Ishq Ne Ki Wafa By Farwa Khalid Readelle50100 Last Episode 39
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode 39
محبت کے اِس خوبصورت مظاہرے نے اُس کا دل لوٹ لیا تھا. اُس نے بغور شہرین کی جانب دیکھا تھا. جو سُرخ ہوتے چہرے کے ساتھ آنکھیں سختی سے میچیں کپکپاتے احمری لبوں کے ساتھ میران کا ضبط بُری طرح آزما گئی تھی.
” آئم سوری میری زندگی میں شامل ہونے کے بعد تم نے جو تکلیفیں اور بے عزتی برداشت کی اُس پر میں بہت شرمندہ ہوں. لیکن میرا وعدہ ہے زندگی نے وفا کی تو آگے کی زندگی میں تمہیں اتنا پیار اتنی محبت دوں گا کہ تم اپنی زندگی کے پچھلے تمام دکھ بھول جاؤ گی.”
میران محبت سے مخمور لہجے میں کہتے شہرین کے پورے چہرے پر اپنی جنونیت کی داستان رقم کرتا اُسے کچھ دیر میں ہی ہوش بھلا گیا تھا.
شہرین نے خود کو آج مکمل طور پر اِس شخص کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا. جو اُس کے پور پور کا حقدار تھا. لیکن میران بلوچ کی شدتوں پر اُس کا پورا وجود لرز رہا تھا.
” تھینکس میری اذیت اور تکلیف کو کم کرنے کے لیے. “
میران نے ہاتھ بڑھاتے شہرین کی گردن سے اُس کا دوپٹہ نکال دیا تھا. اور بے قراری سے اُس کی گردن پر اپنا حسین ترین شکار تلاش کیا تھا.
شہرین کی گرفت میران کے سینے پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی تھی. میران جو گردن کے عین وسط میں جگمگاتے تل پر جھکنے ہی والا تھا. اپنی زرا دیر کی قربت پر اُس کی غیر ہوتی حالت پر نظر پڑتے میران کے ہونٹوں پر بھرپور مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
” کیا ہوا میری سہمی ہرنی. بس یہی کچھ ہمت تھی. “
شہرین نے بمشکل نظریں اُٹھاتے سیاہل کی جانب دیکھا تھا. جہاں آج کسی قسم کی مہلت کے کوئی آثار نہیں تھے.
شہرین گھبرا کر واپس نظریں پھیر گئی تھی. جبکہ اُسے گردن پر جھکتے دیکھ شہرین کی سیاہل کے سینے پر گرفت میں مزید اضافہ ہوا تھا. کیونکہ ایک بار پہلے بھی وہ اپنی گردن پر اُس کی یہ جنونیت برداشت کرچکی تھی.
میران اپنے لمس سے اُس کے تل کو معتبر کرتے پیچھے ہٹا تھا. شہرین کے چہرے کی متغیر ہوتی رنگت میران کو پریشان کر گئی تھی.
” شہرین اگر تم کمفرٹیبل نہیں ہو تو. نو پرابلم تم جتنا ٹائم لینا چاہتی ہو میں اُس کے لیے تیار ہوں. “
میران نہیں چاہتا تھا کہ وہ کسی بات پر مجبوری یا دباؤ میں آکر اُس کے قریب آئے اِس لیے اُس نے نرمی سے اُس کا گال. تھپتھپاتے اُس کی دلی خوشنودی جاننی چاہی تھی.
جس کا جواب لفظوں میں دینے کی پوزیشن میں نہ ہوتے شہرین اُس کے سینے میں منہ چھپاتے اپنے آپ کو مکمل طور پر اُس کے حوالے کرگئی تھی.
جبکہ خود سپردگی کے اتنے پیارے انداز پر میران بلوچ مزید اپنے منہ زور جذبات پر قابو نہیں رکھ پایا تھا. اور اُس پر اپنی محبت کی بارش کرتے اُسے ساری دنیا سے چھپا کر اپنے سینے میں بھینچ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا بابا ایسا کچھ کرسکتے ہیں. وہ انتقام کی آگ میں اِس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ اپنوں اور غیروں کا فرق بھول گیا ہے اُنہیں. “
شہرام کو جیسے ہی میران پر حملے کا پتا چلا تھا. وہ فوراً اُس سے ملنے آپہنچا تھا. اُسے اپنوں کے گرے ہوئے منصوبوں پر شدید صدمہ پہنچا تھا. لیکن ابھی وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اُس کی اپنی بیوی کے لیے اُس کے عزیز ازجان آغا جان کیا سوچے بیٹھے ہیں.
” اُنہوں نے ابھی اِسی پر اکتفا نہیں کیا. وہ اِس سے بھی کوئی بڑا پلان بنا رہے ہیں. جو کہ اُنہوں نے بہت خفیہ رکھا ہوا ہے. کیونکہ وہ اب جان گئے ہیں کہ حویلی میں ہمارے ساتھ ساتھ سیاہل خان کے جاسوس بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں. “
میران پرسوچ انداز میں بولتا شہرام کو نئی فکر میں مبتلا کر گیا تھا.
جب اُسی وقت سیاہل خان اپنی چھا جانے والی پرسنیلٹی کے ساتھ اندر داخل ہوا تھا. میران اور شہرام دونوں نے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے اُس کا استقبال کیا تھا. کیونکہ وہ اُسے دل سے اب اپنا سردار مان چکے تھے.
شہرام سے بغل گیر ہونے کے بعد سیاہل نے میران کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا. جسے تھام کر میران آگے ہوتے اُس سے گلے ملا تھا.
جبکہ پاس کھڑا شہرام اِس نئی دوستی کی شروعات پر مسکرائے بنا نہ رہ سکا تھا. اگر وہ تینوں ایک ساتھ ہوچکے تھے تو اب اُن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا.
” سیاہل کچھ خبر ہوئی کیا سازش سوچے بیٹھے ہیں وہ. جہاں تک مجھے اطلاع ملی ہے. وہ لوگ آج رات کو ہی کچھ غلط کرنے والے ہیں. اور وہ بھی تمہارے خلاف.”
میران نے نہایت ہی فکرمندی سے اپنی خبر سیاہل تک پہنچائی تھی.
” نہیں میرے سارے آدمی حرکت میں ہیں. مگر کچھ پتا نہیں چل پارہا. وہ لوگ ہر طرف سے الرٹ ہوکر کچھ خفیہ پلان کررہے ہیں. پہلے ہر بار وقت سے پہلے اطلاع مل جانے پر میں اُن کا اِسی طرح چھپ کر کیا ہر وار ناکام بناتا آیا ہوں. مگر اِس بار ابھی تک کچھ خبر نہیں ہوپائی.”
