186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 5

Meri Jaan by Umme Hani

زکی اشتیاق صاحب کے ساتھ انکے سٹ پر چلا گیا ۔۔۔ وہ ایک رومنٹک سین شوٹ کروا رہے تھے ۔۔۔۔

زکی خاموشی سے کرسی پر بیٹھے دونوں مشہور ایکٹرز کو وہ سین کرتے دیکھ رہا تھا جہاں لڑکی اپنے ماں باپ کی عزت کی خاطر لڑکے سے ہر ناطہ توڑنے آئی تھی ۔۔۔ اور وہ لڑکا اپنی محبت سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر اپنے اپنے مکالمات بول رہے تھے ۔۔۔ نا جانے کیوں زکی کو سب کچھ عارضی اور ڈرامائی سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ نا لڑکی کی آنکھوں وہ درد تھا جو محبوب کے بچھڑ جانے کا ہوتا ہے نا لڑکے چہرے پر وہ کرب کے آثار ۔۔۔۔ بس جعلی آنسوں بے وزن سے جمعلے ۔۔۔۔ فل میک میں پورے فیشن کے ساتھ وہ لڑکی صرف مکالمات پر زور دے رہی تھی ۔۔۔ زکی اپنے مزاج کے ہاتھوں مجبور تھا

سین ختم ہوتے ہی اشتیاق صاحب نے ول ڈن کہہ کر گویا دونوں اداکاروں کی فضول سی ایکٹنگ کو داد دی تھی لیکن زکی کھڑا ہو گیا ۔۔۔ دونوں کے پاس جا کر بولا

” اسے آپ لوگ ایکٹنگ کہتے ہیں ؟ ۔۔۔۔ یہ ہوتی ہے ایکٹنگ ۔۔۔۔ ؟ ” وہ دونوں نا فہمی سے زکی کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔

” مطلب کیا ہے آپ کا ” وہ لڑکی شاید کچھ زیادہ ہی مشہور اداکارہ تھی اس لئے غرور کے زعم میں بولی

” سیدھا سا مطلب ہے بی بی ۔۔۔۔ جو لڑکی ماں باپ کی عزت کی خاطر محبت کو قربان کرنے آئی ہو وہ اس حلیے میں ہر گز نہیں ہوتی ۔۔۔ نا گلے میں اپنی عزت کی چادر نا چہرے پر غم و ملال کے تاثرات نا ہی ماں باپ کی عزت پر کوئی جاندار الفاظ آنکھوں میں جعلی آنسوں لئے چہرے پر لال لپ سٹک لگائے آپ کہاں سے غم زدہ لگ رہیں ہیں ” زکی نے بنا لگی لپٹی اس لڑکی کو اسپاٹ لہجے میں کہا تھا اس سے پہلے کہ وہ لڑکی آپے سے باہر ہوتی اشتیاق صاحب زکی کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔

” تمہیں میں اس لئے یہاں نہیں لایا کہ تم میرا بھی کام ستیاناس کر دو ۔۔۔۔۔”

” بابا آپ اسے پرفومس کہتے ہیں ؟ ۔۔۔۔ یہ ہوتی ہے پرفومس ؟ ” زکی نے تاسف سے باپ کو دیکھا تھا

” کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔ جانتے بھی ہو کتنی مشہور ایکٹر ہے سجیلہ عمران ۔۔۔” اشتیاق صاحب نے یہ کہہ کر گویا ڈرامے کی ہیروئن کو ساتویں آسمان پر بیٹھایا تھا

” ایکٹریس ؟” زکی نے تعجب کا اظہار کیا پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا

“اداکاری کس چڑیا کا نام ہے یہ محترمہ اس لفظ سے بھی واقف نہیں ہیں ” زکی کی صاف گوئی پر وہ لڑکی آگ بگولہ سی ہونے لگی

” اوہ رئیلی ۔۔۔۔ ” سجیلہ تن کر بولی

” تو اب آپ مجھے سیکھائیں گئے کہ اداکارہ کیا ہوتی ہے ؟ سجیلہ نے بڑے گھمنڈ سے پوچھا ۔۔۔ زکی اسے فہمائشی نظروں سے دیکھنے لگا

” جی ہاں اگر یہ سین میں آپ سے پیکچرائز کرواتا تو آپ کو بتاتا کہ یہ سین کیا کیسے جاتا ہے ۔۔۔۔ اداکاری لکھاری کے لکھے ہوئے جذبات میں خود کو رنگ دینے کا نام ہے ۔۔۔۔۔ آپ کاحلیہ آپ کے ڈائیلاگز کی عکاسی نہیں کرتا ۔۔۔ کسی کے بچھڑ جانے کا غم یوں تیار شیار ہو کر نہیں منایا جاتا ۔۔۔۔ صرف آنکھوں میں گلیسرین بھر کر پانی ٹپکانے سے آپکی اداکاری مکمل نہیں ہو جاتی ۔۔۔۔۔ ” زکی کی بات پر وہ لڑکا جو ہیرو کی اداکارہ کر رہا تھا وہ اشتیاق صاحب سے بڑے غصے سے مخاطب ہوا

