186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 18

Meri Jaan by Umme Hani

حازم کی دنیا لٹ چکی تھی شرمینہ نے سر پر چوٹ آئی تھی موقعے پر ہی دم توڑ گئ تھی ۔۔۔ رفعت بیگم تو پاگل سی ہو گئیں تھیں افضل صاحب سے بیٹی کی ناگہانی موت برداشت نا ہوئی تو دل پکڑ کر بیٹھ گئے چند منٹوں میں صفت ماتم بچھ گیا تھا ۔۔۔۔ ۔ سہیل صاحب تو بیٹے کی شادی کرنے پاکستان آئے تھے لیکن یہاں جو کچھ دیکھنے کو ملا تھا وہ انکےتصور میں نہیں تھا ایک ہفتے میں باپ بیٹی لقمہ اجل بن چکے تھے ۔۔۔ رفعت بیگم اپنے حواسوں میں نہیں تھیں حازم گم صم ہو کر رہ گیا تھا نا کھانے کی ہوش تھی نا کسی اور بات کی

اپنی کی محبت کو اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی کے حوالے کیا تھا سہیل صاحب نے بہت چاہا کہ شرمینہ کو قبرستان میں دفنایا جائے لیکن حازم کی ایک ہی ضد تھی کہ میری شرمینہ یہیں میرے پاس رہے گی ۔۔۔ میں اسے اپنے گھر سے دور نہیں کر سکتا ۔۔۔چار دن افضل صاحب ہوسپٹل میں بے ہوش رہے پھر وہ بھی چل بسے ۔۔ رفعت بیگم پر دوہرہ صدمہ تھا لیکن انہیں ہوش ہی کہاں تھی ۔۔۔ بلکل بے حال ہو چکیں تھیں

سہیل صاحب اور حازم کی والدہ شائستہ بیگم نے بہت چاہا کہ بیٹے اور نند کواٹلی واپس لے جائیں لیکن دونوں ہی جانے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔

” حازم بیٹا تم تو بات کو سمجھوں یہاں اب ہمارا کیا رہ گیا ہے ” کئ دن سے حازم شرمینہ کے کمرے میں بند تھا ۔۔ رو رو کر آنکھیں متورم ہو چکیں تھیں سہیل صاحب اور شائستہ بیگم دونوں حازم کے پاس بیٹھے تھے شرمینہ کی تصویر حازم اپنے سینے سے لگائے زمین پر ایک کونے میں بیٹھا تھا چار دن میں اسکی اجڑی ہوئی حالت ہو چکی تھی لگتا تھا برسوں کا بیمار ہو وہ کھوئے ہوئے انداز میں بول رہا تھا

” میری شرمینہ یہاں ہے پاپا پاکستان میں ۔۔۔ میری محبت۔۔۔ میری بیوی ۔۔۔ اسی کے لئے تو پاکستان آیا تھا ۔اسء یہاں سے لے جانے ۔۔ اسے چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں ” آنسوں تھے کے خشک نہیں ہو رہے تھے “۔۔۔ کیوں کیا تھا شرمینہ نے یہ سب ؟ بس یہ ایک سوال تھا کہ حازم کو چین نہیں لینے دے رہا تھا

” حازم میرے بچے دیکھوں حقیقت سے منہ چرانے سے حقیقت بدل تو نہیں جائے گی ۔۔۔ کیوں نہیں سمجھتے کہ وہ جا چکی ہے ” شائستہ بیگم سے بیٹے کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولیں لیکن حازم نفی میں سر ہلانے لگا

” نہیں ۔۔۔ نہیں مما وہ نہیں مر سکتی ۔۔۔ میرے دل میں رہتی ہے ۔۔۔وہ میری روح میں بستی ہے ۔۔۔ یہاں ہے وہ میرے دل میں ۔۔۔میری سانسوں اسکی مہک ہے ۔۔۔ مر نہیں سکتی ۔۔ کیسے مر سکتی ہے ۔۔۔ کیسے ۔۔۔ مر ۔۔۔۔۔ سکتی ۔۔۔ ہے ۔۔۔وہ ۔۔۔ شرمینہ ۔۔۔۔ ” وہ چلا کر اسے پکانے لگا تڑپ تڑپ کے رونے لگا ۔۔۔ شرمینہ کی تصویر کو اپنے سینے سے بینچ لیا تھا جیسے تصویر کے ساتھ شرمینہ کو بھی اندر بسا لے گا

