186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 6

Meri Jaan by Umme Hani

یہ کون تھا مہرو نساء نے فون آف کر دیا ۔۔۔۔ پہلے خود پر غصہ آیا تھا ۔۔۔ نمبر دیکھ کر بات کرنی چاہیے تھی کیونکہ وہ جتنے بھی نمبر چینج کر لیتی تھی اسکے چاہنے والے نا جانے کہاں کہاں سے اس کا نمبر حاصل کر کے اسے فون کر ہی لیتے تھے ۔۔۔۔ یقینا یہ بھی کوئی لوفر سا عاشق مزاج اس کا پرستار ہو گا ۔۔۔ مہرو نے آنکھیں بند کیں اور سو گئ صبح اسکی آنکھ گلاب کے پھولوں کی بھنی بھنی خوشبوں سے کھلی تھی ۔۔۔۔ اسے لگا اسکی والدہ نے لان میں لگے پھولوں کو توڑ کر اسکے سائیڈ ٹیبل کے واز پر سجائے ہوں گئے لیکن جب مہرو نے کسمسا کر کروٹ بدلی تو ہاتھ ایک فلاور بکے پر پڑا تھا موندی موندی آنکھیں کھول کر دیکھا تو فلاور بکے اس کے تکیے کے پاس رکھا ہوا تھا ۔۔۔ پھر خیال آیا کہ ضرور فواد نے بھیجا ہو گا ۔جیسے جیسے شادی کے دن قریب آ رہے تھے فواد کی بے تابیاں بڑھتی جا رہیں تھیں ۔۔۔ مہرو کے چہرے پر مسکراہٹ سجی تھی وہ اٹھ کر بیٹھ گئ تکیہ درست کیا اور کراؤن سے ٹیک لگائے

فلاور بکے کو ہاتھ میں لیکر گلابوں کے پھولوں کی خوشبوں کو ایک گہری لمبی سانس کھنچ کر اپنے اندر تک کو معطر کیا تھا ۔۔۔۔ پھر اپنا فون آن کیا بہت سارے میجسز واٹس ایپ پر آئے ہوئے تھے

مہرو نساء کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی

اس نے میسجز دیکھے

” صبح بخیر میری جان ۔۔۔ ” مہرو نے جب میسج پڑھ کر نام کی طرف دیکھا تو نام کے بجائے نمبر تھا نمبر والی رات والا تھا

پھر نظر دوسرے میسج کی طرف پڑی ۔۔۔

“گلاب کے پھولوں سے مہکتی ہوئی صبح مبارک ہو مہرونساء

جیسے میرے بھجے ہوئے گلابوں نے تمہیں صبح صبح مہکایا ہے کسی روز تم بھی مجھے یوں مہکاوں تو میری صبح بھی معطر ہو جائے ۔۔۔۔ ” مہرو کے ہاتھ سے گلاب کے پھول چھٹ کر زمین پر گرے تھے

دوسرا میسج ابھی آیا تھا

ع

تیری آنکھوں سے میخانے بنے ہیں

ہزاروں دل ہیں جو پیمانے بنے ہیں

ہمہی پر کیوں ہے الزام محبت

تم نے بنایا ہے تو تیرے دیوانے بنے ہیں

مہرو نے فورا نمبر بلاک کیا تھا ۔۔۔۔ پھر ناگواری سے فون سائیڈ پر رکھا پھر کمرے سے باہر نکل کر ملازمہ کو بلانے لگی تھی ۔۔۔ کچھ دیر میں ملازمہ بھاگتی ہوئی سیڑیوں کے پاس آ گئ مہرونساء زینے کے اوپر کھڑی تھی غصے سے پوچھنے لگی

” یہ فلاور بکے میرے کمرے میں تم لائی تھی ؟

وہ نوکرانی اسے غصے

میں دیکھ کر گھبرائی ہوئی سر اثبات ۔میں ہلانے لگی

” کیوں ؟ کس سے پوچھ کر ؟ مہرو نے پوری آنکھیں غصے سے پھلائے خطرناک تیوروں سے اسے گھورتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

” بی بی جی یہ فواد صاحب ہی بھجتے ہیں اس لئے میں نے سمجھا آپ کو اچھا لگے گا ” مہرو نے سے دھاڑتے ہوئے کہا

” میرے کمرے سے وہ گلاب کے پھول اٹھاؤں اور سڑک پر پھنک دو ۔۔۔۔ اور آئندہ مجھ سے پوچھے بنا میرے کمرے میں کچھ مت رکھنا ” مہرو اپنے میل پرستاروں سے پہلے بہت تنگ تھی کوئی نا کوئی عاشق مزاج ایسی حرکتیں کرتا رہتا تھا جو فواد کو سخت نا پسند تھیں کئ بار وہ یہ بات مہرو نساء سے کہہ چکا تھااور اب تو شادی بھی قریب تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ فواد کا موڈ خراب ہو ۔۔۔۔ یا اس قسم کی باتوں سے شادی جیسے موقع پر کوئی بھی بدمزگی پیدا ہو

