186.3K
38

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Jaan Episode 15

Meri Jaan by Umme Hani

یسرا کے سامنے اس وقت صرف اندھیر تھا کہیں کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ کبھی وہ سامنے کھڑے ڈاریکٹر کو دیکھتی کبھی ہاسپٹل کے اندرونی دروازے کو دیکھنے لگتی کہ شاید زکی کہیں سے اسکی مدد کے لئے آجائے اتنا تووہ جان چکی تھی کہ وہ اپنے باپ کے سامنے بے بس ہے

اسکے اپنے ہاتھ ۔میں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔

ڈاکٹر کی پکار نے یسرا کی سوچوں کاتسلسل توڑا تھا

” مس یسرا آپ نے کیا سوچا ہے آپکی والدہ کی کنڈیشن بگڑتی جا رہی ہے ” اس بات نے یسرا کی کی ساری سوچوں کو ختم کیا تھا وہ سامنے کھڑے ڈاریکٹر سے بولی

” سر مجھے آپ کی ہر شرط ہر بات منظور ہے آپ پلیز میری والدہ کے آپریشن کی فیس پے کر دیں ” یسرا کی بات سن کر اس ڈاریکٹر نے اپنا کریڈٹ کارڈ نکالا اور فیس پے کی

” آپ کا بہت بہت شکریہ سر میں آپ کا احسان کبھی نہیں بھولوں گی ” یسرا نے مشکور ہوتے ہوئے کہا

” مس یسرا میں نے آپ کے ساتھ ڈیل کی ہے احسان نہیں کیا

آپ کو میرے ساتھ چلنا ہو گا ابھی اور اسی وقت ؟ اس ڈاریکٹر کی بات پر وہ کچھ متذبذب سی ہوئی تھی

” سر میری والدہ اس وقت آپریشن تھیٹر میں ہیں ۔۔۔ میں انہیں چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں آپ میرا اعتبار کریں میں ایک دو دن میں آپ کے پاس ۔۔۔” اس نے فورا سے یسرا کو ٹوک دیا

” اوہ نو مس یسرا ۔۔۔ آپ ابھی میرے ساتھ جائیں گئ ورنہ میرے پیسے واپس کریں آپ کی والدہ میرا مسلہ نہیں ہیں ۔۔ ” اس شخص کی بے حسی دیکھ کر یسرا نے اپنے موبائل سے اپنی بہن کو کال کی اور کہا وہ ہاسپٹل پہنچ جائے وہ کہیں سے پیسوں کا انتظام کرنے جا رہی ہے ۔۔۔

یہ کہہ کر وہ اس ڈاریکٹر کے ساتھ چلی گئ ۔۔۔ جس کا نام اسد تھا ۔۔۔

وہ اسے ایک عالی شان ہوٹل میں لیکر گیا تھا جس کے ہال کے بیچوں بیچ ایک پانی کا فوارہ لگا ہواتھااور باتوں طرف دیواروں پر ہاتھ سے بنی ہینگنگ کے بڑے بڑے فریم لگے ہوئے تھے ایک طرف نرم گداز صوفے رکھے رکھے ہوئے تھے یسرا نے ایک طائرانہ نظر ڈال کر ہٹا لی تھی

اس کی تقلید میں پیلے وہ لفٹ میں گئ سکے بعد کوریڈور سے سے ہوتے ہوئے وہ ایک روم تک پہنچی تھی کمرے کے دروازے کے پاس جا کر اس کے قدم جم سے گئے تھے ۔۔۔

کمرے کا دروازہ اسد نے کھولا اور اندر داخل ہو گیا لیکن یسراوہیں دروازے پر کھڑی رہی ایک قدم کا فاصلہ تھا میڈیا کی زندگی میں۔ جانے کے لئے جو ایک اندھیر نگری تھی جہاں سب کچھ جھوٹ اور فریب تھا عزت کے سودا گر جگہ جگہ گھات لگائے بیٹھے تھے مجبوری کے ہاتھوں بکنے والیاں بھی اس دلدل میں پھنس کر نکل نہیں پاتی تھیں ۔۔۔

کاش کے جائز نوکریوں کی تنخواہیں اس قدر زیادہ ہوتی کہ ضروریات زندگی پوری ہو سکتی یا دولت مند لوگ اپنے دکھلاوئے کو چھوڑ کر ایسے گھروں کو سپورٹ کرتے جہاں کمانے والا کوئی مرد نہیں ہوتا

