سن کر ہی بپھر جائے گی پھر زکی کے ساتھ اس کارشتہ بھی طے ہو چکا تھا ۔۔ اشتیاق صاحب اسے ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے
” بابا سجیلہ کون ہوتی ہے برداشت کرنے والی اور نا کرنے والی ۔۔ اس بات کا ڈسیجن ہم لیں گئے کے کس رول کے لئے کون سی لڑکی پرفیکٹ ہو سکتی ہے اور معاف کیجیے گا سجیلہ از آ موڈل اچھی ہے ایکٹنگ مجھے تو اس بلکل بھی پسند نہیں ہے جو بھی رول کرتی ہے ایک ڈرامائی انداز ۔یں کرتی ہے یسرا کی اداکاری میں اس کے ایکپریشن میں ایک جسنںسی ہوتی ہے مجھے لگتا ہے کہ وہ اس کریکٹر کے لئے پرفیکٹ رہے گی ” زکی بات پر اشتیاق صاحب دل سے قائل ہو چکے تھے کیونکہ یسرا واقع اپنے سین میں جان ڈال دیتی تھی لیکن مان نہیں سکتے تھے کیونکہ سجیلہ کے پرستار اسکی خوبصورتی اور بے باکی کے دلدادہ تھے ۔۔۔
وہ بولڈ سین کرنے پر نا گھبراتی تھی نا ہی انکار کرتی تھی ۔۔۔۔ لیکن یسرا ڈرامہ سائن کرنے سے پہلے کہہ دیتی تھی کہ وہ ایسے سین بلکل نہیں کرے گی جس میں اسے کسی لڑکے سے معانقہ کرنا پڑے وہ رومانس کے سین میں بھی فاصلہ برقرار رکھے گی اور جمعلوں کی ادائیگی۔ میں بھی لفظوں میں بے باکانہ الفاظ نہیں بولے گی نا ہی ایسے لباس پہنے گی جو حد درجہ چست ہوں
یہی وجہ تھی کہ وہ کم پیسوں پر کام کرتی تھی لیکن اپنے معیار کو قائم کیے ہوئے تھی یہی بات زکی کو اس لڑکی کی طرف مائل کرنے لگی تھی ۔۔۔ وہ سنجیدہ سی سلجھی سی لڑکی تھی ۔ اپنے کام سے کام رکھتی تھی وہاں موجود سیکٹرز سے ذیادہ فری نہیں ہوتی تھی ۔۔۔ دھیمے لہجے میں بات کرتی تھی ۔۔ ایک لحاظ سے تھا جیسے وہ اپنے مقابل کے درمیان قائم رکھتی تھی ۔۔۔ یہ سب باتیں زکی کو یسرا کی بے حد پسند تھیں ۔۔۔ ابھی زکی اپنے والد کو اس بات کے لئے قائل کر ہی رہا تھا جب زکی کے موبائل پر سجیلہ کی کال آنے لگی زکی نے موبائل کی سکرین پر جب سجیلہ کا نمبر چمکتا ہوا دیکھا کوفت میں مبتلہ ہوا تھا ۔۔ اشتیاق صاحب نے جب زکی کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھے تو سمجھ گئے کہ سجیلہ کی کال ہو گی کیونکہ زکی کا موڈ سجیلہ کے نام پر ہی خراب ہوتا تھا
” اگر سجیلہ ہے تو اس سے ذرا تمیز سے بات کرنا
منگتر ہے وہ تمہاری ” اشتیاق صاحب نے زکی کو پہلے ہی متنبہ کر دیا
جانتے تھے کہ وہ سجیلہ سے چڑ کر بات کرتا ہے
” زبردستی کی گلے پڑی منگتر ۔۔۔۔ ” زکی نے تلخ لہجے سے کہا اس کے بعد فون اٹھا لیا
” ہائے سوئٹ ہارٹ کہاں غائب رہتے ہو ۔۔۔ ” سجیلہ کا بے باک انداز زکی کو زچ سا کر دیتا تھا
