Meri Jaan by Umme Hani NovelR50416 Meri Jaan Episode 2
Rate this Novel
Meri Jaan Episode 2
Meri Jaan by Umme Hani
زکی اپنے والدین کاسب سے چھوٹا بیٹا تھا ۔۔۔۔ بڑے بہن بھائی سب شادی شدہ تھے اور بیرون ملک مقیم تھے ۔۔۔۔ والد بھی۔ ڈاریکشن کی لائن میں ایک نام اور مقام بنا چکے تھے ۔۔۔۔ لیکن دونوں باپ بیٹے کے نظریات میں اختلاف تھا ۔۔۔۔
باپ آجکل کے دور میں جینے کا عادی تھا ۔۔۔۔دو اور دو پانچ بنانے کے فن سے بخوبی واقف تھا اور زکی نے دادا کی سادہ سی صحبت پائی تھی ۔۔۔۔ دادا پاکستان آذاد ہونے سے پہلے فلموں کے ڈاریکٹر کے ساتھ ہوتے تھے ۔۔۔۔ اپنا ایک دفتر بھی بنایا تھا ۔۔۔۔لیکن رومانوی فلموں کے بجائے دل ہمیشہ معیاری فلموں کی طرف ہی مائل ہوتا تھا ۔۔۔۔ جس فلم میں مثبت پیغام عوام کو مل سکے جب پاکستان اور ہمسائے ملک کی آزادی کی جنگ چھڑی تو انہوں نے ایسے ڈرامے بنانے کو ترجعی دی جس نے مسلمانوں کے حوصلوں کو اس کڑے وقت میں پسپا نہیں ہونے دیا تھا ۔۔۔۔ وہی خون زکی کی رگوں میں دوڑ رہا تھا۔۔۔ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا لئے دادا جی کے آخری وقت میں وہی انکی خدمت کے لئے ان کے پاس موجود رہتا تھا ان کے چھوٹے موٹے کام کر دیتا تھا اس لئے انکی باتوں سے اسکی تربیت میں جو نکھار پیدا ہو چکا تھا دل میں جو ملک اور قوم کے لئے جذبات بھر چکے تھے ۔۔۔۔ وہ اسکی شخصیت میں نظر آتے تھے ۔۔۔۔۔
دادا سے پاکستان کی آزادی کے المناک واقعات زکی روز سنتا تھا کم عمری میں بھی بہت کچھ جان چکا تھا ۔۔۔۔
اب وقت بدل چکا تھا۔۔۔ دور بے شک ماڈرن ہو چکا تھا ۔۔۔۔ لیکن زکی نے باپ کے بجائے دادا کی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھا تھا اس لئے انہی کی سوچ کو عملی جامہ پہننا اسکا مقصد زندگی بن چکا تھا ۔۔۔ باقی کے بھائیوں نے بیرون ملک میں نوکروں کو ترجعی تھی ۔۔۔۔ نیاز صاحب (زکی کے والد ) کو زکی سے بڑی امیدیں وابسطہ تھیں انہوں بہت چاہا کہ زکی بیرونے ملک سے ڈارکشن کی ڈگری حاصل کرے وہاں کے انسٹوٹ سے سیکھے لیکن حب الوطنی کا یہ عالم تھا کہ زکی نے پاکستان سے باہر قدم تک نہیں رکھا تھا ۔۔۔۔ باپ بیٹے کی روز مرہ کی اشی بحث کا یہ نتجہ نکلا تھا کہ زکی نے اپنا بوریہ بستر باندھا اور لاہور سے کراچی چلا گیا ۔۔۔۔
باپ کے نام کی جھوٹی شہرت کی اسے ضرورت نہیں تھی اپنے بل بوتے پر کرنے کی ٹھان کر گھر سے نکلا تھا ۔۔۔۔ ایک چھوٹا دو کمروں پر مشتمل اپارٹمنٹ اس نے۔ کرایے پر لیا تھا ۔۔۔۔۔
دو ڈرامے کی پروڈکشن بھی کی تھی ۔۔۔ لیکن چونکہ کے حب الوطنی پر تھے ۔۔۔ اس لئے وہ شہرت نہیں پاسکے جو ایک روڈ ہیرو کے ڈرامے کو مل رہی تھی ۔۔۔۔ آجکل اسے ایک ایسے رائٹر کی تلاش تھی
جو اسی سوچ کو اپنے خوبصورت رنگوں سے بھرنا جانتا ہو ۔۔۔ ارمان سے اسکی دوستی لاہور کے ہوسٹل میں ہوئی تھی ارمان اسی کا روم میٹ تھا ۔۔۔۔ حالانکہ دو سال بعد انکی راہیں الگ ہو چکیں۔ تھیں ۔۔۔ کیونکہ ارمان کی رہائش کراچی میں تھی ۔۔۔۔ لاہور میں اس کے انکل کی فارم تھی اسی سےاس نے کام کی شروعات کی تھی ۔۔۔۔ تجربہ کے ساتھ ساتھ تنخواہ بھی معقول تھی اس لئے دو سال انکل کے گھر کے بجائے ہوسٹل کو ترجعی دی تھی ۔۔۔۔ زکی والد کے غصے سے حراساں رہتا تھا اس کا خیال تھا میری شکل دیکھتے ہی نیاز صاحب کا پارہ ہائی ہو جاتا ہے بہتر ہے ہوسٹل میں رہا جائے ۔۔۔۔۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب والد سے جھگڑے بڑھنے لگے تو کراچی پہنچتے ہی ارمان کا خیال آیا تھا ۔۔۔۔
ارمان سے بہت ذیادہ ملاقاتیں تو نہیں ہوئی تھیں لیکن بے تکلفی سے کئ بار اسکے گھر آنا جانا بہرحال رہتا تھا ۔۔۔۔۔
اس بار بھی ۔۔۔۔ ارمان جب اسے اپنی شادی کا کارڈ دینے آیا تو زکی نے اس سے اپنی پریشانی سے مطلع کیا تھا ۔۔۔۔
” یار بہت بڑی بڑی رائیٹر جو کل تک ڈائجسٹ کے لئے چند ہزار کے لئے لکھتی۔ تھیں آج ڈرامہ رائٹر بنی ہوئی ہیں اور لوگ انکے ڈراموں کو پزیرائی بھی دے رہے ہیں ۔۔۔ تم ان سے رابطہ کیوں نہیں کرتے ” ارمان نے صوفے پر بیٹھے سوفٹ ڈرنک کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرتے ہوئے کہا
” یار وہ سب بڑے اور مشہور چینل کے لئے لکھتی ہیں ۔۔۔ انہیں سے انکی سالوں کی کمٹمنٹ ہوتی ہے ۔۔۔۔ ہم جیسے معمولی ڈاریکٹر انکی ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکتا ” زکی نے اسکی شادی کارڈ کھولتے ہوئے کہا ۔۔۔ یہ سرسری سی نظر کارڈ کو دیکھ کر واپس ٹیبل پر رکھ دیا
” ہمم ہار میری کزن ہے تو جو ڈائجسٹ کے لئے لکھتی ہے ۔۔۔ می۔ نے آج تک کبھی اس کے ناول پڑھا نہیں ہے کیونکہ ۔۔۔ میرے خیال سے یہ پور خواتین کا کام ہے ۔۔۔۔ لیکن کافی۔ مشہور سی ہے ۔۔۔۔ میری شادی پر موجود گی ۔۔۔ مہ۔ تمہاری ملاقات کروا دوں گا ۔۔۔۔ شاید تمہاری بات بن جائے” ارمان نے خالی گلاس ٹیبل پر رکھا
” چلو مل لیں گئے ان سے بھی ۔۔۔۔ ورنہ فراز صاحب تیسرے رائٹر ہیں جو اب تک میں بدل چکا ہوں ۔۔۔ ” زکی کو کوئی خاص امید نہیں تھی ۔۔۔۔
اور مہرو سے ملاقات بس اس حد ہی اچھی لگی کہ وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔۔۔۔
