No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
” ہمیں ایسا لگ رہا. مگر اِن کے لیے یہ لباس بہت ہی کمفرٹیبل ہوگا. اِن کو شروع سے ایسا لباس پہننے کی عادت ہی ہوتی ہے. دیکھو نا اُس چھوٹی بچی کو اُس نے کتنا ہیوی ڈریس پہن رکھا ہے. “
خانی کی نظریں ہاتھ میں سپارا پکڑ کر مدرسے سے نکلتی پانچ سال کی اُس بچی پر ٹھہر سی گئی تھیں جس نے ٹی پنک اور پیرٹ گرین کنٹراس کا بہت ہی بھاری کام والا فراک زیب تن کر رکھا تھا. لباس پر اُنہیں رنگوں کے دھاگے کے ساتھ کڑھائی کی گئی تھی. لیکن کڑھائی کے ساتھ ساتھ اُس بچی کے لباس پر مختلف جگہوں پر چھوٹے سائز کے شیشے بھی لگائے گئے تھے. اور ساتھ ہی اُس بچی نے بلوچی سٹائل میں دوپٹے کو سر پر اوڑھ کر کمر کے پیچھے سے لے جاکر اُس کا ایک پلو پنوں کی مدد سے کمر پر اور دوسرا آگے کی جانب بازو پر سیٹ کر رکھا تھا.
خانی کو وہ گلابی رخساروں والی بچی بہت پیاری لگی تھی. جس کی وجہ سے وہ خود کو اُس کے قریب جانے سے روک نہیں پائی تھی.
” ماشاﷲ کتنی کیوٹ ہو آپ. “
خانی گھٹنوں کے بل اُس بچی کے سامنے بیٹھتی بہت ہی محبت سے اُس کا گال چھوتے ہوئے بولی.
خانی کے والہانہ انداز پر ایک پل کے لیے وہ معصوم پری گھبرا سی گئی تھی. مگر اگلے ہی لمحے سنبھلتے اُسے خانی کے الفاظ تو سمجھ نہیں آئے تھے. لیکن خانی کا انداز دیکھ کر وہ جواب میں مُسکرا دی تھی.
” نم اراکان بسن ئے .”
وہ بچی بالوں کے بنائے گئے ہیئر سٹائل کو پیچھے جھٹکتی اپنی مقامی زبان میں اشتیاق سے خانی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی.
” یہ کیا بولی ابھی. کہیں یہ اپنی زبان میں ہمیں گالیاں تو نہیں دے رہی. “
عینا ناسمجھی سے خانی کی جانب دیکھتے بولی. کیونکہ اُسے بچی کے چہرے کے تاثرات کچھ ایسے ہی لگے تھے. اُس کی بات سن کر خانی نے مُسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا.
” یہ پوچھ رہی ہے آپ لوگ کہاں سے آئی ہو. “
خانی کو ہمیشہ سے مختلف زبانیں سیکھنے کا بہت شوق رہا تھا. اِس لیے اُس نے انا بی سے وہ ساری زبانیں سیکھ لی تھیں جو اُنہیں آتی تھیں. بلوچستان میں اُردو, انگلش , بلوچی کے علاوہ پشتو اور براہوی زبان بولی جاتی تھی. خانی نے یہ دونوں زبانیں انا بی سے سیکھی تھیں.
” نن کراچی آبس اُس.” ( ہم کراچی سے آئی ہیں)
خانی ایک بار پھر اُس بچی کا گال چھوتی کر اُس کی زبان میں ہی جواب دیتے بولی.
اُس بچی کو اپنے سے بھی زیادہ گلابی رنگت والی یہ سٹائلش سے پنک کُرتا شلوار میں ملبوس خانی پسند آئی تھی.
” نم بھاز جوان سہ.”( تم بہت خوبصورت ہو.)
وہ بچی بہت معصومیت سے بول کر خانی کی گال پر بوسہ دیتی کسی کے پُکارنے پر اُس جانب دوڑ گئی تھی. خانی نے اُس طرف دیکھا جہاں کچھ بڑی عمر کی لڑکیاں کھڑی بلا رہی تھیں. اور شاید اب کسی اجنبی سے بات کرنے پر اُس کی سرزنش بھی کر رہی تھیں.
