Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

اِس سے پہلے کے خود کے اتنے بے وقوف بنائے جانے پر خانی سیاہل سے لڑتی باہر دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تھی.
آواز پر خانی نے گھبرا کر سیاہل کی جانب دیکھا تھا.
” ضرور تمہاری بی بی سائیں ہونگی. اگر اُنہوں نے مجھے یہاں. دیکھ لیا تو. “
خانی کے چہرے پر پکڑے جانے کا خوف اُبھرا تھا.
” میرے خیال میں سیاہل خان کے قریب ہوتے خانی اسجد بلوچ کو اُس کے علاوہ کسی سے نہیں گھبرانا چاہیے. “
سیاہل کو خانی کے چہرے پر بکھرا خوف بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا.
” لیکن باہر والوں کو دروازہ لاک دیکھ شک تو ہوگیا ہوگا. اب میں جاؤں گی کیسے. “
خانی کا خوف کم نہیں ہورہا تھا. کیونکہ دروازے پر ابھی بھی دستک جاری تھی.
سیاہل نے خانی کا چہرا ٹھوڑی سے تھام کر اپنے سامنے کیا تھا.
” خانی اسجد بلوچ سیاہل خان پر اعتبار کرتے اِس حویلی میں داخل ہوئی ہے کہ سیاہل وہاں موجود ہے اُسے کچھ نہیں ہونے دیگا. میں چاہتا ہوں. تم وہ اعتبار قائم رکھو.”
سیاہل کی بات پر خانی نے ہونقوں کی طرح اُسے گھورا تھا. اِس کا مطلب اُس کی ہر بات پہنچائی جارہی تھی.
” باہر اور کوئی نہیں خدا بخش ہے. میں نے ہی بلایا ہے اُسے. وہ تمہیں یہاں سے بحفاظت شہرام تک پہنچا دے گا.
اور ہاں سردارنی صاحبہ میں جانتا ہوں. آپ کے پاس بھی اِس نام کی وجہ سے بہت پاور ہے. مگر میرے لوگ چاہے کبھی بھی کچھ بھی ہوجائے. مجھ سے چھپا کر کچھ نہیں کرتے. چاہے وہ انا بی ہوں. یا شہرام بلوچ یا پھر خدا بخش. اِس لیے آئندہ ایسا کوئی پلان ہو تو چپکے سے مجھے بتا دینا. میں نہیں چاہتا میری بیوی اِس طرح باقیوں کے سامنے بے وقوف بنے. “
سیاہل خان نے بات کے اختتام پر خانی کے کان کی لوح پر بوسہ دیتے اُس کا غصے, خجالت شرمندگی اور حیا سے لال ہوتا چہرا دیکھا تھا.
” سیاہل خان تم سے بڑا پلانر واقعی اِس مخلوق میں تو کوئی نہیں ہوسکتا. “
خانی غصے کے مارے کچھ بول ہی نہیں پائی تھی. وہ سب کے ہاتھوں بے وقوف بنی تھی. وہ بھی اپنی وجہ سے. واقعی جو لوگ سیاہل خان کے لیے ہمہ وقت اپنی جان دینے کو تیار رہتے تھے. وہ بھلا خانی کے کہنے پر اتنی بڑی بات کیسے چھپا سکتے تھے.
خانی جتنی بے وقوف سیاہل خان کے سامنے یا اُس کے چکر میں بنی تھی. شاید ہی زندگی میں کبھی اتنی بنی ہو.
” مگر جو بھی ہے. آئی جسٹ لو ایٹ. اتنی بہادری کا مظاہرہ صرف سیاہل خان کی بیوی ہی کرسکتی ہے. ورنہ میری حویلی میں میری اجازت کے بغیر داخل ہونا ناممکن ہے. “
سیاہل نے خانی کی آنکھوں میں جھانکتے کہا. سیاہل کو اِس وقت خانی کی نگاہوں میں اپنا عکس صاف نظر آیا تھا.
” کیا خانی اسجد بلوچ سیاہل خان سے کچھ کہنا چاہتی ہے. “
سیاہل نے خانی کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی.
