186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 24

Meri Jaan by Umme Hani

مہرونساء کو ہاسپٹل لے جایا گیا،اسے ٹھیک سے سانس نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ آکسیجن ماسک اسے لگانے کے باوجود وہ ٹھیک سے سانس نہیں لے رہی تھی اس نے اس قدر ٹریس لیا تھا کہ اسے سانس کا بہت برا اٹیک ہوا تھا

مہرونساء کی جان بچانے کے لئے اسے بہت ہیوی ڈوز دیں گئیں تھیں جو کی وجہ سے اسکی early pregnancy کے لئے نقصان دہ تھیں اس لئے

اس کابچہ ضائع ہو چکا تھا

دو دن بعد اسکی طعبیت سنبھلی تھی تب تک حازم کی نشانی اسکے وجود سے ختم ہو چکی تھی ۔۔۔ حازم کے رشتے کی طرح شاید اسکی اولاد بھی پائید تھی ۔اسلئے دیر پا نہیں چل سکی ۔۔ اب وہ مکمل طور پر آزاد ہو چکی تھی ۔۔۔ لیکن بہت بیمار بھی رہنے لگی تھی دو ماہ بعد وہ کچھ زندگی کیطرف لوٹی تھی۔۔۔

بہت وقت بعد اپنے اندر ایک نیا عزم لئے وہ اپنے رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔ سامنے کادراز کھولا تو سادے کاغذوں کے پلندے ویسے کے ویسے ہی رکھے تھے ۔۔۔ جیسے شادی سے پہلے رکھے تھے

کیا کچھ نا دوبارہ سے یاد آیا تھا فواد سے ملاقاتیں

شادی تیاریاں پھر حازم کے ساتھ گزرے چھ ماہ وہ کانپ سی گئ تھی ۔۔۔۔ کہا کچھ گزر گیا تھا ان چھ ماہ میں مہرو کی پوری شخصیت تک بدل کر رہ گئ تھی

خود کو جھٹکا اور چند کاغذ باہر نکالے ۔۔۔

اپنا قلم پکڑا ۔۔۔ اور پہلے بسم اللہ لکھا ۔۔۔

لیکن نیچے لکھنے کے لئے لفظ کھونے لگے تھے کیونکہ آج اس نے سچ لکھنا تھا لوگوں کو کوئی خواب نہیں دیکھانا چاہتی تھی ۔۔۔

وہ ذہن میں کہانی بن چکی تھی کہانی کا پورا پلاٹ ذہن میں محفوظ تھا آج اس نے ایسی لڑکی پر قلم چلانا تھا جو گھر سے بھاگ کر کہیں کی بھی نہیں رہتی بنا کسی حسین خواب کے

تصویر کا ایک سچا،اور تلخ رخ دیکھانا چاہتی تھی ۔۔۔۔

لیکن لفظ کھونے لگے تھے پہلے اس نے ذہن میں ہیرو ہیروئن کے ناموں کو ترتیب دینا شروع کیا

شاہ آفندی ۔۔۔۔ زر شاہ ۔۔۔۔ شامیر خانزادہ ۔۔۔

وہی۔ ناولز میں لکھے جانے والے روائتی سے نام جو کم ہی حقیقی زندگی میں سننے کو ملتے ہیں ۔۔۔

مہرو نے ذہن کو جھٹکا اس بار نام ایک عام انسانوں کے ہوں گئے ۔۔۔

ہیرو کا نام اس نے زین رکھا تھا اور ہیروئن کا نام

ماہ رخ

پہلی سطر لکھنی بڑی مشکل لگ رہی تھی کیونکہ قلم کو وہ آج قلم کے آدب کے ساتھ چلارہی تھی اسے آذاد نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔ ایک چھوٹا سا چند صفحات پر لکھا جانے والا افسانہ مہرو نساء آٹھ گھنٹوں میں مکمل کیا تھا۔۔۔

