Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 37
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 37
Meri Jaan by Umme Hani
فاضل نے دوسرے دن ہی یسرا کے گھر چلا گیا تھاسوچ چکا تھا اسے ساری حقیقت سے آگاہ کر دے گا ۔۔۔ یسرا بھی چپ چپ سی تھی دروازے پر دستک پر جب یسرا نے دروازہ کھولا ۔۔۔ فاضل کو اپنے فلیٹ کے مین دروازے پر دیکھ کر بھی اپنارخ بدل گئ
” اندر آنے کو نہیں کہو گی ؟ فاضل نے بہت دھیمہ لہجہ اپنایا تھا یسرا پیچھے ہٹ گئ وہ اندر داخل ہو کر سامنے صوفے پر بیٹھ گیا
چائے بناؤ یا ٹھنڈا لو گئے ” یسرا کا لہجہ روکھاسا تھا آنکھیں بھی روئی روئی متورم سی تھیں شاید عورت اس مرد کے دل پر صرف اپنا راج چاہتی ہے جسے۔ شوہر کا درجہ دینا چاہتی ہے ایک فطری سی بات تھی یسرا اپنی جگہ ٹھیک ہی تھی اس لئے اتنے بگڑے موڈ پر بھی مہمان نوازی نبھا رہی تھی۔ شوٹنگ کے علاؤہ وہ فاضل سے بلکل بات چیت نہیں کر رہی تھی وہ بھی چپ تھا لیکن آج سب کچھ بتانے کے ارادے سے آیا تھا
” کچھ بھی نہیں بس یہاں بیٹھ جاؤں میرے سامنے میں تمہیں شرمینہ کے بارے میں سب کچھ سچ بتانا چاہتا اسکے بعد تم اپنے فیصلے کے لئے آذاد ہو یسرا بس یہ یاد رکھنا شرمینہ میرے دل میں تھی ۔۔۔ ہے ۔۔۔ اور شاید کبھی نکل نہیں سکتی ۔۔۔ اس کا ایک الگ ہی مقام ہے وہ میرے لئے ایک خوبصورت یاد ہے اور کچھ نہیں
تمہارے لئے میرے دل میں بہت محبت ہے تمہیں کبھی یہ نہیں لگے گا یسرا کہ میرے نظر میں تمہاری اہمیت کبھی کم ہوئی ہے لیکن اگر تم یہ سمجھتی ہو میرے دل میں صرف تم ہی تم رہو تو ابھی تو ممکن نہیں ہے شاید تمہارے میری زندگی میں شامل ہونے کے بعد کبھی ایسا ہو جائے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شرمینہ کی جگہ اپنی جگہ قائم رہے میں تمہیں جھوٹا دلاسہ ہر گز نہیں دونگا ” فاضل بہت سنجیدہ سا بیٹھا ہوا تھا یسرا اسکے سامنے صوفے پر جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔ لیکن فاضل سے کوئی سوال نہیں کیا فاضل نے خود ہی شرمینہ کے بارے میں بتانا شروع کیا تھا
” میں اپنے ایک ڈرامے کی پرموشن کے لئے شرمینہ کے کالج میں گیا تھا وہیں میری پہلی دفعہ شرمینہ سے ملاقات ہوئی تھی اسی وقت اس نے اپنی وہ تصویر مجھے دی تھی جو تم نے میری کتاب میں دیکھی تھی جس پر مسز فاضل لکھا تھا اس نے آٹو گراف لینے کے بجائے یہی فرمائش کی تھی کہ میں اسکی تصویر پر مسز فاضل لکھ دوں اسوقت مجھے بھلا ان باتوں سے کیا فرق پڑتا تھا اکثر لڑکیاں ایسے خواب دیکھتی ہیں اس لئے میں نے لکھ دیا اس پر اپنا سائن بھی کر دیا ۔۔۔
شرمینہ سے اگلی ملاقات میری ایک ریسٹورنٹ میں ہوئی تھی ہم سب دوست ملکر وہاں گئے تھے