” دیکھیں اشتیاق صاحب ہمارے پاس کام کی کمی نہیں ہے ہر روز کوئی نا کوئی ڈاریکٹر کے سیکرٹری ہمارے گھر کے ویٹنگ روم ہماری ایک ہاں منتظر ہوتے ہیں ۔۔۔ عوام ہمارے پیچھے پاگل ہے ۔۔۔ اور یہ ہمہیں اداکاری کا مفہوم بتا رہے ہیں ۔۔۔۔ ” اشتیاق صاحب بوکھلا کر رہ گئے تھے کہ کہیں زکی کی وجہ سے ہیرو ہیروئن ہی کام چھوڑ کر بھاگ ہی نا جائیں ۔۔۔۔

” تم جاؤں یہاں سے زکی تمہیں میں گھر جا کر پوچھوں گا ” انہوں نے آنکھیں دیکھاتے ہوئے زکی کو کہا پھر ہیرو سے معذرت کرنے لگے

” ابھی نیا نیا اس لائن میں آیا ہے کچھ جذباتی ہے ۔۔۔ آپ مائنڈ مت کریں ۔۔۔ ” ہیرو کاغصہ ابھی بھی عروج پر تھا لیکن سجیلہ زکی کو وہاں سے جاتے دیکھ بول پڑی

” اشتیاق صاحب آپ اپنے بیٹے سے کہیں یہ سین فاضل(ہیرو کا نام ) کی جگہ وہ کر کے دیکھائے ۔۔۔۔ اسے بھی تو پتہ چلے ایکٹنگ کہتے کسے ہیں ۔۔۔ عیب نکالنا تو بہت آسان سا کام ہے ” سجیلہ کو لگا کہ وہ جب خود کرے گا تبھی اسے پتہ چلے گا سجیلہ کے برابر کھڑا فاضل سجیلہ کو فہماشی نظروں سے دیکھنے لگا سجیلہ نے دھیرے سے اس سے کہا

” ابھی دیکھنا کیسے چھکے چھوٹتے ہیں اس کے ۔۔۔ بہت بولنا آتا ہے اسے ۔۔۔ جب بار بار بیک اپ کرنا پڑے گا دس بار وہی ڈائیلاگز بولنے پڑیں گئے تو ہوش ٹھکانے آ جائیں گئے موصوف کے ” سجیلہ کی بات پر فاضل مسکرایا تھا اسکی بات سمجھ گیا تھا

۔۔۔ زکی کے بڑھتے ہوئے قدم سجیلہ کی بات سن کر وہیں رکے تھے اس نے پلٹ کر اسے دیکھا ۔۔۔ پھر سجیلہ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔

” ٹھیک ہے میں آپ کے ساتھ یہ سین کرنے کو تیار ہوں لیکن پہلے جا کر منہ دھو کر آئیں ڈوپٹہ سر پر اوڑھے کیونکہ آپ سین کے مطابق ماں باپ کی عزت کی خاطر محبت کو چھوڑنے آئی ہیں ۔۔۔ اسلئے کہ عورت اگر عزت کی بات کرتے ہوئے عزت کو سر پر اوڑھ کر کرے تو عزتدار لگتی ہے “

سجیلہ کو برا تو بہت لگا لیکن وہ منہ دھو کر آ گئ ایک ڈوپٹہ بھی سر کو اوڑھ لیا ۔۔۔ اب وہ زکی کے دو با رو کھڑی تھی ۔۔۔۔ اس پہلے کے اپنے مکالمے دوہراتی زکی نے اسے کہا

” پانچ منٹ آنکھیں بند کر کے یہ سوچیں کہ آپ ایک مشہور ایکٹر سجیلہ نہیں بلکہ زوباریہ ہیں ایک ایسی لڑکی جو آج تک ماں باپ کی فرمابردار رہی ہے ۔۔ جس نے ہمیشہ ماں باپ کے سامنے سر جھکایا ہے اور اب بھی اپنی محبت کو وہ باپ کی کی عزت کی خاطر قربان کرنے جا رہی ہے ۔۔۔۔ سجیلہ کو اپنی اداکاری پر پورا اعتماد تھا ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی اپنی آنکھیں بند کہ لیکن سوچا کچھ نہیں پھر جب آنکھیں کھولیں تو سامنے زکی اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

” میں تم سے محبت نہیں کرتی تم نے میرے لئے ایسا کچھ سوچا ہے تو وہ تمہاری غلط فہمی ہے ۔۔۔۔ ” سجیلہ نے زکی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