” یہ کونسی زبان تھی پشتو تو نہیں لگ رہی مجھے.”
عینا خانی کے ساتھ مدرسے کی جانب بڑھتے بولی.
” یہ براہوی زبان ہے یہاں کے اکثر لوگ یہی بولتے ہیں.”
خانی کی بات پر عینا نے سمجھتے سر ہلا دیا. وہ اُس کا مختلف زبانوں کو سیکھنے کے شوق کے بارے میں جانتی تھی.
خانی نماز پڑھ کر جیسے ہی فارغ ہوئی اُس کی نظر اُسی ہال میں کچھ فاصلے پر بیٹھی ایک نورانی صورت والی معمر سی خاتون پر پڑی جو اپنے سامنے بیٹھی عورتوں کو کوئی درس دے رہی تھیں.
خانی عینا کو ابھی دعا میں مصروف دیکھ اُن کی جانب بڑھ گئی تھی.
” اسلام و علیکم! میرا نام خانی ہے. کیا میں آپ سے کچھ دیر بات کر سکتی ہوں. “
پانچ منٹ انتظار کرنے کے بعد اُن عورتوں کے اُٹھتے ہی خانی اُس خاتون کے سامنے آتے بولی. جس پر اُنہوں نے خانی کو اثبات میں سر ہلا کر پوچھنے کی اجازت دی.
” مجھے کافی ٹائم سے یہ بات اُلجھن میں مبتلا کر رہی ہے.کہ کیا درباروں پر جاکر ہاتھ اُٹھا کر وہاں موجود قبروں سے دعا مانگنا جائز ہے. کیا یہ شرک کے زمرے میں نہیں آتا. “
خانی نے بات ختم کرکے اُن کی جانب دیکھا. جو نرم مسکراہٹ سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھیں.
” بیٹا آپ کی اُلجھن بجا ہے. اکثر لوگ اِس بات میں بہت کنفیوز رہتے ہیں. اگر اِس چیز کو غلط مانتے بھی ہیں تو کھل کر نہیں کہہ پاتے. کیونکہ کسی کے لیے بھی شرک لفظ استعمال کرنا بہت بڑا ہے. اور اکثر تو اِس کو عام سی بات سمجھ کر اگنور کر دیتے ہیں. اور خود بھی اِس سب میں شامل ہو جاتے ہیں.”
اِسی دوران عینا بھی وہاں آبیٹھی تھی. اور اُسی خاموشی سے اُن کی بات سننے لگی تھی.
” مزاروں پر جاکر قبروں سے دعا مانگنا جائز نہیں ہے. اکثر لوگوں کہتے ہیں کہ ہم اُن قبروں سے نہیں بلکہ ﷲ کے اِن محبوب بندوں کے صدقے یا اُن کے وسیلہ سے دعا مانگ رہے ہیں.
اِس بات کے بھی دو معنی نکلتے ہیں اگر کہ وہ لوگ یہ کہہ کر دعا مانگ رہے ہیں کہ ﷲ کے محبوب بندے یعنی کہ حضرت محمد ﷺ کے اُمتی ہونے کہ واسطے میری یہ دعا قبول فرما دے. تو اُس میں ﷲ کے محبوب لوگوں کا واسطہ دینے کو کہیں نہ کہیں غلط نہیں مانا جاتا. کیونکہ اُس میں بھی مانگا ﷲ تعالیٰ سے ہی جارہا ہے کسی اور سے نہیں.
لیکن اگر کچھ لوگ مزاروں پر جاکر وہاں دفن بزرگوں سے مدد مانگنے کی دعا کرتے ہیں تو وہ صاف شرک ہے.
مگر کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے کہ ہم سیدھا اُس پاک ہستی مانگے. جو ہمیشہ اپنے خزانے اپنے بندوں پر لُٹانے کے لیے تیار رہتا ہے. جو کبھی نہیں دیکھا کہ اُس سے مانگنے والا امیر ہے یا غریب, گنہگار ہے یا پرہیز گار. وہ تو بس دینا جانتا ہے.
ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں. ﷲ کے سوا کوئی دینے والا نہیں ہے. عزت, زندگی, رزق اور اولاد سب کچھ ﷲ کے دربار سے ہی ملے گا.
اِسی وجہ سے تو ﷲ ایک جگہ انسان سے کہتا ہے. مجھے چھوڑ کر اوروں کے پاس کیوں جاتے ہو. کیا میرے خزانے ختم ہوگئے.
جس کے حوالے سے ﷲ تعالیٰ نے سورہ النمل میں واضح لفظوں میں ارشاد فرمایا ہے.
“” کس نے زمین آسمان بنائے, کس نے پانی کو برسایا. کون خوبصورت باغات پھل پھول لایا. ایک درخت پیدا کرکے دیکھا دو.
ایک پتا پیدا کرکے دیکھا دو. ایک تنکا بنا کر دیکھا دو. تو ہے کوئی معبود ﷲ کے ساتھ. بلکہ یہ لوگ راستے سے ہٹ رہے ہیں.””
ﷲ کہتا ہے جب تم جانتے ہو کہ میرے سوا کوئی نہیں تو کیوں بھاگے جاتے ہو مجھے چھوڑ کر.
شرک کرنے میں ﷲ کی یہی مخلوق سب سے آگے ہے. ہم اکثر ایسا ہی کرتے ہیں. جب ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو بجائے ﷲ سے مانگنے کے ہم باقی تمام انسانوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں. “
وہ دونوں پوری توجہ اور یکسوئی سے اُن کو سنتی اُن کی ہر بات اپنے دل میں اُترتی محسوس کررہی تھیں.
عینا کو لاعلمی میں کیے گئے اپنے کچھ دیر پہلے کے عمل پر شدید پچھتاوا ہوا تھا. وہ دل ہی دل میں اپنے ﷲ سے معافی مانگتے. ایک بار پھر اُن خاتون کی جانب متوجہ ہوئیں. جو اب کوئی واقعہ سنا رہی تھیں.
“ایک دفعہ ﷲ کے کچھ نیک بندے سفر پر جارہے تھے کہ اُنہیں پیاس لگی. آج کا دور تو تھا نہیں. وہ لوگ ایک کنویں پر پہنچے مگر وہاں پانی بہت نیچے تھا. اُنہوں نے اپنی پگڑی اُتاری اور جوتا اُس کے ساتھ باندھ کر کنویں میں اُتارا مگر پھر بھی وہ اُس تک نہ پہنچ سکا.
جس پر وہ لوگ مایوس ہوکر وہیں بیٹھ گئے. اتنے میں ایک پیاسا ہرن وہاں آنکلا. پانی بہت نیچے تھا جہاں ہرن نہیں جا سکتا تھا تو اُس نے آسمان کی طرف دیکھ کر اپنے رب کو پُکارا
” اے پانی والے بے زبان ہوں پانی پلا. “
پانی اُبلتا ہوا اُوپر اُٹھا اور منڈیر کے برابر آلگا. ہرن نے پانی پیا. ہرن کے طفیل انسان نے پانی پیا. ہرن جیسے ہی پلٹا پانی واپس نیچے چلا گیا.
تو وہ آدمی بے ساختہ بول اُٹھا کہ میں انسان ہوں میرے لیے تو پانی اُوپر نہیں آیا اور یہ جانور اِس کے لیے کیسے آگیا.
اُسی لمحے غیب سے آواز آئی تو رسی کا سہارا ڈھونڈتا رہا اُس نے مجھے پُکارا. اُس نے پانی والے رب کو پُکارا.
ﷲ کہتا ہے میرے سامنے مانگنے کے لیے مجھے تقویٰ نہیں چاہئے. بہت آسان سا طریقہ ہے.
میرے سامنے آکر آنسو بہاؤ رو کر دعا مانگو. دل سے مانگو میں تجھے سب کچھ دے دوں گا.
