Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 17
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 17
Meri Jaan by Umme Hani
یسرا جب باہر آئی تو اسد کے ساتھ ساتھ جتنے بھی مرد اس وقت اسٹوڈیو میں موجود تھے سب کی بے باک نظریں یسرا پر ہی تھی یسرا خود میں سمیٹنے لگی اسد اس کے پاس آ گیا
“واہ واٹ آ بیوٹی فل ۔۔۔۔ بہت خوبصورت ہو تم ۔۔جانتی ہو جب میں نے تمہیں پہلی بار ڈرامہ کرتے دیکھا تھا تو تمہارا حسن دیکھتے ہی میرے ہوش اڑ گئے تھے تم سادہ لباس میں بھی حسین لگ رہی تھی اور اس میں تو غضب ہی ڈھا رہی ہو مجھے اس دن کا بے تابی سے انتظار ہے جب تمہاری فلم سنیما گھروں کی زینت بنے گی ؟ اسد کی غلیظ آنکھیں اس وقت یسرا کو دیکھ کر چمک رہیں تھیں یسرا نے چونک کر اسکی طرف دیکھا
” فلم ۔۔۔ لیکن میری آپ سے ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی مجھے فلم نہیں کرنی میں صرف ڈرامہ کرنا چاہتی ہوں ” یسرا کے تو فلم کا نام سن کر ہی ہوش اڑنے لگے تھے ڈرامہ میں تو پھر ایک حد تک ہی رومانس دیکھایا جاتا تھا لیکن فلم ؟؟؟ فلم کی دنیا تو کچھ اور ہی تھی ڈانس گلیمر لباس کی بیہودگی ذیادہ تھی یسرا کی بات پر اسد ہسنے لگا پھر اپنا چہرہ یسرا کے چہرے کے قریب لے جس کر بولا
” بے بی ایک سال کا کنٹریکٹ تم نے سائن کیا ہے تم وہ سب کرنے پر پابند ہو جو میں چاہوں گا ۔۔۔
اور بدلے میں میں تمہیں کڑرورو میں تول دونگا تمہاری غربت ۔۔ بے بسی ۔۔ مجبوریاں ان سب کو شرافت اور شرم کے پرانے کپڑے میں لپیٹ جتنا دور پھنک دو گی نا یسرا اتنی ہی جلدی دولت تمہارے قدم چومے گی ۔۔۔ دیکھوں تو ایک سال میں میں تمہیں کہاں سے کہاں لے جاتا ہوں یسرا چپ تھی اپنی والدہ کی باتیں یاد آنے لگیں جووہ بچپن سے ہی اپنی بیٹیوں کے کچے ذہنوں میں ڈالتی تھیں کہتیں تھیں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
حیاء نصف ایمان ہے۔ جب تجھ میں حیاء نہیں تو پھر جو تیرا دل چاہے کر. (بخاری)
عورت پوشیدہ چیز ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسکی تاک جھانک میں لگا رہتا ہے. (تر مذی)
حیاء ایک وصف اور ایمان کا جزو ہے۔ دونوں خیر کے داعی اور شر سے انسان کو دور کرتے ہیں۔ ایمان اطاعت الہی کرنے اور گناہ میں ملوث ہو نے سے روکتا ہے جب کہ حیاء انسان کو برے کام نہ کرنے پر ابھارتی ہے اور اہل حق کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے سے، فحش و بے حیائی سے روکتی ہے۔ اسی لیے صالح عورت کو حجاب کی تاکید کی گئی ہے۔
ارشاد ربانی ہے:
اے نبی اپنی بیویوں، بیٹیوں، مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادر کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں، اس تدبیر سے توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے. (سورہ احزاب:۹۵)
یسرا نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر سوچا