******…….
موسم آج بہت خوشگوار تھا شرمینہ اس لئے آج باہر لان میں بیٹھی ہوئی تھی ہاتھ اپنی ڈائری پکڑے کچھ لکھ رہی تھی ۔۔۔ بہن کوئی تھی نہیں جس سے دل کی باتیں کرتی دوستوں سے اتنی بے تکلف نہیں تھی اس لئے ایک ڈائری تھی جس میں اپنے جذبات اور احساسات کا کھل کر اظہار کرتی تھی ۔۔۔۔۔ اچھی پہلے باتھ لیکر آئی تھی اس لئے گیلے بالوں کو آذاد چھوڑ رکھا تھا ۔۔۔۔ گھٹنوں پر ڈائری آف رکھے وہ اس پاس سے بلکل بے خبر تھی ۔۔۔۔ ہلکے فروزی رنگ کے کاٹن کے سوٹ میں ہم رنگ ڈوپٹہ گلے میں بے نیازی سے لئے ہوئے وہ خود میں مگن تھی ۔۔۔۔۔ باہر کی ڈور بیل پر دروازہ چوکیدار نے کھولا تھا ۔۔۔
باہر حازم نے ہائر کی ہوئی ائیر پورٹ کی گاڑی سے سامان اتارنے کے لئے چوکیدار کو حکم دیا تھا ۔۔۔ اس کی اچانک سے آمد پر چوکیدار نے بھی حیرت ک اظہار کیا تھا ۔۔۔۔ لیکن ملازم مالک سے سوال کا حق نہیں رکھتے اس لئے حکم بجا لاتے ہوئے وہ باہر نکل گیا ۔۔۔۔ حازم کہ پہلی خواہش گھر میں داخل ہوتے ہی پوری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ نظروں نے سب سے پہلے اپنے محبوب کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کیں تھیں ۔۔۔۔ خود سے بے نیاز وہ کچھ لکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔ ہوا کے دوش پر اڑتے بال گوری رنگت پر ہلکے فروزی رنگ کا جوڑا بھی جچ رہا تھا غلافی آنکھوں پر دروازے پلکوں کا پہرہ دل میں ہلچل سا مچا گیا تھا باقی کا چین رخسار پر پڑے ڈمپل نے چھینا تھا ۔۔۔۔ تین سال اسے نا دیکھنے کی شکایت گویا لمحہ بھر دیکھنے پر دور ہوئی تھی ۔۔۔۔ تین سالوں نے اس کے رنگ روپ کو خوب نکھار دیا تھا ۔۔۔۔ اندر کے استحقاق نے انگڑائی لی تھی ۔۔۔۔ منہ زور جذبوں نے قدموں کو اسکی جانب بڑھایا تھا ۔۔۔۔ وہ کچھ لکھتے ہوئے بڑی فریب مسکان چہرے پر سجائے ہوئے بیٹھی۔ کسی مصور کا حسین شاہکار لگ رہی تھی ۔۔۔۔ وہ اس کے سامنے کھڑا ہو گیا
۔۔۔۔ شرمینہ کی نظریں ڈائری سے ہٹ کر سب سے پہلے کالے شوز پر پڑی تھی وہیں سے۔ نظروں کے سفر شروع کو کر اوپر چہرے تک پہنچا تھا اور پھر نظریں پلٹنا بھول گئیں تھیں ۔۔۔۔ حازم کو یوں اچانک سے سامنے دیکھ کر کنگ سی رہ گئ تھی ۔۔۔۔۔
” اسلام علیکم کیسی ہو ” حازم سے ہونق بنے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔ اس کا روپ دیکھنے کے لئے تو یوں اچانک بنا اطلاع کے آیا تھا
اگر شرمینہ اسکی محبت میں مبتلہ ہوتی تو پہلا خیال یہی آتا کہ شاید وہ خواب دیکھ رہی ہے ۔۔۔ لیکن ایسا بھی کچھ نہیں تھا سب سے پہلے شرمینہ کے ڈائری بند کی ۔۔۔۔۔ پھر کھڑی ہو گئ حازم کی نظروں سے سٹپٹائی تھی پھر جھٹ سے ڈوپٹہ سر پر رکھنے لگی ۔۔۔
” آپ ہوں اچانک سے ۔۔۔۔ ” وہ بوکھلائی سی بولی
“۔ کیوں مجھے بنا اطلاع کے آنا منع ہے ” وہ اب اسکی ہچکچاہٹ سے محفوظ ہو رہا تھا ۔۔۔ وہ نفی میں سر ہلانے لگی
” نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔ میں امی کو بتاتی ہوں کہ حازم بھائی آئے ہیں ” شرمینہ نے راہ فرار چاہی تھی لیکن جلدی میں بول غلط گئ تھی ۔۔۔ حازم نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا تھا۔ شرمینہ کی نگاہ حازم کی طرف اٹھی لیکن اسکی دلچسپی سے اٹھتی ہوئی ہوئی پر شوق نگاہ نے شرمینہ کو نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا تھا
اس سے پہلے کے وہ لانج کیطرف جاتی حازم نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا
” تین سال سے تم میری منکوحہ ہو ۔۔۔۔ ایسی غلطی کی گنجائش تو ہونی نہیں چاہیے ۔۔۔” حازم سے شرمینہ پہلے ہی بہت گھبراتی تھی ۔۔۔ اس پر اچانک سے وہ سامنے آ گیا تھا یہی بات شرمینہ کے لئے نا قابل فہم سی تھی اور اس پر اب یہ حق جمانا ۔۔۔
“ایم سوری “شرمینہ نے فورا سے معذرت خواہ انداز سے کہا
چوکیدار حازم کاسامان اندر لے آیا تھا حازم نے شرمینہ کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔ وہ اندر کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔ رفعت بیگم نے بیٹی کو یوں بد حواس دیکھا تو گھبرا گئیں وہ بھاگتی ہوئی سیدھا انہیں سے ٹکرائی تھی۔۔