مگر ہم انسان پوری دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہتے ہیں. پر جو ہر چیز کا مالک ہے ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے. جو کسی کو اپنے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا ایک اُسی کے پاس نہیں جاتے.
میں یہ نہیں کہہ رہی درباروں مزاروں پر جانا غلط ہے. مگر اُن کی قبروں پر جاکر کچھ مانگنا جو. خود اب اِس دنیا میں نہیں رہے. اُن کو معاذﷲ اپنے رب کے برابر ٹھہرانا شرک ہے. “
اُن خاتون نے بہت ہی تفصیل سے بتاتے خانی کی ساری الجھنیں دور کر دی تھیں.
خانی اور عینا کو اُن سے مل کر بہت اچھا لگا تھا.
” خانی ہم دنیا کی بھیڑ میں اِس اتنے گم ہوچکے ہیں کہ اسلام سے بہت دوری پر آکھڑے ہوئے ہیں. ہمیں اپنی بزی لائف سے ٹائم نکال کر ایسے لوگوں کے پاس بھی کچھ وقت ضرور گزارنا چاہئے.”
عینا اُن سے بہت سے زیادہ متاثر ہوئی تھی.
تھوڑی دیر مزید وہاں بیٹھنے کے بعد وہ لوگ ایک بار پھر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوچکی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤
شام ڈھلتے وہ دونوں سونمیانی ساحل پر پہنچی تھی. جہاں غروب آفتاب بہت ہی حسین منظر پیش کررہا تھا. ساحل کے قریب ہی ایک جدید طرز کا گیسٹ ہاؤس بنا ہوا تھا. جس میں سیاحوں کا کافی رش تھا. مگر میران اُن کے لیے پہلے ہی روم بک کروا چکا تھا. اِس لیے اُنہیں زیادہ مشکل پیش نہیں آئی تھی.
خانی فریش ہوکر ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے بالکنی میں آکھڑی ہوئی تھی.
ساحل پر غروب آفتاب کے اِس سحر انگیز نظارے کو دیکھتے وہ چند لمحے کے لیے ہر چیز فراموش کر گئی تھی.
آسمانی رنگ کے خوبصورت سے لباس میں جس پر ریڈ کلر کے دھاگوں سے گلے سے لے کر دامن تک بہت ہی پیاری بیل بنائی گئی تھی.
وہ ابھی شاور لے کر آئی تھی. دھلے دھلے سے گلابی چہرے کے ساتھ کھڑی وہ اِس دلفریب منظر کا ہی حصہ معلوم ہورہی تھی. اُس کی ناک میں پہنی گئی نوز پن اُس کے حسین مُکھرے کو مزید چار چاند لگا دیتی تھی.
ٹھنڈی ہوا پانی پر پڑتیں سورج کی سنہری کرنیں, لہروں کا مدھم سا شور خانی کو سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا. یہاں آنے کا پچھتاوا تو دور کہیں بہت پیچھے رہ گیا تھا. وہ بہت سارے ممالک گھومی تھی. مگر وہ پورے یقین سے کہہ سکتی تھی. کہ ایسا قدرتی حُسن اُس نے کہیں اور نہیں دیکھا تھا.
ٹھنڈی ہوا اُس کے گیلے کھلے بالوں میں گُھستی اُس کو بہت بھلی محسوس ہورہی تھی.
عینا کے فریش ہوکر آتے ہی وہ دونوں باہر نکل آئی تھیں. ساحل کی جانب جاتی گیسٹ ہاؤس کی لکڑی کی بنی خوبصورت سی راہداری عبور کرتیں وہ ساحل کی جانب آگئی تھیں. جہاں ابھی بھی بہت سارے لوگ موجود تھے.
ساحل کی سنہری ریت پر ننگے پیر چلنا اُنہیں بہت فرحت بخش رہا تھا. وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتیں. صاف شفاف سمندری پانی کی لہروں کی جانب بڑھ رہی تھیں.
” یار کتنی حسین جگہ ہے. میں تو اپنے ہنی مون پر یہیں آؤں گی. اپنے ہبی کے ساتھ تو یہ جگہ اور بھی زیادہ حسین ہوجائے گی. “
عینا دور تک پھیلے پانی پر نظریں جمائے مسکراتے ہوئے بولی.
