186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 1

Meri Jaan by Umme Hani

گلاس وال سے باہر دیکھتی شرمینہ کو تیز برسی بارش سے خوف سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ شیشوں سے بارش کے ننھے قطرے ٹکرا کر بہنے لگے تھے ۔۔۔۔ کیسی کے آنکھ سے بہتے ہوئے آنسوں کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے۔ وہ ننھے قطرے تیز دھار دار بارش ۔ہں تبدیل ہو گئے تھے

بڑی زوردار بارش نے جل تھل سی مچا دی تھی ۔۔۔ سیٹیاں بجاتی ہوا اب چنگھارنے لگی تھی ۔۔۔ خوف کی ایک لہر شرمینہ کے وجود سے کسی بجلی کی طرح سے گزری تھی ۔۔۔ بارش سے اسے ہمیشہ ہی خوف آتا تھا لان میں لگے درخت تیز ہوا سے ہوا کے زور سے دائیں جانب جھکے چلے جا رہے تھے ۔۔۔۔ جیسے جیسے بارش کی روانی میں تیزی آتی جارہی تھی شرمینہ کی دھڑکنیں بھی بڑھتی جارہی۔ تھیں ۔۔۔۔ بادل کی دھاڑتی آواز سن کر وہ کانپ سی گی تھی ۔۔۔۔ اب بھی خوفزدہ تھی ۔۔۔ جب احتشام نے اسے عقب سے اپنے حصار میں لیا تھا دبی سی ایک چیخ شرمینہ کے منہ سے برآمد ہوئی تھی ۔۔۔۔ لیکن اگلے ہی لمحے ۔۔۔ احتشام کی بے خودی سے سخت ہوتی گرفت نے رہے سہے ہوش اڑائے تھے ۔۔۔۔ شرمینہ نے پوری قوت لگا کر خود کو اس شخص سے کو آزاد کیا تھا جو اس کے شوہر کے درجے پر فائز ہو چکا تھا ۔۔۔ زبردستی اس سے نکاح کے بندھن سے باندھ چکا تھا ۔۔۔۔ اس کا تایا زاد تھا ۔۔۔۔ لیکن بدلے کی آگ نے اسے انسان سے وحشی بنا دیا تھا

” دووو۔۔۔۔۔دوور ۔۔۔ رہیں مجھ سے وہ بد حواسی سے کہتی ہوئی پیچھے ہٹی تھی دیکھنے میں وہ جتنا ہینڈسم تھا ۔۔۔ اندر سے اتنا ہی حیوانی صفت کا مالک تھا ۔۔۔۔ اسکی ہیزل گرین آنکھوں میں اس وقت وحشت تھی ۔۔۔ دیوانگی تھی ۔۔۔ جنون تھا ۔۔۔۔

غصے وہ اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔ اسے بازو سے دبوچ کر کمرے سے باہر لے جانے لگا شرمینہ چیختی چلاتی رہی لیکن اس ظالم سیاد نے اسکی ایک ناسنی سیڑیوں سے گھستے ہوئے وہ شرمینہ کو نیچے اتار رہا تھا ۔۔۔۔ احتشام کے قدموں کا مقابلہ کرنا شرمینہ کے بس کی بات نہیں تھی اس لئے وہ سیڑیوں پر توازن برقرار نہیں رکھ پائی پاؤں پھسل گیا تھا گرنے سے گھٹنے پر زور دار ضرب لگی تھی لیکن احتشام پرتو جنون اور ضد سوار تھی اس نے شرمینہ کا بازو نہیں چھوڑا وہ درد سے کراہنے لگی تھی لیکن اس بے رحم کو اس نازک سی جان پر رحم نہیں آیا تھا ۔۔۔ احتشام نے سرخ آنکھیں لئے اسے گھسٹتے ہوئے سیڑیاں اتراوئیں پھر بڑے سے لاونج سے گھٹستے ہوئے باہر لان میں لے گیا جہاں تیز برستی بارش اپنے عروج پر تھی ۔۔۔ پانی کی ٹھنڈی بوچھاڑ نے پل میں شرمینہ کو بھگو دیا تھا

” مجھے دھکا دینے کی جرت بھی تم نے کیسے کی شرمینہ ۔۔۔۔ آج رات تم اس برستی بارش میں گزاروگی ۔۔۔ ” غصے سے وہ پھنکارتے ہوئے بولا تھا شرمینہ کی جان لبوں پر آئی تھی رنگت فق ہوئی تھی ۔۔۔ شرمینہ کو لان میں دھکیل کر وہ واپس لاونج کی جانب بڑھنے لگا وہ روتی بلبلاتی احتشام کے پیروں میں پڑ گئ

” م۔۔۔مجھے ۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔ اک۔۔۔یلا۔۔۔۔۔ مت ۔۔۔۔ چھوڑ کر جائیں ۔۔۔۔ م۔۔۔جھے بارش ۔۔۔۔ سے خوف آتا ہے ۔۔۔۔۔ می۔۔۔را ۔۔۔قص۔۔ور کیا ہے ۔۔۔۔ احتشام ” آن ہی آن میں شرمینہ بارش سے بھیگ چکی تھی سیاہ رنگ کے سدے سے لباس پہنے بنا ڈوپٹے کے سرد بارش میں کانپ رہی تھی ۔۔۔ بادلوں کی گڑگڑاہٹ سن کر خوف پوری وجود میں سنسنی سی دوڑی تھی ۔۔۔۔

“, مجھے خود سے دور کرنے کی سزا ہے یہ ۔۔۔۔ رات بھر تم یہیں رہو گی ۔۔۔۔ ” یہ کہہ احتشام نے پیر سے ٹھوکر ماری کر شرمینہ کو خود سے جدا کیا تھا

پھر تیزی سے لاونج میں داخل ہو کر دروازہ بند کر دیا

*******…….

ابھی جاری ہے

باقی اگلے شمارے میں

مہرو نساء نے سامنے رکھے کاغذ کے پلندے پر اپنا چلتا ہوا قلم روکا تھا پین کو بند کر کے سائیڈ پر رکھا پیپر ویٹ کاغذ کے پلندے پر رکھا ۔۔۔۔ گہری لمبی سانس لی

اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے

میں ۔ پیوست کر کے بازو کھنچ کر آگے کر کے گویا خود کوسیدھا کر کے اپنی تھکن اتارنے کی ادنی سی کوشش کی تھی ۔۔۔۔ پھر ہاتھوں کو جدا کر کے کرسی سے کھڑی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ گھڑی پر نظر دوڑائی رات کے ڈھائی بجے رہے تھے نیند کی شدت سے آنے والی جمائی کو ہاتھ سے روکا ۔۔۔۔ کمرے میں صرف لیمپ کی روشنی ہی پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔ رائٹنگ ٹیبل سے اٹھ کر لیمپ آف کیا ۔۔۔ مدھم سی روشنی باہر لانج میں جلتے ہوئے بلب سے اندر کمرے میں آ رہی تھی ۔۔۔ اتنی روشنی تھی کہ وہ کمرے کی ہر چیز با آسانی دیکھ سکتی تھی ۔۔۔۔ آنکھیں اب نیند سے چور ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔ بیڈ پر دراز ہوتے ہی وہ نیند کی آغوش میں جا چکی تھی ۔۔۔۔۔