” امی وہ ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ آئے ہیں ” شرمینہ کو یوں گھبرایا ہوا دیکھ کر شرمینہ کے منہ سے لفظ نہیں نکل رہے تھے ۔۔۔۔ انگلی کا اشارہ لاونج کے بیرونی دروازے کی طرف تھا ۔۔۔۔
” ایسا کون آ گیا جو تمہارا رنگ پیلا پڑ گیا ہے ۔۔۔۔ ” رفعت بیگم کا جمعلہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا جب سامنے سے حازم مسکراتے ہوا داخل ہوا تھا ۔۔۔رفعت بیگم بے یقینی سے مسکراتی ہوئیں شرمینہ کو چھوڑ کر اسکی طرف بڑھیں تھیں ۔
” یوں اچانک سے حازم ” رفعت بیگم بھی حیران رہ گئیں تھیں
شرمینہ اوپر کا زینہ چڑھ گئ تھی سیدھا رخ اپنے کمرے کی جانب تھا ۔۔۔۔
رفعت بیگم نے فرحت محبت سے بھتجے کو سینے سے لگایا تھا تین سال اور بھی ہینڈسم ہو گیا تھا
پھر اس کا ماتھا چوما
” کیسی ہیں پھپو “
” تم لوگوں کے بنا بہت اداس ۔۔۔ شائستہ بھابھی کو بھی ساتھ لے آنا تھا ” اسے اپنے ساتھ لئے صوفے پر لے آئیں
” مجھے آفس سے آف ملا تھا وہ بھی دو ماہ کا ۔۔۔۔ سب دوستوں کا والڈ ٹور کا پروگرام تھا لیکن میں نے منع کر دیا کیوں مجھے اپنی چھٹیاں اپنی پیاری سی پھپو کے ساتھ گزارنی تھیں ” اپنی بانہیں۔ حازم نے اس کے گلے میں ڈال کر لاڈ دیکھاتے ہوئے کہاتھا حازم کو بھی پھپو سے بے پناہ پیار تھا ۔۔۔اسر رفعت کی جان بستی تھی بھتجے میں ۔
” اچھا کیا کہ تم آ گئے ۔۔۔۔ میرا بھی دل لگا رہے گا “
” آپ کیاسمجھتی ہیں میں یہاں آپ کے ساتھ اس گھر میں رہنے آیا ہوں ؟ ہر گز نہیں۔ ہم لوگ کچھ دنوں میں اسلام آباد اور مری جا رہے ہیں ۔۔۔۔ اسکے بعد ایبٹ آباد ساری چھٹیاں وہیں گزاریں گئے” حا،م نے اپنا اگلہ لائحہ عمل بتایا
” تمہارے انکل تو کبھی بھی نہیں مانے گئے ۔۔۔”
” انکل کا وہاں کام بھی۔ ہیں ہے ایسی جگہوں پر زندہ دل اور جوان لوگ ہی جاتے اچھے لگتے ہیں انکل جیسے سنجیدہ مزاج کے لوگ تو بور ہی کرتے جہاں بھی چلیں جائیں ” رفعت بیگم نے پیار سے ایک چت اس کی کمر پر لگائی تھی ۔۔۔
” باز آ جاوں تم ۔۔۔۔۔” انہوں نے پیار بھری سرزش کی تھی
” پھپو وہ شرمینہ نظر نہیں آ رہی ۔۔۔۔ ” حالانکہ اس سے مل چکادل دل کو کہاں وہ زرا سی ملاقات سے تشنگی ہوئی تھی
” تمہیں دیکھتے بد حواس ہو کر اوپر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ یہ لڑکی بھی نا ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں تم سے اتنا گھبراتی ہے ۔۔۔۔ “
” حالانکہ اچھا خاصا ہینڈسم ہوں میں ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی آپ کی۔ بیٹی مجھے دیکھ کر یوں بھاگتی ہے جیسے کسی مونسٹر کو دیکھ لیا ہو ۔۔۔ ہے کہاں وہ ۔۔۔۔ اس بار اسے۔ بھی اپنے ساتھ سیاحت پر لیکر جائیں گئے تا کہ محترمہ کا کچھ خوف تو کم ہو ۔۔۔۔ “
” وہ کہاں جائے گی ۔۔۔۔ میڈیکل کی اسڈی ہی اتنی ڈف ہے ابھی ابھی تو تیسراسال شروع ہوا تھا” رفعت بیگم کی بات پر وہ چپ سا ہو گیا
” پھپو اگلے مہنے مماڈیڈ بھی پہنچ رہے ہیں یہاں اور اس بار بہت خاص مقصد کے لئے آ رہے ہیں ۔۔۔۔ وہ ڈیڈ آپ کو فون پر بتا دیں گئے ۔۔۔ فی الحال تو مجھے میرا کمرہ بتائیں کونسا ہے ۔۔۔۔ اتنی۔ لمبی فائٹر لیکر آیا ہوں کچھ گھنٹے تو صرف ریسٹ کروں گا “,حازم کی ادھورہ بات پر رفعت بیگم کچھ متذبذب سی ہوئیں تھیں ۔۔۔ لیکن کچھ کہا نہیں
” ہاں میں منور سے کہہ کر کمرہ سیٹ کروا دیتی ہوں ۔۔۔ تم ریسٹ کرو رات ڈنر تک کافی فریش ہو جاؤں گئے ۔۔۔ ” رفعت بیگم نے ملازم سے کہہ کر اوپر کا گیسٹ روم سیٹ کروا دیا تھا ۔۔۔۔
*******………
شادی کے باقی کے فنگشن میں مہرونساء کو اپنا آپ کسی کی نظروں کے حصار میں مقید محسوس ہوتا رہا ۔۔۔۔۔ لیکن ڈھونڈنے پر بھی وہ آنکھیں وہ ڈھونڈ نہیں پائی تھیں جو اسے کہیں نظر نہیں آ رہیں تھیں لیکن وہ کسی کی لپکتی ہوئی بے تاب نظروں سے بے۔ چین سی ہوئی تھی ۔۔۔۔ کون تھا جو یوں بے باکی کا مظاہرہ دیکھارہا تھا ۔۔۔۔ کسی کی جنون خیزی کی شدت بھری نظریں تھیں جو اسے اپنے وجود میں پیوست ہوتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں
ولیمے کا فنکشن میں مہرونساء نے بے دلی سے گزارا تھا گھر پہنچ کر سب سے پہلے اپنے لباس کو تبدیل کیا تھا ۔۔۔۔۔ بیڈ پر لیٹ کر یہ سوچنے لگی کہ کون تھا کس کی۔ بے لگام نظروں نے اسے بے تاب سا کرنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔
دو تین دن کے بعد ارمان نے ہی اسے یاد دلایا کہ اسے زکی سے ملنے جاناہے زکی کے کارڈ سے وہ آفس کا ایڈریس دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔ صبح نو بجے وہ اس کے آفس پہنچ گئ تھی ۔۔۔ کافی پرانے طرز کی عمارت تھی اسکی خستہ حالت دیکھ کر پہلا گمان یہی ہوا کہ پاکستان سے پہلے کی تعمیر شدہ عمارتوں میں سے نمونے کے طور پر بچی ہوئی وہ ایک عمارت وہ بھی ہے ۔۔۔ بیرون دیواروں کی رنگت تک آڑی ہوئی تھی اپنی گاڑی سے اتر کر مہرونساء نے اپنے پرس سے کارڈ نکال کر دوبارہ سے بلڈنگ کو غور سے دیکھا ۔۔۔۔ کہ شاید مغالطہ نا لگا ہو ۔۔۔۔ ڈاریکٹرز کے تو ٹھاٹ ہی الگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن پھر سوچا شاید عمارت باہر سے خستہ حال ہے شاید اندر کا آفس اچھا ہو گا ۔۔۔۔ بلڈنگ کے اندر داخل ہوتے ہی سمیٹ کی پرانے طرز کی بنی سیڑیاں بنی ہوئی تھی ۔۔۔ رنگ روغن ادھر کا بھی آدھے سے زیادہ اترا ہوا تھا سامنے سیم زدہ چھتوں اور دیواروں سے ناگوار سی بو آ رہی تھی سامنے ایک لفٹ نما چیز بھی تھی ۔۔۔۔ لفٹ بھی شاید نوے کی دہائی کی آخری یاد گار تھی لفٹ کے دروازے کے نام پر لوہے کا جنگلا لگا ہوا تھا ۔۔۔۔ ایک بوڑھاسا شخص منہ میں پان لئے لفٹ کے اندر ایک اسٹول پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔
مہرو نساء لفٹ نما کمرے میں داخل ہو گئ لفٹ اس قابل ہی نہیں تھی اسے قابل استعمال سمجھا جائے
لفٹ کی دیوروں کے اطراف پان کی پیک کے نشانات رنگے ہوئے تھے اس شخص نے بھی پہلے دیوار پر پان کی کی پیک کی پچکاری ماری پھر پوچھنے لگا
” کس منزل پر جانا ہے آپ نے “
” جی سکینڈ فلور ” مہرو نے ناک چڑھا کر نا گواری سے جواب دیا ۔۔۔ لوہے کی گرل بند کر کے اس شخص نے تین بار دو کا بٹن پریس کیا لیکن لفٹ شاید آخری دموں کر تھی ۔۔۔۔ چلنے کا نام نہیں لے رہی تھی اس شخص نے پھر دیسی طریقہ آزماتے ہوئے مکا سارے بورڈ پر ہی دے مارا یک دم ہی لفٹ کے سارے نمبر کی لال بتیاں جل اٹھیں تھیں
” کم بخت جوتی کی زبان ہی سمجھتے ہیں “اس شخص نے غصے سے کہا اور جیب سے پھر سے پان کر پڑیا نکال کر منہ۔ میں لی تھی ۔۔۔۔ مہرو نے نا گواری سے چہرے کا رخ بدلہ تھا ۔۔۔۔ لفٹ بھی بڑی رینگتے ہوئے دوسری منزل پر پہنچی تھی ۔۔۔۔ مہرو باہر نکلی تو ایک لمبی راہداری تھی جس کے اطراف دائیں جانب ہی دروازوں پر نام کی تختیاں لگیں تھیں ۔۔۔۔
” اس لفٹ سے تو بہتر تھا میں سیڑیوں سے ہی اوپر آ جاتی ۔۔۔۔۔ ایک تختی پر زکی اشتیاق کانام پڑھ کر وہ اندر داخل ہو گئ ۔۔۔۔ لیکن اندر کا حلیہ بھی باہر سے مختلف نہیں تھا ۔۔۔ وہ اندر داخل ہوئی صرف ایک ہی کم عمر سی لڑکی رسپشنر کے طور پر کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ مناسب پرانے سے صوفے اس ہال نما چھوٹے سے لاونج میں رکھے تھے جس کے فرش کی بد حالی چھپانے کے لئے ریگزین بچھایا گیا تھا ۔۔۔ سامنے ہی لائن سے کرسیاں رکھیں تھیں۔ اور لکڑی کا چوکور سا میز رکھا ہوا تھا ۔۔۔ مہرو نے زبردستی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر
۔۔۔۔ ریسپشن پر اپنا نام بتایا ۔۔۔
“او کے میم آپ پلیز ویٹ کریں سر ابھی بزی ہیں ” رسپشن پر موجود لڑکی نے بھی مسکرا کر جواب دیا مہرو سامنے کرسی پر بیٹھ گی ۔۔۔ مناسب سا آفس تھا
یہاں تک کے لیونگ روم میں اے سی بھی موجود نہیں تھا ۔۔۔
” خاصا بد حال ٹائپ کا ڈائریکٹر لگتا ہے اور مہندی کے فنکشن پر یوں پوز کر رہا تھا جیسے پتہ کس لین لاڈ کی اولاد ہو ” نخوت سے مہرونساء نے سوچا اور سامنے سینٹرل ٹیبل پر رکھے میگزین میں سے ایک اٹھا کر بے توجہی سے وقت گزاری کے لئے دیکھنے لگی آدھء گھنٹے کے بجائے ایک گھنٹہ گزر گیا تھا لیکن مہرونساء کو اندر جانے کا پیغام موصول نہیں ہو تھا ۔۔۔۔
******……
” فراز صاحب اسے آپ کہانی کہتے ہیں ۔۔۔ ” زکی نے تاسف سے پوچھا تھا وہی کہانی جو ہر دوسرے ڈرامے میں دیکھائی جارہی تھی
” جی غالبا ہماری زبان میں تو اسے کہانی ہی کہا جاتا ہے ” وہ کچھ نا گواری سے بولے تھے ۔۔۔۔ بہت سی رومانوی کہانیوں کے پلاٹ وہ انہیں سنا چکے تھے ۔۔۔ لیکن زکی کو کوئی ایک بھی پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