” جھوٹ بول رہی ہو تم مجھ سے زوبی ۔۔۔۔ ” سجیلہ نظریں چرا کر بولی

” ۔۔۔۔ ابو نے میری شادی راہب سے کرنا چاہتے ہیں مجھے یہ رشتہ دل سے قبول ہے ۔۔۔۔ وہ چچا کو زبان دے چکے ہیں میں انکار نہیں کر سکتی واصف ” زکی نے دو قدم اسکی طرف بڑھائے اور کہنے لگا

” اور میں زوبی۔۔؟ میری محبت ۔۔۔۔؟ “

” ۔۔۔ ۔میں نے کب تم سے کہا تھا کہ میں تم سے محبت کرتی ہوں میں نے کبھی سے اظہار نہیں کیا ” سجیلہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے سے کترا رہی تھی نا جانے اس وقت اسے لگ رہا تھا یہاں کچھ بھی ڈرامہ نہیں ہو رہا جو ہو رہا ہے سچ میں ہو رہا وجہ زکی آنکھیں تھیں ۔۔۔ جن میں اس وقت اپنی چاہ نظر آ رہی تھی ۔۔۔

” تمہیں لگتا ہے کہ ۔مجھے اظہار کی ضرورت ہے ؟ کیا میری محبت تمہارے لفظوں کی محتاج ہے ؟ نہیں زوبی ۔۔۔۔ تمہاری آنکھیں مجھ سے کہتی ہیں واصف مجھے تمہیں دیکھنے کی چاہ ہے ۔۔۔۔ تمہارے ہر انداز نے مجھے یہی بتایا ہے کہ تم مجھ سے محبت کرتی پھر انکار کیوں ؟ ۔۔۔ تم مجھ سے سچ کہہ دو میں سچ سننے یہاں آیا ہوں ” سجیلہ نے مسلسل نظریں چرا رہی تھی

” میں ۔۔۔ ابو کی نا فرمانی نہیں کر سکتی ۔۔۔ ہاں تمہیں چھوڑ سکتی ہوں ” یہ کہتے ہوئے اس کے سر سے دوپٹہ کھسک کر سر سے اتر گیا تھا ۔۔۔۔

” بس اور کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں تمہیں ۔۔۔ تمہاری عزت میری محبت سے بہت بڑھ کر ہے سمجھو کے تمہاری زندگی میں کبھی کوئی واصف آیا ہی نہیں تھا میں سمجھوں گا میری زندگی میں تم کبھی نہیں آئی ” یہ کہہ کر زکی نے وہ ڈوپٹہ اس کے سر دیا پھر بولا

” تم اپنے والد کی عزت کی چادر اوڑھ کر یہاں چلی جاؤں جہاں وہ چاہتے ہیں اسے اپنا لو اور تمام عمر مجھے کبھی پلٹ کر بھی مت دیکھنا سمجھ لینا کہ میں مر چکا ہوں۔۔۔ واصف دنیا میں ہے ہی نہیں کبھی راہ چلے تمہیں نظر آ بھی جاؤ تو نظریں چرا کر چلی جانا مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ۔۔۔۔ عزت کا جنازہ نکالنے سے بہتر ہے زوبی کہ محبت پر فاتحہ پڑھ لی جائے ۔۔۔۔ جاؤں زوبی ۔۔۔ چلی جاؤں ” جس درد سے وہ کہہ رہا تھاسجیلہ کو لگاسچ میں وہ کسی محبوب سے جدا ہو رہی ہے زکی کے چہرے کے تاثرات آنکھوں میں نمی اور خود پر ضبط شکی کے چہرے پر وہ تاثر موجود تھا جو اس سین میں ہیرو کے لئے ڈیمانڈ تھی ۔۔۔ سجیلہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی چند ثانیے کے لئے اسے لگا کہ سچ میں وہ اپنی محبت کی قربانی دینے جا رہی ہے ۔۔۔ پورے سیٹ پر خاموشی تھی ہر نفوس اسی سین میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔ ٹپ ٹپ کب سجیلہ کے آنسوں بنا گلیسرین کے بہے وہ سمجھ نہیں پائی تھی تالی کی گونج سے وہ ہوش میں آئی تھی جلدی سے زکی کہ آنکھوں سے نظریں ہٹائیں تھیں ۔۔۔ وہاں موجود سب کی تالیوں کی گونج بتا رہی تھی کہ ایک ہی بار سین کرنے پر وہ سجیلہ کے چھکے اڑا چکا ہے ۔۔۔ فاضل نے زکی کو داد دی تھی ۔۔۔