جب وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہاں لنچ کرنے آئی تھی میرے سب دوست میرے یونیورسٹی فرینڈز تھے ہم لنچ کر چکے تھے جب شرمینہ اپنی دوستوں کے ہمراہ میرے پاس آکر یہ پوچھنے لگی کہ میں نے اسے پہنچانا کہ نہیں مجھے وہ یاد تھی بھی نہیں نا جانے کتنی لڑکیاں زندگی ۔میں فین کے نام پر آتی جاتی رہتی کہاں کچھ یاد رہتا ہے
مجھے اسے دیکھ کر یہ لگا تھا کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے لیکن۔ یاد نہیں تھا اس نے پرس سے اپنی وہی تصویر مجھے نکال کر دیکھائی تو مجھے بھی یاد آ گیا میرے دوست کھانا کھا کر جا چکے تھے اس لئے شرمینہ اور اسکی دوستیں میرے ہی ٹیبل بیٹھ گئیں مجھ باتیں۔ کرنے لگیں لیکن وہ بس مجھے دیکھ دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھی ۔۔۔ مجھے حیرت اس بات کی تھی کہ وہ بات کیوں نہیں کر رہی تھی حالانکہ وہ بھی مجھ سے میرے نئے آنے والے ڈرامے کے متعلق یا میری پسند نا پسند کے متعلق کچھ بھی پوچھ سکتی تھی جیسے اسکی دوستیں پوچھ رہیں تھیں لیکن اس نے مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھا نا جانے کیا تھا اسکے چہرے پر نا جانے ایسا کیا تھا کہ میں ہر تھوڑی دیر بعد اسے دیکھنے لگا تھا ۔۔۔ اسکی سب فرینڈز نے میرے ساتھ ملکر چاہے پی تھی ۔۔۔ اس کے بعد میں نے جانے کی اجازت مانگی تب وہ میرے پاس آئی
” کہنے لگی اپنا نمبر دیں گئے مجھے ۔۔۔ میں آپ کو بلکل بھی تنگ نہیں کروں گی بس کبھی کبھی بات کیا کروں گی آئی پرومس ” اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ پہلے ہی وضاحت دینے لگی میں نے ایک ٹشو ٹیبل سے اٹھایا اور اسے اپنا نمبر لکھ کر دے دیا ۔۔۔ اسی رات اسکی کال بھی آ گئ لیکن بات بہت مختصر سی ہوئی تھی اس لڑکی میں بس دو ہی چیزیں ایک حد درجہ معصومیت اور ایک لوگوں سے نا آشنائی میں کسی امیر بات کی اولاد تو تھا نہیں ۔۔ جو اپنے ایکٹر ہونے پر غرور کرتا نا ہی میں کوئی جدی پشتی اداکار تھا کہ مجھے اس بات کازیادہ گھمنڈ ہوتا۔ عام سی فیملی سے اٹھ کر سوشل میڈیا پہنچا تھا ۔۔۔۔ کچھ میرے مزاج میں میڈل کلاس کا رنگ باقی تھا اس لئے بہت جلد میری شرمینہ سے دوستی بھی ہو گئ تھی ۔۔۔ وہ لڑکی بہت دلچسپ باتیں کرتی تھی خیالی سی باتیں کرتی تھی ۔۔۔ تصورات میں جینے والی لڑکی تھی
مجھ سے کہنے لگی مجھے اردو اور انگلش لٹریچر میں بہت دلچسپی تھی لیکن مجھے مجبورا میڈیکل لینا پڑا میں نے پوچھا کیوں مجبورا لینا پڑا کیاامی ابا کی وجہ سے ؟