سیاہل خان بھی اِس وقت اپنے خاندان کو خطرے میں دیکھ بہت زیادہ پریشان لگا تھا. اُسے اپنی پرواہ نہیں تھی. مگر وہ اپنے خاندان کے کسی ایک بھی فرد پر زرا سی خراش آتے برساشت بھی نہیں کرسکتا تھا.
” میرے خیال میں مجھے حویلی جانا چاہئے. کیا پتا میں کچھ معلومات حاصل کرسکوں. اور ویسے بھی کونسا وہ ہماری دوستی کے بارے میں جانتے ہیں. “
شہرام نے اُن دونوں کی جانب دیکھتے اپنی تحویز پیش کی تھی.
” نہیں ہرگز نہیں. اِس طرح اکیلے حویلی جانے کے بارے میں سوچنا بھی مت. تمہارے گھر والے نہ صرف ہماری دوستی بلکہ تمہارے اور نگار کے نکاح کے بارے میں بھی سب جان چکے ہیں. وہ جو مسلسل کالز کر کے تمہیں بلا رہے ہیں. وہ تمہاری یاد میں نہیں بلکہ تم سے پوچھ گچھ کرکے تمہارے اتنے بڑے گناہ پر تمہیں سزا دینا چاہتے ہیں. “
سیاہل خان نے شہرام کے ساتھ ساتھ میران کو بھی شاک کرتے آخر میں طنزیہ لہجہ اختیار کیا تھا.
اِس سے پہلے کہ وہ اپنی حیرت کا اظہار کرتے سیاہل کا بجتا فون اُن سب کو اپنی جانب متوجہ کر گیا تھا.
” ہاں بولو خدا بخش کچھ پتا چلا. “
سیاہل خان نے فون کان سے لگاتے پوچھا تھا. مقابل کی اطلاع پر پل بھر میں اُس کے نقوش غصے سے تن گئے تھے.
” ہممہ بس میں ابھی پہنچتا ہوں. “
سیاہل ہونٹ بھینچتے فون بند کر گیا تھا.
” کیا ہوا سیاہل سب خیریت ہے. “
شہرام نے اُس کا غصے سے بھرا انداز دیکھ فکرمندی سے پوچھا تھا.
” شہزاد اُن لوگوں کے ساتھ ملا ہوا ہے. اُسے خفیہ طور پر کچھ لوگوں کو حویلی کے اندر لے جاتے دیکھا گیا ہے. میرے آدمیوں نے اُسے پکڑ لیا ہے. اور پوچھ گچھ کر رہے ہیں. مگر وہ اُس سازش کے حوالے سے کچھ بتانے کو تیار نہیں ہے. وہ ضرور کچھ جانتا ہے. میں وہیں ڈیرے پر ہی جارہا ہوں. تم دونوں اپنا خیال رکھنا اور رابطے میں رہنا. اور شہرام تم ابھی نکلو اور نگار کے پاس پہنچو. ہمیں اِس وقت کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہیے. “
سیاہل کی چھٹی حِس اُسے کچھ غلط ہونے کا اشارہ کررہی تھی. وہ جلدی سے اُن دونوں کو تفصیل سے آگاہ کرتا باہر نکل گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” شہزاد تمہاری بھلائی اِسی میں ہے کہ مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دو. ورنہ اِس وقت میری گولیوں سے بچانے تمہارے وہ ہمدرد بالکل بھی نہیں آئیں گے. “
سیاہل رسیوں میں کرسی کے ساتھ بندھے شہزاد کی کنپٹی پر گن رکھے اُسے آخری وارننگ دیتے بولا.
” تم نے شک اُتار دو یہ گولیاں مجھ میں. میں کچھ نہیں بتاؤ گا. ہمیشہ تم مجھے سب لوگوں کے سامنے بے عزت کرکے تڑپاتے آئے ہو مگر اب جب مجھے ایسا موقع ملا ہے تو میں کیوں نہ کچھ کروں. “
شہزاد آنکھوں میں نفرت بھرے سیاہل سے مخاطب ہوا تھا. جبکہ سیاہل اُس کے دل میں اپنے لیے اتنی نفرت دیکھ ایک دم چونک سا گیا تھا. وہ جانتا تھا شہزاد اُسے پسند نہیں کرتا تھا. مگر اتنی نفرت کا انداہ نہیں تھا اُسے.
” شہزاد میں آخری بار بول رہا ہوں. میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے بتا دو مجھے ورنہ گولی چلا دوں گا میں. “
سیاہل نے ایک بار پھر اپنی بات دوہرائی تھی.
” چلا دو تم. نہیں بتاؤں گا میں.”
شہزاد بھی ڈھیٹ بنا اپنے کہے پر ڈٹا بندوق کی نالی اپنی کنپٹی پر محسوس کرتے خوفزدہ ہوتے دل کے ساتھ بیٹھا رہا تھا.
اُس کے سر پر بس سیاہل سے بدلہ لینے کا بھوت سوار تھا.
مگر اچانک اُسے اپنی کنپٹی سے بندوق ہٹتی محسوس ہوئی تھی. اُس نے بے یقینی سے آنکھیں کھولتے دور ہوتے سیاہل خان کی جانب دیکھا تھا.
” ہر بار کی طرح اِس بار بھی تم نے مجھے سمجھنے میں غلطی کر دی شہزاد. اِس وقت تو کیا تم پر میں کبھی گولی نہیں چلا سکتا. کیونکہ تمہیں دل سے بھائی مانتا ہوں میں. میرے لیے میرے رشتے بہت خاص ہیں. ہر بار تمہاری غلط حرکتوں پر میں نے تمہیں سخت سے سخت سزا دے کر بچانے کی کوشش ہی کی ہے.
میں نے ہمیشہ اپنے خاندان کے ہر فرد کو اپنے ساتھ جوڑ کر رکھنے کی کوشش کی ہے. میں نہیں جانتا کب اور کیوں تم مجھ سے اتنے بدگمان ہوگئے کہ اتنی نفرت کرنے لگ گئے مجھ سے. لیکن اِس میں بھی میرا ہی قصور ہے. میں نے ہی کچھ ایسا عمل کیا ہوگا. کہ جس نے میرے ہی چھوٹے بھائی کو میرے خلاف جاکر میرے دشمنوں میں شامل ہونے پر مجبور کردیا ہے.
