186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 16

Meri Jaan by Umme Hani

رات رفعت بیگم نے مہرو کو اپنے پاس ہی سلا لیا تھا ۔۔۔ صبح جب مہرونساء کی آنکھ کھلی تو دفعت بیگم کے بازو پر سو رہی تھی وہ پہلے بہت کمزور تھیں اس مہرو کوساتھ لگائے سو رہیں تھیں

وہ اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ کچھ دیر تک انکے چہرے کو دیکھتی رہی چہرے پر پژمردگی سی چھائی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ اٹھ کر بیڈ سے نیچے اتر گئ اپنے کمرے میں آئی تو کمرہ خالی تھا ابھی بھی وہ ساڑھی میں ملبوس تھی اس نے کپڑے چینج کیے اور نیچے کچن میں آ گئ حازم پہلے سے وہاں موجود تھا ناشتہ خود بنا رہا تھا مہرونساء کو دیکھ رخ بدل کر تیوری چڑھائے اپنا کام کرتا رہا مہرونساء آگے بڑھی اور چائے اسٹو پر رکھنے لگی ۔۔۔ یہی سوچ رہی تھی کہ رفعت بیگم کے لئے بھی ساتھ ہی ناشتہ بنا لے حازم بوائل ایک اور بریڈ کے دو سلائس ایک پلیٹ میں رکھ دیاتھا ساتھ ہی ایک دودھ کا گلاس بھی گرم کر کے ایک ٹرے میں رکھنے لگا ۔۔ وہ ٹرئے اٹھائے باہر نکل گیا مہرونساء نے سلائس پر جیم لگایا اور ٹرے پر رکھ دیا پھر دو کپ چائے بنائی اور ٹرے اٹھائے رفعت بیگم کے کمرے میں لے گئ لیکن قدم دروازے پر ہی جم گئے تھے حازم انکے پاس بیٹھا انہیں ناشتہ کروا رہا تھا

” مجھے دودھ نہیں پینا ہے حازم روز روز دودھ پی پی کر میرا جی اوبنے لگا ہے مجھے چائے لینی ہے ” رفعت بیگم دودھ کا گلاس پیچھے کر رہیں تھیں

” پھپو دودھ آپ کے لئے بہت ضروری ہے ۔۔ جلدی پییں اسے مجھے آپ کو میڈسن بھی دینی ہے سامنے سے مہرنساء کوشاتے دیکھ کر حازم کے چہرے کے تاثرات پر پھر سے سختی آ گئ تھی

شرمینہ آؤں بیٹا اندر اوں رفعت بیگم مہرنساء کو دیکھ کر بولیں وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کے پاس آ گئ

ٹرے بھی انکے سامنے رکھ دی وہ چائے دیکھ کر حازم کو دیکھ کر مسکرانے لگیں

” دیکھا تم نے حازم میری بچی کو پتہ ہے کہ میرا چائے پینے کا موڈ ہے ” چائے کا کپ رفعت بیگم نے

پکڑتے ہوئے کہا ۔۔ حازم کچھ نہیں بولا بس میڈسن انہیں کھلا کر چلا گیا باقی کا وقت مہرونساء نے

رفعت بیگم کے ساتھ ہی گزارا تھا ۔۔۔ شام کو وہ انہیں کمرے سے باہر نکال کر لان میں لے آئی ۔۔ اسے لگا تازی ہوا رفعت بیگم کی طعبیت کو بحال کرے گی لیکن جیسے ہی وہ کزن میں آئیں پورا لسن دیکھنے لگیں پھر تیز تیز سانس بھرنے لگیں

کبھی اس حویلی کی چھت کی طرف دیکھتیں کبھی لان کے باغ کی طرف انکی رنگت فارسی ہونے لگی تھی

” میری شرمینہ دلہن بنی ہے آج اسکی شادی ہے۔۔۔ یہ پورا لان رنگ برنگے باقی قمقموں سے سجا ہوا ہے ۔۔۔۔ شرمینہ دلہن بنی کیسی پیاری لگ رہی ہے میں نے اسکی کئ بار نظر اتاری ہے ۔۔۔ وہ لگ ہی اتنی خوبصورت رہی ہے ۔۔۔ حازم کو بھی اللہ نظر بد سے بچائے کتنا خوبصورت رہا ہے دولہا کے روپ لگمیں