لیکن ایک ایسی مجبور لڑکی۔ کیا کرے جس کے گھر میں کوئی مرد اسکی عزت کی حفاظت کرنے والا نا ہو اسکی کفالت کرنے والا نا ہو جیسے خود اپنے گھر والوں کی ضرورتوں کے لئے باہر نکلنا پڑے وہ شاید میری طرح ہی
حالات کے ہاتھوں پس جاتی ہیں ۔۔۔ خلفائے راشدین کا دور تو تھا نہیں کہ جب یتیم بچیوں کی بکریوں کو سنبھالنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ انکے گھر شریف لے جاتے تھے انکی سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے اور انکی روزی روٹی کا انتظام کرتے اور کہتے یہ میری ذمہ داری ہے ۔۔۔ میں جوابدہ ہوں ۔۔ اس وقت یتیم بچیوں کی کفالت کی جاتی تھی انکی عزت کی حفاظت کی جاتی تھی ۔۔۔ اسلام ہمہیں پاکیزگی اور ہمدردی کا حکم دیتا ہے لیکن آج
ایک اسلامی معاشرہ میں رہتے ہوئے کسی ایسی یتیم بچی کی کفالت کوئی نہیں لیتا بلکہ یہاں کےحکمرانوں کے سامنے عورتیں گھر کی مجبوریوں کی خاطر انکےبستر گرم کرنے پر بھی مجبور ہے ۔۔۔
کیا،انہیں کبھی جواب نہیں دینا پڑے گا ۔۔۔ اگر میری کم تعلیم پر مجھے اتنے ہی پیسوں کی نوکری مل جاتی جو میری ضرورتوں کے لئے کافی ہوتی تو میں یہ راستہ ہر گز نا اپناتی لیکن یہاں گناہ کی چمک دھمک بہت ذیادہ ہے اسے پیسہ سے لپیٹ کر پیش کیا جاتاہے اور ہم جیسی حالات سے مجبور لڑکیاں
اپنی دوسری بہنوں کی عزت کی حفاظت کرنے کی خاطر نا جانے کب تک اپنی عزتوں کے سودے کرتی رہیں گئیں ۔۔۔
کاش کے اس میڈیا کی دنیا میں صرف پرفومس پر توجہ دی جاتی اچھے اور معیاری ڈرامے اور فلمیں دیکھائی جاتی گلیمر اور ایٹم سونگ پر محنت کرنے کے بجائے اپنے مذہب اور ثقافت کو نمایاں کر کے دیکھایا جاتا سروں پر ڈوپٹے اور پورا لباس پہن کر اس شعبے کو لے آگے بڑھا کر یہ دیکھایا جاتا کہ ہم پردے میں بھی آگے بڑھنا جانتے ہیں ۔۔۔ ہمارا ڈیلنٹ آدھے ادھورے لباس کا محتاج نہیں ہے ۔۔۔ بے حیائی کا محتاج نہیں ہے تو شاید بہت سی برائیاں جنم نا لیتیں لیکن ہم تو اپنے ہمسائے ملک سے مقابلہ کرنے کے چکر میں اپنی اصل کو بھی بھلا بیٹھے ہیں ۔۔۔ لیکن افسوس کے علاؤہ رہ کیا گیا ہے ۔۔۔ ” کئ آنسوں یسرا کی آنکھوں سے گرے تھے
“راشد میک اپ کرو اس کا ” اسد کی آواز پر یسرا کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا
*****
مہرونساء کی نظر ایک کالے رنگ کی ڈائری پر پڑی تھی اس نے کتابوں کے بیچ میں سے وہ ڈائری نکالی پہلے صفحے پر شرمینہ کی تصویر لگی تھی مسکراتا ہوا معصوم سا چہرہ
اور اس کے اگلے صفحے پر مہرو نساء کی وہ تصویر تھی جو اس نے رسالے میں چھپوائی تھی
نیچے ایک تحریر لکھی تھی
کچھ لوگ ہمارے لئے متاع جان ہو جاتے ہیں ہمارے دل کے بہت قریب مہرو جی بھی میرے لئے ایسی ہی ہیں میں انکی تحریروں کو پڑھتی نہیں ہوں محسوس کرتی ہوں وہ آنسوں لکھتی ہیں تو میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں وہ مسکراہٹ لکھتی میرے چہرے پر مسکان آ جاتی ہے ان کے ناول کی ہیروئن میں مجھے پڑھتے ہوئے اپنا عکس دیکھنے لگتا ہے