کئ بار قلم رکا تھا ۔۔۔ آنسوں ٹپکے تھے ۔۔۔ایک ایسی لڑکی کی کیفت کو لکھنا جس نے ماں باپ کی عزت کے بجائے چار دن کی محبت کو اہمیت دی تھی گھر سے بھاگ جانے سے پہلے کتنی بار اس لڑکی کے ضمیر نے اس لڑکی کو جھنجھوڑا ہو گا ۔۔۔ اسے یہ یاد دلایا کہ کب کب اسکے ماں باپ اس کا پیٹ بھر کر خود بھوکے پیٹ سوئے تھے ۔۔۔ اسکی خواہشات کی خاطر اپنی کتنی ضرورتوں کو پس پشت ڈالا تھا ۔۔۔ایک ایک سوچ کو ایک لڑکی سوچ سکتی ہے منفی بھی مثبت بھی وہ سب مہرو نے قلم بند کی تھی لیکن

لیکن چار کی محبت میں اتنی کشش تھی ماں باپ کی محبت اور قربانی نظر ہی نا آسکی

اور ہمیشہ کی طرح وہ چار دن کی محبت چار دن میں ختم بھی ہو چکی تھی ایسی نا پید محبت کا انجام بد نامی رسوائی اور عزت کو روندنے کے علاؤہ اور کچھ بھی نہیں ہوتا

جو سچی محبت کرتا ہے وہ سب سے پہلے عزت دیتا ہے ۔۔۔۔ عزت سے اپناتا ہے ۔۔۔ کسی کو پسند کر لیا یاکسی اچھا لگ جانا غلط نہیں ہے لیکن اللہ نے ایک جائز طریقہ ہمارے سامنے رکھا ہے کہ پہلے روزی روٹی اور ذمہ داری سنبھالنے کی قابلیت پیدا کرو پھر کسی کا ہاتھ مانگو اور اگر انکار ہو جائے تو عزت سے اسے۔ چھوڑ دو ۔۔۔ باوقار مردو کی یہی شان ہوتی ہے ۔۔۔ زبردستی سے گناہ کا طریقہ اختیار کرنا نکاح کرنے کا مقصد صرف اپنی ہوس اور عیاشی کو پورا کرنا اور جب جی بھر جائے تو طلاق کا پرچہ دے کر خود کو آذاد کر لینا اور پھر اس بھاگ جانے والی لڑکی کو یہ کہنا

کہ

جب تم اتنے سالوں کی ماں باپ کی محبت کا پاس نا رکھ سکی تو میری وفادار کیسے ہو سکتی ہو ؟؟؟

ایسی محبت کا یہی انجام ہوتا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ ماں باپ کی آنسوں معمولی اور بے قیمت کبھی نہیں ہوتے جب وہ اپنی اولاد کی خوشیاں رو دو کے رب سے مانگ لیتے ہیں تو اس کی بن کہی۔ بددعائیں بھی اسی طرح سے لگتی ہیں۔ جیسے کہ دعائیں

آج اس نے محبت کے بجائے عزت کی اہمیت پر لکھا تھا ۔۔۔ اور آخر میں یہ لکھا کہ۔ بات جب عزت اور محبت کے بیچ میں آ جائے تو لڑکیوں کو عزت کی چادر اوڑھ لینی چاہیے ۔۔۔۔ کہانی کے آخر میں جب اس نے اپنا نام لکھا تو ہاتھ بری طرح سے کانپے تھے ۔۔۔۔

جانتی تھی جس شہرت کے حصول کے لئے قلم کے ذریعے جھوٹ ۔خواب ۔۔ اور نفسی خواہشات کو آج تک ترجعی دی ہے جب اسی قلم کو حق اور سچ کے لئے استعمال کیا جائے تو پہلے شہرت ہی چھنتی ہے ۔۔۔۔

قلم کو بند کیا صفحات پر پیپر ویٹ رکھا اور اٹھ کر بیڈ پر لیٹ گئ ۔۔۔۔ دل میں نا جانے کیوں ایک سکون کی لہر سی دوڑی تھی ۔۔۔۔ سچ کاراستہ مشکل ترین ہے لیکن انسان کا دل اندر مطمئن رہتا ہے ۔۔۔ یہی مہرونساء کے ساتھ ہوا تھا اس کے نام کو دوبارہ سن کر لوگوں نے رسائل کو خریدا تھا لیکن کہانی پڑھ کر تبصرے بڑے عجیب کیے تھے