تم مجھے کچھ نہیں بتانا چاہتے مت بتاؤ. تمہاری چوائس ہے. لیکن فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. تمہیں میں یا میرے آدمی نقصان نہیں پہنچائیں گے. “
سیاہل خان لب بھینچے اپنی بات پوری کرتے پلٹا تھا. جبکہ سیاہل خان کی باتوں پر شہزاد کا سر جھک گیا تھا. اُس نے خود کو ندامت کی اتھا گہرائیوں میں گرتا محسوس کیا تھا. وہ اِس شخص کے لیے آج تک کتنی کتنی سازشیں کرتا آیا تھا. اور سیاہل خان اُس کے بارے میں کتنا اچھا سوچتا رہا تھا.
” سیاہل خان رک جاؤ…. “
شہزاد نے دروازے کے قریب پہنچے سیاہل کو پُکارا تھا. وہ دشمنوں کا ساتھ دے کر اپنوں کے خلاف نہیں جاسکتا تھا.
سیاہل خان کے الفاظ نے اُس کے احساسات بدل کر رکھ دیئے تھے. اُس کی نفرت بھر بھری ریت کی مانند گر چکی تھی.
سیاہل خان کے اِسی اپنا اثیر بنا لینے کے فن کی وجہ سے ہی تو خانی اُسے ساحر کہتی تھی. جو اپنے الفاظ اور عمل سے مقابل کو ہپنوٹائز کرکے اپنا گرویدہ بنا دیتا تھا.
سیاہل شہزاد کی پکار پر رکا تھا لیکن پلٹا نہیں تھا.
” وہ لوگ سردارنی جی کو حویلی سے اُٹھوانے کا ارادہ رکھتے ہیں. جس کے لیے میرے علاوہ حویلی کے اندر سے بھی کوئی اُن کی مدد کررہا ہے. میں نہیں جانتا وہ کون ہے. دونوں طرف سے ایک ہی وقت میں پیش رفت کی جانی تھی. میں تو پکڑا جا چکا ہوں. میں نہیں جانتا اُن کے ساتھ ملا دوسرا شخص کامیاب ہوا ہے یا نہیں. “
شہزاد یہ سب بتاتے اِس قدر شرمندہ تھا. کہ ایک. بار بھی نظریں اُٹھا کر اُس نے سیاہل کی جانب نہیں دیکھا تھا. جو خانی کو خطرے میں ہونے کا سنتے دیوانوں کی طرح باہر کی جانب بھاگا تھا. سیاہل کو لگا تھا جیسے انتہائی بے دردی سے اس کے جس سے روح کھینچ لی گئی ہو.
وہ فون پر خدا بخش کو ہدایت دیتا اندھا دھند گاڑی ڈرائیو کرتا اُڑ کر خانی تک پہنچ جانا چاہتا تھا.
وہ جیسے ہی حویلی پہنچا سامنے نظر آتے منظر نے اُس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی.
” بے غیرت اتنے سال تجھے اپنے گھر میں اِسی لیے پناہ دی کہ تو میرے ہی بچوں کو ڈائن بن کر کھا جائے. “
بی بی سائیں کے زور داد تھپڑ پر تانیہ بیگم نیچے جاگری تھیں. وہاں حویلی کے سب لوگ جمع حیرت اور بے یقینی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے. کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا. تانیہ بیگم نفرت میں اتنا آگے نکل جائیں گی. کہ اس گھر کی بہو کو اغوا کروانے کی سازش میں شامل ہوجائیں گی.
خانی کو وہاں نہ پاکر سیاہل کا دل چاہا تھا. ہر شے تہس نہس کرکے پوری دنیا کو آگ لگا دے.
” خانی کہاں ہے. “
سیاہل کو غیض و غضب کی تصویر بنے پتھریلی آنکھوں اور قہر برساتے تاثرات کے ساتھ وہاں آتا دیکھ سب ہی اپنی جگہ ڈر سے گئے تھے. کیونکہ سیاہل خان کا یہ غصہ عام غصہ نہیں تھا.
سیاہل نے زمین سے اُٹھتی تانیہ بیگم کے سامنے کھڑے ہوکر پوچھتے اپنی مٹھیاں سختی سے بھینچتے بہت مشکل سے اپنے ہاتھوں کو کسی قسم کی حرکت سے روکا تھا.
” سیاہل بیٹا میری با…. “
” میں نے پوچھا میری بیوی کہاں ہے. “
سیاہل کی دہاڈ پر وہاں موجود ہر نفوس کانپ کر رہ گیا تھا.
” وہ میں نے اُسے اُن لوگوں کے حوالے نہیں کیا. وہ اِس وقت بے ہوشی کی حالت میں آپ کے ڈیرے پر ہے. “
تانیہ بیگم نے چہرا جھکائے سختی سے آنکھیں میچے کمزور سی آواز میں کہا تھا.
” بی بی سائیں یہ عورت جہاں بھی رہے. مگر دوبارہ میرے سامنے نہیں آنی چاہئے. “
سیاہل خان اشتعال اور غصے کے عالم میں کہتا باہر کی جانب بھاگا تھا.
” بی بی سائیں مجھے معاف کردیں. میں مانتی ہوں میں نے اپنے دشمنوں کے ساتھ مل کر بہت غلط کرنا چاہا. مگر سیاہل سے میں بہت محبت کرتی ہوں. اُس کی خاطر اُس کی بیوی کے ساتھ بھی کچھ غلط نہیں کر پائی. اُسے دشمنوں کے ہاتھوں میں نہیں دیا. معاف کردیں بی بی سائیں مجھے خدا کے لیے. “
تانیہ بیگم بی بی سائیں کے قدموں میں گرتیں پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں. اُن کا دل چاہ رہا تھا زمین پھٹے اور وہ اُس میں سما جائیں. اپنی بے جا کی نفرت میں وہ اِس قدر اندھی ہوچکی تھیں. یہ بھول گئی تھیں. کہ خانی سیاہل خان کی بیوی اور محبت ہے. اُس شخص کی جس نے ہمیشہ اُنہیں اپنی ماں سے بڑھ کر مان اور عزت بخشی تھی. اِس وقت اُن کا شدت سے خود کو ختم کرنے کو دل چاہا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” خانی میری جان آنکھیں کھولو پلیز. “
سیاہل ڈیرے پر موجود اپنے ہی کمرے میں بیڈ پر بے سدھ پڑی خانی کر اُٹھا کر اپنی بانہوں میں بھرتے اُس کا گال تھپتھپاتے پانی کی چند بوندوں کا چھڑکاؤ کرتے اُسے ہوش میں لاتے بے قراری سے بولا تھا.