” فراز صاحب میں اپنا آدھے سے۔ ذیادہ بھیجا آپ پر خرچ کر چکا ہوں لیکن نا جانے کیوں آپ میرے نظریے کو سمجھ نہیں پا رہے ۔۔۔۔۔ مجھے یہ افسانوی سی کہانی نہیں چاہیے۔۔۔۔ ہمارا ملک اپنے نجی مسال سے مالا مال ہے ۔۔۔۔ بہت سے ایسے پہلو ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جس پر حکومت طوطا چشمی کیے ہوئے ہے اور کچھ ایسی رسومات ہیں جو ہمہیں ہمسائے ملک کے ساتھ ایک عرصہ گزارنے پر تحفے کے طور پر ہمہیں ملیں ہیں ۔۔۔۔ اور افسوس کا مقام ہے کہ ہمارا میڈیا ایسی غیر شرعی اور غیر اسلامی رسومات کو پرمود کر رہا ہے ۔۔۔۔ ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اصل مقصد کی دھیجیاں بکھر کے رہ گئیں ہیں اور ہماری بے باکی کا یہ عالم ہے ہم دوسرے۔ ممالک کے اثر کو اپنا کر اپنی اسلامی تہزیب کو منوں مٹی تلے دبا چکے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے اس سوئی ہوئی عوام کو جگانا ہے
اقبال کے خواب کو پھر سے ہر پاکستانی عوام کی آنکھوں میں سجانا ہے ۔۔۔۔ مجھے ایسی کہانی چاہیے جو دیکھنے والی آنکھوں کے ہوش اڑا دے دل کو جذبہ ایمانی سے گرما دے ۔۔۔۔ سوئے ہوئے حب وطنی کے جذبات کو اجاگر کر دے ۔۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔۔ ہم نے یہ جذبات صرف پاک آرمی تک محدود کر دیے ہیں ۔۔۔۔۔ باقی ہمارا ہر محمکہ اس جذبات سے خالی ہے ۔۔۔ کیونکہ ہمارا میڈیا صرف ہمسائے ملک سے متاثر ہو کر انکی رسومات کو اپنے ڈراموں میں اپنا کر انکے کلچر کو پرمود کر رہا ہے اور اپنی ثقافت کا ہم کب کا جنازہ پڑھ چکے ہیں یہ ہے میرا مقصد ۔۔۔۔۔ لیکن آپ کو قلم کیسے اٹھانا ہے یہ شاید آپ سمجھ ہی نہیں پارہے ہیں ” زکی کی برداشت سے باہر ہو چکا تھا ۔۔۔۔ کب سے وہ فراز نامی نامور ڈرامہ نگار سے سر کھپائی کر رہا تھا
” محترم زکی صاحب آپ کو تو اللہ ہی سمجھ سکتا ہے نہیں ۔۔۔۔ انیس سو سینتالیس کی روح پرواز کر گئ ہے آپ میں ۔۔۔۔۔ ارے اب ایسے ڈرامے کون دیکھتا ہے یہ ڈرامے تو کب کے ماضی ہو چکے ہیں پی ڈی وی پر بھی اب نہیں چلتے ۔۔۔۔۔ لوگوں کا معیار اور پسند بدل چکی ہے ۔۔۔لوگ موڈرن ہو چکے ہیں ہم بھی وہیں لکھنے کے عادی ہو چکے ہیں جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔ یہ دور گلیمر کا ہے ۔۔۔۔ اسی کی بھاگ دوڑ میں ہر شخص آگے نکل رہا ہے ۔۔۔۔ میڈیا لوگوں کی فرمائش پر چلتا ہے ” فراز صاحب نے زکی کو موجودہ حقیقت سے روشناس کروانا چاہا
” ہر گز نہیں فراز صاحب ۔۔۔لوگوں کی آدھی سے زیادہ سوچ کا تعلق میڈیا سے وابسطہ ہے سب سے پہلے فیشن یہاں میڈیا پر منظر عام پر آتا ہے ۔۔۔۔ پھر ملک بھر میں پھیلتا ہے ۔۔۔۔ یہاں سے خواتین کے سر سے چادر کیا اتری عورت نے ڈوپٹہ لینا چھوڑ دیا ۔۔۔۔ جو ہمارے دین اور پاکستانی عورت کی اصل پہچان ہے ” فراز صاحب بھی غصے سے بپھرے ہوئے کھڑے ہو گئے تھے ۔۔۔
” آپ جیسے لوگ کبھی ترقی نہیں کر سکتے زکی صاحب ۔۔۔ دو سالوں میں بس دو ہی ڈرامے بنائیں ہیں آپ نے جو بری طرح سے فلاپ ہوئے ہیں ۔۔۔۔ آپ کے ساتھی ڈاریکٹرز اس وقت لاکھوں کھا کر ڈکار چکے ہیں ۔۔۔ اور آپ اس بد حال آفس میں بیٹھے ہیں جس عمارت کی تعمیر بھی پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے کی تعمیر شدہ ہے ۔۔۔ آپکے فرسودہ خیال کی طرح باسی ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن آپ نے اسے اپنی زینت اس لئے بنا رکھا ہے کہ یہ باپ کے دادا کی پہلی ڈرامہ پروڈکشن گاہ تھی ۔۔۔اس لئے آپ بھی یہی سے سفر شروع کریں گئے ۔۔۔۔۔
وہ دور کچھ اور تھا زکی صاحب اس لئے ان کے خیالات اور ملکی جذبات سے لبریز ڈراموں کو سراہا گیا۔۔۔ لیکن اب بات اور ہے
میرا ایک مخلصانہ مشورہ ہے آپ کو زکی صاحب میرے قلم پر ڈاریکشن شروع کریں سونا آپ کا چاندی میری ۔۔۔ورنہ
خود لکھنا شروع کر دیں ۔۔۔۔ کیونکہ آپ کی سوچ کو شاید ہی کوئی لفظ دے سکے ۔۔۔۔ میرا وقت برباد کر دیا آپ نے ” فراز صاحب غصے سے اٹھ کر باہر نکلے تھے ۔۔۔ زکی سر پکڑے بیٹھا گیا تھا ۔۔۔۔ دادا کے کام کو باپ نے تو خیر آباد کہہ دیا تھا لیکن پوتا اسی جگہ دادا کے ادھورے خواب کو پورا کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔ حب وطنی ۔۔۔۔۔ دینی تہزیب میں رہ کر اگر کرداروں کو قلم سے سینچنے کا ہنر جانتا ہوتا تو کیسے لوگ متوجہ نہیں ہونگے ۔۔۔۔ کیسے دل پر بات نہیں اترے گی جو کہ حق ہے ۔۔۔ کیا باطل اس وقت اتنا طاقتور ہو گیا ہے ۔۔۔۔ کہ حق کو جھٹلا سکے ۔۔۔زکی نے افسوس کاایک ہنگارا بھرا تھا