کہنے لگی نہیں میرا منکوحہ ہے نا وہ چاہتا ہے کہ میں ڈاکٹر بنو مجھے میڈیکل بلکل پسند نہیں ہے ۔۔۔ مجھے تو شاعری پسند ہے مجھے یہ بات کچھ عجیب سی لگی تھی کہ ٹھیک ہے وہ لڑکی کسی شخص کے نکاح میں ہے لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ بیوی پر ہر بار مسلط کی جائے انسان کو وہی پڑھنا چاہیے جس میں وہ دلچسپی رکھتا ہے یہی بات میں نے شرمینہ سے کہی تو وہ کہنے لگی اسکی کوئی رائٹر دوست بھی اسے یہی کہتی ہے پھر یہ بھی کہنے لگی اسے اپنا شوہر جس سے اس کا صرف نکاح ہوا ہے وہ اس سے بہت ڈرتی ہے ۔۔۔ اسکے اسکیچ بھی بناتی ہے اس پر محبت کا اظہار کرتی ہے لیکن اندر سے اسے چاہتی نہیں ہے ۔۔۔ پھر یہ کہنے لگی کہ وہ نکاح کے لیے راضی بھی نہیں تھی بہت چھوٹی تھی جب والدین نے اس کا نکاح کر دیاوہ جب بھی اپنے شوہر کے آنے کے بارے میں سوچتی ہے تو ڈر جاتی ہے پھر اسکی کوئی دوست ہے جو اسے یہی کہتی تھی کہ اس کا شوہر اس پر ہمیشہ اپنا حکم ہی مسلط کرتا رہے گا ۔یہ باتیں اسے خوفزدہ کرتی ہیں وہ پوری پوری رات ان باتوں کو سوچ کر سو نہیں پاتی ۔۔ پھر وہ مجھ سے کہنے لگی کہ میں ایسے شخص کے ساتھ رہ ہی نہیں سکتی جو میرا ہر فیصلہ خود کرے پتہ ہے فاضل مجھے تو قیدی پرندے دیکھ کر بھی۔ انکی بے بسی پر رونا آتا ہے پھر میں کیسے ایسی زندگی گزار سکتی ہوں جو قید کی طرح سے لگنے لگے ۔۔ مجھے حازم جیسے شوہر نہیں پسند جو ہر بات بیوی پر مسلط کریں مجھے آپ جیسے شوہر پسند ہیں ۔۔۔ ” اسکی بے محل بات پر میں اچھنبے میں آ گیا تھا
” میں ؟ مجھے تم جانتی ہی کتنا ہو ؟ مجھے تو اسکی بات سن کر حیرت ہوئی تھی میری بات سن کر وہ ہسنے لگی کہنے لگی فاضل میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں آپ کےسارے انٹر ویو پڑھتی ہوں آپکی پسند نا پسند مجھے سب معلوم ہے آپ کس مزاج کے ہیں آپ بہت ہنس مکھ ہیں بات بات پر سامنے والوں کو ہنسانے کا ہنر جانتے ہیں ۔۔۔ کسی دوست جیسے ہیں وہ میرے بارے میں بہت کچھ جانتی تھی شاید میرے ہر انٹر ویو کو کئ بار دیکھتی تھی یا پڑھتی تھی ۔۔۔ آہستہ آہستہ مجھے وہ اچھی بھی لگنے لگی کبھی کبھی کسی چھوٹے معصوم بچوں جیسی باتیں کرتی تھی ۔۔۔ اسے تتلیاں دیکھنے کا شوق تھا پکڑنے کا نہیں اسے پرندے آسمان میں اڑتے دیکھ کر آزادی کا احساس ہوتا تھا ۔۔۔ بند پنجروں میں پرندے دیکھ کر اس کام گھٹنے لگتا تھا
وہ زبردستی خود کو اپنے شوہر سے محبت کرنے کے لئے آمادہ کرتی تھی لیکن کر نہیں پاتی تھی وجہ یہ تھی وہ شخص اسکے عصاب پر کسی حاکم کی طرح سے مسلط رہنے کی کوشش کرتا تھا اس لئے وہ اس سے دور بھاگتی تھی ۔۔۔ میں جانتا تھا کہ وہ میری بیوی نہیں بن سکتی لیکن پھر بھی میں نے اس سے اپنی محبت کا اظہار کر دیا اس دن تو وہ چپ۔ کی چپ رہ گئ تھی بلکہ فون ہی بند کر دیا تھا دودن تک اسکی کوئی کال نہیں آئی مجھے اسکے فون کا انتظار تھا میں نے اسے کئ کال بھی کیں لیکن اس نے نہیں اٹھائیں دو دن بعد اس نے میرا فون اٹھایا تھا اور بہت رو رہی تھی ۔۔۔ کہنے لگی آپ نے مجھے بڑی مشکل میں ڈال۔ دیا ہے ۔۔۔۔ مجھے آپ جیسے لوگ پسند تھے اور آپ ان میں سب سے ذیادہ پسند تھے اور اب مجھے جب سے یہ پتہ۔چلس ہے کہ آپ کو میں بھی پسند تو مجھے حازم بلکل بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے ۔۔۔
