186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 31

Meri Jaan by Umme Hani

مہرونساء اپنے کمرے میں آ گئ زکی کی باتوں کے بارے میں سوچنے لگی تھی کیسا عجیب شخص تھا ناکامیوں سے گھبراتا نہیں تھا مہرونساء کو سب سے ذیادہ حیرت اس بات پر تھی کہ وہ جانتا تھا کہ اسے عزت ڈرامے میں بری طرح سے نا کامی ملے گی لیکن پھر اس نے بنایا ایک سال میں کمائی اپنی شہرت اور اپنا نام وہ کیوں ڈبو رہا تھا ؟ کیاصرف لوگوں کو سچ کی کڑوی گولی کھلانے کے لئے ؟۔۔۔ جس فیلڈ سے وہ منسلک تھا وہاں لوگ شہرت کے بھوکے ہوتے ہیں

پیسوں کے دلدادہ ہوتے ہیں حلال حرام انکی نظر میں سب جائز ہوتا ہے بس پیسہ اور شہرت ۔۔۔ شہرت اور پیسہ سوشل میڈیا میں آنے والے ہر شخص کی یہی بھوک ہوتی ہے ۔۔۔ ایک معمولی سے اداکار بھی شہرت کی خاطر گھر سے بھاگ جانے سے بھی گریز نہیں کرتی ۔۔ اپنے حسن کو بے باک کرنے سے بھی نہیں گھبراتی پیسہ ضرورت ہوسکتا ہے لیکن شہرت ؟ شہرت کی بھوک ایسی ہوتی ہے بہت جلد انسان کو اسکے معیار سے گرا دیتی ہے ۔۔۔

ایسی ہی شہرت کا نشہ کبھی مہرونساء نے بھی دیکھا تھا اس لئے جانتی تھی شہرت کی طلب کیسے دن بس دن بڑھتی رہتی ہے یہ ایسی بوک ہے کہ جتنی بھی ملے اتنی ہی طلب بڑھا دیتی ہے لیکن یہ شخص جسکا نام زکی تھا یہ تو کوئی اور ہی چیز تھا ۔۔۔ ڈاریکٹر تھا ۔۔کم عمری میں ایوارڈ یافتہ تھا شہرت کی بلندیوں کو چھو سکتا تھا بہت کم عرصے میں اپنے نام کی دھاک لوگوں کے دلوں میں بیٹھا چکا تھا کیونکہ عزت ڈرامے میں جتنی محنت زکی نے کی تھی ایک ایک سین کے لئے وہ کئ کئ گھنٹے سر کھپائی کرتا تھا یہ مہرودیکھ چکی تھی ۔۔۔ جب تک کہ وہ سین بسٹ طریقے سے ادا نا ہو جاتا زکی کو چین نہیں آتا تھا ۔۔ حیرت کی بات یہ بھی تھی کہ وہ دوسرے ڈاریکٹرز کی طرح جلدی اکتاتا بھی نہیں ایکٹرز پر چلاتا بھی نہیں تھا بار بار انہیں سمجھاتا تھا ۔۔ کہ ادکاری سمجھ کر مت کرو اس کردار کو اپنے اندر محسوس کرو ۔۔ کئ کئ گھنٹے وہ فاضل اور دوسرے اداکاروں کو اس کردار میں ڈھالنے کے بعد ان سے سین کرواتا تھا بس ایک یسرا تھی کہ جس پر محنت کم کرنی پڑتی تھی وہ لڑکی اپنے کریکٹر کو بہت جلدی فالو کر لیتی تھی ۔۔۔ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ مہرو رات دیر تک زکی کے بارے میں سوچتی رہی جتنا وہ اس کے بارے سوچتی اتنی الجھتی بھی جا رہی تھی ۔۔۔ اب تک یہ نہیں سمجھ پائی تھی کہ اسکی چاہت کیا ہے شہرت تو ہر گز نہیں ہے ۔۔۔ اور پیسہ ۔۔۔ پیسہ تو وہ خود لٹا رہا تھا ۔۔۔ وہ بھی ایک ایسی کہانی پر جس پر اسے یہ یقین تھا کہ فلاپ ہو جائے گی ۔۔۔ مہرو نے کروٹ بدلی توایک اور نئ سوچ نے اسے بے چین کیا تھا کتنے نامور ڈرامہ نگار موجود ہیں انڈسٹری میں جن کے نام دیکھ کر ہی لوگ اس ڈرامے کے ہٹ ہو جانے کا یقین کر لیتے ہیں اور ایسے ہی لکھاریوں کی کہانیوں پر ہی زکی نے بھی شہرت حاصل کی تھی