سہیل صاحب بیٹے کی حالت دیکھ کر رنجیدہ سے ہو گئے تھے ناوہ سنبھالے سنبھل رہا تھا نا ہی رفعت بیگم ۔۔۔۔ رفعت بیگم تو شرمینہ کے عروسی لباس کو گلے لگائیں بیٹھیں تھیں ۔۔۔ شائستہ بیگم جب نند کے پاس جاتی تو اسکی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسوں روتا ۔۔۔

“آؤں نا شائستہ دیکھوں تو اس لڑکی کو ۔۔۔ شادی کا جوڑا اتار بھی اتار دیا ہے اس نے کتنا سمجھایا تھا میں نے اسے کے ابھی تو حازم کے ساتھ تمہارا فوٹو سیشن باقی ہے لیکن یہ ہے کہ میری سنتی ہی نہیں ۔۔۔ ” وہ شرمینہ کا عروسی لباس دیکھ کر یوں بات کر رہیں تھیں جیسے لباس کی جگہ شرمینہ موجود ہو شائستہ بیگم سے بہن جیسی نند کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔۔۔ رفعت بیگم بے بسی سے بولیں

” کیا کروں بچی ہی تو ہے ۔۔۔ شرمینہ کو عادت کہاں ہے ایسے بھاری لباس پہننے کی ۔۔۔ ” وہ شائشتہ بیگم کے بہتے آنسوں کو دیکھ کر بھی نظر انداز کر رہیں تھیں

” دیکھوں شائستہ میری بچی کو تم اپنے ساتھ اٹلی تو لے جارہی ہو لیکن بہت خیال رکھنا اس کا اور ہاں ہر چار ماہ بعد اسے میرے پاس ضرور بھیج دیا کرنا ۔۔۔ ہمارے لئے تو شرمینہ ہی سب کچھ ہے افضل کی تو جان بستی ہے اپنی بیٹی میں شادی سے چند دن پہلے مجھ سے کہہ رہے تھے میری شہزادی جتنی دور مجھ سے جارہی ہے مجھے لگتا ہے چند دن بعد مجھے بھی اسکے پیچھے ہی اپنی ٹکٹ بھی کروانی پڑے گی ۔۔۔ میں تو رہ ہی نہیں پاؤں گا شرمینہ کے بغیر اور دیکھو وہ بھی چلے گئے میرے بارے میں بھی نہیں سوچا ” رفعت بیگم کی بات دل چیر دینے والی تھیں شائستہ بیگم جو رفعت بیگم کو سنبھالنے اور تسلی دینے آئیں تھیں انکی باتیں سن کر رفعت بیگ کے گلے لگ کر رونے لگیں ۔۔۔

” افضل بھائی کو واقع شرمینہ سے بہت پیار تھا رفعت جبھی تو دیکھوں اسکے پیچھے ہی چلے گئے تمہیں دوہرہ غم دے کر ہمیشہ کے لئے چلے گئے ” شائستہ بیگم روتے ہوئے کہہ رہیں تھیں

رفعت بیگم آب گم صم سی ہو گئیں ۔۔۔ ایک دم سے چپ نا رو رہی تھی نا بول رہیں تھیں شائستہ بیگم ان سے پیچھے ہٹیں

