186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 35

Meri Jaan by Umme Hani

زکی کی باتیں مہرو کے دل پر اثر کرنے لگیں تھیں اب زکی جب بھی گھر لوٹتا مہرو سے معانقہ کرنے لگا تھا کھانے کے چند نوالے ہی صحیح لیکن مہرونساء کو ضرور کھلاتا تھا ۔۔ جس دن چھٹی کرتا اس دن مہرو کے ساتھ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بھی بٹا دیتا تھا ۔۔ مہرونسا اب زکی سے بے تکلف ہونے لگی تھی لیکن اسکو اسکا حق دینے سے ابھی بھی ڈرتی اور جھجکتی تھی رات کو زکی کی فرمائش پر مہرو اس کے لئے بلیک کافی بنا کر لے ائی۔جس رات زکی کو لیٹ نائٹ جاگ کر کام کرنا ہوتا تھا وہ بلیک کافی ضرور پیتا تھا ۔اب بھی وہ لیپ ٹاپ کھولے صوفے پر بیٹھا تھا

مہر نے کپ زکی کے ہاتھ میں تھما دیا

” بہت شکریہ مہر “

” اس میں شکریہ کی کیا بات ہے “,مہر کو زکی کا بار بار شکریہ بولنا کچھ عجیب لگتا تھا جب بھی وہ اس کا کوئی کام کر دیتی تھی وہ اسے تھنکس مہر یا شکریہ جیسے لفظ ضرور استعمال کرتا تھا

” مہر تمہیں نیند تو نہیں آ رہی ” زکی نے کپ پکڑتے ہوئے پوچھا تھا

” نہیں ابھی تو نہیں آ رہی اس لئے سوچ رہی تھی آج کچھ لکھوں ” مہر کی بات سن کر مسکرانے لگا

” کل لکھ لینا آج یہاں بیٹھو میرے پاس تمہیں دیکھاوں کے ہمارے دوسرے ڈرامے پر کتنا اچھا رسپونس مل رہا ہے مجھے امید ہے اسے ذیادہ لوگ پسند کریں گئے ” زکی بات سن کر مہرونساء کی آنکھوں میں بھی آشتیاق سا بڑھنے لگا وہ اس کے پاس بیٹھ گئ لوگوں کی پسندیدگی بڑھ رہی تھی کمنٹس بھی بہت اچھے آ رہے تھے

” زکی میں نے اس میں سسپنس بہت ڈالا اس لئے لوگوں کو نیکسٹ اپیسوڈ کا انتظار بہت بے صبری سے ہے ۔۔ ” کمنٹس پڑھتے ہوئے مہرو نے خوش ہوتے ہوئے کہا

” سارا کمال تمہارے ان ہاتھوں کا ہے ۔۔ جن میں جادوئی سی طاقت ہے پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے اور پھر یسرا اور فاضل کرداروں اپنے اندر سمو لیتے ہیں اس لئے مجھے امید ہے کہ میرا مقصد جلد پورا ہو جائے گا سچ میں مہر تمہاری کہانیاں میری راتوں کی نیندیں اڑا دیتی ہیں ” زکی کی تعریف پر وہ جھنپ سی گئ تھی زکی نے مہرونساء کا ہاتھ پکڑ لیا جس کوئی انگوٹھی نا تھی نا ہی ناخن بڑھے ہوئے تھے ان ہی نیل پولش سے مزین تھے سادے سے ہاتھ تھے ہتھیلی پر بس قسمت کی لکیریں بڑی گہری تھیں بڑے غور سے وہ مہرونساء کا ہاتھ دیکھ رہا تھا پھر مہرونساء کے چہرے کی جانب دیکھنے لگا جو میک اپ سے مبرا تھا لباس بھی سادا تھا بال بھی کیچر میں مقید تھے لگتا ہی نہیں تھا اس کی شادی نئ نئ ہوئی یوں لگتا بس وہ اپنی ڈیوٹی نبھا رہی ہے مہرونساء کچھ حیرت بھی ہو رہی تھی پہلے کبھی زکی نے اڈے یوں نہیں دیکھا تھا

” زکی کیا دیکھ رہے ہیں “

” دیکھ رہا ہوں میری بیوی کے ہاتھ سادے سے بہت ہیں ۔۔ مجھے مہندی کے والے بہت پسند ہیں مہر اگر دل چاہے تو لگا لیا کرو اگر لگانی نہیں آتی تو کسی سے لگوا لیا کرو ” زکی کی فرمائش پر وہ نظریں چرانے لگی تھی

