Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 7
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 7
Meri Jaan by Umme Hani
مہرو کی رنگت پھیکی سی پڑ گئ تھی جھٹ سے پارسل اسکے ہاتھ سے گرا تھا یہ جس کی بھی حرکت تھی نہایت گھٹیا تھی سفید رنگ کا کفن کا کپڑا تھا جس پر خون کے دھبے لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ اور ایک چٹ پر لکھا ہوا تھا ۔۔۔ فواد کے لئے شادی کا تحفہ ” مہرو نساء اس قدر بد حواس ہوئی تھی کہ سانس گھٹنے لگا تھا ۔۔۔ آخر کون شخص تھا وہ
دل دہلا دینے والے پارسل بھیج رہا تھا ۔۔۔
ملازمہ مہرو کی حالت دیکھ کر پریشان ہوئی تھی وہ بری طرح سے کپکپا رہی تھی
” اسے ۔۔۔۔۔ اسے باہر پھنک دو اور فواد کے علاؤہ کسی کا بھی پارسل ہو تم وصول مت کرنا ” مہرو یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔۔ ضرور یہ اسکے کسی پرستار نے اپنی جلن نکالنے کے لئے ہی بھیجا تھا بہت سے نوجوان لڑکوں کو مہرو کی شادی کاسن کر صدمہ ہوا تھا ۔۔۔۔ نا جانے کیوں وہ بد حواس سی ہو رہی تھی
پیشانی بار بار عرق آلود ہونے لگی تھی طعبیت جب بہت گھبرانے لگی تو نیچے اپنی والدہ کے پاس آ گئ کہنے لگی کہ اس کا اور فواد کا کوئی صدقہ اتار دیں ۔۔۔۔ نا جانے کیوں شادی کا سوچ کر اسے وہم ستا رہے ہیں اسکی والدہ نے جب مہرو کو یوں بد حواس دیکھا تو تسلی دینے لگیں ۔۔۔۔
” مہرو چندا کیوں پریشان ہو ۔۔۔ ایک ہفتہ رہ گیا ہے شادی میں اور تم رنگت دیکھوں اپنی ۔۔۔۔ کیسی پیلی سی پڑ گئ ہے بس اب تم بازار نہیں جاؤں گی
باقی کا وقت گھر پر گزارو گی ۔۔۔۔ ” مہرو ماں کے ساتھ لگ گئ نا جانے کیوں رونا آ رہا تھا ۔۔۔ انکی بات مانتے ہوئے مہرو نے فواد سے کہہ دیا کہ شادی سے پہلے وہ اس سے نا فون پر بات کرے گی نا ہی وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرے ۔۔۔۔ ایک رات مہرو سو رہی تھی جب اسے ایک تیز سی خوشبو اپنے نتھنوں میں ٹکراتی ہوئی محسوس ہوئی وہ چند لمحوں میں ہوش سے غافل ہوئی تھی ۔۔۔۔ صبح جب مہرو کی آنکھ کھلی دوپہر کاایک بج رہا تھا عموما وہ اتنی دیر تک سونے کی عادی نہیں تھی ۔۔۔ اٹھ کر بیٹھی تو اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔نا جانے کیوں لیکن ہم وجود تھکن سے چور سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ اپنے بالوں کو کھلا دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی کیونکہ وہ رات کو اونچی سی پونی باندھ کر سوئی تھی اپنے آپ سے کسی مخصوص سے کلون کی خوشبو آرہی تھی بہت ہی بھینی بھینی سی ۔۔۔۔ لیکن چکر اتنے شدید قسم کے آ رہے تھے کہ وہ ذیادہ کچھ سوچ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔۔ اپنا سر ایک ہاتھ سے پکڑے وہ واش روم میں چلی گئ آنکھوں میں نیند کا اتنا زیادہ اثر تھا کہ وہ آنکھیں با مشکل کھول پارہی تھی ۔۔۔۔۔ پہلے تو مہرو نے نل کھول کر ٹھنڈے پانی سے منہ دھویا ۔۔۔ تا کہ اس کے حواس کچھ درست ہوں ۔۔۔۔ ٹھنڈے پانی سے وہ کچھ حواسوں ۔میں آئی تھی ۔۔۔۔ پھر برش کر کے اس نے بالوں میں پونی بنائی اور نیچے کچن میں چلی گئ ملازمہ سے چائے کا کہہ کر وہیں کچن میں رکھے گول میز پر بیٹھی گئ ۔۔۔۔ میری طعبیت میں ایک بے چینی سی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
ایک کہنی ٹیبل پر رکھے اسی ہاتھ سے وہ اپنے سر کو دبا رہی تھی ۔۔۔۔
