No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
” واٹ تو اِس کا مطلب آپ کو وہ سزا دینے. اور کال کوٹھری میں مروانے والی بات جھوٹ تھی. “
خانی ششدر سی نگار کی شکل دیکھ رہی تھی.
” آدھا سچ اور آدھا جھوٹ. مجھے ادا سائیں نے سزا تو سنائی مگر اُس کو عملی جامہ نہیں پہنایا. اُن کے نزدیک میں قصور وار تو بہت تھی. میں نے اُن کی عزت, اعتبار اور بھروسے کا چکنا چور کیا تھا. مگر اتنی بڑی قصوروار بھی نہیں کہ مجھے اُس پر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے.
ادا سائیں کو وہاں اصول کے مطابق قبائلی لوگوں کے سامنے یہ فیصلہ سنانا پڑا تھا. تاکہ ذوالفقار اور اُس کے خاندان والے اِس بات کو مسئلہ بنا کر پھر نہ کوئی فساد کھڑا کردیں. “
نگار ندامت کے احساس سے سرجھکائے خانی کو سچائی بتانے لگی تھی.
” تو جب شہرام نے تمہارے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کیا. تمہاری مخبری کروائی تو تم پھر بھی اُس سے نکاح کیوں کررہی ہو. کیا اِس سب میں بھی تمہارا وہ بھائی اپنا حکم چلا رہا ہے. کیونکہ سنا ہے دوسروں پر حکم چلانا بہت پسند ہے اُسے. “
خانی کی سوئی ایک بار پھر سیاہل خان پر ہی آکر رکی تھی.
” نہیں ادی ایسا کچھ نہیں ہے. لگتا ہے آپ کو آدھا سچ ہی پتا ہے.
دونوں خاندانوں کی دشمنی تو ہمیشہ عروج پر ہی رہی تھی. مگر دونوں خاندان ہی اِس بات سے بے خبر تھے کہ اِس دشمنی کے اندر ایک بہت گہری دوستی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے. اور وہ دوستی تھی سیاہل خان اور شہرام بلوچ کے درمیان.
دونوں نے ایک ہی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی. جہاں اکثر اُن کی ملاقات ہوئی. مگر دشمنی کی وجہ سے دلوں میں موجود نفرت نے اُنہیں ایک دوسرے کے قریب نہیں جانے دیا.
ادا سائیں شہر میں گارڈز اپنے ساتھ کم ہی رکھتے تھے. جب ایک دن ادا سائیں کا بہت بُرا ایکسیڈنٹ ہوا. اُس ٹائم روڈ پر پہلے پہنچنے والی گاڑی شہرام بلوچ کی تھی. ادا سائیں کو زخمی دیکھ شہرام اُنہیں مزید نقصان پہنچا سکتا تھا. یا وہی مرنے کے لیے چھوڑ کر جاسکتا تھا. مگر اُس نے ایسا کچھ نہیں کیا.
بلکہ اُس نے ادا سائیں کو اپنی گاڑی میں ڈال کر فوری طور پر ہاسپٹل پہنچایا.
ادا سائیں کے لیے اِس بات پر یقین کرنا بہت مشکل تھا کہ ذوالفقار بلوچ کا پوتا یہ سب کر سکتا ہے. جب اُس کا باپ دادا سیاہل خان کے خون کے پیاسے تھے. تو شہرام نے موقع ملتے ہی ایسا کیوں نہیں کیا تھا.
ادا سائیں اُس وقت یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے. کہ یہ بھی اِن کی کوئی چال ہے یا اُن کی معلومات کے مطابق شہرام بلوچ واقعی ہی ایسا ہی تھا.
لیکن بہت جلد شہرام سے بات کرکے ادا سائیں کی یہ کنفیوژن بھی دور ہوچکی تھی. ادا سائیں ایک ہی نظر میں انسان کو جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. اُنہیں شہرام سے مل کر سمجھ آگئی تھی. کہ اُس نے یہ سب خلوص نیت سے ہی کیا تھا.