” اگر مجھے قلم چلانا آتا تو وہ لکھتا فراز کہ تم جیسوں کی چھٹی کر دیتا ۔۔۔۔ اقبال نے بھی تو اپنے قلم کا ہنر دیکھایا تھا ۔۔۔۔ ہر مسلمان کے خون کو گرمایا تھا
جب چھ ستمبر 1965 کو پاکستان اور بھارت کی افواج بارڈر پر مدمقابل تھیں تو پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان نے ملک بھر میں مورچے سنبھالے ہوئے تھے اور ملکۂ ترنم نور جہاں، نسیم بیگم اور مہدی حسن سمیت کئی گلوکاروں کے ملی نغموں نے نہ صرف فوجی جوانوں کا جوش بڑھایا بلکہ قوم کا حوصلہ بھی کم نہ ہونے دیا۔۔۔۔۔
پاکستانی ٹیلی وژن پر مجاہدین کے افسانے اور ڈرامے چلائے جاتے تھے۔ صرف پاک آرمی ہی نہیں ملک کا ہر جوان مجاہد تھا ۔۔۔۔ سینہ تانے کھڑا ہو جاتا تھا ۔۔۔لیکن ہائے افسوس کے وہ جذبے نیند کی نظر ہوگئے ۔۔۔۔۔
اور آج کے مصنف اور گائیک ایسے ہیں کہ اندر کے دبے بیہودہ جذبات کو اجاگر کرتے ہیں ۔۔۔۔ جھوٹی شہرت کے دلدادہ۔۔۔ ہنہ ” اپنا خون جلائے وہ فراز صاحب کی وجہ سے حراساں سا بیٹھا ہوا تھا ۔۔ جب شینا کی کال آئی تھی
” سر کوئی مس مہرو نساء آپ سے ملنا چاہتی ہیں ” زکی متعجب ہوا تھا
” مہرونساء ” زکی نے کچھ دیر یہ سوچتا رہا کہ کہ مہرونساء کون ہے ۔۔۔
” آپ چیک کریں کیا کوئی میٹنگ تھی میری ان سے ۔۔۔ مجھے اس نام کی خاتون بلکل یاد نہیں ہیں ” ذہن اس وقت فراز صاحب کی باتوں الجھا ہوا تھا ۔۔۔ مہرونساء سے کی جانے والی مختصر سی ملاقات ذہن سے محور سی ہو گئ تھی ۔۔۔ جو اس وقت ضرور یاد رہتی اگر اسکی کہانیاں زکی کے جذبات کی عکاسی کرتی نظر آتیں لیکن وہ ایک عام سے لکھاری تھی ۔۔۔۔ وہی شہرت کی دلدادہ جو اسے مل رہی تھی اسکے ناول کے چند صفحات پڑھ کر ہی زکی نے مہرونساء سے ملنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا ۔۔۔۔ بلکہ ملاقات ہی وقت کا ضائع کرنا لگ رہا تھا جب فراز جیسا تجربے کار مصنف اسکی سوچ کو پڑھ نہیں۔پا رہا تھا تو وہ لڑکی بلکل نا واقف سی تھی ۔۔۔۔
” نو سر ایسی کوئی میٹنگ اس نام کی خاتون سے میرے ریکارڈ میں نہیں ہے ۔۔۔ لیکن انکا کہنا ہے آپ نے انہیں بلایا ہے ” شینا کی بات پر بھی اسے مہرونساء یاد نہیں آئی تھی
” میں نے ؟ مجھے تو ایسا یاد نہیں اینی وئے بھیجو انہیں اندر ۔۔۔ ” زکی نے فون بند کیا کچھ ہی دیر جب مہرونساء اندر داخل ہوئی اسے دیکھتے ہی زکی کو پہلی ملاقات بھی یاد آ گئ ۔۔۔
” اوہ تو آپ تشریف لائیں ہیں ۔۔۔۔ آئیے تشریف رکھیے ” مہرونساء کو پہچان چکا تھا ارمان کی کزن کی حثیت سے اسے لہجہ قدے متوازن رکھا تھا اسے بیٹھنے کے لئے بھی کرسی کی جانب اشارہ کیا ۔۔۔ مہرونساء خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
مہرونساء نے ایک نظر اس آفس نما کمرے پر ڈالی
جون کا مہینہ تھا گرمی اپنے عروج پر تھی اور اس ڈاریکٹر نما چیز کے اپنے روم میں بھی اے سی موجود نہیں تھا ۔۔۔ ایک لکڑی کی شیلف تھی جس پر شیشے لگے ہوئے تھے اور اس کے اندر ادب سے منسلک بہت سے نامور شخصیات کی کتابیں تھیں
جیسے
احسان دانش ۔۔۔ ندیم قاسمی ۔۔۔
امجد سلام امجد ۔۔منٹو کے افسانے ۔۔۔
اور بھی ایسی معروف شخصیات کی کتب تھیں
جسے آج پڑھنے والے بہت کم ہیں
ایک طائرانہ سی نظر مہرو نے ان کتابوں پر ڈال کر ہٹا لی ۔۔۔ گر
ی کے باعث نظر اور چھت پر لگے پر گئ تھی ۔۔۔ پنکھے کی رفتار باہر ہال کے پنکھے سے۔ بھی کم تھی خود بھی وہ کسی سوٹٹ بوٹٹ میں نہیں تھا عام سی بلو جینز کے ساتھ آف وائٹ ٹی شرٹ پہنے ہوئے ہوا تھا ۔۔۔۔ چہرے پر ننھے ننھے پسنے کے قطرے صاف دیکھائی دے رہے تھے
سامنے ٹیبل پر بھی چند فائنل بکھری پڑی تھیں ۔۔۔۔۔ مہرونساء یہاں آکر پچھتا رہی تھی
” کیا پسند کریں گی آپ کافی یا کولڈرنک ” انٹر کام اٹھا کر زکی نے پوچھا
” نو تھنکس ۔۔۔۔۔”
” آپ ارمان کی کزن ہیں ۔۔۔ اس لئے ایسے تو اچھا نہیں لگتا ہے۔۔۔۔ میں کولڈرنک منگوا دیتا ہوں ۔۔۔ ” زکی نے ایک ہی کولڈرنک کا آڈر دیا تھا جو یقینا مہرونساء کے لئے تھی