میں انکے لفظوں کو صرف پڑھتی نہیں ہو محسوس کرتی ہوں کاش کے کبھی میں انہیں دیکھ سکو
مہرو آگے صفحے پلٹتی رہی اسکی ڈائری میں مہرونساء کے ساتھ گزرے ہر لمحے کی باتیں لکھیں تھیں جو بھی ان کے بیچ ہوتی تھیں شرمینہ کی مہرو کے لئے اسکی محبت اس کے۔ جذبات مہرونساء کے لئے شاید عشق کا درجہ رکھتے تھے وہ اس کا احترام بھی بہت کرتی تھی پوری ڈائری میں بس مہرو کی باتیں ہی لکھیں ہوئی تھیں
پہلے پہل حازم کی بات بھی اس نے کہیں لکھی تھی کہ وہ اسے اگر بہت اچھا نہیں لگتا تھا تو برا بھی ہر گز نہیں لگتا تھا بس وہ اس سے گھبراتی تھی لیکن جب سے اس نے مہرونساء سے دوستی کی تھی اس کے حازم کے لئے خیالات بدلنے لگے تھے اب وہ حازم سے ڈرنے لگی تھی گھبرانے لگی خوف کھانے لگی تھی
ایک صفحہ اس نے پڑھا تو ہوش ہی اڑ گئے تھے
” حازم کیوں واپس آئے ہیں ۔۔ مجھے انہیں دیکھ کر ہی ڈر لگنے لگا ہے میں اپنے کمرے میں بند رہنے لگی ہوں انکی آنکھیں مجھے احتشام جیسی لگنے لگیں ہیں مہرو جی ٹھیک ہی کہتیں ہیں حازم میں اور احشتام میں کوئی فرق نہیں اب یہ میرے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک کریں مجھے شادی کے نام سے بھی خوف آنے لگا مجھے ڈر لگتا ہے میں اتنی صابر ہر گز نہیں ہوں کہ سب برداشت کر سکوں جیسا شادی کے نام پر لڑکیاں سہتی ہیں
میں حازم کاوہ روپ ہر گز نہیں دیکھ سکتی جو شرمینہ نے احتشام کا دیکھا تھا مجھے نفرت ہے اس رشتے سے جو عورت کے لئے اذیت کا سامان بنے ۔۔۔۔ مجھے شادی سے ڈر لگنے لگا چاہے حازم ہو یا کوئی اور ۔مجھے کسی مرد کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا مہرو جی نے کہا ہے مرد ایسے ہی ہوتے ہیں احتشام جیسے ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ ہر گز بھی نہیں حازم کیوں شادی کی شادی مچا رہے ہیں جب میں کہہ چکی ہوں کہ مجھے وہ پسند نہیں مجھے ان سے شادی نہیں کرنی کسی سے بھی نہیں کرنی
پھر وہ کیوں نہیں سمجھتے ۔۔۔ اس وقت میں بہت پریشان ہوں میں مہرو جی سے بات کر رہی تھی کہ حازم نے مجھ سے فون چھین لیا میں نے فون ان سے لیکر توڑ دیا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے میں کیسے مہرو جی سے بات کرو کیسے انہیں بتاؤں کہ میں کس حال میں ہوں ۔۔۔۔ دو دن سے میں کمرے میں بند ہوں کل ہم گاؤں چلے جائیں گئے وہیں میری شادی حازم سے کر دی جائے گی وہ اس وقت بہت غصے میں ہے مجھے پتہ ہے کہ وہ میرے ساتھ کیا کرے گا مجھے تھپڑ تو ضرور مارے گا میرے بالوں کو نوچنے گا ۔۔۔ ” اس تحریر کے بعد آگے کے۔ سطروں پر سیاہی کچھ پھیلی ہوئی تھی شاید شرمینہ کے آنسوں سے پھیل گئ تھی وہ رو رو کر یہ سب لکھ رہی تھی ۔۔۔
مہرو نے ڈائری بند کر دی ۔۔۔ اس وقت اسکی اپنی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے
اپنا آپ شرمینہ کا مجرم لگ رہا تھا اس نے نازک کچے ذہن پر جو چھاپ اسکی کہانیوں اور اسکی باتوں نے لگائی تھی وہ اسی کو سچ سمجھ بیٹھی تھی ۔۔۔ شادی کے رشتے کو جن لفظوں اور جس طریقے سے وہ بیان کرتی تھی صرف اپنی شہرت کی خاطر اپنی واہ واہ سننے کے لئے وہ کیسے کسی کی زندگی کی بربادی کا سبب بنتے ہیں یہ تواس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔ ابھی وہ اسی نہج پر سوچ رہی تھی۔ جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا سامنے حازم غصے سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ مہرونساء نے ڈائری ایک طرف رکھ دی وہ غصے سے اندر داخل ہوا تھا
” یہاں کس کی اجازت سے آئی ہو ؟” حازم اس کے سر پر پہنچ گیا تھا وہ اس کے سامنے پھر سے ملتجی ہو کر بولی
” حازم مجھے معاف کر دو ۔۔۔ میں نے جو کچھ بھی کیا انجانے میں کیا تھا میں نہیں جانتی تھی کہ شرمینہ اتنی حساس ہو گی کہ میری باتوں کو
اس انداز سے لے گئ خدارا مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا تو کبھی بھی ۔۔۔۔ ” مہرونساء کی بات ابھی یہی تک پہنچی تھی کہ حازم نے اسکے جبڑوں کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے لیا ۔۔
” تمہارے لئے تو سب کچھ کھیل تھا مہرونساء جس غلطی کے احساس پر تم اب آنسوں بہا رہی ہو
وہ صرف اس لئے کہ تم نے بس ایک رات اس اذیت کو سہا ہے۔ جو تم اپنی تحریروں کی ہر اپیسوڈ پر لکھتی آرہی تھی ۔۔۔ تمہارے گناہوں فہرست بہت بڑی ہے ۔۔۔ چلو میرے ساتھ ” حازم نے اس کا چہرہ چھوڑ کر اسے بازوسے پکڑا اور اسے گھسٹنے کے انداز سے کمرے سے باہر لے جانے لگا مہرونساء خوفزدہ سی ہو گئ تھی ۔۔
” دیکھوں مجھے معاف کر دو مجھے یہاں سے جانے دو ۔۔۔ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ” وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا رہی تھی
لیکن وہ اسے کمرے میں لے جا چکا تھا ۔۔۔
*****…….
زکی کراچی واپس لوٹ آیا تھا اپنے دادا کے آفس میں ڈر پکڑے بیٹھا تھا اپنے موبائل سے سم نکال کر پھنک چکا تھا یسرا کا چہرہ آنکھوں کے سامنے ہٹ نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ایک شریف اور غریب لڑکی تھی وہ چاہتا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہی کام کرتی تا کہ دوسرے ڈرایکٹر کی ہوس کا نوالہ بننے سے بچ جاتی لیکن اسد کے ساتھ اس کا جانا اس بات کا ثبوت تھا اسکی والدہ کے آپریشن کے پیسے اسد نے بھرے تھے ۔۔ اور بدلے میں وہ اس سے اسکا کیاچھین چکا تھا اس کااندازہ لگانا زکی کے لئے مشکل ہر گز نہیں تھا ۔۔۔ اپنےوالد کی ہٹ دھرمی پر
وہ چسہ کر بھی اس مظلوم لڑکی کی وقت پر مدد نہیں کر پایا تھا اس کے والد اسکی سوچ سے ذیادہ چالاک نکلے تھے ہر چیز انکے نام تھی گھر بنگلہ گاڑی بنک بیلنس سب کچھ اپنے قبضے میں کر رکھا تھا تا کہ اسے کسی کٹ پےلی کی طرح سے استعمال کر سکیں ۔۔۔ پیشہ اگر خواہش نا بھی ہو توضرورت تو ضرور ہے ۔۔۔