*******…………

زکی کا انکار سجیلہ سے برداشت نہیں ہوا تھا اپنی انا پر چوٹ کی طرح سے لگا تھا ۔۔۔۔ ہزاروں اس کے دیوانے تھے کئ میل اداکار اسے شادی کی آفر کر چکے تھے یہاں تک کہ فاضل اس بات کا ظہار کر چکا تھا ۔۔۔۔ سجیلہ کو یہ زعم تھا وہ جیسے اپنے ہمسفر ہونے کا شرف بخشے گی وہ تو سر کے بل اس کے پیچھے دوڑا چلا آئے گا ۔۔۔ خود کو خوش نصیب سمجھے گا ۔۔۔۔ پہلے پہل تو سجیلہ کی بڑی کوشش تھی کہ زکی اس سے خود سے اظہار محبت کرے ۔۔۔۔ شادی کے بھی زکی ہی پیش قدمی دیکھائے لیکن جب زکی کی طرف اسے ایسا کوئی التفات نظر نہیں آیا تو اس نے خود سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ زکی یوں بے دھڑک اسے انکار کر دے گا ۔۔۔۔۔

چار دن بعد اشتیاق صاحب نہایت غصے سے گھر پر داخل ہوئے بلند لہجے میں زکی کو پکارنے لگے ۔۔۔۔ حدیقہ بیگم بھی انہیں غصے میں دیکھ کر گھبرا سی گئیں دو وں باپ بیٹے کی ذرا بھی نہیں بنتی تھی اور بات اگر آپ ے مزاج کے خلاف ہو جاتی تو غصے میں اپنے سے باہر بھی دونوں ہی ہو جاتے تھے بیچاری حدیقہ بیگم بیچ میں پس کر رہ جاتی تھیں کہ بیٹے کا ساتھ دیں یا شوہر کا

زکی کمرے سے باہر آ گیا ۔۔۔ باپ کے غصے کی سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔ اب تو وہ انکے ساتھ ملکر کام کر رہا تھا حالانکہ یہ اسکی خواہش کے بر خلاف سی بات تھی لیکن ماں نے بہت منت سماجت کی تھی اپنے والد سے ہر بات پر اختلاف نا کرے ۔۔۔۔ پھر اشتیاق صاحب نے بھی چھ ماہ بعد اسے سپورٹ کرنے کاوعدہ کیا تھا ۔۔۔۔

وہ سیڑیاں اتر کر لاونج میں اشتیاق صاحب کے رو با رو کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔

” جی بابا “

” جی بابا کے بچے ۔۔۔۔ سجیلہ سے کیا بکواس کی ہے تم نے ” وہ غصے سے دھاڑے تھے زکی اب بھی نہیں سمجھا تھا کہ اشتیاق صاحب اس پر اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں

” بابا میں نے اس سے ایسا کچھ بھی نہیں کہا ۔۔۔ اور میں کیوں اسے کچھ کہنے لگا

” زکی ۔۔۔ زکی ۔۔۔ میرا ٹمپر آؤٹ مت کروں سجیلہ نے خود مجھ سے کہا ہے تم سے جا کر پوچھوں ۔۔۔ وہ میرے ڈرامے کو بیچ میں چھوڑ کر چلی گئ ہے ۔۔۔ اور میرا ایڈوانس بھی میرے منہ پر پھنک کر گئ ہے ۔۔۔۔ میں اس ڈرامے کی ایڈ ٹی وی پر چلا چکا ہوں رسپونسر کے لاکھوں روپے مجھ سے خرچ ہو چکے ہیں ۔۔۔۔۔ کہاں سے یہ سب واپس کروں گا ۔۔۔۔۔ سمجھتے کیوں نہیں ہو زکی وہ لڑکی اسوقت ڈرامہ انڈسٹری میں سونے کی چڑیا ہے ۔۔۔جس ڈرامے میں کام کرتی ہے وہ سپر ہٹ جاتا ہے لاکھوں پرستار ہیں اسکے ۔۔۔۔ ڈاریکٹر خوداسکے آگے پیچھے ہوتے ہیں اسے اپنے ڈرامہ کی ہیروئن بنانے کے لئے ۔۔۔۔ لیکن وہ میری بہت عزت کرتی تھی ۔۔۔۔ اس نے مجھے دوسرے ڈاریکٹر پر فوقیت دی ۔۔۔ اور اب جب اس ڈرامے کی دھوم پہلے ہی مچ چکی ہے ۔۔ تمہاری حرکتوں کی وجہ سے وہ غصے سے مجھے میرا اایڈوانس دے کر ڈرامے سے انکار کر کے جا چکی ہے ۔۔۔۔ ایسا کیا کہا ہے تم نے اسے؟ ” اشتیاق صاحب اس قدر غصے میں تھے کہ نا جانے زکی کے ساتھ کیا کر گزریں گئے زکی ابھی بھی سجیلہ کی اس حرکت کی وجہ نہیں سمجھ پایا تھا کیونکہ جو کچھ ریسٹورٹ میں ہوا وہ بلکل ذاتی سا معاملہ تھا اس سے پروفشنل لائف کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔۔۔ اور اسکے علادہ زکی نے سجیلہ سے کوئی ایسی بات نہیں کی تھی