” مجھے آتی تو ہے لیکن بس گول گول سی ٹکیاں آتیں ہیں وہی لگا لوں گی ” مہرونساء نے انکار نہیں کیا تھا لیکن زکی کی نظروں سے اسکی دھڑکنیں اس وقت بڑھیں جب زکی نے اپنا بازو پھیلا کر مہرونساء کے کندھے پر رکھ کر اسے اپنے حصار میں لیا تھا

” جب میں کل آؤں تو تھوڑا سا میک اپ بھی کر لینا مجھے اچھا لگتا ہے مہر کہ جب میں اپنے کام سے تھکا ہوا گھر پہنچوں تو میری بیوی مجھے سجی سنوری سی نظر آئے ” وہ مہرونساء کے چہرے پر پھیلنے والی بد حواسی کو۔ دیکھ رہا جو زکی کی قربت کی وجہ سے اس پرسوار ہونی شروع ہوئی تھی لیکن اس نے اپنی بات جاری ہی رکھی تھی

” مجھے اچھا لگے گا مہر اگر کبھی کبھی تم اپنے بالوں کو آزاد رہنے دیا کرو ۔۔۔ اچھے لگتے ہیں یہاں میرے علاؤہ اور کوئی نہیں ہوتا اس لئے میرے سامنے بالوں کے قید سے آزاد ہی رہنے دیا کرو ” مہرونساء کو اگر یہ باتیں بری نہیں لگ رہیں تھیں لیکن جان اسکی زکی کے مخمور سے لہجے سے ہوا ہو رہی تھی

” جانتی ہو۔ مجھے تمہارے چہرے پر سب سے حسین تمہاری آنکھیں لگتی ہیں میں نے سنا تھا مہر کے انسان کی آنکھیں اسکے دل کی عکاسی کرتی ہیں دل کے ہر راز کو بیان کرتی ہیں آنکھیں روتی بھی اور مسکراتی بھی شرماتی بھی ہیں جھجکتی بھی ہیں نفرت کا اظہار بھی کر دیتی ہیں بے بسی کو زبان دیتی ہیں بس کوئی پڑھنے والا ہو تو آنکھیں دل کی داستاں کی کھلی کتاب ہوتی ہیں ایسا میں نے سنا تھا لیکن جانتی ہو میں تمہاری آنکھوں کو جب مسکراتے دیکھتا ہوں ہیں تو ان کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ہے ایک روشن سے دیے کی مانند ان کی لو مجھے بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے مہر کہ ان جلتے دیوں سے میرے دل کی دنیا میں چراغاں ہو گیا ہو ۔۔۔ واٹ آ بیوٹی فل یو آئز مہر ” زکی اسکی خوبصورت آنکھوں میں کھونے لگا تھا مہرونساء اب تک زکی کی باتوں سے صرف دل کی تیز ہوتی دھڑکنوں کو سن رہی تھی لیکن اس آخری فقرہ سننے کے بعد کے بعد ایک تلخ یاد ااور آواز کہ باز گشت سی اس کے ذہن میں گونجنے لگی

“واؤ ؤاٹ آ بیوٹیفل یور آئز ۔۔۔۔ پتہ ہے مہرونساء تمہاری جھیل جیسی آنکھوں میں یہ ٹہرے ہوئے آنسوں مجھے کتنے اچھے لگتے ۔۔۔ کسی خوبصورت جھرنے کا منظر میرے سامنے آنے لگتا ہے

تمہاری آنکھوں میں بھرے ہوئے آنسوں دیکھ کر کاغان کی آنسوں جھیل کا گمان ہونے لگتا ہے جانتی ہو مجھے کبھی بھی سیف الملوک کی خوبصورت جھیل ۔۔جسے لوگ دور دور دیکھنے آتے ہیں کبھی اتنا متاثر نہیں کرتی تھیں جتنی یہ آنسوں جھیل کرتی ہے۔۔ دور سے دیکھنے پر گمان ہوتا ہے کسی عورت کی خوبصورت آنکھ ہے جس میں آنسوں کی سطح اس قدر بلند ہے اگر ۔۔۔۔ اگر وہ آنکھ کو جھپک بھی لے وہ ساری آنسوں جھیل بہہ کر ختم ہو جائے گی ویران سی لگنے لگے گی اسکی خوبصورتی ماند پڑ جائے گی اس لئے وہ بھری ہوئی جھیل کا منظر جب میں تمہاری آنکھوں میں دیکھتا ہوں ۔۔۔ چسٹ واو۔۔۔۔ تم سوچ نہیں سکتی کتنا پیار آتا ہے مجھے تم پر اس لئے ہر وقت اپنی آنکھوں میں آنسوں کی سطح کو بلند رکھنا اور آنسوں کو پلکوں کی باڑ سے بہنے نا دینا ۔۔۔ ورنہ مجھے بہت برا لگے گا مہرونساء “