پھر مجھ جیسی عام سی لکھاری کی لکھی گئ کہانی پر کیوں اپناوقت اور پیسہ ضائع کر رہا ہے ؟ ۔۔۔ یہ بھی ایک گھتی تھی جو مہرو کی سمجھ سے باہر تھی

میں تو اس کہانی کو بھول بھی گئ جو میں نے درخت کے نیچے بیٹھ کر لکھی تھی اور وہ اسکے پاس ہے اتنی کچھ خاص کہانی بھی نہیں تھی گاؤں گوٹھوں میں ایسے واقعات عام ہیں لوگ کہاں دیکھنا اور سننا پسند کرتے ہیں لیکن اسے نا جانے کیوں ایسی کہانی میں دلچسپی تھی ۔۔ لوگوں کا تو ٹیسٹ ہی بدل چکا ہے انہیں رومانس دیکھنے میں دلچسپی ہے ایک پھڑکتی ہوئی لو اسٹوری ۔۔۔ کسی امیر زادے کی ضد اور انا کی کہانی جہاں تیس میں سے انتیس قسطوں میں وہ اپنی جارحیت کا مظاہرہ دیکھاتا رہے اور آخری قسط میں مسجد میں جا کر دو سجدوں پر چار آنسوں بہائے اور ہیروئن کے سامنے ہاتھ جوڑے وہ ہیرو لڑکیوں کا کرش بن جاتا ہے اور وہ ہیروئن جوانتیس قسطوں میں ہر طرح کے مظالم سہتی آ رہی ہوتی ہے وہ اسے معاف کر دیتی ۔۔۔۔ بس ہو گئ ہپی اینڈنگ

یہ ڈاریکٹر شاید پاگل ہے ” مہرونساء کو زکی کے بارے۔ میں ایک اچھوتا سا خیال آیا تھا ۔۔۔

ظلمت کے اندھیروں میں اسکے ڈرامے اگر چراغ کی مانند بھی ہوں گئے تو گلیمر کی تیز اور تند ہوائیں اس جلتے دیے کو بجھا کے رکھ دیں گئیں کیونکہ اسے صاف ستھرا پاکیزہ میڈیا چاہیے جو معاشرے کا کڑوا سچ بھی دیکھائے ؟ ۔۔۔ شاید جیل جانے کا شوق ہے اسے ۔۔۔لیکن میں بھلا کیوں اسکی خاطر خود کو خطرے میں ڈالو ؟ ۔۔۔

مجھے نہیں کرنا کوئی اگریمنٹ وہ بھی لائف ٹائم کا زندگی کا کچھ پتہ نہیں ہے نا جانے ایک سال میں میں کہاں ہوں گی اور وہ کہاں ہو گا ۔۔ کیسی عجیب سی باتیں کرتا ہے ڈاریکٹر شاید کچھ سر پھرا سا ہے ” ایک کے بعد ایک رائے تھی جو وہ زکی کو دے رہی تھی انہیں سوچوں کے تانے بانوں میں وہ سو چکی تھی

******…..

رات کے دو بجے یسرا کے فون کی بیل بجی تھی وہ گہری نیند سوئی ہوئی تھی اپنی امی کے بازو پر سر رکھے ہر فکر آزاد ہو کر بہت عرصے بعد یوں بے خبر سوئی تھی کل اسکی امی کی واپسی تھی ایک رات ہی اسے ماں کے ساتھ گزارنے کے لئے ملی تھی اسکی شادی شدہ بہن سے یہ خبر چھائی گئ تھی کہی۔ اسکے سسرال والوں کو یسرا کاعلم نا ہو جائے دوسری بہن کی شادی بھی ہے ہو چکی تھی فاصل نے اس لئے کسی کو خبر نہیں کی تھی چاہتا تھا سکی بہنوں کی شادی میں رکاوٹ پیدا نا ہو اس لئے منگنی گھر کے افراد کے درمیان ہی کی گئ تھی

یسرا نے موبائل بنا نمبر دیکھے جلدی سے اٹھایا تھا کہ کہیں اسکی والدہ کی آنکھ نا کھل جائے پھر دھیرے سے ہیلو کہا تھا

” سو تو نہیں رہی تھی ؟ میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا ” فاضل کی چہکتی آواز سن کر یسرا ںے ماتھے پر تیوری چڑھی تھی ۔۔۔ یہ کون سا وقت تھا ۔۔۔ وہ دھیرے سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئ

فاضل بیڈ کے کروان سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا

” فاضل میں امی کے ساتھ سو رہی تھی یہ کوئی وقت ہے کال کرنے کا ؟ اگر امی اٹھ جاتی تو ؟