چائے کا کپ ملازمہ نے ٹیبل پر رکھ دیا ناشتے کا پوچھا تو مہرو نے منع کر دیا ۔۔۔۔۔ فواد نے دوبارہ مہرو سے بات کرنے کی کوشش نہیں کہ تھی اس کی بات کی تائید کی کی تھی کہ اچھا ہے کہ وہ اب بات چیت نا کریں ۔۔۔۔ شادی کے دن کا کچھ تو چارم باقی رہے گا باقی کے دن خاموشی سے گزرے تھے
مہندی کے دن مہرو نے آف وائٹ لہنگے کے ساتھ لائٹ پنک شرٹ پہنی تھی ڈوپٹہ بھی آف وائٹ لیا تھا ۔۔۔۔ فواد نے سفید شلوار قمیض کے ساتھ پنک واسکوٹ پہنی تھی دونوں ہی اس وقت محفل کی جان لگ رہے تھے ۔۔۔۔ دونوں کی یاد گار تصاویر کیمرے میں بند ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔ یہ فنکشن نیاز صاحب نے اپنے بنگلے کے وسیع لان میں منقعد کیا تھا ۔۔۔۔ جو کسی بھی بینکویٹ سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔ کئ کیمرہ مین بلائے گئے تھے جو مختلف انداز سے دونوں کے پوز بنوا کر تصویریں لے رہے تھے ۔۔۔۔۔ مہرو کا چہرہ خوشی سے دھمک رہا تھا ۔۔۔۔
فواد کی ہلکی پھلکی دل لبھانے والی سرگوشیاں مہرو کو شرمانے پر مجبور کر رہیں تھیں ۔۔۔۔ لیکن یک دم پورے ہال کی لائٹس بند ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ اتناگھپ اندھیرا چھا گیا تھا کہ کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا پھر لائٹ کو کیا ہوا کا شور اٹھنے لگا کسی نے مہرو کو اپنے حصار میں جھکڑا تھا ایک جانی پہچانی سی کلون کی خوشبوں اسے اس شخص سے آنے لگی جو اسے اپنے حصار میں مقید کر چکا تھا
کان کے قریب ہو کر بولا کہ
” میں نے تمہارے کمرے میں بارات پر پہننے کے لئے اپنی پسند کا جوڑا رکھ دیا ہے کل وہیں پہننا اٹس مائے ریکوسٹ میری جان ” اس بار اس نے بنا آواز نکالے بڑے دھیمے سے کہا تھا پھر یک دم ہی وہ اسکی گرفت سے آزاد ہوئی تھی ۔۔۔۔ اسی لمحے لائٹس آن بھی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔ لوگ ابھی یہی سنبھل اور سمجھ نہیں پائے تھے کہ لائٹس کو ہوا کیا ہے ۔۔۔۔ فواد ذراسا فاصلے پر کھڑا تھا پھر مہرو کو دیکھ کر مسکرانے لگا ۔۔۔۔ مہرو کو یہ سا ڈرامہ فواد کا رچایا ہوا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ اس لئے وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرانے لگی ۔۔۔۔
رسم ختم ہو چکی تھی اس لئے مہرو کو کھانا کھلانے کے لئے اسکی ساس اور سسرالی رشتے داروں کے ساتھ بیٹھایا گیا۔۔۔۔۔ پھر کھانے کے بعد فواد اور باقی کے مہمان بھی جانے لگے ۔۔۔ فواد کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ اور سب کی نظروں سے بچ کر فلائنگ کس مہرو کو دینا مہرو کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا ۔۔۔۔۔ جس طرح کی وہ بے تابیاں دیکھا رہا تھا ۔مہرو کے دل کی رفتار بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔ جب وہ اپنے کمرے میں آئی تو ایک گفٹ پیک موجود تھا جو کہ خاصا بڑا تھا مہرو نے مسکراتے ہوئے وہ پیک کھولا اس قدر حسین اور قیمتی جوڑا تھا کہ وہ دیکھ کر مہرو کچھ ثانیے تو آنکھیں چھپکنا بھول گئ تھی اس جوڑے کی قیمت کم سے کم ۔ بھی دس لاکھ سے کم نہیں تھی ۔۔۔۔