اللہ میرے دونوں بچوں کو خوشیاں دیکھائے ” رفعت بیگم اپنے آپ میں نہیں تھیں کسی اور کی جگہ پہنچی ہوئی تھیں پورے لان کو دیکھ رہیں تھیں مہرونساء انہیں حیرت سے تک رہی تھی پھر وہ مہرونساء کو دیکھنے لگیں

” تم میری بیٹی کی دوست ہو نا ؟؟؟ میری شرمینہ کی دوست ہو نا ؟؟ اسکی شادی پر آئی ہو ؟؟ تم کھڑی کیوں ہوں یہاں اتنی ساری کرسیاں موجود ہیں بیٹھوں ان پر ابھی وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ نیچے ہی آ رہی ہے ۔۔۔ میری بیٹی بہت پیاری لگ رہی ہے ۔۔۔ پ” یہ کہہ۔ وہ چھت کی طرف دیکھنے لگیں پھر یک دم مہرو کو پکڑ کر پیچھے کر دیا اور گھٹنوں کے بل زمین پر ڈھے گئیں

” شرمینہ ۔۔۔ میری بچی ۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔ شرمینہ تم چھت سے کیوں کود گئ ” اب وہ زمین پر دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں مہرونساء تو دیکھ کر ششدد سی رہ گئ تھی جلدی سے انکے برابر بیٹھ کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کرنے لگیں لیکن وہ تو قابو سے باہر ہو گئیں تھیں زمین پر زور زور سے مکے مارنے لگیں

” اٹھوں نا میری بچی آج تو تمہاری شادی ہے ” رفعت بیگم کے چلانے اور رونے پر ملازم اور حازم بھاگتے ہوئے وہاں پہنچے تھے رفعت بیگم کی حالت بگڑنے لگی تھی حازم نے انہیں گود میں بھر لیا ۔۔۔

” باہر کون لایا ہے انہیں ۔۔ جب میں نے سختی سے منع کیا تھا ” وہ ملازموں پر چلانے لگااور انہیں گود میں لئے اندر لے گیا مہرونساء تو سانس لینا بھول گئ تھی شرمینہ نے چھت سے کود کر جان دی ہے ؟؟؟

کیوں ایسا کیا اس نے ؟ میں نے تو اسے ایسا کرنے کے لئے کبھی نہیں کہا ؟ میرے دل میں تو اس کے لئے ایسا کوئی بھی نفرت کا جذبہ تو نہیں تھا ٹھیک میں اس لڑکی سے محبت کبھی نہیں کی تھی لیکن نفرت بھی نہیں کی تھی میرے لئے وہ بلکل بے ضرر سی تھی پھر میں کیسے اس کے لئے

موت کاذریعہ بن گئ ۔۔۔ ” کسی سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا وہ ابھی لان میں کھڑی تھی شرمینہ ہے بارے میں ہی سوچ رہی تھی اپنی شادی والے دن اس۔ ے خود کشی کی ؟ کیوں کی ؟

اسی سوچ کے تابے بانے وہ بننے کی کوشش کر رہی تھا جب حازم نے اس کا بازو پکڑ کر اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا

” کس سے پوچھ کر تم پھپو کو باہر لائی تھی ۔۔۔” وہ گرجدار لہجے سے بولا تھا

” وہ ۔۔ وہ ۔۔۔ مجھے لگا انہیں تازی ہوا …” مہرونساء کاحلق خشک ہوا تھا

” کس نے کہا تھا کہ اپنی عقل کو استعمال کرو ۔۔۔ جانتی کوایسے دورے کتنے خطرناک ہیں انکے لئے