” بابا میں نے اسے ایسا کچھ بھی نہیں کہا جس کی وجہ سے وہ آپ کا ڈرامہ چھوڑ جائے ۔۔۔ ایک منٹ میں کال کر کے اسے پوچھتا ہوں ” زکی حد درجہ سنجیدہ اور پریشان تھا اس نے سجیلہ کو کال کی تواس نے کال کاٹ دی دوبارہ کی تو بڑے تیکھے لہجے سے بولی

” جی فرمائیے ۔۔۔۔ کیوں فون کیا ہے۔۔۔ میں آپ کی طرح فارغ نہیں ہوں مسٹر میری لائف بہت بزی ہے”

” سجیلہ آپ نے بابا کے ساتھ کی ہوئی اپنی کمٹمنٹ کیوں توڑی ہے یہ رول کے خلاف ہے آپ کیسے بیچ میں کام چھوڑ کر جا سکتی ہیں ” زکی نے ایک قانون اسے بتایا تھا

” میں نے ایڈوانس واپس کر دیا ہے مسٹر زکی ۔ اورجیسے آپ اپنے فیصلے میں آذاد ہیں میں بھی آذاد ہوں ” زکی سجیلہ کی اس بے فضول سی حرکت کی وجہ اب سمجھا تھا ۔۔۔۔

” اوہ تو میرے انکار کا بدلہ لے رہیں آپ ۔۔۔۔ سجیلہ میرے خیال سے آپ ایک پڑھی لکھی اور ان ڈیپننڈ خاتون ہیں ۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ لائف کے لئے جائے والے ڈسیجن کا تعلق ہماری پروفشنل لائف سے جڑا ہونا چاہیے ۔۔۔۔ ” ۔” زکی نے نہایت مودبانہ انداز سے بات کو سمجھانا چاہا تھا

” لیکن میرے لئے میری انا بہت اہمیت رکھتی ہے ۔۔۔۔ آج تک کسی نے مجھے اگنور تک نہیں کیا ۔۔۔۔ اور آپ نے ۔۔۔ آپ نے تو مجھے میرے منہ پر انکار کیا ہے ۔۔۔۔

کیا سمجھتے ہیں آپ میں اپنی اہانت سہہ جاؤں گی ۔۔۔ بلکل نہیں مسٹر زکی ۔۔۔۔ ” سجیلہ کی سطحی سوچ کا زکی کو افسوس سا ہوا تھا ۔۔۔۔

” دیکھیں سجیلہ بابا کا بہت لوس ہو جائے گا پلیز ٹرائے ٹو انڈسٹینڈ آپ کیسے رول کی۔ خلاف عرضی کر سکتی ہیں “

” میں سجیلہ عمران ہوں کچھ بھی کر سکتی ہوں ۔۔۔ اگر آپ یہ چاہتے کہ میں واپس آپ کے ڈرامہ میں کام کروں تو آپ پولیجائز کریں مجھ سے مسٹر زکی ” وہ سخت لہجے سے بات کر رہی تھی

” او کے ٹھیک ہے ٫” زکی نے یہ ہامی صرف اشتیاق صاحب کی وجہ سے بھری تھی ورنہ اس لڑکی کی وہ شکل۔ بھی دیکھنا نہیں۔چاہتا تھا جو اس قدر چھوٹی سوچ کی مالک تھی

” میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی مسٹر زکی” سجیلہ لفظوں کو غصے سے چبا کر بولی

” جی فرمائیے اور کیا چاہتی ہیں آپ ؟ آپ کے سامنے ہاتھ جوڑو ۔۔۔۔ ” وہ بھی غصہ ضبط کرتے ہوئے تلملا کر بولا تھا

” آپ مجھے پرپوز کریں گئے مسٹر زکی نیل ڈاؤن ہو کر ۔۔۔۔ سر جھکا کر میرا ساتھ مانگیں گئے وہ بھی نیکسٹ ایورڈ شو کے سٹیج پر ” زکی نے غصے سے فون بند کر دیا اشتیاق صاحب اب بھی اسے کھوجتی ہوئی اور غصیلی نظروں سے دیکھ رہے تھے

” کیا چل رہا ہے تھا تم دونوں کے بیچ ۔۔۔۔ “

” بابا یہ لڑکی پاگل ہے شاید چند دن پہلے

مجھے ڈنر پر بلا کر شادی کے لئے پرپوز کرنے لگی میں نے نہایت مہدب انداز سے اسے انکار کیا تھا اور وہ اس بات کا بدلہ یوں لے رہی ہے ” زکی نے اشتیاق صاحب کو حقیقت بتائی لیکن وہ تو ہتھے سے اکھڑ گئے

” پاگل وہ نہیں پاگل تم ہو زکی ارے ایسے موقعے قسمت والوں کو ملتے ہیں ۔۔۔۔ وہ لڑکی ایک کامیاب ہیروئن ہے دس سے پندرہ سال میڈیا میں دونوں ہاتھوں سے کما سکتی ہے تمہیں تو پہلی فرصت میں ہامی بھر لینی چاہیے تھی اور تم ہو کے ۔۔۔۔۔ ” اشتیاق صاحب کو بیٹے کی کم عقلی پر مزید غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔۔

” بابا یہ میری زندگی کا سوال ہے ۔۔۔مجھے اپنی لائف ایک عام سی لڑکی کے ساتھ گزارنی ہے ۔میں کسی ہیروئن کو افورڈ نہیں کر سکتا ۔۔۔ نو اینڈ نیور “

” شیٹ اپ زکی ۔۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتا کچھ بھی کرو اور سجیلہ کو مناؤ ۔۔۔ مجھے وہ لڑکی ہر حال میں سیٹ پر چاہیے میں کروڑوں کا نقصان نہیں کروا سکتا ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر اشتیاق صاحب وہاں سے چلے گئے زکی کا تو سر چکرا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔

کس مصیبت میں پھنس کر رہ گیا تھا

*******……….

مہرو کو شہباز صاحب کی کال آئی کہ ایک صحافی صبح سے آکر بیٹھا ہوا ہے کہ رہا ہے تمہارا ایک انٹر ویو چاہتا ہے ۔۔۔۔ پرستاروں کے لئے اپنا کوئی خاص پیغام جو تم دینا چاہوں تو دے سکتی ہو ۔۔۔

” مگر شہباز صاحب میں اس وقت شادی کی وجہ سے بزی ہوں آج شام کو بھی بازار جانا ہے ” مہرو کا دل تو بہت تھا کہ انٹر ویو دے لیکن اجکل وہ شاپنگ مصروف تھی ۔۔۔ کام تھے کے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔

” ارے شام کو جانا ہے نا ۔۔۔۔ ابھی تو ایک بج رہا ہے بس تم میرے اسی بک اسٹال میں آجاؤں وہ بھی وہیں موجود ہے بس آدھا گھنٹہ ہی لگے گا ۔۔۔۔ شہباز صاحب کی بات سن کر مہرو نے ہامی بھری کی تھی کچھ ہی دیر میں وہ انٹر ویو کے لئے پہنچ گئ ۔۔۔ سامنے وہ لڑکا ۔۔۔۔ ایک فائنل اور پین پکڑے بیٹھا تھا اسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا اسکے گلے میں ایک کارڈ بھی لٹک رہا جس میں اسکی تصویر لگی تھی اور نام بھی لکھا تھا جسے اکثر نئے صحافی لڑکے لڑکیاں پہنتے ہیں تا کہ سامنے والا یہ دیکھ لے کہ وہ کس ریفرنس سے آیا ہے ۔۔۔ مسکرا کر اسکی جانب مصافحے کے لئے ہاتھ آگے بڑھا کر ہائے بولا ۔۔۔۔ مہرو نے بھی اس سے ہاتھ ملا لیا لیکن اسکے ہاتھ گرفت بڑی مضبوط تھی ایک پل میں ہی اس نے بڑی زور سے مہرونساء کا ہاتھ پکڑا اور اگلے ہی لمحے چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ مہرو نے اسے سخت نظروں سے دیکھا تھا لیکن وہ اب بھی مسکرا رہا تھا مہرو سامنے کرسی پر بیٹھ گئ وہ اجنبی تھا لیکن نا جانے کیوں لگ رہا تھا کہ جیسے مہرو اسے جانتی ہے ۔۔۔۔۔ چہرہ کچھ شاناسا سالگ رہا تھا ۔۔۔۔

” جی تو انٹر ویو شروع کریں ” اس لڑکے نے شہباز صاحب سے پوچھا

” جی ضرور ” تیسری کرسی پر شہباز صاحب بیٹھ گئے اس نوجوان نے اپنی فائل کھولی سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا تھا وہ لڑکا اب مہرو نساء سے مخاطب ہوا

” جی مس مہرو”

” آپ کا نام؟ ” انٹرویو ویسا ہی تھا جیسا کسی رسالے میں چھپتا ہے

” مہرونساء “

” پیار سے آپ کو کیا پکارتے ہیں ؟” ۔

” مہرو ۔۔”

” آپ کی تعلیم؟ “

” ایم اے ان اکنامکس “

” لکھنے کا شوق کب سے ہوا “

” شوق تو بہت چھوٹا سا لفظ ہے ۔۔۔ مجھے لکھنے کا جنون ہے ۔۔۔ لکھنا میرا پیشن ہے ۔۔۔۔ اور کب سے شروع ہوا؟ ۔۔۔۔۔ مجھے بچپن سے ہی یہ شوق تھا میں کہانیاں سننے اور پڑھنے کی بچپن سے شوقین تھی لیکن قلم کو باقاعدہ سے میں بی اے کے بعد ہی اٹھایا اور ایسا اٹھایا کہ میری شہرت کسی بھی تعارف کی محتاج نہیں ہے ۔۔۔” یہ جواب مہرو نساء نے نخوت بھرے لہجے سے کہا وہ لڑکا ہلکا سا کھنکھارا تھا نا جانے مہرو کو یہ لگا کہ اسے انداز میں تمسخر سا ہو ۔۔۔