“کمال کر دیا تم نے تو ۔۔۔دیکھ کر لگ رہا تھا کہ سچ میں سجیلہ کے عاشق ہو ۔۔۔۔ “

” بس یہی بات آپ کو بھی سمجھنا چاہتا تھا کہ کردار میں کھو کر اس میں ڈوب کر اپنا اصل بھولا کر آپ سین کریں گئے تو سامعین کے دل کے تار ضرور بجنے لگیں گئے ۔۔۔۔ ” زکی سے پہلی بار اشتیاق صاحب بھی خوش ہوئے تھے ۔۔۔ سجیلہ خود پر حیران تھی وہ رونے کیوں لگی تھی ۔۔۔ ایک سین ہی تو تھا کئ بار کئ ڈارموں میں وہ یہ سب کچھ کرتی آ رہی تھی لیکن آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ وہ بنا ڈروپ ڈالے خود سے روئی ہو ۔۔۔۔ دل کے تار کسی اور کے بجے ہوں یا نہیں لیکن سجیلہ کے ضرور بج اٹھے تھے ۔۔۔۔ سجیلہ کی بولتی بند تھی فاضل کی بھی زکی کے لئے سوچ بدلی تھی فاضل نے زکی کو سین کے متعلق دہراتے ہوئے کہا

” اس سین میں لڑکے کو لڑکی کے بازو پکڑ کر ڈائیلاگز بولنے تھے اسے اپنے قریب کر کے یہ سب کہنا تھا جو تم نے کہا ۔۔۔ تاکہ ریئلٹی ٹچ لگے ۔۔۔ لیکن تم نے تو بنا چھوئے ہی اپنے جذبات کا جیسے اظہار کیا ہے میں تو کچھ پل تو میں اسی سین میں کھو گیا تھا ۔۔ تم ایکٹنگ کی لائن میں کیوں نہیں آ جاتے خوش شکل کو اسمارٹ ہو ۔۔۔ اگر ٹرائے کرو تو کمال ہی کر دو گئے ” فاضل نے دوستانہ مشورہ دیا تھا گویااشتیاق صاحب کی دل کی بات کہہ دی تھی

” نہیں مجھے ادکار نہیں بننا ۔۔۔ مجھے اپنی ہی لائن میں آگے بڑھنا ہے ۔۔۔۔ یہ کہہ اس نے فاضل سے کہا

” اب یہ سین تم کرو ” پھر وہی سین اس لڑکے نے بھی کیا تھا پہلے سے بہت حد تک وہ ویسا ہی کر رہا تھا جیسا زکی نے کیا تھا سجیلہ ابھی بھی اسی ٹرانس میں تھی ہیرو کی آنکھوں میں زکی کی آنکھیں نظر آ رہیں تھیں ۔۔۔۔ سین پہلی باری میں پرفیکٹ ہوا تھا ۔۔۔۔ اشتیاق صاحب پر بیٹے کی یہ صلاحیت پہلی بار کھلی تھی ۔۔۔۔

********…………

حازم کی بات سن کر شرمینہ آنکھیں چھپکنا بھول گئ تھی

” ۔۔۔۔ دو دن ۔۔۔۔ رخصتی ۔۔۔ نہیں ۔۔ وہ یک دم ہی کھڑی ہو گئ ۔۔۔ کمرے سے باہر نکلنے لگی لیکن حازم اس کا بازو پکڑ چکا تھا

” یہ سب کرتے ہوئے ایک بار تم نے یہ نہیں سوچا کہ میرے نکاح میں تھی تم ۔۔۔ ” حازم نے تاسف سے شرمینہ سے کہا

” میری مرضی نہیں تھی حازم ۔۔۔ نا میری عمر نکاح کی تھی مجھے آپ کبھی اچھے لگے ہی نہیں تھے ۔۔۔۔ “

” شٹ اپ شرمینہ ۔۔۔۔ ” حازم کا ضبط ختم ہوا تھا ۔۔۔ اسے بازو سے پکڑے وہ کمرے سے باہر لے گیا حازم کی سخت گرفت شرمینہ کے بازو کو تکلیف دے رہی تھی ۔۔۔۔ باہر گاڑی تک لے جا کر حازم نے اس کا بازو چھوڑا تھا پھر غصے سے گاڑی میں بیٹھ گیا شرمینہ بھی دوسری جانب کا دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔۔ حازم نے اسکی طرف ایک نظر بھی دوبارہ نہیں ڈالی تھی ۔۔۔ گاڑی بھی بہت رف ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔ وہ اب بھی رو رہی تھی ۔۔۔۔ گاڑی بنگلے کے اندر رکی تو وہ باہر نکل کر تیزی سے اندر گئ حازم جانتا تھا کہ وہ سیدھا اپنے کمرے میں گئ ہو گی ۔۔۔۔ وہ سیدھا رفعت بیگم کے پاس آیا تھا بہت غصے میں تھا ۔۔۔ساری بات حازم نے انہیں بتا دی

رفعت بیگم خود پریشان تھیں شرمینہ کی جھجک کو ہمیشہ شرم ہی سمجھتی رہی۔ کبھی ذہن یہ نہیں آیا کہ وہ یہ قدم بھی اٹھا سکتی ہے ۔۔۔ آنسوں حازم کی آنکھوں میں جھلملا رہے تھے ۔۔۔۔ جو کچھ بھی ہوا تھا حازم کے لئے نا قابل برداشت تھا ۔۔۔۔ رفعت بیگم اپنے آنسوں اندر ہی کہیں گرا رہیں تھیں حازم کو اس قدر رنجیدہ اور غصے میں دیکھ کر دھیمے لہجے میں بولی۔