” رفعت حقیقت کو تسلیم کرنے کی کوشش کرو ۔۔ ہمارے ساتھ چلو ۔۔۔ ” شائستہ بیگم کو رفعت بیگم نے تیوری چڑھا کر دیکھالیکن بیں کچھ نہیں پھر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کمرے سے تیزی سے باہر نکل گئیں باہر لان میں شرمینہ کی قبر پر بیٹھ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں ۔۔۔۔ انکی ہزیانی سی کیفت کو سنبھالنے کے لئے انہیں نشے کی ہیوئی ڈوز لگائی گئی ۔۔۔ حازم کو اپنی پھپو کی خاطر اپنا غم بھلانا پڑا وہ رفعت بیگم کو سنبھالنے لگا تھا پندرہ دن بیت گئے تھے ۔۔۔ لیکن رفعت بیگم اول تو ہوش میں ہی نہیں آتیں اور اگر کبھی آ بھی جاتی تو کمرے بھاگنے کی کوشش کرتی ۔۔۔ سہیل صاحب بہن کو اس حال میں دیکھ دیکھ کر بیمار سے ہونے لگے تھے ۔۔ حازم نے ہی ان سے کہا کہ وہ ور شائستہ بیگم واپس اٹکی چلے جائیں رفعت بیگم کو وہ خود سنبھال لے گا۔۔۔ لیکن ابھی وہ کسی بھی قیمت پر پاکستان چھوڑ کر اٹلی نہیں جائے گا ۔۔۔ سہیل صاحب اور شائستہ بیگم روتے دھوتے واپس چلے گئے ۔۔۔ رفعت بیگم کی طعبیت میں بس اتنا سدھار آیا تھا کہ وہ حازم کے ہاتھ سے کچھ کھانے پینے لگیں تھیں کبھی تو حازم سے ایسے بات کرتی جیسے نارمل ہو گئیں ہوں اور کبھی پھر سے دیوانگی پر اتر آتیں شرمینہ کو پورے گھر میں ڈھونڈنے لگتیں ۔۔۔ اسے زور زور سے پکارنے لگتیں

حازم بہت دن بعد کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہو تھا ۔۔۔ حقیقت کو تسلیم کر چکا تھا گو یہ اسکے لئے بہت مشکل امر تھا

رات کو اکثر وہ شرمینہ کی قبر پر بیٹھ کر اس سے باتیں کرنے لگتا

” کتنا کچھ سوچا تھا کہ جب تم میری ہو جاؤں گی تو پھر بتاؤں گا تمہیں کہ میں نے تم سے کتنی محبت کی ہے ۔ کتنا چاہا ہے تمہیں کیسے کیسے حسین خواب سجائے تھے تمہارے لئے ۔۔ مجھے تو اٹلی میں رہ کر بھی کوئی چہرہ دل کو نہیں بھایا ۔۔۔ کیونکہ تم سے نکاح کا بندھن باندھ چکا تھا اس لئے اپنی محبت بھری نظریں یہیں چھوڑ گیا تمہارے پاس ۔۔۔ مجھے لگتا تھا نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے جیسے میرا دل کسی کی طرف مائل نہیں ہو پایا تو تم توایک لڑکی تھی۔ اپنے شوہر کے علاؤہ تو کسی کو سوچوں گی بھی نہیں لیکن شاید دل کی دنیا عجیب ہوتی ہے اختیار سے باہر ۔۔۔ کاش ۔۔۔ کاش شرمینہ مجھے اگر پتہ ہوتا کہ تم اس لڑکے کو اتنا چاہتی ہو کہ اسکی خاطر جان ہی دے دوں گی تو میں ایسا نا کرتا ۔۔۔ پیچھے ہٹ جاتا

مجھے لگا تم کم عمر ہو نادان ہو اپنے لئے ایک غلط قدم اٹھا رہی ہو میری ہو جاؤں گی تو بھول جاؤں گی اسے لیکن تم نے تو ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ سسکیاں لیکر رونے لگا

” مجھے ایک موقع تو دیتی خدا کی قسم تم پر اتنی محبت نچھاور کرتا کہ میرے علادہ سب کو بھول جاتی ۔۔۔۔ ” رہ رہ کر حازم کو وہ یاد آتی تھی ۔۔۔ ہر لمحہ وہ تڑپتا تھا کبھی لگتا کہ حازم نے ہی جلد بازی کر دی ۔۔۔ کچھ وقت اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ۔شاید وہ اتنا بڑا قدم نا اٹھاتی۔۔ کبھی یہ خیال آتا کہ شرمینہ کی خوشی اگر کوئی اور تھا تو وہ پیچھے ہٹ جاتا کم از کم وہ زندہ تو ہوتی ۔۔۔ اصل ہوش توحازم کے اس وقت اڑے جب وہ چند دن کے لئے شہر گیا تھا ۔۔ رفعت بیگم کو چند دن ہاسپٹل ایڈمٹ کرنا پڑا انکی حالت ٹھیک نہیں تھی انہیں ہاسپٹل چھوڑ کر وہ شرمینہ کے گھر پر آ گیا سب سے پہلے اسکے کمرے میں گیا دل کو کہاں چین آ رہا تھا ۔۔ اس کی ہر چیز جو چھو کر دیکھتا رہا کہ آخری بار نا جانے کس کس چیز کو اس نے چھو کر اپنے لمس سے نوازہ ہو گا