” سیاہل خان پلیز ہمیشہ ایسے ہی رہنا. میں ظاہر نہیں کرتی مگر تمہارا روڈ بی ہیوئیر مجھے بہت خوف زدہ کردیتا ہے. اور تمہارا غصہ میں کبھی دیکھنا بھی نہیں چاہتی.
باقی سب کے لیے سیاہل خان جیسا مرضی رہے مگر خانی اسجد بلوچ کے لیے ہمیشہ اُس کی نرم سائیڈ ہی رہنی چاہئے. “
خانی نے سیاہل خان کے چوڑے سینے پر سر رکھے شاید پہلی بار کھل کے اپنے دل کی بات اُس کے سامنے رکھی تھی.
اب بھی یہ بات سیاہل کی آنکھوں میں دیکھ کر کرنے کی ہمت نہیں تھی اُس میں.
سیاہل نے جھک کر اُس کے ماتھے پر لب رکھتے اُسے اُس کی بات کا اقرار بخشا تھا.
مگر وہ دونوں ہی نہیں جانتے تھے کہ آنے والا وقت اُن کے ساتھ کیسا کھیل کھیلنے والا ہے. جس نے شاید اُن کی پوری زندگی بدل کر رکھ دینی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” آغا جان ایسا کچھ نہیں ہے. جیسا آپ سمجھ رہے ہیں. خانی کا سیاہل خان سے کوئی رابطہ نہیں ہے. آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. “
میران ذوالفقار بلوچ کی بات پر سختی سے انکاری ہوا تھا.
” تم ابھی نہیں جانتے میران سیاہل خان کو. بہت شاطر انسان ہے. یہی وجہ ہے کہ اتنے سالوں سے سرداری میں ٹکا ہوا ہے. اُس کی ہر جانب نظر ہوتی ہے. اور جہاں تک میری معلومات ہیں خانی کو اُس نے بہت ہی ہوشیاری سے اپنی باتوں میں ڈھال کر اپنی طرف کرلیا ہے. “
آغا جان کی بات میران کا دل کسی صورت ماننے کو راضی نہیں تھا.
آغا جان کے کمرے میں اِس وقت میران, ارباز, اسد اور ارشد بلوچ موجود تھے. ذوالفقار بلوچ کو پہلے دن سے ہی شک تھا کہ خانی سیاہل خان سے رابطے میں ہے. مگر کوئی خاص ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے وہ یہ بات میران کے سامنے نہیں لا پائے تھے.
مگر کچھ دنوں پہلے اُنہیں خانی کے خان حویلی جانے کے حوالے سے خبر ملی تھی. جو اُنہوں نے پکے ثبوت کے ساتھ میران کے سامنے پیش کردی تھی. جس پر ابھی بھی یقین کرنا میران کے لیے بہت مشکل ہورہا تھا.
” نہیں اگر خانی سیاہل خان سے رابطے میں ہے تو وہ مجھ سے اتنی بڑی بات نہیں چھپا سکتی. وہ مجھے دھوکہ کبھی نہیں دے گی. “
میران کو اپنی بہن ہر بہت بھروسہ تھا. خانی کی خوشی کی خاطر تو وہ اپنی جان بھی دینے کو تیار تھا. مگر سیاہل خان جیسے دشمن کے ہاتھوں اُسے کبھی نہیں سونپ سکتا تھا.
” اگر رابطے میں ہے بھی سہی تو اِس میں دھوکے یا کسی اچنبھے کی بات تو بلکل بھی نہیں ہے. آخر بیوی ہے اُس کی. ویسے بھی بھائی سے زیادہ شوہر کا حق ہوتا عورت پر. “
اسد جو کب سے یہ سب سن رہا تھا. میران کی غلط بات پر بول پڑا تھا. جس پر وہاں موجود تمام نفوس اُسے کڑے تیوروں سے گھور کر رہ گئے تھے.
” آغا جان مجھے کچھ وقت چاہئے اگر یہ سچ ہوا تو میں آپ کی ہر بات ماننے کو تیار ہوں. “
میران کی بات پر ارباز کے ہونٹوں پر مکروہ مسکراہٹ بکھر گئی تھی.