“کہنے لگا میں خود آپ کا فین ہوں ۔۔۔ آپ کے سب ناول میں نے کئ بار پڑھے ہیں بلکہ یوں لیں کہ لفظ با لفظ یاد کر چکا ہوں ۔۔۔۔ لیکن آپ کا پہلا ناول ایک غریب ٹرک ڈرائیور کی آپ بیتی پر تھا ۔۔۔۔

اور اس ناول پر آپ کو خاص پذیرائی نہیں ملی ۔۔۔۔ اس کے بعد آپ کے کہانی کے ہیرو ذیادہ تر زمیندار اور امیر کیبر لڑکے ہی ہوتے ہیں اور لڑکی ایک معصوم سی کبھی کوئی مڈل کلاس تو کبھی اسی لڑکے کی انوسنٹ سی کزن جس سے وہ ہیرو خاندانی بدلے طور پر شادی کرتا ہے ۔۔۔۔ ہر ناول میں ایک جیسی اسٹوری ہی ہوتی بس نام ہی الگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ذیادہ تر وکنی ہو کر لڑکی جبرا لڑکے سے ساتھ رہنے پر مجبور ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور کبھی بھائی کے کیے گئے قتل کے بدلے میں سامنے مقتول کے گھر والوں کے حوالے کر دی جاتی ہے ۔۔۔۔ آپ ایسے کیس ہی کیوں ڈسکس کرتی ہیں مس مہرو ؟ وہ لڑکا اس سنجیدگی سے اس موضوع پر بات کر رہا تھا

” اس لئے کہ ہمارے معاشرے میں یہ سب ہو رہا ہے ونی کے طور پر لڑکیاں اپنے دادا کی عمر کے بڈھے کے ساتھ رہنے پر مجبور ہیں ” مہرو کے جواب پر وہ لڑکا استزائیہ سا مسکرایا

” لیکن آپکے ناول کا ہیرو تو ہیزل گرین آیز والا خوبرو نوجوان ہوتا ہے ۔۔۔۔ ؟

” جی ہاں کیونکہ وہ ہیرو ہے تو ہیرو توایسے ہی ہوتے ہیں ” ایک ابرو اوپر کو چڑھا کر مہرونساء نے جواب دیا تھا

” محترمہ آپ کو نہیں لگتا کہ آپ حقیقت کے بجائے

کچھ عجیب سا لکھتی۔ ہیں جو نا مکمل خواب ہے نا ہی مکمل حقیقت ۔۔۔۔۔ ایک طرف ایک کم سن معصوم سی لڑکی جو آپ کے ہر ناول کی ہیروئن ہوتی ہے ۔۔۔دوسری طرف خوبرو پڑھا لکھا زمیدار لڑکا ۔۔۔۔ جو کسی بدلے کے تحت لڑکی سے شادی کرتا ہے پھر اس پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑ دیتا ہے اس لڑکی کے ساتھ وہ برتاؤ کرتا ہے کہ پڑھنے والی کی روح تک کانپ جائے اور پھر وہ ہیرو بھی ہوتا ہے ۔۔۔ کچھ عجیب سی بات نہیں ہے مس رائٹر۔۔۔” صحافی لڑکے کا لہجہ کاٹ دار تھا کچھ طنز کی بھی آمیزش تھی

” اس میں عجیب کیا ہے مسٹر ۔۔۔ نکاح کارشتہ ایسا ہی ہوتا ہے لڑکی کو محبت ہو ہی جاتی ہے نیچرل سی بات ہے چاہے شوہر جیسا بھی ہو ۔۔۔۔ ” مہرو کو اسکی نظروں اور باتوں سے الجھن سی محسوس ہورہی تھی جیسے وہ لڑکا اس کا انٹرویو کم اور اسکی اہانت ذیادہ کر رہا ہو

“نکاح۔۔۔۔۔ او رئیلی مس مہرو ” یہ کہہ کر وہ ہسنے لگا مہرو کی پیشانی پر نا گواری سے بل پڑے تھے ۔۔۔۔۔ مہرو کے چہرے کے اتر چڑھاؤ دیکھ کر اس لڑکے نے اپنی ہنسی روکی تھی

” ایم سوری مس مہرو ۔۔۔۔ وہ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ کہ میں اپنی ہنسی کنٹرول ہی۔ نہیں کر پایا “۔۔۔ ہسنے سے اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی کو اس نے اپنی انگلی سے صاف کیا پھر اپنی کرسی سے آگے ہو کر بیٹھ گیا

” اگر آپ کی زندگی میں ایسا شخص آ جائے تو کیا آپ کو اس سے محبت ہو جائے گی ؟ ” اس صحافی کے سوال پر وہ آپے سے باہر ہوئی تھی غصے کے مارے کانوں کی لو تک سرخ ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔ وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔

” یہ کس قسم کاسوال کر رہے ہیں آپ ” مہرو کو غصے میں دیکھ کر شہباز صاحب بھی کھڑے ہو گئے ۔۔۔ اس صحافی کو گھورنے لگے

” دیکھیں اس قسم کے سوالات سے اجتناب ہی کیجیے جس ک جواب مہرو جی دینا نہیں چاہتیں ” شہباز نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش کی تھی