حالانکہ جو جوڑا وہ فواد کے ساتھ پسند کر کے آئی تھی وہ ڈھائی تین لاکھ تک کا تھا ۔۔۔۔ اسی میں زیوارت میں موجود تھے ۔۔۔ لیکن تھے کچھ پرانے زمانے کے جیسے کسی کے خاندانی ہوں بڑے بڑے سہاروں والے جھمکے۔۔۔ رانی ہار ۔۔۔۔ لیکن چمک اس زیورات کی ایسی تھی کہ ابھی نئے سرے سے پالش کروائے ہوں ۔۔۔۔۔ مہرو کے بارات سے میچنگ ہیل والے سینڈل کانچ کی چوڑیاں سب کچھ اس میں موجود تھا یہاں تک کے جس پالر سے اسے دلہن بننا تھا اس کااپونمنٹ لیٹر تک موجود تھا جو کافی نامور پارلر تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حالانکہ جب مہرو نے فواد سے پوچھا تھا کہ وہ دلہن کس پارلر سے بنے کی تو فواد نے لاپروائی دیکھاتے ہوئے کہا کہ تھا کہ یہ کام لڑکیاں بہتر جان سکتی۔ ہیں مجھے اس بات کا بلکل علم نہیں ہے تم جہاں سے چاہو تیار ہو جاؤں لیکن بس اس بات کا خیال رکھنا کہ تمہیں دیکھ کر مجھے کچھ اور یاد نہیں رہنا چاہیے اور اب ایک جانے مانے پارلر کی پے شدہ ریسد بھیجی تھی دلہن بننے سے پہلے اسکی پیمنٹ ادا ہو چکی تھی اس پر ٹائمنگ لکھی تھی کہ کب اسے پارلر پہنچنا ہے ۔۔۔۔ حالانکہ چار دن پہلے ہی اس کی ساس مہرو کی بارات کاجوڑا اور دیگراشیاء دے گئ تھی پارلر کے لئے بھی ایک دو اچھے مناسب پارلر بتا چکی تھی لیکن ۔۔۔ مہرو کو وہ چار دن پہلے والی ہر چیز آج کے گفٹ پیک سے نکلنے والی ہر چیز کے سامنے ہیج لگ رہی تھی ۔۔۔ وہ مسکرانے لگی
” تو چھپے رستم بھی ہیں آپ فواد ۔۔۔۔۔ اتنا قیمتی تحفہ میرے لئے۔۔۔ وہ بھی اس خوبصورت انداز سے ہاؤ رومنٹک ۔۔۔۔ آئی لو یو ۔۔۔ سوووو مچ ” مہرو کو نئے سرے سے فواد پر پیار آیاتھا ۔۔۔۔۔۔ بلکہ بہت ٹوٹ کر آیا تھا ۔۔۔۔
*******……..
سجیلہ اگلے روز سیٹ پر موجود تھی اپنے ساتھی اداکاراوں کو وہ رنگ دیکھارہی تھی جو اس نے زبردستی زکی سے اپنے ہاتھ پر پہنوائی تھی ۔۔۔ زکی سٹ پر پہنچا تو سجیلہ مسکراتے ہوئے اسکی طرف بڑھ کر اسکے گلے سے لگ گئ
” ہائے زکی ڈیر ” زکی نے اس دنود بازو پکڑ کر اسے خود سے جدا کیا تھا ۔۔۔۔۔
” پلیز سجیلہ یہ سٹ ہے ۔۔۔ اور یہاں ہم کام کرنے آتے ہیں ۔۔۔۔ ” زکی کے روکھے لہجے کی بھی سجیلہ نے پروا نہیں کی تھی
” اوہ کم آن زکی کل جس رومنٹک انداز سے تم نے مجھے پرپوز کیا ہے رنگ پہنائی ہے ۔۔۔ اس کے بعد آج یہ ان رومنٹک سا رویہ دس از ناٹ فیر سوئٹ ہارٹ ” زکی کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی وہ شوٹ تک پہنچی تھی۔۔۔۔۔
زکی کیمرے کے سامنے کرسی رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
سین کے مطابق سجیلہ کو ایک مظلوم لڑکی کا سین شوٹ کرنا تھا ۔۔۔۔ جس کے ساتھ اسکی ممانی ظلم کرتی ہے ۔۔۔ کام کرواتی ہے ۔۔۔۔ کھانے کو بھی ٹھیک سے کچھ نہیں دیتی ۔۔۔ لیکن سجیلہ کا وہی حلیہ تھا وہی۔ بناوٹی سے اداکاری ۔۔۔۔ پہلا شاٹ مکمل ہوتے ہی زکی نے کینسل کر دیا تھا ۔۔۔
” نو نو سب کچھ ڈرامائی لگ رہا ہے ۔۔۔ جلال پہلے تو سجیلہ کا میک اپ ذرا کم کرو ۔۔۔۔ آنکھوں کا کاجل بلکل صاف کرو ۔۔۔۔ ہو سکے تو آنکھوں کے گرد کچھ ڈراک سا کر دو تا کہ لگے کہ اس پر ظلم ہوتا ہے اور ہاں لپ اسٹک بلکل صاف ہونی چاہیے ۔۔۔۔ ” زکی نے بڑی سنجیدگی سے میک اپ مین کو ہدایت دیں ۔۔۔۔ زکی اب فاضل کی طرف آ گیا ۔۔۔
” تم بھی کچھ چہرے پر بے بسی سی لانے کی کوشش کرو یار ۔۔۔۔ “