زکی سوچ چکا تھا کہ اب اسے کرنا کیا ہے اسے اب پیسہ کمانا تھااپنا اکاونٹ بھرنا تھا۔ جو اپنے والد کے ساتھ رہ کر ممکن نہیں تھا اس لئے کراچی کے ایک مشہور ڈاریکٹر کے سامنے وہ اگلے ہی روز جا کر بیٹھ گیا تھا امتیاز صاحب اڈے بڑے غور سے دیکھ رہے تھے انہیں ابھی بھی زکی کی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا
” تمہارے باپ کو کون نہیں جانتا زکی اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ڈرامہ انڈسٹری میں میں اور تمہارا بات ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہیں ۔۔۔ اور تمہارا باپ مجھے دوسال سے شکست دے رہا ہے
میں تو اس ایکٹر کو بھی منہ نہیں لگاتا جو تمہارے باپ کے ڈرامہ میں کام کر لے کیونکہ تمہارا باپ چالبازیوں سے باز نہیں آتا جو اداکار اسکے ڈرامہ ہٹ کرتے ہیں وہ مجھے وہ پردومنس ہر گز نہیں دیتے اور بعد میں یہ بات کھلتی ہے تمہارے باپ کے کہنے پر وہ ایسا کرتے ہیں ۔۔۔ اور تم تو اسی کی سگی اولاد ہو میں کیسے یقین کر لوں کہ تم مجھے فایدہ پہنچا کر اپنے باپ کو شکست دو گئے ” منہ میں سگار ڈالے ہی وہ تیوری چڑھائے زکی سے کہہ رہے تھے
“مجھے بھی اپنے باپ سے بدلہ ہی لینا ہے آپ کو یقین دلانے کے لیے میں کر سکتا ہوں کہ میں بنا ایڈونس لئے میں آپ کے ساتھ کام کروں گا جب آپ کاڈرامہ ہٹ لسٹ میں آ جائے تو اور میرے باپ کی جگہ آپ اسٹیج پر جا کر ایورڈ لیں تو جو میرا معاوضہ ہے مجھے دے دیجیے گا ” زکی کی بات پر وہ کچھ دیر سوچنے لگے دو ڈرامے اس نے اپنے والد کے ساتھ بنائے تھے اور وہ ہٹ ہوئے تھے ۔۔۔ جواس کے ٹیلنٹ کا منہ کھولتا ثبوت تھا
” ٹھیک ہے مجھے منظور ہے ۔۔ اگر اس بار تمہارے باپ کے بجائے میں نے بیسٹ ڈاریکٹر کاایورڈ لیا تو تمہیں خوش کر دوں گا تمہاری توقع سے ذیادہ تمہاری جیب میں پیسہ ہو گا
زکی کے سامنے بھی ایک سال ک کنٹریکٹ رکھا گیا تھا جس پر اس نے سائن کرنے سے پہلے ایک پل کے لئے بھی آپ ء بے حس چاپ کے بارے میں نہیں سوچا تھا اصل جنگ تواڈے آپ ے والد سے کرنی تھی جن کی وجہ سے وہ یسرا کے سامنے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہا تھا ۔۔۔ یسرا نے لفظوں سے اسے کچھ نہیں کہاں لیکن اسکی آنکھوں میں دیکھتی اذیت اور بے بسی زکی کو بہت کچھ کہہ گئ تھی کہ ۔۔۔۔ زکی تمہارے اپنے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں کہ تم میری مدد کر سکوں تم اپنے باپ کے غلام ہو ۔۔۔ پھر مجھ پر حق کس بات کا جنا رہے ہو ۔۔۔ میں تو پہلے سے حالات کی چکی میں پس رہی تھی۔ تمہاراانتظار میری ماں کی جان لے لیتا ۔۔ اس لئے مجھے تو کچھ کرنا ہی تھا ۔۔۔۔ ایک پھانس تھی جو زکی کے دل پر جا کر چھبی تھی ۔۔۔
اب اسے اپنے آپ کو منوانا تھا اپنے باپ کو یہ بتانا تھا کہ وہ ایک سال میں انکے بغیر کیا کچھ کر سکتا ہے ۔۔ ایک نیا عزم لئے وہ وہاں سے اٹھا تھا ۔۔۔