پھر اس کے کمرے سے منسلک دوسرے کمرے میں داخل ہوا تو دیواروں پر لگے اسکیچز دیکھ کر وہ حیران سا ہو گیا تھا ۔۔۔

شرمینہ کو اسکیچنگ کا شوق تھا یہ وہ جانتا تھا لیکن جس لڑکی کی تصویر اس نے اسکیچنگ سے بھری تھیں وہ حازم کے کے لئے انجان تھی دیواروں پر ایک اسی لڑکی کی تصویریں لگیں تھیں

وہ ایک ایک تصویر کے پاس آ کر غور سے دیکھنے لگا

پہلے اسکیچ پر وہ لڑکی مسکرا رہی تھی حازم کو ذرا دلچسپی نہیں تھی۔ کہ وہ لڑکی دیکھنے میں کیسی ہے ۔۔ لیکن جو چیز اسے متاثر کی وہ تھی شرمینہ کی اس تصویر پر لکھی ایک تحریر

” آئی لو یو سو مچ مہرو جی

آپکی شرمینہ “

اسی طرح اس لڑکی کے ہر اسکیچ کے نیچے شرمینہ

نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا حازم نے سوچا شاید شرمینہ کی کسی دوست کی تصویر ہے بے دھیانی سے اسکی نظر ایک اور اسکیچ پر پڑی جو ایک کونے میں لکڑی بورڈ کے پر چپساں تھیں لیکن آدھی سے بھی کم نظر آرہی تھی لیکن یہ سمجھ چکا تھا ہے کسی لڑکے کا اسکیچ ہے حازم کو لگا شاید یہ تصویر اسی لڑکے کی ہو گئ جسے شرمینہ پسند کرتی تھی نا چاہتے ہوئے بھی حازم کے قدم اس بورڈ کی طرف بڑھنے لگے جب وہ بورڈ اس نے باہر نکالا تو حیران رہ گیا تھا وہ اسکیچ تو حازم کا ہی تھا ۔۔۔ نیچے لکھا تھا

” مائے لولی ہسبنڈ ” یہ پڑھ کر حازم کو ایک دھچکا سا لگا تھا ۔۔ پھر اس پر اٹھ ماہ پہلے کی تاریخ بھی ڈالی گئ تھی ۔۔۔ مطلب اٹھ ماہ پہلے شرمینہ کے لئے میں اہم تھا وہ مجھے شوہر کے طور پر تسلیم کرتی تھی ۔۔۔ تو پھر وہ شخص ۔۔۔؟ ذہن پھر سے الجھا تھا ۔۔۔ حازم نے اسکے بنائے سارے اسکچز دیکھنے لگا حازم کے بہت سے اسکچز اس نے بنائے تھے ۔۔۔ جب پر اس سے محبت کا اظہار بھی لکھا تھا ۔۔۔

” آئی مس یو

آئی لو یو حازم ” لیکن یہ بات میں آپ سے کبھی کہہ نہیں سکتی بیکوز آئی

ایم شائے ۔۔۔ “

جیسے جیسے وہ اپنے بنے ہوئے اسکچز پر شرمینہ کی تحاریر پڑھ رہا الجھتاجا رہاتھا پچھلے چھ ماہ پہلے کے ہر اسکیچ پر شرمینہ کی محبت اس کے لئے نظر آ رہی تھی بس یہ تھا کہ وہ بہت شرمیلی سی تھی اس سے بات کرنے میں اس سے اظہار کرنے سے شرماتی تھی ۔۔۔ لیکن اس کے دل میں حازم ہی تھا

” سمجھ نہیں آرہا مسلہ کیا تھا شرمینہ کے ساتھ جب وہ مجھے شوہر تسلیم کرتی تھی مجھ سے محبت بھی کرتی تھی تو پھر ۔۔۔ ؟؟ وہ سب کیا تھا ۔۔۔ ” افف “حازم اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ایک طرف وہ حازم سے محبت بھی کرتی تھی اور دوسری طرف شرمینہ کی باتیں