” میں نے ایسا کیا کہہ دیا۔ شہباز صاحب ایک سیدھا سا سوال ہی تو کیا ہے۔۔۔ انکے کاغذی ہیرو کو پڑھ کر لڑکیاں انکے ہیرو کی دیوانی ہیں ۔۔۔لڑکیاں ویسا ہی سوٹٹ بوٹٹ ہیرو چاہتی ہیں تو اگر انکا لائف پارٹنر بھی ایسا ہی ہو تو کیا مضائقہ ہے ۔۔۔۔۔ میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو ۔۔۔۔۔ مہرو جی اتنی غصے میں آگئیں ہیں ۔۔۔” وہ صحافی بات کو بدل دینے کے فن سے واقف تھا۔۔۔۔ بڑی نافہمی سے پوچھنے لگا

مہرو زچ سی ہو کر رہ گئ تھی شہباز صاحب بھی اس لڑکے کی پہلی بات کو نظر انداز کر کے دوسری بات کو سوچتے ہوئے مہرونساء سے کہنے لگے

” مہرو ایسی تو کوئی غلط بات نہیں کی اس نے “

” مجھے واپس جانا شہباز صاحب ۔۔۔ میں آ بھی نہیں رہی تھی ۔۔۔ بس آپ کے کہنے پر آ گئ میرے پاس فرصت ہی کہاں ہے دو ٹکے صحافیوں کے سامنے اپنی تحریر کی جوابدہی دوں ” جن ہتھک بھری نظروں سے مہرو اس صحافی کو دیکھا تھا کوئی اور ہوتا تو یقینا برا مانا جاتا لیکن وہ مسکرا رہا تھا پھر ایک پین اسکی طرف بڑھایا

” مہرو جی پلیز یہ کچھ پیپرز ہیں ان پر آپ کا سائن بہت ضروری ہے جو ہمارے ڈائجسٹ میں آپکے انٹرویو کے ساتھ چھپے گا تا کہ آپ کے مداحوں کے من کی مراد پوری ہو جائے بیت سے لوگ آپ کااٹوگراف کا مطالبہ کرتے ہیں کہتے ہیں مہرو جی کا سائن ہی دیکھا دیں تو چین ا جائے ” وہ لڑکا پل میں آگ لگانے اور پل میں آگ کو گلزار کرنے کا بھی فن جانتا تھا اپنی ایسی تعریف سن کر مہرو نساء نے اس سے پین لے لیا اس لڑکے نے اپنی اسی فائل کو اس نے مہرو نساء کے سامنے کیا تھا ۔۔۔ مہرو نے اس پر اپناسائن کرتی رہی جہاں جہاں وہ کہتا رہا ۔۔۔۔ پھر جان بوجھ کر اس لڑکے کو نا پسندگی سے دیکھتے ہوئے وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔ جیسے انٹرویو دے کر اس پر احسان کیا ہو

وہ لڑکا بھی واپس چلا گیا ۔۔۔۔

********………

ایک ہفتے سے روز زکی اور اسکے والد کے بیچ میں محاز چل رہا تھا ۔۔۔۔۔ اشتیاق صاحب کا کہنا تھا کہ زکی سجیلہ کو ویسے ہی پرپوز کرے جیسے وہ چاہتی ہے ۔۔۔۔ اور زکی ۔۔۔۔زکی تو اس لڑکی کی شکل بھی دیکھنے کو تیار نہیں تھا جو زبردستی اس کے گلے پڑ رہی تھی ۔۔۔۔ اپنی انا کی تسکین کی خاطر اسے کھلانا چاہتی تھی اور اشتیاق صاحب کے نزدیک اس وقت صرف اپنا پیسہ برباد ہونے سے بچانا سب سے اہم تھا چاہے اس کے لئے بیٹے کی عزت ہی کیوں نا داؤ پر لگ جائے۔۔۔۔ روز ایک ہنگامہ مچنے لگا تھا حدیقہ بیگم پریشان سی ہو کر رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔ بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں ۔۔۔ شوہر کو تو کچھ نہیں کہہ سکتیں تھیں اس لئے زکی کی ہی منت سماجت کرنے لگیں لیکن اس بار تو زکی بھی اپنی بات سے ثس سے مس ہونے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔ رات کے نا جانے کس پہر حدیقہ بیگم کا بی پی شوٹ کر گیا تھا ۔۔۔۔ دونوں باپ بیٹے کے ہوش اڑ گئے تھے ۔۔۔۔ چار گھنٹے بعد کہیں حدیقہ بیگم سنبھالیں تھیں ۔۔۔۔ ہوش میں ارے ہی زکی کا ہاتھ پکڑے رونے لگیں تھیں اس بار وہ بے بس سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ اس لئے حدیقہ بیگم کی ہر بات ماننے کو تیار ہو گیا ۔۔۔۔ دو دن بعد اگلا ایورڈ شو تھا کسی اور چینل کا اس چینل کے ڈرامہ ڈاریکٹر بھی اشیاق صاحب تھے اور انکے ڈرامے کے ہیروئن سجیلہ عمران ۔۔۔۔ اشیتاق صاحب نے آیورڈ لیتے ہوئے وہیں اعلان کیا کہ انہوں نے سجیلہ کو اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔۔۔۔ سجیلہ ہر بات سے واقف تھی ریڈ کلر کی انڈین اسٹائل ساڑھی پہنے بڑی ادا سے اسٹیج پر آ کر اشتیاق صاحب کے گلے لگ گئ تھی ۔۔۔۔ پھر اشتیاق صاحب نے اجازت چاہی کہ وہ یہیں سب کے سامنے اپنے بیٹے کے ہاتھوں سجیلہ کو انگوٹھی پہننا چاہتے ہیں اگر سب اوڈین کی اجازت ہو تو تالیوں کی گونج نے سب کی رضامندی بتا دی تھی ۔۔۔۔ بجھے دل کے ساتھ زکی سامنے اسٹیک پر گیا تھا بلیک پینٹ کوٹ میں اپنی تمام تر وجاہت کے باجود چہرا اترا ہو تھا ۔۔۔۔ سامنے کھڑی سجیلہ کی اتراہٹ عروج پر تھی ۔۔۔۔۔ زکی اشتیاق صاحب کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا ۔۔۔ کیونکہ دائیں جانب سجیلہ کھڑی تھی ۔۔۔۔ اشتیاق صاحب نے خوش ہوتے ہوئے اپنی جیب سے ایک ڈیمانڈ رنگ کی ڈبیہ نکال کر زکی کو پکڑائی تھی اس سے پہلے زکی وہ رنگ سجیلہ کو پہنتا سجیلہ نے نئ فرمائش سامنے رکھ دی