” ہاں واقعی بہت خوبصورت جگہ ہے. مگر دوستوں کے ساتھ بھی یہ بہت حسین ہے. “
خانی نے عینا کی بات پر اُسے گھورتے ہوئے جواب دیا جس پر وہ کھلکھلا کر مُسکرا دی تھی.
خانی چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی لہروں کی جانب بڑھ آئی تھی. اُسے گیلی ریت کے ساتھ پانی میں چلنا بہت اچھا لگ رہا تھا.
عینا گھر سے کال آجانے کی وجہ سے شور سے دور کچھ فاصلے پر جاکر کھڑی تھی.
خانی کو اچانک اپنے پیر پر پانی کے علاوہ بھی کچھ محسوس ہوا تھا. اُس نے جیسے ہی جھک کر دیکھا. اُس کی زور دار چیخ برآمد ہوئی تھی. بچھو کی شکل کا لیکن زرا بڑے سائز میں سفید رنگ کا کیکڑا تھا. جسے بوکھلاہٹ میں پیر سے پڑے جھٹکنے کے چکر میں خانی بُری طرح سے لڑکھڑا گئی تھی.
اِس سے پہلے کہ وہ پانی میں گر کر لہروں کی خوراک بنتی اُس نے اپنے پاس سے گزرتے اُس بے حس انسان کا بازو تھامہ تھا جو اُسے گرتا دیکھ بچانے کے بجائے وہاں سے دور جارہا تھا.
خانی کے بازو تھامنے پر بھی وہ بنا ہاتھ آگے بڑھائے اُس پر جیسے احسان کیے خاموشی سے اُسے سہارا دیئے کھڑا رہا تھا. اُس کے کھلے بال ہوا سے اُڑ کر مقابل کے چہرے کو چھونے لگے تھے. خانی نے سنبھل کر کھڑے ہوتے جیسے ہی نظریں اُٹھا کر اُس شخص کا چہرا دیکھنا چاہا تھا. وہ اُس سے پہلے ہی خانی کا ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکتے پلٹ گیا تھا.
اُس کے اِس طرح ایکدم دور کرنے پر خانی لمحہ بھر کو پھر سے لڑکھڑائی تھی. مگر اِس بار اُس نے خود کو سنبھال لیا تھا. خانی کی نظریں اُس کی مردانہ سیاہ بالوں سے بھری مضبوط چوڑی کلائی میں پہنے بلیک دھاگوں سے بنے بریسلٹ پر چند لمحوں کے لیے ساکت ہوئی تھیں.
مگر جلد ہی حیرت سے نکلتے اُس کی نظریں دور جاتے اُس شخص پر ٹک گئی تھیں. اونچا لمبا کسرتی جسم , سیاہ قمیض شلوار میں ملبوس کندھوں پر آگے کی جانب سکن کلر کی چادر لپیٹے وہ اُسے کوئی عام انسان نہیں لگا تھا. جس سختی سے اُس نے خانی کا ہاتھ تھام کر اپنے بازو سے جھٹکا تھا. اُس کی گرفت کا سرد پن خانی کو ابھی تک محسوس ہورہا تھا.
جس شان سے وہ گیلی ریت کو اپنے پیروں تلے روندتے چلا جارہا تھا. اُس سے اُس کی شخصیت کا رعب و دبدبہ دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کررہا تھا.
” ہاؤ روڈ کتنا بے حس شخص ہے یہ. اگر کسی کی مدد کردے تو اِس کا کیا بِل آئے گا. خانی تم ٹھیک ہو. “
دور سے یہ سب دیکھتی عینا خانی کے قریب آتی فکرمندی سے بولی.
” خانی کہاں کھوئی ہوئی ہو تم میں تم سے پوچھ رہی ہوں. تم ٹھیک ہو. کہیں لگی تو نہیں. “
عینا خانی کو ایک ہی جگہ کھوئے دیکھ اُس کو اپنی جانب متوجہ کرتے بولی.