کہ میں سے شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔ مجھے پسند نہیں ہیں ۔۔۔۔ آپ مجھے چھوڑ دیں ۔میں آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔ اس کاحازم سے ڈرنا گھبرانا کترانا چھپنا ۔۔۔ حازم کا ذہن معاوف ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ وہ اس کے اسکیچز وہیں چھوڑ کر اس کمرے سے باہر نکل آیا شرمینہ کے بیڈ پر لیٹ گیا پھر یاد آنے لگا کہ جب وہ اٹلی سے آیا تھا توشرمینہ کے ہاتھ میں ایک ڈائری تھی جسے وہ حازم کو دیکھتے ہی اپنے پیچھے چھپانے لگی تھی ۔۔۔ شاید اسے ڈائری لکھنے کا شوق تھا شاید اسکی ڈائری سے کچھ مل سکے یہ سوچتے ہی حازم اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔

اس کے رائٹنگ ٹیبل کے پاس آگیا جہاں اسکے کورس کی کتابیں رکھیں تھیں انہیں کتابوں کے بیچ کئ رسالے بھی موجود تھے مگر وہ ڈائری نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ حازم کے ایک ایک کتاب سائیڈ پر رکھ کر دیکھ لی لیکن اسے ڈائری کہیں نہیں ملی پھر رائٹنگ ٹیبل کے دراز کو کھولا وہ ڈائری وہاں موجود تھی حازم نے ڈائری نکسل کر پڑھنا شروع کیا ۔۔۔

وہ محبت حازم سے ہی کرتی تھی ۔۔۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ کسی مہرو نامی لڑکی سے بھی حد درجہ محبت کرتی تھی اسکی ڈائری سے معلوم ہوا کہ جس مہرو کے اسکیچز اس نے بنائے ہیں وہ کوئی ڈائجسٹ رائٹر ہے۔ اس کے ناولز کاذکر شرمینہ نے اپنی ڈائری بہت ذیادہ کیا تھا ۔۔۔ پھر مہرو سے پہلی ملاقات کی کاہر سین ہر بات اس ڈائری پر درج تھی یہاں تک جس ریسٹورنٹ میں شرمینہ کی پہلی ملاقات مہرونساء سے ہوئی تھی اس وقت کون سا سونگ وہاں چل رہا تھا ۔۔۔

اسی طرح مہرو سے ہر ملاقات اور ہر بات وہ پڑھتا چلا گیا جس طرح سے اس لڑکی نے شوہر کو درندہ بنا کر شرمینہ کے سامنے پیش کیا تھا ۔۔۔ جس کی وجہ سے شرمینہ حازم کے نام سے بھی خوف کھانے لگی تھی ۔۔۔ ہر بات اس میں لکھی تھی ۔۔۔

پوری ڈائری اس نے ایک رات میں پڑھ لی تھی

شرمینہ کی زندگی میں کوئی لڑکا نہیں تھا بس ایک لڑکی تھی جس کی باتوں نے شرمینہ کو حازم سے اتنا خوفزدہ کر دیا تھا اور میاں بیوی کے تعلق کا ایسا گھنونا روپ اسکے سامنے پیش کیا تھا کہ شرمینہ جیسی لڑکی نے موت کو گلے لگانا آسان سمجھا تھا ۔۔۔۔ ڈائری بند کرتے ہی حازم کا غصے سے یہ حال تھا کہ یہ مہرو نامی لڑکی اس کے سامنے آ جائے تو وہ اسے جان سے ہی مار ڈالے ۔۔۔

اپنی تحریروں سے شرمینہ جیسی حساس لڑکی کو اس نے ذہنی اذیت میں مبتلہ کر دیا تھا ۔۔۔ لفظ نفرت شاید چھوٹا تھا جو حازم جو مہرونساء کے لئے محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ حازم نے وہ سارے رسالے لئے اور بیڈ پر رکھ کر بیٹھ گیا ان رسالوں میں سے اس نے صرف ۔مہرونساء کے ہی ناولز نکالے تھے جیسے جیسے وہ اسے پڑھتا گیا اسکی رگوں میں خون کی جگہ ایک آگ سی دوڑنے لگی تھی شوہر کے نام پر ایک مرد کو وحشی درندہ اور ہوس جنونیت کا شہکار دیکھایا گیا تھا جس کی بیوی کے طور پر لکھی گئ لڑکی شرمینہ جیسی معصوم بے ضرر سی لڑکی تھی جو اس کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی ہے ۔۔۔ ایسا ظلم جسے وہ محبت کے نام پر اپنے وجود پر سہتی ہے جو عام طور پر ایک لڑکی سہہ ہی نہیں سکتی ۔۔۔ جیسے جیسے وہیات سین لکھے گئے تھے اس کو پڑھنے والے یا تو شہوت کے نشے میں چور ہو سکتے تھے۔ یا شادی سے خوف کھا سکتے تھے ۔۔۔