” یار جب سجیلہ ہی رونے والے ڈائیلاگز پر دھیمہ دھیمہ مسکرائے گی تو میں کیسے اپنے ایکسپریشن قائم رکھ سکتا ہوں ” ۔فاضل نے صاف گوئی سے کیس ۔۔ وہاں ایک لڑکی اور موجود تھی جو سجیلہ کی ممانی کی بیٹی کارول ادا کر رہی تھی۔۔۔۔۔ وہ مین ایکٹر نہیں تھی ایکسٹراز میں اس کاشمار ہوتا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اب تک کیے جانے والے سین میں زکی کو اس لڑکی کو ذیادہ سمجھانا نہیں پڑا تھا وہ فوراسے سمجھ کر وہ سین بلکل ویسے ہی پرفوم کرتی تھی جیسے زکی چاہتا تھا ۔۔۔ اپنے سین میں حقیقت کا رنگ بھرنا اس لڑکی کو خوب آتا تھا ۔۔۔۔ چہرے سے لگتا تھا کہ کسی مجبوری کے تحت کام کر رہی ہے کیونکہ رونے والے سین اور ڈائیلاگ پر وہ جیسے تاثرات دیتی تھی لگتا تھا وہ ایکٹنگ نہیں کر رہی بلکہ سچ میں رو رہی ہے ۔۔۔۔
سجیلہ نے یہ سن کر میک اپ نا ہونے کے برابر کرنا پڑے گا منہ کے زاویے بگاڑے تھے ۔۔۔۔۔
تین سے چار بار بھی سجیلہ وہ شارٹ کرنے میں زکی کے خواہش کے مطابق پوری نہیں اتر رہی تھی ۔۔۔۔ کئ بار وہ سجیلہ کو سمجھا چکا تھا لیکن وہ کر نہیں پا رہی تھی یسرا بھی بار بار کے ری ٹیک سے تنگ آ گئ تھی ۔۔۔۔ بار بار گھڑی بھی دیکھ رہی تھی کہ کب یہ سین کمپلیٹ ہو اور وہ وہاں سے جائے ۔۔۔۔ اس بار بھی سجیلہ کی اداکاری دیکھ کر زکی نے ری ٹیک کہا اور کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آ گیا
” مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تم ایک مڈل کلاس لڑکی ہونے کا سین پلے کر رہی ہو ۔۔۔۔اور ادائیں تمہاری ساری ایک ماڈرن لڑکی جیسی ہیں ۔۔۔۔۔ ایک بناوٹ سی کیوں ہے تمہارے ہر انداز میں ۔۔۔۔۔ ” زکی اب زچ سا ہو کر بولا
” کر تو رہی ہوں زکی ۔۔۔۔ میری ایسی ہی ایکٹنگ پر دنیا مرتی ہے لیکن تم ہو کہ “
” یسرا کم آن پلیز آپ یہ سین فاضل کے ساتھ آپ پلے کریں ۔۔۔ اور تم سجیلہ یہاں کھڑی ہو کر دیکھو ۔۔۔۔۔ ” زکی نے سجیلہ کی بات کو نظر انداز کر کے ایکسٹرا ایکٹر کے طور پر لائی جانے والی لڑکی کو مین رول پر کھڑا کیا تھا سجیلہ تو تپ کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔ یسرا بھی متذبذب کا شکار ہوئی تھی
” سر میں کیسے یہ رول کر سکتی ہوں ۔۔۔۔ یہ تو میم پر ہی سوٹ کر سکتا ہے ۔۔۔ ” یسرا کچھ گھبرا سی گئ تھی پھر سجیلہ کے تنے ہوئے چہرے کو دیکھ کر سمجھ گئ تھی کہ وہ غصے میں کھڑی ہے
” میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں تم وہ کرو ” ۔۔۔۔۔ یسرا فاضل کے سامنے کھڑی ہو جو مکالمات سجیلہ کے تھے وہ یسرا نے دہرانے شروع کر دیے چہرے کے اتار چڑھاؤ ۔۔۔۔ اور اس پر پھیلی بے چارگی سین کے حساب سے وہ بہت زبردست طریقے سے وہ سین کر گئ تھی کہ زکی بھی اسے داد دیے بغیر رہ نہیں سکا تھا ۔۔۔ تالیاں بجاتا ہوا وہ یسرا کے پاس آیا
” ویل ڈن یسرا ۔۔۔۔ زبردست ۔۔۔۔ ایک دن تم ضرور بڑی ایکٹر بنو گی ” زکی نے خوش ہو کر آدمی حوصلہ افزائی کی
“تھنک یو سر ” یسرا نے مشکور نظروں سے زکی کو دیکھا تھا سجیلہ اپنی جگہ کھڑی غصے سے لال پیلی ہوئی تھی فورا وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔۔ فاصل اسے پکارتا رہ گیا لیکن وہ نہیں رکی تھی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے مسلسل یہ سوچ سوچ کر اپنا خون جلاتی رہی کہ زکی کو اسی میں عیب ہی نظر کیوں آتے ہیں جن اداوں پر اس پر دنیا مرتی ہے ۔۔۔۔ اسے وہ سب ہی بناوٹی لگتا ہے اور وہ دو ٹکے کی لڑکی یسرا اسے بھلا کیا پتہ کہ ایکٹنگ کیا ہوتی ہے اور زکی نے اسے میرے مقابل کھڑا کر دیا ۔۔۔ اسے ۔۔۔ ہنہ ” غصے کے مارے سجیلہ کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔ گھر جا بھی وہ نوکروں پر برے طریقے سے چلانے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔
اشتیاق صاحب کو جب اس بات کا علم ہوا تو وہ زکی کو خشمگین نظروں سے دیکھنے لگے
” بابا پلیز ۔۔۔۔ اسے اتناسر پر چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ آپ کے کہنے پر میں نے چپ چاپ اسکی انا پرست لڑکی کی ضد پوری کی ہے لیکن میں ایکٹنگ میں کامپرومائز نہیں کروں گا ۔۔۔۔ رہنے دیں اسے دو دن اس کے گھر پر ۔۔۔۔۔ دماغ درست ہو گا تو خود سٹ پر آ جائے گی “
” اور اس دو دن میں تم کیا کرو گئے ۔۔۔۔ “
” یسرا اور باقی ایکٹرز کے سین شوٹ کر لیں گئے بابا “,
دو دن تک کسی نے سجیلہ سے رابطہ نہیں کیا تھا حالانکہ اسے لگا تھا کہ اشتیاق صاحب ہر بار کی طرح اس بار بھی اسکی منت کریں گئے ۔۔۔۔ لیکن انکی بھی کوئی کال نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔ دو دن بعد وہ خود سیٹ پر پہنچ گئ تھی اشتیاق صاحب اس بار بہت لئے دئے انداز اپنائے ہوئے تھے ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ سجیلہ زکی کی ان سے شکایت کرتی وہ پہلے بول پڑے
” دیکھوں سجیلہ میں نے تمہارے کہنے پر زکی کو پریشرائز کر کے تم سے منگنی کرنے پر مجبور کیا ہے ۔۔۔۔ لیکن اب تم ذرا ذرا سی بات پر یوں نخرے دیکھاوں گی تو یہ بھول ہے تمہاری کہ وہ تمہارے نخرے اٹھائے گا ۔۔۔۔۔ پھر ایکٹنگ کے معاملے میں اسکی یہ عادت تو مجھے بھی بہت پسند ہے کہ وہ کامپرمائز نہیں کرتا ۔۔۔۔۔ جب تک کہ سین اسکی خواہش کے مطابق پورا نا ہو جائے اور یہ بات ایک ڈاریکٹر کی کامیابی کے لئے بہت اہم ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس میں تمہیں ہی زکی کو فالو کرنا چاہیے ۔۔۔۔ ” اشتیاق صاحب کی بات سن کر وہ خاموش ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔ پھر زکی سے کوئی تکرار نہیں کی ۔۔۔۔۔
لیکن زکی جب بھی اس پر یسرا کو اہمیت دیتا وہ اندر ہی اندر سلگ سی جاتی تھی
*********……..******………
یسرا اپنی چار بہنوں میں سب سے بڑی تھی والد کے انتقال کے وقت اس نے بی اے ہی کیا تھا ۔۔۔۔ بھائی کوئی تھا نہیں اسلئے ساری ذمہ داری یسرا پر آ چکی تھی ۔۔۔ وہ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی ۔۔۔۔۔ پہلی ترجعی اس نے جاب کرنے کو ہی دی تھی لیکن بنا سفارش کے اور عام سے بی اے کی کوئی ویلیو نہیں تھی ۔۔۔ اچھے اور معیاری اسکول میں بھی ایم اے تک کی کولیکشن کی ڈیمانڈ تھی اور عام اسکولوں میں ٹیچر کی سیلری بہت کم تھی اور یسرا کی ضروریات بہت زیادہ ساری بہنیں زیر تعلیم تھیں ۔۔۔۔ والدہ ان پڑھ تھیں بس سلائی ہی جانتیں تھیں ۔۔۔۔ لیکن اتنی کم آمدنی سے گزر بسر مشکل تھا یسرا دیکھنے میں خوبصورت تھی ۔۔۔ جانتی تھی کہ اگر اسے شارٹ کٹ میں پیسہ کمانا ہے تو وہ میڈیا کا ہی راستہ رہ جاتا ہے۔ ۔۔ اس لئے پہلے ماڈلنگ کی کی طرف آئی خوبصورت تھی اس لئے سلیکشن میں مشکل نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ پیسہ اچھا ملنے لگا تھا والدہ نے پہلے پہل تو بہت غصہ کیا لیکن پھر چپ ہوگئیں جانتیں تھیں کہ ضرورتیں بہت ذیادہ ہیں جس کی خاطر ایک بیٹی کی عزت کی قربانی تو دینی ہی پڑے گی تا کہ باقی تین عزت کی زندگی جی سکیں ۔۔۔۔ تین بیٹیوں کے تن کو ڈھانپنے کے لئے ایک بیٹی کو بے پردہ ہونا پڑے گا ۔۔۔۔۔ کیونکہ بیوہ سے ہمدردی ہر کوئی کرتا ہے لیکن اسکے گھر کی کفالت کوئی نہیں اٹھاتا ۔۔۔