میں شرمینہ سے بس چند بار ہی ملا تھا پہلی بار جب ملا تو وہ حد درجہ نروس تھی دوسری بار تو اسی نے مجھے بلایا تھا کہنے لگی اس کا منکوحہ اچانک سے آ گیا ہے اسے اپنے ساتھ باہر لے جانے کی ضد بھی کرتا ہے ۔۔۔ میں نے شرمینہ سے کہا کہ وہ اپنی والدہ کو کو سچ بتا دے اس نے اپنی والدہ کو میرے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا لیکن یہ سب سن کر اسکی والدہ خود بھی ڈر گئیں تھیں کہنے لگیں اگر تم نے حازم سے کچھ بھی کہا تو وہ ۔۔۔ وہ قیامت کھڑی کر دے گا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتی کیا طوفان کھڑا ہو جائے گا حازم کے نکاح میں ہوتے ہوئے تم نے کسی اور کے بارے میں سوچا بھی کیسے ۔۔۔ شرمینہ خود بھی پریشان تھی
کچھ اسکی دوست کی لکھی جانے والی کہانیوں نے اسے سخت مزاج لوگوں سے خوفزدہ کیا تھا کچھ اسکی اسی دوست کی باتوں نے اور تیسرا شاید میں تھا جو اس سے محبت کی اظہار کر کے اسے کچھ نئے خواب دیکھا گیا تھا ۔۔۔
وہ لوگ زمیدار تھے ان کے ہاں عورت کو طلاق کے بجائے سزائے موت دے دی جاتی تھی ۔۔۔ پھر اس کا شوہر اسے شادی کی جلدی بھی مچا رہا تھا ۔۔۔ وہ چاروں طرف سے پریشان تھی مجھ سے آخری ملاقات جب کرنے آئی تو وہ تصویر مجھے دے گئ کہنے لگی میری خواہش ہے کہ آپ ہمیشہ مجھے اپنے دل میں رکھیں مجھ سے محبت کرتے رہیں مجھے کبھی بھی بھولیے گا مت فاضل۔۔۔
ایک ہی تو خواہش کی تھی اس نے مجھ سے میں کیسے ٹال سکتا تھا ۔۔ ” فاضل کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے یسرا کی اپنی آنکھیں نم تھی
” بس یسرا میں نے اسے ایک بات غلط کہہ دی اس سے بلکل غیر ارادی طور پر ۔۔۔ میں نے اس سے اسکی جان ہی مانگ لی مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ سچ میں ۔۔۔۔ “یہ کہہ کر اسکے آنسوں میں تیزی آئی تھی
میں نے کہا،شرمینہ میری خاطر کیا کر سکتی ہو ؟ کہنے لگی آپ بتاؤ
” میں نے کہا شرمینہ میرے علادہ کسی اور مت ہونا میں سہہ نہیں پاؤں گا ” یہ کہہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا کہنے لگا
” میں نے بس یہ غلطی کر دی یسرا مجھے نہیں پتہ تھاوہ دیوانی لڑکی میری خاطر اپنی جان ہی دیدے گی ۔۔۔۔ ” پہلی بار یسرا نے فاضل کو یوں روتے دیکھا تھا ۔۔۔ باقی باتیں فاصل نے روتے ہوئے کیں تھیں