ایسی کنڈشن بار بار ہونا آنکی جان لے سکتی ہے ۔۔ کیا بگاڑا ہے ہم لوگوں نے تمہارا ۔۔۔ تم نے ہم سب کی زندگی برباد کر دی پہلے شرمینہ کی جان لے لی اس کے والد یہ غم سہہ نہیں پائے وہ بھی دنیا سے چلے گئے اب بس ایک پھپو بچی ہیں کیا ان کو بھی مار کر دم لو گئ تم ” وہ دھاڑتے ہوئے بولا مہرونساء برہ طرح سے کانپ گئ تھی حازم کاغصہ آخری حد کو چھو رہا تھا اسکا بازو دبوچے سے کمرے میں لے گیا اسے دھکیلتے ہوئے بیڈ پر پھنکا

” آج کے بعد اگر تم پھپو کے آس پاس مجھے نظر آئی تو جان لے لوں گا تمہاری ۔۔۔۔ ” لہو رنگ آنکھیں لئے وہ یہ کہہ کر چلا گیا ۔۔ مہرونساء کو ذرا بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس کی اس حرکت سے رفعت بیگم کی طعبیت یوں بگڑ جائے گی ۔۔۔ حازم اب اسکے کمرے میں نہیں آتا تھا نا ہی اسے قریب آنے کی کوشش کرتا تھا ۔۔ ایک بار مہرو کو رات کو نیند نہیں ا رہی تھی وہ کمرے سے باہر نکل گئ اوپر کے پورشن میں آٹھ دس کمرے تھے نا جانے کیوں وہ ایک ایک کمرے کو کھول کر دیکھنے لگی سب کمرے ڈریکوریٹ تھے ایک کمرے میں اس نے نیب گھمایا وہ لاک تھا کمرے کی چابیوں کا گوچھا وہیں لاونج میں موجود تھا مہرونساء نے وہاں سے چابیاں لیں اور ایک ایک کر کے چابی لگانے لگی ایک چابی اس دروازے پر لگ گئ دروزے کا لاک کھل گیا وہ اندر داخل ہو گئ کمرے کی لائٹس جلائیں تو دیکھ کر دم وہیں جم گئے تھے ایک بہت بڑے فریم میں شرمینہ کی اور مہرو کی تصویر تھی جو مہرو کی سالگرہ کے موقع پر شرمینہ اسکے گھر کیک لے کر گئ تھی تب مہرو کی بڑی منت کر کے شرمینہ نے کھینچی تھی ۔۔

اس پوری دیواروں پر مہرونساء کے اسکیچ بنے ہوئے تھے اس کی ایک ایک ادا کو پینسل سے اسکیچ کیا گیا تھا ۔۔۔ اور اسکی ہر تصویر کے نیچے محبت بھرے جمعلے تھے

آئی لو یو ۔مہرو جی

آپکی فین شرمینہ

کمرے کی پوری دیواریں مہرونساء کے اسکچز سے بھری پڑیں تھیں اس کے علاؤہ بھی ایک کونے میں

اسکیچ بورڈ پر ایک تصویر اسکی لگی ہوئی تھی جس پر آدھا چہرہ مہرونساء کا تھااور آدھا حازم کا

نیچے لکھا تھا آئی ہیٹ یو مہرونساء

کہیں کا نہیں چھوڑو گا تمہیں ۔مہرونساء۔۔ جینے کا حق تک چھین لوں گا ا”س پوری تصویر پر لال رنگ سے چھینٹے ڈالے ہوئے تھے جیسے خون کے چھینٹے ہوں

مہرونساوہ تصویر دیکھ کر گھبرا کر پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔ وہاں ایک رائٹنگ ٹیبل بھی موجود تھا چند کتابیں رکھی تھی مہرو نساء اس رائٹنگ ٹیبل کے پاس آ گئ وہ بارویں جماعت کی میڈیکل کی کتابیں تھیں

” میں ڈاکٹر بنانا چاہتی ہوں مہرو جی ” شرمینہ کی آواز مہرونساء کے کانوں میں گونجنے لگی

” میڈیکل پڑھتے ہوئے تمہیں اتنی فرصت مل جاتی ہے کہ میرے ناول پڑھ لو ” مہرونساء نے حیرانگی سے پوچھا تھا

” آپ کے ناول پہلے ہے اور میڈیکل بعد میں آپکے ناول میری آپ سے محبت ہے میری چاہت ہے اور میڈیکل میرے منگتر کی خواہش میرے لئے آپ پہلے ہیں مہرو جی اور حازم بعد میں”