حازم کے کہے جمعلوں نے دل پر حشر سا بھرپا کیا تھا اس کی آنکھوں میں آنسوں بھرنے لگے تھے زکی کو حیرت اس بات کی تھی کہ وہ اسکی تعریف پر نم آنکھیں کیوں کر رہی تھی

شرما سکتی تھی مسکرا بھی سکتی تھی لیکن رونے والی تو کوئی بات نہیں تھی

مہرونساء نے اپنی آنکھیں بند کر کے جمع شدہ پانی کو باہر کی راہ دیکھائی تھی لیکن وہ آنسوں رکے نہیں تھے ایک کے بعد ایک آنسوں آنکھوں سے بہنے لگا زکی نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کے آنسوں صاف کیے تھے

” رونے والی تو کوئی بات نہیں تھی مہر ” وہ بہت نرمی سے بولا

” زکی میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا میں آپ کو کچھ نہیں دے سکتی میں ذہنی طور شاید ایک نارمل لڑکی نہیں رہی ہوں میرا ماضی مجھے کبھی بھی چین سے جینے نہیں دے گا میرے کانوں میں آج بھی اسی شخص کی آوازیں گونجتی ہیں مجھے آپ کی قربت کا سوچ کر بھی اسکی درندگی یا آتی ہے مجھے خوف آتا ہے مجھے ڈر لگتا ہے آپ نےمیرا انتخاب کر کے اپنے ساتھ ٹھیک نہیں کیا بہت بڑی غلطی کی ہے میں کبھی آپ کو آپ کا نا حق دے سکتی ہوں نا محبت ” وہ اب رونے لگی تھی ۔۔۔ زکی اسے بس دیکھ ہی سکتا تھا مہرونساء اس کے حصار سے باہر نکل گئ تھی اس سے پیچھے ہٹ گی تھی زکی نے لیپ ٹاپ بند کر دیا اور پورا رخ مہرونساء کی طرف کر لیا مہرونساء اٹھ کر جانے لگی تھی

” یہیں بیٹھی رہو اور میری بات غور سے سنو ” زکی نے اسے فورا سے ٹوک دیا مہرونساء وہیں بیٹھ گئ

” مہر ہم دوست بھی ہیں تم مجھ سے اپنی ہر بات کر سکتی ہو اپنی ہر اذیت مجھ سے کہہ دو اور بھول جاؤں سب کچھ جو گزر چکا ہے

یا مجھے ایک بار اجازت دے دو مہر تمہارے آنسوں میں اپنی پلکوں سے اٹھا لوں گا لیکن با خدا تمہاری اجازت ہونی چاہیے ۔۔۔۔ کہہ دو جو تمہارے دل کے پیالے بھر چکا ہے رونا چاہتی رو لو لیکن وہ آخری بار کا رونا ہونا چاہیے” زکی کی بات پر مہرونساء نے خود پر بیتی ہر بات بتا رہی تھی حازم کی ہر بات اس سے کہہ دی تھی فواد کے بارے میں بھی کچھ نہیں چھپایا تھا زکی بلکل خاموشی سے سب کچھ سنتا رہا جو اذیت مہرو نساء نے جھیلی تھی اسے نہیں لگتا تھا کہ وہ اتنی بڑی سزا کی حقدار ہے لیکن یہ بھی ضرور تھا اس نے اپنے قلم کی چوٹ بہت سے کچے ذہنوں پر لگائی تھی جو غلط تھا ۔۔۔ لیکن اللہ سے معافی بھی مانگ چکی تھ توبہ بھی کر چکی تھی ۔۔۔ خود کومکمل طور پر بدل بھی چکی تھی اگر اسے بچپن سے اچھے برے کے بارے میں سمجھایا جاتا تو شاید وہ بھی ایسی نا ہوتی اس نے جب پہلی بار قلم اٹھایا تو اسی وقت اسے گھر والوں کو اس سے کہنا چاہیے تھا کہ جو کام تم کرنے جا رہی ہو یہ کوئی عام کام نہیں ہے ذہن سازی ہے جو اچھی طرف بھی راغب کر سکتی ہے اور بری طرف بھی قلم ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔۔۔ ہاتھ سے لکھی گئ بات جہاں جہاں تک پہنچے گی وہ سوچ کو تشکیل دے گی کاش کے مہر ونساء نے اقبال کو پڑھا ہوتا سمجھا ہوتا محسوس کیا ہوتا ۔۔۔ پاکستان کی تشکیل