” یہ کیا مہرو جی ایک بھی لو سین نہیں ۔۔۔ بلکل مزہ نہیں آیا ۔۔۔ یہ آپ کا رائٹنگ اسٹائل تو نہیں ہے ۔۔۔ پلیز ویسا ہی لکھیں جیسا آپ لکھتی ہیں ۔۔۔ “

” بور اسٹوری ۔۔۔ کوئی مزیدار ٹیوسٹ ہی نہیں تھا ۔۔۔ نو لو سین ۔۔۔۔ “

” ہم پہلے ہی زندگی کی تلخیوں میں زندگی گزارتے ہیں

اور کہانی اس لئے پڑھتے ہی۔ تا کہ ذہنی انٹرٹینمنٹ حاصل کریں ۔۔۔ اس لئے پلیز آپ ویسے ہی ناول لکھیں اور بیڈ روم سین ذیادہ لکھیے گا

مہرو نساء نے کوئی جواب نہیں دیا پہلے وہ لوگوں کی نفسی خواہشات پر لکھتی تھی اپنی شہرت کی خاطر لکھتی تھی لیکن آج وہ لکھ رہی تھی جو قلم کا حق تھا ۔۔۔ قلم کی سچائی کہاں لوگوں کو اتنی جلدی ہضم ہوتی ہے

انٹرٹینمنٹ کیا ہے ؟؟؟

ذہنی سکون کس چیز کا نام ہے ؟؟

کیا فحش سین پڑھ کر ہم ذہن کو سکون دیتے ہیں ؟؟؟

نہیں ہم فحش کو پڑھ کر اپنے نفس کی غلط کاری کو وقتی تسکین دیتے ہیں ۔۔۔ لیکن غیر محسوس طریقے سے اندر کی جنسی خواہشات کی شدت میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں ۔۔۔

تیرہ سے بیس بائیس سال کے لڑکے اور لڑکیاں ایک

الگ کیفت سے گزر رہے ہوتے ہیں بچپن سے لڑکپن کی عمر میں داخل ہوتے ہی اپنی مخالف جنس میں قدرتی طور پر ایک کشش سی ۔محسوس ہوتی ہے

اپنا آپ خوامخواہ بہت اہم لگنے لگتا ہے جی چاہتا ہر کوئی ہمہیں اہمیت دے اور جب وہ اہمیت گھر سے نہیں ملتی تو اسے باہر ڈھونڈا جاتا ہے ۔۔۔ اس وقت باہر ہوس کے بھوکے بیٹھے بھیڑیے تاک لگائے کم عمر لڑکیوں کو دیکھتے ہیں ان سے باتیں کرتے ہیں انہیں اہمیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں تم ہی میرے لئے سب کچھ ہو تمہارے علاؤہ کوئی دوسرا ہے ہی نہیں ۔۔۔ کچے ذہن کی لڑکیاں پہلے تو گھبراتی ہیں ڈرتی ہیں ۔۔۔ لیکن جب ایسی فحش کہانیوں کا مطالعہ کرتی ہی تو کہیں نا کہیں اپنی دبی خواہشات پر ضبط نہیں کر پاتیں سوج بوجھ ختم ہوتے ہیں نفسی خواہش ذہن اور دل پر اتنی قابض ہو جاتی ہے پھر کوئی گناہ گناہ نہیں لگتا

“”محبت میں سب جائز ہے “””

نا جانے کس کا غلط مقولہ تھا لیکن سب اسی کے اصول کے تحت سب سے پہلے ماں باپ کی عزت کو روندتے ہیں ۔۔۔ پگڑی سر پر جب تک رہتی ہے سر سجا سجا سا لگتا انسان کی شخصیت کو با رعب کر دیتا ہے اور جب وہی پگڑی زمین پر مٹی رل جائے تو انسان بھی اسی مٹی میں مٹی کا ڈھیر ہو جاتا ہے ۔۔۔ خون کے آنسوں کیا ہوتے جا کر کبھی ان ماں سے پوچھو جن کی بچی گھر سے بھاگ جاتی ہے ۔۔ یا ان سے پوچھو جن کی بچی سستی سی محبت کی خاطر عزت گنوا کر آ جاتی ہے

مہرونساء کو پہلی بار تعریف کے بجائے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن برا نہیں لگ رہا تھا کیونکہ دل اندر سے مطمئن تھا ۔۔۔۔