” مطلب تمہیں میڈیکل میں دلچسپی نہیں ہے ۔۔ تم میڈیکل صرف اپنے منگتر کی وجہ سے پڑھ رہی ہو ؟؟” مہرونساء کو سن کر حیرت ہوئی تھی

“جی ہاں اسی کو تو خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر بنو ورنہ مجھے ایسا کوئی شوق نہیں ہے “

” اتنا حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے وہ تم پر کہ تم وہ پڑھنے پر مجبور ہو جو وہ چاہتا ہے ؟ ” مہرونساء کی بات پر وہ کہنے لگی

” نہیں ۔۔ یہ بات نہیں ہے وہ ۔مجھ سے سات سال بڑے ہیں اور انہیں مجھ سے ذیادہ سمجھ ہے انہیں لگتا ہے کہ میں میڈیکل پڑھ سکتی ہوں ” شرمینہ کانوں سن کر مہرونساء نے افسوس کا اظہار کیا تھا

” اسے حاوی ہونا ہی کہتے ہیں شرمینہ سوچو تو جو شخص تمہیں اتنا بھی اختیار دینے کو تیار نہیں۔ کہ تم خود اس بات کا فیصلہ کرو کہ تم پڑھنا کیا چاہتی ہو وہ تمہیں ساری زندگی اپنا صرف غلام ہی بنانا چاہے گا لائف پاٹنر نہیں “

” میں سمجھی نہیں مہرو جی ” وہ نا فہمی سے پوچھنے لگی

” شرمینہ میری جان ۔۔۔ بہت بھولی ہو تم ۔۔۔ تم نے میرے ناول میں پڑھا نہیں کیسے احتشام شرمینہ کو اپنی مرضی پر چلنے کے لئے بے بس اور مجبور کر دیتا ہے ۔۔۔ ایم سوری ٹوڈے پر تمہارا یہ منگتر

مجھے کچھ ایسا ہی لگتا ہے ۔۔۔ مجھے سوچ سوچ کر ڈر سا لگنے لگتا ہے وہ تو تمہیں سانس بھی تمہاری مرضی سے نہیں لینے دے گا” مہرو کی بات پر وہ بلکل خاموش سی ہو گئ تھی

٫ خیر مجھے کیا جب تم خود ہی اسکی ہر بات پر غلاموں کی طرح سر جھکانے کو تیار ہو تو ۔۔۔ بائے گاڈ شرمینہ تم میں اور ۔میرے ناول کی ہیروئن میں ذرا فرق نہیں ہے مجھے تو لگتا ہے تم ساری زندگی حازم نامی اژدھا کے ساتھ خوف میں ڈرتے ڈرتے ہی گزار دو گی کہ اگر تم نے اپنی مرضی سے ہلنے کی بھی کوشش کی تو کہیں وہ تمہیں ڈس نا لے ” خوف سے شرمینہ کی بے اختیار سسکی سی نکلی تھی اور فون بند ہو گیا تھا مہرونساء نے فون بند کر دیا سامنے اسکی دوست بیٹھی مہرونساء کی ساری باتیں سن رہی تھی

” مہرو کیوں اس بچی کو اتنا ڈرا رہی ہو ۔۔۔ کہ اسے شوہر ایک آدم خود ہی لگنے لگے “

مہرونساء بے ساختہ ہنسی تھی

” ارے کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ ویسے بھی اس لڑکی نے میری جان کھا رکھی ہے دن میں دو تین بار کال کرتی رہتی ہے مہروجی مہرو جی کرتی رہتی ہے جب میں اس سے اس طرح کی باتیں۔ کرتی ہوں تو چار دن خوف کے مارے مجھے فون نہیں کرتی ۔۔ میرے بھی چار دن سکون سے گزر جاتے ہیں

” تو تم اسے صاف منع کر دو “

” نہیں یار منع نہیں کر سکتی ۔۔۔ مجھے بھی اسے ڈرانے میں ۔مزا سا آتا ہے جس دن اسکی شادی ہو گئ نا دیکھ لینا کیسا رنگ اڑا ہو گااس کا اور بعد میں