تو غریب کی بیٹی اپنی مجبوریوں کے لئے یوں اپنی عزت کا سودا نہیں کرتی نظر آتیں ۔۔۔ عورت کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے اسکی بے بسی اور مجبوری کیوں نہیں دیکھی جاتی ۔۔۔

” مس یسرا رک کیوں گئیں اندر تشریف لائیے ” اسد نے اسے وہیں کھڑے دیکھا تو بولا

یسرا کی سوچوں کاتسلسل ٹوٹا تھا اپنے قدم من من بھاری لگ رہے تھے ۔۔۔ جیسے پورے وجود پر اتنا وزن ہو کہ قدم اٹھانا محال ہو ۔۔ ایک نظر اس نے اسد پر ڈالی تھی اپنا آپ بکاو مال لگ رہا تھا ۔۔۔ جس کی قیمت ابھی ابھی پانچ لاکھ لگی تھی

پورے وجود میں جھرجھری سی آئی تھی

کیا کرنے جا رہی تھی زنا ؟ گناہ ؟ آنکھوں میں بھری نمی چھلک کر رخسار پر گری تھی وہ اندر داخل ہو گئ اسد نے دروزہ بند کیا اسے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا

” یہ روم اس ہوٹل میں میرے نام پر بارہ مہینے بک رہتا ہے ؟؟ اسد نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا تھا وہ خاموشی سے بیٹھی رہی پھر اسد نے کمرے کا اے سی آن کیا ۔۔۔ اسکے بعد کمرے میں موجود روم فریج کے پاس چلا گیا

” سوفٹ ڈرنک ؟ ” اس نے یسرا سے پوچھا اس نے نفی میں سر ہلا دیا اسد نے لاپروائی سے کندھے آچکا ہے اور سائیڈ پر رکھی شیشے کی ٹرالی سے ایک شیشے کا گلاس اٹھایا اور اس میں۔ شراب بھری اور فریج بند کر کے یسرا کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا سائیڈ ٹیبل سے ایک پیپر نکالا اور اس پر کچھ لکھنے لگا ساتھ ساتھ گھونٹ گھونٹ شراب بھی پیتا رہا یسرا ک دماغ س وقت اپنی والدہ کے آپریشن کی طرف لگا ہو تھا کہ وہ ٹھیک ہو جائیں اسکی والدہ کو کچھ نا ہو ۔۔۔ اسد نے وہ پیپر اور پین یسرا کی طرف بڑھا دیا

” سائن کریں مس یسرا ایک سال تک آپ صرف میرے لئے کام کریں گئیں میری ڈیمانڈ پر اور آپ کو میں لاکھوں میں تول دوں گا ” اسد کے چہرے کی خباثت کی طرف اس نے نہیں دیکھا اس وقت وہ مجبور تھی وعدہ کر چکی تھی اس لئے اس پیپر کو ایک نظر پڑھا جس پر یہی تحریر تھا کہ وہ اسد سے ایک سال کا کنٹریکٹ کر رہی ہے اس کے علاؤہ وہ کسی کے ساتھ کام نہیں کرے گی آنکھوں میں پھر سے نمی بھر آئی تھی اس نے وہ پیپر سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور آنکھیں بند کر کے اس پر سائن کر دیا اپنا آپ کسی اشاروں پر کسی کٹ پتلہ کی طرح ناچتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ایک غلامی کا احساس تھا

اسد نے اس سے وہ پیپر لے لیا اور اپنی الماری کے لوکر میں رکھ دیا اور اسکے پاس آ کر بیٹھ گیا

” اب دیکھوں میں تمہیں کیسے ایک سال میں اس میڈیا کی دنیا کا تابناک ستارہ بناتا ہوں ” وہ اب اس کے سر سے دوپٹہ اتار رہا تھا جن نظروں سے سے دیکھ رہا تھا یسرا کو خود سے گھن ا رہی تھی

“جتنی تم خوبصورت ہو یسرا تمہیں اپنی قیمت کا اندازہ ہی نہیں ہے ہیرے کی پرکھ تو جوہری ہی جانتا ہے اور تم تو ایک تراشہ ہوا ہیرا ہو بس کچھ گرومنگ کی ضرورت ہے ۔۔” اسد اس کے بالوں کی لڑ کو چہرے پر بکھرتے ہوئے بولا ۔۔ لیمپ کی روشنی بند ہوتے ہی یسرا کی قسمت کی لکیریں بھی بدل چکیں تھیں ۔۔۔۔