******………

زکی کے بیلنس اکانٹ میں رقم اب اچھی خاصی جمع ہو چکی تھی اپنے لئے اس نے ایک دو کمروں کا فلیٹ خرید لیا تھا ۔۔۔ اب اسے اپنے دادا کا اسٹوڈیو چلانا تھا اتنے پیسے اور نام تو وہ کما چکا تھا کہ اپنے بل بوتے پر اپنے مقصد کو شروع کر سکے ۔۔۔ اس لئے منظور صاحب کے نام کی لاٹھی کی اسے اب ضرورت نہیں رہی تھی زکی نے جب انہیں یہ کہا وہ اب انکے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا منظور صاحب تو یہ سن کر ہی حیران پریشان رہ گئے تھے انہیں لگا تھا باپ کے۔ مدمقابل کھڑے رہنے کے چکر میں زکی ان کو سونے انڈے تا عمر دیتا رہے گا ۔۔

” لیکن تم تو اپنے والد کو نیچا دیکھانا چاہتے تھے ۔۔۔ ابھی تو صرف تین ڈرامے ہی تم نے بنائے ہیں میرے خیال سے تمہیں ابھی میرے ساتھ بانچ چھ سال کام کرنا چاہیے “

” میرا ہر گز اپنے والد کو نیچا دیکھانا مقصود نہیں تھا ۔۔۔ وہ میرے والد ہیں میں کبھی بھی انکی نظریں اپنے سامنے جھکی ہوئی نہیں دیکھنا چاہوں گا ۔۔۔ مجھے بس ان کے سامنے یہ ثابت کرنا تھا میں اکیلا کیا کر سکتا ہوں میرا مقصد کچھ اور ہے سر

مجھے ڈرامے ویسے ہر گز نہیں بنانے جیسے کہ آجکل بن رہے ہیں میں تو کسی اور چیز کی ابتدا کرنا چاہتا ۔۔۔ مجھے نہیں لگتا جو میں کرنا چاہتا اس میں آپ میراساتھ دینا چاہیں گئے ۔۔۔ ” زکی بات سن کر کچھ دیر تو منظور صاحب اسے غور سے دیکھتے رہے پھر سگریٹ جلا کر منہ میں رکھتے ہوئے زریک نظروں سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے

“, کیا ہے تمہارا مقصد ” ۔

” بس پردہ اور صاف شفاف میڈیا ۔۔۔ ڈرامہ بے حیائی اور گلیمر کے بغیر بھی بن سکتے ہیں ۔۔۔ معیاری ڈرامے پہلے بھی دیکھائے جاتے تھے جب عورت پورا ڈرامہ سر پے ڈوپٹہ اوٹھ کر کرتی تھی

تب لوگ ٹیلنٹ دیکھاتے تھے اپنا وجود نہیں ۔۔ وہ ہماری ثقافت تھی محبت کااظہار فاصلہ قائم کر کے لفظوں سے کیا جاتا تھا اور لفظوں میں ابہام کا عنصر دیکھائی دیتا تھا ۔۔۔۔ کھلے اور بے باک لفظوں

سے احتیاط برتی جاتی تھی ۔۔۔ اشارتاً بات کو سمجھایا جاتا تھا نا کہ اسے کھل کر دیکھایا جائے ۔۔ میرے ڈرامے میں بیڈ روم سین پیکچرائز نہیں کیے جائیں گئے ” زکی کی باتیں سن کر وہ استزائیہ مسکرائے

” تم جو کرنا چاہتے ہو وہ ہے تو اچھا کام لیکن لوگ یہ سب دیکھ ء کے عادی نہیں ہیں ۔۔۔ اب تو ساٹھ سالہ شخص بھی گلیمر دیکھنے کا عادی ہے وہ بھی ایسے دقیانوسی ڈرامے دیکھنا پسند نہیں کرتا میرے خیال سے ہم اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں ۔۔۔ اٹھارویں صدی اور انیسویں صدی کے ڈرامے کوئی بھی دیکھنا نہیں چاہتے گا ۔۔۔ ” منظور صاحب نے اپنی سی کوشش کی تھی زکی کو سمجھانے کے لئے زکی نے ذراسا مسکرا کر کہا