اقبال کے خواب اور دل سوز شاعری کا نتیجہ ہے

قلم اورانسانی سوچ کی تشکیل کا تعلق ازل سے ہے

اقبال نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا خواب ناصرف خود دیکھا تھا بلکہ ہندوستان میں بسنے والے ہر مسلمان کی آنکھوں میں بسایا بھی تھا دل کے سوئے ہوئے جذبات کو جب اقبال کی دل سوز شاعری نے ہوا دی تو پورے ہندوستان میں انقلاب سا بھرپا ہو گیا تھا ۔۔۔

اور نتیجہ پاکستان کا قیام تھا ۔۔ اسی طرح قلم کار

ذہنوں کی تشکیل کا کام کرتے ہیں اس لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اچھی سوچ پروان چڑھائے جھوٹی شہرت سے بہتر کڑوی حقیقت کو پیش کرنے کو ترجعی دیں بے شک مشکل یہ امر ہے لیکن دل اسکی سچائی کی گواہی جب دینا شروع کر دے تو پھر انقلاب ضرور آتا ہے ۔۔۔

مہرونساء روتے روتے اسی صوفے پر ہی سو چکی تھی زکی نے تکیہ اس کے سر کے نیچے رکھااس پر

لحاف دیااور خود بیڈ پر لیٹ کر مہرونساء کے بارے میں ہی سوچنے لگا ۔۔۔

جب مہرونساء کی آنکھ کھلی تو زکی جا چکا تھا

مہرونساء کو اب اس بات پر افسوس ہو رہا تھا کہ اس نے کیوں زکی سے ہر بات کہہ دی شوہر کہاں ایسی باتیں سنتے اور برداشت کرتے ہیں ۔۔ شوہر کی سوچنے انداز الگ ہوتا ہے وہ کبھی اپنی بیوی کے منہ سے اس کے کسی عاشق کے بارے نہیں سن سکتا پھر وہ کیوں فواد کے بارے میں اسے اپنی ہر بات بتاتی چلی گئ شوہر اپنی بیوی کے سابقہ شوہر کے بارے میں کوئی بات سننا پسند نہیں کرتا لیکن وہ حازم کی ہر بات کہہ چکی تھی اب پریشان تھی بنا بتائے زکی جا چکا تھا پتہ نہیں وہ اس کے بارے میں کس انداز سے سوچ رہا ہو گا مہرونساء کو اب زکی کے حوالے سے فکر سی لگ گئ تھی اپنی غلطی کااحساس شاید اسے غلطی کرنے کے بعد ہی ہوتا تھا زکی اکثر شام میں ہی زکی واپس آ جاتا تھا لیکن شام سے رات ہو گئ تھی مہرونساء کو اس۔ وقت صرف زکی کی فکر تھی اس لئے آپ ے والد دوں سے ایک خوبصورت سا لباس نکال کر پہنا میک اپ بھی کیا بال بھی کھلے چھوڑ دیے کھانے میں بھی ہر چیز زکی کی پسند کی بنائی تھی پورا دن بس اسی کی فکر ستاتی رہی تھی لیکن

رات کے آٹھ بجے اچانک بے موسم کی بارش نے جل تھل مچا دی تھی لیکن پہلے پہل تو مہرونساء لاونج کی کھڑکی سے باہر مین روڈ اور پارکنگ ایریا دیکھتی رہی شادی کے بعد سے اب تک زکی کبھی چھ بجے کے ذیادہ لیٹ نہیں ہوا تھا اور اب دس بج چکے تھے مہرونساء نے اسے کال کی تو موبائل آف تھا مہرونساء نے فاصل کو کال کر کے پوچھا تو اس نے کہا زکی تو کب سے جا چکا ہے اب تو پریشان ہونے لگی تھی کہ شاید مہرونساء کی باتیں زکی پر گراں گزری ہیں کبھی فون بھی آف کر دیا اصل جان لبوں پر تب آئی جب بارش نے تیز طوفان کا روپ دھار لیا تھا