******…….

زکی کیش پیسے لیکر ہاسپٹل پہنچا تھا ۔۔۔لیکن سامنے یسرا کے بجائے اسکی بہن بیٹھی رو رہی تھی ۔۔ زکی سیدھا ریسپشن پر پہنچا تھا

“یسرا کی والدہ کے آپریشن کی فیس جمع کر لیں ” زکی کو یہی فکر تھی کہ پہلے اس کی والدہ کا آپریشن کو جائے جن کی خاطر وہ سجیلہ جیسی لڑکی کو بھی اپنے سر پر بیٹھانے کو تیار ہو گیا تھا ” انکی فیس پے جو چکی ہے اور انکی والدہ کا آپریشن ہو رہا ہے ” زکی کر حیرت سی ہوئی تھی اتنی جلدی یسرا کے لئے پیسے ارینج کرنا نا ممکن سی بات تھی وہ اسکی بہن کے پاس آ گیا وہ بھی زکی کو دیکھ کر کھڑی ہو گئ

” بھائی دعا کریں امی ٹھیک ہو جائیں “

” فکر مت کرو وہ ٹھیک ہو جائیں گئیں ۔۔ یسرا کہاں ہے ؟”

” آپی امی کے لئے پیسوں کا انتظام کرنے گئیں ہیں مجھے فون پر کہنے لگیں کہ میں ہاسپٹل آ جاؤں ” زکی نے اسکی بہن کی بات سن کر موبائل پر یسرا کو کال کرنا شروع کر دی فون کی بیل مسلسل بج رہی تھی لیکن فون اٹھا کوئی نہیں رہا تھا

زکی نے یسرا کی بہن کی طرف دیکھا

” گئ کہاں ہے یسرا ؟ “

” معلوم نہیں زکی بھائی جب میں ہاسپٹل پہنچی تھی تو آپی یہاں نہیں تھیں مجھے ابھی آئے ہوئے دس منٹ ہوئے تو آپ آ گئے “۔ زکی کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ جب فیس وہ بھر چکی تھی تو گئ کہاں تھی ۔۔ اور فون بھی نہیں اٹھا رہی اپنی والدہ کو یہاں اکیلے بے یارو مدد گار وہ کبھی چھوڑ جا نہیں سکتی تھی زکی یسرا کی عادت سے اتنا تو واقف تھا ہی ۔۔۔ ڈاکٹر کوآپریشن تھیٹر سے واپس آتے دیکھ کر زکی فورا سے انکے پاس گیا تھا

” آنٹی کیسی ہیں اب ؟”

” خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔ لیکن ابھی ہوش نہیں آیا

آپ یہ سب انجکشن لا دیں ” ڈاکٹر نے ایک اور پرچا زکی کے ہاتھ میں تھمایا تھا ۔۔۔ وہ تیزی سے میڈیکل کی طرف چلا گیا تھا فجر کی آذانیں ہو چکیں تھیں ۔۔۔ زکی یسرا کی بہن کے ساتھ ہی بیٹھا رہا جب یسرا کی کال اسکے بہن کے موبائل پر آئی تھی

” آپی ” یہ کہہ اس نے فورا سے فون کان پر لگا

” آپی آپ کہاں ہیں ” وہ برجستہ بولی

” مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ امی کی طعبیت کیسی ہے آپریشن کامیاب ہو گیا انکا ؟” یسرا کی آواز آنسوں سے لبریز تھی

” جی آپی امی اب خطرے سے باہر ہیں۔ آپ کہاں ہیں “

” میری بات کرواں یسرا سے ” زکی کے بے چینی عروج پر تھی وہ اسے کب سے مسلسل کال کر رہا تھا لیکن وہ اسکی کال نہیں اٹھا رہی تھی

” آپی یہ زکی بھائی سے بات کریں ” یسرا کی بہن نے موبائل زکی کو دے دیا جیسے ہی زکی نے فون کان پر لگا کال کٹ چکی تھی زکی یسرا کے رویے پر حیران اور متعجب تھا ۔۔۔ زکی نے فون اسکی بہن کو پڑا دیا

” کیا ہوا بھائی “

” شاید سنگل ایشو ہے ۔۔۔ ” کیا ہوا تھا یہ سوال اسکے اندر سے بار بار اٹھ رہا تھا ۔۔۔ کہاں تھی وہ ؟