اور اُس دن سے دونوں کے درمیان دوستی کا رشتہ شروع ہوا تھا. جسے اب چھ سال ہوچکے ہیں.
اور اتنی دشمنیوں اور جھگڑوں کے باوجود اِس دوستی کی مضبوط چٹان کو کوئی نہیں ہلا پایا.”
اِن پے در پے کھلتے رازوں نے خانی کو گھما کر رکھ دیا تھا.
” اگر شہرام بلوچ سیاہل خان کا دوست ہے تو وہ اُس دن سزا دینا.وہ کال کوٹھری کا اتنا بڑا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی. شہرام بلوچ کا دکھی ہونا, رونا وہ سب کیا تھا. اور جو آپ کی کزن سمن نے مجھے بتایا کیا وہ سب جھوٹ تھا. بنا مزید کچھ بھی گھمائے پھرائے مجھے جلدی سے ساری سچائی بتاؤ ورنہ اُن دو فضول انسانوں کے ساتھ ساتھ میں نے تمہیں بھی نہیں چھوڑنا. میرے دماغ کا جتنا فالودہ تم لوگوں نے بنانا تھا وہ بنا چکے. اب مزید نہیں. ورنہ میں نے اِن کی اِس دوستی کی پول سب کے سامنے کھول دینی ہے.
میں ایسے ہی بے وقوفوں کی طرح اِس غم میں روتی رہی کہ ایک بیچاری بے قصور لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا. جبکہ وہ لڑکی مزے سے یہاں بیٹھ کر اپنی شادی انجوائے کر رہی ہے.”
خانی غصے سے پاگل ہوتی شہرام بلوچ اور سیاہل خان کے ساتھ ساتھ نگار کو بھی لپیٹتی چبا چبا کر بولی تھی.
اُس کا بس نہیں چل رہا تھا ہر بات کا ماسٹر مائنڈ سیاہل موسیٰ خان اُس کے سامنے ہو اور وہ اُس کا حشر بگاڑ دے.
نگار کو خانی کا غصہ جائز لگا تھا. اُس کا بھائی خانی کو خود سے نفرت کروانے کے چکر میں اچھا خاصہ گھما چکا تھا.
” سمن نے کچھ بھی جھوٹ نہیں بولا. لیکن اُسے صرف آدھا سچ پتا تھا. اُس نے وہی آپ کو بتایا. ادا سائیں نے سب سے مخالفت موڑ لے کر میرے شوق کو دیکھتے مجھے پڑھنے کی اجازت دے دی. وہ ہر بار میرے امتحان کے دنوں میں میرے ساتھ جاتے تھے. ایک دو بار ادا سائیں کو میں نے فون پر شہرام بلوچ سے بہت دوستانہ انداز میں بات کرتے سنا تھا. مجھے بہت زیادہ حیرت ہوئی تھی. مگر ادا سائیں سے کچھ اِس طرح کی خاص بے تکلفی نہیں تھی کہ ایسے سوالات پوچھ سکتی. مگر اتنا سمجھ گئی تھی کہ دونوں کہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں. ایک دن کسی بہت ضروری کام کی وجہ سے مجھے گارڈز کے ساتھ ہی جانا پڑا تھا. اُس دن میری ملاقات شہرام بلوچ سے ہوئی. وہ شاید کسی کام سے وہاں یونیورسٹی آئے ہوئے تھے. میری اسائنمنٹ کا کچھ پرابلم تھا. جس کی وجہ سے میں لیٹ ہورہی تھی. اور ادا سائیں کی ہدایت تھی شام ڈھلنے سے پہلے مجھے حویلی واپس پہنچنا تھا.
میں اسائنمنٹ میں فیل ہوجانے کے ڈر سے بہت پریشان تھی. اور اُس ٹائم رونے لگی تھی. جب شہرام بلوچ نے میری اسائنمنٹ لے کر سبمٹ کروانے کا یقین دلاتے مجھے واپس جانے کا کہہ دیا تھا. میں نہیں جانتی تھی کہ وہ ذوالفقار بلوچ کا پوتا ہے.