بادلوں کی گرج چمک نے دل دہلانا شروع کیا تھا مہرونساء نے خوف سے سارے گھر کی کھڑکیاں بند کر دیں تھی اور خود کمرے میں جا کر بیٹھ گئ اس وقت اکیلی گھر پر تھی ہوا اتنی تیز تھی کہ بند کھڑکیوں سے ہوا کے زور سے ژوں ژوں کی آوازیں ایک خوفرذہ سی لگ رہیں تھیں مہرونساء پورے کمرے کی لائٹس جلائے بیٹھی تھی تا کہ خوف کچھ کم محسوس ہو بار بار فون سے جب بھی زکی کا نمبر ملاتی فون بند ہی مل رہا تھا ۔۔۔ بار بار وہ گھبراہٹ کے مارے کبھی اپنی انگلیاں چٹخنے لگتی کبھی ہاتھ مسلنے لگتی جب بھی بادل کی زور دار گرج کی آواز آتی مہرونساء کادل دہل کر رہ جاتا آنکھوں کے سامنے بارش کاوہی منظر گھومنے لگا جس رات وہ بھاگی تھی ۔۔۔ پوری رات بارش میں بھیگتی رہی تھی

رات کے بارہ بج چکے تھے لیکن زکی کا کچھ پتہ نہیں تھا مہرونساء کا ضبط جواب دے چکا تھا

اب وہ رونے لگی تھی نا جانے زکی ابھی تک آیا کیوں نہیں تھا ؟بار بار وہ اس کے موبائل پر فون کر رہی جو مسلسل آف تھا ۔۔۔ دل بار بار خدشوں میں مبتلہ تھا کہیں وہ اسے ناراض ہو کر چھوڑ کر نا چلا گیا ہو خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیوں اسے اپنے ماضی سے آگاہ کیا کیاسوچتا ہو گا کہ میری تحریریں جس کی تعریفیں کرتا نہیں تھکتا اسی کے غلط استعمال سے میں نے ایک معصوم لڑکی کی جان لے لی ۔۔۔ ” مجھے نہیں بتانا چاہیے تھا ۔۔۔ اب میں کیا کروں اگر زکی نے مجھے چھوڑ دیا تو ؟؟؟؟ اس سوچ نے مہرو کی روح فنا کی تھی ۔۔۔ میں پھر سے اپنے گھر والوں کے لئے ایک نئ تکیے کا سبب بن جاؤں گی ۔۔۔ وہ میرا کتنا خیال رکھ رہا تھا میں نے ہی نا جانے کیوں خود پر خوف طاری کر لیا ہے

وہ منہ سے کچھ نہیں کہتا لیکن اسکی آنکھیں مجھ سے شکوہ کرتی ہیں میرا شوہر ہے وہ ۔۔ مجھ سے اپنا حق چاہتا ہے اگر چاہے تو زبردستی بھی مجھ سے اپنا حق وصول کر لے تو کون ہے جو سے روک سکتا ہے ۔۔ حازم جیسا ہوتا تو لمحہ بھی انتظار نا کرتا ۔۔ فواد جیسا بھی ہوتا تب بھی اپنی خواہش کو پس پشت ڈال کر میری ذہنی حالت کو اہمیت نا دیتا میرا خوف میرا مسلہ ہے مجھی کو حل کرنا پڑے گا ۔۔ میں کیوں اپنی زندگی اپنے ہاتھوں سے برباد کر رہی ہوں ” ایک بارش کا خوف اس پر اپنی غلطی پر ندامت وہ سوچ چکی تھی کہ زکی واپس آ جائے تو وہ اس سے معافی مانگ لے گی ۔۔۔ پھر یہ وسوسے بھی ڈرانے لگے کہ تیز بارش میں میرے ماضی کو سوچ کر غصے سے کہیں گاڑی نا لگ گئ ہوں کوئی حادثہ نا پیش آ گیا ہو ۔۔۔۔

یہ سوچ کر اور بھی رونا آنے لگا تھا

وہ واپس آ ہی تو نہیں رہا تھا کہاں رہ گیا تھا ۔۔۔ رات کے دو بج گئے تھے نا بارش رک رہی تھی نا زکی واپس آیا تھا مہرونساء کو لگ رہا کہ اس کی جان سولی پر اٹکی ہوئی ہے کبھی وہ کھڑی کے پاس جا کر دیکھنے لگتی کبھی پارکنگ ایریا میں اس کی گاڑی تلاش کرنے لگتی تو رو رو کر رب کے حضور زکی کے لوٹ آنے کی دعائیں کر رہی تھی ۔۔۔ دل تھا کہ کسی ماہی اب کی طرح سے بے چین تھا جب باہر کی گھنٹی بھی تھی ۔۔۔