اُس کی کچھ دیر کی کوششوں کے بعد خانی نے کسمساتے آنکھیں کھول دی تھیں.
خانی خود کو یہاں لانے اور بے ہوش کیے جانے پر خوفزدہ سی کچھ دیر سہمی نظروں سے اردگرد دیکھنے لگی تھی. مگر سیاہل پر نظر پڑتے خود کو اُس کی بانہوں کے حصار میں پاکر اُس کا دل ایکدم پرسکون ہوا تھا.
” سیاہل میں جانتی تھی تانیہ پھوپھو مجھے پسند نہیں کرتیں. مگر وہ مجھ سے اِس قدر نفرت کرتی ہونگی اِس بات کا اندازہ نہیں تھا مجھے.”
خانی آنکھوں میں آنسو بھرے آگے ہوتی چہرا اُس کے سینے میں چھپا گئی تھی.
سیاہل نے پچھلے یہ چند لمحے جس عذاب کے زیرِ اثر گزارے تھے یہ وہی جانتا تھا. خانی کو حویلی میں نہ پاکر اُس کے دل پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی. وہ سوچ چکا تھا کہ اگر اُس کی خانی کو زرا سی بھی خراش آئی تو وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گا. اُن سب لوگوں کو ایسی اذیت ناک موت دے گا کہ اُس کے باقی دشمن کے لیے بھی وہ عبرت کا نشان بن جائیں گے.
اِس وقت وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا. اپنے قریبی لوگوں کے دھوکے نے اُسے بہت تکلیف پہنچائی تھی. مگر اِس وقت اُس کے لیے سب سے بڑی بات خانی کا اپنے پاس ہونا تھا. باقی سب لوگوں کو بھلاتے وہ اپنی زندگی کی سب سے قیمتی اور جان سے عزیز ہستی جس کے بغیر اُس کے لیے سانس لینا بھی دشوار تھا. اپنی خانی کو قیمتی متاع کی طرح اپنے سینے میں بھینچتے وہ اُس کی موجودگی دل کے قریب محسوس کرتے خود کو اُس کے سہی سلامت ہونے کا یقین دلانے لگا تھا.
” سیاہل میں بالکل ٹھیک ہوں. کچھ نہیں ہوا مجھے.”
خانی سیاہل کے سینے سے لگی اُس کی بے چینی اور بے قراری محسوس کرتے اپنی نازک بانہوں کا حصار اُس کے گرد مزید سخت کرتے اُس کے قریب تر ہوئی تھی.
” تمہیں کچھ ہو بھی نہیں سکتا خانی. نہ میں ایسا کبھی ہونے دوں گا. “
سیاہل خانی کے بالوں پر لب رکھتے محبت سے چور لہجے میں بولا.
جب اُسی وقت اُس کا فون بجنے لگا تھا.
شہرام کا نمبر دیکھ سیاہل نے فوراً سے پہلے کال ریسیو کی تھی.
مگر دوسری جانب سے ملنے والی خبر ایک بار پھر اُس کی دنیا اندھیر کر گئی تھی.
” اب میں نہیں چھوڑوں گا اُن لوگوں کو. “
سیاہل کی دہاڑ پر خانی نے پریشانی سے اُس کے سینے سے سر اُٹھاتے اُسکی لال ہوتی آنکھوں کو دیکھا تھا.
” کیا ہوا سیاہل.”
خانی نے دھڑکتے دل سے پوچھا تھا. سیاہل کے پتھریلے تاثرات اُسے کچھ غلط ہونے کا پتا دے گئے تھے.
” وہ گھٹیا لوگ نگار کو غلط ارادے سے اپنی حویلی اُٹھا کر لے گئے ہیں. خانی تم آؤ میرے ساتھ خدا بخش تمہیں بحفاظت خان حویلی پہنچا دے گا. مجھے جلد از جلد وہاں پہنچنا ہوگا. میران اور شہرام زیادہ دیر تک اُن کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے. “
میران کے نام پر خانی نے چونک کر سیاہل کی جانب دیکھا تھا. تو کیا میران اور سیاہل ہاتھ ملا چکے تھے. خانی کے دماغ میں کئی سوالوں مت جنم لیا تھا. مگر یہ وقت اِن باتوں کا بالکل بھی نہیں تھا.
” مجھے بھی ساتھ چلنا ہے آپ کے.”
خانی کی بات پر سیاہل نے غصے سے اُسے گھورا تھا.
” خانی تم پاگل ہوگئی ہو کیا. وہاں اتنے خطرے میں, میں تمہیں کیسے لے جاسکتا ہوں. “
سیاہل نے سرد لہجے میں کہتے سختی سے انکار کیا تھا.
“سیاہل پلیز مجھے وہاں جانا ہے. میں وہاں قید اُن عورتوں کو آزادی دلانا چاہتی ہوں. جن کا دکھ دل میں لیے میری ماں اِس دنیا سے رخصت ہوگئی. پلیز مجھے جانا ہے. میں اُن ظالموں کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں. “
خانی بھیگا چہرا لیے سیاہل کے سامنے گرگرائی تھی. جس پر نا چاہتے ہوئے بھی سیاہل اُسے ساتھ لے جانے پر راضی ہوگیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شہرام اور میران ایک ساتھ ہی اُن کے ڈیرے پر پہنچے تھے. شہرام کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنے باپ اور دادا کی اتنی گھٹیا حرکت پر کیا کر ڈالے.
لیکن اُس سے زیادہ دھچکا اُنہیں تب لگا تھا. جب اُن کے پہنچتے ہی یہ جانتے بوجھتے کہ سامنے اُن لوگوں کے اپنے بیٹے موجود ہیں. ارشد بلوچ کے کہنے پر اُن کے آدمیوں نے اُن سب پر فائر کھول دیئے تھے.
” شہرام میں سنبھال لوں گا اِنہیں تم خدا بخش کو لے کر حویلی کے خفیہ راستے سے اندر جاؤ. سیاہل بھی بس ابھی پہنچنے والا ہے. ہم جلدی سے اِن لوگوں سے نبٹ کر وہاں آتے ہیں.”
میران نے خدا بخش کو بلا کر شہرام کو حویلی جانے کا کہا تھا. جہاں اُن لوگوں نے نگار کو رکھا ہوا تھا.