مگر شہرام بلوچ اسائنمنٹ پر لکھا میرا نام دیکھ کر جان گئے تھے کہ میں سیاہل خان کی بہن ہوں. اُنہوں نے اپنے وعدے کہ مطابق میری اسائنمنٹ سبمٹ کروا دی تھی. اُس کے بعد بھی ایسے ہی ہم دونوں کی کئی بار اتفاقیہ ملاقاتیں ہوتی رہی تھیں. مجھے شہرام بلوچ بہت اچھے لگنے لگے تھے. وہ بہت ہی دھیمے مزاج کہ عزت دینے والے ایک سلجھے ہوئے انسان تھے.
میں جان ہی نہیں پائی تھی کب میرے دل میں شہرام بلوچ کے لیے محبت کے جذبات پیدا ہوگئے تھے. اور کہیں نہ کہیں مجھے اُن کی آنکھوں میں بھی ایسے ہی جذبات نظر آتے تھے. لیکن مجھے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ مجھے اگنور کرنے لگے ہیں.
شاید اِس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھی میرے جذبات سے واقف ہوچکے تھے. مگر دونوں خاندانوں کی حقیقت جانتے وہ پیچھے ہٹ گئے تھے.
لیکن بچپن سے ادا سائیں نے میری ہر خواہش پوری کی تھی. اور اِسی بات نے مجھے ضدی بنا تھا. مجھے اپنی پسند کی ہر چیز حاصل کرنے کی عادت ہوگئی تھی.
میں جانتی تھی ادا سائیں اِس بار بھی میری خوشی کی خاطر انکار نہیں کریں گے.
یہی سوچ کر میں نے شہرام بلوچ کے آگے اپنی محبت کا اظہار کر دیا تھا.
جس پر شہرام بلوچ نے صاف انکار کرتے مجھے اپنے بارے میں بتا دیا تھا اور یہ بھی کہ چاہے دنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے دونوں خاندان کبھی نہیں مانیں گے. شہرام بلوچ نہ ہی ادا سائیں سے اپنی دوستی خراب کرنا چاہتے تھے.
مگر میں اُس وقت شاید جذبات میں اپنی خوشی کی خاطر ہر بات سے غافل ہوچکی تھی. مجھے کسی بھی قیمت پر اپنی محبت حاصل کرنی تھی. اور اپنی اِسی ضد میں اپنے جان وارنے والے بھائی تک کو فراموش کر گئی تھی.
میں نے شہرام بلوچ کو بس اتنا ہی کہا تھا کہ اگر بزدلوں کی طرح اپنی محبت سے پیچھے ہٹتے وہ ایسا کررہے ہیں تو میں اُنہیں کبھی معاف نہیں کرو گی. اور اپنے بچپن کے منگیتر شہزاد خان سے شادی کرنے کے بجائے موت کو گلے لگا لوں گی.
شہزاد مجھے بلکل بھی پسند نہیں تھا بہت ہی عجیب سا تھا. میری شروع سے اُس سے نہیں بنی تھی. کیونکہ وہ میرے ادا سائیں سے بہت جیلس ہوتا تھا. ہمیشہ ہر بات میں اُن کی مخالفت ہی کرتا تھا.
میری باتیں سن کر شہرام بلوچ نے بھی آخر کار اپنا فیصلہ بدل لیا تھا. مگر ہم دونوں ہی ادا سائیں کو اِس بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتے تھے. وہ جتنے بھی اچھے سہی مگر ذوالفقار بلوچ کے خاندان سے کسی قسم کا کوئی رشتہ رکھنے کو تیار نہیں تھے. اور یہی ہم اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کر گئے تھے.
ادا سائیں نے بہت ٹرسٹ کرکے مجھے یونیورسٹی بھیجا تھا. اور میں اُن کا وہی مان اور بھروسہ قائم نہیں رکھ پائی تھی.