*****…….
تین ماہ گزر چکے تھے یسرا آئنے کے سامنے کھڑی تھی کہیں سے بھی وہ تین ماہ پہلے والی یسرا نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ وہ اسوقت اپنے لباس اور انداز سے موڈل لگ رہی تھی ایک ہفتے بعد اسکی فلم کی شورٹ شروع تھی اس لئے آج اسے اپنی اس ساتھی اداکار کے ساتھ ملاقات کرنی تھی جو اسکے ساتھ ہیرو کا کردار کرنے جا رہا تھا اسد کا کہنا تھا کہ وہ ایک دو فلمیں کر چکا ہے اور کئی ڈرامے اس کے ہٹ ہو چکے ہیں لیکن نا جانے کیوں اس نام اب تک وہ جان نہیں پائی تھی۔ کچھ اڈے سن باتوں سے غرض بھی نہیں تھا ایک ماہ پہلے ہی اس نے اپنی والدہ کو جب اپنی مجبوری بتائی تو وہ رونے لگیں تھیں
” یہ تم نے کیا کیا یسرا ۔۔ کیوں کیا بیٹا ؟ اسکی والدہ رونے لگیں تھیں ۔” امی میرے پاس کوئی اور راستہ بچا نہیں تھا ۔۔۔ ایک طرف آپکی زندگی تھی اور دوسری طرف میری عزت ؟ یسرا دل گرفتگی سے بولی
” مر جانے دیتی مجھے تم یسرا ۔۔۔ اس زندگی کاہر سانس مجھ پر بھاری ہو گیا کیوں کہ یہ میری بیٹی کی عزت کے بدلے مجھے ملا ہے ۔۔ تمہارے باپ کو قیامت کے دن کیا جواب دوں گی ۔۔۔ ” وہ بلک اٹھی تھیں آنسوں تواتر سے انکی آنکھوں سے بہنے لگے تھے ۔۔۔
” امی پلیز یوں مت روئیں ۔۔۔ آپ کی زندگی کو بچانے کے لئے اگر مجھے اپنی جان بھی دی ی پڑتی تو میں وہ بھی دے دیتی ۔۔۔ بس اب چپ ہو جائیں ” یسرا نے انکے آنسوں صاف کیے پھر اگلی بات اپنا دل سنبھال کر بولی
“امی مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے آپ میری بات سمجھے ے کی کوشش کیجیے گا اسی میں سب کا بھلا ہے ۔۔۔مجھے پیسوں کی بہت ضرورت تھی آپ کے آپریشن اور ٹرٹمنٹ کے لئے اس لئے میں ایک سال کا کنٹریکٹ کر چکی ہوں مجھے فلم میں کام کرنا پڑے گا ۔۔” ایک اور دھماکہ تھا جو اسکی والدہ یسرا کے منہ سب رہیں تھیں ڈرامے کی حد تک تو وہ چپ تھیں کیونکہ جانتی تھیں کہ انکی بیٹی ایک حد میں رہ کر کام کر رہی لیکن فلم ؟ فلم میں کیا کچھ ہوتا ہے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا “
” یسرا ؟” اسکی والدہ اسے بے چارگی اور بے بسی سے دیکھ رہیں تھیں۔ یسرا اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی کو پلکیں جھپکا کر نظریں چرائی۔ تھیں تا اسکی والدہ اسکے دکھ کو دیکھ اور سمجھ کر رنجیدہ نا ہو جائیں
” امی میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔ میں مجبور ہوں