” ہاں میں ٹھیک ہوں. تم نے اِس شخص کا چہرا دیکھا کون تھا یہ. “
خانی عینا کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھتے بولی.
” نہیں میری جانب اُس کی بیک تھی میں نہیں دیکھ سکی اُسے. کیوں کیا ہوا. اُس نے کچھ کہا تم سے. “
عینا نے بھی اُس جانب دیکھا جہاں وہ شخص اب کافی دور جا چکا تھا.
” مجھے لگتا ہے میں اِس شخص کو جانتی ہوں. میں نے اِس کے ہاتھ میں میران بھائی کے جیسا بریسلٹ دیکھا ہے. مجھے دیکھنا ہے یہ شخص کون ہے. “
خانی تیز قدموں سے اُسی جانب بڑھی تھی.
” خانی یہ کیا بات ہوئی. اب کیا میران بھائی کے جیسا بریسلٹ اِس دنیا میں اور کوئی نہیں پہن سکتا کیا. “
عینا بھی خانی کے ساتھ چلتی عجیب و غریب منطق پر حیران ہوتے بولی.
” نہیں پہن سکتا کیونکہ وہ بریسلٹ انا بی نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے. وہ منفرد ڈیزائن نہ تو کسی اور کے پاس ہوسکتا ہے. نہ وہ کوئی اور بنا سکتا ہے. اور اِس شخص نے جو بریسلٹ پہنا ہے یہ سیم ٹو سیم ویسا ہی ہے. مجھے بات کرنی ہے اِس سے. “
خانی اُس شخص کو گاڑی کی جانب بڑھتا دیکھ اردگرد کی پرواہ کیے بغیر دوڑ لگا چکی تھی.
” ایکسکیوزمی می مسٹر میری بات سنیں. “
خانی اُس کو گاڑی کے پاس پہنچتا دیکھ دور سے چلائی تھی. جو با آسانی اُس شخص کی سماعتوں تک پہنچ چکی تھی. مگر اِس بار بھی وہ سنی اَن سنی کرتا آگے بڑھا تھا.
” سائیں وہ لڑکی آپ.. “
اُس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھول کر کھڑے ملازم کے الفاظ اُس کی اُٹھی سرد نگاہوں کی وجہ سے حلق میں ہی اٹک گئے تھے. کسی روبوٹ کی طرح وہ شخص فوراً سر جھکا گیا تھا.
خانی جیسے ہی قریب پہنچی وہ شخص گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا تھا.
” حد ہوتی ہے یار. کیسا شخص تھا یہ. اگر میری بات سن لیتا تو کیا کمی آجاتی اِس کی شان میں. بلاوجہ اتنا بھاگی اِس کے پیچھے. ایڈیٹ.”
خانی پھولی سانسوں کے ساتھ غصے بھری نظروں سے گاڑی کی جانب دیکھتے ایک طرف بنے ہٹ کی جانب آگئی تھی.
” تو تمہیں کہا کِس نے تھا. اِس کے پیچھے جاؤ. جو شخص اتنا اکڑو, مغرور اور بے حس ہے کہ اپنی آنکھوں کے سامنے تمہیں گرتے دیکھ زرا سا ہاتھ بڑھا کر بچانے کی کوشش نہیں کی. بلکہ اُلٹا تمہارا ہاتھ بھی جھٹک دیا. وہ کہا تمہاری بات سننے کے لیے رُکے گا. “
عینا اُس کے پاس کرسی پر بیٹھتی ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل خانی کی جانب بڑھاتی بولی. جس پر خانی خاموش ہی رہی تھی. اُس کا موڈ اچھا خاصہ خراب ہوچکا تھا.
خانی کی نظر ریت پر چلتے سفید کیکڑے پر پڑی تھی. اور تب اُس نے نوٹ کیا تھا کہ یہ کیکڑے بڑی مقدار میں وہاں موجود ہیں.
” کتنا خوبصورت ہے نا یہ. “
عینا اُس کی نظروں کے تعاقب میں اُس سفید کیکڑے کی جانب دیکھتے بولی.