ہم لڑکیاں اکثر پیار اور محبت میں اِس قدر اندھی ہوجاتی ہیں. کہ اپنے باپ بھائی جو ہمارے لیئے نجانے کتنی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں اُن کی عزت غرور مٹی میں ملا کر سب کے سامنے اُن کا سر جھکانے سے پہلے ایک بار بھی نہیں سوچتیں. اور پھر پوری زندگی کے پچھتاوے اپنے نام لکھوا لیتی ہیں.
میں نے بھی وہی سب کرتے مجھ پر بھروسہ کرنے والے بھائی کو پورے قبیلے کے سامنے شرمندہ کر کے رکھ دیا تھا.
ہمیں بلکل بھی معلوم نہیں تھا کہ میرے حویلی سے بھاگنے کے بارے میں کسی کو زرا سی بھی بھنک پڑ چکی ہے. شہزاد خان نے میرے پیچھے اپنے آدمی چھوڑ رکھے تھے جو اُسے میری شہرام بلوچ سے ملاقات کے بارے میں سب بتاتا تھا.
شہزاد چاہتا تو اُسی وقت ادا سائیں کو بتا کر ہمیں پکڑوا سکتا تھا. مگر اُس کے دماغ میں تو کوئی اور ہی سازش پک رہی تھی.
وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح ادا سائیں کو بدنام کرکے سرداری سے ہٹا دے. اِس لیے اُس نے اِس سب کو ادا سائیں کے خلاف استعمال کرنا چاہا تھا.
ادا سائیں کو بھی شاید کچھ کچھ اِس بات کی بھنک پڑ چکی تھی. اُنہوں نے جس بھی وجہ سے مگر مجھے یونی جانے سے روک دیا تھا.
اُنہی دنوں بی بی سائیں نے میری اور شہزاد خان کی شادی کی باتیں کرنا شروع کردی تھیں. جسے سنتے میں نے شہرام کو ہمارے کیے گئے فیصلے کے مطابق فرار ہونے کا کہہ دیا تھا.
مجھ پر نظر رکھے شہزاد خان نے حویلی کہ اندر ایک ملازمہ کو میری مخبری کے لیے لگا رکھا تھا. اُسے جیسے ہی میرے فیصلے کی زرا سی بھنک پڑی اُس نے اُسی دن خود کو سامنے نہ کرتے ارباز بلوچ تک یہ خبر پہنچا دی تھی.
اور حویلی سے فرار ہوتے مجھے پکڑوا دیا گیا تھا. ادا سائیں اُس دن حویلی میں نہیں تھے. کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے. بی بی سائیں نے بہت کوشش کی تھی. اِس بات کو چھپانے کی مگر ارباز بلوچ نے راتوں رات یہ بات پورے قبیلے میں پھیلا دی تھی.
جس پر کچھ شر پسند لوگوں کی وجہ سے بہت سے قبیلے والے چاہتے تھے. مجھے سزا دی جائے. اِس بات کا سارا پریشر ادا سائیں پر تھا.
زندگی میں پہلی بار میں نے ادا سائیں کی آنکھیں جھکی دیکھی تھیں. میرا دل چاہا تھا میں خود کو اُسی لمحے ختم کر لوں.
کاش اگر ہم لڑکیاں ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے خود سے جُڑے جان نچھاور کرنے والے رشتوں کہ بارے میں ایک بار سوچ لیں تو بہت ساری بربادی سے بچ سکتی ہیں.
میں چاہتی تھی میری اتنی گھٹیا حرکت کی ادا سائیں مجھے سزا دیں. مجھے کاری قرار دے دیں. مگر ایک بار مجھ سے بات تو کریں. میرے سامنے تو آئیں. لیکن ادا سائیں تو میری شکل دیکھنے کے روادار بھی نہیں تھے. اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے تھا. میں نے اُن کا خود پر کیا مان , بھروسہ جو مٹی میں ملا دیا تھا.