اور۔ دونوں ہی باتیں کم عمر کم سن لڑکیوں کے لئے تو نقصان دہ ہی تھیں ۔۔۔ وہ ناول کوئی مرد اگر پڑھ کر انکا جیسا بننے کی کوشش کرے تو انسان سے وحشی درندہ بن جائے ۔۔۔

حازم سمجھ گیا تھا کہ اسکی زندگی کسی لڑکے نے نہیں بلکہ ایک لڑکی اور اسکے لکھے گئے ناولز نے تباہی و برباد کر دی تھی ۔۔۔۔

*****……

یسرا کے سامنے فاضل کھڑا تھا دونوں ہی ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے فاضل کے لئے یہ بات انوکھی سی تھی کہ یسرا جیسی سادہ سی لڑکی اور فلم انڈسٹری؟ یسرا فاضل کو دیکھ کر کچھ پر سکون ضرور ہوئی تھی کہ کہ کم از کم ہیرو کو پہلے سے کچھ جانتی ہے

” یسرا آپ ؟ اور یہاں ؟”

جی یسرا ۔۔۔ اور یہاں ” اسد نے یسرا کے گرد اپنا ہاتھ پھیلا کر اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے یسرا کا تعارف کروایا فاصل نے بڑے تعجب سے یسرا کو اسد کے پہلو سے لگادیکھا تھا وہ تو بڑی محتاط سی لڑکی تھی کبھی بلاوجہ قریب تک نہیں آتی تھی اور اسد کے کے اتنے قریب اور پھر فلم ؟؟؟ فلم میں تو ہوتا ہی بولڈ رومانس ہے ؟ یار کے بدلے لباس اور ہیر اسٹائلکے باوجود انکی چہرے کے تاثرات اور آنکھوں میں ناگوری سے لگ رہا تھا کہ وہ یہ سب خوشی سے نہیں کر رہی ۔۔۔

” چھا پے تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو تم دونوں کی آپس میں انڈرسنڈنگ ڈویلپ ہونا بہت ضروری ہے ۔۔ فاضل اب بھی تذبذب کا شکار ہی تھا ۔۔ یسرا سجیلہ یادوسری لڑکیوں جیسی ہر گز نہیں تھی ۔۔۔ جو ایسے بولڈ لباس یا سین کے لئے با آسانی تیار ہو جائے ۔۔۔ اسد کے وہاں سے جاتے ہی یسرا وہاں موجود صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔ فاضل کو بھی اسکے سامنے بیٹھنا پڑا ۔۔

” یسرا ۔۔ آپ اور فلم ؟؟؟میرے لئے یہ ناقابل یقین سی بات ہے “

” ہر انسان بہتر سے بہترین چاہتا ہے ۔۔ آپ کو میرے لئے ایسا کیوں لگ رہا ہے۔ یہ فلیڈ ہی ایسی ہے یہاں آنے سے پہلے عزت کی چادر کو باہر اتار کر ہی آنا پڑتا ۔ہے۔۔ عام سی بات ہے سب جانتے ہیں ” یسرااسں کے سامنے اپنی مجبوریاں اور بے بسی کارونا نہیں رونا چاہتی تھی ۔۔۔

” سب میں اور آپ میں فرق ہے یسرا ۔۔۔ بہر کم ڈرامہ انڈسڑی میں ایسی لڑکیاں ہیں جن دل میں دل سے عزت کرتا ہوں کیونکہ انکا کام گلیمر سے پاک ہوتا ہے ۔۔۔ آپ میں ان میں سے ایک تھی۔۔۔ اینی ہوئے شاید مجھے سمجھنے میں غلطی ہو گئ ۔۔۔

” یہ کہہ کر فاصل نے سامنے رکھی سکرپٹ کی فائل ہاتھوں میں پکڑی ۔۔۔

پہلاسین پڑھتے ہی ایک نظر یسرا پر ڈالی ۔۔۔

“ایک کلب ڈانسر ہیروئن ۔۔۔۔واؤ ۔۔۔ اسد بھی عجیب شخص ہے ۔۔۔ صرف بظاہر حسن کو دیکھتا ۔۔۔ ” فاضل نے وہ اسکرپٹ کی فائل دوبارہ ٹیبل پر پھنک دی