” یہ تو ہم نے خود ہی بدلہ ہے معاشرے میں جیسے ہم نے بے حیائی کو عام کرنے کا رواج رائنج کیا ہے

حیا کا بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔ سر سے ڈوپٹہ اتار کر پھینکنا ہم نے ہی سیکھایا ہے لینا بھی ہمہیں ہی سیکھانا پڑے گا ۔۔۔۔ کام مشکل ہے سر لیکن نا ممکن نہیں ” زکی کو خود پر اعتماد تھا جانتا تھا راہ مشکل ہے لیکن سچ ایک کڑوی دوائی ہے اور لوگوں کو جھوٹے مشروبات کی عادت پڑ چکی اس لئے سچ کا مزہ لوگوں کو لگانے کے لئے محنت بہت ذیادہ درکار تھی ۔۔۔ منظور صاحب کو لگا کہ زکی کی بات بے بنیاد سی۔ ہے جب لوگ اسکے ڈراموں دیکھیں گئے نہیں تووہ خود انکے پاس لوٹ آئے گا اس لئے مسکراتے ہوئے اسے بسٹ آف لک کہا

زکی واپس اپنے دادا کے اسی پرانے آفس میں آ گیا تھا پورے آفس کو اس نے صاف کروایا ۔۔۔ رنگ و روغن کی رنگت وہی کرائی جو پہلے سے اس پر کی گئ تھی ۔۔۔اسے نئے موڈل کا بنانے کی کوشش نہیں کی ایک بڑا سا ہال تھا جہاں پرانے طرز کے سیٹ بنا کر ارداکاروں کے سین لئے جاتے تھے ۔۔۔ اسی زمانے کا فرنیچر بھی موجود تھا ۔۔۔۔ اسی کو زکی نے پالش کروایا تھا اسی انداز کو ویسے ہی سجایا گیا تھا ۔۔۔

اب تلاش تھی تو ایک رائٹر کی ۔۔۔ مہرونساء کی بھاگ کر شادی کی خبر اس نے سرسری سی ہی دیکھی تھی کوئی تعجب نہیں ہوا تھا کیونکہ اس کا بھاگ جانا اسکی تحریر کے حساب سے الگ نہیں وہ لڑکی زکی کی نظر میں ایک سطحی سوچ کی مالک اور شہرت کی دلدادہ تھی اس لئے بھاگ کر شادی کر لینا بھی شاید اسکی شہرت کاایک نیا انداز تھا ۔۔۔ ایسی خبریں زکی ایک نظر بھی نہیں پڑھتا تھا حالانکہ ان دنوں ان خبروں نے میڈیا میں۔ تہلکہ مچا رکھا تھا ۔۔۔ نا ہی اس نے مہرو کے انٹر ویو کو اہمیت دی تھی ۔۔۔ کیونکہ ایسی لڑکیاں سستی شہرت کی خاطر ایسے ہی ہتھکنڈے آزماتی ہیں مہرو بی اس کی نظر میں ایسی ہی تھی۔ دھچکاتو اڈے اس وقت لگا جب یونہی بیٹھے بیٹھے اس نے ایک کہانی پڑھنی شروع کی پہلی بار کسی تحریر نے زکی کو اپنی گرفت میں لیا تھا ۔۔۔ افسانہ چھوٹا سا تھا لیکن جاندار اتنا تھا کہ۔ آخر تک زکی اپنی آنسوں پر ضبط نہیں کر پایا تھا ۔۔۔

گھر سے بھاگ جانے والی لڑکی پر جو کچھ وہ پڑھ تھا ایک تلخ حقیقت تھی ۔۔۔ ایسی تحریر اس نے پہلی بار

نہیں پڑھی تھی لیکن ان لفظوں ایسادرد تھاایسی اذیت تھی زکی کے دل کی حالت عجیب ہوئی تھی اسکی لڑکی کے ماں باپ کی بیٹی کے بھاگ جانے پر لوگوں کی باتوں سہنا دل کو چیر دینے والے مکالمات پڑھ کر وہ اپنے آنسوں کو روکنے سے قاصر ہوا تھا اس لکھاری نے لفظ نہیں لکھے تھے درد لکھا تھا ۔۔۔ تڑپ لکھی تھی اذیت کو جس طرح سے بیان کیا دلوں کے تار ہلا دینے کا ہنر جانتی تھی ۔۔۔۔ ایک زور دار دھچکا زکی کو تب لگا جب رائٹر کا نام اس نے پڑھا تھا