**********……..

“مہرو اٹھو بھی ۔۔۔۔۔ یونی نہیں جانا کیا ” اپنی بڑی بہن زیب النساء کی آواز پر مہرو نے کسمسا موندی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔ زیب نے اسکے کمرے کے پردے پیچھے ہٹائے تھے ۔۔۔ چمکتی دھوپ نے موندی آنکھوں کو پھر بند ہونے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔ اکتاہٹ سے کئ بل مہرو کی شفاف پیشانی پر پڑے تھے

” زیبی پلیز ۔۔۔ پردے تو رہنے دیں ابھی ” وہ نیند کی خماری میں بول رہی تھی لحاف بھی منہ تک تان چکی زیب س کے پاس آ گئ لحاف بھی اس کے منہ سے ہٹایا

” دیکھا لو اپنے نخرے چند دن اور مجھے ۔۔۔۔ جب ارمان کے سنگ پیا دیس چلی جاؤں گی تب تمہیں قدر ہو گی میری ۔۔۔ ” زیب آپ اسکے پاس بیٹھ کر اسکے ناگور چہرے پر بکھری لٹوں کو پیار سے ہٹا رہی تھی ۔۔۔۔ دونوں بہنوں میں تین سال کا فرق تھا لیکن مہرو زیب کو نخرے یوں دیکھاتی تھی جیسے اس۔ سے کئ سال چھوٹی ہو ۔۔۔

” ریبی آپ کو کیا پتہ میں نے کتنا شکر ادا کرنا ہے آپ کے جانے پر ۔۔۔۔ آپ جائیں گئیں تبھی تو موم کو میری قدر ہو گی ورنہ میرے کام تو نظر ہی نہیں آتے ۔۔۔ بس زیبی ہی نظر آتی ہے ” مہرونساء کے جواب پر زیب نے خفگی سے اس کے کان کو کھنچا تھا ۔۔۔

” تم اتنی تنگ ہو مجھ سے مہر ” زیب نے آنکھیں دیکھائی تووہ مسکرا کر اٹھ بیٹھی دونوں بانہیں زیب کے گلے میں ڈال کر اسے اپنے ساتھ بینچ کر بولی

” آئی مس یو سسسسسسو مچ زیبی ۔۔۔ بس اب دل کو بہلانا بھی ہے نا ۔۔۔ میں فریش ہو کے آ رہی ہو ۔۔۔ بس ایک گلاس دودھ کا گرم کر دیں ناشتہ نہیں کروں گی ” یہ کہہ مہرو اٹھ کر واش روم میں چلی اور زیب اس کے کمرے سے باہر نکل کر کچن میں چلی گئ ۔۔۔۔۔۔

شہوار صاحب کی دو ہی بیٹیاں تھیں ۔۔۔ زیب النسا اور مہرو نساء ۔۔۔۔۔ کنسٹرکشن کا بڑے پیمانے پر کام تھا نام بھی بہت کما چکے تھے ۔۔پانچ پاٹنر ملکر ایک بڑے پیمانے پر کنسٹرکشن کے ٹھیکے پر کام کرتے تھے اور اپنی انوسٹمنٹ بھی کرتے تھے۔۔۔ بڑے بڑے اپارٹمنٹ اور شاپنگ مال بنا چکے تھے ۔۔۔۔ پیسوں کی رئیل پھیل تھی ۔۔۔۔ ڈیفنس میں شاندار بنگلہ تھا ۔۔۔۔۔ زیب اپنے خالہ زاد سے منسوب تھی

اور مہرو کا شدید کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔

صبح یونیورسٹی جانے سے پہلے مہرو نے ڈرائیور سے پوسٹ آفس پر گاڑی رکوا کر اپنے ناول کے مسودے پوسٹ آفس کے ذریعے ایک نامور ڈائجسٹ میں ارسال کیے ۔۔۔۔ پھر ہی وہ یونیورسٹی پہنچی تھی ۔۔۔۔

اسکی سب دوستیں اسکے ناولز کی دیوانی تھی ۔۔۔۔ لیکن فضیلہ تو جیسے عشق کرتی تھی ۔۔۔ مہرو کو دیکھ کر ہی اسکی طرف لپکی تھی

” ہائے مہرو نیکسٹ اپیسوڈ کا ویٹ کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔۔۔۔

احتشام تو میرا کرش بن گیا ہے ۔۔۔۔۔ ہیرو ویسے روڈ ہی اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔ کیا خوبصورت

ہیرو ہے کسی انگلش مووی کا جگمگاتا ستارہ لگتا ہے ورنہ پاکستان میں کہاں پائے جاتے ہیں ہیزل گرین ایز سفید رنگت چوڑی پیشانی گال پر مسکرانے پڑتا ڈمپل ۔۔۔ ہائے مہرو میری جان ۔۔۔۔۔ جب بھی احتشام کے سین پڑھتی ہوں لگتا ہے کہ واقعی مردانگی ختم ہے اس پر ۔۔۔۔ ” فضیلہ کا بس نہیں چل رہا تھاناول کے اندر جا کر احتشام نامی فرضی ہیرو کا ہاتھ پکڑے کوٹ میرج ہی کر لے ۔۔۔۔ مہرو کی اتراہٹ میں مزید اضافہ ہو تھا ۔۔۔۔۔

” یہ تو کچھ بھی نہیں آگے آگے دیکھوں کیسے سیدھا کرتا ہے شرمینہ کو ۔۔۔ ” ایک ادا سے مہرو نے آگے آئے بالوں کو ہاتھ سے جھٹکا دے کر اپنے لمبے بالوں کو پیچھے کیا تھا ۔۔۔

” ویسے بڑی کوئی ڈھیٹ سی ہیروئن بھری ہے تم نے ۔۔۔۔۔ ایسی بھی کیا ضد کے ماں باپ کے پاس ہی جانا ہے ۔۔۔۔۔ ماں باپ کی عزت خراب ہو گئ ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ارے یہ نہیں دیکھ رہی کہ کیا ہیرو ملا ہے اسے ۔۔۔۔ ” فضیلہ کو ناول کی ہیروئن پر غصہ آیا تھا

“یہی تو بات ہے فزی ۔۔۔ یہ جو میڈل کلاس لڑکیاں ہوتی ہیں ۔۔۔ماں باپ کی عزت کا پاس ۔۔۔۔۔ بس انہی پر ختم ہوتا ۔ہے ۔۔۔ یہی سوچ تو مجھے لڑکیوں کی۔ بدلنی ہے ۔۔۔۔ کہ محبت ہی سب کچھ ہوتی ہے