اس لئے میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ دوسرے شہر میں شفٹ ہو جائیں جہاں کسی کو یہ پتہ نا ہو نہ ہو ایک ہیروئن کی ماں ہیں ۔۔ ورنہ میری بہنوں کے رشتے اچھے اور شریف لوگوں میں نہیں ہوں گئے ۔۔۔ امی مجھے میرے سر نے ایک فلیٹ پنڈی میں لیکر دیا ہے جو میری ملکیت ہے آپ وہاں جا رہیں گئیں آپ کے کہنے کا خرچ ہر ضرورت کے پیسے وہ کاوقت پر ملیں گئے ۔۔۔۔ بس آپ جلد از جلد میری بہنوں کی شادی کر دیں ۔۔۔ اور کسی سے یہ ذکر مت کیجیے گا کہ میں آپ کی بیٹی ہوں نا میں آپ سے ملنے آؤں گی نا آپ مجھے سے ملنے کی کوشش کیجے گا ۔۔۔ “
” لیکن میرے بچے تم ۔۔۔ ” یسرا جانتی تھی کہ اسکی والدہ کیا کہنا چاہتی ہیں
” امی پلیز ۔۔۔ میری باقی بہنیں عزت کی زندگی جیے اس کے لئے ضروری ہے میرا تعارف انکے ساتھ نا لگے میں نہیں چاہتی جو قربانی میں دے رہی میرے تعارف کی وجہ سے میری بہنیں بھی اسی دلدل میں پھنسیں ۔۔۔ میرے نام کی وجہ سے آگے آپ کو کہیں بھی عزت نہیں ملے گی ۔۔۔ مجھے اپنا تعارف مت بنائیں کیونکہ میری فلم رلیز ہونے کے بعد جہاں یسرا ہو گی وہاں عزت دور بھاگے گی ۔۔۔ عزت کی یسرا سے لڑائی ہو چکی ہے ۔۔۔ اس لئے آپ عزت کواپنا لیں ز۔جھہں کہ بابا کے ساتھ یسرا بھی مر چکی تھی ” جس ضبط سے یسرا نے یہ باتیں کیں تھی اسکی والدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں تھیں ۔۔۔۔ یسرا نے انہیں ایک تلخ حقیقت سے آگاہ کیا تھا جو سو فیصد سچ تھی ۔۔۔ کوئی جھوٹا آسرا نہیں دیا تھا ۔۔۔ کیونکہ ہیروئن پر ہر نظر اٹھتی ہے سوائے عزت کی نظر کے ۔۔۔
اسکی والدہ اسکی بہنوں کو لے کر جا چکیں تھیں
یسرا روز اپنے اندر کے ضمیر کو سلانے کی کوشش کرتی تھی ۔۔۔ لیکن وہ جسے عمر کے بائیس اسنے سونے نہیں دیا تھا، وہ کہاں اسے بہلاوئے میں آتا ۔۔۔ خود اٹھنے والی نظریں ہاتھ اب وہ پیچھے نہیں دھکیلتی تھی ۔۔۔
کیونکہ اس کے بدلے ملنے والے پیسوں سے اس کی بہنیں ایسی نظروں اور ہاتھوں سے محفوظ تھیں
وہ میک رسم میں خود کو دیکھ رہی تھی جب بنادستک کے اسد اندر داخل ہوا تھا
” چلو یسرا فلم کا ہیرو بھی آ چکا ہے میں چاہتا ہوں تم اس سے کچھ کلوز ہو جاؤں تو اچھا ہے تا کہ شورٹ کرتی ہوئے تمہیں پریشانی کا سامنا نا ہو ۔۔۔
یسرا نے ہیر برش سامنے رکھا اور اسد کے ساتھ ہی باہر آ گئ لیکن سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر حیرت سے اس کے قدم وہی۔ جم گئے تھے ۔۔