” یہ اُس شخص سے بڑا ایڈیٹ ہے. “
خانی کو یاد آیا تھا کہ اِسی کے اچانک پاؤں پر آجانے کی وجہ سے وہ گرنے والی تھی.
اِس لیے وہ اُن سارے رینگتے سفید کیکڑوں کو غصے سے دیکھتی وہاں سے اُٹھ آئی تھی.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” بھیا آپ سے ایک بات پوچھنی تھی. کیا آپ نے انا بی سے اپنے جیسا بریسلٹ کسی کو بنوا کر دیا ہے کیا.”
خانی نے اِسی بات کی تصدیق کرنے کے لیے پہلے انا بی کو کال کی تھی. مگر وہ شاید کہیں مصروف ہونے کی وجہ سے کال اُٹھا نہیں پائی تھیں. اِس لیے اُس نے میران کو کال کرکے حال احوال پوچھنے کے بعد ڈائریکٹ اپنے مطلب کی بات پوچھی تھی.
جسے سنتے میران کی پیشانی پر واضح بل نمایاں ہوئے تھے.
” گڑیا تم ایسا کیوں پوچھ رہی ہو. کیا تم نے کسی شخص کے پاس ویسا بریسلٹ دیکھا ہے کیا.”
میران بلوچ نے جواب دینے کے بجائے اُلٹا سوال کیا تھا.
جبکہ اُس کے لہجے پر خانی کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تھا.
” نہیں ویسا نہیں اُسی طرح کا ایک بریسلٹ دیکھا میں نے. مجھے شاید پھر کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. “
خانی نے صاف جھوٹ بولتے فوراً بات سنبھالنی چاہی تھی. مگر دوسری جانب بھی میران بلوچ تھا. خانی کے جھوٹ کے باوجود بھی ساری بات اُس کی سمجھ میں آچکی تھی.
تھوڑی دیر مزید خانی سے بات کرکے جیسے ہی اُس نے فون رکھا ایک نمبر سے جو میسج اُسے موصول ہوا وہ میران کے غصے میں مزید اضافہ کرگیا تھا.
” تم لوگ کہاں مرے ہوئے ہو. میں نے کہا تھا کہ میری بہن کے قریب کوئی بھی مشکوک شخص بھٹکتے دیکھ فوراً مجھے اطلاع کرنا. مگر لگتا ہے تم لوگ سو رہے ہو وہاں. اگر میری بہن کو زرا سا بھی نقصان پہنچا تو تم لوگوں کی چمڑی ادھیڑ کر رکھ دوں گا.
وہ شخص میری بہن کے اتنے نزدیک پہنچ گیا اور تم لوگ وہاں کھڑے ہوکر تماشہ دیکھتے رہے.”
میران اپنے آدمیوں پر چلاتے طیش کے عالم میں بولا.
اُس کی آواز سن کر دروازے پر آئی انا بی خاموشی سے واپس پلٹ گئی تھیں.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
” خانی پلیز دیکھو زرا ڈور پہ. لگتا ہے ویٹر آیا ہے کھانا لے کر. “
کمبل میں دبکی عینا نے آنکھیں موندے خانی کو مخاطب کیا. وہ اب بہت زیادہ تھک چکی تھی.
خانی نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے موجود لوگوں کو دیکھ وہ ششدر رہ گئی تھی.
سب سے آگے تین بلوچی لباس میں ملبوس خواتین کے ہاتھ میں بڑے بڑے تھال اُٹھائے کھڑی تھیں. جن کو خوبصورت بلوچی کام والے دوپٹوں سے ڈھکا گیا تھا. اُن کے پیچھے دو مرد بھی تھے. جن کے ہاتھوں میں بھی تقریباً یہی چیزیں تھیں.
” آپ شاید غلطی سے یہاں آگئے. یہ سب ہم نے نہیں منگوایا یہ ہماری چیزیں نہیں… “
خانی کی بات منہ میں ہی رہ گئی تھی. جب وہ عورتیں سائیڈ سے راستہ باتیں اندر داخل ہوئیں اور وہ تھال ٹیبل اور صوفے پر سجانے لگی تھیں.