پہلے پہل کھانے بنا کر پیسے کمانے کا بھی سوچا لیکن ہزاروں کا کھانا ضائع ہونے لگا تھا ساری جمع پونجی بھی برباد ہو گئ تھی بلا آخر یسرا کو یہ بولڈ اسٹپ لینا پڑا
۔۔ ماڈلنگ سے ہی یسرا کو ڈرامہ میں چھوٹے موٹے سین کی آفر ہونے لگیں
ہیروئن بننے کے لئے بہت کڑی آزمائشں تھیں جو یسرا دینے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔ ماڈلنگ میں بھی اس نے ڈیمانڈ کے لحاظ سے ڈریس ضرور پہنے تھے لیکن اپنی عزت کا سودا ابھی تک نہیں کیا تھا ۔۔۔ اور ایکٹنگ میں بھی ہیروئن کے بجائے ایکسٹرا بننے کو ترجعی دی تھی۔ چاہتی تھی کہ جب تک اپنا دامن بچا سکتی ہے بچائے رکھے۔ ۔۔۔ ویسے تو عورت کے لئے گھر کی چار دیواری سے نکل کر کام کرنے والا ہر پیشہ ہی غیر محفوظ ہے ۔۔۔۔ لڑکیوں کو ہر لائن میں حراساں کیا جاتا ہے لیکن میڈیا تو کھلم کھلا آزاد تھا ۔۔۔۔ کوئی لڑکی عزت سے بھی کام کر رہی تو لوگ اسے شاکی نظروں سے ہی دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ موڈل اور ایکٹر مکمل طور پر پبلک پراپرٹی سمجھی جاتی ہے ۔۔۔ جسے جیسے چاہو دیکھوں جو چاہے کہہ دو ۔۔۔۔ کوئی لحاظ اور عزت نہیں ہوتی ۔۔۔۔ یسرا نے بھی خود کو ڈھیٹ کر لیا تھا منچلوں کے کسنے والے جمعلوں پر کام دھرنے چھوڑ دیے تھے ۔۔۔ کیونکہ ہر ماہ بہنوں کی فیسیں بھرنی تھی ۔۔۔ بھوک لگنے پر سب کو روٹی چاہیے تھی لیکچر سے کبھی پیٹ نہیں بھر سکتا اس کے لئے دو روٹی ہی چاہیے ہوتی ہے ۔۔۔۔ چاہتی تھی جلد از، جلد بہنیں کسی قابل ہو جائیں تو وہ اس دلدل سے نکل جائے ۔۔۔۔۔
لیکن ہیروئنوں کے نخرے اور ایٹیٹوٹ ایسے تھے کہ وہ ایکسڑاز کو اپنے غلام سمجھتی تھیں ایک ہتھک بھری نظر سے انہیں دیکھتیں تھیں ۔۔۔ اور سجیلہ تو اس وقت میڈیا میں افق پر چمکنے والا چاند بنی ہوئی تھی اسکی نظریں ہر وقت ساتویں آسمان پر ہی رہتیں تھیں ۔۔۔۔ یسرا کو دیکھ کر تو وہ منہ کے زاویے بگاڑنے لگتی تھی کیونکہ وہ چادر اوڑھ کر سٹ پر آتی تھی اور واپس بھی چادر اوڑھ کر جاتی ۔۔۔۔ اپنے چہرے سے میک اپ بھی اچھے سے دھو کر جاتی تھی ۔۔۔۔
زکی۔ اب تک پہلا ڈاریکٹر تھا جس نے اسکی ایکٹنگ کی تعریف کی تھی۔۔۔۔ وہ بہت خوش تھی کہ کسی نے تو اس کی اس خوبی کو بھی سراہا ورنہ تو سب خوبصورتی کو ہی داد دیتے تھے ۔۔۔۔
…
******……
مہرو وقت مقررہ پر پارلر پہنچ گی تھی جہاں اس وقت دلہن بننے والی وہ اکیلی ہی تھی ۔۔۔ اسے کچھ حیرت بھی ہو رہی تھی ۔۔۔ جنتا بڑا اس پارلر کا نام تھا ایک مہینہ پہلے لڑکیاں اپنا نام لکھواتیں تھیں اور جتنا بڑا ان کا اسٹاف تھا بیک وقت دس سے بارہ دلہنیں وہاں تیار ہوتی تھیں ۔۔۔۔ لیکن اس ہال میں پندرہ اسٹاف کی لڑکیوں کی موجودگی میں وہ صرف اکیلی وہاں دلہن بننے کے لئے موجود تھی ۔۔۔ اور وہ سب لڑکیاں جیسے اسی کی منتظر تھیں ۔۔۔۔ وہاں کی ہیڈ بڑی خوش اسلوبی سے مہرو سے ملی تھی ۔۔۔۔۔
پھر اس نے دو تین لڑکیوں کو اپنے پاس روک لیا اور باقی لڑکیوں کو چھٹی دے دی ۔۔۔۔ پھر مہرو سے کہنے لگی کہ یہ سب یہاں کی سینیر اسٹاف میں سے ہیں میم سر کا خاص حکم تھا کہ انکی دلہن کو کسی نئ اور کم تجربہ کار کے ہاتھوں نا آزمایا جائے ۔۔۔۔۔ ” وہاں کی ہیڈ نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔ مہرو کے چہرے پر مسکان سی سج گئی تھی کیسا عجیب شخص ہے یہ فواد بھی ۔۔۔۔ کیسے کیسے سرپرائز دے رہا کیسے پانی کی طرح مجھ پر پیسے بہا رہا ہے ۔”۔۔۔ خود پر وہ جتنا بھی ناز کرتی اتنا ہی کم تھا ۔۔۔۔