آغا جان بھی اُس کے فیصلے سے خوش ہوئے تھے. وہ جانتے تھے اگر وہ سب لوگ مل کر کام کرتے تو ضرور سیاہل خان کآ خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوسکتے تھے.
اُنہوں نے میران کو خانی کے سامنے یہ ظاہر کرنے سے منع کیا تھا کہ اُسے اصل بات کا علم ہے.
سیاہل خان دو مہینوں کے اندر اچھی طرح ریکور ہوچکا تھا. اُن لوگوں کی بہت کوششوں کے بعد بھی وہ سردار سیاہل موسٰی خان کو اُس کی جگہ سے ہلانا تو دور اُس کے مقابل بھی نہیں پہنچ پائے تھے. یہی بات اُن میں سے کسی کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تھی. ارباز تو اپنے باپ اور دادا سے بھی زیادہ اُتاولہ ہورہا تھا. وہ ہر قیمت پر شاہی جرگے کی سرداری سیاہل خان سے چھیننا چاہتا تھا. مگر اُس کا ہر حربہ ہر بار ناکام ہی جاتا تھا.
اِس بار وہ سب لوگ مل کرکوئی بڑا منصوبہ ہی بنانا چاہتے تھے. جس میں اُنہیں خانی کا ساتھ درکار تھا. اور اِس بات کی ذمہ داری اُنہوں نے میران کو ہی سونپی تھی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

” خانی میں چاہتا ہوں تم اب سیاہل خان سے خلع لینے کے لیے کورٹ میں کیس دائر کر دو. کیونکہ وہ شخص شرافت سے تو تمہیں چھوڑنے والا ہے نہیں.”
خانی جو پہلے سے ہی سیاہل خان پر ہوئے حملے کے بارے میں میران سے پوچھنے کا ارادہ رکھتی تھی. اور اتنے وقت سے ایسا کوئی موقع نہیں مل پایا تھا. آج میران کو اپنے کمرے میں آتا دیکھ وہ بات کرنے کے بارے میں سوچ چکی تھی.
مگر میران کی اتنی غیر متوقع بات پر وہ کچھ دیر تو بول ہی نہیں پائی تھی.
” بھائی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں. “
خانی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے.
” کیوں کیا تم ایسا نہیں چاہتی. “
میران جانچتی نظروں سے خانی کی جانب دیکھ رہا تھا.
” نہیں میں ایسا بلکل بھی نہیں چاہتی. مگر آپ کے اِس اچانک فیصلے کی وجہ ضرور جاننا چاہتی ہوں. کیا یہ آپ کی مرضی ہے یا اِس حویلی کے باقی لوگ ایسا چاہتے ہیں. “
خانی نے بنا ڈرے میران کو اپنے دل کی بات بتا دی تھی.
خانی کا اقرار میران کے تن بدن میں آگ لگا گیا تھا. آغا جان کی ہر بات اُسے سچ ہوتی محسوس ہوئی تھی. اِس کا مطلب اُس کی بہن نے اُس کے سب سے بڑے دشمن کی وجہ سے اُس کا اعتبار توڑ دیا تھا. اُس شخص سے رابطے میں رہ کر اُس کا بھروسہ ,مان سب چکنا چور کردیا تھا.
میران کو اِس وقت سیاہل خان کے ساتھ ساتھ خانی پر بھی بہت غصہ آرہا تھا. لیکن غصے میں وہ یہ بات فراموش کرگیا تھا. کہ سیاہل خان خانی کے لیے کوئی غیر نہیں اُس کا شوہر تھا. جس سے ملنے سے اُسے کوئی بھی نہیں روک سکتا تھا.
” تو کیا تم اپنی مرضی اپنی خواہش پر چلو گی. یا اپنے بھائی کا مان رکھتے اُس کے فیصلے کا احترام کرو گی. “
میران کی بات پر خانی کو جھٹکا لگا تھا. اُسے اِس وقت سامنے بیٹھا شخص ہمیشہ اُس پر جان لوٹانے والا اُس کی ہر خواہش پوری کرنے والا بھائی نہیں لگا تھا. بلکہ یہ تو کوئی روایتی سا اپنی مرضی تھوپنے والا انسان لگا تھا. جو اُس کا بھائی پر گز نہیں ہوسکتا تھا.