” ایم سوری یار بس نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ بار بار تمہارا خیال تنگ کر رہا تھا مجھے لگا تم بھی میرے بارے میں ہی سوچ رہی ہو گی پھر میں نے سوچا کہ یار یہ بھی کوئی بات ہے تم اپنے کمرے میں میرے بارے سوچتی رہو میں اپنے کمرے میں تمہارے بارے میں سوچتا رہوں کیوں نا ہم بات چیت ہی کر لیں ذرا خیالات کا تبادلہ ہی ہو جائے گا لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ محترمہ گھوڑے گدھے بیج باچ کر سو بھی گئ ہے۔۔۔ میں ہی الووں کی طرح سے جاگ رہا ہوں کسی عاشق با مراد کی طرح ” یسرا فاضل کی بات سن کر زچ سی کوئی تھی

” فاضل شریف لوگ اس وقت سو ہی رہے ہوتے ہیں ” یسرا نے طنز کیا تھا

” تمہارا مطلب ہے میں شریف نہیں ہوں ؟ دیکھو یہ تم مجھ پر الزام تراشی کر رہی ہو حالانکہ سب جانتے ہیں کہ میں نہایت شریف لڑکا ہوں “

” آپ کی شرافت میں دیکھ چکی ہوں ” یسرا دوبارہ سے اس لڑکی کی تصویر یاد آئی تھی

” شرافت دیکھنے کے بعد بھی تم مجھ پر شک کر رہی ہو فاضل جان بوجھ کر بات لمبی کر رہا تھا لیکن یسرا نے بات کو مختصر کیا تھا

” آپ کی شرافت کا ثبوت میں آپ کے گھر آ کر دوں گی ” یہ کہہ کر یسرا نے فون رکھ دیا تھا اب وہ دوبارہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئ

فاضل نے نافہم سا منہ بنا کر فون بند کیا اور تکیہ درست کر کے لیٹ گیا

*******……..

زکی نا جانے کیوں پر یقین ساتھا کہ مہرو اس کاساتھ ضرور دے گی ۔۔۔ مہرو کا خیال آجکل اسے مسکرانے پر مجبور کر رہا تھا ۔۔

” کاش کے یہ لڑکی لائف ٹائم کا اگریمنٹ کر لے تا کہ میری لائف بن جائے زکی اب مہرونساء کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگا تھا یہی وجہ تھی کہ اگلے ہی روز اس نے ارمان کو کال کی تھی مہرونساء کے بارے میں وہ مختصر ہی جانتا تھا ۔۔

اسے یہ موم تھا کہ کسی لڑکے نے اس کے ناولز سے متاثر ہو کر اس سے شادی کی تھی لیکن وہ عیاش مزاج تھا امیر خیر زمیدار تھا زبردستی سے مہرونساء کو نکاح کے لئے مجبور کیا تھا اس لئے اسے جلد طلاق بھی دے دی تھی اور جتنا عرصہ مہرو نساء اسکے ساتھ رہی تھی اس نے مہرونساء کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہی برتا تھا۔۔۔ اس لئے وہ واپس آ جانے کے بعد بھی رہنا رہنا ہی پسند کرتی تھی اور مہرنساء سے پہلی ملاقات پر ہی وہ دیکھ چکا تھا مہرو کی ہر اذیت اس کے چہرے پر رقم تھی۔۔۔۔۔

“ارمان میں مہر کو اپنانا چاہتا ہوں ۔۔۔”زکی نے بنا تمہید باندھے کہا تھا لیکن ارمان کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا

“آر یو سیریس؟زکی “

“ظاہر ہے یار اتنی بڑی بات میں غیر سنجیدگی سے تو نہیں کہہ سکتا ۔۔۔۔مجھے مہر اچھی لگتیں ہیں “

“لیکن تم جانتے ہو جو حادثہ اس کے ساتھ ہوا ۔۔۔؟”

“وہ ایک حادثہ تھا ارمان میرے نزدیک اسکی اہمیت بس ایک حادثے جیسی ہی ہے جسے بھلا کر زندگی میں آگےبڑھ جانا چائیے ۔۔۔”

“ہمم لیکن مہر صاف کہہ چکی ہے کہ اس کے سامنے کوئی شادی کا نام بھی نا لے وہ کبھی بھی شادی نہیں کرنی چاہتی ” ارمان کی بات سن کر زکی کچھ ثانیے کے لئے خاموش سا ہو گیا تھا

پھر کہنے لگا کہ اگر میں مہر کو منا لوں تب تو کسی کواعتراض نہیں ہو گا ” زکی کی بات سن کر ارمان بے یقین سا ہی تھا کہنے لگا