مہرونساء نیاز

وہ کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا

“مہرونساء نیاز ۔۔۔” زیر لب اس نے دہرایا ۔شاید یہ مہرونساء نیاز نہیں ہے کوئی اور ہم نام ہو گی

زکی دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔ اس کے بعد بھی دل کو چین نہیں آیا تو کہانیوں پر کیے گئے تبصرے پڑھنے لگا ۔۔۔ کچھ پل دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا تبصرے پڑھ کر تھوڑا بہت جو شک تھاوہ بھی دور ہو چکا تھا ۔۔۔

اب باقی صرف بے یقینی بچی تھی

” مہرونساء نیاز؟؟؟؟ کیا چیز ہے یہ لڑکی ۔۔۔ ؟؟؟

شاید یہ بھی شہرت حاصل کرنے کا نیا انداز ہے ۔۔۔ افف لوگ بھی کیسے کیسے ہیں ۔۔۔ کبھی شہرت کے لئے بے حجاب ہو جاتے ہیں اور کبھی خود پر چادر اوڑھ لیتے تا کہ لوگ ان سے متاثر ہوں ۔۔ پہلے تو زکی نے موبائل دوبارہ سے ٹیبل پر رکھ دیا لیکن نا جانے کیاسوجا کہ دوبارہ سے اس نے موبائل آن کیا اس کہانی کو پھر سے پڑھا اسکے بعد مہرونساء کے پیچھے ناول کو پڑھا اس کے بعد سوچ میں پڑ گیا تھا

ایک ہی لڑکی کی لکھی گئ دو تحریروں میں سوچ کااتنا تضاد کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔

خیر مجھے کیا ۔۔۔ ” زکی نے موبائل آف کیا اور چند مشہور رائٹرز سے میٹنگ کرنے کی ٹائمنگ کو سٹ کیا جتنافیمس وہ ہو گیا تھا رائٹر تواسکے ساتھ کام کرنے اپنے لئے اعزاز ہی سمجھ رہے تھے اپنے بہت سے پلاٹ وہ زکی کو دیکھا چکے تھے ۔۔۔ لیکن جس تحریر نے اس کے دل پر ایک گہری چھاپ چھوڑی تھی۔ ان تحریروں نے مزے کو کرکرا سا کر رہی کووہ ان ڈرامہ نگاروں کی تحریر کو پڑھ رہا تھا ۔۔۔

” یہ سب نہیں چاہیے ۔۔۔ مجھے ایک ایسی لڑکی کی کہانی چاہیے جو گھر سے بھاگ کر شادی کرے ۔۔۔

اور اسکی کہانی اتنی درد ناک ہو کہ دیکھنے والی ہر کم عمر لڑکی گھر سے باہر پاؤں رکھنے سے پہلے کانپ جائے ” انجانے میں وہ مہرو کی کہانی کوڈسکس کر رہا تھا ۔۔۔

” جی سر ایسی کہانی بہت چل رہیں ہیں لڑکیاں لو میرج کرتی ہیں لیکن لڑکے کی غربت سے سمجھوتا نہیں کر پاتیں ۔۔ اور پھر پچھتاتی ہیں ۔۔ یا وہ لڑکا اسے دھوکہ دیتا ہے ۔۔ اور پھرایک اچھا انسان اسے اپنا لیتا ہے ۔۔

آپ لوگ پہلے لکھ کر لائیں پھر میں دیکھوں گا کہ مجھے کس رائٹر سے اسٹوری لکھوانی ہے ۔۔۔ ایک ہفتے بعد وہ سب رائٹر کی لکھی اسٹویز پڑھ چکا تھا لیکن اسے وہ بات محسوس نہیں ہو رہی تھی کووہ دیکھانا چاہتا تھا ۔۔۔

” نہیں وہ درد نہیں جو بے اختیار آنکھوں کو نم کر دے ۔۔۔ نہیں مجھے یہ سب بکواس لگ رہیں ہیں ” اس نے سب فائلز ٹیبل پر رکھ دیں راٹیرز کے چہروں کے زاویے بدلنے لگے تھے ۔۔۔