وہ اپنے آنسوں پونچتے ہوئے میں دروازے کے پاس گئ تھی

” کون ہے “

” مہر میں ہوں دروازہ کھولو یار ” زکی کی آواز سن اس نے سکھ کا سانس لیا تھا جلدی سے دروازہ کھولا بہرے ہوئے آنسوں کے ساتھ وہ اسے دیکھ رہی تھی زکی بھی اسے ہی سر سے پیروں تک دیکھ رہا تھا جو سجی سنوری رو رہی تھی

آج اس نے نیا لباس بھی پہنا تھا میک اپ کیا تھا بال بھی کھلے ہوئے تھے آنکھوں میں کاجل بھی لگا ہوا تھا جو رونے سے پھیل چکا تھا زکی بارش سے بھیگا ہوا پہنچا تھا لیکن مہرونساء کی بے چینی کا یہ عالم تھا کہ وہ زکی کو سامنے دیکھ کر اسکے ساتھ لگ کر رونے لگی تھی زکی اس کے اس طرح بے ساختہ رونے پر حیران تھا

” مہر ” زکی اسے ساتھ لگائے ہی اندر داخل ہوا تھا

اپنے پاؤں سے دروازہ بند کیا

” کہاں تھے آپ ۔۔۔؟ میری ذراسی پروا ہے آپ کو زکی ؟ رات کے دو بج رہے ہیں میں کتنی پریشان تھی ” وہ زکی کے ساتھ لگی ہچکیوں سے رو رہی تھی

” مہر بارش میں پھنس گیا تھا یار دیکھوں کتنی تیز بارش ہو رہی ہے ” مہرو نساء کو اپنے حصار میں لئے وہ وجہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا

” فون کیوں آف کیا تھا ایک کال تو کر سکتے تھے زکی ” مہرونساء کے شکوے جاتی تھے

” کیسے کرتا موبائل کی بیڑی ڈاؤن ہو چکی تھی راستے اتنا ٹریفک جام تھا پھر کراچی کی سڑکوں کا تمہیں معلوم ہے دریا بہنے لگتے ہیں گاڑی بھی خراب ہو گئ تھی پیدل آ رہا ہوں بارش میں بھیگتا ہوا مجھے تمہاری بھی فکر تھی کہ تم ۔۔۔ “

” جھوٹ مت بولیں مجھ سے ۔۔۔ کوئی پروا نہیں ہے آپ کو میری میں جیو یا مر جاؤں آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا اگر ۔میری فکر ہوتی تو کسی سے بھی موبائل لے کر مجھے ایک کال کر سکتے تھے لیکن نہیں آپ نے نہیں کی جانتے میں نے کیسے ایک ایک پل وسوسوں اور اندیشوں میں گزارا ہے ۔۔۔

کیا کیا وہم مجھے نہیں ستانے لگے تھے لیکن آپ کو میری کیا پروا ہے ” وہ ابھی بھی اس کے ساتھ لگی پہلی بار اس سے بیوی کی طرح سے بات کر رہی تھی لڑ رہی تھی شاید بہت زیادہ ڈر گئ تھی۔ زکی اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے اسے تسلی دے رہا تھا ۔۔۔

” مہر “

” خبردار جو مجھے مہر کہا تو مہرونساء کہا کریں اتنا پیار نہیں ہے آپ کو مجھ سے جتنا میرے سامنے جتانے کی کوشش کرتے ہیں ورنہ کہیں سے کرتے لیکن مجھے فون ضرور کرتے ۔۔۔ ” مہرونساء کا غصہ اپنی جگہ بجا تھا

” ضرور کر لیتااگر تمہارا نمبر یاد ہوتا تو ؟” زکی نے فورا سے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا لیکن زکی کے جواب پر مہرونساء برجستہ اس سے پیچھے ہٹی تھی بڑی تاسف سے اسے دیکھنے لگی

” یہ محبت ہے آپ کی کہ آپ کو میرا نمبر تک نہیں یاد “

” مہر مجھے کسی کا بھی نمبر یاد نہیں ہے سب موبائل میں بھی سیو ہوتے ہیں “

” لیکن میرا نمبر یاد ہونا چاہیے تھا اس لئے میں سب نہیں ہوں آپ کی بیوی ہوں ۔۔۔ لیکن آپ کو مجھ سے محبت ہوتی تو نمبر یاد ہوتا ؟ ۔اپ کو میری ذرا پروا نہیں ۔ محبت تو صرف میں نے آپ سے کی ہے ۔۔۔ بار بار میں کھڑکی سے دیکھ رہی ہاہر ہر گزرتے گاڑی پر یہی دعا کر رہی تھی وہ آپکی ہو آپ خیرت سے گھر پہنچ جائیں کئ بار میں نے آپ کو کال کی حالانکہ مجھے پتہ تھا کہ آپ کا فون آف ہے لیکن پھر بھی میں نے بہت ساری کالز کیں تھیں ۔۔۔ آپ کو میرا سجناسنورنا پسند تھااس لئے میں آپ کے لئے تیار بھی ہوئی ” وہ نا جانے کیااس پر۔جتانا چاہ رہی تھی اپنی محبت کااظہار بھی وہ تذبذب کی حالت میں کر رہی تھی ۔۔ وہ اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا

” آدھر دیکھوں مہر ” زکی نے مہرونساء کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا یک دم ہی مہرونساء کی بولتی بند ہوئی تھی

” میں جانتا ہوں میری مہر مجھ سے۔ بہت محبت کرتی ہے بس میں ہی نکما ہوں جو تمہاری محبت کی قدر نہیں کر پاتا ” زکی کی باتیں اسے اندر سے زیر کر دیتیں تھیں وہ فوار سے ہر الزام خود پر لے لیتا تھا اسے دیکھ کر کہیں سے یہ۔ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ رات والی باتوں پر اس سے ناراض ہے ۔۔۔ پھر اپنے ہاتھ اسکے چہرے سے ہٹا کر بولا

” ٹھنڈ لگ رہی ہے مہر اگر تم اجازت دو تو کپڑے تبدیل کر لوں ورنہ اگر میں بیمار پڑ گیا تو تمہں ہی سنبھالنا پڑے گا ۔۔۔ ” مہرو نساء جواب احساس ہوا تھا کہ اس نے زکی کو بیٹھنے کا بھی موقع نہیں دیا نا پانی کا پوچھا بس گلے شکوے میں پہل کی تھی ۔۔۔

” ایم سوری ۔۔ آپ چینج۔ کریں میں کھانا گرم کرتی ہوں ” اپنے آنسوں پونچتے ہوئے کچن میں چلی گئ

مہرونساء نے کھانا گرم کر کے لگا دیا آج شاید زکی کو بھوک کچھ زیادہ لگی تھی پھر ایک ڈیر میل وہ پیدل چل کے آیا تھا ۔۔۔ اس لئے مہرونساء کو پہلا نوالہ کھلانا بھول گیا تھا بس اسے بارش میں گاڑی خراب ہونے اور کراچی سڑکوں کا حال بتاتے ہوئے کھانے میں مگن تھا ۔۔۔ بھوک تو مہرونساء کو بھی بہت لگی تھی وہ بھی کب سے پی بھوکی روتی رہی تھی پریشان بھی بہت ہوئی تھی لیکن زکی کے ہاتھ سے کھانے کی ایک عادت سی ہو گئ تھی اس لئے ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ کمی سی ہے نا جانے کیوں یہ بات بری لگ رہی تھی کہ زکی نے اسے نوالہ بنا کر نہیں کھلایا بھوک جیسے مٹ سی گئ تھی ۔۔ اس نے تھوڑے سے ہی چاول کھائے تھے ۔۔ اور پلیٹ پیچھے کھسکا دی ۔۔۔ زکی اپنی باتوں میں مگن تھا کھانا کھانے کے بعد اس نے مہرونساء کی پلیٹ کی طرف دیکھا تھا ۔۔

” مہر کھانا پلیٹ میں کیوں چھوڑا ہے۔ پتہ ہے میرے داد کہتے تھے کہ اپنی پلیٹ بلکل صاف کرنی چاہیے ” مہرونساء کو لگا تھا زکی کب اسکی پلیٹ دیکھے گا تو اسے یاد ا جائے گا کہ وہ روز اسے چند نوے ضرور کھلاتا ہے لیکن زکی کو یاد تم نہیں تھا آج تو مہرونساء کو زکی کے دادا کہ بات بھی سن کر اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔

” میری بھوک ختم ہو چکی ہے “

” یہ بہانہ نہیں چلے گا چلو منہ کھولو ” زکی نے چمچ میں چاول ڈالے تو مہرو کے دل کو تسلی ہوئی تھی زکی دو ماہ میں اسکے لئے کیا ہو چکا تھا وہ مہرونساء ب سمجھیں تھی شادی کے معنی سمجھ میں آرہے تھے کیسے دو اجنبی ایک دوسرے کے لئے اتنے اہم ہو جاتے ہیں