محبت میں بہت طاقت ہے ۔۔۔۔ عزت کا کیا ہے ۔۔۔ جب اس لڑکے نے نکاح کر لیا تو ۔۔۔ ہو گی وہ عزت والی ۔۔۔۔ ” کوریڈور سے اپنی کلاس کی جانب بڑھتے ہوئے وہ اپنے ناول کو ہی ڈسکس کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ جب سامنے سے ایک جونیر کلاس کی لڑکیاں مہرو کو دیکھ مسکراتی ہوئی اس کی جانب بڑھیں تھیں

” آپ ہیں ۔۔۔میری جان ….ناول کی رائٹر ۔۔۔۔ ؟ ” وہ لڑکیاں جس ستائش سے مہرو کو دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔ مہرو کے اندر فخر اور زعم کے ملے جلے سے جذبات نے سراٹھایا تھا ۔۔۔

” جی ہاں ” اندر سے دل شاد تھا لیکن باہر سے کچھ لاپروائی سی دیکھانے لگی ۔۔۔۔

” ہائے پچھلے شمارے میں آپ کی تصویر چھپی دیکھی تھی ناول کے نام کے ساتھ ۔۔۔۔ ابھی کل ہی تو میں نے قسط پڑھی تھی آپ کو دیکھ کر لگا تھا کہ کہیں دیکھا ہے ۔۔۔۔ دیکھنے میں کتنی خوبصورت ہیں آپ ۔۔۔۔ ” وہ لڑکیاں اس پر فریفتہ سی ہو رہیں تھیں اپنی نصاب کی کتاب پر اس سے آٹو گراف لینے لگیں ۔۔۔۔ مہرو نے بڑے نخرے سے بس اپنے سائن ہی کیے تھے جیسے بہت بڑی سلیبرٹی ہو ۔۔۔۔

” نیکسٹ اپسوڈ میں پلیز اس شرمینہ کا ذرا دماغ درست کیجیے گا ۔۔۔ ایسی بھی کیا انا؟” ان میں سے ایک لڑکی نے مشورہ دیا تھا ۔۔۔۔ مہرو نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا تھا ۔۔

” میری کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے ۔۔۔ ایکسکیوز می ” مہرو نے کتراتے ہوئے کہااور فضیلہ کے ساتھ آگے بڑھ گئ

” افف تمہاری بات مجھے ماننی ہی نہیں چاہیے تھی فزی خوامخواہ میں اپنی تصویر بھیج دی ۔۔۔ اب دیکھنا اگلے چند دنوں میں جب نئ قسط آئے گی ۔۔۔۔ میرا تو یہاں پڑھنا محال ہو جائے گا ۔۔۔۔۔ ” غرور کارنگ مہرو پر بڑی تیزی سے چڑھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

*******………

شرمینہ رو رہی تھی ۔۔۔۔ اپیسوڈ کے ختم ہوتے ہی اس کی ہچکی سی بند گئ تھی ۔۔۔

” کیسا ظالم شخص ہے یہ احتشام بھی ۔۔۔۔۔ کیسے

شرمینہ کو بارش میں باہر نکال دیا ۔۔۔ اسے بارش سے ڈر لگتا تھا جیسے مجھے لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔ رات کے اندھیرے میں وہ اکیلی کیسے باہر لان میں برستی بارش میں رات گزار سکتی ہے۔۔۔۔ کیسے خوف سے کانپ رہی تھی وہ ۔۔۔۔ اففف افففف اللہ جی رحم کریں شرمینہ پر ۔۔۔۔ میں بھی شرمینہ ہوں اسی کی ہم نام ۔۔۔۔ جب اس پر ظلم ہوتا ہے تو ۔مجھے لگتا ہے میں اسکی جگہ کھڑی ہوں ۔۔۔ وہ روتی ہے تو میرے بھی آنسوں نکل آتے ہیں یہ مرد کیوں ذرا سی بات کو انا کا مسلہ بنا کر عورت پر ظلم کے پہاڑ توڑے دیتے ہیں ” ہاتھ میں پکڑے رسالے کو اس نے بند کر کے اس نے ایک طرف رکھا ۔۔۔۔ شرمینہ بارویں جماعت کی طلبہ تھی ۔۔۔ اکلوتی ہونے کے ناطے ذیادہ تر تنہائی کا شکار رہتی تھی ۔۔۔

اس لئے کالج کی دوستوں نے مشورے پر ڈائجسٹ پڑھنے لگی ۔۔۔ مل نرم دل تھی احساس سے بھرپور دل سینے میں رکھتی تھی جب بھی کوئی کہانی پڑھتی تھی تو ارد گرد سے بے خبر سی ہو جاتی تھی ۔۔۔ اسی کہانی میں کھو کر انہیں کرداروں کو خود میں محسوس کرتی تھی ۔۔۔۔۔

“شرمینہ ” رفعت بیگم نے اس کے کمرے پر دستک دی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں اکلوتی بیٹی کی آنکھوں میں آنسوں دیکھ کر پریشان ہوئیں۔ تھیں ۔۔۔۔

” شرمینہ ۔۔۔ چندہ رو کیوں رہی ہو آنکھیں کیسے رو رو کر سرخ ہو گئیں ہیں ” رفعت بیگم اسکے پاس آ کر بیٹھ گئیں فکرمندی سے پوچھنے لگیں

” کچھ نہیں امی رو تو نہیں رہی بس سو کر اٹھیں تھی اس لئے انکھیں مسلنے سے سرخ ہو گئیں ہوں گئیں” شرمینہ کی زبان جھوٹ پر لڑکھڑائی تھی

جھوٹ سے چغلی کھاتی آنکھیں جھکیں تھیں

” اچھا چلو باہر آؤ ۔۔۔۔ دیکھوں موسم کیسا ابر آلود ہو رہا ہے ۔۔۔۔ ابھی دیکھنا کچھ ہی دیر میں بارش شروع ہو جائے گی ۔۔۔۔ ” رفعت بیگم موسم کے بدلتے تیور دیکھ کر آ رہیں تھیں بارش کا سن کر شرمینہ کو ناول کاسین یاد ا گیا ۔۔۔

” بارش ۔۔۔۔ ” وہ کچھ متذبذب سی ہوئی تھی

” ہاں بیٹا چلو باہر آؤں ۔۔۔۔ بارش کو انجوائے کریں ۔۔۔ تم کیا کمرے میں۔ بیٹھی رہتی ہو ” رفعت بیگم شرمینہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر لے آئیں ۔۔۔۔