“جب میں نے اسکی خود کشی کی خبر سنی تو میں سہہ نہیں پایا تھا بہت رویا تھا بہت بیمار رہنے لگا تھا میرا جی چاہا کہ خود کو بھی ختم کر لوں لیکن میرے مر جانے کا مطلب تھا کہ میں اپنی ماں اور بہن کو جیتے جی مار دیتا ۔۔۔ مجھ سے چاہ کر بھی یہ نہیں ہو پایا ۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے بتایا تھا ۔۔۔ لگتا تھا جیسے ابھی بھی اس کا زخم تازہ ہو پھر کہنے لگا
کم عمری میں بچیوں کا اپنی مرضی سے نکاح کرنا میرے خیال سے ان کے ساتھ ذیادتی ہے ۔۔۔
اگر والدین نے انہیں اپنی پسند سے بیانا ہی ہے تو پہلے اپنی بیٹی کے مزاج کو سمجھیں وہ کس کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکتی ہے ۔۔۔۔ وہ اپنے کزن کے مزاج کے ساتھ گزارا کر بھی پائے گی کہ نہیں ۔۔۔۔ ” یسرا اسے یوں روتا دیکھ کر اس کے پاس آکر بیٹھ گئ ۔۔۔ سامنے ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی گلاس میں ڈال کر اسکی طرف بڑھا دیا فاصل خود پر ضبط کر چکا تھا اپنے آنسوں پونچ کر یسرا کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیا اور پی لیا
کچھ پل خاموشی میں ہی گزر گئے فاضل اب کچھ سنبھل گیا تھا
“اس نے مجھ ایک ہی فرمائش کی تھی یسرا میں ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔ اسے محبت کرتا رہو اب تم بتاؤ تمہیں میں ایسے قبول ہوں یا نہیں ” یسرا نے کوئی بھی جواب نہیں دیا تھا
********…….,
مہرونساء کا دل ہی تو دھڑکنا بھول گیا تھا اس کے سامنے حازم کھڑا تھا وہ بھی بہت غصے میں
” اے مسٹر ہاؤ ڈیر ٹو ٹچ مائے وائف ” زکی نے فورا سے پہلے حازم کا ہاتھ مہرونساء کے کندھے سے پیچھے کیا تھا مہرونساء فورا سے کھڑی ہو گئ اسکی رنگت پل میں سفید لٹھے کی مانند ہوئی تھی زکی بھی کھڑا ہو گیا حازم تو جتنا حیران ہوتا
اتنا کم تھا
“وائف۔۔۔؟ ” وہ حیرت سے بولا مہرونساء خوف سے زکی کے پیچھے چھپ سی گئ تھی زکی اب بھی حازم کو گھور رہا تھا
” زکی پلیز یہاں سے واپس چلیں ” مہرونساء کی تو جان لبوں پر آئی تھی حازم کو وہ سامنے دیکھ کر گھبرا سی گئ تھی
” مہرونساء کون ہے یہ شخص ۔۔ اور تمہیں وائف کیوں کہہ رہا ہے ” حازم زکی کو نظر انداز کیے مہرونساء سے پوچھنے لگا وہ گھبرا کر زکی کے پیچھے مکمل جا چھپی تھی زکی کی کمر سے جا لگی لرز رہی تھی دل کی دھڑکنیں خوف سے حلق کو آنے لگیں تھیں
” کون ہو تم اور مہرونساء کو کیسے جانتے ہو ” زکی پہلی بار ہی اس شخص کو دیکھ رہا تھا چہرہ بلکل اجنبی سا تھا
” میں تو سب کچھ ہوں اس کا ۔۔ یہ تو مجھے پوچھنا چاہیے مسٹر کہ تم کون ہو اور میری بیوی کے ساتھ کیا کر رہے ہو ” حازم نے درشتگی سے پوچھا ۔۔۔ زکی کو یہ سنتے ہی تاؤ سا چڑھ گیا تھا اس نے حازم کا گریبان پکڑ لیا
” کیا بکواس کر رہے ہو تم ” زکی اشتعال میں آ کر بولا ۔۔
حازم نے اپنا گریبان اس سے چھڑوانا چاہا غصے میں وہ بھی بہت تھا