“آپ نے بلایا تھا مجھے ” کچھ توقف کے بعد مہرو نساء نے ہی بات کی شروعات کی تھی زکی تعجب سے اسے دیکھنے لگا
” میں نے ؟ جی نہیں ۔۔۔۔ ” جواب خاصا غیر متوقع سا تھا ۔۔۔۔ مہرونساء خجلت کا شکار ہوئی تھی ۔۔۔ مطلب پچھلے ایک گھنٹے سے وہ اس بے فضول سے شخص کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی جس نے اسے بلایا تک نہیں تھا زکی کے چہرے پر صرف تعجب کے تاثرات تھے ۔۔۔
” مطلب ۔۔۔ آپ نے ارمان بھائی سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ مجھ سے ملنا چاہیے ہیں ؟ مہرونساء نے پھر بھی تصدیق چاہی کہ شاید ڈاریکٹر صاحب کمزور یادداشت کے مالک ہیں مصروف ترین روٹین کے باعث بھول گئے ہوں گئے ۔۔۔۔
” میں نے تو ارمان سے ایسا کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔ ” زکی کی صاف گوئی پر اسے ارمان پر غصہ آیا تھا
” لیکن مجھے تو انہوں نے یہی کہا کہ آپ نے مجھے بلایا ہے ” مہرونساء نے وضاحت دینا ضروری سمجھا تھا تا کہ زکی یہ ناسمجھے کہ وہ بن بلائے مہمان کی طرح آن ٹپکی ہے ۔۔۔ ایک مضحکہ خیز مسکراہٹ زکی کے چہرے پر پھیلی تھی جیسے اس نے مہرونساء کی سوچ پڑھ کر اثبات میں تمسخر اڑایا ہو
” جی ۔۔۔ ہوسکتا ہے ” زکی نے اب اپنی ریوالونگ چیر پر ٹیک لگائی تھی چہرے کے تاثرات ہنوز تھے
” ہو سکتا ہے ۔۔ ارمان کو کوئی الہام ہو گیا ہو یا ایسا کوئی تصوراتی خواب دیکھ لیا ہو کہ میں نے آپ کو خاص دعوت نامہ دیا ہے ۔۔۔ ” مہرونساء کواپنی تضحیک سی محسوس ہوئی تھی کانوں کی لو سے بھاپ سی اٹھنے لگی تھی خجالت سے چہرے پر آنے والی تری میں اضافہ ہو تھا
” میرے خیال سے میں چلتی ہوں ” وہ اپنا پرس اٹھائے تپے ہوئے لہجے سے بولی زکی بلکل سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
” ارے نہیں مس مہرو پلیز بیٹھیں ٹھنڈا پی کر جائیے گا ۔۔۔۔ “
“اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ مجھے لگاشاید آپ میری کسی کہانی کو پڑھ کر اس پر ڈرامہ بنانے میں انڑسڈ ہیں “
” آپ پہلے تشریف رکھیں ” زکی کے کہنے پر مہرو دوبارہ بیٹھ گئ مزاج میں اب بھی ہلکا سا نخوت کارنگ چھلک رہا تھا ۔۔۔۔ اسی اثنا میں ایک ملازم کولڈرنک کا گلاس بھی لے آیا تھا ۔۔۔۔ مہرو کے سامنے رکھ کر چکا گیا مہرونساء نے بس دو ہی آپ لئے تھے ۔۔ ٹھنڈی بوتل نے طعبیت پر اچھا اثر ڈالا تھا
” مس مہرو میں نے آپ کا وہ ناول پڑھا ہے جو ابھی آپ لکھ رہی ہیں اور آپکے دوسرے ناول کے چند صفحات بھی پڑھے ہیں ۔۔۔۔ لیکن ایم سوری ۔۔۔۔۔ وہ میرے معیار کے نہیں ہیں ۔۔۔۔ ونی کیس ۔۔۔۔ سکینڈ میرج ۔۔۔۔ ذمیدارنہ اثرو رسوخ کو بڑھا چڑھا کر دیکھنانا ۔۔۔۔ ہر ناول کی سیم کہانی ہے اور سب کے ایک جیسے ۔۔۔روڈ ہیرو ۔۔۔۔ بلکہ میری نظر میں وہ روڈ نہیں ۔۔۔۔بلکہ وہ ہیرو انسانی درجے سے بھی گرا ہوا کریکٹر ہے ۔۔۔۔ میں تو ایسے شخص کو پرلے درجے کا بھی انسان کہنے کے حق میں نہیں ہوں جنہیں آپ ہیرو کے طور پر پیش کرتی ہیں ” اپنے ناول پر اب تک مہرو نے تعریف ہی سنی پہلی بار تنقید سن رہی تھی ۔۔۔۔ دل کی یہ حالت تھی کہ سامنے بیٹھے شخص کے سر پر ٹیبل سے پیپر ویٹ اٹھا کر مار دے ۔۔۔۔ جو بنا کسی لحاظ کے بولے جا رہا تھا
” دیکھیں میں یہ حق کسی کو نہیں دیتی کہ وہ میری تحریر کو تنقید کا نشانہ بنائے ۔۔۔۔۔۔ میرے ناول پر نوجوان کے لڑکے لڑکیاں جان چھڑکتے ہیں ۔۔۔۔ کبھی فرصت ملے تو میرے ناول پر لوگوں کے تبصرے ضرور پڑھ لیجے گا ۔۔۔۔ تا کہ آپ کو اپنی غلطی رائے کا احساس ہو سکے ” مہرو نساء کے غصے کو دیکھ کر کچھ ثانیے وہ چپ سا ہو گیا اس لڑکی کو ذرا بھی احساس نہیں تھا کہ وہ رومانوی محبت کے نام پر لکھ کیا رہی ہے ۔۔۔۔
” دیکھیں میں اپنے معیار پر کامپرومائز کرنے کا عادی نہیں ہوں ۔۔۔۔اور پھر ہمارا ملک ابھی اتنا بھی ایڈوانس نہیں ہوا کہ ایسا کچھ کھلا عشق سب کو دیکھا سکے جیسا کہ آپ لکھتی ہیں ۔۔۔۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ ہمسائے ملک میں اپنے شہکار کو ضرور آزمائیے گا ۔۔۔ شاید کہ وہ آپ سے ضرور مستفید ہونا چاہیں گئے ” زکی کی بات پر مہرو نساء کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا تھا ۔۔۔۔۔ کتنی آسانی سے وہ اسکے لکھے بے باک سین کی نشاندہی کر کے اسے اہانت کے نچلے درجے پر لا کر پٹخ چکا تھا