اپنی بیوقوفی پر ہنسا کرے گی ” مہرونساء کے لئے یہ سب ایک شرارت تھی مزاق تھاوقت گزاری تھی

” دیکھ لو مہرو کہیں لینے کے دینے نا پڑ جائیں ” اپنی دوست کی بات یاد آتے ہی مہرونساء کے آنسوں آنکھوں کی باڑ سے نیچے گرے تھے۔۔۔

پہلی بار اپنی غلطی یاد آئی تھی ۔۔۔ پہلی بار اپنی غلطی کااحساس ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ وہیں رائٹنگ ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئ۔۔۔۔

اب لگ رہا واقعی وہی قصور وار تھی ۔۔۔ جو باتیں وہ شرمینہ کو مزاق ۔میں ڈرانے کے لئے کہتی رہی تھی وہ ان باتوں کو سنجیدگی سے سوچنے لگی تھی حازم اسکے لئے احتشام کی جگہ لے چکا تھا ۔۔۔

اورشرمینہ کا حال پڑھ اور سوچ کر وہ شادی کے رشتے سے اس قدر خوفزدہ ہو چکی تھی کہ اس نے موت کو گلے لگانا آسان سمجھا تھا ۔۔۔۔

******…….

یسرا کی والدہ کو ہوش آ چکا تھا زکی کو یسرا کاانتظار تھا ۔۔۔ لیکن وہ ابھی تک نہیں آئی تھی زکی پوری رات کا جاگا ہوا تھا اس لئے یسرا کی والدہ سے مل کر وہ گھرخواپس چلا گیا شام جب وہ سو کر اٹھا تو یہ خبر سننے کو ملی کہ کل اس کا سجیلہ سے نکاح ہے ۔۔۔ وہ کچھ نہیں بولا ابھی تک یسرا سے رابطہ نہیں۔ کر پلپا رہا تھا کئ بار اسے کال کر چکا تھا لیکن وہ اس کا فون ریسیو نہیں کر رہی تھی ۔۔۔ شام کو اسکے اکاؤنٹ میں دو لاکھ روپے رسیو ہونے کا میسج بنک کی طرف سے آیا تھا ساتھ ہی ایک چھوٹا سا میسج یسرا نے بھیجا تھا کہ وہ اسکے ڈرامہ میں کام نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ اس لئے اس کی ایڈوانس رقم واپس کر رہی ہے ” زکی جتنا حیران ہوتااتنا کم تھا اس نے یسرا کو پھر سے کال کی آخر وجہ کیا تھی وہ کیوں زکی کے ساتھ ایسا رویہ کر رہی تھی لیکن اس بار بھی فون کسی نے نہیں اٹھایا وہ پریشان ہو کر رہ گا تھا ۔۔۔ شام کو جب وہ دوبارہ ہاسپٹل گیا تو یسرا اپنی والدہ کے ساتھ موجود تھی اسکی والدہ اب بیٹھی ہوئیں تھیں پورا ڈر پٹیوں سے جکڑا ہوا تھا یسرا نے زکی کو دیکھ کر نظریں بدل لیں

حازم اس کی والدہ پاس بیٹھ گیا کچھ دیر باتیں کرتا رہا پھر وہ دواؤں کے زیر تھیں اس لئے آنکھیں بند کرنے لگیں

” امی کو آرام کی ضرورت ہے سر ” یہ پہلا جمعلہ تھا جو اب تک یسرا نے اس نے کہا تھا زکی اٹھ کر یسرا کے پاس آ گیا یسرا کی والدہ سو چکیں تھیں

” میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں یسرا ؟” کتنے سوال تھے زکی کے ذہن میں لیکن وہ کترا رہی تھی

” وہ میرے پاس ابھی وقت نہیں ہے آپکے سوالوں کا پھر کبھی جواب دے دوں گی ” وہ گھڑی دیکھ رہی تھی اسی اثنا میں کمرے کا دروازہ کھلا اور یسرا کی بہن اندر داخل ہوئی یسرا اس کے پاس چلی گئ