” گریبان چھوڑ کے بات کرو ورنہ بہت پچھتاؤ گئے ” حازم دانت پیستے ہوئے زکی کی آنکھوں میں غصے سے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا نظر پیچھے زکی کے ساتھ لگی مہرونساء پر پڑی تو اسے یوں زکی کی پناہ میں دیکھ کر آگ سی لگ گئ اسکے اندر ۔۔
” ز۔۔زکی چھوڑو اسے چلو یہاں سے ” مہرونساء بری طرح سے کانپ رہی تھی ہونٹ تک اسکے سفید پڑ چکے تھے زکی نے حازم کا گریبان چھوڑ دیا جیسے ہی مہرونساء کو اپنے ساتھ لگائے وہاں سے جانے لگا حازم نے مہرونساء کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جانب پوری قوت سے کھنچا تھا پل میں وہ زکی سے جدا ہوئی تھی حازم اب مہرونساء کی آنکھوں اپنی سرخ آنکھیں ڈالے ہوئے تھا
مہرونساء تو یہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ اسکے ساتھ ہوا کیا ہے اس سے پہلے کہ حازم مہرونساء سے کچھ پوچھتا زکی نے اسے مارنا شروع کر دیا تھا وہاں موجود لوگ جو پکنک کے غرض سے آئے تھے سب انہیں دیکھنے لگے اچھا خاصا تماشہ سا لگ گیا تھا ۔۔۔ حازم بھی اب زکی سے مقابلہ کرنے لگا تھا مہرونساء تو ہونق بنی دیکھ رہی تھی کہ بہت سے نوجوانوں نے انہیں ایک دوسرے سے پیچھے کیا تھا
دونوں اپنی جگہ بپھرے ہوئے تھے ۔۔۔
مہرونساء زکی کے کے پاس آ گئ اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے وہاں سے لے جانے لگی ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی ۔۔۔۔
” کیمنہ بیغیرت مر جاتا آج میرے ہاتھوں ” زکی اپنے ناک سے نکلنے والے خون کو اپنی شرٹ سے صاف کرتے ہوئے کہا مہرونساء تو یوں تھی کہ کاٹو تو لہو نا نکلے ۔۔۔ باقی کا راستہ مہرونساء کا آنسوں بہاتے ہوئے گزرا تھا ہوٹل میں آکر زکی نے مہرونساء سے پوچھا تھا
” مہر کیا تم جانتی تھی اسے ؟ ۔کیوں وہ تمہیں اپنی بیوی کہہ رہا تھا کون تھاوہ ۔۔ حازم اب تک میڈیا پر مہرونساء کے شوہر کے طور پر خود نہیں آیا تھا اس لئے کسی نے حازم کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
اس وقت مہرونساء خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ کیا جواب دے زکی بھی غصے میں تھا شاید حازم کا نام سن کر ہی کیا کر بیٹھتا ۔۔۔
وہ پہلے ہی حازم کے اچانک سے سامنے آ جانے پر خوفزدہ تھی ابھی یہ تک سوچنے کی کنڈشن میں نہیں تھی کہ طلاق دینے کے بعد بھی وہ کیوں اسکے پیچھے پڑا ہے ۔۔۔
” کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے مہر ۔۔۔تمہارا نام کیسے جانتا تھا وہ “
ابھی کچھ بھی سوچ نہیں پا رہی تھی زکی سے بھی کچھ نہیں کہہ پائی
” میں نہیں جانتی وہ کون تھا شا۔۔۔ شاید کوئی آوارہ قسم کا پرستار ہو گا جھوٹ بول رہا تھا جو بھی کہہ رہا تھا ” مہرونساء کی بد حواسی اور بتدریج رونے پر زکی چپ سا ہوگیا تھا