اس سے بات کیوں نہیں کر رہی تھی اس وقت تو بلکل انجان اور بے بس تھا

******…….

ماں کی خبر سن کر یسرا کو اطمینان ہوا تھا بہت بڑی قربانی دی تھی اس نے اپنی ماں کی جان کی قیمت اپنی عزت سے چلائی تھی ۔۔ اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو شاید پچھتاوا زندگی بھر رہتا

” نا جانے کتنی ہی مجھ جیسی بیٹیوں نے ماں باپ کا حق ادا کرنے کے لئے اپنی عزتوں کی قربانیاں دی ہوں گئیں ۔۔ میری بے بسی اور مجبوری ہے کہ میرا بھی نام اس فہرست میں لکھا جا چکا ہے ۔۔ وہ صوفے پر بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی ۔۔۔ اسد سامنے بیڈ پر سو رہا تھا ۔۔۔

******……..

مہرونساء رات بہت دیر سے کمرے میں آئی تھی سرخ ساڑھی کھلے بال رونے سے سرخ اور متورم آنکھیں لئے وہ حازم کے سامنے گھٹنے کے بل بیٹھ گئ وہ بیڈ پر بیٹھا تھا آنکھیں اسکی نم اور سرخ تھیں ایک نظر حازم نے مہرونساء پر ڈال کر ہٹا لی تھی

” شرمینہ کو کیا کو تھا حازم ؟؟؟ ” اس بار مہرونساء کا لہجہ ٹوٹا ہوا سا تھا حازم نے کی پیشانی پر بل پڑنے لگے غصے سے اسے دیکھنے لگا

” تمہیں نہیں پتہ ؟ تمہیں تو اچھی طرح معلوم ہو گا کہ اسے کیا ہو تھا ۔۔۔ تمہارا ہی تو رچایا ہوا کھیل تھا ۔۔مہرونساء۔ ” پھر خود بھی زمین پر گھٹنوں کے مہرونساء کے مقابل کھڑا ہو گیا مہرونساء اسے اب بھی نا فہمی سے دیکھ رہی تھی

” نہیں نہیں مہرو جی بھلا آپ کو کیا معلوم ۔۔ آپ کے لئے تو ہر انسان آپکی کہانی کا ایک کردار ہے

جسے آپ جیسے چاہیں استعمال کریں اسکے جذبات کو اسکے احساسات کے ساتھ قلم کی مہارت طرح سے جیسے چاہیں کھیلیں ” حازم کا ہر لفظ کاٹ دار تھا ہر جمعلے پر حازم کی آنکھوں میں قہر سا بڑھنے لگا تھا مہرونساء بتدریج رو رہی تھی ۔۔پھر مہرو نساء کے بال زورسے پکڑ کر بولا

شرمینہ کے لئے تمہارے آج جو آنسوں نکل رہے ہیں مہرو نساء وہ صرف اس لئے نکل رہے ہیں کہ آج تم خود وہ اذیت سہہ رہی ہواس لئے تمہیں شرمینہ کا خیال آ رہا ہے ورنہ تمہاری بلا سے کوئی جیئے یا مر جائے تمہیں فرق نہیں پڑتا ” ایک ایک لفظ وہ چبا کر بول رہا تھا

کسی حد تک یہ بات سچ بھی تھی جب سے شرمینہ کی آخری کال آئی تھی اس بعد بس دو تین بار ہی مہرو نے اسے کال کی تھی اس کا فون بند پا کر اسےدوبارہ شرمینہ کا خیال تک نہیں آیا تھا وہ مہرو کے لئے صرف ایک پرستار تھی جو اسے ملی اور چلی گئ ۔۔۔ لیکن مہرونساء اس کے لئے کیا تھی یہ وہ اب جان رہی تھی ۔۔۔ حازم نے اس کے بالوں کو جھکا دے کر چھوڑا

” جانتی کتنی نفرت کرتا ہوں میں تم سے ؟؟؟ میرا بس چلے نا مہرونساء تو میں سب سے پہلے تمہارے ہاتھ کاٹ دوں تم سے لکھنے کی صلاحیت کو صلب کر دوں تمہیں ایسی اذیت ناک موت دوں کہ ۔۔۔۔۔” باقی کے لفظ وہ منہ دبا گیا اسے یوں دیکھ رہا تھا کہ آنکھوں سے ہی اسکی سانسیں چھین لے گا