ہاتھوں کی مہندی سے وہ سجنا شروع ہوئی تھی ۔۔۔۔ ہر چیز وہاں برینڈ کی تھی ۔۔۔۔ پانچ گھنٹے کی محنت کے بعد وہ خود کو آئنے میں دیکھ کر دنگ سی رہ گئ تھی ۔۔۔۔ جتنی حسین وہ اس وقت لگ رہی تھی کچھ پل تو مہرو کو بھی اپنا آپ نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ لگتا تھا کسی سلطنت کی حسین شہزادی ہے ۔۔۔ یا پھر وہ سینڈریلا ہے جس پر جادو کی چھڑی گھمائی گئ ہو اور وہ ملکہ بن گئ ہو خود کو وہ بڑی محویت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ فواد کے نام سے دل دھڑک اٹھا تھا اسکی نظروں کی بے تابی کا سوچ کر ایک میٹھی سی مسکان چہرے پر سجی تھی ۔۔۔۔
“میم آپ کے لہنگے پر یہ خون کے دھبے کیسے ہیں”وہاں کے اسٹاف میں سے ایک لڑکی نے اسکے ڈوپٹے پر آخری پن لگاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
” کیسے خون کے دھبے یہ تو بلکل لیٹس ڈائزن کا بلکل نیا ڈریس ہے ۔۔۔۔ مہرو نے ناگواری سے جواب دیا ۔۔۔
” لیکن میم “,
“او ہو فریدہ تم کیا ٹوہ میں لگ جاتی ہو۔۔۔ چلو جا کر میم کے لئے جوس لیکر آؤں جو سر نے بھیجوایا تھا ۔۔۔۔۔ ” ہیڈ نے اپنی ماتحت کو ڈانٹ کر وہاں سے بھیج دیا پھر ایک جوس کا گلاس مہرو کو پیش کیا گیا ۔۔۔۔۔
” میم آپ کب سے بھوکی ہیں اس لئے یہ جوس سر نے خاص آپ کے لئے رکھوائے تھےتا کہ آپ کو پیاس لگے تو آپ کو سادہ جوس نا پینا پڑے یہ برینڈ کی ا ہے میم ۔۔۔۔ ” ہیڈ نے فریدہ کے ہاتھ سے وہ گلاس لیکر خود اسے پیش کیا تھا ۔۔۔ مہرو گھونٹ گھونٹ وہ جوس پینے لگی ۔۔۔
” سنو رونے سے میک اپ تو خراب نہیں ہو جائے گا کیونکہ میں جتنا بھی کنٹرول کر لو رخصتی کے وقت میرے آنسوں نہیں رکیں گئے “مہرو کی بات سن کر وہ ہیڈ خاتون ہسنے لگی
” نو میم یہ واٹر پروف میک اپ ہے ۔۔۔ سر نے بھی یہی تاکید کی تھی کہ میری وائف بہت چھوٹے سے دل کی ہے روئے گی بہت اس لئے میک اپ خراب نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ ہم نے انکی ہر بات کو مد نظر رکھ کر ہی آپ کو سجایا ہے رونے سے آپ کا تو کاجل تک نہیں پھیلے گا ۔۔۔۔ “, مہرو مسکرانے لگی باہر اپنی گاڑی کا ہارن سن کر وہ کھڑی ہو گئ ۔۔
” ۔۔ او کے میم خدا حافظ ” وہ خاتون مسکرا کر بولی مہرو تیز قدم اٹھاتے ہوئے باہر چلی گئ ۔۔۔ گاڑی اسکی کی تھی ۔۔۔ لیکن نا جانے ڈرائیور نے چہرے پر کالا کپڑا کیوں لپیٹ رکھا تھا اس کاچہرہ چھہاہوا سا تھا وہ بیک سیٹ پر جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ جیسے ہی دروازہ بند کیا گاڑی فل اسپیڈ سے چلی تھی لیکن مہرو کو بعد میں احساس ہوا کہ وہ اسکی گاڑی نہیں تھی ۔۔۔۔ ہارن ویسا ہی تھا گاڑی کا رنگ اور موڈل تک وہی تھا لیکن گاڑی وہ نہیں تھی اسے پہلے کے وہ کچھ اور غور وخوض کرتی اسے غنودگی سی چھانے لگی تھی سر چکرانے لگا تھا آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا تھا
مہرو پل میں ہوش سے بیگانہ ہوئی تھی۔۔۔۔۔