” تم فکر مت کروآئندہ اگر مجھے دیکھ بھی گیا تو چھوڑو گا نہیں اسے “
واپسی کی فلائٹ کاوقت بھی قریب ہو رہا تھا زکی نے خود پر ضبط کیااور واپسی کی تیاری کرنے لگا کراچی پہنچ کر مہرونساء کچھ ہر سکون ہوئی تھی زکی کا موڈ بہت بگڑا ہوا تھا کھانے کے دوران بھی وہ سنجیدہ ہی تھا پہلی بار نوالہ بنا کر مہرنساء نے اسکی طرف بڑھایا تھا زکی یہ دیکھ کر زبردستی سے مسکرایا تھا شاید مہرو نساء کادل نہیں توڑنا چاہتا تھا ۔۔۔
” زکی پلیز اپنا موڈ ٹھیک کریں ۔۔۔ مجھے کل سے اپنا گھر اپنا نہیں لگ رہا ۔۔ کیونکہ آپ چپ چپ ہیں
میں آئندہ باہر ہی نہیں نکلو گی ” مہرونساء کی بات اس نے برجستہ کہا
” کیوں باہر نہیں نکلو گی ۔۔۔ ایسے آوارہ لوگوں کی وجہ سے تم خود کو کیوں قید کرو گی ۔۔
میں ٹھیک ہو جاؤں گا ۔۔۔ تم فکر مت کرو ایک فطری سی بات ہے ماں بہن بیوی بیٹی مرد کی غیرت ہوتی ہیں اس لئے انکے لئے ہر شخص ہی پوزسو سا ہو جاتا ہے ۔۔۔ ” زکی اب خود کو نارمل کرنے لگا تھا ۔۔۔ مہرونساء کے ساتھ دوبارہ سے ویسے ہی رہنے لگا تھا ۔۔ لیکن یہ سب شاید کچھ ددن ہی چل سکا تھا ایک دن صبح ہی صبح ایک لیٹر زکی کے نام پر آیا تھا ۔۔۔ مہرونساء سو رہی تھی جب زکی نے وہ لیٹر رسیو کیا اور کھول کر دیکھا تو اسکے ہوش ہی اڑ گئے تھے ۔۔۔
******……..,
حازم نے جب سے وہ خواب دیکھا تھا جلے پاؤں کی بلی بنا ہوا تھا آنکھیں بند کرتا تو مہرونساء کو کسی اور بانہوں میں دیکھ کر بد حواسی سے اٹھ بیٹھتا جب دل کی بیقرایوں نے چین نا لینے دیا تو
وہ پاکستان واپس آ گیا لیکن مہرونساء سے سامنا کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا کچھ دن کے لئے وہ کاغان کی وادیوں میں چلا گیا آنسوں جھیل دیکھ کر مہرونساء کی آنکھیں یاد آنے لگتیں ۔۔۔ واپسی میں وہ اسلام آباد پہنچ کر انگوری کی آبشار کے پاس سے گزر رہا تھا جب مہرونساء پر نظر پڑتے ہی اسکی گاڑی کو بریک لگی تھی پہلے تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا کہ وہ سچ میں مہرونساء ہے ۔۔۔ لیکن وہ رہی تھی اس لئے گاڑی کو ایک سائیڈ پر کھڑا کیا اور خود اس کے پاس چکا گیا اس کی نظر زکی پر اس وقت پڑی تھی جب وہ مہرونساء کے بلکل عقب میں۔ پہنچا تھا ورنہ مہرونسا سے وہ نظریں نہیں ہٹا رہا تھا کہ کہیں وہ کوئی خواب بنکر غائب نا ہو جائے لیکن مہرونساء کو زکی کے پہلو میں دیکھ کر اسے برداشت نہیں ہوا تھا ۔۔۔ اس لئے مہرونساء کے کندھے کو سختی جھکڑا تھا اس کے بعد جو تماشہ لگا تھا حازم سے کہاں برداشت تھا اس لئے ساری انفارمیشن نکلوا چکا تھا جب یہ معلوم ہوا کہ مہرونساء نے کسی ڈاریکٹر سے شادی کی ہے حازم کی نیندیں حرام ہو چکیں تھیں ۔۔ اس لئے ایک لیٹر وہ زکی کے گھر بھیج چکا تھا