” نا سمجھ ہے وہ ۔۔۔۔ اپنا اچھا برا نہیں سمجھتی میں سمجھاؤں گی اسے۔۔۔۔ تم فکر مت کرو

میں سمجھاو گی اسے ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔ تھوڑا وقت دو اسے حازم “

” نہیں پھپو ہر گز بھی نہیں ۔۔۔۔۔ وقت دینے نتجہ دیکھ چکا ہوں میں ۔۔۔۔ میں ڈیڈ اور موم کو آج ہی بلا لوں گا ۔۔۔ مجھے بس دو دن رخصتی چاہیے ۔۔۔۔ یہاں سے بہت دور لے جاؤں گا اسے وہ دور جائے گی تبھی ٹھیک ہو گئ ۔۔۔۔ ” حازم کو بس یہی ایک حل نظر آ رہا تھا وہ اسے یہاں سے دور لے وہاں جہاں شرمینہ کے سامنے صرف وہی ہو ۔۔۔۔۔ رفعت بیگم چپ تھیں ۔۔۔۔۔ دوپہر کو شرمینہ کے کمرے میں آئیں وہ رو رو کے آنکھیں سجائے بیٹھی تھی ماں کو دیکھ کر بیڈ سے اٹھ کر انکے گلے لگ کر رونے لگی

” مما مجھے ۔۔۔۔۔ مجھے حازم سے شادی نہیں۔۔۔۔۔ ” بات یہیں تک پہنچی تھی جب رفعت بیگم نے اسے خاموش کروا دیا

” آگے ایک لفظ مت کہنا شرمینہ ۔۔۔۔ دو دن بعد تمہاری حازم کے ساتھ رخصتی ہے ۔۔۔۔ تیار ہو کر نیچے آؤں ہم بازار جا رہے ہیں تمہارے لئے شاپنگ کرنی ہے ۔۔۔۔ ” رفعت بیگم نے نا نرمی دیکھائی تھی نا ہی اسے ذرا سی ڈھیل دیکھائی تھی ۔۔۔۔ حازم کا فیصلہ بہتر لگا تھا وہ کم عمر تھی یہاں نا جانے کس کے بہکاوے میں آ گئ تھی اٹلی میں جائے گی حازم کے ساتھ رہے گی تو خود ہی سب بھول جائے گی ۔۔۔ شوہر کی محبت ہر محبت ہر سبقت کے جاتی ہے ۔۔۔۔

” مما مجھے نہیں جانا انکے ساتھ کہیں بھی ۔۔۔ آپ سمجھتی کیوں نہیں ہیں ” شرمینہ مرجھا سی گئ تھی رنگ بلکل پھیکا سا پڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔

” کیا سمجھوں میں شرمینہ تم نے تو مجھے حازم کی سامنے شرمندہ کر کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ اسکے سامنے نظریں ملانے کے قابل نہیں۔ چھوڑا ۔۔۔۔ شکت کرو کے عزت رخصت کروا کر کے کر جا رہا ہے ۔۔ ورنہ جو حرکت تم نے کی ہے تمہارے دادا جیسا ہوتا تو اس وقت تمہیں کاٹ کر پھنک چکا ہوتا ۔۔۔ ” رفعت بیگم دانت بینچ کر غصہ دباتے ہوئے اپنی روتی ہوئی احمق بیٹی سے کہہ رہیں تھیں ۔۔۔۔

شرمینہ آگے سے کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔ کیونکہ جانتی تھی کہ اس کی سنوائی نہیں ہو گی ۔۔۔۔

*******…….

مہرو بیواقوف اور جذباتی نہیں تھی ۔۔۔۔ فواد کی بات سن پر پریشان ضرور ہوئی تھی لیکن عین عقل مندی کا تقاضہ تھا کہ چپ سادھ لے۔۔۔۔ فواد اسے کس قدر چاہتا تھا اسکی باتیں اس کا انداز مہرو کو بتا چکا تھا شادی کے بعد فواد سے اپنی بات کیسے منوانی ہے یہ وہ اچھی طرح جانتی تھی ۔۔۔۔

اس لئے فواد کی اس بات کو اس نے اتنی وسعت نہیں دی تھی ۔۔۔۔ دوسری جانب اسکے ناول ۔” میری جان ” کا پہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ بک چکا تھا ۔۔۔۔

تین ماہ کاعرصہ بھی گزر چکا تھا ۔۔۔۔ مہرو۔ کی شادی ایک ماہ تک ہونے والی تھی جب وہ شہبار صاحب کے بہت اصرار پر وہ انکے بک فسٹیول میں گئ تھی جہاں اسکے ناول کے دیوانوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔

” بہت بڑی غلطی کر رہی ہو مہرو لکھنے کارادہ ترک کر کے دو سال کی تمہاری محنت دیکھوں تو کسی رنگ لانے لگی ہے اور اب جب لوگ تمہیں جاننے پہچاننے لگیں ہیں تو تم نے لکھنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔۔۔۔ ” شیشے کے باہر بھیڑ بڑھ رہی تھی سب دروازے کے کھلنے کے منتظر کھڑے تھے ۔۔۔۔

” شادی کی تیاریوں میں۔ لکل فرصت نہیں ہے کہ کچھ لکھ سکوں اور شادی کے بعد فواد کے ہنہ مون کے لمبے ہی پلان ہیں ۔۔۔ چھ ماہ بعد بعد لکھوں گی

اور ایسا لکھوں گی کہ لوگ مدتوں بھول نہیں پائیں گئے ۔۔۔۔ وہ غرور گھمنڈ ۔۔۔۔ شہرت کا نشہ مہرو کی آنکھوں کو مخمور کر رہا تھا

“رش دیکھ رہی ہوں اپنے پرستاروں کا ۔۔۔ تمہارے نئے ناول کے منتظر ہیں آج پتہ چلا کہ تم اپنا ناول “میری جان ” کی پبلش کے لئے آ رہی ہو ۔۔۔ سب یہاں پہنچ گئے ہیں ” شہباز صاحب نے بہت اصرار پر مہرو کو اپنے ناول کی پبلش کے لئے اپنے بک فسٹول میں بلایا تھا ۔۔۔۔ لوگوں کا ہجوم سا لگ گیا تھا ۔۔۔ سب کی فیورٹ رائٹر تھی ۔۔ رومانوی ناول کے شیاقین اسکے دلدادہ اور اس کے پرستار اسکی کم عمری اور خوبصورتی سے بھی متاثر تھے اور اسکی تحریر کے تو جیسے دیوانے تھے ۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی

” ہاں یہ سب انکی محبت ہی تو ہے ۔۔ ” کھلے لمبے بالوں کو جھٹکا دے کر مہرو نے پیچھے کیا تھا

بڑی مغرورانہ چال سے چلتے ہوئے وہ شیشے کا ڈور کھول کر باہر جانے لگی تھی لیکن لڑکے لڑکیوں کے ہجوم کی ایک ہی فرمائش تھی

” مہرو جی آٹو گراف پلیز ” ہاتھ میں مختلف قسم کی آٹو گراف بکس پکڑے اسکی طرف بڑھے تھے شہباز صاحب بھی وہاں پہنچ گئے تھے ۔۔۔

” پلیز پیچھے ہٹ کر بات کریں ون بائے ون آئیں تو سب کو موقع ملے گا ” شہباز صاحب نے کہا مگر لوگ سنتے ہی کب ہیں کسی کی مہرو کے پاس پین موجود نہیں تھا

” پین پلیز ” لوگوں کی بھیڑ سے مہرو نے پین مانگا تھا ۔۔۔ ایک ہی پین کسی نے اسکے سامنے کیا تھا ۔۔۔ بے دھیانی سے مہرو نے پین پکڑا اور تیزی سے بس اپنا سائن ہی آٹو گراف بکس پر کرنے لگی ۔۔۔ جب ایک مردانہ ہتھیلی اس کے سامنے کسی نے کی تھی اس نے بنا دیکھے مدافعانہ انداز بسے ہاتھ پرے کیا تھا

” نو پلیز نو ہینڈ۔۔۔ اونلی آٹو گراف بک” مہرو نے جب دوسری بار بھی وہی ہتھیلی کو اپنے سامنے دیکھا تو پیچھے جھٹک کر کہا لیکن کسی نے بہت زور سے اسکی کلائی پکڑی تھی مہرو نے اب اس شخص کی طرف دیکھا تھا سرخ آنکھوں میں صرف وحشت ہی وحشت تھی ۔۔ بکھرے بال بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ وہ شخص بڑے غصے سے اسکی کلائی پکڑی اسے قہر بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ مہرو کے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑی تھی ۔۔۔۔

” میرا پین ہے یہ ” غصے سے یہ کہہ کر اس نے مہرو کے ہاتھ سے پین چھینا اور اس بھیڑ سے باہر نکل گیا ۔۔۔ چند لمحے وہ فریز سی ہو کر رہ گئ تھی ۔۔۔

پہلی بار کسی شخص سے خوف سا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ دوسرا پین شہباز نے مہرو کی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا ۔۔۔۔ مہرو اپنے ٹرانس سے باہر آئی تھی ۔۔۔۔۔ پین ان سے پکڑ کر آٹو گراف دینے لگی ۔۔۔۔