ادا سائیں نے سب کے سامنے تو مجھے اتنی بڑی سزا سنا دی تھی. مگر وہ ایسا کر نہیں پائے تھے. اُنہوں نے یہ سب صرف ارباز کے فساد پھیلانے کے لیے آگے لگائے آدمیوں کا منہ بند کرنے کے لیے کیا تھا.
مجھے کال کوٹھری میں ڈالا تو گیا تھا مگر صرف آدھے گھنٹے کے لیے. پھر وہاں سے نکال کر یہاں شفٹ کردیا گیا. اور تب سے میں یہاں پر ہوں. ادا سائیں کچھ دن پہلے میرے پاس آئے تھے.
مگر نہ پہلے کی طرح اُنہوں نے میرے ماتھے پر بوسہ دے کر مجھے اپنے سینے سے لگایا تھا. اور نہ مجھے پیار سے پُکارا تھا.
بس اجنبیوں کی طرح یہ بتایا تھا کہ وہ میرا نکاح شہرام بلوچ سے کروانے والے ہیں. اور میری خواہش کے مطابق مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی سونپتے اب ہمیشہ کے لیے میرے فرض سے دستبردار ہورہے ہیں. آج کہ بعد میرا اُن سے کوئی رشتہ نہیں رہے گا.
ادی میں شہرام سے بہت محبت کرتی ہوں. مگر اُس سے بھی پہلے میرے لیے میرے ادا سائیں ہیں. میں نے اپنی نادانی میں بہت بڑی غلطی کر دی. مگر اب اُس سب پر بہت پچھتا رہی ہوں. میں ادا سائیں سے بہت پیار کرتی ہوں. اگر اُنہوں نے ایسا کیا تو میں جی نہیں پاؤں گی. مرجاؤں گی میں.”
نگار آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ بات ختم کرتی آخر میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی.
جس پر خانی نے آگے ہوتے اُسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا.
” نگار چپ ہوجاؤ. ایسا کچھ نہیں ہوگا. خون کے رشتے بھی بھلا اِس طرح کہنے سے ٹوٹتے ہیں کیا. اُس نے صرف غصے میں کہا ہوگا. وہ تم سے اتنا پیار کرتا ہے وہ بھلا بنا اپنی اتنی پیاری بہن سے ملے رہ پائے گا.
نگار کسی کو چاہنا محبت کرنا گناہ نہیں ہے. مگر اُس کو حاصل کرنے کے لیے ایسے قدم اُٹھانا بہت سنگین ہے. تم نے جذبات میں آکر بہت بڑی غلطی کی. لیکن اگر تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے. تم دل سے نادم ہو تو اِس سے اچھی کوئی بات نہیں ہوسکتی. “
خانی نگار کا بھیگا چہرا صاف کرتی اُسے محبت سے سمجھاتے ہوئے بولی.
” کیا آپ ادا سائیں سے بات کریں گی میرے لیے. وہ مجھے معاف کردیں.”
نگار نے امید بھری نظروں سے خانی کی طرف دیکھا تھا.
” میں.؟ میری بھلا کہاں سنے گا وہ اکڑ…”
خانی نے سیاہل خان کے بارے میں مزید گل افشانی کرنے سے دانتوں تلے زبان دیتے خود کو روکا تھا. جب سمن اپنے بھائی کے بارے میں کچھ نہیں سن پائی تھی تو نگار تو اُسے سمن سے بھی کہیں زیادہ اپنے بھائی کی دیوانی لگی تھی.
“جی آپ. میں جانتی ہوں آپ ہی ہیں جو اُن سے اِس طرح بات کہہ سکتی ہیں. وہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں. کبھی نہیں ٹالیں گے آپ کی بات. آپ جانتی ہیں اُن کے والٹ میں ہر وقت آپکی تصویر رہتی ہے. اور خان حویلی کے سٹڈی روم جہاں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں. وہاں کی ایک وال پر اُسی کی سائز کی آپ کی ایک بہت خوبصورت پینٹنگ لگی ہے. میں نے ایک دن چھپ کر وہاں دیکھا تھا کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں.