*****…….
زکی نے جب وہ لیٹر کھول کر پڑھا تو اس کے ہوش ہی اڑ گئے تھے وہ لیٹر عدالت کی طرف سے نوٹس تھا کہ حازم کی بیوی مہرونساء کو زکی نے زبردستی اپنے ساتھ رکھا ہے ۔۔ اور حازم کے نکاح میں ہوتے ہوئے اسکی بیوی کے ساتھ زبردستی دوسرا نکاح کیا ہے ۔۔۔ ” زکی کاتو سر ہی چکرا کر رہ گیا ساتھ میں حازم کی مہرونساء کے ساتھ چند تصویریں بھی تھیں جو حازم نے اپنے موبائل پر اس وقت مہرونساء کے ساتھیں جب وہ اسکی قید میں تھی ۔۔۔ زکی کاتو یہ سب دیکھ کر فشار خون رگوں میں بلند ہو تھا جب وہ کمرے گیا تو مہرونسا
اٹھ چکی تھی ۔۔ وہ مہرونساء کے سامنے بیٹھ گیا
کیوں کیا تھا مہرونساء نے اسکے ساتھ اس طرح ۔۔۔ اگروہ کسی کے نکاح تھی تو دوسرےنکاح کے لئے کیوں مان گئ ارمان نے بھی اڈے یہی کہا تھا کہ مہرونساء کو طلاق ہو چکی ہے مہرونساء نے بھی یہی بتایا تھا ۔۔۔ پھر یہ سب کیا تھا ۔۔۔؟ کورٹ کے آڈر جھوٹے اور بے بنیاد تو نہیں ہو سکتے تھے ۔
” کیا بات ہے زکی ایسے کیا دیکھ رہے ہیں “
” دیکھ رہا ہوں ایسے بھی دھوکے باز لوگ ہوتے ہیں جو انسان کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور وہاں جا کر مارتے ہیں جہاں پانی بھی نہیں ملتا ۔جانتی ہو میں تمہاری محبت میں کس مقام پر پہنچ چکا ہوں ۔ میں نے تمہارا بگاڑا کیا تھا مہر جو تم نے مجھے اتنا بڑا دھوکہ دیا ہے ۔۔ ” زکی کی باتوں پر وہ حیران بھی نہیں ہو پائی تھی جب زکی نے وہ لیٹر اور تصویریں مہرنساء کے ہاتھ میں رکھ دیں ۔
” تو یہ تمہارا کچھ نہیں لگتا ۔۔۔ہاں ۔۔۔ بس ایک پرستار تھا ۔۔۔ مہر تم کیسے کسی کے نکاح میں ہوتے ہوئے مجھ سے نکاح کر سکتی ہوں ” مہرنساء کے لئے یہ ایک ایسا دھماکہ تھا وہ یہ سب سن کر اور کوٹ کے آرڈرز پڑھ کر ششدد سی رہ گئ تھی
وہ بد حواس سی ہو گئ تھی جلدی سے وہ سب لیٹر ور تصویریں زمین پر پھنک دیں
” زکی یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ جج۔۔جھوٹ ہے اس نے خود
جھے طلاق دی تھی۔۔۔ اس ۔۔۔ نے ۔۔۔ مجھے طلاق نامہ دیا تھا ۔۔۔۔ مم ۔۔میں سچ ۔۔۔ کہہ رہی ہو میرا یقین کریں ” مہرونساء کی حالت یہ تھی کہ ابھی بے ہوش ہو جائے گی حازم کا خیال اسکے لئے موت کی نوید تھی ۔۔۔
” اچھا ؟؟ اس نے تم سے کہا تھا کہ اس نے تمہیں طلاق دی؟ بولو مہرونساء ” پہلی بار زکی کا لہجہ اونچا ہوا تھا
” نن۔۔نہیں ۔مجھے یاد نہیں ۔۔لیکن اس نے طلاق نامہ دیا تھا زکی میں جھوٹ نہیں بول رہی ” مہرونساء زکی کو اپنی بات کا یقین دلانے لگی
” کہاں ہے وہ طلاق نامہ دیکھاوں مجھے”,
” امی کے گھر ہو گا ۔۔۔ آپ میرے ساتھ چلیں میں جھوٹ نہیں بول رہی ‘” مہرنساء فورا سے روتے ہوئے کھڑی ہو گئ زکی نے بھی فورا سے گاڑی کی چابی پکڑی اور اسے لئے مہرنساء کے گھر پہنچ گیا مہرنساء اندر داخل ہوتے ہی ماں سے ملے بنا ہی لاڈج کے شو کیس کے پاس آگئ جلدی ستمے دراز کھولنے لگی اسکی والدہ اسکی بدحواسی دیکھ پر پریشان تھیں وہ رو بھی رہی تھی بہت ہڑبونگ انداز سے سارے کاغذ الٹ پلٹ کر رہی تھی
” زکی کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔ ” مہرونساء کی والدہ نے زکی سے پوچھا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا مہرونساء کے پاس آ گیا وہ دوسرا دراز دیکھ رہی تھی ساتھ ساتھ اپنے آنسوں پونچ رہی تھی ۔۔۔ تیسرے دراز میں وہ خاکی لفافہ اسے مل گیا تھا اس نے جلدی سے اس کے اندر کے پیپر نکالے جو طلاق نامہ ہی تھا مگر ۔۔۔۔۔۔