” تم نے صرف شرمینہ کو ہی نہیں مارا اس سے جڑے ہر رشتے کو مار ڈالا ہے ۔۔ چلو میرے ساتھ ” مہرونساء کا بازو سختی سے پکڑے وہ اسے اس کمرے میں لے گیا جہاں اسے ایک عورت کی چیخنے کی آوازیں آ رہیں تھیں کمرے کو چابی سے کھول کر اس نے تیزی سے اسے اندر لے جا کر دھکے سے کسی کے پاؤں کے پاس پھنکا تھا

وہ خاتون سو رہیں تھیں جھٹ سے اٹھ بیٹھی

اپنے پاؤں کے پاس کسی لڑکی کو لال ساڑھی میں دیکھ کر مسکرانے لگیں بکھرے اجڑے کالے سفید بال سفید لباس نحیف سا وجود پیلی رنگت میں وہ عورت اپنی عمر سے کئ زیادہ بڑی لگ رہی تھی

” میری شرمینہ واپس گئ مجھے پتہ تھا وہ لوٹ آئے گی ۔۔ حازم میں نے کہا تھا نا تم سے کہیں چھپ گئ ہو گئ اسے چھپن چھپائی کھیلنے کا بچپن سے شوق ہے ۔۔ تم یونہی پریشان ہو رہے تھے کہ وہ۔ مر گئ ہے کیسے مر سکتی ہے وہ حازم ؟ اسکی کوئی مرنے کی عمر تھوڑی تھی وہ ابھی بارویں میں پڑھتی ہے مرچکیسے سکتی ہے ۔۔۔۔ابھی تو اس نے جی بھر کر جینا ہے تم سے شادی کے بعد اٹلی جانا۔وہاں جا کر اپنی تعلیم جاری رکھنی ہے تمہارے ساتھ زندگی گزارنی ہے ۔۔۔یہ رہی میری شرمینہ ۔” وہ مہرو کو شرمینہ سمجھ رہیں تھیں مہرونساء اس خاتون کو دیکھ کر سمجھ گئ تھی کہ وہ خاتون شرمینہ ہی والدہ ہیں وہ مہرو کی ساڑی دیکھ کر خوشی سے چہک کر بولیں

“دیکھوں یہ ساڑھی

میں نے اپنی شرمینہ کے لئے ہی خریدتی تھی” مہرونساء انہیں دیکھ کر پریشان ہوئی تھی وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لیے اسے بڑی فرحت محبت سے دیکھ رہیں تھیں

” حازم دیکھوں تو شادی کے بعد کیسا روپ چڑھا ہے میری شرمینہ کو ۔”۔۔ پھر وہ مہرونساء کی آنکھوں میں دیکھنے لگیں جہاں سے آنسوں بہہ رہے تھے

” تم رو رہی شرمینہ میری جان ۔۔ میری بچی کیوں رو رہی ہو تم ۔۔۔ ” وہ پریشان سی ہو کر حازم کی طرف دیکھ کر بولیں ۔

” حازم تم نے ڈانٹا ہے میری بچی کو ؟ مہرونساء کووہ خاتون ذہنی طور پر ٹھیک نہیں لگ رہیں تھی۔

” پھپو یہ آپ کی شرمینہ نہیں ہے ۔۔۔ یہ قاتلہ ہے اسکی ۔۔۔ اس نے مارا ہے آپکی شرمینہ کو ۔۔۔ “

حازم ان کے قریب ہو کر بولا مہرونساء کو غصے سے دیکھ رہا تھا

مگر وہ مہرونساء کو پھر غور سے دیکھنے لگیں ۔۔۔ پھر حازم کی طرف دیکھنے لگیں ۔۔

” جھوٹ بول رہے ہو تم یہ میری شرمینہ ہے میری بچی ہے یہ “۔ نا جانے کیوں انہوں مہرونساء کو دونوں سے پکڑ کر اپنے سینے لگا لیا ۔۔۔ اسے اپنے ساتھ بیچ لیا

” یہ میری بچی ہے حازم میری شرمینہ ہے ۔۔۔ میں اپنی بچی کی خوشبوں سے اسے پہچان سکتی ہوں

یہ میری شرمینہ ہے ” مہرونساء کو سینے سے لگائے وہ کبھی اسکے گال چوم رہیں تھیں کبھی بے تابانہ اس کے ہاتھ پکڑ کر چوم رہیں تھیں

حازم کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔ مہرونساء اب بھی انجان تھی لیکن انہیں دیکھ کر دل تڑپ سا گیا تھا تھا ۔۔۔ شرمینہ کے بارے میں جب سوچتی دل کٹنے لگا تھا ۔۔۔۔