کہنے لگا نیاز انکل تو یہی چاہتے ہیں مہرو شادی کے لئے راضی ہو جائے تو وہ اسکی شادی کر دیں لیکن وہ صاف انکار کر چکی ہے “

” ارمان کیا نیازانکل مجھ سے مہر کی شادی کرنے پر راضی ہو جائیں گئے ؟ ” زکی مہرونساء کی فیملی کے لئے کچھ ترد کا شکار تھا کہ ایک ڈاریکٹر کو اپنی بیٹی دینا چاہیں گئے کہ نہیں

” مجھے نہیں لگتا کہ انہیں اعتراض ہو گا ” ارمان کے جواب پر زکی مطمئن نہیں ہوا تھا کہنے لگا تم ان تک میرا پیغام پہنچا دو مہر کے لئے میں بات اپنی قسمت پر چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔ “

” ٹھیک ہے میں تمہیں بتا دوں گا ” ارمان سے بات کر کے زکی کافی تذبذب سا ہو گیا تھا کہ نا جانے اسکے والد کیا جواب دیں گئے ۔۔دو دن وہ مہرونساء کاانتظار کرتا رہا کہ وہ اس سے آگے کام کرنے کے بارے میں بات کرے گی لیکن مہرونساء نے کوئیرابطہنہیں کیا تھا دوسری جانب ارمان نے جب نیاز صاحب اور اپنی خالہ کے سامنے زکی کی بات رکھی تو انہیں اعتراض نہیں تھا لیکن بات ساری ۔۔مہرونساء پر آ کر کر ختم ہو جاتی تھی ارمان کے منہ مہرو کی فیملی کا جواب سن کر زکی مطمئن سا ہو گیا تھا ۔۔۔ اس لئے مہرونساء کو کال کر کے پوچھنے لگا

” مہر آپ نے جواب نہیں دیا میں دو دن سے آپ کے جواب کا منتظر ہوں “

” وہ میں بزی تھی ” مہرونساء نے جھوٹ بولا تھا اس کا،ارادہ ہی نہیں تھا تو زکی کو فون ہی کیوں کرتی

” چلیں اب بتا دیں تا کہ اگلی اسٹوری ڈسکس کر لیں “

” زکی مجھے نہیں لگتا کہ آپکے ساتھ چل پاؤں گی

میں اتنے مضبوط ارادوں کی مالک نہیں ہوں ۔۔۔ “

” یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں ۔۔ “

“سچ کہنے پر لوگ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔۔۔ اور میں شاید سن نا پاؤں میرے لئے یہ سب آسان نہیں ہے ۔۔ بہت مشکل ہے لوگوں کو مطمئن کرنا “

” میں نے آپ سے کب یہ کہا ہے کہ ہم لوگوں کو مطمئن کریں گئے ۔۔۔ ہم صرف سچ دیکھائیں گئے مہر ۔۔۔۔ سچائی خود کو منوا بھی لیتی ہے اور رہ گئے لوگ تووہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے ۔۔۔ پھر یہ بھی آپ کی خام خیالی ہے کہ آپ میرے ساتھ چل نہیں سکتی ۔۔۔ میرا ذاتی خیال یہ کہ جب ہم ساتھ قدم ملا کے چلیں گئے انقلاب لے ہی آئیں گئے بس ایک بار میراساتھ دینے کے بارے فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیں مجھے یقین ہے کہ آپ کو نا کامی نہیں ہو گی ” نا جانے کیسا شخص تھا وہ اپنی باتوں سے مہر کو لا جواب کر ہی دیتا تھا ۔۔۔

” میں سو۔۔۔چوں گی ” مہر نیم رضامند ڈی ہو گئ تھی

” نہیں اب آپ سوچیں گی نہیں بلکہ کل میرے آفس آئیں گئیں ہم نیکسٹ اسٹوری ڈسکس کریں گئے ” زکی نے فیصلہ کن انداز سے کہا تھا لیکن مہرونساء کو برا نہیں لگا تھا

” او کے آ جاؤں گی “

” یس ۔۔۔ یہ ہوئی نا بات ” زکی تو یوں خوش تھا جیسے وہ ہر بات پر رضامندی دے چکی ہو “

********

کافی دن بعد یسرا انابیہ سے ملنے آئی تھی ۔

انابیہ سے باتیں کرنے کے بعد وہ فاضل کی والدہ کے ساتھ کچن میں کوکنگ کرنے لگی اسی دوران یسرا نے اسکی والدہ کو کریدنا چاہا

” آنٹی آپ نے فاضل کی پہلے بھی کہیں منگنی کی تھی ۔۔۔ ؟” یسرا کو لگا شاید اسکی کسی لڑکی سے منگنی ہوئی ہو تو اس لڑکی کی تصویر پر مسز فاضل لکھا ہو اکثر لڑکیاں شادی سے پہلے ہی منگتر کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑ لیتی ہیں

” ارے نہیں بیٹا فاضل پہلے تو ایسا کچھ سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔ انابیہ کی فکر ستاتی رہتی تھی بچپن میں اسے ایسا بخار ہوا کہ ڈاکٹر کی دوا نے اسکے بہت ثرا کر دیا کہ وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئ پھر جب اسکے علاج کے بارے میں سوچا تو وہ اتنا مہنگا تھا کہ ہماری پہنچ سے باہر تھا فاضل کے والد کی تنخواہ بہت قلیل تھی۔ مشکل ہی گزر بسر ہوتا تھا اس پر ہم انابیہ کا علاج سوچ بھی نہیں سکتے تھے فاضل نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جاب کے لئے بہت جگہ اپلائی کیا لیکن جاب نہیں ملی ۔۔۔ ہمارے ملک میں میرد پر کہاں کسی کو نوکری ملتی ہے ۔۔۔ بہت دھکے کھائیں ہیں میرے بیٹے نے محنت سے کبھی نہیں گھبرایا یہاں تک چھوٹی موٹی جاب ہی شروع کر دی تھی ساتھ ساتھ رات کو ٹیکسی بھی چلانے لگا تھا ۔۔۔ لیکن فاضل کے والد کی اچانک موت نے ہمہیں بوکھلا کر رکھ دیا ۔۔۔ میں تو اپنی سوج بوجھ ہی کھو بیٹھی تھی ۔۔ اس وقت فاصل ہی تھا جس نے مجھے اور انابیہ کو سنبھالا تھا ۔۔۔۔ لیکن بہت مشکل تھا کہ فاضل اس نوکری کے ساتھ گھر چلاتا بہت دھکے کھائیں میرے بیٹے نے نوکری کے لئے ۔۔۔ یہاں تک منتیں بھی کیں لیکن یہ بے حسوں کی دنیا ہے ۔۔۔ فاضل دیکھنے میں ہینڈسم تھااس لئے موڈلنگ کے لیے چکا گیا اسکی سلیکشن بھی ہو گئ اور پیسے بھی سوچ سے ذیادہ ملنے لگے اور اداکاری میں بھی چانس مل گیا ہمارے معاشرے میں حلال روزی کمانا جان جونکوں میں ڈالنے کے مترادف ہے

نوجوانوں کو تعلیم کے بعد بھی اچھی نوکری نہیں ملتی پھر ضرورت کے تحت سب ہی ہاتھ پاؤں مارتے ہیں ۔۔۔ کاش کے جائز ذرائع کا آسان کر دیا جائے کیونکہ ضرورتیں کم تنخواہ دیکھ کر پوری نہیں ہو جاتیں ۔۔۔ ہمارا تو گھر بھی کروائے کا تھا

اب شکر ہے اپنی چھت کے نیچے بیٹھے ہیں ۔۔۔ فاضل کی مزاق کی عادت ضرور ہے لیکن میرا بیٹا کردار کا برا ہر گز نہیں ہے ۔۔۔ ” یسرا چپ سی ہو گئ تھی جس انسان کی کہانی سن لو ہنستے مسکراتے چہروں کے پیچھے بہت بے بسی کو مجبوریاں چھپی ہوتی ہیں ۔۔۔ یسرا کے دل میں سب کوئی فرد نہیں رہا تھا وہ تصویر اب بے معنی سی لگنے لگی تھی دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد وہ فاضل کے کمرے میں آ گئ دوبارہ سے وہی کتاب اٹھائی اور اسی صفحے سے وہی تصویر وہیں جوں کی توں موجود تھی ۔۔۔ ابھی وہ تصویر دیکھ ہی رہی تھی

جب فاضل اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا یسرا نے فورا سے کتاب بند کر دی تھی

” زہےنصیب وہ آئے ہمارے کمرے میں خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم انہیں اور کبھی اپنے کمرے کو دیکھتے ہیں ” وہ جیسے ہی یسرا کے پاس آیا یسرا نے وہ کتاب واپس رکھ دی

” اتنے دن سے کہاں غائب تھی “

” یہ سوال تو میں بھی پوچھ سکتی ہوں آپ نے کون سا مجھ سے دوبارہ رابطہ کیا ” اس دن کے بعد سے فاصل کی بھی دوبارہ کال نہیں آئی تھی

” تم نے خود ہی طعنہ دیا تھا کہ شریف لوگ رات کو باتیں نہیں کرتے اب جو شریف لوگ دن میں کسب معاش کرتے ہیں انکے پاس تو پھر بات کرنے کے لئے رات ہی بچتی ہے ۔۔۔ ” فاضل کی بات پر وہ ذرا سی مسکرائی تھی