” تم امی کا خیال رکھو مجھے کہیں کام سے جانا ہے ” یسرا یہ کہہ کر اپنا اٹھا کر باہر نکل گئ زکی اسکے پیچھے باہر آیا تھا تیز قدم چلتا اس کے سامنے کھڑا ہو گیا

” کل سے ہزاروں دفعہ کال کی ہیں میں نے تمہیں کسی کا بھی تم نے جواب نہیں دیا کیوں ؟ اس بار زکی کا لہجہ سخت تھا وہ نظریں چرا رہی تھی

” تمہاری خاطر نا جانے کس کس عذاب کو میں گلے لگانے کو تیار ہو کر پیسے لیکر آیا یہاں پہنچا تھا لیکن تم غائب تھیں ۔۔۔ کہاں گئ تھی ؟ پیسے کہاں سے آئے پاس ۔۔۔ مجھے دو لاکھ واپس کیوں بھیجیں ہیں ؟ زکی بات سن کر بس ایک پل ہی وہ اسکی نظروں میں دیکھ ہائی تھی پھر نظریں بدل گئ

” میرے پاس پیسوں کا انتظام ہو چکا تھااور میں آپ سے کہہ چکی تھی میں سب مینج کر لوں گی ۔۔۔ اور میں اب آپ کے ساتھ مزید نہیں چل سکتی ” یسرا ابھی بات کر ہی رہی تھی جب اسد وہاں پہنچ گیا تھا یسرا کو زکی پاس کھڑے دیکھ اس کے پاس آگیا ۔۔۔

” چلو نا جان من کب سے تمہارا ویٹ کر رہا ہوں ” اسد کی بے باکی پر جہاں یسرا گھبرائی تھی وہاں زکی کا پارہ ہائی ہوا تھا

” کسی سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے تمہیں ۔۔ اور یسرا تمہارے ساتھ کہیں نہیں جائے گی ” زکی نے اسد کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا

” کیوں باپ لگتے ہو تم اس کے ۔۔۔ ” اسد نے تن کر پوچھا یسرا نے اسد کا ہاتھ پکڑ لیا

” اسد پلیز چھوڑیں آپ اس بات کو ۔۔۔ چلیں یہاں سے ” یسرا نے اسد کو زکی سے پیچھے کیا تھا زکی تو یسرا کو دیکھ کر حیرت سے غوطہ زن ہوا تھا کہ وہ اسد کی بد تمیزی پر بھڑکنے کے بجائے اس کے ساتھ جانے کو تیار جبکہ جانتی ہے کہ وہ کیسا ہے

‘” یسرا تم اسکے کہیں نہیں جاؤں گی ” زکی سے برداشت نہیں ہو رہا تھا

” آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے ؟ اس بار یسرا نے اس کی سے پوچھا تھا

” یہ میری زندگی ہے مسٹر زکی جس کے ساتھ چاہے آؤں جاؤں جو چاہے کروں میں آپ کو تو ایسا کوئی اختیار نہیں دیا ۔۔۔ ” زکی کو اپنے کانوں پر یقین کرنا مشکل تھا

” یہ تم کہہ رہی ہو یسرا ” وہ حیرت اور بے یقینی سے پوچھنے کا

” جی ہاں میں کہہ رہی ہوں آپ کے ساتھ ایک ڈرامہ کیا کر لیااپ کو مجھ پر حق کی کمانے لگے دیکھیں سر میں آپ سے سارے کنٹکٹ ختم کر چکی ہوں آپ کے پیسے واپس کر چکی برائے کرم اب آپ اپنے راستے جائیں اور مجھبست دوبارہ رابطہ رکھنے کی کوشش مت کیجیے گا ” یسرا بدلہ رویہ زکی سے برداشت نہیں ہو رہا تھا اس سے پہلے کہ وہ اسد کے ساتھ کہیں جاتی اڈے بازو سے پکڑ اپنے مقابل کھڑا کر کے اسکی آنکھوں میں غصے سے جھانک کر بولا