” مجھے توآپ اس کردار کے لئے کہیں سے فٹ نہیں لگ رہیں ۔۔۔ ” فاضل کی بات سن کر یسرا نے بابے بسی سے ایک نظر اس پر ڈال کر ہٹا لی ۔۔

” مجھے لگتا ہے کہ میں کر سکتی ہوں ” یسرا نے نظریں چراتے ہوئے کہا نا جانے کیوں فاضل کی بے ساختہ ہنسی چھوٹی تھی

” آپ جانتی ہیں کہ ایک کلب ڈانسر سگریٹ پیتی ہے ۔۔شراب پیتی ہے ۔۔ پرایک کی بانہوں کا ہار بنتی ہے اوررررر ۔۔۔۔ اور بھی بہت کچھ کرتی ہے جو کہ فلم میں دیکھایا جانا ہے ۔۔ اور آپ تو اصولوں پر کام کرنے کی قائل تھی مس یسرا ۔۔۔ اشتیاق صاحب کو بھی آپ نے صاف کہہ دیا تھا ۔۔” فاضل نا جانے کیوں اسکے ضبط کا امتحان لینے پر تلا ہوا تھا ۔۔

” میرے خیال سے آپ صرف اپنے کام پر ہی بات کریں تو ذیادہ بہتر ہو گا ” یسرا نے سخت اور دو ٹوک انداز پر فاضل سنبھل کر بیٹھ گیا ۔۔۔ یسرا کی بات پر لاپروائی سے کندھے آچکا گیا

ایک ہفتے بعد پہلا سین ہی ایک کلب کا شورٹ کرنا تھا ۔۔۔

یسرا سکرٹ پہنے متذبذب سی ہو رہی تھی ۔۔۔

ڈانس ریمپ پر ڈانس کاسین تھا ۔۔ جس میں اسے نشے کی حالت کو ظاہر کرنا تھا اسد نے شورٹ سے پہلے ایک اپیل جوس کا گلاس یسرا کی طرف بڑھایا

” بے بی پیو اسے ” یسرا نے اسد کے ہاتھ سے وہ گلاس لیا لیکن جیسے ہی اسے اپنے منہ کے پاس لیکر گئ اس جوس کی بو اسے کچھ نا گوار۔ سی لگی

” یہ کیا ہے “

” بیر “فاضل نے اپنے ہاتھ میں پکڑے گلاس سے ایک گھونٹ بھرتے ہوئے بولا ۔۔

بیرون کر ہی یسرا نے گلاس واپس ویٹر کے ہاتھ میں پکڑی ڈش پر رکھ دیا۔ فاضل نے اپنی ہنسی دبائی تھی۔ یسرا اندر سے اس قدر پریشان تھی کہ وہی جانتی تھی ۔۔

” یسرا ڈارلنگ یہ پی کر ہی تم وہ سین ٹھیک سے کر سکتی ہو اس لئے اسے پیو ” اسد نے اس بار ذرا سا لہجہ سخت کر کے یسرا سے کہا اور گلاس دوبارہ سے اس کے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔ ” ڈراپ شورٹ ریڈی کریں میں بنا پیے بھی یہ سین کر لوں گی ۔۔۔ ” یسرا نے پر یقین لہجے سے کہا

” تم نہیں کر پاؤں گی میں جانتا ہوں ” اسد کی بات پر فاضل نے تمسخرانہ انداز سے کہا اسد نے کندھے اچکاے ۔۔۔

” او کے ٹھیک ہے ۔۔۔ کرو ۔۔۔ لیکن اگر تم نے ٹھیک سے نہیں کیا تو میری بات ماننی پڑے گی ۔۔

یسرا کے لئے یہ بھی ایک آزمائش ہی تھی نا چاہتے ہوئے کسی کام کو کرنا بھی مشکل ہوتا ہے ۔۔۔

یسرا نے جلتا ہوا سگریٹ ہاتھ میں لیا اور پہلی ہی بار میں وہ سین بلکل ویسے ہی کیا جیسے سین کی ڈیمانڈ تھی ۔۔۔