“مجھے بتاؤں شرمینہ کہاں چلی گئ تھی تم ؟۔۔۔ کیوں چلی گئ تھی میری بچی ؟ تمہیں پتہ تمہارے بابا تمہاری گم شدگی کو تمہارے بابا نے تمہاری موت سمجھ لیا ۔۔۔ انکے دل میں ایسا درد اٹھا کہ وہ گر گئے ایسے گرے کے پھر کبھی نہیں اٹھے تمہارا غم ان سے برداشت نہیں ہوا وہ دنیاسے ہی چلے گئے ۔۔۔ ” یہ سن کر مہرونساء پتھر کی ہو گئ تھی ۔۔۔ کیا کچھ برباد ہو چکا تھا اس معصوم سی لڑکی کا میں ایسا کیا کر دیا تھا اس کے ساتھ ایسا بھی کیا ہو گیا تھا مجھ سے ۔۔۔ اپنے جرم سے وہ نا واقف تھی لیکن شرمینہ کی تباہ کاریوں پر سسک پڑی تھی ۔۔۔۔ اسکی بے اختیار سے اٹھنے والی سسکیوں کو سن کر وہ خاتون اسے پر سے سینے سے لگانے لگیں ۔

” نا میری بچی رونا نہیں ہے تم نے ۔۔۔ مجھ سے تیرے آنسوں نہیں دیکھے جاتے “

مہرونساء کو اپنا آپ مجرم س لگنے لگا تھا ۔۔۔ جو کچھ بھی ہو رہا تھا اس کے۔ لئے نا قابل فراموش تھا ۔۔۔۔۔ اس وقت اس سے آنسوں اس کے اختیار سے باہر تھے وہ تڑپ تڑپ کے رو روہی تھی ۔۔۔

******……

رات کو دس بجے موبائل کی بیل بجی رہی تھی۔ مہرونساء نے فون اٹھایا تو ان نون نمبر تھا اس نے فون آن کیا اور کام پر لگا لیا

” جی کون”

” مہرو جی میں شرمینہ آپ سے ریسٹورنٹ میں ملی تھی “

” اوہ ہاں یاد ا گیا کیسی ہو بھئ ۔۔ ” جی میں تمڑھءک ہوں آپ کیسی ہیں اپیسوڈ لکھ لی آپ نے “

” نہیں رات کو کمپلیٹ کروں گی “

” مہرو جی پلیز شرمینہ پر اتنا ظلم مت دیکھائیں جب احتشام اسے مارتا ہے تو درد مجھے ہوتا ہے

جب وہ شرمینہ کو بارش میں باہر کھڑا کرتا ہے تو اور سردی سے کانپنے لگتی ہے تو جھرجھری میرے وجود میں ہونے لگتی ہے جب وہ روتی ہے تو سسکیاں لیتی ہے تو میرے آنسوں سے میرا اختیار ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔ میں رونے لگتیں ہوں

جھے بہت رونا آتا ہے شوہر ایسے سنگ دل بھی نہیں ہوتے ” شرمینہ کی بات سن کر مہرونساء نے اپنی ہنسی دبائی تھی پہلی نظر میں ہو سمجھ گئ تھی کہ یہ کم عمر سی لڑکی بیوقوف ہے بلا ارادہ ہی مہرونساء نے اس سے کہا

” تمہیں کیا پتہ کہ شوہر کیسے ہوتے ہیں ۔۔۔ ؟ تمہاری کون سی شادی ہوئی ہے ۔۔ کمرہ بند ہوتے ہی بیوی شوہر کی کیسی کیسی اذیتوں کو سہتی ہے جان جاؤں تو توبہ کر لو شادی سے ۔۔۔ سب مرد احتشام جیسے ہی ہوتے ہیں پگلی ۔۔۔ اچھا شرمینہ جانی مجھے ابھی اپیسوڈ لکھنی ہے میں تم سے بعد میں بات کروں گی “۔ مہرونساء نے تو یونہی بات کر کے فون بند کر دیا تھا لیکن شرمینہ کو یہ سب سن کر اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

” کیا مرد ایسے ہوتے ہیں ؟ احتشام جیسے ۔۔۔ کیا حازم بھی ؟؟؟ ” دل کی دھڑکنیں پہلی بار حازم کے نام پر خوف سے تیز رفتار دھڑکنیں تھیں