” یہ کیسا سوال ہے سجیلہ ظاہر ہے میرا لائن ہی ایسی ہے مجھے فرصت کے لمحات ذرا کم ہی ملتے ہیں” ۔”
” ہاں فرصت کے لمحات ملتے تو کم ہیں اور جو ملتے ہیں وہ یسرا کی نظر کو جاتے ہیں ” دل میں دبی ہوئی جلن تھی جس کی آمیزش سجیلہ کے لفظ اور لہجہ دونوں کر رہے تھے
” یہ یسرا کا کیا ذکر ہے ۔۔۔ “
” کوئی ذکر نہیں ہے میرے لئے وہ اتنی اہم ہر گز نہیں کہ میں اس فضول لڑکی کو اپنے موضوع گفتگوں کاحصہ بناؤں ۔۔۔ بس میں کچھ نہیں جانتی زکی میں تمہیں پک کرنے آرہی ہوں۔۔ فاضل نے ایک پارٹی پر انوایٹ کیا ہے مجھے تمہارا کوئی بہانہ نہیں سننا زکی تم میرے ساتھ چل رہے ہو ” سجیلہ نے پہلے ہی زکی کے پاس انکار کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔ زکی خاموش ہو گیا
” میں س رہی ہوں پک کرنے تم تیار ہو جاؤں ” زکی نے فون بند کر دیا آدھے گھنٹے بعد ہی سجیلہ کی گاڑی کا ہارن بجنے لگا تھا زکی تیار ہو چکا تھا کچھ اسے یہ بھی امید تھی کہ شاید فاضل کی پارٹی میں یسرا بھی انوایٹڈ ہو ۔۔۔ لیکن جہاں وہ سجیلہ کے ساتھ پہچاچوہ کوئی ریسٹورنٹ نہیں تھا ایک مشہور ہوٹل میں بنایا گیا ایک کلب تھا ۔۔ جہاں وہ پر طوفان بدتمیزی شامل تھی جو عام طور پر کلبوں میں ہوتی ہے
سجیلہ بھی ساڑھی پہنے ہوئے تھے وہ بھی انڈین اسٹائل میں ۔۔۔ آج سے پہلے زکی کو اس بات سے غرض نہیں تھا کہ سجیلہ کیا پہنتی ہے لیکن نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس کے ساتھ ایک رشتہ تو جوڑ چکا تھا اس لئے اس کا لباس دیکھ کر فورا سے ٹوک دیا تھا
” یہ کیا پہنا ہے تم نے ۔۔۔ تمہیں یہ لباس پہننے کے قابل نظر آتا ہے ۔۔ ؟ ” زکی۔ کے گھورنے پر سجیلہ ہسنے لگی
” اوہ کم آن زکی تم کیا عام مردوں کی طرح سے ریایکٹ کر رہے ہو ۔۔۔ “
” اس لئے کہ منگتر کے معاملے میں میں ایک مرد ہی ہوں ۔۔ بہرحال آئندہ میں تمہیں ایسے لباس میں نا دیکھوں سجیلہ گاڑی میں روڈ پر لا چکی تھی اس لئے زکی بد مزگی نہیں چاہتا تھا اس لئے بات کو سہولت سے ختم کر دیا ۔۔ لیکن کلب کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے حیرت سے سجیلہ کو دیکھا تھا ۔۔ جہاں کھلے عام ڈرنک اور بہودہ ڈانس کیا جا رہا تھا ۔۔۔ سجیلہ زکی کی نظروں کو نظر انداز کر کے اس کا ہاتھ پکڑے اسے ڈانس فلور پر لے گئ
” چلو نا زکی کپل ڈانس کرتے ہیں ۔۔۔ ” ایک تیز اور ہنگم انگلش سونگ پر لوگ ڈانس کے نام پر بہودگی کو ہی ہرون چڑھا رہے تھے ۔ زکی نے اپنا ہاتھ سجیلہ سے چھڑوایا
” یہ پارٹی دی ہے فاصل نے ؟ کہاں ہے وہ بلائے اڈے یہ جگہ اس قابل ہے کہ یہاں کسی کو بلایا جائے ” زکی کو تپا تپا دیکھ کر سجیلہ ہسنے لگی