” میں اِس بات کا جواب دینے سے پہلے ایک بات پوچھنا چاہتی ہوں. اور مجھے اِس کا جواب بلکل سچا چاہئے. میرے سر کی قسم کھا کر بتائیں کیا سیاہل خان پر یہ قاتلانہ حملہ آپ نے کروایا تھا. “
خانی میران کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھتی سوالیہ نظریں اُس پر گاڑھتے بولی. اُس نے دل ہی دل میں دعا کی تھی کہ ﷲ کرے میران نے ایسا نہ کیا ہو.
” نہیں تمہاری قسم اِس بار کا حملہ میں نے نہیں کروایا. مگر اِس سے پہلے میں دو بار حملہ کروا چکا ہوں. مجھے اُس شخص سے نہ ہی دشمنی رکھنی ہے نہ دوستی. میرا ریزن اِس کے پیچھے صرف یہی تھا کہ وہ تمہیں چھوڑ دے. اِس نام نہاد رشتے سے آزاد کردے. میں جانتے بوجھتے اپنی بہن کو جہنم میں نہیں جھونک سکتا. وہ شخص بہت ظالم ہے. جیسا نظر آتا ہے ویسا بلکل بھی نہیں ہے. “
میران کے لفظ لفظ میں سیاہل خان کے لیے نفرت بول رہی تھی.
میران کے جواب پر جہاں خانی کو تسلی ہوئی. وہیں اُس کے آخری الفاظ خانی کو نئی ٹینشن میں مبتلا کر گئے تھے.
میران اتنی نفرت کیوں کرتا تھا آخر سیاہل خان سے. کیا یہ صرف شروع سے چلی آرہی دشمنی تھی. یا اِس کی وجہ کچھ اور تھی.
” بھائی آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے. وہ ایسا بلکل بھی نہیں ہے. آپ ایک بار اپنی آنکھوں سے اس دشمنی کی پٹی کو ہٹا کر تو دیکھیں. وہ بہت اچھا ہے بھائی. یہاں سب لوگ جان بوجھ کر اُسے ایسا بولتے ہیں.
میں اُس سے بہت پیار کرتی ہوں. اُس کے بغیر نہیں رہ سکتی. آپ پلیز میری خاطر سب بھلا کر ایک بار اُس سے دوستی کا ہاتھ بڑھا لیں. اگر اُس کے بعد اُس کی جانب سے کچھ بھی غلط ہوا تو آپ جو کہیں گے میں کروں گی. پلیز بھائی میری خاطر صرف ایک بار. “
خانی کے لیے یہ دونوں رشتے ہی بہت خاص اور پیارے تھے. وہ دونوں کو ہی کسی قیمت پر کھونا نہیں چاہتی تھی. اِس لیے وہ میران کے ہاتھ تھامتی مان بھرے لہجے میں بولی. جیسے اُسے یقین ہو اُس کا بھائی اُس کی خوشی کی خاطر کچھ بھی کرسکتا ہے.
بات کے دوران روکنے کی بہت کوشش کے باوجود اُس کے آنسو دونوں گال بھگو گئے تھے.
میران جس نے بچپن سے لے کر اب تک اپنی بہن کی آنکھ میں ایک آنسو نہیں آنے دیا تھا. آج اُسے ایسے روتے دیکھ اُس کے دل کو کچھ ہوا تھا. یہ سب اُس سیاہل موسی خان کی وجہ سے ہورہا تھا. میران کا دل چاہا تھا ابھی وہ شخص اُس کے سامنے ہو اور وہ اُس کا اپنے ہاتھوں سے قتل کردے. جو اپنی دشمنی میں اُس کی بہن کو استعمال کررہا تھا.
یہی وجہ تھی کہ وہ اتنے سالوں سے خانی کو یہاں نہیں لایا تھا. آغا جان کے مجبور کرنے پر وہ آ تو گیا تھا. مگر جس بات سے اتنے سالوں سے وہ ڈرتا آیا تھا آج وہ ہوگئی تھی.