آپ نے اپنی اتنی خوبصورت تصویر کبھی نہیں دیکھی ہوگی. جتنے خوبصورت انداز میں ادا سائیں نے آپ کی وہ پینٹنگ بنائی ہے.
اور مزے کی بات پتا ہے آپ کو. اُس پر آپ کے چہرے پر غصے اور خفگی کے تاثرات نمایاں ہیں. جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ غصے میں تھیں. پہلے میں نہیں جانتی تھی کہ وہ پینٹنگ اور تصویر کس کی ہے. مگر آج آپ کو دیکھ مجھے ساری بات سمجھ آگئی.”
خانی کو سب بتاتے نگار کے چہرے پر بہت خوبصورت مسکراہٹ تھی.
جبکہ خانی ہونقوں کی طرح اُس بات سنتے سوچنے لگی تھی کہ جس محبت کے بارے میں ہر کوئی اُس کے آگے گواہی دیتا پھر رہا ہے. اُسے کیوں نظر نہیں آئی وہ محبت.
وہ دونوں ابھی باتوں میں ہی مصروف تھیں. جب ملازمہ نے آکر اُنہیں نکاح کے شروع ہونے کا بتایا تھا.
” آپ تو بلکل بھی تیار نہیں ہیں. پلیز میری خاطر ہلکی سی لپسٹک لگا لیں. اور یہ گجرے ہی پہن لیں. “
نگار کے بہت اسرار کرنے پر خانی نے نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کا دل رکھنے کے لیے. ہلکی ہلکی ریڈ لپسٹک لگا کر دونوں کلائیوں میں گجرے سجا لیے تھے.
نگار کو خانی اتنے میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی. وہ سیاہل خان کی وجہ سے اُس کے لیے بہت سپیشل تھی.
خانی نے نگار کا گھونگھٹ گراتے اپنے شیفون کے دوپٹے کو سر پر ٹھیک کرتے بلیک چادر کو اپنے گرد مزید اچھے سے لپیٹ لیا تھا.
جب تھوڑی دیر بعد مولوی صاحب کے ساتھ, سیاہل موسیٰ خان اور اُن کے پھوپھو زاد فیصل نے اندر قدم رکھا تھا.
اُسی لمحے خانی کی نظریں سیاہل خان کی جانب اُٹھی تھیں. جو پہلے سے ہی اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا. وائٹ کلف لگے قمیض شلوار کے اُوپر بلیک کوٹ پہنے وہ ہمیشہ کی طرح وجاہت کا شاہکار لگ رہا تھا. مگر ہمیشہ کی طرح چہرا ویسا ہی سپاٹ اور سرد تاثرات لیے ہوئے تھا. نظروں کے تصادم میں ایک طرف غصہ, بدگمانی اور شکوے تھے تو دوسری طرف بہت کچھ کہتا ایک انوکھا سا احساس تھا.
خانی نے گھبرا کر جلدی سے نظریں پھیر لی تھیں. اُسے لگا تھا اگر وہ مزید اُس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی تو شاید باقی ہر چیز سے غافل ہوجائے گی. اُس کی سیاہ گہری آنکھیں مقابل کو اپنا اسیر بنانے کی طاقت رکھتی تھیں.
خانی نگار کے ایک طرف بیٹھی تھی. جبکہ سیاہل خان نگار کی دوسری جانب جا بیٹھا تھا. جس پر نگار کے گرد پھیلایا بازو خانی نے سیاہل خان سے ٹچ ہونے کے ڈر سے نامحسوس انداز میں پیچھے کرلیا تھا.
مگر آج بھی یہ حرکت سیاہل خان سے مخفی نہیں رہ پائی تھی.
نکاح ہوجانے کے بعد مولوی جی اور فیصل خان کے ساتھ ساتھ سیاہل بھی نگار کے سر پر اجنبیوں کی طرح ہاتھ رکھتے باہر نکل گیا تھا.