یک جان دو قالب ہونا کسے کہتے ہیں وہ اسے اب معلوم ہو رہا تھا زکی اسے اب بھی دادا کے نصحتیں سناتے ہوئے کھانا کھلا رہا تھا ۔۔۔

کھانے کے بعد گرما گرم چائے پی کر زکی کی کچھ تھکن اتری تھی جب وہ سونے کے لئے صوفے پر جانے لگا تو تب مہرو نساء نے اپنی ہمت مجتمع کر کے بات شروع کی تھی

” زکی باہر ابھی بھی بارش ہو رہی ہے بادل بھی گرج رہے ہیں بجلی بھی چمک رہی ہے ” مہرنساء نہیں چاہتی تھی کہ اب وہ اس سے دور رہے اور خود سے کہہ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اب اسکے لئے کتنی اہمیت رکھنے لگا ہے

زکی نے بات سن کر سمجھا کہ وہ بارش سے خوف کھا رہی ہے ۔۔ زکی کھڑکیاں دوبارہ سے اچھی طرح بند کر دیں پردے بھی کھڑکی کے سامنے پھیلا دیے ۔۔ اب وہ صوفے پر تکیہ رکھنے لگا تھا جب مہرونساء نے نظریں چراتے ہوئے کہا

” آپ آج یہیں سو جائیں مجھے اگر ڈر لگے گا تو آپ کا ہاتھ پکڑ لوں گی ” مہرونساء کو پہلے تو زکی نے حیرت سے دیکھا تھا پھر تکیہ رکھ کر بیڈ پر لیٹ گیا مہرونساء بھی اپنا تکیہ درست کر کے لیٹ گئ

لیکن جب زکی کو بیگانہ بنے آنکھوں پر بازو رکھے سوتے دیکھا تو دل جل کر خاک سا ہوا تھا

” میں ہی شاید بیوقوف تھی جو اتنا تیار ہوئی کل تو سادگی میں تھی تب تو بڑی تعریفیں کر رہے تھے اور آج ؟ آج تو جیسے میں دیکھ ہی نہیں رہی ہوں۔۔۔ مہرو کلس کر رہ گئ تھی پہلے تو جی چاہا جاکر منہ دھو کر آ جائے لیکن پھر بول پڑی

” لوگ کتنے بے مروت ہوتے ہیں بیوی اگر سادہ رہے تو طعنے دیتے ہیں اور اگر تیار ہو جائے تو نظر بھر کے دیکھتے بھی نہیں ہیں ” مہرنساء کی بات کانوں میں پڑتے ہی ایک جھٹکا سا زکی کو لگا تھا ۔۔۔ دل کی گھنٹی بڑی زور سے بھی تھی

” اوووہ تو کب سے وہ مجھے اسی بات کااحساس دلانے کی کوشش کر رہی ہے اور میں ۔؟؟۔۔ کیسے نظر انداز کر گیا ۔۔۔ ” برجستہ زکی نے اپنا بازو اپنی آنکھوں سے پیچھے ہٹایا تھا ۔۔۔ وہ زکی کو ہی دیکھ رہی تھی لیکن آنکھوں کے تصادم پر گڑ بڑا کر فورا سے آنکھیں بند کر کر لیں ۔۔۔ زکی اسکی چوری پکڑ چکا تھا اس لئے مسکرانے لگا ۔۔۔ پھر خود سے اس کے قریب آیا تھا

” مہر ادھر میری طرف دیکھو ” مہرونساء نے خفگی سے آنکھیں کھولیں تھیں

” بہت حسین لگ رہی ہو ” زکی کی تعریف پر بھی اس کا موڈ ٹھیک نہیں ہوا تھا

” اب یاد آ رہا ہے وہ بھی تب جب میں نے احساس دلایا “

” احساس دلانے کی ضرورت کیا تھی پورا حق رکھتی ہو تم مجھ پر دل اگر میرے نام پر دھڑکنے ہی لگا تھا تو صاف کہہ سکتی تھی ۔۔ میں تو کب سے تمہارا منتظر تھا ” مہرونساء خود سے اسکے قریب آئی تھی اسکے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئ

” زکی میں خوش رہنا چاہتی ہوں ۔۔۔آپ کے ساتھ ایک خوشحال زندگی کی ابتدا کرنا چاہتی ہوں آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ برے ماضی کو حادثہ سمجھ کر بھول کر آگے بڑھ جانا چاہیے “

زندگی حسین ترین ترین ہو سکتی ہے اگر ماضی کی گزرے برے دنوں کو بھلا کا حسین وقت کے ساتھ قدم آگے بڑھا دیا جائے