” مائنڈ یور بزنس مسٹر زکی ۔۔۔۔۔۔ ” مہرو کاغصہ انتہا کی آخری حد کو چھونے لگا تھا ۔۔۔۔ کانوں کی لو تک سرخ ہو گئ تھی ۔۔۔ لگ رہا چہرے سے بھاپ سی اٹھ رہی ہے وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئ پھر بھپر کر بولی
” آپ جیسے تھرڈ کلاس ڈرایکٹر کی اوقات ہی کیا ہے کہ محبت جیسے لطیف جذبے کو سمجھ سکے ۔۔۔۔ جبھی تو آج تک آپ کا نام کبھی کسی چینل کے ادنی سے ڈرامہ کی لسٹ میں میں نے تو آج تک نہیں دیکھا اور مجھے ؟ ” مہرو نے جانب انگلی کر کے کہا ۔۔۔۔
” کون نہیں جانتا ۔۔۔۔ میں کیا ہوں اور کیا نہیں یہ مجھے میرے پرستار بتا دیتے ہیں ۔۔مجھے آپکے مشورے کی ہر گز ضرورت نہیں ۔۔۔ ” وہ لفظوں کو چبا کر یوں گویا تھی جیسے سامنے مخاطب شخص کو بھی کچا چبانے کا ارادہ رکھتی ہو ۔۔۔۔زکی اسکے بپھرے ہوئے چہرے کو اور تنے ہوئے انداز کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا
” میرے نزدیک آپ لکھنے کے فن سے آگاہ نہیں ہیں ۔۔۔ جس دن آپ کو معیاری لکھنا سیکھ جائیں گئیں بخدا خود چل کے آؤں گا آپ کے پاس اور ہاتھ جوڑ کے منت کے ساتھ کہو گا پلیز مہرو نساء اپنی تحریر سے میرے کرداروں کو مزین کر دیں ۔۔۔۔ ” بڑے با ادب انداز سے اس نے مہرونساء پر استزائیہ وار کیا تھا
” لیکن افسوس مجھے ایسی امید نظر نہیں آ رہی ” آخر پھر اسے آئینہ دیکھا گیا تھا مہرو نساء غصے سے اس کے کمرے نما دڑبے سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔
“نا جانے خود کو سمجھتا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ ارمان بھائی کو تو میں چھوڑو گئ نہیں ۔۔۔۔ جب اس کھڑوس شخص نے مجھے بلایا ہی نہیں تھا تو انہوں نے کیوں مجھے اسکے پہ اس بھیجا تھا ۔۔۔۔ میری انسلٹ کروانے کے لئے ۔۔۔۔ ” لفٹ میں کھڑے وہ اپنا جی جلا رہی تھی۔۔۔۔
*******………
شرمینہ اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پر بیٹھ کر اپنے بے ہنگم دھرکنوں کو اعتدال پر لانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
” یہ کیوں واپس آئے ہیں ۔۔۔۔۔ اب ہر بات پر مجھے ڈانٹے گئے ۔۔۔۔ رعب جمائیں گئے ۔۔۔۔۔ ” اٹھ کر جلدی سے ہاتھ میں پکڑی ڈائری دوبارہ سے رائٹنگ ٹیبل کے دراز میں رکھ کر لوک کی ۔۔۔۔ دائرہ میں تو اس کی ہر بات عیاں تھی ہر جذبہ ہر راز پوشیدہ تھا ۔۔۔۔۔
رات ڈنر پر وہ خود کو حازم کی نظروں کے تعاقب میں وافتگی سے بھر پور نظروں سے گڑبڑا سی رہی تھی ۔۔۔۔ ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھا پا رہی تھی
بظاہر حازم رفعت بیگم اور افضل صاحب سے بات کر رہا تھا لیکن دل کو کہاں چین تھا ۔۔۔۔ سامنے وہ بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اسی لباس میں جس میں اس نے اسے شام کو دیکھا تھا ۔۔۔ تین سال فراق کے کاٹے تھے نظروں کی پیاس کہاں بجھی تھی ۔۔۔۔۔ نظروں میں وافتگی کا آ جانا فطری سی بات تھی ۔۔۔۔ منکوحہ کو دیکھ ے کی نظر ہمیشہ ہی اور ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔ اور وہ تو حازم کی محبت بھی تھی
پر تپشم سی نظریں تھیں جو شرمینہ کی دھڑکنیں بڑھا ریے تھے۔۔۔۔۔ شرمینہ عجلت میں کھانا ختم کر کے اٹھ گئ تھی ۔۔۔
” انکل اگر مائنڈ نا کریں تو میں شرمینہ کو لونگ ڈرائیو پر لیجانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ ” اس سے پہلے کے شرمینہ دامن بچا کر وہاں سے جاتی حازم نے اس کے راستے مقفل کیے تھے ۔۔۔
” ہاں کیوں نہیں ۔۔۔۔ لے جاؤں لیکن بیٹا ۔۔۔ ایک گھنٹے سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے ۔۔۔۔ ” افضل صاحب نے اجازت تو دی تھی لیکن پابندی کے ساتھ
” او یس انکل ۔۔۔۔ آپ بیفکر رہیں ۔۔۔ ہم بس آئسکریم کھانے جارہے ہیں جلدی ہی لاٹ آئیں گئے ۔۔۔۔ ” حازم کی نظریں اب پریشان حال شرمینہ پر تھی ۔۔۔ جس کی آنکھیں انجانے خوف سے پھیلی ہوئی تھیں ۔۔۔۔
” شرمینہ چلیں” حازم نے براہِ راست اسے کہا تھا اور کرسی سے کھڑا ہو گیا وہ رفعت بیگم کو شکوہ کناں نظروں سے دیکھنے لگی تھی کہ کیوں اسے اجازت دی ہے ۔۔۔۔
” جاؤں شرمینہ ” رفعت بیگم کے کہنے پر وہ حازم کے قدموں کی تقلید کرنے پر مجبور تھی ۔۔۔۔