” دیکھئے آپ کو میری بات سمجھ نہیں آرہی کیا. یہ سب چیزیں ہماری نہیں ہیں. آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. “
خانی کی باتوں کو وہ لوگ ایسے اَن سنا کررہے تھے. جیسے اُن کو کچھ سنائی ہی نہ دے رہا ہو.
عینا بھی بیڈ پر بیٹھی آنکھیں پھاڑے یہ سب دیکھ رہی تھی.
خانی نے ایک بار پھر کچھ بولنا چاہا تھا. جب اُن میں سے سب سے پہلے اندر داخل ہونے والی عورت خانی کے قریب آتے اُس کے ہاتھ میں کوئی چٹ تھمامتی باقی سب کے ساتھ دروازہ بند کرتی جیسے آئی تھی اُسی تابعداری کے ساتھ واپس نکل گئی تھی.
” واؤ خانی کتنے پیارے ڈریسز ہیں یار. اور یہ جیولری دیکھو مائنڈبلوئنگ.”
عینا ایک ایک تھال سے کپڑا اُٹھاتی متاثرکن لہجے میں بولی.
” عینا سٹاپ اٹ. یہ ساری چیزیں ہماری نہیں ہیں. “
خانی فولڈ کی گئی چٹ کھولتے عینا کو سرزنش کرتے بولی.
” خانی اسجد بلوچ
آپ مہمان ہیں ہماری اور ہم بہت ہی مہمان نواز لوگ ہیں. اِس لیے ہم چاہتے ہیں. آپ بھی ہمیں اپنی خدمت کرنے کا موقع دیں.
کل دوپہر گیارہ بجے ہم آپ کو اپنی حویلی میں دعوت نامہ دیتے ہیں. اور اگر آپ ہمارے تحفے میں بھیجے گئے کپڑوں میں سے ہی کچھ زیب تن کریں گی تو ہمیں بہت اچھا لگے گا. ہم جانتے ہیں آپ ہماری خواہش کا احترام کریں گی.
اور ویسے بھی آپ انکار تو کر ہی نہیں سکتیں. کیونکہ ہمیں انکار سننے کی عادت نہیں.
آپ کا منتظر سردار سیاہل خان “
خانی کے ساتھ ساتھ عینا بھی پھٹی پھٹی نظروں سے وہ تحریر پڑھتے کچھ پل تو بول ہی نہیں پائی تھی.
” اوہ شٹ تو وہ شخص سچ میں سردار سیاہل موسیٰ خان کا جاسوس تھا. اُس نے اُسے ہماری کہیں ساری باتیں بتا دیں. “
عینا ہونٹوں پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے بولی.
جس پر خانی نے شکر ادا کیا تھا کہ اُس نے چٹ کے شروع میں لکھے صرف خانی کے لکھے پورے نام پر غور نہیں کیا.
” ہماری نہیں صرف تمہاری. “
خانی کا دل بُری طرح دھڑک رہا تھا. مگر اِس وقت وہ عینا کے سامنے کچھ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی.
” یہ کیا کررہی ہو تم. “
خانی کو بہت مشکل سے وہ بھاری تھال اُٹھاتے دیکھ عینا آگے بڑھی تھی.
” باہر پھینکنے لگی ہوں. تاکہ اُس وڈیرے کو اُس کے اِس بے ہودہ دھمکی آمیز خط کا جواب مل سکے. اور تم وہاں کیوں کھڑی ہو. یہاں آکر یہ اُٹھانے میں میری ہیلپ کرو. “
خانی نے اپنی پوری ہمت اکھٹی کرتے تھال اُٹھا لیا تھا.
” خانی کیا کررہی ہو یار. اُنہوں نے صرف دعوت ہی تو دی ہے. اور وہ بھی اتنے اچھے طریقے سے. کیا ہوجائے گا تھوڑی دیر کے لیے چلے جائیں گے. اتنے بڑے لوگ ہیں بلاوجہ کی دشمنی مول لینے کی کیا ضرورت ہے.”
عینا نے اُسے اپنی بات سمجھانا چاہی تھی.
جاری ہے.