” فاضل نے نہیں بلایا تھا زکی میں نے جھوٹ بولا تھا میں ت۔ہسرے ساتھ اچھا ٹائم اسپنڈ کرنا چاہتی تھی ۔۔ ” سجیلہ کی بات سن کر وہ بھبکںڈا گیا تھا
” سجیلہ تمہیں یہ جگہ ملی تھی میرے ساتھ ٹائم اسپنڈ کرنے کی ؟ تمہیں جگہ اس قابل لگتی ہے کہ یہاں چند گھنٹے گزارے جاسکیں ۔۔۔ ” زکی ابھی سجیلہ کو بھی غصے سے لفظ چبا چبا کر بول رہا تھا جب ایک زور دار تھپٹر پر ایک نوجوان ڈانس فلور پر زمین پر جا کے گرا تھا اس کے گرتے ہی لوگوں کا شور سا مچ گیا تھا میوزک بھی بند ہو چکا تھا
” تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے ساتھ اس قسم کی بدتمیزی کرنے کی ” سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر زکی کے ہوش اڑ گئے تھے
*****……
فواد کی پوری جاگ کر گزری تھی جیسے جیسے رات سرک رہی تھی اسکا دل ڈوبے جا رہا تھا آنکھیں بند کرتا تو مہرو کاروتا ہوا چہرہ دیکھائی دینے لگتا کانوں ۔میں اسکی آوازیں۔ سنائی دیتی کہ
” فواد پلیز مجھے بچا لو میں صرف تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔ مجھے کس نیپ کیا گیا ہے میں کوئی نکاح نہیں کیا میں نے تمہارے علاؤہ کسی کو نہیں چاہا ۔۔۔ فواد مجھے بچا لو ۔۔۔۔ “
فواد بے چینی سے اٹھ بیٹھا تھا بے بسی ایسی تھی سہی نہیں جا رہی تھی ۔۔۔ صبح کی روشنی چاروں سو پھیل چکی تھی ۔۔۔ دل کا یہ عالم تھا کہ ماہی بے آب کی طرح مچل رہا تھا تڑپ رہا تھا اگرخوہ کس نیپ بھی ہوئی تھی ۔۔ تو عزت تو کھو چکی ہو گی ایسا کون سا مرد ہے جو کسی عورت کو یوں کڈنیپ کر کے لے جائے اور اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنائے وہ ایک ایسی لڑکی کو جو دلہن کے لباس میں ہر زیبائش کے ساتھ موجود تھی ۔۔۔۔ ایک مرد ہوتے ہوئے بھی وہ اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا ۔۔۔۔ پہلے آنکھوں سے آنسوں ٹپ ٹپ نکلنے شروع ہوئے اس کے دل میں دبی سسکیاں اٹھنے لگی ۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپائے وہ پھوٹ پھوٹ کر تو رہا تھا ۔۔۔۔
” مہرو ۔۔۔ واپس آ جاؤں نا یار کہاں ڈھونڈو میں تمہیں ” وہ روتے ہوئے بے بسی سے کہہ رہا تھا
******……
” فواد ” مہرو نے یک دم سے اٹھنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔ خواب میں فواد اسے حازم کے شکنجے سے نکال کر لے جانے ہی والا تھا کسی نے فواد کی کمر پر فائر کیا تھا ۔۔ مہرو کا تڑپنا لازمی تھا بے اختیار وہ فواد کو پکارتے ہوئے اٹھنے لگی تھی ۔۔ لیکن کسی گرفت میں تھی ۔۔۔