جس کے بعد نگار کے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے.
” دیکھا آپ نے ادا سائیں کس طرح اجنبیوں کی طرح میرے سر پر ہاتھ پھیر کر چلے گئے. اُنہوں نے جو کہا تھا وہ ویسا ہی کر رہے ہیں. “
بات کرتے نگار کے آنسوؤں میں روانی آئی تھی.
” اچھا پلیز اتنا رو رو کر تو تم اپنی طبیعت خراب کر لوگی. کچھ میرے بھائی کا بھی خیال کرو. اور پریشان مت ہو تم. میں تمہارے اُس اُلٹی کھونپڑی والے بھائی سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہوں. “
خانی اُسے مُسکرا کر شہرام کے حوالے سے چھیڑنے کے ساتھ ساتھ تسلی دیتے باہر نکل آئی تھی.
لمبی سی راہداری عبور کرتے اُس کے کان میں شہرام کی آواز پڑی تھی.جس کا تعاقب کرتے وہ ایک روم کی جانب مڑی جہاں اُس کی نظر اندر کھڑے فون پر بات کرتے شہرام بلوچ پر پڑی تھی.
” تم مجھے سیدھی طرح نہیں بتا سکتے تھے. کہ یہاں لا رہے ہو. اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی. “
خانی کے ناک کرکے اندر آنے پر شہرام فون بند کرتا مسکراتے ہوئے اُس کی جانب متوجہ ہوا تھا.
” اچھا جی میں نے ڈرامہ کیا. جسے اپنی صفائی کے لیے کچھ بولنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا. ویسے ابھی تو آثار اچھے لگ رہے ہیں. لگتا ہے میں بے قصور ثابت ہوگیا ہوں. ظالم بہن نکاح کی مبارک باد ہی دے دو. “
شہرام نے اُس کا اچھا موڈ دیکھ کہا.
” اوہ آئم سوری. بہت بہت مبارک ہو. ﷲ تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے اور دنیا کی پوری نظروں اور شر سے دور رکھے. آمین “
خانی خوشی کا اظہار کرتی خلوص نیت سے دعا دیتے بولی. اُسے اُن دونوں کے نکاح کی دل سے خوشی ہوئی تھی.
” ویسے ایک بات مجھے ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی کہ سیاہل خان جب اپنی بہن سے اِس قدر سخت ناراض ہے. تو تمہیں کیسے معاف کردیا. تم بھی تو اُتنے ہی قصور وار ہو. تم نے بھی تو اُسی طرح اعتبار توڑا ہے اُس کا. “
خانی اپنی آخری اُلجھن بیان کرتے بولی.
” اتنی آسانی سے کہاں. بہت پاپڑ بیلنے پڑے. اور پوری طرح سے معاف کیا. ناراضگی ابھی تک برقرار ہے. سیاہل ہم دونوں سے ناراض ہے ہماری محبت سے بلکل بھی نہیں.
محبت کرنے والے محبت میں جدائی کا درد جانتے ہیں. اُوپر سے چٹانوں جیسا سخت دکھنے والا سیاہل خان شاید اپنے اندر محبت بھرا دل رکھتا ہے. اِس لیے تو اتنے آرام سے نکاح کروا دیا. ہم دونوں ہی اپنی بے وقوفی پر بہت پچھتا رہے ہیں. اگر پہلے دن ہی سیاہل کو بتا دیا ہوتا تو یہ سب نہ ہوتا.
میں نے نگار کو اِس سزا سے بچانے کی بہت کوشش کی. اپنے گھر والوں سے لڑا. سیاہل خان سے ملنے کی خاطر کئی بار اُس کی حویلی گیا. مگر مجھے اندر نہیں جانے دیا گیا.
جس دن نگار کو سزا سنائی گئی اُس دن میں سیاہل خان کے آگے بہت رویا تھا. اُس دن مجھے لگا تھا وہ دنیا کا سب سے ظالم انسان ہے.