” تمہاری خاطر میں سجیلہ سے نکاح کرنے جا رہا ہوں تا کہ تمہیں کسی کتے اور بھیڑیے سے بچاسکوں اور تم ؟ وہ غصے سے غرا کر ایک نظر اسد پر ڈالتے ہوئے یسرا کو یہ سمجھانے لگا کہ وہ کس قسم کے شخص کے ساتھ جا رہی ہے لیکن وہ بھی بے بس تھی ک ہی سن زکی بہت دیر کر چکا تھا

” اپنا اچھا برا میں خود دیکھ سکتی ہوں ۔۔ چھوڑیں مجھے ” بڑے ضبط سے وہ گزر رہی تھی

” اگر سپنااچھا برا سمجھتی تو اس کمینے کے ساتھ نا کھڑی ہوتی ” زکی اب بھی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا جہاں اسے بے بسی سی نظر آرہی تھی ۔” کتنے پیسے دیے ہیں اس نے تمہیں میں واپس کر دیتا ہوں لیکن تم اسکے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی ” زکی سمجھ گیا تھا کہ وہ مجبور ہے

” میرا بازو چھوڑیں سر ورنہ میں شور مچا دوں گی ۔۔۔ مجھےچاپ کے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ” وہ سخت لہجے سے بولی تھی زکی نے اس کا بازوچھوڑ دیا

” تم خود کے ساتھ اچھا نہیں کر رہی ہو یسرا”

” مجھے مشورے کی ضرورت نہیں ہے بہتر ہو گا کہ دوبارہ میرے راستے میں مت آئیے گا ” یہ کہہ کو اسد کے ساتھ چلی گئ تھی زکی اسے تاسف سے دیکھتا رہ گیا تھا

*****…….

سجیلہ دلہن کا جوڑا خرید رہی تھی اپنے نکاح کی تیاری کر رہی اگلے روز میڈیا کے چند رپوٹر اور بہت سے مہمان جمع تھے ۔۔۔ اشتیاق صاحب اور حدیقہ بیگم بھی تیار ہو چکے تھے زکی کا کمرہ بند تھا

” حدیقہ بلاؤ اسے کتنی ہے اسے ” اشتیاق صاحب گھڑی دیکھتے ہوئے بولے

” حدیقہ بیگم اوپر زکی کے کمرے کے پاس کر اس کادروازہ کھکھٹانے لگیں لیکن کسی نے نہیں کھولا دروازہ بہت بجایا لیکن اندرسے کوئی آواز نہیں ا رہی تھی حدیقہ بیگم نے گھبرا کر دروازے کا نیب گھمایا تو دروازہ کھل گیا کمرہ خالی تھا واش روم بھی خالی تھا سامنے بیڈ پر پیسے رکھے تھے جو اشتیاق صاحب نے دس منٹ لیٹ دیے تھے ۔۔۔ اور بہت سے لوگوں کی زندگی کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا ساتھ میں ایک رقعہ بھی رکھا تھا حدیقہ بیگم نے وہ رقعہ پکڑ کر پڑھا

بابا کے پیسوں کی اب مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے میں گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں میرا انتظار مت کیجیے گا ۔۔۔ میری طرف سے سجیلہ کو کل بھی انکار تھا آج بھی انکار ہے ۔۔۔ ” حدیقہ بیگم تو وہ پڑھ کر دل پکڑ کر بیٹھ گئیں کہ نا جانے اب آشتیاق صاحب کا کیا ردعمل ہو گا کچھ دیر بعد اشتیاق صاحب بھی اوپر گئے حدیقہ بیگم کی آڑی ہوئی رنگت اور پکڑا کاعذ ک ٹکرا بیڈ ہو موجود رقم دیکھ کر جو پہلا خیال انہیں آیا تھا وہ یہیں۔ تھا کہ زکی جا چکا ہے وہ تیزی سے آگے بڑھے تھے حدیقہ بیگم کے ہاتھ سے رقعہ چھین کر پڑھااور غصے سے مچوڑ کر پھنک دیا

” آلو کا پٹھا مر جائے گا کسی دن میرے ہاتھوں ۔میری عزت ک جنازہ نکال کر ناجانے کہاں دفع ہو گیا ہے ” وہ غصے سے پھنکارے تھے