*******……..

زکی نے اپنے والد کی اس بےشرط انکے ساتھ کام کرنا شروع کیا تھا کہ اگر وہ چھ ماہ انکے ساتھ کام کرے گا وہ اسے اسکے کام میں سپورٹ ضرور کریں گئے جو سین وہ اپنی موجودگی ۔ہں پیکچرائز کرواتا تھا اس پر جی جان لگا دیتا تھا یہی نتجہ نکلا اس بار اس کے والد کو بیسٹ ڈاریکٹر کا ایورڈ ملا تھا ۔۔۔ سجیلہ کو۔ بھی اس ڈرامے پر بسٹ ایکٹریس کے ایوارڈ سے نوازہ گیا تھا ۔۔۔۔ پہلی بار اسے یواڈر ملا تھا اس لئے وہ بے حد خوش تھی

کو سین اسے زکی نے کروایا تھاوہ لوگوں کے لئے یاد گار بن گیا تھا اماں نے اسکی اداکارہ کو سراہا تھا۔۔۔۔ زکی کے لئے سجیلہ کے جذبات بدلنے لگے تھے۔۔۔۔ وہ اسے پسند کرنے لگی تھی ۔۔۔۔ پہلی بار سجیلہ نے زکی کو ڈنر پر بہت اصرار کر کے بلایا تھا کہنے لگی وہ اپنی اتنی بڑی کامیابی سلیبریٹ کرنا چاہتی ہے زکی نے پہلے تو بہت انکار کیا لیکن اشتیاق صاحب کا اگلا ڈرامہ بھی اسی نے سائن کیا تھا ۔۔۔ اور اشتیاق صاحب نے زکی سے خاص طور پر کہا تھا کہ وہ سجیلہ سے اپنارویہ اچھا رکھے ۔۔۔ اس ڈرامے کی کامیابی بعد زکی کو آذادی مل جائے گی پھر وہ اسے اسکے کام کے لئے روکیں گئے نہیں

اور اسے پیسوں کی بھی سپورٹ کریں گئے ۔۔۔۔زکی اسکے منتخب کیے ہوئے رستوران میں وقت مقررہ پہنچ گیا ۔۔۔ اسے لگا سجیلہ نے اپنے سب دوستوں اور احباب کو دعوت دی ہو گئ لیکن وہاں سجیلہ کے علاؤہ اور کوئی نہیں تھا ایک ٹیبل ان کے لئے بک تھا ۔۔۔۔ وہ بلیک پینٹ کوٹ پہنے ایک فلاور بکے لئے وہاں پہنچا تھااور اتفاق ایسا تھا کہ سجیلہ نے بھی بلیک ساڑھی ہی پہنی تھی ۔۔۔ بلکل انڈین اسٹائل کی ۔۔۔۔ زکی نے نظریں جھکا لیں اسے لگا شاید وہ کچھ جلدی پہنچ گیا ہے باقی کے مہمان کچھ دیر میں پہنچے گئے سجیلہ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اس تک پہنچی تھی سجیلہ کی کوشش یہی تھی کہ اس سے گلے۔ مل کر ویلکم کرے لیکن زکی نے اس کی بڑھتی ہوئی۔ بانہیں دیکھ کر شاہد اس کاارادہ بھانپ لیا تھا اس لئے فلاور بکے اسے تھما دیا ۔۔۔ اور مسکرا کر اسے مبارک باد دےکر آگے بڑھ گیا سجیلہ اسے دیکھتی ہی رہ گئ تھی اسی بے مروتی بھلا ایک لڑکی کو کون دیکھاتا ہے ۔۔۔ کب کے وہ خود بانہیں پھلائے کھڑی ہو ۔۔۔۔

سجیلہ اس ٹیبل تک پہنچ گئ جہاں زکی بیٹھا تھا مدھم سی روشنی پورے ریستوران میں پھیلی ہوئی تھی اس پر ہلکی ہلکی دھنیں میوزک کی ایک رومنٹک ساسما بنا رہیں تھیں ٹیبل پر کینڈل جل رہیں۔ تھیں ۔۔۔ سجیلہ اسے سامنے کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔ زکی گھڑی دیکھنے لگا سوچ یہ رہا تھا کہ سبھی تک باقی کے مہمان کیوں نہیں آئے جب سجیلہ نےاس کے سامنے مینو کارڈ رکھا تھا

“آڈر کیجیے ۔۔۔ جو آپ کو پسند ہو “

” ابھی باقی مہمانوں کو تو آنے دیں ۔۔۔۔ پھر سب مل کر آڈر کریں گئے ” زکی کی بات پر وہ ہسنے لگیں

” میں نے آپ سے کہا تھا کہ یہ دعوت صرف مہمان خاص کے لئے ہے “

” جی ہاں مجھے یاد ہے اب اس مہمان خاص کو پہلے آنے تو دیں ۔۔۔ ان میں فاضل تو سر فہرست ہو گا “, زکی نے مسکرا کر کہا