” میران سائیں ہمیں گمراہ کرنے کے لیے غلط معلومات دی گئی ہے. نگار بی بی جی کو حویلی میں نہیں بلکہ ڈیرے پر ہی رکھا گیا ہے.
سردار سائیں بھی ابھی پہنچنے والے ہیں. اُن کا حکم ہے کہ میران سائیں آپ حویلی کے خفیہ راستے سے جاکر بیسمنٹ میں قید تمام عورتوں کو وہاں سے باہر نکالیں. ذوالفقار نے سب کے سامنے یہ دیکھانے کے لیے کہ سردار سائیں نے اُن پر حملہ کردیا ہے. وہ میڈیا اور پولیس کو اطلاع کرچکا ہے. اِس لیے سردار سائیں چاہتے ہیں. اُن میں سے کسی کے بھی پہنچنے سے پہلے اُن عورتوں کو وہاں سے نکال لیا جائے. “
اُن کے پاس سوچنے کا زیادہ ٹائم نہیں تھا. اِس لیے خدا بخش کی بات پر فوراً ایکشن میں آتے میران دوسری جانب بڑھ گیا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” خانی جب تک میں نہیں کہوں گا. تم اِس گاڑی سے باہر نہیں نکلو گی. خدا بخش کے علاوہ مجھے کسی پر بھروسہ نہیں ہے. اُسے میں نے بول دیا ہے وہ بس آرہا ہے. وہ یہاں باہر تمہاری حفاظت کے لیے موجود رہے گا. “
سیاہل خانی کے مجبور کرنے پر خانی کو لے تو آیا تھا. مگر مسلسل چلتی گولیوں کی بوچھاڑ پر اُسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا.
خانی بھیگی آنکھوں میں بے بسی لیے سیاہل کو خطرے میں جاتا دیکھنے لگی تھی. اِس وقت اُسے اپنے دادا اور تایا سے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی.
کیوں تھے وہ اتنے ظالم آخر رکھا کیا تھا. اِن دشمنیوں میں. دوسروں کو تکلیف پہنچا کر اُنہیں کس بات کا مزہ ملتا تھا.
مگر ہر بار کی طرح خانی آج بھی یہ سب سوچ کررہ گئی تھی. نہ ہی کبھی وہ اُن لوگوں سے یہ پوچھ پائی تھی. اور نہ کبھی وہ اُس کی کوئی بات سمجھنے والے تھے.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
سیاہل شہرام اور اپنے باقی تمام لوگوں کو وہاں پہنچ جانے کے بارے میں الرٹ کرتا بہت ہی میران کے خاص آدمی فیروز کی مدد سے پچھلے دروازے سے ڈیرے کے اندر داخل ہوا تھا.
” سائیں اُس کمرے میں رکھا گیا ہے بی بی جی کو. مگر اُس کے باہر پہرے کے لیے خاص طور پر اسد بلوچ کو بیٹھایا گیا ہے. “
فیروز کچھ فاصلے پر بنے کمرے کی جانب اشارہ کرتے بولا. جس کے آگے بڑی سی راہداری بنائی گئی تھی.
” تم یہی رکو گے. میں اسد کو سنبھالتا ہوں. میرے اشارے پر تم پیچھے سے نگار کو نکال کر لے جانا. “
سیاہل جانتا تھا کہ اسد کا مقابلہ کرنا فیروز کی بس کی بات نہیں تھی. اِس لیے وہ اُسے ہدایت دیتا آگے بڑھا تھا.
سیاہل نے سب سے پہلے کمرے کے گرد گن اُٹھائے کھڑے تینوں پہرا داروں کا کام تمام کیا تھا. اُن کو ٹھکانے لگاتے وہ اسد کی جانب بڑھا تھا.
اسد اپنے آدمیوں کو ہدایت دیتا فون پر مصروف سا جیسے ہی پلٹا اپنے عین پیچھے سیاہل خان کو کھڑا دیکھ اُس کی آنکھیں باہر کو اُبل پڑی تھیں.
” تم… تم یہاں کیسے پہنچے. “
اسد بلوچ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر نیچے گرا تھا. اُس نے نہایت پھرتی کا مظاہر کرتے دوسرے ہاتھ میں پکڑی اپنی گن سیاہل خان پر تانی چاہی تھی. مگر ایسا کوئی موقع نہ دیتے سیاہل اُس کے دونوں بازو جکڑتے اُس کی کمر پر باندھ گیا تھا.
سیاہل کے اشارے پر فیروز جلدی سے آگے بڑھتا ایک کونے میں ڈری سہمی نگار کو لیے وہاں سے نکل گیا تھا.
تب تک سیاہل اسد کی بہت زیادہ مزاحمت کے باوجود اُسے پوری طرح رسیوں سے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے اُسی کمرے میں لے گیا تھا. جہاں انہوں نے نگار کو قید کررکھا تھا.
” تمہیں مار کر میں کیا کروں گا. جسے اُس کے تایا اور دادا صرف ایک مہرے کی طرح استعمال کررہے ہیں. مطلب نکلنے پر اُنہوں نے تمہارے ساتھ بھی وہی کرنا ہے. جو اُنہوں نے میران کے ساتھ کیا ہے. “
سیاہل اُسے ایک کونے میں پھینکتے روم لاک کرتے باہر نکل گیا تھا. منہ پر پٹی بندھی ہونے کی وجہ سے اسد چیخ چلا کر کسی کو اپنی جانب بلا بھی نہیں سکتا تھا.
نگار کی جانب سے مطمئن ہوتے سیاہل ارشد اور ذوالفقار کی جانب بڑھ گیا تھا. دوسری جانب سے شہرام بھی نگار کے ٹھیک ہونے کی خبر پر اُن لوگوں پر آخری وار کرتا اندر داخل ہوا تھا.
جبکہ بڑے سکون سے بیٹھے ذوالفقار ایک طرف سے سیاہل کو جبکہ دوسری جانب سے شہرام کو اندر داخل ہوتا دیکھ بوکھلا سے گئے تھے. اُس کو اتنی جلدی اُن لوگوں کے اتنے قریب پہنچ جانے کی اُمید بالکل بھی نہیں تھی.
” کیا ہوا ذوالفقار خوشی نہیں ہوئی مجھے یہاں دیکھ کر. تم تو یہی چاہتے تھے نا. کہ میں خود چل کر تمہارے پاس آؤں. “
سیاہل ذوالفقار کے ہوائیاں اُڑاتے چہرے کی جانب دیکھتے آنکھوں میں نفرت بھرے زہر خند انداز سے مسکرایا تھا.