” میں۔ چاہتی ہوں کہ زکی مجھے یہاں سب کے سامنے بھی دوبارہ پرپوز کرے جیسے کے اس نے چند دن پہلے مجھے ریسٹورنٹ میں پرپوز کیا تھا ” سجیلہ نے اپنی وہ بات دہرائی جو اسے اپنی اہانت لگی تھی جس کا بدلہ لیتے ہوئے وہ زکی کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر چکی تھی عورت کا یہ رنگ ڈھنگ زکی کے لئے انوکھا سا تھا ۔۔۔۔ زکی اس کے مقابل آ کر کھڑا ہو گیا پھر نیل ڈاؤن ہو کر بولا

” ول جو میری می ” بے تاثر لہجہ تھا چہرے پر دیکفاوئت کے لئے بھی مسکراہٹ نہیں ڈھائی گئ تھی ۔۔۔۔ ہال میں سیٹیوں کی آوازیں گونجی تھیں ۔۔۔۔ سجیلہ نے دونوں بھنویں اوپر چڑھاتے ہوئے اثبات میں سر یوں ہلایا جیسے زکی پر احسان کر رہی ہو ۔۔۔۔ پھر اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا سب کے سامنے شکی نے اسے انگوٹھی پہنائی تالیوں کی گونج ایک بار پھر سے اٹھی تھی ۔۔۔۔ لیکن زکی کو اس گونج میں اپنی تذلیل سی محسوس ہوئی تھی سیٹیوں کی آوازیں اسے اپنا مزاق اڑاتی ہوئی محسوس ہورہی۔ تھیں ۔۔۔۔ سجیلہ کی معنی خیز ہنسی اسکے اندر آگ سی لگا گئ تھی وہ اسٹیج سے نیچے اتر کر ہال سے ہی باہر چلا گیا تھا زکی نے جو کچھ بھی کیا تھا اپنی والدہ کی وجہ سے مجبور ہو کر کیس تھا نا اسے سجیلہ پسند تھی نا ہی وہ اس سے شادی کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔۔۔ منگنی مجبوری میں کر لی لیکن شادی کرنے کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔۔۔

******………

شادی کی ساری تیاری مہرو فواد کے ساتھ ہی کر رہی تھی ۔۔۔ ابھی بھی شادی اور ولیمے کا جوڑا فواد کی پسند کا سلیکٹ کر کے بوتیک میں بننے کے لئے آڈر دے کر آئی تھی ۔۔۔۔

فواد نے مہرو کی ہر شاپنگ میں اپنی پسند کو مقدم رکھا تھا ۔۔۔ مہرو میں تمہیں اس لباس میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ ساری بلیک کلر ہی خریدو اس میں تم زیادہ خوبصورت لگو گی ۔۔۔ مہرو نساء بھی خوشی خوشی وہ سب خرید رہی تھی جو فواد کو پسند تھا ۔۔۔

شاپنگ کے بعد دو دونوں ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے لگے ۔۔۔

” دس دن باقی رہ گئے ہیں شادی میں لیکن مجھ سے صبر ہی نہیں ہو رہا ہے ۔۔۔ اپنےکمرے کا خالی پن میرے نیندیں اڑنے لگا ہے ” فواد کی بیقراریوں سن کر مہرو بس مسکرا ہی رہی تھی جب پیچھے سے کوئی فواد کی کرسی سے ٹکرایا تھا اور چٹنی کا پورا پیالہ اس کی شرٹ پر گر گیا تھا ۔۔۔ فواد کاغصے سے برا حال ہوا تھا پیچھے ایک وئٹر سفید شرٹ اور پنٹ پہنے اس پر لال رنگ کی واسکوٹ پہنے ٹرے میں کسی کا آڈر لے جا رہا تھا لیکن اس سے ٹکرا گیا اور چٹنی فواد کی شرٹ پر گر گئ وہ وئٹر گود سے بہت معذرت کرنے لگا ۔۔۔ فواد کوغصہ تو جی بھر کر آیا لیکن ضبط کر گیا