” فاضل مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا ۔۔۔ “

” ہاں کہو ۔۔ اب دیکھوں منگتروں والی فرمائشیں نا شروع کر دینا میں نہایت ہی کنجوس قسم کا انسان ہوں” فاضل کی بات پر اس نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا تھا

” میں اس قسم لڑکی کی نہیں ہوں جو منگتر سے تحفے بٹورتی رہے ۔۔ “

” پھر ٹھیک ہے اب بولو کیا کہنا ہے “

” فاضل میرے نزدیک رشتوں کی بہت اہمیت ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اسکی ابتدا سچ سے کی جائے میرے بارے آپ سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے اگر پھر آپ کچھ پوچھنا چاہتے تو پوچھ سکتے ہیں ” یسرا نے بہت سنجیدگی بات شروع کی تھی

” مجھے تم سے کچھ بھی نہیں پوچھنا یسرا ۔۔۔ نا ہی مجھے تم سے کچھ جاننے کی ضرورت ہے ۔۔۔

تم ایک اچھی لڑکی ہو ۔۔ مجھے اچھی لگتی ہو میری فیملی کو ویلیو دیتی ہو بس میرے لئے یہ۔ کافی ہے ” فاضل بھی سنجیدگی سے جواب دے رہا تھا

” لیکن مجھے آپ سے ضرور کچھ پوچھنا ہے”

“دیکھوں میں اپنی تنخواہ ہر گز نہیں بتاؤں گا ۔۔۔ عورت سے کبھی عمر اور مرد اپنی انکم بکل نہیں بتاتا ” فاضل کی بے تکی ہانکنے سے وہ عاجز آ گئ تھی اس لئے اس نے وہی کتاب پکڑی اس میں تصویر نکلا کر فاصل کے سامنے کر دی اس تصویر کو دیکھ کر ہی فاضل کا مسکراتا چہرہ یک دم سنجیدہ ہوا تھا ۔۔۔ ایک نظر اس نے یسرا پر ڈالی تھی اور ایک نظر اس تصویر چہرے رنگ پل میں بدلی تھی

” یہ کون ہے فاضل؟ اس پر مسز فاضل کیوں لکھا ہے ” یسرا کے سوال پر بھی وہ پتھر بنا صرف تصویر کو دیکھ رہا تھا

******……..

حازم اب اپنے رویے پر پیشمان سا ہونے لگا تھا مہرونساء سے کیا گیا رویہ اسے غلط لگ رہا تھا

رفعت بیگم کی باتیں اسے

مزید اندر سے توڑ چکیں تھیں لیکن اب بھی یہ بات دل سے تسلیم نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ مہرونساء سے محبت کرنے لگا ہے ۔۔۔

کئی بار موبائل ہاتھ میں لئے وہ مہرونساء چکا نمبر ملاتا لیکن پھر کاٹ دیتا دل یہ کہتا کہ مہرو نساء سے اپنے کیے کی معافی مانگ لے شاید اسکی بے چین زندگی میں قرار آ جائے

بہت آسان تھا اسوقت مہرونساء کی آنکھوں کو ہر وقت نم دیکھنا اسکی سسکیاں سننا بہت مشکل ہو رہاتھااب ان آنکھوں سے پیچھا چھڑوانا ان سسکیوں کو دبانا جو اسے محفل میں بھی خود سے بیگانہ کر دیتیں تھیں اسکی نم آنکھیں اس کی نیندیں اڑا چکیں تھیں ۔۔۔۔ لیکن اندر بیٹھا ایک انا پرست مرد جھکنے کو تیار نا تھا ۔۔۔ اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہا تھا

اب بھی وہ دوستوں کے ساتھ بیچ پر آیا تھا رات وہیں گزارنے کا ارادہ تھا رات ہوتے ہی اسکے سب دوست ڈرنک کر رہے تھے لیکن وہ نہیں کرتا تھا ۔۔۔ اس لئے جوس کا گلاس لئے وہ سامنے سمندر کی لہروں کو دیکھنے لگا دور سے تیزی سے آتی لہریں کنارے تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ جاتیں تھیں اچانک ہی وہ سمندر اسے مہرونساء کی آنکھوں میں آنسوں کی بلند سطح کی مانند دیکھنے لگا

“واؤ ؤاٹ آ بیوٹیفل یور آئز ۔۔۔۔ پتہ ہے مہرونساء تمہاری جھیل جیسی آنکھوں میں یہ ٹہرے ہوئے آنسوں مجھے کتنے اچھے لگتے ۔۔۔ کسی خوبصورت جھرنے کا منظر میرے سامنے آنے لگتا ہے