ایک مہینہ زکی نے مختلف رائٹرز کی کہانیاں پڑھ لیں تھیں لیکن کوئی بھی دل تک رسائی نہیں کر پائی تھی جو چھاپ مہرونساء کی کہانی نے دل پر لگائی تھی اس کا مقابلہ اب تک کسی اور کہانی نے نہیں کیا تھا آخر کا یہ سوچ کر کے اسے اپنے ڈرامے کے لئے اسٹوری چاہیے مہرونساء چاہے خود جس مرضی کردار کی ہے اسے اس بات سے کیا سروکار

اسے مہرونساء سے اسکی کہانی چاہیے تھی ۔۔۔ جس پر وہ ڈرامہ بنا سکتا ۔۔۔ اس لئے پہلے اس نے ارمان سے رابط کیا تھا حال احوال کے بعد اس نے اپنا مدعا بیان کیا تھا ۔۔ ۔

” مہرو شاید نا مانے جو کچھ اسکے ساتھ بیت چکا ہے وہ تو دنیا سے کٹ کے رہ گئ ہے ۔۔۔ کمرے سے باہر نہیں نکلتی تو تمہارے ساتھ کام کرنا تو ممکن ہی نہیں ہے ” ارمان نے دل گرفتگی سے کہا

مہرونساء خاسے ہمیشہ چھوٹی بہنوں کی طرح عزیز رہی تھی

” کیا مطلب انہیں کیا ہوا ہے میں نے تو سنا تھا کہ لو میرج کی ہے وہ بھی بھاگ کر ۔۔۔ ” زکی کو کچھ تعکب سا ہوا تھا ارمان نے سارہ روداد زکی کے گوش گزار کر دی تھی جس پر زکی کو کچھ خاص یقین۔ نہیں تھا وجہ تھی مہرونساء کے لکھے گئے سطحی ناولز ۔۔ لیکن ارمان سے کچھ کہہ نہیں پایا اسوقت تواسے مہرونساء کی کہانی سے غرض تھا

” یار ایک شخص کی خاطر دنیا ختم تو نہیں کو جاتی ہے تم بس ایک بار مس مہرو سے میری ملاقات کروا دو میں انہیں کنونس کر لوں گا ” زکی

کو اتنا بھروسہ تھا خود پر کہ وہ مہرونساء کو منا لے گا ۔۔۔

*******……..

ایک سال میں دو فلمیں یسرا نے بنائی تھیخاعر ہی ہٹ گئیں تھی اسد سے اس کا کنٹریکٹ ختم کو چکا تھا ۔۔۔

اسد باضد تھا کہ یستااب بھی اسکے ساتھ کام کرے لیکن وہ صاف انکار کر چکی تھی کہ اسے اب نا،اسد کے ساتھ کام کرنا ہے ۔۔۔ نا ہی فلم کرنی ہے

وہ صرف ڈرامہ ہی کرے گی ۔۔۔ وہ بھی اپنے انہیں اصولوں پر ۔۔۔ جس شہرت پر یسرا پہنچ گئ تھی لوگ اس کا نام سن کر ہی اسے ڈرامے کو بھی اتنی ہی پزیرائی دیتے جتنی فلم کو دی تھی

فاضل اب یسرا سے اکثر فون پر بات کرنے لگا تھا

کبھی اسے اپنے گھر بھی لے جاتا ۔۔۔ اب بھی اسکے ساتھ آئسکریم کھلانے لایا تھا ۔۔۔ اور باتوں کے دوران کہنے لگا

“یسرا میں ایک مہینہ کسی ڈرامہ میں کام نہیں کر سکتا انو کو لیکر یو کے جارہا ہوں وہیں اس کا آپریشن ہو گا اور اس سب میں ایک مہینہ لگ جائے گا “

” یہ تو بہت اچھی بات ہے فاضل ۔۔۔ ” یسرا آئسکریم

کھاتے ہوئے بولی ۔

” تم سے فیور چاہیے تھی مجھے ” فاضل پہلی بار اسکے سامنے جھجکا تھا

” ہاں کہو ۔۔۔ ” یسرا پوری دلچسپی سے اسکی طرف متوجہ ہوئی

” امی اکیلی ہوں گی پلیز تم ذرا انکے پاس جاتی رہنا “۔

” یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے میں چلی جایا کروں گی ڈونٹ وری “