دوسری جانب سجیلہ دلہن بنی اترائی اتائی بیٹھی تھی اپنی ضد پوری کرنے کے لئے کہا کچھ نہیں کیا تھا اس نے لیکن جب پتہ چلا کہ زکی نا جانے کہاں جا چکا ہے تو دنگ سی رہ گئ تھی ۔۔۔

یہ خبر کسی آگ کی طرح سے میڈیا میں پھیلی تھی کہ مشہور ہیروئن کے نکاح کے وقت دولہا بھاگ گیا ایسی چٹخارے دار خبریں تو میڈیا کی کمائی کا ذریعہ ہوتی ہیں میڈیا کے ہزاروں سوال تھے جن کا جواب نا سجیلہ کے پاس تھا اور نا ہی اشتیاق صاحب کے پاس

*****……

اسد یسرا کو ایک مشہور بیوٹیشن کے پاس لیکر گیا تھا اسکی ہیر اسٹائل چینج کروایا ایک موڑن لک۔ اسے دیا گیا تھا ۔۔۔ اس کے بعد اسے اسٹوڈیو لے گیا

جو لباس اسے پہنے کے لئے دیا گیا تھا یسرا جو دیکھ شرم آ رہی تھی اسد منہ میں سگریٹ دبائے

اسے دیکھ رہا تھا جو اپنی بے بسی کی آخری حد پر تھی

” ایسے کیا دیکھ رہی ہو جاؤں پہن کر آؤں “

” میں یہ نہیں پہن سکتی ۔۔۔ ” یسرا نے انکار کر دیا تھا ۔۔۔ ایک وہیات قسم کا لباس تھا

” یسرا شاید تم بھول رہی کو کہ تم نے کیا کنٹکٹ سائن کیا ہے ” سگریٹ کو دو انگلیوں میں لیکر دھوان اسد نے یار کے منہ پر پھکنتے ہوئے کہا تھا

” مجھے یاد ہے لیکن بات ایکٹنگ کی ہوئی ہے ۔۔۔ ایسا لباس دیکھ کر بھی شرم سی ا رہی ہے میں نہیں پہن سکتی ” یسرا بے بسی سے دیکھ کر بول رہی تھی

” جس دنیا میں تم قدم رکھ چکی ہوں نا میری جان ۔۔۔ وہاں شرم کا کوئی کام ہی نہیں ہے ۔۔۔ یہاں یہ کہا جاتا ہے

جس نے کی شرم پھوٹے اس کے کرم ۔۔۔ اور تمہارے کرم تو مجھے پورے آب و تاب سے جگانے ہیں ۔۔۔ تمہاری شتم ہی تو ختم کرنی ہے ناؤ کم ان اسے خود سے پہن او ورنہ یہ کام بہت سے مرد بھی یہاں کرنے کے لئے موجود ہیں ” یہ سن کر یسرا کا رنگ اڑا تھا ۔۔۔ اپنی بے بسی شاید اسے اب ہر لمحہ آنسوں بہانے تھے ۔۔۔ وہ وہی ڈریس لیکر رائے ر میں چلی تھی ۔۔۔ اسد کمیرا میں اور ۔میک اپ مین کو انسٹرکشن دینے لگا کہیں انہیں کیا کیا کرنا ہے

یسرا کے آنسوں نہیں رک رہے تھے کہاں وہ ڈوپٹہ اتار کر بھی کوئی سین کرنے کے لئے راضی نہیں ہوتی تھی اور کہاں اب آدھا ادھورا لباس پہننا پڑ رہا تھا ۔۔۔

” نا جانے وہ کون سی لڑکیاں ہوتی ہیں جو شوقیہ اس لائن کو جوائن کرنے کے لئے اپنے گھر تک سے بھاگنے میں آر نہیں سمجھتیں کیسے ایک عزت کی زندگی کو بنا کسی مجبوری کے چھوٹ کہ اس ے حیائی کے راستے کی اپنانے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں ۔۔۔ کاش کہ اسکی حقیقت کو سمجھ سکتی

توندازہ ہوتا کہ گھر کی چار دیواری عورت کی بہترین پناہ گاہ ہے چند دن ک ہی شہرت عزت کی کیسے دھجیاں بکھیر کے رکھ دیتی ہے