بارش شروع ہو چکی تھی لیکن شرمینہ باہر لان میں نہیں گئ تھی اندر ایک خوف سی لہر تھی اسے یہ خوبصورت موسم بھی ہولناکی کا منظر ہی پیش کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ذہن میں کہیں وہ اب بھی ناول میں موجود تھی ۔۔۔۔بارش کا یہ سلسلہ رات تک وقفے وقفے سے جاری رہا تھا رات شرمینہ سونے کے لئے اپنے کمرے ۔میں آئی تو بارش ذرا سی تھمی تھی لیکن ختم نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ ہوا بھی بہت تیز چل رہی تھی ہوا کی ژوں ژوں کی آواز اور بارش کی بوندیں جب ہوا کے دوش سے کھڑکی پر ٹکرانے لگیں تو چھن چھن کی آواز سے ارتعاش سا پیدا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ بجلی کی تیز چمک نے جب شرمینہ کے اندھیرے کمرے کو یک دم روشن کیا تو اس کا دل دہل سا گیا تھا ۔۔۔۔ اپنا کنفرٹر اس نے کھنچ کر منہ تک کیا تھا ۔۔۔۔ ایسی بارش پہلی بار تو نہیں ہوئی تھی لیکن اسے آج ذیادہ خوفناک سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔ آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی تو ۔۔۔۔ اسے لگا کوئی لاونج کا دروازہ دھڑدھڑا رہا ہے

خوف سے دل کی دھڑکنیں بڑھائیں تھیں۔ شرمینہ نے آنکھیں بند کر لیں منہ میں سورتوں کا ورد شروع کر دیا زور سے آنکھیں میچیں اس کے صرف ہونٹ جنبش کر رہے تھے ۔۔۔

اسے لگا لاونج کا دروازہ تیز ہوا سے نہیں بلکہ ناول کی شرمینہ کے روز سے کھٹکھٹانے سے بج رہا ہے وہ باہر بارش میں کھڑی رو رہی ہے احتشام کی منتیں کر رہی ہے پلیز احتشام دروازہ کھول دو ۔۔۔۔

لیکن وہ شخص بے حس سا اندر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔

کافی دیر تک وہ یونہیں ڈرتی رہی ۔۔۔ اس کے بعد نا جانے کب نیند اس پر مہربان ہوئی تھی ۔۔۔۔

*******…….

زکی نے ایک فائنل سامنے بیٹھے شخص کے سامنے پھنکی تھی

” وہی گھسی پٹی سی کہانیاں ۔۔۔۔ آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتا ہے فراز صاحب مجھے کچھ نیا چاہیے ۔۔۔۔ سم تھنگ از ڈفرنث ” فراز صاحب کی تیوری چڑھی تھی اس کم عمر ڈایکٹر کو دیکھ کر

” زکی صاحب آجکل تو ایسی ہی کہانیوں کی ڈیمانڈ ہے ۔۔۔ آپ کو نہیں پسند تو آپکی مرضی ہے مجھے تو اور بہت سی اچھی جگہ سے آفر ہو چکیں ہیں ” سامنے بیٹھے فراز صاحب جو کے پچاس کے لگ بھگ تھے اپنی کہانی کی فائل اٹھا کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔

” فراز صاحب میں نے آپ کو جانے کے لئے نہیں کہا ہے پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔ اور پلیز ویسا ہی کچھ لکھنے کی بھی کوشش کریں جیسا میں چاہتا ہوں ” زکی کی بات پر فراز صاحب پیشانی پر بل ڈالے بگڑے ہوئے تیور سے دوبارہ سے بیٹھ گئے تھے

” جی فرمائیے کیسی کہانی چاہتے ہیں آپ اپنے ڈرامے کے لئے ” زکی اپنی ریوالونگ چیر پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا

” دیکھیں فراز صاحب میں جانتا ہوں آپ کا ایک نام ہے ایک نامور لکھاری ہیں آپ ۔۔۔ لیکن یار وہی روڈ ہیرو ۔۔۔۔ ایک سیاستدان کا بیٹا یا زمیدار کا بیٹا جو کہ بگڑا سا نواب ہے یا پھر وہ لڑکا جو امریکہ سے ڈگریاں لیکر پاکستان میں آتا ہے اور چند سالوں میں اپنے بزنس کی دھاک بیٹھا دیتا ہے ۔۔۔۔ ہم اسی کو ہیرو بنا کر کیوں عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔۔۔۔ پھر وہی ہر دوسرے چینل پر چلنے والی اسٹویز ۔۔۔ بزنس مین کو پورا شہر چھوڑ کر ایک عام سی مڈل کلاس لڑکی جو کے اسی کے آفس میں عام سی امپلائے ہوتی ہے ۔۔۔ وہ پسند آ جاتی ہے اور زمیدار کے بگڑے نواب کو عام سی مڈل کلاس یونیورسٹی کی لڑکی پسند آ جاتی ہے جس سے وہ زبردستی شادی کر لیتا ہے ۔۔۔۔ آپ کو نہیں لگتا فراز صاحب یہ سب ایک خواب جہان کی باتیں ہیں ۔۔۔ اونلی امیجینش ۔۔۔۔۔ ؟” سامنے بیٹھے فراز صاحب گلاس پکڑے گھونٹ گھونٹ ٹھنڈی بوتل پی رہے تھے زکی کو لگا کہ وہ اسکی بات کو توجہ سے سن نہیں رہے ۔۔۔

۔”۔۔۔۔ دیکھیں مجھے ایک عام سے شخص کی کہانی چاہیے ۔۔۔۔ “۔ زکی ڈاریکشن کی لائن میں ایک ابھرتا ہوا نیو ٹیلنٹ تھا ۔۔۔ جس میں کچھ الگ سا کر دیکھانے کی چاہ تھی ۔۔۔ وہ سامنے رکھے پیپر ویٹ کو ٹیبل پر گھماتے ہوئے سامنے بیٹھے شخص کو یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ الگ سا کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ فراز صاحب نے خالی گلاس ٹیبل پر رکھا

” جی تو میں لکھ دیتا ہوں ایک غریب سا لڑکا ہو گا

جو اپنی غربت اور افلاس کو ختم کرنے کے لئے ساری جمع پونجی لگا کر بیرون ملک چلا جاتا ہے اور وہاں اسکی ملاقات ۔۔۔۔۔ “

“کسی رئیس یااسکی بیٹی سے ہو جاتی ہے اور پھر انکی محبت بھری کہانی شروع ہو جائے گی ۔۔۔ اور وہ رات و رات امیر ہو جائے گا ۔۔۔۔ ” زکی نے چڑ کر اگے کی کہانی سنائی تھی فراز صاحب مسکرانے لگے

” جی بلکل آپ ٹھیک سمجھے ہیں” فراز صاحب مطمئن ہوئے تھے کہ چلو اونٹ کسی کروٹ تو بیٹھا

” فراز صاحب اس کے علاؤہ کوئی اور آپشن ہے؟ ” زکی زچ سا ہو کر رہ گیا تھا جو وہ بنانا چاہتا تھا فراز صاحب وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کچھ دیر فراز صاحب سوچنے لگے پھر یوں مسکرائے جیسے مسلہ ہو گیا ہو

” ایک امیر کیبر ڈون شخص کا رائٹ ہینڈ بھی ہم ہیرو کو بنا سکتے ہیں ۔۔۔۔ آج کل تو ایسے ڈراموں کی مانگ بھی بہت ہے ۔۔۔ ہیرو کی اگر رنگت بھی کچھ ۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے فراز صاحب مزید کچھ بولتے زکی نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا تھا