” اور ایک ۔۔۔۔ بات ۔۔۔۔ اور بھی کہنا چاہتا تھا تم سے ” بے تکلف ہر بات کہہ دینے والا فاضل آج تمہید باندھ رہی تھی

” کہو ن افضل کیا بات ہے ؟ یسرا کی بات پر وہ آئسکریم کے کپ میں بس چمچ ہی گھما رہا تھا

” جب تک میں واپس نا آ جاؤں تم کسی بھی نئے ڈرامہ میں کام نہیں کروں گی ” یہ بات یسرا کو کچھ عجیب سی لگی

” وہ کیوں ۔۔۔؟” یسرا کے چہرے پر ناگواری چھائی تھی

” ہو بات کی وجہ ضروری تو نہیں ہے کہ بتائی جائے ۔۔۔ بس میں نہیں چاہتا کہ تم کام کرو “

” دیکھوں ہم اچھے دوست ہیں ۔۔۔ دوست ہی رہیں تو بہتر ہے مجھے بلکل اچھا نہیں لگتا کہ مجھے کوئی باونڈ کرے ۔۔۔ ” آئسکریم کا خالی کپ یسرا نے ٹیبل پر رکھ کر لفظوں کو جما کر کہا ۔”

” میں نے تمہیں باونڈ ہر گز نہیں کیا ہے ۔۔۔ بس ایک ماں سے کہا اور میں چاہو گا کہ تم میرا مان رکھو ۔۔۔ اور تم رکھو گی ۔۔۔ یہ بھی میں جانتا ہوں ” فاضل کی آنکھوں میں ایک بھر پور اعتماد دیکھ کر اسے اور بھی برا لگا تھا وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ

” مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔ واپس چلیں ؟؟” یسرا مزید اس موضوع پر بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔

فاضل نے مینوں بک میں پیسے رکھے اور یسرا کے ساتھ باہر نکل گیا جان گیا تھا نا تو اسکی بات مانے کے موڈ میں ہے نا ہی مزید اس پر بات کرے گی

*******……..

حازم کواٹلی آئے ہوئے کافی دن گزر گئے تھے

شائستہ بیگم اور سہیل صاحب رفعت بیگم کا بہت خیال رکھ رہے تھے حازم دوبارہ سے اپنی جاب اسٹاٹ کر چکا تھا بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا اگر کہیں بے چینی تھی تو وہ اس کا دل تھا ۔۔۔ جس پر وہ نظریں پھیرے ہوا تھا

رات کو دستوں کے ساتھ مووی دیکھنے سنیما چلا گیا ۔۔۔ فلم ایک لو اسٹوری پر تھی اس پر ویلن ایک لڑکی کو کڈ نیپ کر لیتا ہے اور وہ رو رو کر اسکی منت کر رہی ہوتی ہے اسے چھوڑ دے وہاں سے جانے دے ۔۔۔ انگلش مووی تھی ۔۔۔ وہ لڑکی ہاتھ جوڑے اس شخص کی منت کر رہی تھی ناجانے کیوں اس ہیروئن کی سسکیوں میں حازم کو مہرونساء کی سسکیاں سنائی دینے لگیں ۔۔۔

“مجھے چھوڑ دو حازم ۔۔۔ میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ۔۔۔۔ ” دل یک دم ہی یکبارگی سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔ پورے ہال میں خاموشی تھی آواز تھی تو مہرونساء کی سسکیوں کی ۔۔۔

حازم کو پہلی بار ان سسکیوں نے بے چین کرنا شروع کیا تھا فلم کاسین بدل چکا تھا لیکن حازم کو صرف سسکیاں سنائی دے رہیں تھیں اس فل اے سی سنیما ہال کے سرد ماحول میں وہ پسینے کی یوریشں سے بھیگ چکا تھا پھر اپنی دنوں انگلیاں اپنے کانوں ٹھونس لیں

” خدا کے لئے چپ ہو جاؤ مہرونساء ” وہ اس قدر چلا کر بولا کہ پورے ہال میں بیٹھے لوگوں نے پلٹ کر حازم کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