وہ اپنی بہن کو اِس طرح روتے نہیں دیکھ سکتا تھا. اور نہ ہی کسی تکلیف میں.
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد آخر کار حتمی فیصلے پر پہنچتے میران سوچ چکا تھا اب اُسے کیا کرنا ہے.
” تو تم چاہتی ہو میں ساری باتیں بھول کر سیاہل خان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اُس سے صلح کر لوں. “
اپنی لاڈلی بہن کے آنسو پونچھتے میران نے ایک گہری سانس ہوا میں خارج کی تھی.
” جی بھائی پلیز میری خاطر. آپ ایک بار اُس سے ملیں تو سہی وہ بہت اچھا ہے. “
خانی نے آنکھوں میں امید لیے اُس کی جانب دیکھا تھا. سیاہل خان سے جدائی یا قطع تعلقی وہ کسی صورت برداشت نہیں کرسکتی تھی.
” ٹھیک ہے میں اُس کی جانب ہاتھ بڑھانے کو تیار ہوں. لیکن اگر واقعی وہ تم سے اتنی محبت کرتا ہے تو ایک قدم اُسے بھی آگے بڑھانا ہوگا. اُسے یہاں حویلی کے قریب ہمارے ڈیرے پر آنا ہوگا.
یہ میری طرف سے اُس کے لیے ایک آزمائش ہے. اگر وہ اِس پر پورا اُتر گیا تو تم جو کہوں گی میں کروں گا. “
میران نے بہت سوچ سمجھ کر خانی کے سامنے اپنی شرط رکھی تھی. آخر اُسے پتا تو چلے سیاہل خان اُس کی بہن کو بے وقوف بنا رہا تھا. یا اِس نہاد محبت کے جذبے کی بھینٹ چڑھ کر خود بننے والا تھا.
“اور ہاں اگر اُسے تم نے میرا نام کرکے بلایا تو وہ اِسے بھی میری کوئی سازش سمجھ کر آنے سے انکار کردے گا. اگر ایسا ہوا تو میری طرف سے بھی صاف انکار ہے. ویسے بھی اگر تم اُس کی خاطر اُس کی حویلی کے اندر تک جاسکتی ہو تو وہ اپنی محبت ثابت کرنے کے لیے اتنا تو کرہی سکتا ہے. “
میران نے بہت ہی ہوشیاری سے خانی کے سامنے اپنے پتے پھینکے تھے. جن کے ٹریپ میں خانی آرام سے آگئی تھی. وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اُس کا بھائی اُس سے کتنا بڑا کھیل کھیلنے والا تھا. جس بندے پر بچپن سے آنکھیں بند کرکے وہ یقین کرتی آئی تھی. اُس پر خانی کی طرف سے ایک پرسنٹ بھی شک کی گنجائش نہیں نکلتی تھی.
” کیا اگر وہ خود چل کر یہاں آگیا تو آپ میری بات مان لیں گے. اور یہ دشمنی ختم کردیں گے. “
خانی نے اپنی تسلی کے لیے اپنی بات ایک بار پھر دوہرائی تھی.
” بلکل وعدہ ہے میرا ایسا ہی ہوگا. “
میران نے دل پر پتھر رکھتے حامی بھر لی تھی. وہ زندگی میں پہلی بار اپنی بہن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والا تھا. وہ جانتا تھا اِس کے بعد خانی شاید اُس سے نفرت کرنے لگ جائے. مگر وہ اُس کی خوشی کی خاطر یہ بھی سہنے کو تیار تھا.
اُسے بس اپنی زندگی کے سب سے ناپسندیدہ انسان سے اپنی بہن کو چھٹکارا دلانا تھا. وہ بلکل بھی نہیں چاہتا تھا. اُس کی بہن پوری زندگی خان حویلی میں سیاہل خان کی باندی اُس کی ملازمہ بن کر گزار دے.
خانی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اُس کا بھائی اتنی جلدی مان جائے گا. مگر جو بھی تھا وہ بہت خوش تھی. اب بس دوسرا اور آخری مشکل مرحلہ جو اُسے سر کرنا تھا. وہ تھا سیاہل خان کو منانا.