اِس لیے اُس دن آپ کے پوچھنے پر میں نے غصے میں سیاہل خان کی سنگدلی پر بہت کچھ بول دیا تھا. جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے. سیاہل غصہ والا اور اصول پسند انسان ضرور ہے. مگر سنگدل اور ظالم بلکل بھی نہیں ہے.
مجھے سیاہل نے ایک ہفتے بعد اصل حقیقت سے آگاہ کیا. “
شہرام کو آج بھی اپنی اُس دن کہی باتیں یاد کرتے ندامت ہوئی تھی. اُس نے غصے اور غلط فہمی میں سیاہل خان کے بارے میں بہت بُرا بھلا کہہ دیا تھا.
شہرام کی بات سن کر خانی کو بھی ایک پل کے لیے بہت بُرا لگا تھا. کہ وہ بھی اُسے اُس کی بہن کا قاتل بول بول کر کتنی باتیں سنا چکی تھی. مگر پھر آگے سے سیاہل خان کا رویہ یاد آتے وہ لاپروائی سر جھٹک گئی تھی.
” اچھا اب اتنا بھی غلط نہیں بولا تھا تم نے. وہ شخص اتنا بھی دودھ کا دھلا نہیں ہے. بہت کچھ جانتی ہوں میں اُس کے بارے میں. ویسے ہیں کہاں وہ سردار صاحب مجھے بات کرنی ہے اُس سے. “
خانی زیادہ دیر سیاہل موسیٰ خان کی تعریف ہضم نہیں کرپائی تھی. اِس لیے شہرام کو فوراً ٹوک دیا تھا.
مگر اپنے ہی دھیان میں وہ اِس بات سے بے خبر تھی کہ سیاہل خان کمرے میں داخل ہوتا اُس کے پیچھے کچھ فاصلے پر آکھڑا ہوا تھا.
” آپ کیا جانتی ہیں اُس کا تو پتا نہیں مجھے. مگر میں اتنا جانتا ہوں کہ آغا جان واقعی آپ دونوں کے نکاح کا فیصلہ کرکے اپنی اچھی خاصی دشمنی نبھا گئے ہیں سیاہل خان سے. “
شہرام آنکھوں میں شرارت لیے معنی خیزی سے بولا.
” کیا مطلب. “
خانی نے اُس کی بات پر ناسمجھی سے اُسے گھورا.
” بھئی آپ جیسی شیرنی کو جھیلنا بھلا کسی ٹارچر سے کم ہے کیا. “
شہرام کی بات پر سیاہل خان کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ دوڑ گئی تھی.
” ویسے جس کو آپ ڈھونڈ رہی تھیں. وہ آپ کے پیچھے ہی کھڑا ہے. اُنہیں کو بتائیے گا کیا جانتی ہیں آپ اُن کے بارے میں. “
شہرام اپنی جانب خونخوار نظروں سے گھورتی خانی کو اپنی جگہ سے اچھلنے پر مجبور کرتا وہاں سے نکل گیا تھا.
جبکہ پلٹ کر اپنے پیچھے کھڑے سیاہل خان کو دیکھ خانی کا رنگ اچھا خاصہ اُڑ چکا تھا.
اُسے معلوم ہی نہیں تھا کہ سیاہل خان کب یہاں آیا تھا اور اپنی شان میں کی گئی خانی کی کون کون سی تعریفیں سن چکا تھا.
خانی نے بھی شہرام کے پیچھے نکلنا چاہا تھا. مگر اُس سے پہلے ہی سیاہل خان ہاتھ بڑھا کر دروازہ لاک کرچکا تھا.
خود کو بہت کمپوز کرنے کے باوجود خانی کا دل بُری طرح سے دھڑک گیا تھا. وہ اُس سے گھبرا تو اب بھی نہیں رہی تھی. اِس وقت بھی وہ سیاہل خان سے دوبدو مقابلہ کرنے کو تیار تھی.
مگر آج اُسے سیاہل خان کی نظریں بہت کنفیوز کررہی تھیں.
جاری ہے.