تمہاری آنکھوں میں بھرے ہوئے آنسوں دیکھ کر کاغان کی آنسوں جھیل کا گمان ہونے لگتا ہے جانتی ہو مجھے کبھی بھی سیف الملوک کی خوبصورت جھیل ۔۔جسے لوگ دور دور دیکھنے آتے ہیں کبھی اتنا متاثر نہیں کرتی تھیں جتنی یہ آنسوں جھیل کرتی ہے۔۔ دور سے دیکھنے پر گمان ہوتا ہے کسی عورت کی خوبصورت آنکھ ہے جس میں آنسوں کی سطح اس قدر بلند ہے اگر ۔۔۔۔ اگر وہ آنکھ کو جھپک بھی لے وہ ساری آنسوں جھیل بہہ کر ختم ہو جائے گی ویران سی لگنے لگے گی اسکی خوبصورتی ماند پڑ جائے گی اس لئے وہ بھری ہوئی جھیل کا منظر جب میں تمہاری آنکھوں میں دیکھتا ہوں ۔۔۔ چسٹ واو۔۔۔۔ تم سوچ نہیں سکتی کتنا پیار آتا ہے مجھے تم پر اس لئے ہر وقت اپنی آنکھوں میں آنسوں کی سطح کو بلند رکھنا اور آنسوں کو پلکوں کی باڑ سے بہنے نا دینا ۔۔۔ ورنہ مجھے بہت برا لگے گا مہرونساء “

پہلی بار اسکی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے

کتنا آسان ہوتا ہے ایک ہروڈ ہیرو بنکر کسی لڑکی پر اپنی سفاکی دیکھانا ور بہت مشکل ہوتا ہے اسکی سسکیوں کو اپنے اندر سننا ۔۔۔ ہاتھ میں پکڑے کانچ کے گلاس پر حازم کی گرفت اتنی مضبوط ہوئی تھی کہ وہ نازک گلاس ٹوٹ گیا تھا کانچ اسکے ہاتھ میں چبھ گئے تھے ۔۔۔ ہاتھ سے خون بہنے لگا تھا لیکن اس سے ذیادہ بے چینی اڈے اپنے اندر اٹھتی ہوئی مہرونساء کی سسکیوں سے ہو رہی تھی اس نے اپنے ہاتھ سے وہ کانچ پھنکے اور اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا اسوقت اسے اندر اٹھتی سسکیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا

اس لئے اپنے دوست کے ہاتھ سے شراب کا گلاس لیکر اس نے ایک ہی گھونٹ میں اپنے اندر انڈیلا تھا ۔۔۔ چاہتا تھا کہ وہ نشے میں ہی صحیح لیکن خود سے بیگانہ ہو جائے ۔۔۔ اسکے دوست اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے پہلے کبھی اس نے شراب کو دیکھا تک نہیں تھا لیکن اب گلاس میں بھر رہا تھا چہرے پر بلا کی بد حواسی تھی ۔۔۔ اندر وہ بیٹھ چکی تھی جیسے اس نے کبھی چاہا تک نہیں تھا نا ہی محبت کے ارادے سے اپنی زندگی میں شامل کیا تھا ۔۔۔ اسکی سوچوں سے خود کو غافل کرنا چاہتا تھا لیکن عجیب بات تھی جتنا اسے بھلانے کی کوشش کرتا وہ اتنی شدت سے یاد آنے لگتی تھی ۔۔۔ بے بسی کیسی ہوتی ہے اس وقت کوئی حازم سے پوچھتا

******……

مہرونساء زکی کے آفس اسے ملنے چلی گئ ایک اگریمنٹ اسے کے سامنے رکھا ہوا تھا ایک گہری سوچ میں کھوئی تھی

” کیا بات مہر اتنا کیوں سوچ رہیں ہیں مل کر کام کریں گئے آپ اکیلی ہر گز نہیں ہیں میں ہر ق پر آپ کے ساتھ ہوں ” زکی کی بات سن کر بھی وہ مطمئن نہیں تھی

” زکی میں ۔۔۔ میں کر پاؤں گی اگر اس سچ کی جنگ میں میں پھنس گئ تو کیا کروں گی ۔۔۔ ؟

” میں کس لئے ہوں مہر یقین جانے آپ پر آنے والی ہر مصیبت سے پہلے میں مقابلہ کروں گا بس آپ قلم اٹھائیں اور سب کچھ بھول جائیں ۔۔۔۔” اس نے ایک نظر اس شخص کو دیکھا تھا اور چوتھی بار اگریمنٹ پڑھ کر سائن کر دیا تھا ۔۔۔