لیکن اُسے پورا یقین تھا. سیاہل اُس کی بات کو نہیں ٹھکرائے گا. وہ اُسے کسی بھی قیمت پر منا لے گی.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

شہرین نے گھڑی کی جانب دیکھا تھا. گھنٹے سے اُوپر ہوچکا تھا میران بلوچ کو اضطراب کی کیفیت میں کمرے میں چکر کاٹتے ہوئے. اُسے دیکھ دیکھ کر شہرین کو اپنی ٹانگوں میں درد ہونا شروع ہوچکا تھا.
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر پتا نہیں ایسی کیا بات تھی کہ وہ اِس قدر پریشانی اور ٹینشن کا شکار تھا.
ڈارک گرے قمیض شلوار میں ملبوس بالوں کو نفاست سے ماتھے پر سیٹ کیے وہ چہرے پر فکرمندی اور پریشانی کے اِن گنت تاثرات سجائے شہرین کو بار بار اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کررہا تھا.
دو مہینے گزر چکے تھے اُسے اِس حویلی میں رہتے. اُس کا اِس روکھے پھیکے شخص کے ساتھ رشتہ ابھی بھی پہلے دن جیسا ہی تھا. شہرین کے ہونے نہ ہونے سے اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا. ضرورت کے تحت دن میں ایک آدھ بار میران اُسے مخاطب کر ہی لیتا تھا. زیادہ تر اپنے آفس کے کاموں کی وجہ سے اُس کا کراچی ہی آنا جانا لگا رہتا تھا. شہرین کو تو اب لگنے لگا تھا کہ جیسے وہ دنیا کی سب سے بے کار انسان ہو. اور کسی بوجھ کی طرح میران بلوچ کے سر پر لاد دی گئی ہو.
نجانے میران نے کیا کیا تھا کہ اب تو بشرا بیگم بھی اُس کے ساتھ اتنا بُرا برتاؤ نہیں کرتی تھیں. میران کی یہی خوبیاں شہرین کو اپنی جانب کھینچ رہی تھیں. وہ اُس کے بارے میں سوچنے لگی تھی. یہ جانتے ہوئے بھی کہ اُس کے نکاح میں ہونے کے باوجود وہ کبھی اُس کی بیوی کا مقام حاصل نہیں کرسکتی تھی.
میران بلوچ نے اپنی بہن کے کہنے پر اُس پر احسان کرکے اپنا نام دے کر صرف ظلم سے بچایا تھا. اِس سے زیادہ شہرین کی اُس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی. وہ خود بھی کسی قسم کی خوش فہمی میں پڑنا بھی نہیں چاہتی تھی. مگر اِس نادان دل کا کیا کرتی جو آہستہ آہستہ اِس مہربان شخص کو دیکھ کر اُس کی جانب ہمکنے لگتا تھا.
اِس وقت بھی اُسے پریشانی میں دیکھ شہرین کا دل پریشان ہو اُٹھا تھا.
اُس میں تو اتنی ہمت نہیں تھی کہ خود کچھ پوچھتی. اُسے تو میران کے دھوپ چھاؤں جیسے مزاج کا ابھی سہی سے اندازہ نہیں ہوپایا تھا.
میران کو مسلسل پیشانی مسلتے دیکھ شہرین آخر کار تنگ آتے خود ہی اُٹھ کر باہر کی جانب بڑھ گئی تھی. اور نیچے جاکر اُس کے لیے چائے بنا لائی تھی.
بہت ہمت جمع کرتی وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی میران کے قریب آئی تھی.
” اگر آپ کے سر میں درد ہے تو میں دبا دوں. “
شہرین نے چائے اُس کی جانب بڑھاتے جھجھکتے بمشکل پوچھا تھا. وہ پہلی بار خود سے اُسے مخاطب ہوئی تھی.
” ہممہ.”
میران نے چونک کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
اِس وقت اُسے واقعی اِن دونوں چیزوں کی اشد ضرورت تھی. اس کے دماغ میں غصے سے اُبال اُٹھ رہا تھا. جس کی وجہ سے اب اُس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا. اُس نے خاموشی سے کپ تھام لیا تھا. مگر اُس کی دوسری بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا.