” اوہ پلیز فراز صاحب ۔۔۔۔ مجھے ایک ہٹ ڈرامے کی کاپی نہیں کرنی ۔۔۔۔ مجھے کچھ ایسا ہٹ ڈرامہ بنانا ہے جس کو دیکھ کر لوگوں کی سوچ بدل جائے ۔۔۔۔۔ “

” ہاں تو اس ڈرامے سے لڑکیوں کی سوچ میں واضع فرق آ گیا ہے ۔زکی صاحب۔۔ سانولے لڑکوں کی ڈیمانڈ مارکیٹ میں بہت بڑھ گئ ہے ” زکی مجبورا بڑے ضبط سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ جو اسے ایک کہانی کے بجائے لڑکوں کےمارکیٹ ریٹ بتا رہے تھے ۔۔۔۔

” آپ جا سکتے ہیں فراز صاحب اگلی بار کچھ نیا لکھ کر لائیے گا ” زکی کو لگا کہ اگر اب یہ شخص کچھ بھی بولا تو اس کے ہاتھ سے ضائع ضرور ہو جائے گا

” تو پھر ہیرو کا نام شیر زاد کیسا رہے گا ” فراز صاحب نے ہیرو کا نام بتا کر زکی کے صبر کا آخری امتحان لیا تھا

” وہ رہا باہر کا دروازہ ” زکی نے اپنے آفس کے دروازے کی طرف اشارہ کیا فراز صاحب اسکی بات کا مفہوم سمجھ کر بڑے غصے سے باہر نکل گئے تھے

سارے کے سارے لکیر کے فقیر ہیں ” ہاتھ میں پکڑا پیپر ویٹ اس نے ٹیبل پر پٹخا تھا ۔۔۔۔۔

*******………

جہاز نے پاکستان کی سر زمیں پر اپنے چراچرتے ٹائر جمائے تھے ۔۔۔۔ حازم نے تین سال بعد پاکستان میں قدم رکھا تھا ۔۔۔۔ دل میں دبی دبی امنگوں نے پھر سے سر اٹھایا تھا ۔۔۔۔ تین سال پہلے ہی اسکے والد نے اٹلی میں ہی مستقل قیام کافیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔ اپنا آبائی بنگلے نما محل لاڑکانہ میں ملازموں کے رحم وکرم پر چھوڑ رکھا تھا ۔۔۔۔ اور کراچی میں ایک پوش علاقے کا بنگلہ بلکل بند پڑا تھا۔۔۔۔۔ رشتے دار کے طور ایک پھپو ہی تھی اسکی کراچی میں ۔۔۔۔ والد کی ایک ہی بہن تھی ۔۔۔۔ والدہ کے رشتے دار لاڑکانہ میں مقیم تھے ۔۔۔۔ خود بھی اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا اور رفعت پھپو کی بھی ایک ہی بیٹی تھی ۔۔۔۔۔ جو عمر میں اس سے سات سال چھوٹی تھی ۔۔۔ سارا بچپن اس باربی ڈول جیسی کزن کے ساتھ کھیل کر اور اسکی معصومانہ باتیں سن کر گزرا تھا ۔۔۔۔ جب والد صاحب نے اٹلی جانے کا فیصلہ کیا تو سب سے ذیادہ مخالفت حازم نے کی تھی ۔۔۔۔۔ شرمینہ بھی سن کر اداس سی ہو گئ تھی لیکن چونکہ حا سے ڈرتی بھی تھی اس لئے اس کے جانے پر ذیادہ دکھی نہیں تھی ۔۔۔۔ اسوقت دسویں جماعت میں قدم ہی رکھا تھا ۔۔۔۔

پھپو کی تو بھتجے میں جان بستی تھی بھائی کے فیصلے نے دوست جیسی بھاوج کو دور کر دیا تھا

رفعت بیگم کا تو رو رو کر برا حال تھا سہیل صاحب نے بہن کو کندھے کے ساتھ لگا کر تسلی دی تھی ۔۔۔۔۔

“ہر سال تمہیں بلا لیا کروں گا اپنے پاس۔۔۔۔ کیوں فکر کرتی ہو ” سہیل صاحب نے بہن کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا

” رہنے دیں بھائی آپ کے جھوٹے دلاسے مجھے مطمئن نہیں کر سکتے خود تو ساری زندگی پردیس میں گزار دی اور اب بھابھی اور حازم کو بھی لے جا رہے ہیں میرا تو مانو میکہ ہی آپ نے چھین لیا ہے ” رفعت بیگم کے پاس ڈھیروں شکوے تھے ۔۔۔۔ سہیل صاحب نے مدد طلب نظروں سے بیوی کی طرف دیکھا کہ شاید وہ رفعت بیگم کو سمجھانے کی کوشش کرے لیکن وہ خود موٹے موٹے آنسوں بہا رہی تھی ۔۔۔۔

” شائشتہ تم بھی ؟ سہیل صاحب نے متعجب ہو کر بیوی کو دیکھا تھا

” ہاں تو اور کیا کرو سہیل ۔۔۔۔ غیر ملک غیر لوگوں میں مجھے لے جارہے ہیں میرا دل کہاں لگے گا ۔۔۔ رفعت کے بنا ۔۔۔۔۔ ہم نند بھاوج کم اور دوست بن کر ذیادہ رہیں ہیں ۔۔۔۔ ” بیوی کی بات سن کر بس ایک

دوست جیسا بہنوئی ہی بچا تھا جو چہرے سے خاصا سنجیدہ لگ رہا تھا ہاتھ باندھے کھڑا تھا

” افضل یار تم کچھ سمجھاو ان خواتین کو میرے تو بس کی بات نہیں ہے ” سہیل کو بس اب افضل پر آس تھی

” تم نے بھی تو اچانک آتے ہی بم پھوڑا ہے سب کے سروں پر ۔۔۔۔ ابھی کل آئے اور دو دن بعد بیوی بچوں سمیت جانے کا ٹکٹ بھی کٹوا چکے ہو ۔۔۔۔ ” افضل خود دل میں شکوے لئے بیٹھا تھا ۔۔۔

بہرحال دو گھنٹوں کی منتیوں کے بعد معاملہ سنبھالا تھا کہ رات کو بیٹے نے اٹلی جانے کی ایک نئ شرط رکھ کر سہیل اور شائشہ کے اوسان خطا کر دیے تھے

” حازم تم پاگل تو نہیں ہو گئے ہو ۔۔۔۔ ابھی بچی ہے وہ دسویں جماعت میں پڑھتی ہے ۔۔۔ “