” مہرو میں یہ صاف کر کے آتا ہوں یہ کہہ کر خود واش روم چلا گیا اسی وئیٹر نے ایک ٹشو مہرو کو دیا ۔۔۔ اور کہنے لگا

” اسے پڑھ لیں “یہ کہہ وہ چلا گیا مہرو نساء حیرت سے اس ویٹر کو دیکھنے لگی پھر وہ ٹشو کھول کر دیکھا تو اس پر ایک تحریر لکھی تھی

” جو لوگ میری پسند کی چیزوں کے لئے اپنی بے تابیاں دیکھاتے ہیں میں انہیں جان سے مار دیتا ہوں ۔۔۔ اپنے منگتر سے کہو کہ اپنے جذبات ہو ٹھنڈا پانی پی کر بجھا لے تو بہتر ہے ۔۔۔ ورنہ بن موت مارا جائے گا ” یہ پڑھ کر مہرو نساء پہلے تو گھبرا گئ تھی پھر پورے ہال میں دیکھنے لگی کہ یہ ٹشو وئٹر اسے کیوں دے کر گیا ہے ایسی فضول سی بکواس اس سے کون کر سکتا ہے کون ہے جو فواد کی اور اسکی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ لیکن اس ریسٹورنٹ میں اسے اب وہ وئٹر کہیں نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ ورنہ اس سے یہ پوچھتی کہ اس نے یہ ٹشو میں کیا لکھا ہے اور کیوں لکھا ہے ۔۔۔ فواد واپڈا کر بیٹھ گیا شرٹ پر اب بھی چٹنی کا داغ باقی تھا

” سارے رومنٹک موڈ کاستاناس کر کے رکھ دیا اس وئٹر نے ۔۔۔ ” فواد رہا ہوا بول رہا تھا نا جانے کیوں لیکن مہرو نساء سے کھانا نہیں کھایا گیا نا جانے کیوں لگ رہا تھاوہ کسی کی سر پار کرتی نظروں کے حصار میں ہے ایسی نظریں جو کانٹوں طرح سے اسکے وجود ۔میں۔ پیوست ہو رہی ہیں ۔۔۔

ایسی بے چینی تھی کہ سہہ نہیں پا رہی تھی

” فواد پلیز مجھے گھر چھوڑ دو ” جب مہرو سے اپنی کیفیت برداشت نہیں ہوئی تو بے اختیار بول پڑی فواد اسے یوں یک دم سے اٹھ جانے پر پریشان ہوا تھا ۔۔۔ وہ ابھی بیٹھا کھانا ہی کھا رہا تھا مہرو کی پلیٹ ویسے ہی بھری پڑی تھی لیکن اس کے چہرے پر چھائی بد حواسی دیکھ کر کچھ متعجب سا ہوا تھا ابھی کچھ دیر پہلے تو وہ بلکل ٹھیک تھی

” مہرو آر یو آل رائٹ کھانا تو کھاؤ پھر چلتے ہیں گھر “

” نہیں فواد ۔مجھے بھوک نہیں ہے پلیز مجھے گھر چھوڑ دیں ” نا جانے کسی تیز دھار نظریں تھی کہ مہرو نساء سے اپنی مشکل تھی وہ کون تھا ۔۔۔ یہ بھی وہ دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔ لیکن سب کچھ کچھ غیر معمولی سا تھا ۔۔۔۔ گود مہرو نساء کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر اٹھ گیا مینو کارڈ ۔میں پیسے ڈالے اور مہرو کے ساتھ باہر آگیا ۔۔۔۔

گاڑی میں بھی مہرونساء خاموش خاموش سی تھی فواد بار بار اس سے وجہ دریافت کر رہا تھا لیکن وہ یہی کہتی رہی کہ وہ تھک گئ ہے ۔۔۔۔ فواد اسے اسکے بنگلے کے باہر چھوڑ کر جا چکا تھا ۔۔۔۔

مہرو گھر ۔میں داخل ہو کر لاونج میں بیٹھ گئ

بہت تھکی ہوئی تھی جب ملازمہ نے اسے دیکھ کر کہا کہ اسکے لئے باہر ایک پارسل آیا ہے ۔۔۔ وہ

پوچھنے لگی کے کس نے بھیجا ہے ملازمہ نے کہا کہ اس پر کسی کا نام نہیں ہے بس آپ کے نام آیا ہے ۔۔۔ کچھ دیر تو مہرو سوچتی رہی پھر کہنے لگی جاؤں لیکر آؤں ۔۔۔ ملازمہ وہ پارسل لے آئی اسے کھول کر تو مہرو کے ہوش ہی اڑ گئے تھے