*******….
تین ماہ میں کوئی ایسا دن نہیں گزرا تھا جس دن حازم نے اپنی نفرت کی شدتیں مہرونساء کو نہیں دیکھائیں تھیں اور اس نے سہیں نہیں تھیں ۔۔ مہرونساء پہلے سے بہت کمزور ہو چکی تھی ۔۔۔ پہلے پہلے۔ وہ حازم کے سامنے بہت اتجاج کرتی تھی جھگڑتی بھی تھی اس سے نفرت سے جو منہ میں آتا کہتی رہتی لیکن پھچلے ایک ماہ سے چپ ہو چکی تھی ۔۔ کسی بے جان وجود کی طرح ۔۔۔
حازم کو جب بھی شرمینہ کی موت کا جب بھی خیال آتا وہ پاگل سا ہونے لگتا تھا مہرونساء سے کوئی ریایت نہیں برتتا تھا ۔۔۔ شادی کے لئے جب وہ گاؤں آیا تھا شرمینہ چپ تھی ۔۔۔ حازم نے یہی سوچا کہ اچھا ہے کہ وہ اسے کچھ نا کہے شادی کے بعد خود ہی بدل جائے گی بچپن سے حازم نے صرف اسے ہی چاہا تھا ۔۔ اسے لگاوقتی طور پر لڑکیاں کسی سے متاثر ہو جاتی ہیں لیکن شادی کے بعد اپنے شوہر کی محبت پا کر پچھلی باتیں بھول جاتی ہیں اور جتنی محبت حازم اس سے کرتا تھا ابھی طرح سے جانتا تھا کہ شرمینہ چند ماہ میں ہی اسکی محبت کی قائل ہو جائے گی وہ کم عمر اور معصوم اور بیوقوف سی لڑکی اپنااچھا برا کہاں سمجھتی تھی
نا جانے کس لڑکے کی چکنی چپڑی باتوں میں س کر یہ سب کر رہی تھی ۔۔۔ شرمینہ کی خاموشی کو رفعت بیگم اور حازم نے اس سمجھوتا سمجھ لیاتھا لیکن شرمینہ ہے اندر تو اتنا خوف تھا کہ حازم کے ساتھ تنہائی کاسوچ کر اسکی روح فنا ہو رہی تھی ۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ایسا کیا کرے کہ یہ شادی رک جائے ۔۔۔
مہندی کی رسم پر دونوں کو ساتھ ہی بیٹھایا گیا تھا ۔۔۔ حازم کو وہ چپ چپ سی بیٹھی بہت اچھی لگ رہی تھی حازم نے شرمینہ کاصوفےبپر دھرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کیاوہ جو اسوقت برف کی مانند ٹھنڈا ہو رہا تھا اسے لگا ہر لڑکی کی طرح وہ کچھ کنفوژ ہو رہی ہے ۔۔۔
” کیوں پریشان ہو شرمینہ ۔۔ پلیز جسٹ ریلکس ۔۔۔ ایک بار شادی ہونے دو پتہ چل جائے گا تمہیں کہ میں کیسا ہوں ۔۔۔ ” حازم کی بات پر اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوا لیا تھا
” مجھے نہیں جاننا ۔۔۔ مجھے کچھ نہیں جاننا ” وہ کچھ بد حواس سی ہونے لگی تھی ۔۔۔ رسم حنا ہو چکی تھی اس لئے وہ رفعت بیگم سے کہنے لگی کہ وہ اپنے کمرے میں جانا چاہتی ہے ۔۔۔ رفعت بیگم نے بھی اسے اسکے کمرے میں بھیج دیا پوری رات اس نے رو کر گزاری تھی ۔۔۔ دلہن بنکر اس نے اپنی ساری دستوں کو اپنے کمرے سے باہر نکال دیا کہنے لگی تم جاؤں رخصتی سے پہلے آنا سب ہی شادی کے کاموں میں مصروف تھے جیسے ہی بارات آئی تھی ۔۔۔ اور مہمانون سے حویلی کا کام بھر چکا تھا اوپر سے ایک لڑکی چکاتے ہوئے نیچے کام میں آ گری تھی ۔۔۔
پل میں سب کی چیخیں نکل گئیں تھیں