” میں نے صرف نکاح کا کہا ہے ڈیڈ رخصتی کا نہیں ۔۔۔ میں آپ کے ساتھ اسی صورت اٹلی جاؤں گا جب آپ میرا شرمینہ سے نکاح کریں گئے ۔۔۔ نا جانے واپسی کب ہو چار سال بعد۔۔۔ یا ۔۔۔ پانچ سال بعد پھپو اسے صرف بچپن کی ایک بات پر بیٹھا کے تو نہیں رکھیں گئیں افضل انکل آج اس رشتے پر دل وجان سے راضی ہیں ہو سکتا ہے پانچ سال بعد انہیں شرمینہ کا پاکستان میں کوئی بہتر رشتہ مل جائے پھر وہ کیوں اپنی اکلوتی بیٹی کو اتنی دور ۔کیوں بھیجیں گئے ۔۔۔ ڈیڈ میں نے بچپن سے صرف شرمینہ کو ہی اس نظر سے دیکھا ہے ۔۔۔۔ اور آپ لوگوں نے بھی میرے ذہن صرف یہی ڈالا تھا تھا آپکی بہو صرف شرمینہ بنے گی ۔۔۔۔ ” حازم کی بات نے دونوں میاں بیوی کو متذبذب سا کر دیا تھا ۔۔۔۔

دوسرے دن جب یہی بات انہوں نے رفعت اور افضل کے سامنے رکھی کہ حازم کے کیاارادے ہیں مگر ان دونوں نے خوشی سے رضا مندی دی تھی ۔۔۔

لیکن شرمینہ ضرور پریشان ہوئی تھی ۔۔۔ ہمیشہ اسے حازم بھائی کہتی آئی تھی ۔۔۔۔ پھر اکلوتی تھی تو لا ابالی پن اور معصومیت بہت ذیادہ تھی ۔۔۔۔

وہ کزن تھا یہاں تک بات ٹھیک تھی ۔۔۔ لیکن نکاح کاسوچ کر وہ پریشان ہوئی تھی کم عمری میں ایک ایسے رشتے میں بندھ جانے کاسوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ جہاں حازم اس کا خیال رکھتا تھا وہیں رعب بھی جماتا تھا ۔۔ کسی غلط بات پر ڈانٹ بھی دیتا تھا ۔۔۔ اپنی کم عمری اور لاڈلے پن کی وجہ سے

اسے حازم کا یوں ڈانٹ دینا پسند نہیں تھا ۔۔۔۔

اور اب نکاح ۔۔۔۔ ظاہر ہے اتنا تو سمجھتی تھی کہ آج نہیں تو کل شادی تو اسی سے ہو گئ ۔۔۔۔ شوہر کی حثیت سے وہ حازم کو دل سے قبول نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اس عمر میں انکار کا کوئی جواز بھی اس کے پاس نہیں تھا ۔۔۔۔ ماں باپ راضی تھے ۔۔۔۔

اس لئے اگلے روز سادگی سے نکاح کی رسم بھی ادا ہو گئ تھی ۔۔۔۔

حازم کے ساتھ بیٹھتے ہی وہ سمیٹ سی گئ تھی ۔۔۔۔ پہلی بار اتنی بھاری میکسی پہنی تھی پہلی بار میک اپ بھی پارلر سے کروایا تھا حالانکہ شائستہ بیگم نے اپنے تہی ایک سمپل سی آف وائٹ میکسی ہی پسند کی تھی لیکن شرمینہ ہے لئے وہ بھی سنبھالنا مشکل تھی ۔۔۔ دل میں حازم کو لیکر کوئی امنگ نہیں تھی ۔۔۔۔ وہ بڑا تھا اس سے اور اکثر اسے پڑھانے بھی بیٹھ جاتا تھا ۔۔۔۔ جس دن اس سے کسی سبجیکٹ کا سیٹ لیتا تھا تو شرمینہ کی اچھی شامت سی ا جاتی تھی ۔۔۔۔

اس سے ڈرتی بھی بہت تھی ۔۔۔۔۔ اس کے سامنے بات بھی ٹھیک سے نہیں کر پاتی تھی نا ہی اس کے جذبوں سے واقف تھی بس یہ پتہ تھا کہ ماموں ممانی اور ماں باپ نے باہمی مشورے سے دونوں کو اس رشتے میں باندھ دیا ہے ۔۔۔۔۔

حازم نے بھی اس سے کبھی اس قسم کی باتوں کا اظہار نہیں کیا تھا ۔۔۔ کہ وہ اس کے لئے کتنی اہمیت رکھتی ہے ۔۔۔۔ کیونکہ شرمینہ کی عمر ہی ایسی نہیں تھی ۔۔۔۔س قسم کی باتیں وہ اس سے کرتا ۔۔۔۔

دل نے بار ہا نکاح کے بعد ایک ملاقات کی ضد بھی کی تھی ۔۔۔۔ لیکن جس قدر وہ سمیٹ کر بیٹھی تھی میک اپ بھی اسکی بد حواسی کو چھپا نہیں پا رہا تھا اس لئے حازم نے اپنے دل کے جذبات کو تھپکی دے کر سلایا تھا ۔۔۔۔

اگلے روز اٹلی کی فلائٹ تھی سب ہی ائیر پورٹ تک انہیں چھوڑنے گئے تھے ۔۔۔۔ شرمینہ ابھی بھی نروس سی تھی جب شائستہ بیگم نے اسے گلے لگایا تھا ۔۔۔۔ سہیل صاحب پہلے رفعت سے ملے تھے جو اب بھی أبدیدہ ہو گئ تھیں پر شرمینہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا ۔۔ حازم کی نظریں گاہے بگاہے صرف شرمینہ پر تھی آنکھوں میں سمو لینا چاہتا تھا اس کا چہرہ نا جانے پھر کب ملاقات ہو ۔۔۔۔ جانے سے پہلے اس نے شرمینہ کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا تھا یہ ایک حق تھا جو وہ استعمال کیے بنا جانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔ شرمینہ نروس تو۔ ے حد تھی لیکن پھر اسکی جانب ہاتھ بڑھا دیا حازم کے چہرے پر دلفریب سی مسکراہٹ تھی اور تو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا اس لئے بس اتنا ہی کہا

” یہ نا ہو کہ تم پڑھائی پر توجہ چھوڑ دو ۔۔۔ پھپو سے تمہارے رزلٹ کے بارے میں پوچھتا رہو گا ۔۔۔۔ ” اس کے ہاتھ کو بہانے سے اپنے ہاتھ میں ذیادہ دیر رکھنے کا یہی طریقہ تھا

” جی ۔۔۔” شرمینہ کی پہلے ہی اس کے رعب سے جان جاتی تھی پھر پڑھائی کا سن کر تو مزید دھڑکنیں بڑیں تھیں حازم نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ پھر پلٹ کر نہیں دیکھا سب سے پہلے وہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے اندرونی دروازے سے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ اب اگر پلٹ کر دیکھتا تو بڑاشکل تھا اسے چھوڑ کر جانا ۔۔۔۔ کئ بار حازم نے رفعت سے فون پر بات کی شرمینہ کا ہر پوچھتا تھا کیسی ہے پڑھائی کیسی جا رہی ہے اسکی ۔۔۔ کئ بار ہچکچاتے ہوئے پھپو سے یہ بھی کہا کہ شرمینہ سے بات کروا دیں ۔۔۔ لیکن وہ ہنس دیتیں تھیں