جس سیاہل خان کو وہ اپنے سامنے روتا گرگراتا دیکھنا چاہتے تھے. وہ آج بھی کسی فاتح کی طرح اپنے پورے غرور سے اُن کے سامنے کھڑا تھا.
اُسے اِس طرح سامنے دیکھ اُنہیں اپنی موت قریب آتی دیکھائی دے رہی تھی. مگر کہیں نہ کہیں اُنہیں ارشد بلوچ کی جانب سے اُمید تھی. جو اُنہیں ایک بہت خوشی کی خبر کا کہتے عجلت میں باہر نکلے تھے.
” تم اور تمہارے باپ دادا نہ پہلے میرا کچھ بگاڑ پائے ہیں نہ ہی اب کچھ کر پاؤ گے. “
ذوالفقار بلوچ سیاہل خان کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوتا اُس کے اندر کے بھڑکتے غصے اور نفرت کو مزید ہوا دے گیا تھا.
جس پر کسی قسم کا ضبط نہ کرپاتے سیاہل اُن پر گن تان چکا تھا.
” رُک جاؤ سیاہل خان. گولی چلانے سے پہلے ایک نظر پلٹ کر دیکھ لو. ایسے نہ ہو بعد میں تمہارے پاس پچھتانے کے سوا کچھ باقی نہ رہے. “
سیاہل جو ٹریگر دبانے ہی والا تھا. ارشد بلوچ کی آواز پر پلٹا تھا. مگر سامنے کا منظر دیکھ سیاہل کو لگا تھا کسی نوکیلا خنجر عین اُس کے دل کے مقام پر پیوست کردیا ہوں.
ارشد خانی کے سر پر گن رکھے اُسے اپنی ڈھال بنائے کھڑے تھے.
” گن پھینک دو تم دونوں. ورنہ اِس لڑکی کی کھونپڑی اُڑانے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگے گا مجھے. “
ارشد کی دھمکی پر سیاہل نے نفی میں سر ہلاتے گن زمین پر پھنیک دی تھی.
” خانی مسلسل نفی میں سر ہلاتے اُسے ایسا کرنے سے منع کرتی رہی تھی. وہ جانتی تھی اُس کے یہ نام نہاد رشتے اُس کے شوہر کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے.
سیاہل کا دل چاہا تھا سب سے پہلے اِس گن سے اپنی کھونپڑی اُڑا دے جو خانی کی ضد پر اُسے اِس جگہ لانے کی غلطی کر بیٹھا تھا. مگر اب وہ مزید کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا. اِس لیے اُس نے خانی پر نظریں ٹکائے شہرام کو بھی گن نیچے پھینکنے کا اشارہ کیا تھا.
” نہیں پلیز…. شہرام ایسا مت کرو. یہ لوگ سیاہل کو مار دیں گے. پلیز مت کرو. “
خانی شہرام کو بھی گن نیچے پھینکتے دیکھ بُری طرح روتے اُس کے آگے گڑگڑائی تھی. اُس کی ضد کی وجہ سے سیاہل خطرے میں آگیا تھا.
شہرام بلوچ ایک طرف خاموشی سے کھڑا افسوس بھری نظروں سے اپنے باپ اور دادا کی پستی کی انتہا پر دیکھتا گن نیچے پھینک گیا تھا.
” میں نے کہا تھا سیاہل خان مجھے ختم کرنا تمہارے بس کی بات نہیں. “
ذوالفقار بلوچ نے سیاہل خان کو منجمند دیکھ زور دار قہقہہ لگایا تھا. جس کا سیاہل نے کوئی جواب نہیں دیا تھا. اُس کی نظریں تو خانی کی کنپٹی پر موجود گن پر تھی.
” بالکل سہی کہا سیاہل خان ختم نہیں کرسکتا آپ کو. کیونکہ آپ جس حد تک گر چکے ہیں. وہ سیاہل خان کا لیول بالکل نہیں ہے. “
شہرام نے زہر خند لہجے میں کہتے اپنے دادا کی جانب دیکھا تھا. جن کے کارنامے اُن کی سوچ سے بڑھ کر گھٹیا اور نیچ تھے.
” شہرام تمہیں بھی بہت جلد اِس غداری کا بدلہ مل جائے گا. جو تم اِس گھٹیا شخص کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف کرتے رہے ہو. “
ارشد جواب میں شہرام پر دھاڑا تھا.
” تمہاری مجھ دشمنی ہے خانی سے نہیں. اُسے کچھ نہیں ہونا چاہیئے. جتنی گولیاں مار کر تمہارا بدلہ پورا ہوتا ہے. میرے سینے پر اُتار دو. لیکن اگر میری بیوی کو زرا سی بھی تکلیف پہنچی تو اپنا انجام سوچ لینا. “
سیاہل خان کی نظریں خانی پر ہی تھیں. مگر اُس کی آواز کا سرد پن ارشد کے دل میں ایک سنسنی سی دوڑا گیا تھا.
لیکن وہ اتنا اچھا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتے تھے. اِس لیے اُنہوں نے گن کا رُخ سیاہل کی جانب موڑا تھا.
” نہیں پلیز…… سیاہل روکیں اِنہیں… میں مرجاؤں گی آپ کے بغیر….”
خانی کا رو رو کر بے حال ہوتی بُری طرح چیخی تھی. اِس وقت دونوں ہی اپنی محبت اپنا عشق بچانے کے لیے جان کی بازی تک لگانے پر تیار تھے. جب اچانک آتی گولی کی آواز پر خانی کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھیں. ایک کے بعد لگاتار تین گولیوں کی آوازیں آئی تھیں. اُس میں سیاہل کی جانب دیکھنے کی ہمت نہیں تھی. اتنا بڑا صدمہ برداشت نہ کرتے اُس کے حواس اُس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے. اور اُس کی گردن ایک جانب لڑھک گئی تھی.
ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتے خانی یہ نہیں دیکھ پائی تھی کہ گولیاں سیاہل پر نہیں بلکہ ارشد بلوچ پر چلائی گئی تھیں.
ارشد کے گولی چلانے سے پہلے ہی میران نے عین وقت پر پہنچتے سیاہل خان کو بچانے کی خاطر اپنے تایا پر حملہ کردیا تھا.
سیاہل نے جلدی سے آگے بڑھتے خانی کے بے ہوش وجود کو نہایت نرمی اور احتیاط سے اپنی بانہوں میں بھر لیا تھا.