” کیا کوئی پریشانی ہے آپ کو. “
شہرین نجانے کس بات کے زیر اثر سوال پوچھ بیٹھی تھی.
جس پر میران نے سرخ نظریں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا.
شہرین کو لگا تھا شاید وہ اپنی اوقات سے بڑا سوال پوچھ کر بہت بڑی غلطی کرچکی ہے.
میران بیڈ پر بیٹھ کر چائے ہونٹوں سے لگاتے خاموش نظر سے اُس کی جانب دیکھے گیا تھا.
جو آج بھی اُسی لمبی سی شال میں خود کو مقید کیے کھڑی تھی. سیاہ لباس میں ملبوس جھکی نظریں, لرزتی پلکیں, گھبراہٹ کے عالم میں لب دانتوں تلے کچلتی, ہاتھوں کی انگلیاں مڑورتی وہ کچھ دیر کے لیے میران کو اپنی جانب متوجہ کر گئی تھی.
” نام کیا ہے تمہارا. “
میران کے اتنے غیر متوقع سوال پر خانی نے لمحہ بھر کے لیے پلکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا. مگر اُسے اپنی جانب ہی متوجہ دیکھ وہ فوراً سے پہلے نظریں جھکا گئی تھی.
کیا کمال کی بات تھی آج دو مہینے بعد اُس کا شوہر اُس کا نام پوچھ رہا تھا.
” شہرین. “
اُسے کے لب ہولے سے ہلے تھے.
” ہممہ نائس نیم.”
میران اپنی ہی رو میں بول گیا تھا. مگر پھر خیال آنے پر کہ اِس لڑکی کو کونسا انگلش کے یہ لفظ سمجھ آئے ہونگے. وہ مزید کچھ نہیں بولا تھا.
جب اُسی لمحے اُس کا موبائل بج اُٹھا تھا.
شہرین نے نوٹ کیا تھا سکرین پر جگمگاتا نمبر دیکھتے میران کے ہونٹوں پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی.
چائے کا کپ میز پر رکھتے فون کان سے لگاتے وہ بیڈ پر دراز ہوگیا تھا.
دوسری جانب اُس کے بزنس پارٹنر معین فاروقی کی بیٹی فاکیہ تھی. جو اُس کی کلاس فیلو ہونے کے ساتھ ساتھ بہت کلوز فرینڈ بھی تھی. اور دونوں ایک دوسرے کو کافی حد تک لائک بھی کرتے تھے.
فاکیہ سے بات کرتے میران کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی. جو شہرین نے شاید پہلی بار ہی دیکھی تھی.
وہ خاموشی سے جاکر واپس صوفے پر بیٹھ گئی تھی.
میران کو شہرین کی وہاں موجودگی سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا. کیونکہ وہ فاکیہ سے انگلش میں بات کررہا تھا. اور اُس کے مطابق یہ زبان شہرین کی سمجھ سے باہر تھی.
مگر بہت سی باتوں کی طرح وہ اِس بات سے بھی بے خبر تھا کہ اُس کی بیوی ایم فل انگلش تھی. اور اُس سے بھی کہیں زیادہ اچھے سے یہ زبان سمجھتی تھی.
میران کی گفتگو میں بہت حد تک محبت بھرے جملوں کا تبادلہ بھی ہورہا تھا. جس پر شہرین الگ ہی اپنی جگہ شرم و خجالت کا شکار ہورہی تھی.
میران بلوچ اِس بات سے بےخبر اپنی ہی باتوں میں مصروف تھا.
شہرین نے دل میں سوچ لیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ میران کو پتا نہیں لگنے دے گی کہ وہ انگلش کس حد تک اچھے سے سمجھتی ہے.
شہرین کو وہاں سے اُٹھنا ہی مناسب لگا تھا. مگر میران بلوچ کا کسی اور کے لیے اتنا پیار دیکھ شہرین کا دل بُری طرح اُداس ہوچکا تھا.

¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جاری ہے…..