” تمہارا نمبر دیکھ کر تو رنگ اڑ جاتا ہے اس کا کمرے بھاگ جاتی ہے ۔۔۔۔ شرما جاتی ہے ۔۔۔۔ ورنہ میں کیوں پابندیاں لگانے لگیں ۔۔۔۔ ” رفعت بیگم ہنس کر جواب دیتیں اپنا موبائل وہ حازم کا نمبر دیکھتے ہی آف کر دیتی تھی ۔۔۔۔

بس اپنے اپنے رزلٹ کی مارک شیٹ سے واٹ ہ کر دیتی تھی۔۔۔۔ اچھے گریٹ سے انٹر اس نے میڈیکل سے پاس آؤٹ کیا تھا ۔۔۔۔

لیکن بہت شرمیلی اور عدم اعتماد والی لڑکی تھی ۔۔۔ میڈیکل بھی اپنی چوائس پر نہیں بلکہ حازم کی خواہش پر لیا تھا ۔۔۔۔ یہ نہیں کہ حازم کی محبت میں ٹال نہیں پائی تھی بلکہ خوف کے مارے انکار نہیں کر پائی تھی ۔۔۔ تین سال میں حازم نے نا اسکی آواز سنی تھی نا سے دیکھا کہ اب کیسی دیکھتی ہے۔۔۔۔۔ اب بھی سرپرائز دینے کے لئے ہی بنا پیشگی اطلاع کے کراچی پہنچا تھا ۔۔۔۔ اب دل کی۔ بیقراریوں میں اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔

پورا راستہ بڑی مشکل سے کٹا تھا ۔۔۔ کبھی نکاح کی میکسی میں وہ ملبوس نظر آتی تو کبھی ائیر پورٹ مین وقت رخصت گھبرائی ہوئی سی اس سے ہاتھ ملاتی ہوئی ۔۔۔۔

********………..

” جمال صاحب آپ کو میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میرا نمبر آپ میرے کسی بھی فین کو نہیں دیں گئے ۔۔۔ ہم لکھاری آپ لوگوں پر بھروسہ کر کے اپنا کانٹیکٹ نمبر آپ کو دیتے ہیں ۔۔۔ ” مہرونساء رسالے کے ایڈیٹر پر باہم ہو رہی تھی

” دیکھیں میں آفس میں موجود نہیں تھا آپکے فین کا تو تانتا سا بندھنے لگ گیا ہے ۔۔۔۔ لڑکے لڑکیاں آپ۔ سے بات کرنے کو بے تاب نظر آتے ہیں ۔۔۔ آپ کے ناول میری جان سب کی جان بن چکا ہے ۔۔۔۔۔ “

” دیکھیں یہ سب تو میرے ہر ناول پر ہوتا ہے ۔۔۔۔ لیکن اس بار ڈمپ کالز کی وجہ سے میں تنگ آ چکی ہوں ۔۔۔۔ میں سیم چینج کر رہی ہوں اور اپنا نمبر آپ کو بھی نہیں بتاؤں گی “

” ایم سوری مہرو نساء لیکن ” مہرو نساء نے کال ڈسکنکٹ کی تھی ۔۔۔۔

کئ لڑکے لڑکیوں کی کالز آ رہیں تھیں ۔۔۔۔ ناول کے ساتھ ساتھ اسکے حسن کے قصیدے بھی شروع ہو چکے تھے ۔۔۔ جب تک اس نے اپنی تصویر نہیں بھیجی تھی تب تک سب کو یہ لگتا تھا کہ لکھنے والی کوئی خاتون ہو گئیں ۔۔۔۔ رسالے کے آخری صفحات پر اسکی تعریف ہوتی تھی ۔۔۔ بہت سی خواتین کے ساتھ ساتھ مرد حضرات بھی اسکی رومانوی انداز کو سراہتے تھے ۔۔۔ لیکن جب سے فضیلہ کے کہنے پر اس نے اپنی تصویر اپنی کہانی کے ساتھ بھجی تھی کہ لگا دی جائے نوجوانوں کے تبصرے بدلنے لگے تھے ۔۔۔ اسکے تعریفی کلمات میں اضافہ سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ پھر یونیورسٹی کے کئ لڑکے بھی آٹو گراف اور اسے ساتھ سیلفی کی ضد کرتے نظر آنے لگے۔۔۔۔۔ ایڈیٹر کو یہ فایدہ ہوا کہ اسکی کے رسالے کی مانگ اور بھی بڑھ گئ تھی ۔۔۔۔

پہلے پہل تو مہرو

کو بھی شہرت کا مزہ سا آنے لگا تھا ۔۔۔ لیکن ڈمپ کال اور رومانوی اور جذباتی محبت قسم کے مسجز پڑھ کر وہ تنگ آ چکی تھی اس لئے پہلی فرصت میں سم بدلی تھی ۔۔۔۔ پھر یونیورسٹی میں بھی خاص کلاسز لیکر وہ چلی جاتی تھی ۔۔۔۔ گھر میں اسکی بہن کی شادی کی تیاریاں چل رہیں تھیں ۔۔۔ ۔۔۔۔ شادی کی وجہ سے اس نے باقی ساری ایکٹی ویٹی چھوڑ دی تھیں ۔۔۔۔

مہندی پر اس نے لہنگے کے بجائے لائٹ گرین سی میکسی پہنی تھی ۔۔۔۔ مہرونساء کاشمار خوبصورت

لڑکیوں میں ہوتا تھا ۔۔۔۔ بال کندھوں سے کدھرے نیچے تھے ۔۔۔۔ گوری رنگت ستواں ناک نیم باز لمبی لمبی پلکیں ۔۔۔۔ اس پر بلا کااعتماد ۔۔۔ ہال میں سب کی نظروں کے حصار میں تھی ۔۔۔۔ بہن اور بہنوئی کے ساتھ رسم حنا ادا کر کے بہنوئی سے ساتھ ہی بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔

” کل بارات ہے ارمان بھائی ذرا جیبیں بھر لائیے گا ۔۔۔ ” مہرو کی بات ارمان مسکرانے لگا ۔۔۔

” ہاں ہاں اپنے سارے گولک میں آج ہی اسٹور سے باہر نکال کر آیا ہوں ۔۔۔۔ کل میری جیب سے تمہیں ریزگاری اچھی مل جائے گی ” ارمان کی بات وہ اسے تعجب سے غورنے لگی تھی

” ارمان بھائی میں کوئی فقیر ہوں ؟ اپنے گولک آپ سنبھال کر رکھیں میں تو چیک پر بھروسہ رکھتی ہوں ” ارمان بھی اسے مزاق میں پریشان کر رہا تھا

” کل کی کل دیکھی جائے گی ابھی میرے ساتھ تمہیں کسی ملواتا ہوں طعبیت باغ باغ نا ہو جائے تو پھر کہنا ۔۔۔۔کہ کہہ وہ اسٹیج سے اٹھ گیا تھا کیونکہ رسم حنا ادا ہو چکی تھی مہرو کاہاتھ پکڑے ۔۔۔ وہ اسے مہمانوں کے بیچ لے جانے لگا