اسد اور فاصل دونوں ہی حیران تھے

اگلا سین فاضل کا تھا جو کچھ بولڈ تھا لیکن جیسے فاصل اپناسین کرنے کے لئے اگلے بڑھا اور یسرا کے قابل اعتراض حد تک قریب ہوا بے اختیار ہی یسرا اسے پیچھے دھکیل چکی تھی ۔۔ وہ بری طرح سے گرتی ہوئے بچا تھا ۔۔۔

” اسٹوپٹ ناؤ ہاؤ ڈیر یو ” غصے سے وہ چلااٹھی تھی اسد غصے سے یسرا کی طرف بڑھا تھا کٹ

کی آواز سے سین کو ختم کیا اور سختی سے ہسراکا بازو پکڑا

” یہ کیا بد تمیزی ہے ۔۔ ہاں ۔۔۔ کیوں دھکا دیا ہے تم نے فاضل کو ” وہ اتنے غصے میں تھا کہ یسرا چپ سی ہو گئ ۔۔۔ بے بسی کی آخری حد کہ وہ چپ تھی اس کے پیسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی ۔۔۔

” وہ میرے ساتھ گھٹیا “”

” او شٹ اپ یو بچ ۔۔۔ ہو کیا تم کس بات کی اکڑ ہے تمہیں کیا ہو تم ۔۔۔ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ کہاں کھڑی ہو ۔۔۔ یہاں کیا کام کرنے آئی ہو ننھی سی بچی ہو تم جو تم ہر بات سے انجان ہو ۔۔۔ کوئی ساوکار ہو کیا ہو ” اسد اتنی زور سے چلایا کہ وہاں موجود سب لوگوں کی نظریں اسد اور یسرا پر ہی تھیں یسرا کی بات اسد نے اپنے سخت اور بلند لہجے سے بی۔ میں ہی روک دی تھی

” پانی کی طرح تم پر پیسہ بہایا ہے میں نے یسرا مجھے اپنی فلم ہر حالت میں ہٹ چاہیے ۔۔۔ یہ شرما شرمی کا کھیل خود سے ختم کر دو ورنہ ہمارا طریقہ بہت برا ہوتا ہے ۔۔۔ ” وہ غرا کر اپنی سرخ آنکھیں اسکی آنکھوں میں ڈالے اس کے ہوش ہی تو اڑا رہا تھا ۔۔۔ اسکے پیسوں کے احسان تلے وہ اس قدر دب چکی تھی کہ چپ تھی زبان ہونے کے باوجود بے زبان تھی وہ نظریں جھکائے کسی مجرم کی طرح کھڑی تھی ۔۔۔

اتنا آسان نہیں ہوتا کسی غیر کے ساتھ پچاس لوگوں کے درمیان بولڈ سین کو شورٹ کرنا ۔۔۔

” اب مجھے کوئی ڈرامہ نہیں چاہیے ۔۔۔ سمجھی ۔۔۔ ” یسرا کو بری طرح سے ڈانٹنے کے بعد وہ فاصل کے پاس آیا جو اس وقت خاموش تماشائی بنا کھڑا تھا

” ایم سوری فاضل ۔۔۔ بس یہ دو ٹکے کی لڑکیاں شروع شروع میں ایسی ہی حرکتیں کرتی ہیں ۔۔۔ اگر اب اس نے ایسی کوئی بھی حرکت کی تو میں اسے اسکی اصل اوقات یاد دلا دوں گا ۔۔۔ ” اسد کاغصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔

” نہیں آج رہنے دو ۔۔۔ جو ماحول یہاں بن چکا ہے اس وقت یہاں ایک رومنٹک سین نہیں پائے گا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر فاضل وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ اسد غصے سے یسرا کو دیکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا وہ ایک کرسی پر بیٹھی پر اپنا چہرہ چھپائے رونے لگی شارٹ کٹ میں پیسہ کمانے کا اس سے گھٹیا طریقہ شاید کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔ کھلے مسکراتے ہنستے ٹی وی اور فلم میں نظر آ ے والے چہرے ۔۔۔ اپنے اندر کئ خون سے لکھی داستانیں بھی رکھتے ہیں جو دیکھنے والی آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہیں کچھ کو سجیلہ کی طرح شہرت کا نشہ سب کچھ کرنے پر اکساتا ہے اور کچھ یسرا کی طرح مجبوری کے ہاتھوں ڈاریکٹرز کے ہاتھوں کا کھلونا بن جاتی ہیں