******……,
مہرو نساء کا ڈرائیور جب اسے لینے پارلر پہنچا تو وہاں سے معلوم ہوا کہ وہ تو آدھا گھنٹہ پہلے ہی جس چکی ہے ڈرائیور نے پوچھا کہ کس کے ساتھ تو جواب ملا کہ ایسی ایک گاڑی آئی تھی ۔۔۔ وہ خود اس میں بیٹھ کر گئی ہے اب یہ نہیں معلوم کے گئ کس کے ساتھ ہے ۔۔۔ڈرائیور نے گھر پہنچ کر نیاز صاحب کو یہ خبر دی نیاز صاحب نے تو غصے اور اشتعال میں آ کر ڈرائیور کا ہی گریبان پکڑ لیا کہ تم میری بیٹی کو کہاں چھوڑ آئے ہو ۔۔۔ بارات کے لئے وہ سب ہال جانے کے لئے گھر سے نکلنے والے ہی تھے کہ یہ قیامت ان پر ٹوٹ پڑی زیب نساء اور اسکی والدہ تو دل تھام کر وہیں صوفے پر بیٹھ گئیں ۔۔۔ سمیر نیاز صاحب کے ساتھ دوبارہ پارلر پہنچ گیا وہاں جا کر بہت شور شرابا کیا لیکن انکے کیمرے میں ساری ویڈیو موجود تھی ۔۔۔ مہرونساء خود گاڑی میں بیٹھی تھی بس ڈرائیور کی شکل اس ویڈیو میں نظر نہیں آ رہی تھی دیکھنے یہی لگ رہا تھا کہ گاڑی انکی ہی ہے لیکن گاڑی کا نمبر سلگ تھا اس نمبر کو نوٹ کر کے فورا پولیس کو بتایا گیا دوسری جانب ہر بات سے بے خبر فواد دولہا بن کر بارات کے ساتھ نکل چکا تھا ۔۔۔ راستے میں ہی فواد جو سمیر کی کال آئی تھی خبر ایسی تھی کہ پاؤں کے نیچے سے زمین ہی کھسک گئ تھی ۔۔۔۔ سب لوگ سیدھا نیاز صاحب کے گھر پہنچے تھے ۔۔۔۔ جس گاڑی کا نمبر ٹریس کیا گیا تھاوہ خالی ایک سنسان روڈ پر ملی تھی جہاں آبادی کا دور۔ دور تک کوئی نام و نشان تک نہیں تھا ۔۔۔ مہرونساء فون بند تھا کال ریکارڈ میں جو نمبرز تھے سب کو ٹریس کیا گیا لیکن جس نمبر سے مہرونساء کو میسج ا رہے تھے وہ نمبر بند تھا ۔۔۔۔ آدھی رات کو بیت چکی تھی لیکن مہرونساء کا کچھ پتہ نہیں چل پا رہا تھا ۔۔۔ نا اسکی کسی سے کوئی ان بن ہوئی تھی نا ہی نیاز صاحب کی کسی سے ذاتی دشمنی ۔۔۔ وہ اپنی شادی سے بے حد خوش تھی راضی تھی فواد کے ساتھ بھی کوئی لڑائی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔ کیس کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا تھا
” معاف کرنا نیاز صاحب آپ کی بیٹی کوئی چھوٹی بچی تو تھی نہیں کہ جسے دو روپے کی توفی دے کر بہلا کر کوئی لے گیا ہے ۔۔۔ سی سی ٹی وی ویڈیو میں وہ خود اس گاڑی میں بیٹھی ہے ۔۔۔ یہ اب عام سی بات ہو چکی ہے ماں باپ پہلے تو بچیوں کے زبردستی رشتے طے کر دیتے ہیں اس کے بعد جب وہ یہ گل کھلا دیں تو اپنی غلطی ماننے سے انکار کرتے ہوئے ہماری جان عذاب میں ڈال دیتے ہیں ہم اپنی راتیں کالی کے جب کیس کی تہہ تک پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی خود اپنی مرضی سے اپنے یار کے ساتھ بھاگی تھی ” ایس ایچ او نے بنا لحاظ کے جمعلے بولنے شروع کیے تھے ۔۔۔
” ایسا کچھ نہیں ہے میری بیٹی ایسی ہر گز نہیں ہے اسکی شادی اسکی مرضی سے ہو رہی تھی وہ بہت خوش تھی اور میں آپ کو پہلے بھی کہہ چکا ہوں کڈنیپر نے گاڑی ہو با ہو ہمارے جیسی استعمال کی ہے تو کہ میری بیٹی دھوکے اس میں بیٹھ جائے اگرآپ نے چھان بین کاسلسلہ شروع نا کیا تو میں اوپر تک بات کروں گا ” نیاز صاحب نے اشتعال انگیز لہجے سے کہا زیب نساء اور مہرونساء کی والدہ کارو رو کر برا حال تھا فواد تو پریشانی کے مارے چکر کاٹے جارہا تھا ۔۔۔۔ کبھی کسی آئی جی کو فون کیا جارہا تھا کبھی کسی اثر رسوخ رکھنے والے کو ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی فواد اور نیاز صاحب کے نمبر پر تصویر واٹس پرشو ہوئی اس تصویر۔ کو دیکھ کر تو وہ دونوں سانس لینا ہی بھول گئے تھے