ذوالفقار بلوچ نے وہاں سے بھاگنا چاہا تھا. مگر سیاہل نے جلدی سے جھک کر ارشد بلوچ کی گن اُٹھاتے میگزین کی ساری گولیاں اُن کے وجود میں اُتار دی تھیں.
شہرام نے نمکین پانیوں سے بھری آنکھیں سختی سے میچتے رُخ موڑ لیا تھا. کچھ ایسا ہی حال میران بلوچ کا بھی تا. جیسے بھی تھے. جتنا غلط بھی اُن کے ساتھ کرچکے تھے. مگر خون کا رشتہ تھا اُن کا. اپنا خون اِس طرح آنکھوں کے سامنے بہتے دیکھنا بہت اذیت ناک تھا.
مگر یہ دشمنی اور خونی کھیل ایسے ہی ختم ہوسکتے تھے. اُنہیں نے اپنے بڑوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی. وہ لوگ اِس بے جا کی دشمنی سے تنگ آچکے تھے. لیکن اُن کے بڑے اُن کی بات سمجھنے کے بجائے. اُلٹا اُنہیں کا قتل کرنے کے درپے ہوگئے تھے. شاید اُن کی قسمت میں ایسا انجام ہی لکھا تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” سیاہل….. نہیں نہیں…. سیاہل کو کچھ نہیں ہوسکتا. “
خانی نیند میں ڈرتے ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی تھی.
فون پر بات کرتا سیاہل فوراً اُس کے قریب آیا تھا.
” خانی میری جان کچھ نہیں ہوا مجھے. دیکھو میں بالکل سہی سلامت کھڑا ہوں تمہارے سامنے.”
سیاہل خانی کے قریب آتے اُس کا چہرا دونوں ہاتھوں میں تھامتے اُسے اپنی موجودگی کا یقین دلاتے بولا تھا.
سیاہل کو بالکل ٹھیک اپنے سامنے دیکھ خانی کی ویران آنکھوں میں زندگی کی رمق جاگی تھی. اُس نے کپکپاتی اُنگلیوں سے سیاہل کا چہرا چھوتے اپنے دل کی تسلی کرنی چاہی تھی.
” وہ گولی کس کو لگی تھی. “
خانی کی بھیگی آنکھوں میں سوال اُبھرا تھا. سیاہل خانی کی تکلیف محسوس کرتے اُسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا گیا تھا.
اور وہاں ہوا سارا واقع سنا گیا تھا. جسے سنتے خانی کافی دیر روتی رہی تھی. کاش کہ وہ لوگ وقت رہتے سمجھ جاتے اور یہ سب نہ ہوتا.
لیکن جب انسان بُرائی کی دلدل میں گر جاتا ہے. تو اُس کے لیے واپسی کا راستہ تلاش کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے. اور اُن لوگوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا.
اگر انسان دوسروں کے بارے میں گڑھا کھودتے زرا سا بھی اِس بات کا اندازہ لگا لے کہ وہ خود بھی اُس میں گرسکتا ہے تو وہ زندگی میں کبھی ایسا کرنے کے بارے میں نہ سوچے.
پولیس اور میڈیا کے آنے سے پہلے ہی وہ لوگ سارے ثبوت ختم کرتے وہاں سے نکل آئے تھے. پولیس والوں کی پوچھ گچھ جاری تھی. مگر ابھی تک کسی قسم کا ثبوت نہ مل پایا تھا. اور شاید نہ ہی کبھی مل پانا تھا.
جمشید بلوچ مزید یہ دشمنی نہیں رکھنا چاہتے تھے. اِس لیے اُنہوں نے اسد کو کچھ بھی بولنے سے منع کردیا تھا. اسد نے اپنے بیان میں صرف اتنا ہی بتایا تھا کہ اُسے باندھنے والے شخص کا چہرا وہ نہیں دیکھ پایا. اور نہ ہی باہر ہونے والے واقع کا اُسے کچھ علم ہے.
” خانی میری جان بس کرو. جو گزر گیا اُسے بھیانک خواب سمجھ کر بھول جاؤ. اب مجھے تمہاری آنکھوں میں ایک آنسو بھی نظر نہیں آنا چاہئے. “
خانی کو پورے پانچ گھنٹوں بعد ہوش آیا تھا. اب اُس کو رو رو کر ہلکان ہوتا دیکھ سیاہل کی برداشت سے باہر ہوچکا تھا. اِس لیے آخر میں قدرے سختی سے بولا تھا.
جس پر خانی نے اُس کے سینے سے سر اُٹھاتے خفگی بھری نظروں سے اُسے گھورا تھا.
” آپ تو مجھ سے بات ہی مت کریں. آپ کی ہمت کیسے ہوئی وہ سب کرنے کی.”
سیاہل کا گن کے سامنے کھڑے ہونے والا منظر یاد آتے خانی کی آنکھیں ایک بار پھر نم ہوئی تھیں.
وہ سیاہل کے سینے پر ہاتھوں کا دباؤ ڈالتے اُسے دور کرتے غصے سے بولی.
” اگر وہ نہ کرتا تو یہ کیسے جان پاتا کہ کوئی دیوانوں کی طرح چاہتا ہے مجھے. “
سیاہل اُس کی کوشش ناکام بناتے واپس اپنے سینے سے لگاتے اُس کے ماتھے پر لبو کا لمس چھوڑ گیا تھا.
جس پر خانی بھی مسکراتی آسودگی سے اُس کے سینے میں آسمائی تھی. یہ اُس کی محفوظ پناہ گاہ تھی. جس کے بغیر ایک پل بھی رہنا اُس کے لیے ناممکن تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
میران نے حویلی میں قید تمام عورتوں کو اُن کے گھر والوں تک پہنچا دیا تھا. بلوچ حویلی کا ماحول بالکل بدل چکا تھا. اب وہاں ظلم و ستم کا بالکل خاتمہ ہونے کے ساتھ ہر طرف خوشیاں اور محبتیں پھیل چکی تھیں.
جمشید بلوچ جو ماحول شروع سے اِس حویلی میں رائج کرنا چاہتے تھے اب سب ویسا ہی ہوچکا تھا. شہرام نگار کو سب کے سامنے اپنی بیوی کے طور پر متعارف کرواتے حویلی میں پوری عزت اور مان کے ساتھ لے جاچکا تھا. بشرا بیگم پہلے جوان بیٹے اور اب شوہر کی لاش دیکھ اپنا ذہنی توازن بالکل کھو چکی تھی.
دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی بالکل ختم ہوچکی تھی. جمشید بلوچ نے دوستی اور رشتے داری کی شروعات رکھتے احمر کے لیے عینا کا رشتہ سیاہل سے مانگا تھا. جس کا سیاہل نے عینا کی رضامندی جان کر مثبت جواب دے دیا تھا.
شہزاد اپنے کیے پر نادم تھا. اُس نے سیاہل سے معافی مانگتے اُس کی ہر سزا ماننے کی بات کی تھی. جس پر سیاہل نے اُس خانی کے پاس مدد کے لیے آئی عورت کی بیٹی سے نکاح کرنے کا حکم دیا تھا. جسے شہزاد بہت زیادہ بدنام کرچکا تھا. اُس عورت کے بیٹے کو سیاہل بہت پہلے ہی بازیاب کروا چکا تھا.
شہزاد نے سیاہل کا فیصلہ دلوں جان سے مانتے اُس لڑکی کو قبیلے کے سامنے پوری عزت اور مان بخشتے اپنا لیا تھا.
خانی تو تانیہ بیگم کو معاف کرچکی تھی. مگر سیاہل اُن کا دھوکا معاف کرنے کے لیے اتنی جلدی اپنے دل کو منا نہیں پایا تھا.
خانی سیاہل اور میران کی دوستی پر بے پناہ خوش تھی. اُسے لگا تھا. اُس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوگئی ہو.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” میران سائیں آپ بھی نا. چیز سامنے پڑی ہوتی ہے. اور آپ کو نظر ہی نہیں آتی. بارات نکلنے والی ہے اور آپ ابھی تیار ہی نہیں ہوئے. “
شہرین اپنا کام نیچے ادھورا چھوڑتی بار بار میران کے بلاوے پر جھنجھلائی سی اپنا لہنگا سنبھالتی اندر داخل ہوئی تھی.
جب اچانک اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ گھبرا کر پلٹی تھی. دروازے کے پاس میران کو سینے پر ہاتھ باندھے بالکل تیار دیکھ شہرین اُس کی شرارت سمجھتی اُسے غصے سے گھورنے لگی تھی.
” یہ بھی کوئی وقت ہے. یہ سب کرنے کا. ہٹیں آگے سے مجھے جانے دیں باہر. “
شہرین اُس کی آنکھوں کی گستاخیاں نظر انداز کرتے آگے بڑھی تھی.
” پیار کرنے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے بھلا. “
دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی میران اُسے اپنے حصار میں قید کرگیا تھا.
” میران پلیز… “
شہرین نے اُس کے جذبات پر بندھ باندھنا چاہا تھا. مگر ہر بار کی طرح اِس بار بھی میران بلوچ کی شدتیں اُسے بے بس کرگئی تھیں.
شہرین میران کے ساتھ بہت ہی خوشگوار زندگی بسر کررہی تھی. میران نے اپنے کہے کے مطابق شہرین پر اپنی محبتوں کی اِس قدر بارش کردی تھی کہ شہرین خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت ترین لڑکی تصور کرنے لگی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
خانی ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے لیے سمن کی جانب بڑھ رہی تھی. جب ڈائننگ روم سے گزرتے سیاہل نجانے کہاں سے نکل کر اُس کے سامنے آیا تھا.
” سیاہل آپ یہاں….. چھوڑیں میرا ہاتھ. حویلی مہمانوں سے بھری پڑی ہے. کسی نے دیکھ لیا تو.”
خانی اچانک ہونے والے حملے پر بوکھلائی تھی.
” تو دیکھ لیں. میری حویلی اور میری بیوی ہے. میں جو مرضی کروں. کسی کو کیا پرابلم ہے. کوئی روک کے تو دیکھائے. “
سیاہل خانی کو گجرے پہناتے اُس کے سہانے روپ کو آنکھوں میں بساتے شوخی سے بولا.
” سردار سائیں میں نے گجرے پہنے ہوئے ہیں. “
خانی نے اپنی مسکراہٹ دباتے سیاہل کے سامنے گجروں سے سجی کلائیاں کی تھیں.
” تو کیا ہوا میری طرف سے تین چار اور پہن لو. “
سیاہل اُس کی کلائیاں اپنے ہاتھوں میں جکڑتے باری باری اُن پر ہونٹ رکھتے لاپرواہی سے بولا.
اِس سے پہلے کہ سیاہل خان مزید پیشِ رفت کرتا کسی کے گلا کھنکھارنے پر دونوں چونک کر سیدھے ہوئے تھے.
” ہم نے کچھ نہیں دیکھا. “
دروازے پر آنکھوں پر ہاتھ رکھے کھڑی بی بی سائیں اور حسنہ بیگم کو دیکھ جہاں خانی شرم سے پانی پانی ہوئی تھی. وہیں سیاہل کا زور دار قہقہہ گونجا تھا.
” ہم تو صرف یہ بتانے آئی تھیں. کہ باہر بارات آچکی ہے. اور ہاں خانی بیٹا میرے کان جلد از وہ خوشخبری سننا چاہتے ہیں.”
بی بی سائیں جاتے جاتے پلٹی تھیں. اور معنی خیز بات کرتے پیار بھری نظروں سے اُن دونوں کی جانب دیکھتے واپس پلٹ گئی تھیں.
” یہ کس خوشخبری کی بات کررہی تھیں. “
سیاہل کچھ کچھ سمجھ تو گیا تھا. مگر پھر بھی خانی سے کنفرم کرنا چاہا تھا.
” ہماری اپنی بات ہے. آپ کو کیوں بتاؤں. اور دور رہیں مجھ سے کبھی بھی کہیں بھی شروع ہوجاتے ہیں. “
خانی اپنا لہو رنگ چہرا سیاہل سے چھپاتی دور ہوئی تھی.
” مجھے بتائے بغیر بھلا کیسے آئے گی یہ خوشخبری. “
سیاہل خانی کو دور کھسکتا دیکھ واپس اپنی جانب کھینچ چکا تھا.
وہ دونوں ہی اپنے عشق کی وفائیں ثابت کرتے اپنا سب کچھ ایک دوسرے کے نام کرتے ہمیشہ کے لیے ایک ہوچکے تھے. بہت سے طوفان اُن کی زندگیوں میں آکر گزر گئے تھے. لیکن اُن کی سچی محبت کی مضبوط بنیاد کو ہلا نہیں پائے تھے. وہ دونوں آگے بھی زندگی میں آنے والی ہر مشکل کا ایسے ہی ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرا کا ہاتھ تھامے بالکل تیار تھے.
ختم شد…