عزت ڈرامے کی شہرت شروع میں تو بہت ہوئی تھی لیکن جیسے جیسے حقیقتوں پردہ اٹھنے لگا لوگوں کے ریوز کم ہونے لگے آخری قسط کسی کو بھی پسند نہیں آئی تھی سب کو روڈ ہیرو پر ترس آ رہا تھا سب کہ ہمدردیاں اسی کے ساتھ تھیں۔۔۔۔ لوگوں کے کمنٹ بہت برے ا رہے اعتراضات کی بھرمار تھی رائٹر پر اعتراض تھا کہ

عورت ازل سے مرد کو دوسرا موقع دیتی آ رہی ہے تو عزت نے کیوں نہیں دیا عورت کا صبر ہمیشہ مرد کو بدل دیتا ہے اور عورت اسی مرد کو اپنا بھی لیتی ہے ہر ڈرامے یہی ہوتا ہے پھر اس ڈرامے کا اینڈ ایسا کیوں دیکھایا گیا

مہرونساء کایہ سب دیکھ دل بہت دکھا تھا یہ تو پہلی شکست تھی ہمشہ اپنی تر وریدیں سننے والی مہرونساء کو اب تنقید کا بہت بڑا سامنا ہوا تھا

پہلی چار ڈرامے پر اسکی اسٹوری چھپی تھی اور وہ بھی فلاپ ۔۔۔ مہرونساء کوایک سال کا اگریمنٹ اپنی بہت بڑی غلطی لگ رہی تھی ۔۔۔ دوسری کہانی بھی وہ لکھ دے چکی تھی ۔۔۔ جب زکی کی کال آئی تو وہ جلے دل سے بیٹھی تھی ۔۔۔

” ہیلو “

” مہر میں آپ کے گھر پر ہوں بہت بڑی خوشخبری ہے آپ کے لئے پلیز جلدی سے لاونج میں آئیں “

مہرونساء حیرت سے فون کو دیکھ رہی تھی

” ایسی کون سی خوش خبری تھی کہ یہ شخص میرے گھر ہی پہنچ گیا ہے ۔۔۔۔ مہرونساء جیسے ہی نیچے اتری سامنے صرف زکی نہیں تھا اس کے والدین بھی موجود تھے ۔۔۔ وہ اسے زینہ اترتے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔ مہرونساء کو زکی کا یہ مزاق بہت برا سا لگا تھاوہ عام سے حلیے میں تھی ۔۔۔ گھر پر کوئی مہمان آئے تو انسان کم از کم اچھے کپڑے تو پہنتا ہی ہے اسکے والد جانے مانے ڈاریکٹر تھے

اور والدہ ساڑھی پہنے بڑی ڈیسنٹ سی خاتون لگ رہیں تھی۔ مہرونساء کو دیکھ کر مسکرانے لگیں

” آؤں بیٹا آؤں ہمارے پاس آ کر بیٹھوں ” زکی کی والدہ نے مہرونساء سے کہا مہرونساء سلام کر کے ان کے پاس بیٹھ گئ زکی کی والدہ بہت خوش نظر آرہی تھیں مگر زکی کے والد البتہ بڑے مزاج سے بیٹھے ہوئے تھے جیسے مجبورا یہاں آئے ہوں ۔۔۔

” ماشا اللہ سے بہت پیاری بیٹی ہے آپ کی ۔۔۔ زکی نے جب مجھے مہرونساء کی تصویر بھیجی تھی مجھے تو تب ہی دیکھتے ہی مجھے پسند آ گئ تھی ۔۔۔ ” مہرونساء تو ابھی یہ دیکھ کر ٹھیک سے حیران بھی نہیں ہو پائی تھی جب اس خاتون نے اپنی پرس سے ایک مخملی ڈبیہ نکال کر اس میں سے انگوٹھی نکال کر مہرونساء کو پہنا دی ۔۔۔ ” مہرونساء کی رنگت ہی تو اڑ گئ تھی یہ سب ہو کیا رہا اسکے ساتھ ۔۔۔

” دیکھیں بھائی صاحب جب لڑکا لڑکی آپس میں راضی بازی ہیں تو رسموں میں پڑنے کے بجائے میں چاہتا ہوں کہ نکاح ہی کر دیا جائے ۔۔۔ زکی ویسے بھی سادگی سے ہی نکاح کرنا چاہتا ہے ۔۔

اشتیاق صاحب نیاز صاحب سے پوچھ رہے تھے اور مہرونساء حیرت سے آنکھیں پھیلائے زکی کو دیکھ رہی تھی ۔۔