” ارمان بھائی کس ملوانا ہے مجھے ؟” مہرو کو بھی دلچسپی سی ہو رہی تھی

” ہے ایک میرادوست تھوڑا خبطی سا ۔۔۔ آج کل اسے ایک اچھے رائٹر کی تلاش ہے ۔۔۔ مجھ سے ذکر کیا تو مجھے تمہارا خیال آ گیا ۔۔۔۔ اگر تمہاری کہانی پیکچرائز ہو جائے تو کیاجرج ہے ۔۔۔۔ ” ارمان کی بات سن کر مہرونساء کو لگا کہ خواب دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔ ایک حسین خواب ۔۔۔۔ ایک نئ نئ رائٹر کے لئے ایسا ہو جانا کسی معجزے سے۔ نہیں تھا ۔۔۔

دو سال سے وہ ایک ڈائجسٹ میں لیکن رہی تھی بلا شبہ اسکی کہانی کے دلدادہ بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں تھیں ۔۔۔ لیکن ڈرامے کی تو بات ہی الگ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ ارمان ایک شخص کے عقب اسے ل جا کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس اس شخص کی ارمان اور مہرونساء کی جانب پشت تھی کسی اور شخص سے وہ محور گفتگوں تھا ۔۔۔۔

” زکی ” ارمان کے پکارنے پر بے ساختہ وہ پلٹ کر ارمان کو دیکھنے لگا ۔۔۔

اچھا خاصا خوش شکل سا نوجوان تھا ۔۔۔ ہاتھ سوفٹ ڈرنک کا کلاس پکڑے مسکرا رہا تھا

” مل گئ تمہیں رسموں سے فرصت ۔۔۔ آگیا دوستوں کا بھی خیال ” زکی نے ارمان سے شکوہ کیا تھا ۔۔۔۔۔

چند پہلے ہی اس نے اپنی پریشانی کا تذکرہ ارمان سے کیا تھا اسی وقت ارمان نے اس سے مہرونساء کے بارے میں ذکر کیا تھا ۔۔۔۔

” اپنی شادی میں دولہا دوستوں کو کم میسر آتا ہے ۔۔۔ اینی وئے ان سے ملو زکی یہ ہے میری چھوٹی سی کزن ۔۔۔ پلس بہن اور پلس سالی صاحبہ ۔۔۔ ” ارمان نے مہرونساء ک تعارف کرواتے ہوئے کہا زکی نے پہلے مہرو پر بس اچٹتی سی نظر ڈالی تھی ۔۔۔ لیکن تعارف کے بعد ایک بھر پور نظر سے نوازہ تھا

” ہیلو ” مسکرا زکی نے بات کی ابتدا کی تھی

” ہائے ” جوابا مہرو نے مسکرا کر کہا تھا ۔۔۔ مہرو نے بھی خوش دلی کا مظاہرہ کیا تھا

” اور پلس اور بھی ہے ۔۔۔ یہ ڈائجسٹ میں لکھتی بھی ہیں ” جب یہ سنا تھا کہ ارمان اسے ایک ڈریکٹر سے ملوانا چاہتا ہے تووہ ایک ادھیڑ عمر شخص کا سوچے بیٹھی تھی ۔۔۔ لیکن وہ قدرے جوان تھا ۔۔۔ جیسی حیرت مہرو کو زکی کو دیکھ کر ہوئی تھی ایسی ہی حیران نظریں زکی کی بھی مہرو کی طرف اٹھیں تھیں ۔۔۔۔ وہ یہی سمجھا تھا خاصی بڑی عمر کی اور تجربہ کار خاتون ہو گئیں ۔۔۔۔ زکی بڑے غور سے مہرو کو دیکھا پھر ہسنے لگا ۔۔۔

” ارمان تمہیں نہیں لگتا یہ رائٹر کے حساب سے کافی کم عمر ہیں ” مہرو نساء یہ اپنی تعریف کم اور تمسخر ذیادہ لگا تھا

” میں سمجھی نہیں مسٹر ” مہرو نساء کی پہلے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی ۔۔۔ کافی تنے ہوئے لہجے سے مہرو نے زکی سے پوچھا تھا

” صاف سا مطلب ہے محترمہ کم عمر لڑکی کا بھلا کیاتجربہ ہو سکتا ہے سوائے ستائش کے۔۔۔۔۔۔ شوق کی خاطر ایک رومانوی کی تحریر لکھ کر چند جمعلے تعریف کے سن لینا اور بات ہے اور جامع تحریر کو اس کے پورے احساسات کے رنگوں میں ڈوب کر لکھنا ایک الگ بات ہے ۔۔۔۔ اور س کے ایک عمر اور تجربے کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔۔۔ جس کے سانچے میں آپ مجھے کہیں سے فٹ نظر نہیں آ رہی ” اتنی صاف گوئی پر مہرو اندر سے سلگ سی گئ تھی ۔۔۔۔ ایک اسکے پرستار تھے جو اسکی تحریر پڑھ کر اسکے سودائی ہوئے جارہے تھے اور ایک یہ شخص تھا کہ بنا اسکی تحریر کو پڑھے ۔۔۔۔ اسے نا تجربے کار ثابت کر رہا تھا پچھلے دو سالوں سے وہ لکھ رہی تھی ۔۔۔۔ جتنی شہرت وہ نئ نسل میں پا چکی تھی یوں خود پر کھلی تنقید اس سے کہاں برداشت تھی

” مجھے تو آپ بھی کہیں سے ڈایکٹر نہیں لگتے ۔۔۔۔ کیونکہ ایک معیاری ڈرامہ بنانے کے لئے بھی ایک عمر اور تجربہ ہونا لازمی ہے ۔۔۔ اس سانچے میں تو بھی فٹ نہیں آتے ۔۔۔۔ معاف کیجیے مسٹر زکی میں نے تو آج تک کسی ہٹ ڈرامے کی ڈاریکشن میں آپ کا نام بھی نہیں پڑھا ” بڑے آرام سے وہ اسے بھی تنقید کا نشانہ بنا گئ تھی ۔۔۔۔ اس بار زکی نے ایک ابرو چڑھا کر بڑی دلچسپی سے اس دھان پان سی لڑکی کو دیکھا ۔۔۔۔

” ہممم انڑسڈ نگ ” پھر اپنی جیب سے ایک کارڈ نکال کر اسکی طرف۔ بڑھایا

“یہ میرے آفس کا کارڈ ہے ۔۔۔۔ ارمان کی شادی کے بعد آپ سے ایک تفصیلی ملاقات کا میں دل سے متمنی رہو گا ۔۔۔۔ تشریف ضرور لائیے گا مس مہرو ۔۔۔ پھر بات کریں گئے آپ کی تحریر کو دیکھ لیں گئے تو اپنے تجربے کو بھی ” زکی کو لگا لڑکی کچھ بات تو ضرور ہے ۔۔۔ نہرو نے بھی ایک اداسے کارڈ اس سے لیا تھا جیسے اس پر احسان کر رہی ہو ۔۔۔۔