” مہمان خاص بس ایک ہی ہوتا ہے اس لئے میں نے کسی کو انوائیڈ نہیں کیا ۔۔۔ کیونکہ میرے لئے مہمان خاص آپ ہی ہیں ۔۔۔۔۔ “۔ زکی یہ سن کر اور سجیلہ کے چہرے بکھرے رنگ دیکھ کر چپ سا ہوا تھا ۔۔۔۔ اس کارویہ بہت الگ سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔

” آڈر کیجیے ” سجیلہ کے دوبارہ کہنے پر زکی نے بس ایک ہی ڈش آڈر کی تھی ۔۔۔۔ اور مینوں بک وآپس ٹیبل پر رکھدی

” بس ایک ڈش ” وہ حیرت سے پوچھنے لگی

‘ جی میں ایک وقت میں ایک ہی کھانا پسند کرتا ہوں ” کھانا بہت خاموشی سے کھایا گیا تھا ۔۔۔۔ پھر بات سجیلہ نے شروع کی

” زکی میں نے آپ کو یہاں پرپوز کرنے کے بلایا ہے مجھے نہیں لگتا کہ پہلے اظہار پر صرف مرد کا حق ہے ہمارے معاشرے میں عورت بھی مرد کے شانہ با شانہ چلتی ہے تو پھر اظہار کرنے میں وہ مرد ہی کے التفات کا انتظار کیوں کرے ۔۔۔ مجھے آپ اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں ” سجیلہ کے برملا اظہار پر وہ چپ سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ ایک اداکارہ سے شادی وہ بلکل نہیں کرنا چاہتا تھا نا ہی اسکی آذادی برداشت کر سکتا تھا ۔۔۔۔

” سجیلہ میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں ۔۔۔ آپکی یہ بات بھی بلکل بجا ہے۔ مرد عورت حقوق و فرائض میں برابر ہیں اور عورت اگر مرد سے اپنی پسندیدگی کااظہار پہلے کر دے تو اس ۔میں کوئی

بری بات نہیں ہے ” سجیلہ زکی کی بات سن کر مسکرائی تھی زکی کی بات اچھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ سجیلہ بیچ میں ہی بول پڑی

” “مجھے پتہ ہے آپ کی سوچ عام مردوں سے الگ ہے “

” سجیلہ میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی ” زکی نے نے سجیلہ کو بیچ میں ٹوک دیا وہ چپ سی ہو گی لیکن خوشی اسے چہرے پر یوں عیاں تھی جیسے زکی بھی اس سے اظہار محبت کرنے ہی آیا ہے ۔۔۔۔ زکی اسے پہلی بار اس وقت ہی اچھا لگنے لگا تھا جب پہلی بار سجیلہ کے ساتھ زکی نے وہ سین کیا تھا ۔۔۔۔ پھر جس محنت اٹنشن اور فکرمندی سے ایک ایک سین میں جسن دلواتا تھااموشنل پیدا کرتا تھا ۔۔۔ سجیلہ کو اسکا برائیڈ فیوچر سامنے نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن زکی کی سوچ مختلف تھی ۔۔۔۔ زکی نے بست آگے بڑھائی

” آپ اچھی ہیں کامیاب ایکٹریس ہیں خوبصورت بھی ہیں لیکن میں آپ کو بیوی کی حثیت سے پسند نہیں کرتا نا ہی آپ سے ایسا کوئی تعلق جوڑ سکتا ہوں ۔۔۔۔ اس لئے میری طرف سے معذرت ہے ” یہ کہہ وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا

******……..

رات کے دو۔ بجے کا وقت تھا جب مہرونساء کے نمبر پر ایک کال آئی تھی ۔۔۔ وہ گہری نیند میں تھی اکثر اس وقت فواد ہی اسے کال کر کے پریشان کرتا تھا محبت بھری باتیں اسے اسی وقت یاد آتیں تھیں ۔۔۔ اس لئے بنا نمبر دیکھے ہی مہرونساء نے فون کان پر لگا ۔۔۔

” سوئٹ ہارٹ کبھی کبھی چین کی نیند بھی سو جانا چاہیے اور ہونے والی بیوی کو بھی سونے دینا چاہیے ۔۔۔ اب تو ایک ماہ ہی رہ گیا ہے ۔۔۔۔ ایک ماہ کا بھی صبر نہیں ہے آپ میں “

” میری جان میرے لئے تو ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل ہے اور تم ایک ماہ کی بات کر رہی ہو ” مہرونساء کی پیشانی پر تعجب کی لکیریں پڑیں تھیں ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے نیند آتی تھی ۔۔۔

” کون بول رہا ہے ۔۔۔۔ ؟ اجنبی آواز تھی وہ فواد ہر گز نہیں تھا مہرونساء کی بات پر ایک چھٹ پھاڑ قہقہ گونجا تھا ۔۔۔۔۔

” تمہارا ۔۔۔۔۔ سوئٹ ۔۔۔۔۔ہارث ” اس کے بعد فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔۔ مہرو نساء نے نمبر چیک کیا تو وہ ان نون نمبر سے کال آئی تھی